New alliances, old concerns

نئے اتحاد،پرانے خدشات

بین الاقوامی سیاست کی بساط پراس وقت جونقشہ ابھررہاہے،وہ کسی خاموش طوفان کی مانندہے—بظاہرسکون،مگرباطن میں ارتعاش۔ عالمی سیاست کی تاریخ میں بعض ادوارایسے آتے ہیں جب قوت کے توازن میں خاموش مگرفیصلہ کن تبدیلیاں رونماہوتی ہیں۔موجودہ زمانہ بھی انہی ادوارمیں سے ایک ہے،جہاں پرانے اتحادیوں کی بنیادیں ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اورنئی رفاقتیں غیرمتوقع زاویوں سے جنم لے رہی ہیں۔زمانہ اپنی کروٹیں بدل رہاہے اورعالمی سیاست کاافق ایک نئے اضطراب سے ہمکنارہے۔اسرائیل،جونصف صدی سے زائدعرصے تک مغربی حمایت کے مضبوط حصارمیں محفوظ رہا،اب اسی حصارمیں دراڑیں محسوس کررہاہے۔

وہ اسرائیل جوکبھی یورپ کی آغوشِ حمایت میں پروان چڑھتارہا،آج اپنے ہی مہربانوں کی نظروں میں اجنبی ہوتاجارہاہے۔اسرائیل،جو کبھی مغربی حمایت کا محورتھا،اب ایک ایسے موڑپرکھڑا ہے جہاں اس کے دیرینہ حلیف بھی اس کی پالیسیوں سے بیزاردکھائی دیتے ہیں۔یورپ کے ایوانوں میں اب وہ گرمجوشی باقی نہیں رہی جوکبھی اس کیلئےمخصوص تھی،اورامریکاکے سیاسی حلقوں میں بھی ایک نئی احتیاط،بلکہ کہیں کہیں اجنبیت کی لہردکھائی دیتی ہے۔نیتن یاہوکی پالیسیوں نے ایسی تندآندھی کوجنم دیاہے کہ پرانے اتحادی بھی دامن جھٹکنے لگے ہیں۔حتیٰ کہ امریکا،جوبرسوں سے اس کاسب سے بڑاپشت پناہ رہا،اب خود فاصلے کی دیواریں اٹھانے پرمجبور دکھائی دیتاہے۔

یہ بیزاری محض سفارتی سردمہری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اضطراب کی بازگشت ہے۔یہ تغیرمحض سفارتی نزاکت کانتیجہ نہیں بلکہ ان پالیسیوں کاعکس ہے جنہوں نے انسانی ضمیرکوجھنجھوڑکر رکھ دیاہے۔غزہ کی سرزمین پربہنے والاخون،مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی جارحیت،اب ایران کی سرزمین پرہونے والی تباہ کاریوں اورانسانی جانوں کے ضیاع نے جہاں عالمی ضمیرکو جھنجھوڑ کررکھ دیاہے وہاں عالمی رائے عامہ کوبدلنے پرمجبورکردیاہے۔یورپ کے ایوانوں میں اب وہ یکجہتی باقی نہیں رہی،اورامریکامیں بھی پالیسی ساز حلقے ایک نئی سوچ کی طرف مائل نظرآتے ہیں۔

ایسے نازک لمحے میں جب پرانے رفیق کنارہ کش ہورہے ہیں،اورسفارتی تنہائی اسرائیل کامقدربنتی دکھائی دیتی ہے،ایک ایسی شیطانی آوازہے جو اس ویران بزم میں بھی ہم نوائی کاساز چھیڑرہی ہے۔یہ آوازبھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ہے،جونہ صرف اس تعلق کو سینچ رہاہے بلکہ اس کی آبیاری میں اپنے سفارتی سرمائے کوبھی داؤپرلگاچکاہے۔یہ وہ تعلق ہے جس میں اصول پسِ پشت اورمفاد پیشِ پیش دکھائی دیتاہے۔

یہ تعلق وقتی مفادات کی بنیادپرنہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی ہم آہنگی کا پرتومعلوم ہوتاہے۔مودی اورنیتن یاہو،دونوں اپنے اپنے ممالک میں طاقت کے ایسے مرکزبن چکے ہیں جہاں فیصلہ سازی کامحورشخصی ارادہ ہے،نہ کہ اجتماعی مشاورت۔مودی اورنیتن یاہو—دونام،مگر ایک سی فکری ساخت۔دونوں جمہوریت کے علمبردارکہلاتے ہیں،مگران کی حکمرانی کے خدو خال میں سخت گیری اورمرکزیت کی جھلک نمایاں ہے۔گویاجمہوریت کے لبادے میں ایک مضبوط گرفت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہو۔ان کے ہاں اختلاف کی گنجائش کم اور اطاعت کی طلب زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

ان کی سیاست میں ایک ایسی مرکزیت ہے جوجمہوریت کی روح سے ہم آہنگ ہونے کی بجائے اس پرغالب آنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔اسی پس منظرمیں ایک غیرمعمولی منظربھارت کاکردارابھرتاہے—جب دنیافاصلے بڑھارہی ہے،بھارت ایک ایساملک بن کر سامنے آیاہے جونہ صرف اسرائیل کے ساتھ کھڑاہے بلکہ اس کی حمایت میں پیش پیش دکھائی دیتاہے۔یہ رویہ محض سفارتی نہیں بلکہ ایک فکری جھکاؤکامظہرہے۔

دونوں رہنماؤں کے نظریاتی سانچے میں مذہب کومرکزیت حاصل ہے۔دونوں رہنماؤں کے بیانیے میں“قومی شناخت”کوایک مقدس مقام حاصل ہے۔ اسرائیل میں یہ شناخت یہودی قومیت کے گردگھومتی ہے،جبکہ بھارت میں ہندوتواکاتصوراسی طرح کی مرکزیت اختیارکر چکاہے۔دونوں اپنے اپنے دائرے میں ایک ایسی وحدت کوجنم دیتے ہیں جس میں اقلیتیں اجنبی اورغیرمانوس بن کررہ جاتی ہیں۔مسلمانوں کے حوالے سے دونوں ریاستوں کابیانیہ ایک عجیب ہم آہنگی رکھتاہے،جیسے دوالگ سازایک ہی دھن بجارہے ہوں۔اس فکری ڈھانچے میں اقلیتیں محض حاشیے کی ایک تحریربن کررہ جاتی ہیں—دیکھی ضرور جاتی ہیں مگرپڑھی نہیں جاتیں۔

مودی اورنیتن یاہوکی قیادت میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی جہت اختیارکرچکے ہیں۔ان دونوں رہنماؤں کی سیاست میں ایک قدر مشترک نمایاں ہے—قوت کاارتکازاورریاستی بیانیے پرمکمل گرفت۔ان کی حکمرانی میں جمہوریت ایک رسمی ڈھانچہ محسوس ہوتی ہے،جبکہ اصل قوت محدوددائرے میں مرتکزدکھائی دیتی ہے۔

5/اکتوبر2023کاوہ لمحہ تاریخ کے اوراق میں ایک علامت بن کرثبت ہوچکاہے جب حماس کے حملے کے بعدسب سے پہلی ہمدردی کی صداواشنگٹن یالندن سے نہیں بلکہ نئی دہلی سے بلندہوئی۔جس نے اس تعلق کی نوعیت کومزیدواضح کردیا۔جب خطہ ایک بارپھر آگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط اورتوقف نمایاں تھا،مگرنئی دہلی سے اٹھنے والی آوازفوری اور بے تامل تھی۔مودی کی جانب سے نیتن یاہوکوکی گئی فون کال محض ایک سفارتی اشارہ نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی وابستگی کامظہرتھی۔یہ ایک ایسا لمحہ تھاجس نے دونوں قیادتوں کے باہمی اعتمادکودنیاکے سامنے عیاں کردیا۔دونوں ریاستوں میں قومی شناخت کومذہبی بنیادوں پراستوارکیاگیاہے ۔اسرائیل میں یہودی قومیت اوربھارت میں ہندوتواکانظریہ، دونوں اپنے اپنے معاشروں میں ایک ایسی فضاپیدا کرتے ہیں جہاں اقلیتوں کیلئےگنجائش سکڑتی چلی جاتی ہے۔یہ رجحان نہ صرف داخلی سطح پراثراندازہوتاہے بلکہ خارجہ پالیسی کو بھی متاثر کرتاہے۔

اکتوبر2023کے واقعات نے اس تعلق کوایک نئی معنویت عطاکی۔جب خطہ ایک بارپھرجنگ کی لپیٹ میں آیا،توعالمی ردعمل میں احتیاط نمایاں تھی،مگر بھارت کی جانب سے فوری حمایت نے اس بات کوواضح کردیاکہ یہ تعلق محض رسمی نہیں بلکہ گہرااوردیرپاہے۔اس تعلق کی بنیادیں صرف جذباتی یانظریاتی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی گہری پیوست ہیں۔یہ تعلق محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی اپنی جڑیں پھیلاچکاہے۔دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ،خفیہ معلومات کاتبادلہ،جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اوراربوں ڈالرزکی اسلحہ تجارت —یہ سب اس رشتے کوایک مضبوط اقتصادی وعسکری شراکت داری میں تبدیل کرچکے ہیں اورایک مضبوط زنجیرمیں پرودیاہے۔گویایہ دو ریاستیں ایک دوسرے کے آئینے میں اپنی طاقت کاعکس دیکھ رہی ہوں۔دونوں ممالک ایک دوسرے کیلئے نہ صرف دوست بلکہ ایک دوسرے کی ضرورت بھی بن چکے ہیں۔دفاعی میدان میں یہ شراکت داری کاتعلق ایک ایسے بندھن میں ڈھل چکاہے جسے محض سفارتی بیان بازی سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔

اگرتاریخ کے دریچوں سے جھانکاجائے تویہ تبدیلی اوربھی معنی خیزمحسوس ہوتی ہے۔تاریخ کامطالعہ اس تبدیلی کومزیدمعنی خیزبنادیتا ہے۔وہ بھارت جوکبھی فلسطین کاوکیل تھا،اس کے حق میں عالمی فورمزپرآوازبلندکرتاتھا،آج نہ صرف اسی مسئلے پرخاموشی اختیارکر چکاہے بلکہ آج اسی عدالت میں اسرائیل کاہم نوابن بیٹھاہے۔1947میں جس نے تقسیمِ فلسطین کی مخالفت کی تھی،وہی آج اسرائیل سے بغلگیرہوکرنہتے فلسطینیوں کے قتل عام میں شریک ہے۔یہ تبدیلی محض پالیسی نہیں بلکہ فکرکی تبدیلی کااعلان ہے گویایہ تبدیلی ایک تدریجی عمل کانتیجہ ہے جس نے وقت کے ساتھ ایک نئے شرمناک بیانیے کوجنم دیا۔یہ خاموشی محض سفارتی حکمت عملی نہیں بلکہ منافقت کاوہ مشترکہ رشتہ ہے،جس میں ترجیحات بدل چکی ہیں۔

کارگل کامعرکہ اس تعلق کی تاریخ میں ایک اہم موڑثابت ہوا،اوراس تعلق کی بنیادوں کومضبوط کرنے میں اپناکرداراداکیااس جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے بھارت کوفراہم کی جانے والی مددنے اسے واضح طور پر پاکستان کی دشمنی میں صفِ اول میں کھڑاکردیا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکاایک ایسارشتہ قائم ہواجوآنے والے برسوں میں مزیدمستحکم ہوتا گیا۔جب بھارت پر عالمی پابندیوں کے سایے گہرے تھے اوردنیابھرمیں کسی بھی ملک سے مدد کی توقع نہیں تھی،اسرائیل نے خاموشی سے اس کی مدد کی۔ یہ وہ لمحہ تھاجس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی ایک ایسی بنیادرکھ دی جووقت کے ساتھ مضبوط ترہوتی گئی۔اسرائیل نے بھارت کواسلحہ فراہم کرکے ایک ایساقرض چڑھایاجس کی ادائیگی آج تک جاری ہے۔تاریخ کبھی خالی صفحہ نہیں ہوتی ،اس کے حاشیوں میں لکھے گئے واقعات بھی بڑے فیصلوں کی بنیادبنتے ہیں۔

مودی کے اقتدار میں آنے کے بعدیہ تعلق کھل کرسامنے آیااوربعد میں یہ تعلق ایک نئی جہت اختیارکرگیا۔2017میں اسرائیل کے دورے اوراعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے اس شراکت داری کونہ صرف تقویت دی بلکہ اسے عوامی سطح پربھی اجاگرکیا۔یہ دورہ محض سفارت نہیں بلکہ ایک علامتی پیش قدمی تھی۔گویا دونوں رہنماایک دوسرے میں اپناعکس دیکھ رہے ہوں—ایک ایساعکس جس میں طاقت،قومیت اور مرکزیت کی جھلک نمایاں ہو۔اسرائیل کادورہ صرف ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علامتی اعلان تھاکہ بھارت اب اپنی خارجہ پالیسی کے نئے خطوط متعین کرچکاہے۔یہ ایک ایسامرحلہ تھاجہاں سفارت کاری نےعلامتی حیثیت اختیارکرلی۔اس کے بعدہونے والے اعلیٰ سطحی تبادلوں نے اس تعلق کوعوامی سطح پربھی اجاگرکیا ۔اوریوں آج مودی کے دورمیں یہ تعلق ایک نئے عروج کوپہنچ چکاہے۔

اس تعلق اورشراکت داری کادائرہ محض دفاع تک محدودنہیں رہابلکہ معیشت،زراعت،سائنس اورثقافت تک پھیل چکاہے۔اسرائیلی مہارت اوربھارتی وسائل کاامتزاج ایک ایسے اشتراک کوجنم دے رہاہے اوردونوں ممالک ایک دوسرے کی مہارتوں سے فائدہ اٹھارہے ہیں،جو دونوں ممالک کیلئےسود مند ثابت ہورہاہے۔یہ تعاون ایک وسیع تراقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہورہاہےمگراس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہاہے کہ کیایہ ترقی اخلاقی توازن کے بغیرممکن ہے اورکیایہ ترقی اصولوں کی قربانی کے بغیرممکن ہے؟

لیکن اس کہانی کاایک دوسرارخ بھی ہے— بھارت کے اندراس پالیسی پرتنقید کا،تشویش کااورسوالات کاسلسلہ جاری ہے۔بھارت کےاندر اورباہریہ آوازیں اٹھ رہی ہیں اوراس تعلق پربحث جاری ہے۔دانشوروں اورسابق سفارت کاروں کاایک حلقہ اس بات پرتشویش کااظہارکر رہاہے کہ یہ قربت بھارت کی روایتی غیرجانبداری کومتاثرکررہی ہے۔کیایہ قربت فلسطینی مؤقف سے انحراف نہیں؟کیایہ دوستی اخلاقی اصولوں کی قیمت پرقائم نہیں؟ان کے نزدیک فلسطینی مؤقف سے دوری نہ صرف اخلاقی بلکہ سفارتی نقصان کاباعث بھی بن سکتی ہے اورایک ایسے خلاءکو جنم دے رہی ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بھارت بھی اسرائیل کی طرح نفرت کی نگاہوں کامرکزبن چکاہے اوراس کی ساکھ اب ایک ایسے منافق کے طورپرسامنے آرہی ہے جومنہ میں رام رام اوربغل میں چھری لئے ہوئے ہے۔

اپوزیشن کی آوازیں بھی اس معاملے پرخاموش نہیں رہیں۔انہوں نے حکومت کی پالیسی کوذاتی تعلقات کاشاخسانہ قراردیاہے،اوریہ سوال اٹھایاہے کہ کیا قومی مفادکوذاتی ہم آہنگی پرقربان کیا جارہاہے؟یہ سوالات ابھی فضامیں معلق اورجواب کے منتظرہیں اوروقت ہی ان کا فیصلہ کرے گا۔عالمی سطح پربھی اس تعلق کومختلف زاویوں سے دیکھاجارہاہے۔کچھ کے نزدیک یہ ایک نئی جیو پولیٹیکل صف بندی ہے،جبکہ دیگراسے ایک خطرناک رجحان قراردیتے ہیں جوعالمی توازن کوایسامتاثرکرسکتاہے جس کی بھاری قیمت بھارتی عوام کوادا کرنی پڑے گی۔اس وقت لاکھوں بھارتی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں روزگارکے سلسلے میں موجودہیں اورخدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں مودی کی ان منافقانہ پالیسیوں کاخمیازہ ان بھارتی شہریوں کوبھگتناپڑے گا۔

عالمی سطح پربھی اس تعلق کومختلف زاویوں سے دیکھاجارہاہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ایک خطرناک رجحان ہے جودنیاکو مزیدتقسیم کرسکتاہے۔ اسرائیل کیلئےبھارت کی حمایت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب وہ عالمی تنہائی کاسامناکررہاہے،اس لیے یہ تعلق اس کیلئےایک سہارا بن گیاہے۔ثقافتی میدان میں بھی اس ہم آہنگی کے آثارنمایاں ہیں۔ فلموں اورڈراموں میں مشترکہ بیانیہ پیش کیاجارہا ہے،جس میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہدکاتصورپیش کرکے ایک خاص زاویے سے دکھایاجاتاہے۔اس عوامی بیانیے میں ایک خاص نظریاتی رنگ جھلکتا ہے۔یہ بیانیہ عوامی ذہن سازی میں اہم کرداراداکر رہا ہے ۔یہ بیانیہ عوامی رائے کوتشکیل دینے میں اہم کردار اداکررہاہے۔

اقتصادی تعاون نے بھی اس رشتے کومزید گہرااورنئی جہت دی ہے۔بندرگاہوں،توانائی کے منصوبوں اورتجارتی معاہدوں میں اشتراک نے دونوں ممالک کوایک دوسرے کے قریب ترکر دیاہے۔یہ تعلق اب محض سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی مجبوری بھی بنتاجارہاہے اوریہ تعلق اب صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن چکاہے۔تاہم،اس تمام ترقربت کے باوجود ایک اہم سوال باقی ہے اورایک شدید خلابھی محسوس ہوتاہے—وہ ہے اخلاقی توازن اورذمہ داری کافقدان۔عالمی سطح پرانسانی حقوق کی پامالی پرخاموشی ایک ایساسوال ہے جوباربارسر اٹھاتاہے جسے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔یہ خاموشی خودایک پیغام رکھتی ہے۔کیامفادات کی سیاست میں اصول ہمیشہ پسِ پشت چلے جاتے ہیں؟

ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت کامحتاط رویہ بھی اسی تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔ایک ایساملک جودونوں فریقین سے اچھے تعلقات رکھتا تھا،اس بحران میں فعال کردار اداکرنے سے گریزاں رہااورکوئی نمایاں کردارادانہ کرسکا۔یہ خاموشی خودایک بیان بن گئی۔یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست اب محض اصولوں پرنہیں بلکہ مفادات کے پیچیدہ جال پر استوارہے۔اس تمام منظرنامے میں یہ حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے کہ عالمی سیاست اب محض اتحادیوں اورمخالفین کی تقسیم نہیں رہی بلکہ نظریاتی ہم آہنگی اور مفادات کے امتزاج کاایک پیچیدہ جال بن چکی ہے۔بھارت اور اسرائیل کاتعلق اسی جال کی ایک نمایاں مثال ہے۔

مستقبل کے حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ کیایہ تعلق وقت کی آزمائش پرپورااترے گا؟یابدلتے حالات اسے ایک نئی سمت میں لے جائیں گے؟تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کوئی بھی اتحاددائمی نہیں ہوتا،بلکہ حالات کے ساتھ اس کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔عالمی سیاست کی بساط پریہ شطرنج ابھی جاری ہے۔مودی اورنیتن یاہوکی دوستی وقتی فائدوں کی ضمانت توبن سکتی ہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ دیر سے مگردوٹوک ہوتاہے۔وقت کی عدالت میں نہ صرف پالیسیوں بلکہ نیتوں کابھی محاسبہ ہوتاہے۔

آخرمیں یہ کہنابے جا نہ ہوگا کہ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دونظریات کااتصال ہے—ایک ایسااتصال جودنیاکونہ صرف نئے سوالات اورنئے خدشات کی دہلیزپرلاکھڑا کرتاہے بلکہ دنیاکی تباہی کی طرف بھی لیجا سکتاہے۔یہ کہنابجاہوگا کہ یہ داستان محض دو ممالک کی نہیں بلکہ ایک ایسے دورکی ہے جہاں اصول اورمفاد کے درمیان کشمکش جاری ہے۔یہی کشمکش آنے والے زمانوں کی سیاست کارخ متعین کرے گی،اورشاید یہی اس عہدکاسب سے بڑا سبق بھی ہے کہ پرامن دنیاکوبچانے کیلئے اس شیطانی الحاق کوجڑسے اکھاڑپھینکناہوگا۔

یہ داستان ابھی مکمل نہیں، بلکہ تاریخ کے قلم کو ان دو سیاہ کرداروں کیلئے مزید سیاہی درکار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں