تاریخ کےاوراق جب اپنے سینے میں تہذیبوں کی کشمکش،سلطنتوں کی آرزوئیں اوراقوام کی حکمتِ عملی کےنقوش محفوظ کرتےہیں تو ان کےحاشیوں پرایک مستقل سوال ثبت رہتاہے: طاقت کااصل سرچشمہ کیاہے—تلوار،تدبیریاتہذیبی ہم آہنگی؟وقت کے دریچوں سے جھانک کراگرحال کے افق پرنگاہ ڈالی جائے تومشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاکی سیاست ایک ایسے شطرنجی کھیل کی صورت اختیارکر چکی ہے جس میں ہرمہرہ اپنی جگہ بظاہرساکن مگردرحقیقت متحرک ہے۔
زمانۂ حاضر کی سیاست محض مفادات کی کشمکش نہیں بلکہ ایک ہمہ گیرمعرکۂ افکارہے،جہاں ریاستیں اپنی بقا،خودمختاری اوروقار کیلئےمختلف حکمتِ عملیوں کو بروئے کارلاتی ہیں۔عصرِحاضر میں جب مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرعالمی سیاست کامحوربن چکاہے، پاکستان ایک ایسے فکری وعسکری سنگم پرکھڑاہے جہاں جغرافیہ،عقیدہ،معیشت اورسیاست باہم گتھے ہوئے ہیں۔پاکستان ،جوایک جانب ایٹمی قوت کاحامل ہے اوردوسری طرف ایک نظریاتی ریاست کے طورپراپنی منفردشناخت اورجغرافیائی محلِ وقوع کے باعث اس کشمکش میں ایک بارپھرعالمی طاقتوں اور علاقائی ریاستوں کے درمیان ایک اہم تزویراتی مقام پرکھڑاہے۔
کویت کے ساتھ ممکنہ توسیعی دفاعی معاہدہ اسی وسیع ترسیاسی وعسکری منظرنامے کاایک نیاباب اورایک نئی جہت کااضافہ ہے،ایک ایساباب جس میں اسلامی اخوت،اسٹریٹجک مفادات اورعالمی طاقتوں کی شطرنج ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔جس کے مضمرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود ہیں بلکہ پورے خطےکی سیاسی حرکیات کومتاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کویت کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدہ اسی فکری اورعسکری تناظرمیں ایک نئی جہت کامظہرہے،جہاں اسلامی اصولِ جنگ،توازنِ قوت،اوراسٹریٹجک بصیرت ایک دوسرے میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان اورکویت کے مابین جاری ابتدائی مذاکرات محض ایک دفاعی معاہدے کی بنیادنہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی اشتراک کی تمہید ہیں، جہاں توانائی کی ضرورت اورعسکری تعاون ایک دوسرے کے متمم بن کرسامنے آتے ہیں۔مذاکرات کے علم رکھنے والے متعددذرائع کے مطابق پاکستان اورکویت کے درمیان ایک توسیعی دفاعی معاہدے پرابتدائی سطح کی بات چیت جاری ہے۔یہ مذاکرات محض عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ توانائی کے تعاون اورسرمایہ کاری کے تبادلے سے جڑے ہوئے ہیں۔گویایہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں بارودکی مہک کے ساتھ تیل کی خوشبوبھی شامل ہے۔تاہم،یہ سفارتی بیل ابھی پوری طرح بارآور نہیں ہوئی،کیونکہ امریکااورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس عمل کوپیچیدگیوں کے جال میں الجھا سکتی ہے۔یہ صورتحال اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں کوئی بھی قدم خلامیں نہیں اٹھایاجاتابلکہ ہرفیصلہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کے زیرِاثرہوتاہے۔
اسلامی سیاسی فکرمیں“تعاون علی البر”کاجواصول بیان کیاگیاہے،اس کی ایک عملی جھلک یہاں دیکھی جاسکتی ہے،پاکستان اورکویت کے درمیان جاری مذاکرات کواگر اسلامی عسکری فکر کی روشنی میں دیکھا جائے تویہ اعدادِ قوت کے قرآنی اصول کی عملی تعبیر معلوم ہوتے ہیں۔ریاست کایہ حق اورفرض ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے،مگراس کے ساتھ “حکمت”اور“مصلحت”کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ توانائی اورسرمایہ کاری کے بدلے دفاعی تعاون دراصل ایک ایسا توازن ہے جہاں مادی وسائل اور عسکری قوت ایک دوسرے کوسہارا دیتے ہیں۔
تاہم عالمی طاقتوں کے دباؤ—خصوصاًامریکااورایران کے مابین کشیدگی—اس تعاون کوایک آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔جغرافیائی اعتبارسے خلیج کاخطہ توانائی کی شہ رگ ہے،اورپاکستان اس شہ رگ تک رسائی حاصل کرنے کیلئےایک ایسے دروازے پردستک دے رہاہے جس کے پیچھے مواقع بھی ہیں اورمخاطربھی۔ گویامیدانِ سیاست میں ہرقدم ایک محتاط پیش قدمی کا متقاضی ہے۔
اسلام آبادکے ایوانوں میں ایک خاموش اضطراب محسوس کیاجارہاہے۔گزشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والاباہمی دفاعی معاہدہ اب ایک دو دھاری تلوارکی ماننددکھائی دیتا ہے۔پاکستان کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک روحانی وتہذیبی نسبت بھی رکھتاہے مگراسلامی عسکری فکرمیں“ولاءو براء”کااصول—یعنی دوستی اور فاصلہ—بہت نازک توازن کاتقاضاکرتا ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک ایساتاریخی رشتہ ہے جس میں مذہبی ہم آہنگی،حرمین شریفین کی تقدیس اوردہائیوں پرمحیط عسکری تعاون شامل ہے مگرایران اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی،خصوصاًیمن کے تنازع اورحوثی حملوں کے تناظرمیں،پاکستان کوایک نازک دوراہے پرلاکھڑاکرتی ہے۔
ایران سے منسلک حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پرحملے کے بعدپاکستان کاردعمل—کہ مملکت پرحملہ دراصل پاکستان پر حملہ تصورہوگا،ایک ایسا اعلان ہے جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔تاہم یہ اعلان ایک مضبوط وابستگی کااظہاراوروفاداری کامظہرہے— یہی وابستگی اسے ایک وسیع ترتنازع میں کھینچ سکتی ہے۔یہاں اصل چیلنج یہ ہے کہ وفاداری کوحکمت کے ساتھ ہم آہنگ رکھاجائے،تاکہ جذباتی وابستگی اسٹریٹجک بصیرت پرغالب نہ آجائے۔
پاکستان کے اس بیان میں وفاداری کی جھلک توہے،مگراس کے ساتھ ایک ممکنہ جنگی الجھاؤکے خطرہ کی آہٹ بھی سنائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتاہے کہ پاکستان ایک ایسی راہ پر گامزن ہے جہاں ہرقدم سوچ سمجھ کررکھناناگزیرہے۔اسلامی سیاسی اخلاقیات کاتقاضا ہے کہ امت کے اندرتوازن،عدل اورمصالحت کوفروغ دیاجائے،مگرعملی سیاست میں یہ توازن ایک باریک دھاگے پرچلنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پہلویہ رہاہے کہ وہ ایران اورخلیجی ریاستوں کے درمیان ایک متوازن کرداراداکرنے کی کوشش کرتاآیاہے۔یہ کردار محض سفارتی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی دنیامیں باہمی اعتماد،مصالحت اوروحدت کے تصورسے بھی جڑاہواہے۔تاہم کویت کے ساتھ کسی وسیع تردفاعی معاہدے کی صورت میں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہوجاتاہے کہ آیا پاکستان ایک غیرجانب دارثالث کے طورپراپناکرداربرقراررکھ سکے گایاایک مخصوص دفاعی صف بندی کاحصہ تصورکیاجائے گا۔
جغرافیائی سیاست کااصول یہ ہے کہ ثالثی اسی وقت مؤثررہتی ہے جب ثالث پرتمام فریق اعتمادکریں۔اگرکوئی ریاست کسی ایک فریق کے ساتھ گہری عسکری وابستگی اختیارکرلے تو دوسرے فریق کے خدشات بڑھ سکتے ہیں اورسفارتی توازن متاثرہونے کاامکان پیداہو جاتاہے۔یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں ریاستی حکمتِ عملی کوجذباتی وابستگی،تاریخی روابط اورقومی مفادات کے درمیان ایک باریک میزان قائم کرناپڑتاہے۔
اسلامی تاریخ میں صلحِ حدیبیہ ایک ایسی روشن مثال ہے جہاں بظاہرمحدود قدم دراصل دوررس حکمت کامظہر ثابت ہوا۔اس واقعے سے یہ سبق ملتاہےکہ طاقت کااصل کمال صرف میدان میں قوت کےاظہارمیں نہیں بلکہ حالات کواپنے حق میں ڈھالنےوالی بصیرت میں بھی پوشیدہ ہے۔پاکستان اگرایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان اعتمادسازی کاکردارادا کرناچاہتا ہے تواسے اسی حکمت،تدبراوردوراندیشی کوپیش نظررکھناہوگا۔
چنانچہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کسی ایک ریاست کے ساتھ دفاعی تعاون کرتاہے یانہیں،بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی شناخت، اسلامی روابط اورعلاقائی امن کےکردارکوکس طرح برقراررکھتاہے۔ایک متوازن حکمتِ عملی ہی پاکستان کوایسامقام دے سکتی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے اتحادیوں کاقابلِ اعتماد شراکت داررہے بلکہ امتِ مسلمہ کے درمیان مکالمے اورمفاہمت کامؤثر وسیلہ بھی بن سکے۔
کویت اورپاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کی بنیاداگرچہ محدودنوعیت کی رہی ہے،جس میں تربیتی پروگرام اورمشترکہ عسکری مشقیں شامل ہیں،تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے اس تعلق کوایک وسیع ترتزویراتی شراکت داری کی سمت متحرک کردیاہے۔کویت کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کادفاعی تعلق سعودی عرب کے ساتھ قائم دیرینہ عسکری تعاون کی مانندہمہ جہت شکل اختیارکرے، جس میں زمینی افواج،فضائی قوت،ڈرون ٹیکنالوجی،فضائی دفاعی نظام اوردیگرجدید دفاعی صلاحیتوں کااشتراک شامل ہو۔
عسکری حکمتِ عملی کے زاویے سے دیکھاجائے توپاکستان کی دفاعی صلاحیت کویت کیلئے ایک اہم “قوت افزاعنصر”یعنی اضافی طاقت ثابت ہوسکتی ہے،کیونکہ پاکستان کے پاس وسیع عسکری تجربہ،تربیت یافتہ افواج اوردفاعی پیداوارکی صلاحیت موجودہے۔تاہم اسلام آبادکیلئےیہ فیصلہ محض عسکری تعاون کامعاملہ نہیں بلکہ وسائل،علاقائی ذمہ داریوں اورقومی سلامتی کی ترجیحات سےگہرا تعلق رکھتاہے۔سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کادفاعی رشتہ کئی دہائیوں پرمحیط تاریخی،مذہبی،ثقافتی اورسیاسی روابط کانتیجہ ہے، جسے کسی نئے تعلق پرفوری طورپرمنطبق کرنا ایک مختلف نوعیت کاچیلنج ہوگا۔
اسلامی عسکری فکرمیں کسی بھی بڑی حکمتِ عملی کیلئےتدریج، توازن اوربصیرت کوبنیادی اہمیت حاصل ہے۔تاریخِ اسلام میں بھی کامیاب قیادت نے محض طاقت کےاظہارکی بجائےحالات کے مطابق مرحلہ وارپیش قدمی کوترجیح دی۔اسی اصول کےتحت کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کوبھی ایک ارتقائی عمل کے طورپردیکھنازیادہ مناسب ہوگا،جس میں اعتماد سازی،مشترکہ تربیت،تکنیکی تعاون اور دفاعی ہم آہنگی کے مراحل بتدریج آگے بڑھیں۔
ایک وسیع عسکری اتحاداگرچہ دونوں ممالک کیلئےدفاعی فوائدکاباعث بن سکتاہے،لیکن غیرمحتاط توسیع عسکری وسائل پردباؤاور تزویراتی پیچیدگیوں کوبھی جنم دے سکتی ہے۔اس لیے پاکستان کیلئےدانشمندانہ راستہ یہی ہوگاکہ وہ کویت کی دفاعی ضروریات اوراپنی قومی ترجیحات کے درمیان ایک متوازن حکمتِ عملی اختیار کرے۔طاقت کااصل حسن صرف اس کےاظہار میں نہیں بلکہ اس کے مناسب، محدوداورمؤثراستعمال میں پوشیدہ ہوتاہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق،اگرچہ کویت کی دفاعی خواہشات وسیع اورہمہ جہت ہیں،تاہم اسلام آباداس مرحلے پرجنگی دستوں کی مستقل تعیناتی پرغور نہیں کررہا۔یہ مؤقف محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہری عسکری اورسفارتی حکمتِ عملی کااظہار ہے،جس میں پاکستان نہ توتعاون کے امکانات کو محدود کرناچاہتاہے اورنہ ہی خودکوایسے عسکری التزامات میں مقیدکرناچاہتاہے جو مستقبل میں اس کی قومی ترجیحات پربوجھ بن سکیں۔یہ ایک ایسے چراغ کی مانندہے جس کی روشنی محتاط ضرورہے مگرسمت واضح رکھتی ہے۔
اسلامی عسکری فکرمیں طاقت کے استعمال کوہمیشہ حکمت، ضرورت اورمقصدیت کے اصولوں سے وابستہ رکھاگیاہے۔تدریج کا اصول اس امرکی رہنمائی کرتاہے کہ بڑے فیصلے مرحلہ وار، حالات کے ادراک اوروسیع ترمصلحت کوسامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں۔اسی تناظرمیں پاکستان کامحتاط رویہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں کونبھاتے ہوئے غیر ضروری عسکری الجھاؤسے محفوظ رہنے کی کوشش کررہاہے۔
دفاعی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی فرق دفاع اورجارحیت کے درمیان ہوتاہے۔اسلامی جنگی اصولوں کے مطابق قوت کااستعمال ظلم، توسیع پسندی یاغلبے کیلئےنہیں بلکہ امن،تحفظ اور جائز دفاع کیلئےہوناچاہیے۔پاکستان کی جانب سے فوری طورپرجنگی افواج بھیجنے سے گریزاسی تصورکی عکاسی کرتاہے کہ عسکری قوت کامقصد محض طاقت کامظاہرہ نہیں بلکہ قومی مفاداور علاقائی استحکام کا تحفظ ہےچنانچہ کویت کے ساتھ ممکنہ دفاعی تعاون میں پاکستان کیلئےاصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی عسکری صلاحیت کودانشمندانہ انداز میں بروئے کارلائے۔طاقت کا وقار اسی وقت برقراررہتا ہے جب اسے جذبات کے بجائے بصیرت،اوروسعت کے بجائے ضرورت کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہی حکمت ایک ریاست کومحض جنگی قوت نہیں بلکہ ایک ذمہ داراورمتوازن علاقائی کردارعطاکرتی ہے۔
ین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستان اورکویت کے درمیان جاری مذاکرات کی تصدیق اگرچہ مختلف حلقوں سے سامنے آئی ہے،تاہم دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ خاموشی برقرار ہے۔پاکستان کے متعلقہ اداروں اورکویتی حکام کی عدمِ تصدیق اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ یہ معاملہ ابھی سفارتی نزاکت،غورو فکراورباہمی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔عالمی سیاست میں بعض اوقات خاموشی محض سکوت نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسی زبان بن جاتی ہے جوالفاظ سے زیادہ گہرے معنی رکھتی ہے۔
ریاستی سفارت کاری میں ہراعلان اپنے اندرسیاسی اثرات،علاقائی ردِعمل اورعالمی دباؤکے امکانات رکھتاہے۔اسی لیے حساس دفاعی معاملات میں جلد بازی کے بجائے محتاط طرزِعمل اختیارکیاجاتاہے،کیونکہ ایک غیرمحتاط بیان نہ صرف مذاکراتی عمل کومتاثرکرسکتا ہے بلکہ پورے خطے کی سیاسی فضا میں ارتعاش پیداکرسکتاہے۔یہ خاموشی دراصل کمزوری نہیں بلکہ حکمتِ عملی کاوہ پردہ ہے جس کے پیچھے فیصلے اپنی مکمل پختگی حاصل کرتے ہیں۔
اسلامی سیاسی روایت میں بھی اجتماعی مفادسے متعلق امورمیں حکمت،راز داری اورتدبرکوبنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔عسکری حکمتِ عملی میں بھی غیر اعلانیہ تیاری،معلوماتی برتری اورمناسب وقت کاانتخاب کامیاب منصوبہ بندی کاحصہ سمجھے جاتے ہیں۔اسی تناظرمیں پاکستان اورکویت کی محتاط سفارتی روش اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ریاستیں کسی بھی بڑے فیصلے کوجذبات یاعجلت کی بجائے وسیع ترمفادات،علاقائی توازن اورمستقبل کے امکانات کوسامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھاناچاہتی ہیں۔یوں یہ خاموش سفارت کاری دراصل ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس میں الفاظ کم اوراشارے زیادہ ہوتے ہیں؛جہاں فیصلے پردوں کے پیچھے تشکیل پاتے ہیں اوروقت آنے پراپنی مکمل صورت میں ظاہرہوتے ہیں۔
گزشتہ ایک عرصے کے دوران خلیجی ریاستوں کے دفاعی تصورات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ماضی میں جن ممالک کادفاعی انحصاربڑی حد تک امریکا کی عسکری چھتری پرقائم تھا،وہ اب اپنی سلامتی کیلئےمتنوع شراکت داریوں،علاقائی تعاون اور متبادل دفاعی راستوں کی تلاش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض عسکری ضرورت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کامظہرہے،جہاں ریاستیں اپنی خودمختاری اوردفاعی استحکام کیلئےایک سے زیادہ شراکت داروں کے ساتھ تعلقات استوار کرناچاہتی ہیں۔
اسی تناظرمیں پاکستان اپنی عسکری صلاحیت،طویل دفاعی تجربے،تربیت یافتہ افواج،دفاعی صنعت اورجوہری صلاحیت کے باعث خلیجی ریاستوں کیلئےایک اہم شراکت دارکے طورپر سامنے آیاہے۔پاکستان کی موجودگی کوصرف ایک فوجی تعاون کےزاویےسےنہیں دیکھاجارہابلکہ اسے ایک ایسی تکمیلی قوت کے طور پرسمجھاجارہاہے جوعلاقائی دفاعی توازن میں اضافہ کرسکتی ہے۔عسکری حکمتِ عملی کی زبان میں یہ رجحان“اسٹریٹجک ڈیپتھ”کے اس تصورسے وابستہ ہے جس کے تحت ریاستیں اپنے دفاعی نظام کومتنوع ذرائع سے مضبوط بناتی ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پرمکمل انحصارسے بچاجاسکے۔
اسلامی سیاسی فکرکے تناظرمیں بھی یہ تبدیلی خودانحصاری،باہمی تعاون اورمشترکہ تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ نظرآتی ہے۔امتِ مسلمہ کی تاریخ میں دفاعی تعاون ہمیشہ محض عسکری طاقت کااظہارنہیں بلکہ اجتماعی سلامتی اورمشترکہ ذمہ داری کے تصورسے وابستہ رہاہے۔اسی پس منظرمیں پاکستان ایک ایسےملک کے طورپردیکھاجارہاہے جوعسکری صلاحیت کے ساتھ ساتھ تاریخی،تہذیبی اورمذہبی روابط کے باعث خلیجی خطے میں ایک منفردمقام رکھتاہے۔تاہم اس نئے عسکری رجحان کی کامیابی کاانحصار اس بات پرہوگاکہ علاقائی ریاستیں طاقت کے توازن کوکس طرح برقراررکھتی ہیں۔ دفاعی شراکت داری اگر حکمت،باہمی اعتماداورواضح قومی مفادات کےاصولوں پرقائم ہوتویہ خطے میں استحکام کاذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگریہ محض طاقت کے مقابلے کی صورت اختیار کر لےتونئی پیچیدگیاں بھی پیداہوسکتی ہیں۔اس لیے موجودہ دورکی اصل ضرورت ایسی حکمتِ عملی ہے جس میں قوت کےساتھ تدبر،اتحادکے ساتھ توازن اورمفادات کے ساتھ ذمہ داری بھی شامل ہو۔
کویت کے سیکیورٹی اورپالیسی حلقوں میں پاکستان کوایک ایسے شراکت دارکے طورپردیکھاجارہاہے جوعسکری صلاحیت،تاریخی روابط اورسیاسی توازن کی منفردخصوصیات رکھتاہے۔پاکستان کی اہمیت محض اس کی فوجی قوت تک محدودنہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں موجودمذہبی،تہذیبی اورسفارتی روابط بھی اسے ایک نمایاں مقام عطاکرتے ہیں۔سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات، مسلم دنیامیں اس کی حیثیت،اورامریکاکے ساتھ اس کے متوازن روابط اسے خلیجی ریاستوں کیلئےایک نسبتاًقابلِ اعتماداورکم حساس انتخاب بناتے ہیں۔
پاکستان کی یہ حیثیت اسے ایک ایسے پل کی مانندبناتی ہے جومختلف علاقائی اورعالمی قوتوں کے درمیان رابطے کاذریعہ بن سکتاہے۔ وہ ایک طرف خلیجی ریاستوں کے دفاعی خدشات کو سمجھتاہے اوردوسری طرف عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔یہی امتزاج اسے محض ایک عسکری شراکت دارنہیں بلکہ ایک ممکنہ تزویراتی توازن کار کے طورپرپیش کرتا ہے۔
اسلامی عسکری فکرکے تناظرمیں پاکستان کی اہمیت اس پہلوسے بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ اس کے پاس نظریاتی وابستگی اوردفاعی صلاحیت دونوں موجودہیں۔ قوتِ ایمان اورقوتِ تدبیرکے ساتھ اگرعسکری طاقت کوحکمت اورذمہ داری کے تابع رکھاجائے تووہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی مؤثرکرداراداکرسکتی ہے۔تاہم یہی خصوصیات پاکستان پر ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہیں،کیونکہ مختلف تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھناایک نہایت نازک عمل ہے۔
چنانچہ پاکستان کیلئےاصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے اتحادقائم کرتاہے،بلکہ یہ ہے کہ وہ ان تعلقات کوکس قدردانشمندی،اعتدال اورقومی مفادکے مطابق منظم کرتاہے۔ایک کامیاب ریاست وہی ہوتی ہے جواپنی طاقت کومحض اظہارِقوت کاذریعہ نہ بنائے بلکہ امن،استحکام اور متوازن سفارت کاری کیلئےاستعمال کرے ۔ ترکی،پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ممکنہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اورعسکری حرکیات میں ایک اہم پیش رفت کے طورپر دیکھا جا رہاہے۔اگربحرین اوراردن بھی اس نوعیت کے تعاون میں شامل ہوتے ہیں تویہ محض چندریاستوں کاباہمی دفاعی انتظام نہیں رہے گابلکہ ایک وسیع ترعلاقائی شراکت داری کی صورت اختیارکرسکتاہے،جس کے اثرات عسکری میدان سے آگے بڑھ کرسیاسی، معاشی اورسفارتی سطحوں تک پھیل سکتے ہیں۔
یہ ممکنہ اتحادخطے میں طاقت کے توازن کوایک نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتاہے،کیونکہ موجودہ دورمیں ریاستیں اپنی سلامتی کیلئےصرف بیرونی طاقتوں کے سہارے پرانحصارکرنے کی بجائے باہمی تعاون،مشترکہ دفاعی صلاحیت اورعلاقائی شراکت داری کو اہمیت دے رہی ہیں۔تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ آیایہ اتحادمحض عسکری ضرورت کے تحت تشکیل پائے گایا اس کے پیچھے کوئی وسیع ترفکری،تہذیبی اوراقتصادی ہم آہنگی بھی موجودہوگی۔
اسلامی سیاسی تاریخ میں اتحادہمیشہ صرف طاقت کے جمع ہونے کانام نہیں رہابلکہ مشترکہ اقدار،عدل اورباہمی ذمہ داری کے اصولوں سے وابستہ رہاہے۔اسی تناظرمیں اس ممکنہ تعاون کو ایک جدید“حلف الفضول”کے تصورسے بھی جوڑاجاسکتاہے،یعنی ایساباہمی عہد جس کامقصد محض قوت کااظہارنہیں بلکہ امن، تحفظ اورانصاف کے قیام میں تعاون ہو۔تاہم تاریخ کاسبق یہ ہے کہ صرف عسکری معاہدے طویل عرصے تک قائم نہیں رہتے جب تک ان کے پیچھے مشترکہ وژن،اعتماداوروسیع ترمفادات کی بنیادموجودنہ ہو۔
چنانچہ اس ممکنہ دفاعی محورکی کامیابی کاانحصاراس بات پرہوگاکہ شریک ممالک اسے محض عسکری اتحادکی بجائے ایک متوازن شراکت داری کےطورپرکس طرح تشکیل دیتےہیں۔اگر اس میں دفاع کے ساتھ اقتصادی تعاون،سیاسی ہم آہنگی اورتہذیبی روابط کوبھی شامل کیاگیاتویہ خطے میں ایک مؤثراوردیرپاقوت بن سکتاہے،لیکن اگریہ صرف وقتی تزویراتی ضرورت تک محدودرہاتواس کی پائیداری ایک سوال بنی رہے گی۔
عصرِ حاضر میں قومی سلامتی کاتصور صرف عسکری قوت تک محدودنہیں رہابلکہ معاشی استحکام،توانائی کاتحفظ اوروسائل کی دستیابی بھی دفاعی حکمتِ عملی کالازمی حصہ بن چکے ہیں۔پاکستان کیلئےدفاعی معاہدے محض سیکیورٹی تعاون کاذریعہ نہیں بلکہ معاشی استحکام اورقومی خودمختاری کے تحفظ کاوسیلہ بھی ہیں۔کویت کے ساتھ ممکنہ تعاون اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھاجاسکتاہے، جہاں دفاعی شراکت داری کے ساتھ توانائی کے تحفظ کوبھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان کودرپیش توانائی کے مسائل اس کی معیشت اورقومی سلامتی دونوں پراثراندازہوتے ہیں،کیونکہ تیل،ایندھن اورتوانائی کے مستقل ذرائع کسی بھی ریاست کی صنعتی ترقی،معاشی رفتار اوردفاعی صلاحیت سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں۔کویت جیسے توانائی سے مالا مال ملک کے ساتھ تعاون پاکستان کونہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدددے سکتاہے بلکہ طویل المدتی اقتصادی منصوبہ بندی کیلئےبھی ایک مضبوط بنیادفراہم کرسکتاہے۔
جغرافیائی سیاست میں توانائی ہمیشہ سےطاقت کاایک اہم ذریعہ رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جن ریاستوں نےتوانائی کےوسائل کوبہتر حکمتِ عملی کے ساتھ منظم کیا،انہوں نے اپنی سیاسی اورمعاشی خودمختاری کوبھی مضبوط بنایا۔پاکستان کیلئےتوانائی کے شعبے میں شراکت داری دراصل معاشی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک تزویراتی قدم بھی ہے،کیونکہ ایک مستحکم معیشت ہی مضبوط دفاعی نظام کو سہارادے سکتی ہے۔
اسلامی فکرمیں بھی معیشت اوردفاع کوایک دوسرے سے جدانہیں سمجھاجاتا۔ریاست کی قوت کادارومدارصرف اسلحے کے ذخائرپر نہیں بلکہ اس کے معاشی وسائل،عوامی خوشحالی اورخود کفالت پربھی ہوتاہے۔اسی مفہوم میں رزق اوررزم ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں؛رزق ریاست کواستحکام دیتا ہے اوررزم اس استحکام کے تحفظ کاذریعہ بنتاہے۔
چنانچہ کویت کے ساتھ توانائی اوردفاعی تعاون کومحض ایک دوطرفہ معاہدے کے طورپرنہیں بلکہ پاکستان کی وسیع ترقومی حکمتِ عملی کے ایک حصے کے طورپر دیکھناچاہیے،جہاں معاشی بقا، توانائی کاتحفظ اوردفاعی خودمختاری ایک دوسرے سے مربوط ہوکر قومی طاقت کی بنیادتشکیل دیتے ہیں۔کویت کی جانب سے ایندھن کے مشترکہ ذخیرہ کی تجویزپاکستان اورکویت کے درمیان اقتصادی وتزویراتی تعاون میں ایک اہم پیش رفت قراردی جاسکتی ہے۔یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان موجودہ ڈیزل سپلائی کے معاہدے کومزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کیلئےتوانائی کےتحفظ کی ایک نئی راہ بھی ہموارکرسکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب توانائی کی ضروریات قومی معیشت،صنعتی ترقی اور دفاعی صلاحیت سے براہِ راست وابستہ ہوچکی ہیں، ایندھن کے محفوظ ذخائرکسی بھی ریاست کیلئےمحض تجارتی سہولت نہیں بلکہ قومی سلامتی کاایک اہم ستون بن جاتےہیں۔
اس نوعیت کاتعاون پاکستان کوتوانائی کے میدان میں زیادہ استحکام اورمنصوبہ بندی کی صلاحیت فراہم کرسکتاہے،خصوصاًاگراسے سرمایہ کاری،انفراسٹرکچرکی ترقی اورطویل المدتی اقتصادی حکمتِ عملی کے ساتھ مربوط کیاجائے۔تاہم ہرتزویراتی شراکت داری کی طرح اس کے ساتھ بھی احتیاط کاتقاضاموجودہے، کیونکہ کسی ایک بیرونی ذریعے پرحدسے زیادہ انحصارمستقبل میں پالیسی سازی کی آزادی کومحدودکرسکتاہے۔
اسلامی عسکری اورسیاسی فکرمیں خودکفالت،تدبراوروسائل کے متوازن استعمال کوبنیادی اہمیت حاصل ہے۔تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کاحصول اسی وقت پائیدارثابت ہوتاہے جب وہ داخلی استحکام اورخودانحصاری کی بنیادپرقائم ہو۔محض بیرونی تعاون پرانحصار کسی بھی ریاست کووقتی سہاراتودے سکتاہے،مگردیرپاقوت کیلئےضروری ہے کہ اپنی داخلی صلاحیتوں کوبھی مضبوط بنایاجائے۔
لہٰذاپاکستان کیلئےکویت کے ساتھ توانائی ذخیرہ اوردفاعی تعاون کاراستہ امکانات سے بھرپورضرورہے،مگراس کامیابی کاانحصاراس بات پرہوگاکہ اسلام آباد شراکت داری اورخودمختاری کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیارکرے۔اصل دانشمندی یہی ہے کہ بیرونی تعاون کوقومی طاقت میں اضافے کاذریعہ بنایا جائے،نہ کہ کسی نئے انحصارکاسبب۔یوں توانائی کایہ منصوبہ محض ایندھن کےذخیرے کامعاملہ نہیں بلکہ قومی حکمتِ عملی کاایک ایساباب ہے جس میں معاشی استحکام،دفاعی تحفظ اورخودمختارفیصلوں کی صلاحیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
پاکستان اورکویت کے ممکنہ دفاعی ومعاشی تعاون کایہ پورامنظرنامہ دراصل ایک ایسے دریاکی مانندہے جس میں سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی،معاشی مفادات،توانائی کی ضرورتیں اور نظریاتی وابستگیاں مختلف دھاروں کی صورت میں بہہ رہی ہیں۔ان تمام قوتوں کوایک متوازن سمت دیناہی اصل امتحان ہے۔پاکستان کیلئےبنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات، علاقائی ذمہ داریوں اور عالمی تقاضوں کے درمیان ایساراستہ اختیارکرے جواس کے مفاد، خود مختاری اوروقارسے ہم آہنگ ہو۔
اسلامی فکرہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کااستعمال عدل،حکمت اورذمہ داری کے تابع ہوناچاہیے،جبکہ جغرافیائی سیاست یہ تقاضا کرتی ہے کہ ریاستیں بدلتے ہوئے حالات کوحقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھیں اوراپنے مفادات کاتحفظ کریں۔اسی طرح عسکری حکمتِ عملی کااصول یہ ہے کہ قوت صرف اسلحے کی فراوانی میں نہیں بلکہ بروقت فیصلے،درست ترجیحات اور دانشمندانہ استعمال میں پوشیدہ ہوتی ہے۔پاکستان کیلئےکامیابی کاراستہ اسی وقت ہموارہوسکتاہے جب وہ اسلامی اصولوں،جغرافیائی حقائق اورعسکری تدبیرکو ایک متوازن حکمتِ عملی میں یکجا کرے۔
اگرپاکستان اس توازن کوقائم رکھنے میں کامیاب ہوجاتاہے تووہ نہ صرف ایک مضبوط علاقائی قوت کے طور پرابھرسکتاہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک باوقار، ذمہ داراور مؤثرکردارادا کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتاہے۔تاہم اگرطاقت کے حصول کی دوڑمیں حدسے تجاوزکیاگیایاغیر ضروری وابستگیوں کابوجھ بڑھ گیاتو یہی مواقع پیچیدہ چیلنجزمیں تبدیل ہوسکتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کاسفر ہمیشہ دانش کے بغیرکامیابی تک نہیں پہنچتا؛بعض اوقات بے احتیاطی فتح کے راستے کو دشواریوں کے گرداب میں بدل دیتی ہے۔
پاکستان آج ایک ایسے تاریخی موڑپرکھڑاہے جہاں ہرفیصلہ آنے والے وقت کی سمت متعین کرسکتاہے۔یہ محض ایک دفاعی معاہدے یا توانائی کے منصوبے کامعاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع ترقومی وژن کاسوال ہے کہ پاکستان خودکوخطے میں کس کردارکے ساتھ دیکھنا چاہتاہے۔اسےایک ایسےراستےکا انتخاب کرناہوگا جہاں ایمان کےساتھ علم، طاقت کےساتھ تدبر،اور مفادکےساتھ ذمہ داری شامل ہو۔
یوں یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی؛یہ وقت کےقلم سے لکھی جانے والی ایک مسلسل تاریخ ہے۔آنے والے فیصلے اس امرکاتعین کریں گے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیامیں محض حالات کاپیروکاربنتاہے یاحکمت،استقامت اوربصیرت کے ساتھ اپنےلیےایک باوقارمقام تراشتاہے۔یہی وہ میزان ہےجس پرقوموں کی پائیدارکامیابی اورتاریخی عظمت کافیصلہ ہوتاہے۔








