Silent Storm, Silent Front

خاموش طوفان،خاموش محاذ

زمانہ اپنے سینے میں کتنے ہی ان کہے رازدفن رکھتاہے،مگرکبھی کبھی تاریخ کادروازہ اس طرح کھلتاہے کہ اندرکی ہرسرگوشی طوفان بن کرباہرآتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے باروداوربیانیے کے امتزاج سے تشکیل پاتی رہی ہے،مگرموجودہ مرحلہ اس روایت سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے ہی موڑپرکھڑاہے جہاں سفارت کاری کی مسکراہٹ کے پیچھے جنگ کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔یہ صرف ریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ تصورات، مفادات اوربقاکے فلسفوں کاٹکراؤہے۔ایران اورامریکاکے درمیان بڑھتی ہوئی مفاہمتی کوششیں بظاہرایک سفارتی پیش رفت ہیں،لیکن ان کے باطن میں ایک ایسی ارتعاش پوشیدہ ہے جوخطے کے طاقت کے توازن کوازسرِنوترتیب دے سکتی ہے۔

ایران اورامریکاکے درمیان ممکنہ مفاہمت کی بازگشت محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ طاقت،خوف اوربقاکے فلسفے کانیاباب ہے—اوراس باب کے حاشیے پر اسرائیل کی بے چینی صاف لکھی جاسکتی ہے۔سوال اب محض یہ نہیں رہاکہ معاہدہ کامیاب ہوگایانہیں؛اصل سوال یہ ہے کہ اگرواشنگٹن اورتہران ہاتھ ملا لیتے ہیں توتل ابیب کی انگلیاں کس سمت اٹھیں گی؟اسرائیل کیلئے یہ صورتحال ایک ایسے مسافرکی مانند ہے جومنزل کے قریب پہنچ کرراستہ کھوبیٹھے۔اسرائیل کیلئے یہ صورتحال محض ایک خارجی چیلنج نہیں بلکہ داخلی اضطراب کابھی سبب بن چکی ہے۔اس کے پالیسی سازاب اس حقیقت کوتسلیم کرنے پرمجبورہیں کہ دنیایک قطبی نظم سے نکل کرایک ایسی کثیرالجہتی حقیقت میں داخل ہورہی ہے جہاں ہرفیصلہ مکمل اختیار کی بجائے مفاہمت کے سائے میں ہوتاہے۔

اسرائیلی سیاسی اورعسکری حلقوں میں بحث کازاویہ بدل چکاہے۔پہلے کوشش یہ تھی کہ معاہدے کوروکاجائے،مگراب گفتگو اس بات پر مرکوزہے کہ اگریہ معاہدہ ہوگیاتواس کے اثرات کا سامناکیسے کیاجائے۔اگرواشنگٹن اورتہران کسی مشترکہ فریم ورک پرمتفق ہوجاتے ہیں تویہ صرف ایک معاہدہ نہیں ہوگابلکہ عالمی طاقت کی ترجیحات میں تبدیلی کااعلان ہوگا۔اس صورت میں اسرائیل کوپہلی باریہ احساس شدت سے ہوگاکہ اس کاروایتی اسٹریٹیجک سہارا—یعنی امریکا کی غیرمشروط حمایت—اب مشروط حقیقت میں تبدیل ہورہاہے۔ گویاکشتی کوطوفان سے بچانے کی تدبیرناکام ہوگئی ہواوراب ملاح لہروں کے ساتھ بہنے کی حکمت عملی سوچ رہاہو۔

اسرائیلی صہیونی مراکزاورعسکری اداروں میں ہونے والی بحثوں کامرکزی نکتہ اب“روک تھام”سے“موافقت”کی طرف منتقل ہوچکا ہے۔یہ تبدیلی بظاہر تدبیرمعلوم ہوتی ہے،مگردرحقیقت یہ ایک خاموش اعتراف بھی ہے کہ بعض اوقات تاریخ کوروکا نہیں جاسکتا،صرف اس کے ساتھ چلنے کی حکمت سیکھنی پڑتی ہے۔ممکنہ معاہدہ،جسے بعض حلقے2015کے جوہری معاہدے کاترمیم شدہ عکس قراردیتے ہیں،اسرائیل کیلئے ایک پیچیدہ معمہ ہے۔اس میں ایران کے جوہری پروگرام پرقدغنیں توہوں گی،مگراس کے میزائل،ڈرون اورخطے میں پھیلے اتحادی نیٹ ورک بدستورقائم رہیں گے۔ یوں یہ معاہدہ ایک ایسے درخت کی مانندہوگاجس کی شاخیں کاٹ دی جائیں مگرجڑیں سلامت رہیں—اورجڑیں ہی تواصل خطرہ ہوتی ہیں۔

ممکنہ معاہدے کی ساخت اگرچہ ابھی غیرواضح ہے،لیکن اس کے خدوخال یہ ظاہرکرتے ہیں کہ ایران کومکمل طورپرمحدودکرنے کی بجائے اسے ایک قابلِ برداشت فریق کے طورپرتسلیم کیاجارہاہے۔یہی وہ پہلوہے جواسرائیل کیلئے سب سے زیادہ تشویش کاباعث ہے، کیونکہ اس کاپوراسکیورٹی بیانیہ ایران کوایک ناقابلِ قبول خطرہ قراردینے پرقائم رہاہے۔اسرائیلی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ معاہدہ جنگ کے ابتدائی اہداف سے انحراف ہوگا۔وہ اہداف جوایران کے علاقائی اثرکومحدودکرنے، اس کے عسکری ڈھانچے کوکمزورکرنے اوراس کے اتحادی نیٹ ورک کومنتشرکرنے سے جڑے تھے مگراب حقیقت کاآئینہ کچھ اور دکھارہاہے۔اسرائیل شاید “مکمل فتح”کے خواب سے دستبردارہوکرمحض“قابلِ قبول نقصان”کی سطح پرآکھڑاہواہے۔
یہ صورتحال خوداسرائیل کے اندر فکری انتشاراورنفسیاتی کشمکش کوجنم دے رہی ہے۔ایک طرف کچھ حلقےاس معاہدے کوناگزیر حقیقت سمجھ کراس کے اندراپنے مفادات کیلئے جگہ نکالنے کے خواہاں ہیں،دوسری طرف نظریاتی شدت ہے جوہرقسم کی مفاہمت کو کمزوری تصورکرتے ہوئےاسے ایک خطرناک پسپائی تصورکرتے ہیں۔یہی تضادجہاں اسرائیل کے اعصاب کو کمزورکررہاہے وہیں اسرائیلی پالیسی سازوں کوغیریقینی کی دھندمیں لپیٹ رہاہے۔

ایک اہم پہلویہ بھی ہے کہ اگرمذاکرات طول پکڑتے ہیں اورامریکاکی دلچسپی مدہم پڑتی ہے تواسرائیل خودکوایک ایسے خلامیں پائے گا جہاں نہ جنگ کاسہاراہو گانہ سفارت کاری کایقین۔ایسی صورت میں ایران کاجوہری پروگرام بغیرکسی مؤثرپابندی کے آگے بڑھ سکتاہے اوراس کاعلاقائی اثرمزیدگہراہوسکتاہے۔یہ منظرنامہ اسرائیل کیلئے ایک ایساخواب ہے جس کی تعبیر ڈراؤنی ہے۔دلچسپ امریہ ہے کہ کچھ تجزیہ کارایک “نامکمل معاہدے” کوبھی “بغیرمعاہدے”سے بہترسمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک جزوی کنٹرول بھی مکمل بے قابوصورتحال سے بہترہے مگراس سوچ کے مقابل ایک مضبوط دھڑایہ استدلال پیش کرتاہے کہ ناقص معاہدہ دراصل خطرے کومؤخرکرتاہے،ختم نہیں کرتا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیل کے سامنے پہلاراستہ ابھرتاہے:معاہدے کواپنے حق میں ڈھالنے کی کوشش۔اس حکمت عملی کے تحت وہ امریکاپردباؤڈال کرمعاہدے کی شرائط کوسخت بنواناچاہتاہے—یعنی یورینیم کی افزودگی پرمکمل پابندی،میزائل پروگرام کی تحدید،اور سخت نگرانی کانظام۔لیکن یہاں بھی ایک خلاموجودہے۔اسرائیل جوچاہتاہے اورامریکاجوقبول کرنے کو تیارہے،ان دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتاجارہاہے۔یہ فاصلہ محض سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک ہے—اوریہی فاصلے اکثرتاریخ میں تصادم کوجنم دیتے ہیں۔یوں مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے شطرنج کے کھیل میں داخل ہوچکاہے جہاں ہرچال کے پیچھے کئی چالیں پوشیدہ ہیں۔ایران،امریکااوراسرائیل تینوں اپنی اپنی بساط بچھائے بیٹھے ہیں،مگر بادشاہت کاتاج ابھی کسی کے سرپرنہیں آیااورشایدیہی غیر یقینی کیفیت اس پورے منظرنامے کوسب سے زیادہ خطرناک بناتی ہے۔

اسی پس منظر میں یہ سوال شدت اختیارکرجاتاہے کہ اگریہ عبوری معاہدہ مستقل طورپرطے پاگیاتواسرائیل کی ترجیحات کیاہوں گی؟کیاوہ اسے وقتی مصلحت سمجھ کرقبول کرے گا یا اسے ایک طویل المدتی خطرہ مان کراس کے خلاف خاموش مزاحمت جاری رکھے گا؟یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری ایک فن کی بجائے ایک آزمائش بن جاتی ہے—اورہر فیصلہ ایک نئے سوال کوجنم دیتا ہے۔یادرہے کہ تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی؛وہ اپنے اوراق کوبابار پلٹتی ہے تاکہ حال کوآئینہ دکھاسکے۔ تاریخی تجربات اکثرحال کی حکمت عملیوں کی بنیادبنتے ہیں،اور اسرائیل کیلئے گزشتہ دہائی کے واقعات ایک مکمل نصاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس نصاب کاپہلا سبق یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدے صرف مذاکراتی میزپرنہیں بنتے بلکہ میڈیا،سیاست اورخفیہ سفارت کاری کے متعدد میدانوں میں تشکیل پاتے ہیں۔

اسرائیل کیلئے2015کاجوہری معاہدہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسازخم ہے جس کی ٹیس آج بھی اس کی پالیسیوں میں محسوس ہوتی ہیں۔اس وقت نیتن یاہونے امریکی صدراوباما کے خلاف کھلے عام محاذآرائی اختیارکی تھی۔امریکی کانگریس میں ان کی تقریرایک سیاسی طوفان بن گئی تھی،جس میں انہوں نے معاہدے کواسرائیل کی بقاکیلئے خطرہ قراردیا۔ گویاایک اتحادی ملک کے اندرجاکراس کی پالیسی کوچیلنج کرنایہ ایک غیرمعمولی قدم تھا۔اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نوازلابنگ گروپس نے بھی اپنی پوری قوت جھونک دی۔میڈیا، سیاست اور سفارت کاری—ہرمحاذپردباؤڈالاگیا،مگرمعاہدہ پھربھی طے پاگیا۔اس واقعے نے اسرائیل کویہ سبق دیاکہ صرف مخالفت کافی نہیں،حکمت عملی بھی ضروری ہے۔

آج ایک بارپھروہی منظرنامہ مختلف اندازمیں سامنے آرہاہے۔اسرائیل کے پاس دوسراآپشن یہی ہے کہ وہ ماضی کی طرح سفارتی اور سیاسی دباؤکوبروئے کارلائے۔ابتدائی مفاہمت اور حتمی معاہدے کے درمیان جوخلاہوتاہے،وہی اس کیلئے سب سے بڑامیدانِ عمل بن سکتا ہے۔اسی لیے اسرائیل کاایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ وہ معاہدے کی شکل وصورت پراثر انداز ہونے کی بھرپور کوشش کرے۔اس عمل میں وہ نہ صرف امریکی سیاسی نظام کے مختلف دھڑوں کو متحرک کرے گابلکہ عالمی رائے عامہ کوبھی اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرے گا۔بیانیہ سازی یہاں ایک ہتھیاربن جاتی ہے—اور شاید سب سے مؤثرہتھیار۔

اس دوران وہ کانگریس کومتحرک کرسکتاہے،ایران کے میزائل پروگرام کوعالمی خطرہ بناکرپیش کرسکتاہے، اور حتیٰ کہ خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مذاکرات کومتاثرکرنے کی کوشش بھی کرسکتا ہے ۔گویاجنگ کامیدان اب بارودسے نکل کربیانیے میں منتقل ہو چکاہے مگراس حکمت عملی کی اپنی حدود ہیں۔عالمی سیاست اب یک طرفہ دباؤکواسی شدت سے قبول نہیں کرتی جیساماضی میں کیاجاتا تھا۔ایران نے بھی وقت کے ساتھ اپنی سفارتی مہارت کوبہتر کیا ہے اوروہ اب محض ردعمل دینے والافریق نہیں بلکہ ایک فعال بیانیہ تخلیق کرنے والا کرداربن چکاہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیایہ حکمت عملی اس بارکامیاب ہوگی؟کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک نہیں۔ان کے مطابق ایران اب پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔اس نے نہ صرف دباؤبرداشت کیاہے بلکہ اپنی داخلی ساخت کوبھی مستحکم رکھاہے۔یوں وہ مذاکرات کی میزپر کمزورنہیں بلکہ ایک خوداعتمادفریق کے طور پربیٹھاہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اسرائیلی حلقے اس معاہدے کو2015سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک ایران اب مراعات لینے کی پوزیشن میں ہے،دینے کی نہیں۔

اس صورتحال میں اسرائیل کاتیسراراستہ ابھرتاہے اوروہ ہے عسکری آزادی کوبرقراررکھنا۔اسی تناظرمیں اسرائیل کیلئے عسکری خود مختاری کاتصوراہمیت اختیار کرتاہے۔وہ یہ باورکرانا چاہتا ہے کہ چاہے کوئی بھی سفارتی معاہدہ ہو،اس کی دفاعی پالیسی کسی بیرونی معاہدے کی پابندنہیں ہوگی۔یہ ایک ایسااصول ہے جسے اسرائیلی سکیورٹی حلقے“آزادیِ عمل”کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے کوئی بھی معاہدہ ہوجائے،اسرائیل اپنے دفاع کیلئے یکطرفہ کارروائی کاحق محفوظ رکھے گامگراس اعلان کی عملی حیثیت اس وقت کمزورپڑجاتی ہے جب اسے امریکا کے ساتھ اپنے گہرے عسکری اورمالی تعلقات کاسامناہوتاہے۔آزادی کا دعویٰ اورانحصارکی حقیقت دراصل ایک پیچیدہ تضادہے۔

اسی لیے بعض حلقے ایک درمیانی راستہ تجویزکرتے ہیں—ایسی محدودعسکری کارروائیاں جومکمل جنگ کادروازہ کھولے بغیرپیغام بھی دے سکیں۔یہ حکمت عملی دراصل طاقت کے مظاہرے اوراحتیاط کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔لیکن یہاں ایک تلخ حقیقت بھی موجودہے۔اسرائیل کی عسکری طاقت اپنی جگہ،مگروہ امریکاکی حمایت کے بغیرطویل جنگ کابوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اگرواشنگٹن سفارت کاری کوترجیح دیتا ہے تو اسرائیل کے ہاتھ بندھ سکتے ہیں۔

یہی وہ نازک مقام ہے جہاں طاقت اورانحصارکاتضادسامنے آتاہے۔اسرائیل طاقتورہے،مگرمکمل خودمختارنہیں۔اسی لئے کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کھلی جنگ کے بجائے محدود اورمنتخب کارروائیوں پراکتفاکرے گا—ایسی کارروائیاں جوپیغام بھی دیں اورمکمل تصادم سے بھی بچائیں۔یوں اسرائیل کے سامنے راستے توکئی ہیں،مگرہرراستہ کانٹوں سے بھراہے۔نہ مکمل جنگ ممکن ہے،نہ مکمل امن قابلِ قبول۔

تاہم اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم عنصروقت ہے۔اگرمذاکرات طویل ہوجاتے ہیں تواسرائیل کے پاس اپنے اثرورسوخ کواستعمال کرنےکے مزید مواقع ہوں گے لیکن اگر معاہدہ جلدی طے پاجاتاہے تواسے ایک ایسی حقیقت کاسامناکرناپڑے گاجسے تبدیل کرنااس کے بس میں نہیں ہوگا۔یوں اسرائیل ایک ایسی بساط پرکھیل رہاہے جہاں ہرچال سوچ سمجھ کرچلنی ہے،کیونکہ ایک غلط قدم نہ صرف موجودہ پوزیشن بلکہ مستقبل کے امکانات کوبھی متاثرکر سکتا ہے ۔

جب براہِ راست تصادم ممکن نہ رہے توطاقت اپنی شکل بدل لیتی ہے اورتاریخ گواہ ہے کہ جنگ سایوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔اسرائیل کیلئے تیسرااورشاید سب سے عملی آپشن یہی ہے ،خفیہ جنگ۔یہی اصول یہاں بھی کارفرمانظرآتاہے۔اسرائیل کیلئے خفیہ کارروائیاں ایک ایسامیدان ہیں جہاں وہ اپنی برتری کو برقرار رکھ سکتاہے بغیراس کے کہ وہ کھلی جنگ کے خطرات مول لے۔یہ حکمت عملی بظاہر خاموش ہوتی ہے،مگراس کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔یہ وہ حکمت عملی ہے جس میں گولیاں کم اورسرگوشیاں زیادہ ہوتی ہیں۔سائبر حملے،خفیہ کارروائیاں ،سائنسی تنصیبات اورانفراسٹرکچرکونقصان پہنچانا،اورمخصوص اہداف کا خاتمہ — یہ سب اس“خاموش جنگ” کے اجزاءاورخوفناک ہتھیارہیں جوجدیددورمیں روایتی جنگ کی جگہ لے رہی ہے ۔

اسرائیل اس میدان میں نیانہیں۔ماضی میں بھی اس نے ایران کے خلاف ایسی کارروائیاں کی ہیں۔مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ حکمت عملی ایک جامع حل فراہم کرسکتی ہے؟اکثرماہرین کاجواب نفی میں ہے کیونکہ ان کے مطابق یہ اقدامات وقتی دباؤتوڈال سکتے ہیں،مگرایران کے بنیادی ڈھانچے کوختم نہیں کرسکتے۔اس طریقۂ کارکی بھی اپنی حدودہیں۔یہ وقتی خلل تو پیدا کر سکتاہے،مگرکسی ریاست کے بنیادی ڈھانچے کومکمل طورپرمنہدم نہیں کرسکتا۔ایران کی مثال اس کی واضح دلیل ہے،جہاں داخلی دباؤکے باوجودریاستی نظام برقراررہاہے۔ ایران نے ثابت کیاہے کہ وہ اندرونی خلفشارکے باوجود قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے

یہی وہ حقیقت ہے جوکچھ مبصرین کواس نتیجے تک لے جاتی ہے کہ طویل مدت میں اسرائیل کوایک مختلف حکمت عملی اپناناہوگی—یعنی براہِ راست تصادم کی بجائے توازنِ طاقت کو برقراررکھنے کی کوشش نے کچھ اسرائیلی تجزیہ کاروں کوایک مختلف نتیجے تک پہنچایاہے:شایدمعاہدہ ناگزیرہے اس نقطۂ نظرکے مطابق اسرائیل آخرکاراس حقیقت کوقبول کرلے گااوراپنی حکمت عملی کوطویل مدتی روک تھام “ڈیٹرنس”پرمرکوزکرے گا۔اس حکمت عملی میں علاقائی اتحاد، دفاعی تیاری،اورمسلسل نگرانی شامل ہوگی۔یہ ایک ایسی پالیسی ہوگی جس میں فوری نتائج کے بجائے طویل المدتی استحکام کوترجیح دی جائے گی۔اس میں حزب اللہ پرتوجہ،علاقائی اتحادوں کو مضبوط کرنا،اورمسلسل دباؤشامل ہوگا۔

مگراس سب کے باوجودایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم اورباربارسراٹھاتاہے— وہ سوال جوہرجنگ،ہرمعاہدے اورہرحکمت عملی کے بعداٹھتاہے جوشاید سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے: اس جنگ سے حاصل کیاہوا؟یہ سوال صرف نتائج کانہیں بلکہ مقاصدکابھی ہے۔اگر طاقت کے توازن میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئے،اگرخطرات اپنی جگہ قائم رہیں، اوربالآخر وہی سفارتی راستہ اختیارکرناپڑے جسے پہلے رد کیاگیاتھا—توپھر ابتدائی فیصلوں کی معنویت کیارہ جاتی ہے؟

ایران کانظام برقراررہا،اس کااثرکم ہونے کی بجائے بعض پہلوؤں میں نمایاں ہوا،اورعالمی معیشت پراس کے دباؤ کی صلاحیت بھی واضح ہوگئی۔یوں ناقدین کے مطابق یہ جنگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس نے ایران کی طاقت کے کچھ پہلوؤں کو مزیداجاگرکردیا۔اگر آخرکاراسرائیل کوایک معاہدہ قبول کرناہی پڑتاہے—چاہے وہ کیسابھی ہو—تویہ سوال تاریخ کے صفحات پرثبت ہو جائے گاکہ2015کے معاہدے سے نکلنے کافائدہ کیاہوا؟یہی سوال اس پوری کہانی کاحاصل ہے۔ایک ایساسوال جس کاجواب شاید آج نہیں، مگرکل کی تاریخ ضروردے گی۔

یہ پوری صورتحال محض سفارت کاری یاعسکری حکمت عملی کامعاملہ نہیں،بلکہ طاقت،خوف،مفاداوربقاکے فلسفے کاتصادم ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرتاریخ کے ایک ایسے موڑپر کھڑا ہے جہاں ہرفیصلہ آنے والی نسلوں کی تقدیررقم کرے گااورشایدیہی تاریخ کا سب سے بڑاالمیہ بھی ہے—کہ اس کے فیصلے ہمیشہ حال میں ہوتے ہیں،مگران کے اثرات صدیوں تک گونجتے رہتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ فیصلہ سناتی ہے،مگراس کا فیصلہ فوری نہیں ہوتا۔وہ وقت کے آئینے میں دھیرے دھیرے ابھرتاہے،اورجب سامنے آتا ہے توصرف واقعات نہیں بلکہ ان کے پس منظر،ان کے محرکات اوران کے نتائج سب کوایک ساتھ آشکارکردیتاہے۔مشرقِ وسطیٰ آج اسی انتظارمیں ہے—ایک ایسے فیصلے کے انتظارمیں جو شاید ابھی تحریرنہیں ہوا،مگرجس کے آثارہرطرف بکھرے ہوئے ہیں۔

یہ پورامنظرنامہ ہمیں یہ سکھاتاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی فیصلہ حتمی نہیں ہوتا،ہرانجام ایک نئے آغازکی تمہیدہوتاہے۔طاقت کی کہانی ہمیشہ جاری رہتی ہے —بس اس کے کردار،اس کےاندازاوراس کے عنوان بدلتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں