تاریخ کانیاموڑ

تاریخ کانیاموڑ

زمانہ کبھی ساکن نہیں رہتا؛تاریخ کاپہیہ ہمیشہ گردش میں رہتاہے،مگربعض ادوارایسے ہوتے ہیں جب اس کی رفتارتیزہوجاتی ہےاور واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے سے اس شدت کے ساتھ جڑتی ہیں کہ صدیوں کافاصلہ لمحوں میں سمٹ آتاہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست کامنظرنامہ ہمیشہ ایک متحرک دریاکی مانندرہاہے،جس کی لہریں کبھی پرسکون دکھائی دیتی ہیں اورکبھی طغیانی کاروپ دھار لیتی ہیں۔یہ زمانہ محض واقعات کاہجوم نہیں بلکہ معانی کاایک سمندرہے، جس کی تہہ میں اترے بغیراس کی موجوں کاشورسمجھ میں نہیں آتا۔

اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں طاقت کے مراکزنئی ترتیب اختیارکررہے ہیں،آج کی دنیامیں طاقت کی سیاست اپنے روایتی سانچوں کوتوڑکرنئے قالب اختیارکررہی ہے۔عصرِحاضر کاعالمی منظرنامہ بھی کچھ ایساہی جہاں امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان کشمکش محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ عالمی نظام کی تشکیلِ نوکاپیش خیمہ دکھائی دیتی ہے۔ان تین ممالک کے درمیان جاری کشمکش اس تغیرکی سب سے نمایاں مثال اورایک ایسی گنجلک داستان بن چکی ہے جس میں صرف عسکری قوت ہی نہیں بلکہ بیانیہ، سفارت کاری اورداخلی سیاست بھی فیصلہ کن کرداراداکر رہی ہے۔یہ صرف تین ریاستوں کامعاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل کامرحلہ ہے جس میں پرانے اصول دم توڑرہے ہیں اورنئے اصول ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے۔

ریاستی نظم میں طاقت کاارتکازہمیشہ خطرے کی گھنٹی سمجھاگیاہے۔امریکی سینیٹ کی حالیہ پیش رفت اس امرکی آئینہ دارہے کہ جدید جمہوریتیں بھی اپنے اندر ایک خوداحتسابی کانظام رکھتی ہیں۔امریکی نظامِ حکومت کی بنیادہی اس اصول پررکھی گئی تھی کہ طاقت کو تقسیم کیاجائے تاکہ کوئی ایک ادارہ مطلق العنان نہ بن سکے۔حالیہ قرارداداسی تاریخی فلسفے کی تجدیدمعلوم ہوتی ہے،جہاں مقننہ نے عاملہ کے دائرہ اختیارپرسوال اٹھایاہے۔ایران کے خلاف فوجی اقدام کومقننہ کی اجازت سے مشروط کرنادراصل اس تصورکوتقویت دیتا ہے کہ جنگ کافیصلہ فردِواحدکی خواہش نہیں بلکہ اجتماعی شعورکی توثیق سے مشروط ہوناچاہیے۔

امریکی سینیٹ کی کارروائی کواگرمحض ایک سیاسی قدم سمجھاجائے تویہ اس کی معنویت کوکم کردیناہوگا۔امریکی سیاست میں صدارتی اختیارات ہمیشہ سے بحث کامحوررہے ہیں،مگرایران کے خلاف ممکنہ جنگی کارروائی کے تناظرمیں یہ سوال ایک نئی شدت کے ساتھ ابھراہے۔دراصل یہ اقدام اس قدیم بحث کی تجدید ہے کہ کیاجنگ کااختیارایک فردکے پاس ہوناچاہیے یا اجتماعی اداروں کے پاس؟یہاں مسئلہ صرف ایران نہیں بلکہ امریکی جمہوریت کی روح ہے۔یہ سوال اٹھ کھڑاہواہے کہ کیاطاقت کومحدودکرناخودریاست کے استحکام کا ذریعہ ہے یااس کی کمزوری کاباعث؟

سینیٹ کی جانب سے منظورکی جانے والی قراردادگویااس امرکی علامت ہے کہ جمہوری نظام میں طاقت کاسرچشمہ محض ایک فرد نہیں بلکہ اجتماعی ادارے ہوتے ہیں۔48کے مقابلے میں50ووٹوں سے منظور ہونے والی یہ قرارداد محض اعدادکاکھیل نہیں بلکہ ایک فکری کشمکش کامظہرہے،جس میں طاقت اور احتساب ایک دوسرے کے مدِ مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ اقدام گویااس یاددہانی کے مترادف ہے کہ جنگ کافیصلہ صرف میدانِ اقتدارکی خواہش نہیں بلکہ قومی شعورکی اجتماعی منظوری کاتقاضابھی کرتاہے۔

بعض اوقات سیاست میں وہ فیصلے جو ظاہرغیرمثردکھائی دیتے ہیں،درحقیقت گہرے اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ بعض قراردادیں اپنے قانونی اثرسے زیادہ اپنے اخلاقی وزن کے باعث اہم ہوجاتی ہیں۔یہ اقدام بھی ایک طرح کی پارلیمانی سرگوشی ہے،جو ظاہرمدھم سہی مگراپنے اندرایک گونج رکھتی ہے۔یہ گویاایک ایساچراغ ہے جواندھیرے کومکمل ختم نہ کرے مگراس کے وجود کوچیلنج ضرورکرے۔

اگرچہ یہ قراردادقانونی حیثیت سے محروم اوربظاہربے اثرسہی،مگراس کاوجودایک خاموش احتجاج کی صورت میں سامنے آیاہے۔ سیاست میں بعض اوقات علامتیں حقیقت سے زیادہ طاقتور اوران کاوجودایک مضبوط اورہلا دینے والاسیاسی اشارہ ہوتاہے جیسے کسی خاموش دریاکے نیچے بہاتیزہو،ویسے ہی یہ اقدام امریکی سیاست کے اندرونی تناکوظاہرکرتاہے۔یہ گویا یک ایساپیغام ہے جوالفاظ سے زیادہ اپنی موجودگی سے اثراندازہوتاہے۔

ایوانِ نمائندگان سے اس کی منظوری اس امرکااعلان ہے کہ امریکی سیاسی اشرافیہ کے اندرایک واضح تقسیم موجودہے۔یہ قراردادگویا ایک خاموش احتجاج ہیایسااحتجاج جوقانون کی زبان میں نہیں بلکہ سیاسی اشاروں میں اپنی بات کہتاہے۔گویاایوان نے یہ پیغام دیاہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کاحسن ہے،اور اختلاف ہی وہ قوت ہے جوطاقت کوبے لگام ہونے سے روکتی ہے۔

صدرٹرمپ کاردِعمل اس قراردادپرایک ایسے متکبررہنماکاردِعمل ہے جوخودکو تاریخ کے دھارے کامعماراورایک ایسے قائدکی تصویر پیش کرتاہے جواپنی حکمت عملی کوکامیابی کے قریب سمجھتا ہے۔ان کے بیانات میں جہاں ایک فاتحانہ لہجہ جھلکتاہے،وہاں ان کے الفاظ میں ایک فاتح کی خوداعتمادی اورایک سیاستدان کی خفگی دونوں جھلکتی ہیں۔ان کے بیانات میں جو شدت اوراعتمادجھلکتاہے،وہ دراصل جدیدسیاست کے اس رجحان کامظہرہے جہاں بیانیہ حقیقت پرغالب آجاتاہے۔وہ خودکو ایک ایسے کردارکے طورپرپیش کرتے ہیں جو تاریخ کا دھارا موڑنے کی صلاحیت رکھتاہے۔جس میں یہ تاثردیاگیاکہ اگررکاوٹ نہ ڈالی جاتی تونتیجہ یکسرمختلف ہوتا۔

یہ اسلوبِ بیان دراصل سیاسی نفسیات کاحصہ ہے،جہاں فرضی کامیابی کاتصورخوداپنی دلیل توبن جاتاہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ان کے الفاظ میں ایک ایسی یقین دہانی ہے جوحقیقت سے زیادہ تصورپرمبنی ہوتی ہے۔وہ ایک ایسے منظرکی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں کامیابی ان کے قدم چومنے کوتھی ،مگرسیاسی رکاوٹوں نے اسے روک دیا۔وہ ایران کوشکست کے دہانے تک پہنچانے کادعوی کرتے ہیں،گویایہ معرکہ صرف عسکری نہیں بلکہ شخصی وقارکامسئلہ بھی تھامگرسیاست میںاگراورمگرکی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔تاریخ اکثران دعوں کوکسوٹی پرپرکھتی ہے۔

