Balance of Risk

خطرہ کاتوازن

زمانۂ حال کی سیاست ایک ایسے شطرنجی میدان میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں مہروں کی چالیں صرف زمینی حدود تک محدود نہیں بلکہ فضاؤں،معیشتوں اور نظریات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ایران،امریکااوراسرائیل کے مابین حالیہ کشمکش اسی عالمی شطرنج کی ایک نہایت اہم بساط ہے،جس کے اثرات نے پورے مشرقِ وسطیٰ کواپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔تاہم اس ہنگامۂ سیاست میں اگرکوئی ریاست سب سے زیادہ لرزہ براندام نظرآتی ہے تووہ متحدہ عرب امارات ہے—ایک ایساملک جوبیک وقت ترقی،سفارت اورخطرے کے سنگم پرکھڑاہے۔

حالیہ جنگ کومحض عسکری تصادم کہنااس کی حقیقت کومحدودکردیناہوگا؛یہ دراصل طاقت،نظریہ اوربالادستی کے تصادم کاوہ الاؤہے جس کی تپش پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ پوری دنیامیں محسوس کی گئی۔ایران،امریکااوراسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ محض عسکری تصادم نہ تھی بلکہ یہ ایک ایساطوفان تھاجس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی افق کودھندلا دیاتاہم اس آتش فشاں کی راکھ سب سے زیادہ متحدہ عرب امارات پرآگری۔اگرچہ اس کے اثرات ہرملک تک پہنچے،مگرامارات اس طوفان کی زدمیں سب سے نمایاں رہا۔

ایران کی جانب سے ڈرون اورمیزائل حملوں کی بوچھاڑنے امارات کے امن واستحکام کے تصورکوجھنجھوڑکررکھ دیا۔ایران کی جانب سے ہزاروں ڈرون حملے — جوجدید جنگ کے بے چہرہ سپاہی ہیں —گویاآسمان سے برستی ہوئی آگ کے گولے تھے—نے امارات کے اس تصورکوچکناچوراورتصورِتحفظ کوپارہ پارہ کر دیاجوبرسوں کی معاشی ترقی اورعالمی سرمایہ کاری سے قائم ہوا تھااوروہ عالمی تجارت کاایک محفوظ مرکزہے۔ابو ظہبی کے برکہ نیوکلیئر پاورپلانٹ کے قریب حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہ تھابلکہ ایک نفسیاتی ضرب اورایک علامتی پیغام بھی تھا بلکہ یہ کہنازیادہ مناسب ہوگاکہ یہ حملہ دراصل ایک علامتی زلزلہ تھا ، جس نے یہ پیغام دیا کہ جدیدجنگ میں فاصلے بے معنی ہوچکے ہیں۔یہ اعلان کہ اب جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ حساس ترین تنصیبات تک رسائی حاصل کرچکی ہے۔گویاآسمان بھی اب محفوظ نہیں رہااورزمین بھی غیریقینی کامسکن بن چکی ہے۔اس واقعے نے امارات کیلئےیہ سوال کھڑاکردیاکہ کیا اس کاجغرافیہ اب بھی محفوظ ہے یامحض ایک کھلاہدف بن چکاہے؟

اسی پس منظرمیں اسرائیلی وزیراعظم کے مبینہ خفیہ دورے کامعاملہ سامنے آتاہے،جوسیاست کے پردوں میں چھپے رازوں کی ایک جھلک پیش کرتاہے۔اس خفیہ دورے کامعاملہ سفارت کاری کے اس پہلوکوبے نقاب کرتاہے جہاں سچائی اورمصلحت ایک دوسرے کے ساتھ بلی اورچوہے کاکھیل کھیلتے ہیں۔اسرائیل کی طرف سے اس دورے کی تصدیق اور امارات کی فوری تردید ایک ایسی سفارتی کشمکش کوظاہرکرتی ہے جس میں سچائی اورمصلحت ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔گویااس خفیہ دورے نے سفارتی فضامیں ایک ایسا گردوغباراٹھایاجس نے حقیقت اورتردیدکے درمیان حد فاصل کودھندلادیاہے۔اسرائیل کی تصدیق اورامارات کی تردیدگویادو متضادبیانیےاورآئینے ہیں جوایک ہی واقعے کومختلف رنگ دیتے ہیں جن میں ایک ہی تصویرمختلف زاویوں سے نظرآتی ہے۔ یہاں اصل سوال محض دورے کانہیں بلکہ اس کے اعلان اورانکارکی حکمت عملی کاہے۔اگریہ دورہ واقعی ہوا،تواسے خفیہ رکھنے کی ضرورت اوراس خطرناک سچ کوچھپانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس کی پردہ پوشی کیوں،اوراگرنہیں ہواتواعلان کیوں؟اسرائیل نے اسے کیوں اچھالا؟یہی وہ سوالات ہیں جوجدید سفارت کاری کے پیچیدہ خدوخال کوواضح کرتے ہیں۔

اسرائیلی دفترکابیان اورامارات کی فوری تردیداس بات کاثبوت ہے کہ جدیدسفارت کاری اب محض بندکمروں کی بات نہیں رہی بلکہ بیانات بھی ہتھیاربن چکے ہیں۔یہ واقعہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ آج کے دورمیں بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ مکمل سفارتی ہتھیار بن چکے ہیں۔امارات کی وزارت خارجہ نے ابراہم اکارڈزکاحوالہ دے کرشفافیت کاتاثردینے کی کوشش کی نشاندہی کرتاہے جس میں ایک طرف تعلقات کو برقراررکھاجاتاہے اوردوسری طرف انہیں عوامی سطح پرمحدودرکھاجاتاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امارات ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کررہاہے۔ایک طرف وہ اسرائیل اورامریکاکے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم رکھناچاہتاہے، تودوسری جانب ایران کواشتعال دلانے سے بھی گریزاں ہے۔یہی وہ سفارتی رقص ہے جس میں ہرقدم ناپ تول کر رکھناپڑتاہے،کیونکہ ذراسی لغزش پورے نظام کودرہم برہم کرسکتی ہے۔

اسرائیل کی داخلی سیاست بھی اس بیانیے میں اہم کرداراداکرتی ہے۔دراصل اسرائیل کی طرف سے اس نوعیت کے خفیہ دورے کا سرکاری اعلان ایک غیر معمولی امرہے۔انتخابی دباؤ،عوامی تنقیداورجنگی حکمت عملی نے نیتن یاہوکو ایسے اقدامات پرآمادہ کیاجو بظاہرسفارتی اصولوں سے متصادم نظرآتے ہیں۔خفیہ دوروں کااعلان دراصل داخلی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش بھی ہوسکتی ہے—ایک ایساحربہ جوسیاست میں اکثراختیارکیاجاتاہے۔

تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اسرائیل نے یہ اعلان کیوں کیا۔عموماًایسی خبریں غیررسمی ذرائع سے سامنے آتی ہیں،مگریہاں براہ راست اعلان کیاگیا—جواس بات کااشارہ ہے کہ یہ اقدام داخلی سیاسی مقاصدکیلئےبھی کیاگیا۔مبصرین کے نزدیک یہ اسرائیل کی اندرونی سیاست کاشاخسانہ ہے جہاں قیادت اپنی ساکھ کومضبوط کرنے کیلئےخارجی کامیابیوں کونمایاں کرتی ہے۔انتخابی دباؤاورعوامی تنقیدکے ماحول میں قیادت اکثرخارجی کامیابیوں کونمایاں کرکے اپنی ساکھ کوسہارادیتی ہے۔دوسری طرف امارات کی تردیداس کے اس خوف کی عکاس ہے کہ کہیں ایران کے ساتھ اس کی کشیدگی مزیدنہ بھڑک اٹھے۔

آئرن ڈوم جیسے حساس دفاعی نظام کی امارات کوفراہمی اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ اسرائیل اورامارات کے تعلقات محض رسمی یا علامتی نہیں بلکہ عملی اور عسکری نوعیت اختیارکرچکے ہیں۔لیکن یہی قربت ایک دودھاری تلوارہے اورایک سفارتی معمہ بھی بن جاتی ہے۔ایک طرف یہ تحفظ فراہم کرتی ہے، دوسری طرف ایران کیلئےامارات کوایک جائزہدف بنادیتی ہے۔گویادفاعی تعاون نے امارات کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے خطرے کے دائرے میں بھی داخل کردیاہے۔

امارات کی پالیسی ایک ایسے توازن کی مثال ہے جوبظاہرممکن توہے مگردیرپانہیں۔اس کی کوشش رہی ہے کہ وہ خودکوایک حدتک غیر جانبدارظاہرکرے، مگراس کی عملی پالیسیاں اس بیانیے سے ہم آہنگ نظرنہیں آتیں۔ایران کایہ عمومی تاثرکہ غیرجانبدارممالک کونشانہ نہیں بنایاجاتا،امارات کومحتاط رہنے پر مجبورکرت ہے۔اس کے برعکس سعودی عرب کی محتاط غیرجانبداری اسے نسبتاًمحفوظ رکھتی ہے۔تاہم اس کے اسرائیل اورامریکاسے قریبی تعلقات اس غیر جانبداری کومشکوک بنادیتے ہیں،اوریہی تضاداسے ایران کے نشانے پرلے آتاہے۔

سعودی عرب نے اس بحران میں ایک محتاط،متوازن اورسفارتی رویہ اپنایاجبکہ امارات کبھی خاموشی اورکبھی متضاد بیانات کے ذریعے ایک غیرواضح پالیسی کا مظاہرہ کرتارہا۔سعودی عرب نے نہ ایران کے خلاف کھل کرمحاذآرائی کی اورنہ ہی اسرائیل کے ساتھ کھل کرصف بندی کی۔اس کے برعکس امارات کی پالیسی زیادہ متحرک مگرغیرواضح رہی—کبھی خاموشی،کبھی تردید ، اورکبھی غیر اعلانیہ تعاون۔یہی فرق دونوں ممالک کی علاقائی حیثیت کوبھی مختلف اندازمیں متعین کرتاہے۔یہی فرق دونوں ممالک کی علاقائی حیثیت کوبھی مختلف اندازمیں متعین کرتا ہے۔
نیتن یاہوکے ممکنہ دورے کومحض ایک سفارتی ملاقات سمجھناسادہ لوحی ہوگی۔یہ ممکنہ دورہ دراصل ایک سیاسی ضرورت اورایک جنگی حکمت عملی کاحصہ بھی ہو سکتاہے،جس کے ذریعے اسرائیل ایسے اتحادیوں کومضبوط کرناچاہتاہے جوایران کے خلاف اس کی پوزیشن کوتقویت دیں۔داخلی دباؤاورجنگی حکمت عملی نے انہیں ایسے اتحادیوں کی تلاش پرمجبورکیاجواس جنگ کو جاری رکھنے میں مددگارثابت ہوں۔امارات،اپنی معاشی طاقت اورجغرافیائی اہمیت کے باعث،اس مقصد کیلئےجہاں ایک ایک موزوں اوراہم شراکت داربن سکتاہے وہاں جغرافیائی لحاظ سے تزویراتی مقام بھی ہے۔

ایران نے امارات ک بطورہدف منتخب کرکے دراصل ایک واضح پیغام دیاکہ اسرائیل کے قریب آنے کی قیمت چکانی پڑے گی۔میزائلوں اورڈرونزکی بارش اس حکمت عملی کاعملی اظہار تھی۔551بیلسٹک میزائل،29کروزمیزائل اور2000سے زائد ڈرون حملے محض اعداد نہیں بلکہ ایک منظم عسکری حکمت عملی کااظہار ہیں،جس کامقصد امارات کودباؤ میں لاناتھا۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امارات کی جانب سے ایران پرخفیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف اعلانیہ نہیں رہی بلکہ سایوں میں بھی لڑی جارہی ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق امارات نے بھی ایران کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیں،مگران کااعتراف نہیں کیا۔یہ جدید جنگ کاوہ رخ ہے جہاں اعلان سے زیادہ انکاراہم ہوتا ہے،اورکارروائی سے زیادہ اس کی تردید۔

ٹرمپ کی ایران مخالف پالیسیوں نے امارات کوامریکاکے مزیدقریب کردیا ۔ چارکھرب ڈالرکی سرمایہ کاری کاوعدہ محض اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک سیاسی وعسکری وابستگی کااظہارتھا، جس نے امارات کوایک واضح کیمپ میں لا کھڑا کیا۔گویاسرمایہ کاری اوردفاعی تعاون کے ذریعے امارات نے اپنی سلامتی کوامریکی حمایت سے جوڑلیا،جواسے ایران کے مزید قریب لانے کی بجائے دور لے گیا۔

ابو موسیٰ،تنبِ بزرگ اورتنبِ کوچک کے جزائرکاتنازعہ اس کشیدگی کی بنیاد ہے جوایران اورامارات کے تعلقات میں ایک مستقل کانٹے کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ محض زمین کاٹکڑانہیں بلکہ خودمختاری،وقاراورتاریخ کامسئلہ ہے،جوآج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کومتاثر کررہاہےبلکہ یہ مسئلہ نہیں بلکہ خود مختاری،وقار اورتاریخی حق کاسوال بن چکاہے—اوریہی وہ بنیاد ہے جس پرموجودہ کشیدگی کی عمارت کھڑی ہے۔

ایران کے اسلامی انقلاب نے محض ایک سیاسی نظام کوتبدیل نہیں کیابلکہ اس نے پورے خطے کے فکری توازن کوجھنجھوڑکررکھ دیا۔ یہ انقلاب ایک ایسے نظریے کاحامل تھاجو بادشاہتوں کیلئےایک خاموش مگرگہراچیلنج بن گیا۔متحدہ عرب امارات،جوخودایک موروثی نظمِ اقتدارکانمائندہ ہے،ایران کی اس انقلابی فکرکومحض ایک داخلی تبدیلی نہیں بلکہ ایک برآمدی نظریہ سمجھتاہے۔حزب اللہ،حماس اور حوثیوں جیسے گروہوں کی حمایت نے اس خدشے کومزید تقویت دی کہ ایران اپنے اثرورسوخ کوسرحدوں سے ماوراپھیلاناچاہتاہے۔یوں امارات کی نگاہ میں ایران ایک ہمسایہ ملک سے بڑھ کرایک نظریاتی حریف بن گیا—ایساحریف جونہ صرف جغرافیہ بلکہ ذہنوں پربھی قبضہ جماناچاہتاہے۔

شیعہ سنی تقسیم اوراس کے گردگھومتی سیاست نے خطے میں بداعتمادی کوجنم دیا،جوآج بھی مختلف شکلوں میں موجودہے۔خطہ کی سیاست میں فرقہ واریت ایک ایسازیرِزمین نفرت کادریا ہے جوبظاہر خاموش رہتاہے مگروقت آنے پرطغیانی اختیارکرلیتاہے۔شیعہ سنی تقسیم،جسے بیرونی قوتوں نے بھی اپنے مفادات کیلئے ہوا دی،خطے میں بداعتمادی کی ایک مستقل فضاپیدا کر چکی ہے۔بحرین،عراق اور دیگرخطوں میں اس تقسیم نے سیاسی کشمکش کوجنم دیا،جس کے اثرات امارات کی پالیسیوں پربھی مرتب ہوئے۔امارات کیلئےیہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ سلامتی کاسوال بن گیا—کہ کہیں داخلی استحکام بیرونی اثرات سے متزلزل نہ ہوجائے۔

بین الاقوامی تعلقات میں نظریات سے زیادہ مفادات اہم ہوتے ہیں اورعالمی سیاست میں نظریات اکثرمفادات کے آگے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔امارات کی پالیسی اسی عملیت پسندی کی عکاس ہے،جہاں بقااورترقی کواولین ترجیح دی جاتی ہے۔امارات اورسعودی عرب دونوں نے اپنی بقاکیلئےمختلف حکمت عملیاں اختیار کیں،مگر امارات نے زیادہ جرات مندانہ راستہ چنا ۔اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون،جدید ٹیکنالوجی کاحصول اورامریکا کے ساتھ قریبی تعلقات،یہ اس بات کی علامت ہیں کہ امارات نے جذبات کے بجائے مفادکواپنارہنمااصول بنایاہے۔یہ وہی فلسفہ ہےجسے تاریخ نے بارہا دہرایاہے کہ ریاستیں دوست یادشمن نہیں رکھتیں،بلکہ صرف مفادات رکھتی ہیں۔

ابراہم اکارڈ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک نئی سفارتی فکر کا مظہر ہے، جس نے عرب دنیا کے روایتی بیانیے کو چیلنج کیا۔ اس معاہدہ کے بعد امارات اور اسرائیل کے تعلقات نے غیر معمولی رفتار پکڑی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دیا۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے گویا ایک نئی راہ اختیار کی—امارات کی حکومت کے مطابق ایسی راہ جو ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داری کی طرف تو لے جاتی ہے، مگر ساتھ ہی اسے علاقائی تنہائی کے خطرے سے بھی دوچار کردیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے دروازے کی مانند ہے جو امکانات بھی رکھتا ہے اور اندیشے بھی۔

اگرچہ امارات میں عوامی سطح پرکھلی مخالفت نظرنہیں آتی،مگراندرونی سطح پرسوالات موجودہیں۔یہ خاموشی کسی اطمینان کی علامت نہیں بلکہ یہ کسی بھی وقت ایک دباؤمیں تبدیل ہوکر اضطراب کی نشانی بن سکتی ہے۔ریاستی کنٹرول اورمحدوداظہارِرائے کے ماحول میں عوام کے خیالات اکثرسطح پرنہیں آتے،مگریہ زیرِ سطح بہنے والے جذبات کسی بھی وقت سیاسی دباؤمیں تبدیل ہوسکتے ہیں۔یہ سوال کہ”ہم کس سمت جا رہے ہیں؟”ایک ایساسوال ہے جوہرباشعور معاشرے کے دل میں ضرورجنم لیتاہے۔

امارات کی معیشت اس کی سب سے بڑی اوراصل قوت ہے—سیاحت،سرمایہ کاری اورعالمی تجارت کاایک روشن مرکزمگرجنگی حالات نے اس چمک کو دھندلا دیاہے،اوریہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کی بجائے استحکام کوترجیح دیتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کااعتماد، سیاحوں کی آمداورکاروباری سرگرمیاں سب امن واستحکام سے وابستہ ہیں۔اسی لیے امارات ایک ایسے توازن کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنے تعلقات بھی برقراررکھ سکے اورخودکوبراہِ راست تصادم سے بھی بچاسکے۔

یہ معاہدے خطے میں ایک نئی سفارتی روایت کاآغازہیں،جہاں مفادات نظریات پرغالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔امریکاکی خواہش ہے کہ ان معاہدوں کادائرہ مزیدوسیع ہو،مگرغزہ کی جنگ اورخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس عمل کوسست کردیاہے۔سعودی عرب جیسے ممالک اب بھی محتاط ہیں،جواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ امارات کاراستہ سب کیلئےقابلِ قبول نہیں۔اسرائیل اور امارات کے درمیان دفاعی تعاون—خصوصاً آئرن ڈوم اوردیگردفاعی معاہدے اس بات کاثبوت ہیں کہ امارات ایک نئے دفاعی بلاک کاحصہ بن چکاہے۔امارات کا یہی کردار—ایک نئی مثال قائم کرتاہے۔یہ اتحادخطے میں طاقت کے توازن کوبدل رہاہے،مگرساتھ ہی ایران کیلئےاشتعال کا باعث بھی بن رہا ہے ۔یوں یہ تعاون ایک طرف تحفظ کا ذریعہ ہے تودوسری طرف خطرے کاپیش خیمہ۔

ایران کی نظرمیں امارات اب ایک اہم ہدف بن چکاہے،کیونکہ اس کے امریکااوراسرائیل سے تعلقات اسے ایک مخالف کیمپ کاحصہ بنا دیتے ہیں۔یہ صورتحال امارات کیلئےایک نئے دورکاآغازہے جہاں اسے اپنی سلامتی کیلئےغیرمعمولی اقدامات کرناہوں گے۔امارات کی پالیسی اسے دیگرعرب ممالک سے دورلے ج رہی ہے،جواسے طویل المدتی سفارتی چیلنجزسے دوچارکرے گی۔خطے میں اسرائیل کو اب بھی ایک بڑا خطرہ سمجھاجاتاہے۔یہ فاصلہ اگر بڑھتارہا توایک مستقل سفارتی خلیج میں تبدیل ہوسکتاہے،جوخطے کی وحدت کومتاثر کرے گا۔ایک طرف اسرائیل،امریکااورممکنہ طورپربھارت کابلاک،اوردوسری طرف ترکی،پاکستان اورایران کے قریب ممالک—یہ تقسیم ایک نئے عالمی نظام کی نشاندہی کرتی ہے ایک نئےعالمی توازن کی نشاندہی کرتی ہے،جہاں اتحاد نظریات کی بجائے مفادات کی بنیادپر تشکیل پارہے ہیں۔

ابتدائی سوالات کاجواب اب واضح ہوجاتاہے۔امارات ایک مختلف سمت اختیارکررہا ہے اورایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں اس کے فیصلے اس کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ایران کے ساتھ اس کی کشیدگی اوراسرائیل سے قربت اسے ایک نئے راستے پرلے جارہی ہے، ایساراستہ جومواقع بھی رکھتاہے اورخطرات بھی—یہ ایک ایسی سمت جواسے عالمی طاقتوں کے قریب لے جارہی ہے مگرعلاقائی سطح پرتنہابھی کرسکتی ہے۔ایران کے ساتھ اس کی دشمنی محض وقتی نہیں بلکہ تاریخی،نظریاتی اورجغرافیائی عوامل کانتیجہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اب محض جغرافیہ نہیں بلکہ نظریات،مفادات اورطاقتوں کاایک ایساپیچیدہ جال بن چکاہے جواہم گرہ کی حیثیت رکھتا ہے—ایسی گرہ جواگرکھل جائے توپورانظام متاثرہوسکتاہے ، اوراگرمضبوط ہوجائے توایک نئی ترتیب جنم لے سکتی ہے۔

یہ پوری داستان دراصل طاقت،خوف،مفاداورحکمت عملی کی ایک پیچیدہ کہانی ہے اورمتحدہ عرب امارات اس کہانی کاایک مرکزی کردارہے—ایک ایسا کردار جوبیک وقت کئی محاذوں پرکھیل رہاہے۔تاریخ کاپہیہ گھوم رہاہے،اورآنے والے دن طے کریں گےکہ یہ حکمت عملی استحکام لاتی ہے یاایک نئے بحران کوجنم دیتی ہے۔یادرہے کہ امارات کیلئے یہ ایک حساس اورنازک موڑہے جہاں وہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکااوراسرائیل کے ساتھ تعلقات کوترقی اوراتحاد کی علامت سمجھتاہے لیکن وہ یہ بھول رہاہے کہ اس سراب کی آڑمیں دراصل تنہائی اورعلاقائی کشیدگی کے گڑھے اس کے منتظرہیں۔یہ فیصلہ کہ وہ کس سمت بڑھتاہے،نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے توازن کوبھی متاثرکرے گا۔گویایہ کہانی محض ایک ملک کی نہیں،بلکہ ایک پورے عہد کی کہانی ہے—ایساعہدجہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجہاں ہرفیصلہ تاریخ کے اوراق پرایک نئی سطرلکھ رہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں