دنیاکی تاریخ میں کچھ قوتیں ایسی ہوتی ہیں جواپنی نمودسے نہیں بلکہ اپنی عدمِ نمودسے پہچانی جاتی ہیں۔سمندرہمیشہ سے طاقت، خاموشی اوررازداری کااستعارہ رہاہے۔اس کی گہرائیوں میں وہ قوت پوشیدہ ہے جوبظاہرخاموش مگرحقیقت میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔اس کے باطن میں طاقت کی ایسی لہریں موجن رہتی ہیں جوتاریخ کارخ بدل سکتی ہیں۔آبدوزاسی باطنی قوت کی مجسم صورت ہے—وہ ہتھیار جونظرنہیں آتامگرخوفناک اثررکھتاہے۔سمندرکی تہہ میں رواں آبدوز بھی انہی قوتوں میں شامل ہے—ایک ایسی خاموش نگہبان،جو نظرنہ آنے کے باوجود فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔پاکستان کے بحری افق پرنئی ہنگورکلاس آبدوزوں کاظہوراسی خاموش پوشیدہ قوت کے نئے عہدکااعلان اورمؤثر قوت کی علامتی تجدیدہے،جس میں تاریخ کاتسلسل، سیاست کاشعوراورسائنس کی مہارت یکجاہوکرایک نئی حکمتِ عملی کوجنم دیتے ہیں۔ایک ایساتسلسل جوماضی کے فخرکو حال کی ضرورت اورمستقبل کی حکمتِ عملی سے جوڑتاہے جہاں سائنس ،حکمتِ عملی اورقومی ارادہ ایک نقطے پرمجتمع ہوتے ہیں۔
عسکری دنیامیں بعض نام محض شناخت نہیں بلکہ”نفسیاتی ہتھیار”بن جاتے ہیں۔55برس بعد”ہنگور”کی واپسی محض ایک عسکری پیش رفت نہیں بلکہ قومی حافظے کی تجدیدہے۔ہنگور محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک علامت ہے—ایک ایسااستعارہ جوصبر،مستوراوراچانک کاری ضرب کے مفہوم کواپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔نصف صدی کے بعداس نام کی بازیافت دراصل قومی عسکری شعورکی بازیافت ہے۔یہ ایک نفسیاتی تسلسل بھی ہے،جس کے ذریعے ماضی کی یادکو حال کی قوت میں ڈھالاجاتاہے تاکہ دشمن کے ذہن میں ایک خاموش ہیبت برقراررہے۔
1971کی جنگ میں ہنگورنے جس جرات اورمہارت سے دشمن کے جہازکونشانہ بنایا،وہ بحری تاریخ کاایک درخشاں باب ہے۔آج یہی نام ایک بارپھر خاموشی ،صبر اورکاری ضرب کا استعارہ بن کرلہروں کے سینے پررقم ہو رہاہے۔ہنگورایساہی ایک نام ہے جودشمن کے ذہن میں غیرمرئی خطرے کااحساس پیداکرتاہے ۔ جدیدجنگ میں نفسیاتی برتری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی مادی طاقت،اوریہی نام اس پہلو کوتقویت دیتاہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں عسکری تعاون محض ہتھیاروں کے تبادلے تک محدودنہیں رہتابلکہ اس میں علم،مہارت اوراعتمادکی ترسیل بھی شامل ہوتی ہے۔اس منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی آبدوزیں دراصل ایک وسیع ترصنعتی وتکنیکی اشتراک کی نمائندگی کرتی ہیں، جہاں ایک ملک کی انجینیئرنگ صلاحیت دوسرے ملک کی آپریشنل ضرورت سے ہم آہنگ ہوکرایک نیانظام تشکیل دیتی ہے۔یہ آبدوزیں پاکستان اورچین کے اسٹریٹجک تعاون کاثمرہیں۔ جدید سینسرز ، سٹیلتھ ٹیکنالوجی اوراے آئی پی نظام سے مزین یہ منصوبہ محض دفاعی نہیں بلکہ صنعتی اورتکنیکی خودانحصاری کی جانب پیش قدمی ہے۔یہ منصوبہ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جدید جنگی نظام صرف خریدے نہیں جاتے بلکہ سیکھے اوراپنائے جاتے ہیں۔مشترکہ انجینیئرنگ،مشترکہ تربیت،اورمشترکہ پیداوار—یہ تینوں عناصرکسی بھی دفاعی منصوبے کوپائیداربناتے ہیں۔
ہرعسکری پیش رفت کے پیچھے ایک گہری ضرورت کارفرماہوتی ہے۔سمندری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں،اوران پرکنٹرول یاان کاتحفظ کسی بھی ریاست کیلئےناگزیرہے۔بدلتے ہوئے علاقائی حالات،بحری سرگرمیوں میں اضافہ،اورٹیکنالوجی کی برق رفتاری نے ایک نئی قسم کی تیاری کولازم کردیاہے—ایسی تیاری جومحض ردعمل نہیں بلکہ پیش بندی ہو۔یہ سوال محض عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی،سیاسی اورتکنیکی عوامل سے جڑاہواہے۔بحرِہندمیں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ،علاقائی کشیدگی اورپرانی آبدوزوں کی فرسودگی نے اس ضرورت کوناگزیربنادیا۔تاہم یہ اقدام کسی جارحانہ عزائم کامظہرنہیں بلکہ”اسٹریٹجک توازن”برقراررکھنے کی کوشش ہے۔ سمندری حدودمیں بڑھتی ہوئی نگرانی ،تجارتی راستوں کاتحفظ،اورتوانائی کی ترسیل—یہ سب عوامل ایسی قوت کاتقاضا کرتے ہیں جو خاموش مگرمؤثرہو۔
آبدوزوں کی دنیا یں توانائی کا ریعہ ان کی اصل شناخت متعین کرتا ے۔ چھ نظام محدود سائل کے ساتھ کام کرتے ہیں،کچھ جدیدکیمیائی یا مکینیکل طریقوں سے اپنی خودمختاری بڑھاتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جوطویل المدتی توانائی کے حامل ہوتے ہیں۔یہ تقسیم دراصل ان کی آپریشنل حکمتِ عملی کومتعین کرتی ہے۔قارئین کیلئے موجودہ دورمیں آبدوزوں کی اقسام کی وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ زمانے میں سمندری دفاع کی ضرورتوں کاادراک ہوسکے۔
عام قاری کیلئےیوں سمجھ لیجیے،کچھ آبدوزیں”سانس لینے”کیلئےاوپرآتی ہیں،کچھ زیادہ دیرتک چھپی رہتی ہیں اور چھ تقریباً ہمیشہ زیرِ آب رہ سکتی ہیں۔یہ فرق دراصل ان کے توانائی کے نظام سے پیداہوتاہے۔گویا آبدوزوں کی تین بنیادی اقسام ہیں جن کو ان کے پروپلشن نظام کے لحاظ سے تقسیم کیاجاتاہے ۔پہلاہے ڈیزل الیکٹرک،دوسرااے آئی پی اورتیسرااورآخری جوہری آبدوزیں ہیں۔
جدیدبحری قوتوں کے پاس موجودجوہری آبدوزیں ایک مستقل موجودگی کااحساس پیداکرتی ہیں۔ان کی دوبنیادی اقسام—ایک جارحانہ کارروائیوں کیلئے اور دوسری دورمار دفاعی صلاحیت کیلئے—دراصل عالمی طاقت کے توازن میں کلیدی کرداراداکرتی ہیں۔یہ آبدوزیں ایک طرح کی“خاموش بازڈیٹرنس ہوتی ہیں ۔ جوہری آبدوزیں ایک ایسے محافظ کی مانندہیں جوکبھی سوتی نہیں۔ان کی رفتارزیادہ،قیام طویل اورکارروائی کادائرہ وسیع ہوتاہے،مگران کی لاگت اورپیچیدگی بھی اسی قدرزیادہ ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایس ایس این(حملہ آور)اورایس ایس بی این(بیلسٹک میزائل بردار)آبدوزیں عالمی طاقتوں کی جوہری حکمتِ عملی کاستون ہیں۔
1960کی دہائی میں ٹینچ کلاس آبدوزوں سے شروع ہونے والاسفر،ڈیفنے اوراگوسٹا کلاس سے گزرتاہوااب ہنگورکلاس تک پہنچاہے—اگراس سفرکی ارتقائی داستان بیان کی جائے توپاکستان کابحری سفرایک سادہ آغازسے شروع ہوکرتدریجی ارتقاءکے مراحل سے گزرا ہے۔ابتدامیں بیرونی انحصار،پھرمرمت کی مہارت،اوربعدازاں جزوی خودکفالت—یہ تمام مراحل ایک قومی ادارے کی بلوغت کی کہانی بیان کرتے ہیں۔وقت کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف آبدوزیں چلاناسیکھابلکہ ان کی دیکھ بھال،اپ گریڈیشن اورجزوی تیاری کی مہارت بھی حاصل کی—جوکسی بھی بحری قوت کیلئےبنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
بین الاقوامی معاہدے صرف کاغذی کارروائی نہیں ہوتے بلکہ وہ مستقبل کی سمت کاتعین کرتے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب عالمی سیاست پیچیدہ ہورہی تھی،ایک طویل المدتی بحری منصوبے پراتفاق دراصل دوراندیشی اورسفارتی بصیرت کامظہرتھا۔طویل المدتی دفاعی منصوبے دراصل آنے والی دہائیوں کی ضرورت کومدنظر رکھ کربنائے جاتے ہیں۔یہ فیصلہ بھی اسی سوچ کاعکاس ہے۔شی جن پنگ کے2015ءکے دورہ پاکستان کے دوران اس منصوبے کی بنیاد رکھی گئی—آٹھ آبدوزوں کامعاہدہ،جس میں نصف مقامی تیاری شامل ہے۔
نئی آبدوزوں کے ڈیزائن میں صوتی انجینیئرنگ،ہائیڈروڈائنامکس اورمٹیریل سائنس کاحسین امتزاج نظرآتاہے۔ہنگورکلاس آبدوزکے ڈیزائن،ساخت کی جدت کے ساتھ یہ جدیدسونار، ریڈار، اوپٹرونکس اورکم شورپیداکرنے والی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں—یعنی”نظرنہ آنا ہی اصل طاقت ہے”۔ہنگورآبدوز کے جسم کی ساخت اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ پانی کی مزاحمت کم سے کم ہو۔آبدوزکاجسم اس طرح بنایاجاتاہے کہ وہ پانی کو چیرنے کی بجائے اس میں “گھل” جائے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی شکل گولائی لیے ہوتی ہے،اور اس کی سطح خاص موادسے ڈھکی ہوتی ہے۔بیرونی سطح پرخاص مواداستعمال کیاجاتاہے جو شور پیدا ہونے کے امکانات کوانتہائی محدوداور آوازکو جذب کرلیتاہے۔
یہ آبدوزیں ایک طرح سے”سمندری جاسوس”بھی ہوتی ہیں— آبدوزکاکردارصرف جنگی کارروائی تک محدود نہیں ہوتابلکہ خاموشی سے نگرانی اورمعلومات اکٹھی کرناان کااہم فریضہ ہے۔یہ دشمن کی نقل وحرکت کاسراغ لگاتی ہے،سمندری حدودکی نگرانی کرتی ہے اورایک غیر مرئی حفاظتی دیوا قائم کرتی ہے۔ گویا یہ صرف ہتھیارنہیں بلکہ”خاموش محافظ”ہیں—دشمن کی نقل وحرکت پرنظر،سمندری راستوں کاتحفظ اورخفیہ معلومات کاحصول سمجھی جاتی ہیں۔
جدیدآبدوزی ٹیکنالوجی میں ایک ایسانظام ایئرانڈیپنڈنٹ پروپلشن متعارف ہواہے۔یہ نظام دراصل توانائی کے متبادل ذرائع یعنی بیرونی فضا پرانحصارکوکم کرکے آبدوزکوطویل مدت تک زیرِ آب متحرک اورسطحِ آب سے بے نیازکردیتاہے۔یہ ٹیکنالوجی آبدوزکوہفتوں بلکہ مہینوں تک زیرِآب رہنے کی صلاحیت دیتی ہے،جس سے اس کی بقااور کارکردگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوتا ہے۔جس سے اس کی بقااور مؤثریت میں غیرمعمولی اضافہ ہوتاہے۔سادہ لفظوں میں یہ نظام آبدوزکو”سانس لیے بغیر”طویل عرصے تک پانی کے اندررہنے کے قابل بناتاہے۔تکنیکی طورپر ،یہ ایندھن کے خلیوں یابندسائیکل انجنوں کے ذریعے توانائی پیداکرتاہے۔
اصل برتری صرف چھپنے میں نہیں بلکہ طویل عرصے تک مؤثررہنے میں ہے ۔ سٹیلتھ ہنگورکلاس اسی فلسفے”خاموشی میں تسلسل کی عملی تعبیرہے۔سٹیلتھ محض کم شورپیداکرنے کانام نہیں بلکہ ایک مکمل انجینیئرنگ فلسفہ ہے۔ہر آبدوزکی ایک”آواز”ہوتی ہے،جس طرح ہرانسانی آوازمنفرد ہوتی ہے۔ جدید آبدوزوں میں اس آوازکوکم کرنے کیلئےاس میں مشینری کو انجن سے الگ تھلگ خصوصی ماؤنٹس پر رکھاجاتاہے۔پروپیلربلیڈ کی ایک خاص جیومیٹری ہوتی ہے۔پروپرائلرکے ڈیزائن کواس اندازمیں بنایاجاتاہے کہ کاویٹیشن کم سے کم ہو، اورہل کی شکل اس طرح ترتیب دی جاتی ہے کہ پانی کے بہاؤمیں خلل پیدانہ ہو۔یہ تمام عوامل مل کرایک”صوتی پوشیدگی”یعنی سونارکا پتہ لگانامشکل بنا دیتے ہیں۔
جدید آبدوزوں میں ہتھیارصرف نصب نہیں ہوتے بلکہ ایک مربوط نظام کے طورپرکام کرتے ہیں۔ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز،اینٹی شپ میزائل، جدیدوارہیڈز، اورملٹی اسپیکٹرم سینسرز—یہ سب مل کرایک”سمندری شکاری”کی تشکیل کرتے ہیں۔فائرکنٹرول سسٹم،ٹارگٹ ٹریکنگ الگورتھم،اورگائیڈنس سسٹم مربوط ہیں۔ٹارپیڈومیں فعال اورغیرفعال ہومنگ کی صلاحیتیں ہوتی ہیں، ٹارپیڈوکویوں سمجھیں جیسے پانی کے اندرچلنے والاخودکارمیزائل ہے۔جدید ٹارپیڈوزخود ہدف تلاش کرتے ہیں،رفتاراورگہرائی بدل سکتے ہیں۔دھوکہ دینے والے سگنلزکو پہچان سکتے ہیں جبکہ میزائل لانچ کے بعدنیویگیشن اورٹرمینل گائیڈنس کے ذریعے اپنے اہداف تک پہنچ جاتے ہیں۔اسی طرح کروز میزائل سطح کے اہداف کودورسے نشانہ بناسکتے ہیں۔
نئی آبدوزیں نہ صرف پرانی کامتبادل ہیں بلکہ مجموعی صلاحیت،رفتار،رینج اورفیصلہ سازی کی بہترین کارکردگی میں کئی گنااضافہ کرتی ہیں۔آبدوزوں میں مختلف قسم کےسینسرزفیوژن ہوتے ہیں،جوآبدوز کے کان اورآنکھوں کاکام کرتے ہیں،۔یہ دیگرسینسرزسے ڈیٹا اکٹھاکرکے مرکزی نظام میں تجزیہ کرتے ہیں لیکن اصل چال یہ ہے کہ ان سب کوایک نظام میں جوڑدیاگیاہے اورحاصل کردہ معلومات کوشوراورسگنل کے درمیان فرق کرنے کیلئےالگورتھم کے ذریعے فلٹر کرکے غیرضروری شورکوالگ کرتاہے۔گویایہ ایک واضح حکمت عملی کی تصویربناتاہے اورکمانڈر کوحقیقی وقت میں درست فیصلے کرنے میں مددکرتاہے۔
ہرآبدوزکی ایک محدودآپریشنل عمرہوتی ہے،جواس کی ہل کی سالمیت،سنکنرن مزاحمت اورتھکاوٹ کی حدودپرمنحصرہوتی ہے۔آبدوزپر پانی کادباؤبہت زیادہ ہوتاہے۔مثال کےطورپر300میٹر کی گہرائی میں دباؤسینکڑوں ٹن فی مربع میٹرہوسکتاہے۔اس لئے طویل مدتی دباؤ کوبرداشت کرنے کیلئےخصوصی مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں،لہذااعلیٰ طاقت سٹیل استعمال کیاجاتاہے، ویلڈنگ اعلیٰ ترین معیار کی ہے اوروقتافوقتامعائنہ ضروری ہے۔اس کے باوجودوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ خوردبینی دراڑیں پیداکرسکتے ہیں،جن کی مرمت کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ35سال سے زائدپرانی آبدوزیں اپنی عمر پوری کرچکی تھیں ۔ نئی ہنگورکلاس محض اضافہ نہیں بلکہ ایک ناگزیرتبدیلی ہے۔
بحرہند میں مختلف بحری افواج اپنی متعلقہ ٹیکنالوجیزکے ساتھ پیچیدہ توازن برقراررکھتی ہیں۔رفتار،اسٹیلتھ،ہتھیاروں کی حد،اورپتہ لگانے کی صلاحیتیں—یہ تمام تکنیکی عوامل مل کرایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں برتری کاتعین صرف تعدادسے نہیں،بلکہ معیارسے ہوتاہے۔جدیدبحری جنگ میں،تعدادواحد عنصرنہیں ہے،لیکن خاموشی،پتہ لگانے کی حد،ہتھیارکی درستگی،یہ عناصرفیصلہ کن ہیں۔ علاقائی تناظر میں پاکستان نیوی خطے کی قدیم ترین آبدوزآپریٹرہے۔علاقائی توازن برقراررکھنے کیلئےجدید ٹیکنالوجی کاحصول اس کی روایت کاتسلسل ہے۔
علاقے سے انکار کامطلب دشمن کومکمل طورپرروکنانہیں ہے،بلکہ اس کیلئےکسی مخصوص علاقے میں داخل ہونے کواتناخطرناک بناناہے کہ وہ خودہی اس سے بچ جائے۔خطرہ بننے سے پہلے روک دینایہ دفاعی حکمتِ عملی دشمن کوقریب آنے سے روکنے پرمبنی ہے۔ہنگورکلاس اس نظریے کوتقویت دیتی ہے۔اس حکمتِ عملی کویوں سمجھیں جیسے کسی راستے پرایساخطرہ پیدا کردیاجائے کہ کوئی وہاں آنے کی جرات نہ کرے۔اس کیلئےآبدوزوں کوچوک پوائنٹس،شپنگ لین اوراسٹریٹجک کوریڈورزمیں تعینات کیاجاتاہے تاکہ دشمن کی نقل وحرکت محدود کردیاجائے۔
یہ آبدوزیں خفیہ کارروائیوں،انٹیلی جنس اورسمندری دفاع میں ایک نئی جہت پیداکرتی ہیں۔آبدوزوں اورہیڈ کوارٹرکے درمیان مواصلات ایک بڑاچیلنج ہے کیونکہ پانی کے اندربات کرنا مشکل ہوتاہے اورریڈیولہریں بھی غیرموثرہوتی ہیں۔اس کیلئےانتہائی کم فریکوئنسی(ای ایل ایف) یابہت کم فریکوئنسی(وی ایل ایف)سگنلز استعمال کیے جاتے ہیں،جومحدود معلومات منتقل کرتے ہیں لیکن خفیہ رہتے ہیں۔
کسی بھی آبدوزکے بیڑے کی کامیابی اوراس کے پس پردہ نظام کاانحصارنہ صرف اس کی ٹیکنالوجی پرہوتاہے بلکہ اس کی سپلائی چین پربھی ہوتاہے۔مرمت کے مراکز،اسپیئرپارٹس کی دستیابی،دیکھ بھال کی سہولیات اورتربیت یافتہ افرادکی دستیابی ایک مسلسل عمل ہے، جس کے بغیرجدید ترین نظام بھی ناکارہ ہوسکتاہے ۔ ماضی کی پابندیوں نے یہ سبق دیاکہ دفاعی خود مختاری کیلئےقابلِ اعتماد اتحادی ضروری ہیں۔چین اس تناظرمیں ایک مضبوط ستون ہے۔
جب کوئی ملک آبدوزبنانے کی جزوی یامکمل صلاحیت سیکھ لیتاہے تویہ صرف فوجی کامیابی نہیں بلکہ صنعتی انقلاب ہے۔یہ دھات کاری،الیکٹرانکس،سافٹ ویئر انجینئرنگ اورسسٹم انٹیگریشن جیسے شعبوں میں ترقی کاباعث بنتاہے۔سائنسی تحقیق کوفروغ ملتاہے اور ملک میں روزگارپیداہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ کراچی شپ یارڈمیں تیاری،انجینیئرزکی تربیت،اورمقامی مہارت کافروغ—یہ سب اس منصوبے کومحض خریداری سے بڑھاکرایک”قومی سرمایہ”بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔آبدوزوں کامستقبل مزیدخودکارنظاموں،مصنوعی ذہانت اوربغیر پائلٹ کے زیرآب گاڑیوں کی طرف بڑھ رہاہے۔ہنگورکلاس جیسے منصوبے اس مستقبل کی بنیادہیں،جہاں انسان اورمشین کاامتزاج ایک نئی بحری حکمت عملی کوجنم دے گا۔
آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت،بغیرپائلٹ ذہین آبدوزیں،خودمختارفیصلہ سازی میں اہم کرداراداکریں گی۔نصف صدی پہلے ہنگور ایک کارنامہ تھا،آج ایک نظریہ ہے—خاموشی میں طاقت،صبرمیں حکمت،اورگہرائی میں برتری۔یہ آبدوزصرف ایک ہتھیارنہیں بلکہ پاکستان کی بحری خودمختاری،تکنیکی ترقی اوراسٹریٹجک بصیرت کامظہرہے۔
سمندرکی گہرائیوں میں حرکت کرتی ہوئی آبدوزایک ایسی خاموش نظم ہے جس کاہرمصرعہ حساب،ہرلفظ توازن اورہروقفہ حکمت سے لبریزہوتاہے۔اس نظم کانیا باب ایسا ہے جس میں تاریخ کی بازگشت،ماضی کی جرات،حال کی ضرورت اورمستقبل کی امیدایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔تاریخ کے افق پربعض نام محض الفاظ نہیں ہوتے،وہ عہدہوتے ہیں۔ہنگورکلاس آبدوزیں دراصل ایک خاموش انقلاب کی علامت ہیں—ایساانقلاب جوشورنہیں کرتامگراثررکھتاہے۔یہ فولادکی ساخت سے بڑھ کرایک نظریہ ہے،ایک حکمت ہے،اورایک ایسی قوت ہے جونظرنہ آکربھی تاریخ کادھاراموڑ سکتی ہے۔
ہنگور، محض فولادکاڈھانچہ نہیں بلکہ ایک فکری جہت،ایک قومی عزم اورایک تکنیکی خواب کی تعبیرہے—سمندرکی خاموشی میں گونجتی یہ بازگشت دراصل ایک قوم کےعزم کی آوازہے۔یہ آبدوزیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اصل طاقت ہمیشہ ظاہرنہیں ہوتی—وہ اکثر گہرائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