امریکی تاریخ میں جنگی اختیارات کامسئلہ ہمیشہ حساس رہا ہے اورامریکی آئین کی روح میں طاقت کی تقسیم ایک بنیادی اصول ہے۔ 1973کے بعداب ایک نئی بحث نے جنم لیاہے،جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود بنیادی سوالات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔1973کے وار پاورزریزولوشن کے بعدیہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس نے اس نوع کی اجتماعی آوازبلندکی ہے۔یہ تسلسل اس حقیقت کامظہرہے کہ جمہوریت ایک مسلسل مکالمہ ہے،نہ کہ کوئی حتمی فیصلہ۔

حالیہ پیش رفت اسی روایت کاتسلسل ہے،جویہ باورکراتی ہے کہ جمہوریت محض انتخابی عمل نہیں بلکہ ادارہ جاتی توازن کا نام ہے۔ امریکی قانون میں جنگی اختیارات کی جوحدودمتعین کی گئی ہیں،وہ محض قانونی دفعات نہیں بلکہ ایک تاریخی تجربے کانتیجہ ہیں۔یہ حدوداس لیے قائم کی گئیں تاکہ طاقت کااستعمال جذبات کے بجائے تدبرسے ہو۔تاریخ گویااپنے آپ کو دہرا رہی ہے،مگرنئے کرداروں اور نئے اسلوب کے ساتھ۔ امریکی قانون میں60دن کی حداور 30دن کی توسیع کی گنجائش اس بات کی یاددہانی ہے کہ جنگ محض میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ آئینی دفعات میں بھی لڑی جاتی ہی مگرسوال یہ ہے کہ کیاعملی سیاست ہمیشہ ان حدودکی پابندرہتی ہے؟

امریکااوراسرائیل کاتعلق ہمیشہ مضبوط اورمثالی سمجھاجاتارہاہے-ادھردوسری طرف جے ڈی وینس کی تنقیداوراسرائیلی قیادت کی بے چینی اس حقیقت کوآشکارکرتی ہے کہ عالمی اتحادہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں،جذبات کے نہیں۔اگربنیادیں مفادپرہوں تومعمولی اختلاف بھی دراڑبن جاتاہے۔حالیہ اختلافات نے یہ واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی رشتہ دائمی نہیں ہوتااورہرتعلق کی بنیاد مفادپرہوتی ہے،اورمفاد بدلتے ہی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔مفادات میں معمولی سابھی فرق پیداہوتاہے تودیرینہ تعلقات بھی آزمائش کا شکارہوجاتے ہیں۔ہراتحادکے اندرایک نازک توازن موجودہوتاہے اور جب یہ توازن بگڑتاہے تومضبوط رشتے بھی کمزورپڑنے لگتے ہیں۔

یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ جوریاست جتنی زیادہ طاقتورہوتی ہے،وہ اتنی ہی زیادہ اپنے اتحادیوں پرانحصار بھی کرتی ہے۔اسرائیل کی عسکری قوت میں امریکی کرداراس تضادکونمایاں کرتا ہے کہ انحصاراورخود مختاری ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں مگرہمیشہ ہم آہنگ نہیں رہتے۔امریکی نائب صدرکابیان ایک پیچیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ طاقتوراتحادی بھی ایک دوسرے پرانحصار کرتے ہیں،مگراس انحصارکے باوجودخود داری کاسوال ہمیشہ زندہ رہتاہے۔

گویاامریکی نائب صدرکے بیان نے ایک اہم حقیقت کواجاگرکیاکہ عالمی سیاست میں خودمختاری اورانحصارایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔یہی کشمکش تعلقات میں تناپیداکرتی ہے۔ان کابیان ایک تلخ مگرواضح حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ اسرائیل کی عسکری قوت کابڑا حصہ امریکی وسائل سے جڑاہواہے۔اسرائیل کی عسکری قوت میں امریکی کرداراس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ طاقت کے ڈھانچے اکثر باہمی تعاون پرقائم ہوتے ہیں۔یہ محض دفاعی امدادنہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں طاقت کاتوازن ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔

وینس کااسرائیلی وزراکوہوش کے ناخن لینے کامشورہ دینادراصل سفارتی زبان میں ایک سخت پیغام ہے۔بین الاقوامی سیاست میں الفاظ محض اظہارکاذریعہ نہیں بلکہ حکمت عملی کاحصہ ہوتے ہیں۔وینس کے الفاظ میں جونرمی ہے،وہ دراصل ایک سخت پیغام کوقابلِ قبول بنانے کاہنرہے۔وینس کے بیانات میں ایک خاص طرح کی سفارتی نزاکت موجودہے۔وہ براہ راست تصادم سے گریزکرتے ہوئے بھی اپنا پیغام واضح کردیتے ہیں۔یہ اسلوب دراصل جدید سفارت کاری کی پہچان ہے،جہاں سخت بات کونرم الفاظ میں کہاجاتاہے مگر معنی تیز دھاررکھتے ہیں۔

مشرقِ وسطی میں طاقت کاتوازن مسلسل بدل رہاہے،اورہرنیابیان اس تبدیلی کی ایک کڑی بن جاتاہے۔لبنان پراسرائیلی حملوں کے تناظر میں ٹرمپ کاشام کاذکرکرناایک غیرمعمولی اشارہ ہے۔کیایہ خطے میں طاقت کے نئے توازن کی طرف اشارہ ہے؟یایہ محض ایک وقتی بیان؟سیاست میں بعض سوالات جواب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔تاہم لبنان اورشام کے حوالے سے سامنے آنے والے بیانات اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ مشرقِ وسطی میں ایک نئی حکمت عملی تشکیل پارہی ہے۔یہاں ہراقدام ایک بڑے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتاہے اور یہاں ہرقدم ایک نئی بساط بچھاتاہے،جس کامکمل نقشہ ابھی واضح نہیں۔

جب ایک ریاست دوسری کومسلسل مددفراہم کرے تواس کے بدلے میں توقعات بھی جنم لیتی ہیں۔یہی توقعات بعض اوقات اختلاف اور تنازع کاباعث بنتی ہیں،کیونکہ یہی توقعات بعض اوقات خود داری کے جذبے سے ٹکراجاتی ہیں۔جیساکہ حالیہ بیانات سے ظاہرہوتاہے۔ ٹرمپ کااسرائیل کوشکرگزاری کی تلقین کرنادراصل ایک بڑے سفارتی بیانیے کاحصہ ہے۔یہ بیان اس بڑھتی ہوئی خلیج کااظہارہے جسے ماہرین اب کھل کربیان کرنے لگے ہیں۔

جنگ بندی کے باوجودجاری جھڑپیں اس حقیقت کوعیاں کرتی ہیں کہ معاہدے اکثرزمینی حقائق کے تابع ہوتے ہیں۔جب تک بنیادی مسائل حل نہ ہوں، امن ایک عارضی وقفہ ہی رہتا ہے۔جنوبی لبنان میں ہلاکتیں اس حقیقت کاثبوت ہیں کہ معاہدے کاغذپرہوتے ہیں،جبکہ جنگیں زمین پر۔یہ جھڑپیں اس حقیقت کونمایاں کرتی ہیں کہ کاغذی معاہدے زمینی حقائق کوہمیشہ تبدیل نہیں کرسکتے۔اصل طاقت میدانِ عمل میں ہی نظرآتی ہے۔گویاحزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جاری کشمکش اس خطے کی پیچیدگی کومزیدگہراکرتی ہے۔ یادرہے کہ جنگ بندی کامطلب ہمیشہ امن نہیں ہوتا۔اکثریہ محض ایک وقفہ ہوتاہے،جس میں دونوں فریق اپنی طاقت کومجتمع کرتے ہیں۔لبنان میں جاری صورتحال اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

حزب اللہ اوراسرائیل کے بیانات ایک ایسے تصادم کی عکاسی کرتے ہیں جس میں دونوں فریق اپنے مقف پرڈٹے ہوئے ہیں۔اسرائیل کا افواج نہ نکالنے کافیصلہ ایک ایسے تصادم کی بنیادرکھتاہے جس کاانجام ابھی دھندمیں لپٹاہواہے۔دوسری طرف حزب اللہ کاموقف اس بات کی علامت ہے کہ مزاحمت محض عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک نظریاتی وابستگی بھی ہوتی ہے،جوحالات سے زیادہ عقیدے سے جنم لیتی ہے۔یہ نظریہ ہی اسے دوام بخشتاہے اوریہ استقامت ہی اس تنازع کوطول دیتی ہے۔

نیتن یاہو پراندرونی دبااس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ہربیرونی جنگ کے پیچھے ایک داخلی سیاست بھی ہوتی ہے،اورعوامی رائے اورسیاسی مخالفین کادباؤ اکثر فیصلوں کارخ بدل دیتا ہے ۔نیتن یاہو کی صورتحال اس حقیقت کوواضح کرتی ہے کہ عالمی فیصلے اکثر داخلی دبا کے زیرِاثرہوتے ہیں۔ایک رہنماکو نہ صرف بیرونی خطرات کاسامناہوتاہے بلکہ داخلی مخالفت کا بھی۔عوامی رائے اورسیاسی بقاایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں جواکثرزیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔

اتماربن گویرکے بیانات جنگی جنون اورفاشزم ذہنیت کی اس انتہاپسندانہ سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں جومسائل کاحل طاقت کے استعمال میں دیکھتی ہے۔یہ طرزِفکرنہ صرف تنازع کوبڑھاتا ہے بلکہ سفارتی راستے بھی مسدودکردیتاہے۔ان کے الفاظ میں وہ شدت ہے جو سفارت کاری کے تمام دروازے بندکردیتی ہے۔یہ طرزِفکرتنازعات کومزید پیچیدہ بنا دیتاہے۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلافی آوازیں اصلاح کاذریعہ بنتی ہیں۔اسرائیل کے اندراٹھنے والی تنقیدی آوازیں اس امرکاثبوت ہیں کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف ہی اصلاح کاذریعہ بنتا ہے۔یہ حقیقت کہ خوداسرائیل کے اندرایسی آوازیں موجودہیں جو حکومت کی تبدیلی کی بات کررہی ہیں،اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بھی بے چینی سرایت کرچکی ہے۔اسرائیل کے اندراٹھنے والی تنقیدی آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوریت میں اختلاف ہی اصلاح کاذریعہ بنتاہے۔

یائیر لاپیدکی تنبیہ دراصل ایک بڑے خطرے کی نشاندہی ہے کہ اگر پالیسیوں میں توازن نہ رکھاجائے توعالمی سطح پرتنہائی کاسامنا کرناپڑسکتاہے۔گویاایک سیاسی الارم ہے اگرسمت نہ بدلی گئی تویہی عالمی تنہائی اسرائیل کے وجودکیلئے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے اوراسرائیل کی بقاکیلئے نیتن یاہوکامنظرسے ہٹاناناگزیر ہوگیاہے۔لیبرمین کامطالبہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اسرائیلی سیاست میں ایران اورلبنان کے محاذوں کوالگ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے،تاکہ حکمت عملی میں لچک باقی رہے۔ان کا یہ بیان اس حقیقت کوبھی اجاگرکرتاہے کہ ہرریاست اپنی پالیسیوں میں قومی مفادکوسب پرمقدم رکھتی ہے،چاہے اس کیلئے عالمی دباؤکوجب نظر انداز ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

فریقین کسی معاہدے کوتسلیم نہ کریں تواس کی حیثیت محض ایک تحریری دستاویزرہ جاتی ہے۔یہی صورتِ حال یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔بن گویرکایہ کہناکہ ہم اس معاہدے کے پابند نہیں،دراصل عالمی معاہدات کی کمزوری کوبے نقاب کرتاہے جب فریقین خودکوپابندنہ سمجھیں تومعاہدے محض الفاظ رہ جاتے ہیں ۔ٹرمپ کی براہ راست نیتن یاہوپرتنقیداور یورپی رہنماں کے بدلتے رویوں کے بعدنیتن یاہوکامحتاط بیان ایک تجربہ کارمگرمکارسیاست دان کی عکاسی کرتاہے ، جو حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے اپنے الفاظ کاانتخاب کرتے ہیں کہ ہرلفظ کاوزن ہوتاہے اورہرجملہ تاریخ میں درج ہوجاتاہے تاکہ سفارتی توازن برقرار رہے۔ڈیجٹل دورکے سوشل میڈیاپرجاری بحث اس بات کی دلیل ہے کہ اب سفارت کاری صرف بندکمروں میں نہیں بلکہ عوامی فورمزپربھی تشکیل پاتی ہے ،جس نے سفارتکاری کوعوامی سطح پرمنتقل کردیاہے جہاں ہربیان فوری ردعمل اورعالمی سیاست کوایک نیا رخ دیکر عوامی بحث کاحصہ بن جاتا ہے اوربیانیہ تشکیل پاتاہے۔جس کے نتیجے میں فوری طورپررائے عامہ تشکیل پاتی ہے۔

ماہرین کی رائے یہ ظاہرکرتی ہے کہ بظاہرسخت بیانات کے باوجودپالیسیوں میں فوری تبدیلی کاامکان کم ہے۔یہ ایک نفسیاتی جنگ بھی ہوسکتی ہے جہاں اصل مقصدمخالف کوذہنی طور پر کمزورکرناہوتاہے۔ماہرین کے نزدیک یہ سب لفظوں کی جنگ ہے،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ بعض اوقات لفظ ہی ہتھیاربن جاتے ہیں اوربیانیے حقیقت کارخ موڑدیتے ہیں۔ڈومینک مائیکل کاتجزیہ اس ممکنہ مستقبل کی جھلک پیش کرتاہے جہاں امریکااسرائیل پردباؤبڑھاسکتاہے۔ممکنہ پابندیاں اوراسلحے کی فراہمی میں تاخیرایک ایسا دباؤپیداکرسکتی ہے جو براہِ راست جنگ کے بغیربھی اپنے اثرات مرتب کرتی ہیں۔یہ جدید سفارتکاری کاایک مؤثرہتھیاربن چکاہے جوجنگ کے بغیربھی جنگ کااثرپیداکرسکتاہے۔

یہ تمام نکات مل کرایک پیچیدہ مگرمربوط تصویرپیش کرتے ہیں،جس میں عالمی سیاست کی حرکیات پوری شدت کیساتھ جلوہ گرہیں۔یہ ایک ایسے عالمی منظر نامے کی تصویرپیش کرتے ہیں جہاں طاقت،اصول اورمفادایک پیچیدہ توازن میں بندھے ہوئے رقص میں مصروف اورایک دوسرے کےساتھ برسرِپیکارہیں ۔جس میں عالمی سیاست ایک شطرنج کی بساط کی ماننددکھائی دیتی ہے ،ہرمہرہ اپنی جگہ اہم، مگراصل کھیل حکمت عملی کاہے۔امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری یہ کشمکش دراصل ایک وسیع ترتبدیلی کی علامت ہے، ایسی تبدیلی جس میں جنگیں صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں،بیانیوں اوراداروں کے اندربھی لڑی جارہی ہیں۔یہ محض طاقت کاکھیل نہیں بلکہ تہذیبی،فکری اورسیاسی تصادم کامظہرہے اوریوں محسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک نئے باب کے دہانے پرکھڑی ہے،جہاں فتح صرف اس کی نہیں ہوگی جوطاقتورہے،بلکہ اس کی ہوگی جوحکمت،توازن اوربصیرت کے ساتھ اس پیچیدہ کھیل کو سمجھنے اور کھیلنے کی صلاحیت رکھتاہو۔

گویاتاریخ ایک نئے باب کی طرف بڑھ رہی ہے،جہاں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ الفاظ،معاہدوں اوربیانیوں سے بھی لڑی جائیں گیاورفتح اسی کی ہوگی جوان تمام محاذوں پریکساں مہارت رکھتاہو۔امریکا،ایران اوراسرائیل کے درمیان جاری کشمکش دراصل ایک وسیع ترتبدیلی کاحصہ ہے،جوآنے والے برسوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگراس پورے منظرنامے کوایک جملے میں سمیٹا جائے تویوں کہاجاسکتاہے کہ یہاں فتح اس کی ہوتی ہے جونہ صرف میدان بلکہ ذہنوں کوبھی مسخرکرلے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں