Iqbal's Thought and Pakistan's Role in World Peace

فکرِ اقبال اورامنِ عالم میں پاکستان کاکردار

“جس نے ایک جان کوبچایاگویااس نے پوری انسانیت کوبچایا۔”

محترم صدرِمجلس،معززاہلِ دانش،معززخواتین وحضرات!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج کے اس بابرکت اجتماع میں جس موضوع پراظہارِ خیال کی سعادت نصیب ہوئی ہے،وہ محض ایک فکری یاعلمی بحث نہیں بلکہ ایک عہدِنوکی سمت متعین کرنے والافکری چراغ ہے۔یہ محض ایک فکری یاعلمی بحث یاموضوع نہیں بلکہ ایک عہدِنوکی سمت متعین کرنے والا وہ اہم لمحہ اورایک ایسی ذمہ داری کا احساس ہے جوایک قوم،ایک ریاست اورپوری انسانیت کے مستقبل سے تعلق رکھتاہے۔آج کاموضوع صرف ایک سفارتی واقعے کا ذکرنہیں بلکہ ایک عظیم تاریخی ذمہ داری کااحساس ہے۔یہ وہ سوال ہے جوہمارے ضمیر،ہماری سیاست،ہماری تہذیب اورہماری عالمی ذمہ داریوں کے دروازے پر دستک دیتاہے۔جب دنیااضطراب کے گرداب میں ہو،جب طاقت کاتوازن بگڑجائے،جب مفادات کی آندھیاں اخلاق کے چراغ گل کرنے لگیں،توایک نظریاتی ریاست—پاکستان—اپنے فکری ورثے،خصوصاً فکرِاقبالؒ کی روشنی میں کیاکردارادا کرسکتی ہے؟

یہ اس سوال کاجواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ جب دنیاطاقت کے تصادم،سیاسی کشیدگی اورجنگ کے خطرات سے دوچارہوتو ایک نظریاتی ریاست، ایک ایٹمی طاقت اورایک امن پسندقوم کاکردارکیاہوناچاہیے؟آج کےاس اہم موضوع پرگفتگو کرتے ہوئے ہمیں نہ صرف ایک عظیم مفکرکی تعلیمات کا جائزہ لیناہے بلکہ یہ بھی دیکھناہےکہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کس طرح ان افکارکی روشنی میں ایک مثبت اورمصالحتی کرداراداکررہا ہےخصوصاًامریکا اورایران جیسے اہم ممالک کے درمیان اوراب اس امن معاہدہ کو کامیاب کرنے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ موضوع درحقیقت تین عظیم سرچشموں کا سنگم ہے:
ایک طرف قرآنِ حکیم کاابدی پیغامِ امن،دوسری طرف اقبالؒ کافلسفۂ خودی وانسانیت،اورتیسری طرف پاکستان کی تاریخی وجغرافیائی ذمہ داری ہے۔

خواتین و حضرات!
انسانی تاریخ کامطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جنگیں محض میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ ذہنوں میں جنم لیتی ہیں۔جب فکرمیں تنگی،نظرمیں تعصب،اوردل میں حرص پیداہوتوتلواریں خودبخود
بے نیام ہوجاتی ہیں۔اسلام نے اسی ذہنی وروحانی انحراف کاعلاج پیش کیا۔قرآنِ حکیم نے امن کومحض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ قراردیا۔اس نے عدل کوامن کی بنیاداوراحسان کواس کی تکمیل کہا۔اسلامی تصورِامن کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض جنگ کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ایک فعال حالت ہے—جس میں انصاف، رواداری، مکالمہ اورباہمی احترام شامل ہیں۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر ایک مہذب عالمی نظام قائم ہو سکتا ہے۔

اسلام نے ہمیشہ امن کوجنگ پر،عدل کوظلم پراورمکالمے کوتصادم پرترجیح دی ہے۔میں نے اپنی گفتگوکاآغازجس قرآنی آیت سے کیا ہے،اس کامعنی بھی یہ ہے کہ جس نے ایک جان کوبچایاگویااس نے پوری انسانیت کوبچایا۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
“زیادتی نہ کرو،بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔”(البقرہ:190)

محترم حاضرین!
دنیاکاامن اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب ریاستیں اپنی طاقت کوانصاف، ذمہ داری اورانسانیت کے اصولوں کےتابع رکھیں۔اسلام کابنیادی پیغام ہی امن، عدل اوررحمت ہے۔قرآنِ مجیدمیں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔”(الانفال:61)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کااستعمال بھی اخلاقی حدودکاپابندہوناچاہیے۔اسلام جنگ کومقصدنہیں بلکہ امن کومنزل قراردیتاہے۔طاقت کااصل کمال تصادم میں نہیں بلکہ تنازعات کوحکمت،صبر اورتدبر سے حل کرنے میں ہے۔
اسی طرح قرآنِ پاک میں ارشادہے:
“اورہم نے تمہیں قوموں اورقبیلوں میں اس لیے تقسیم کیاتاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو۔”(الحجرات:13)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مختلف قوموں، تہذیبوں اور ممالک کا وجود تصادم کیلئےنہیں بلکہ تعارف، تعاون اور مکالمے کیلئےہے۔

معززحاضرین!
اگرہم اس قرآنی تصورکوبیسویں صدی کے فکری افق پردیکھیں توہمیں ایک بلند قامت شخصیت نظرآتی ہے—علامہ محمد اقبالؒ۔اس عظیم مفکر نے اسی قرآنی فکرکواپنی شاعری اورفلسفے کےذریعے دنیاکے سامنے پیش کیا۔اقبالؒ محض شاعرنہیں تھے،وہ ایک تہذیبی معمار،ایک فکری معالج،اورایک روحانی رہنماتھے۔ان کی فکرمیں ایک عجیب کشش ہے—وہ دل کوبھی مخاطب کرتی ہے اورعقل کو بھی۔

اقبالؒ نے ایک ایسی دنیاکاخواب دیکھاتھاجہاں انسان محض طاقت کاغلام نہ ہوبلکہ اخلاق،علم اورروحانی عظمت کا علمبردارہو۔سب سے پہلے ہمیں علامہ محمد اقبالؒ کی فکرکوسمجھناہوگا۔اقبالؒ محض ایک شاعرنہیں بلکہ ایک عمیق فلسفی،مصلح اورامتِ مسلمہ کےدردمند رہنماتھے۔ان کی فکرکامرکزی نقطہ“انسان کی خودی”،“اخوتِ انسانی”اور“امنِ عالم”ہے۔اقبالؒ ایک ایسے عالمی نظام کے داعی تھےجہاں طاقت کے بجائے انصاف،مفادکی بجائے اخلاق،اورتصادم کی بجائے مکالمہ غالب ہو۔اقبالؒ کاتصورِامن محض سیاسی امن نہیں بلکہ ایک ہمہ گیرانسانی ہم آہنگی ہے۔ان کے نزدیک اصل مسئلہ انسان کی اندرونی شکست ہے۔جب انسان اپنی خودی سے غافل ہوجائے،جب وہ اپنی روحانی عظمت کو فراموش کردے،تو وہ دوسروں پرتسلط کواپنی کامیابی سمجھنے لگتاہے۔

اقبالؒ نے انسان کواس کی اصل پہچان دلائی۔انہوں نے کہاکہ انسان نہ تومحض مادی وجودہے اورنہ ہی محض ایک سیاسی اکائی،بلکہ وہ ایک اخلاقی وروحانی ہستی ہے جس کامقصد خیرکو فروغ دینااورشرکوروکناہے۔یہی تصورعالمی امن کی بنیادبن سکتاہے۔اقبالؒ کی فکر میں ایک نمایاں عنصر”وحدتِ انسانیت”ہے۔وہ قومیت کے تنگ دائروں سے بلندہوکرانسان کوایک عالمی برادری کارکن دیکھتے ہیں۔ان کے نزدیک رنگ،نسل،زبان اورجغرافیہ محض تعارف کے ذرائع ہیں،تفریق کے نہیں۔یہ وہی تصورہےجوآج کی دنیامیں سب سے زیادہ ضرورت کامتقاضی ہے۔

حضراتِ گرامی!
اقبالؒ کے نزدیک ایک مسلمان کی پہچان صرف عبادات تک محدودنہیں بلکہ وہ دنیامیں خیر،عدل اورامن کانمائندہ بھی ہے۔اقبالؒؒ فرماتے ہیں:قوموں کامستقبل ان کے عزم،کرداراور شعورسے وابستہ ہوتاہے۔
جلالِ پادشاہی ہوکہ جمہوری تماشاہو
جداہودیں سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی
یہ شعرہمیں یہ سبق دیتاہے کہ اگرسیاست سے اخلاقیات اورروحانیت کوجداکردیاجائےتودنیامیں امن قائم نہیں رہ سکتا۔یہی وہ بنیادی اصول ہے جوآج کی عالمی سیاست میں شدید کمی کاشکارہے۔

محترم حاضرین!
آج کاعالمی منظرنامہ ہمیں یہ بتاتاہے کہ طاقت کاتوازن بگڑچکاہے۔بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےچھوٹی ریاستوں کومیدانِ کار زاربنادیتی ہیں۔ایسے میں ایک ایسی آوازکی ضرورت ہے جونہ صرف غیرجانبدارہوبلکہ اصولی بھی ہو—اوریہی کردارپاکستان اداکر سکتاہے۔پاکستان کاقیام بھی ایک نظریاتی تصور کے تحت عمل میں آیاتھا۔قائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کوایک ایسی ریاست کے طورپر دیکھاتھاجودنیامیں امن،انصاف اوربین الاقوامی تعاون کاکردار ادا کرے۔یہ محض ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ ہے۔ قائداعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایک ایسی ریاست تھی جونہ صرف اپنے شہریوں کیلئےامن وانصاف کا گہوارہ ہوبلکہ عالمی سطح پربھی ایک مثبت کرداراداکرے۔

پاکستان جغرافیائی اعتبارسے ایک نہایت اہم خطے میں واقع ہے۔اس کے تعلقات مغرب،مشرقِ وسطیٰ،وسطی ایشیااورمسلم دنیاسے جڑے ہوئے ہیں۔یہی حیثیت اور محلِ وقوع پاکستان کوایک قدرتی سفارتی پل ثالث اورمصالحت کاربناتی ہے۔

معزز سامعین!
اگرہم موجودہ عالمی سیاست کا جائزہ لیں توہمیں کئی ایسے تنازعات نظرآتے ہیں جوعالمی امن کیلئےخطرہ بنے ہوئے ہیں۔ان میں بعض تنازعات محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کے حامل ہیں۔ایسے میں پاکستان کاکردارمحض ایک تماشائی کانہیں بلکہ ایک فعال شریک کاہوناچاہیے۔ان تنازعات میں اس وقت سرفہرست امریکاوایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی امن کو داؤپرلگادیا ہے۔یہ کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کیلئےبھی خطرہ ہے۔ایسے میں پاکستان،جوایک ایٹمی قوت،مسلم دنیاکااہم ملک اورایک ذمہ دارریاست ہے،ایک ثالثی اورمصالحتی کرداراداکرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔

معززسامعین!
اس تناظرمیں اسلام آبادمیں ہونے والی سفارتی کوششوں نے یہ پیغام دیاکہ جنگ کے ماحول میں بھی بات چیت کادروازہ بندنہیں ہونا چاہیے۔پاکستان نے خودکوایک ایسے ملک کے طورپر پیش کیاجومختلف فریقوں کے درمیان رابطے اورمکالمے کاذریعہ بن سکتاہے۔ایسے حالات میں پاکستان نے اقبالؒؒ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک مثبت،متوازن اورمصالحتی کرداراداکرنے کابیڑہ اٹھایا۔پاکستان نے شب روزکی محنت سے امریکااورایران کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کو فروغ دیا،جہاں دونوں ممالک بغیرکسی دباؤکے اپنے تحفظات بیان کرسکیں اوربالآخردنیا ایک عالمی تباہی کےکنارے سے واپس امن کی طرف لوٹ آئی لیکن اب ایک مرتبہ پھرمعاہدہ کو سبوتاژکرنے کیلئے دشمن قوتیں برسرپیکارہیں لیکن پاکستان اوردیگر عالمی قوتیں اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ منزل تک پہنچنے کیلئےمسلسل جدوجہد،بصیرت اوراستقامت درکارہوتی ہے۔

اقبالؒؒ نے کبھی اندھی مخالفت یااندھی حمایت کادرس نہیں دیا۔ان کا پیغام تھا:
سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیاجائے گاتجھ سے کام دنیاکی امامت کا
یہ شعرآج پاکستان کی خارجہ پالیسی کیلئےایک رہنمااصول بن سکتاہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اگراقبالؒ کے اصولوں پراستوارہوتووہ نہ صرف مؤثر ہو سکتی ہے بلکہ باوقاربھی۔اقبالؒ نے ہمیں سکھایاکہ خودداری، عدل،اور صداقت وہ ستون ہیں جن پرایک مضبوط قوم کھڑی ہوتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ اپنی سفارت کاری کومحض مفادات کے تابع نہ رکھے بلکہ اصولوں کے تابع کرے۔اس کامطلب یہ نہیں کہ قومی مفادات کونظ اندازکیاجائے،بلکہ یہ کہ انہیں اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کیاجائے۔پاکستان کاکردارکسی فریق کاحمایتی بننانہیں بلکہ امن کاداعی بنناہوناچاہیے۔پاکستان کوامریکااورایران کے درمیان جنگ بندی اورتعلقات کوبہتربنانے کیلئے اقبالؒ کی فکرکے تین بنیادی اصول سامنے رکھنے کی ضرورت ہے:
یعنی
اول مکالمہ (Dialogue)
دوم انصاف (Justice)
سوم احترامِ خودمختاری (Respect for Sovereignty)
اقبالؒ کاتصورِامت اورانسانیت ہمیں یہ سکھاتاہے کہ اختلافات کوتصادم کی بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیاجائے۔ اقبالؒ کی فکرمیں مکالمہ اورفکری آزادی کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ایسے سفارتی رابطوں کی حوصلہ افزائی کررہاہے جہاں اعتمادسازی کے اقدامات کیے گئے،جس کیلئے پہلااصول وعدوں کی پاسداری ہے:
قرآنِ حکیم فرماتا ہے:
“اورعہدکوپوراکرو،بے شک عہدکے بارے میں پوچھاجائے گا۔”(الاسراء:34)
دنیامیں امن صرف کاغذکے معاہدوں سے نہیں بلکہ وعدوں کی پاسداری سے قائم ہوتاہے۔اگرکسی بھی فریق کی طرف سے اعتماد شکنی ہوتواس کانقصان صرف دوممالک تک محدودنہیں رہتابلکہ پوراخطہ عدم استحکام کاشکارہوجاتاہے۔دوسرااصول انصاف اوراقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن ہمیں حکم دیتاہے:
“بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔”(النحل:90)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اوراصولی مؤقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کےطورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرنا چاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔

تیسرا اصول انسانیت کومقدم رکھناہے۔اقبالؒ کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتےتھے۔وہ فرماتے ہیں:
مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیر رکھنا!
خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبالؒ نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آوازاٹھائی۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اورامریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے۔

محترم سامعین!
لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کےراستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی، معاشی یاتزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقراررکھناہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔

معززحاضرین!
موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنےاس کردارکو بڑھانے کیلئےکئی عملی راستے موجود ہیں:
٭پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران-امریکا تنازع کے مستقل حل کیلئےدوبارہ ٹھوس تجاویز پیش کرے۔
٭دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتمادہے۔جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تو معاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لیے پاکستان کوچاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتماد صرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہوناچاہیے۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کیلئےغیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس ،اورعلمی کانفرنسزکاانعقادکرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے،اوربین الاقوامی کانفرنسزکےانعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک”مکالماتی کلچر”کو فروغ دے—ایسا کلچرجس میں اختلاف کوبرداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
٭تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کوفروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کیلئےامن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
٭چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑا جاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونےکےناطےایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جو مذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔اقبالؒ کی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے—جوانسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افرادکےہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کےمقدرکاستارہ
یہ شعرہمیں یہ بتاتاہے کہ ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتاہے۔لہٰذاپاکستان کے پالیسی سازوں،سفارتکاروں،اوردانشوروں کواقبالؒ کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔

خواتین و حضرات!
امن کے قیام کیلئےصرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرناضروری ہوتاہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتاہے۔اس کی تہذیب،اس کی زبان،اس کاادبی ورثہ—سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ ان کےاشعاردلوں کونرم کرتےہیں،ذہنوں کو روشن کرتےہیں،اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیامیں“ہارڈ پاور”یعنی فوجی طاقت کی بجائے “سافٹ پاور”یعنی سفارت،ثقافت،اورنظریہ زیادہ اہمیت اختیارکرچکا ہے۔اگرپاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتا ہے بلکہ ایک“امن کے سفیر”کے طورپرابھرسکتاہے۔

خواتین وحضرات!
امریکااورایران کے درمیان مصالحت کیلئےپاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،
دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،
مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،
علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبالؒ کے تصورِ“انسانیت کی وحدت” کے عین مطابق ہیں۔

محترم حاضرین!
دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبالؒ کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتحِ عالم
جہادِزندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔

معزز سامعین!
آج کی دنیامیں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔

آخر میں یہ عرض کرنا چاہوں گاکہ اقبالؒ کی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے۔اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں،اپنے اداروں،اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کیلئےبھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگرپاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔

دعاہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کوامن،عدل اورخیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبالؒ کے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیارکرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے،اوراسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔اللھم آمین یارب العالمین
وما علینا الا البلاغ۔
بہت شکریہ۔
اقبالؒ اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026ء کوسیمینارسے خطاب

اپنا تبصرہ بھیجیں