The New Horizon of the Atom

ایٹم کا نیا افق: طاقت، سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل

انسانی تاریخ میں توانائی کبھی بھی محض روشنی پیداکرنے یاصنعتوں کوچلانے کاذریعہ نہیں رہی،بلکہ یہ ہمیشہ تہذیبوں کےعروج، ریاستوں کی طاقت،معاشی ترقی اورعالمی سیاست کے رخ متعین کرنے والی بنیادی قوت رہی ہے۔جس طرح کوئلےنے صنعتی انقلاب کوجنم دیااوربھاپ کی طاقت نےدنیاکے معاشی ڈھانچے کوتبدیل کیا،جس طرح تیل نے بیسویں صدی کی جغرافیائی سیاست کوتشکیل دیااوردنیاکے طاقتورترین ممالک کے فیصلوں پراثراندازہوا،اسی طرح اکیسویں صدی میں توانائی،ٹیکنالوجی اورتزویراتی صلاحیتوں کاامتزاج طاقت کے ایک نئے تصورکوجنم دے رہاہے۔

آج دنیاایک ایسے دورمیں داخل ہوچکی ہے جہاں کسی ملک کی طاقت صرف اس کے فوجی اثاثوں،قدرتی وسائل یاجغرافیائی وسعت سے نہیں ناپی جاتی،بلکہ اس کی اصل قوت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ توانائی،سائنس،ٹیکنالوجی،تحقیق،مصنوعی ذہانت اور جدیدصنعت کوکس طرح اپنی قومی حکمت عملی کاحصہ بناتاہے۔

اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھرتاریخ کے ایک حساس موڑپرکھڑاہے۔یہ خطہ صدیوں سے تہذیبوں،تجارت، سلطنتوں ،جنگوں اورعالمی طاقتوں کے مقابلوں کامرکزرہاہے۔یہاں ہونے والاکوئی بھی بڑامعاہدہ محض دوریاستوں کے درمیان ایک سفارتی دستاویزنہیں ہوتابلکہ اس کےاثرات پورےخطے کےسیاسی،معاشی اورسلامتی کے نظام پرمرتب ہوتےہیں۔

امریکااورسعودی عرب کے درمیان جوہری تعاون کامعاملہ بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت ہے۔بظاہریہ ایک پرامن جوہری توانائی کے منصوبے کے طورپرسامنے آتاہے،جس کامقصدتوانائی کے متبادل ذرائع پیداکرنا،صنعتی ترقی کوفروغ دینااورمستقبل کی معیشت کیلئےنئے امکانات پیداکرناہے لیکن عالمی سیاست کیگہرائی میں دیکھاجائے تویہ معاملہ صرف بجلی پیداکرنے یاتوانائی کے حصول تک محدودنہیں رہتا،بلکہ اس کے اندرطاقت،تحفظ،سفارت کاری،علاقائی توازن اورعالمی اثرورسوخ کے کئی پیچیدہ پہلو پوشیدہ ہیں۔

سعودی عرب،جوکئی دہائیوں تک عالمی تیل منڈی کاایک بنیادی ستون رہاہے،اب اپنی قومی شناخت کوایک نئے مرحلےمیں منتقل کرناچاہتاہے۔ریاض یہ سمجھتاہے کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں صرف تیل کے ذخائرکسی ملک کی مکمل طاقت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔آنے والادورعلم،ٹیکنالوجی،تحقیق، مصنوعی ذہانت،قابلِ تجدیدتوانائی اورجدید صنعتی صلاحیتوں کا ہوگا۔اسی وژن کے تحت سعودی عرب نے وژن2030کےذریعے اپنی معیشت کومتنوع بنانے کامنصوبہ پیش کیاہے،جس کامقصداسے محض ایک تیل پیدا کرنے والی ریاست سے ایک جدید،سرمایہ کاری دوست اورٹیکنالوجی پرمبنی عالمی مرکزمیں تبدیل کرناہے۔جوہری توانائی اسی وسیع ترتبدیلی کاایک اہم حصہ ہے لیکن جوہری طاقت کاسفر کبھی بھی صرف سائنسی یامعاشی سفرنہیں ہوتا۔ایٹم کے اندرچھپی ہوئی قوت انسان کیلئےروشنی کاذریعہ بھی بن سکتی ہے اورخطرے کاسبب بھی۔یہی دوہراپہلو جوہری توانائی کودیگر تمام توانائی کے ذرائع سے مختلف بناتاہے۔ایک طرف جوہری توانائی کم مقدارمیں ایندھن سے بڑی مقدارمیں توانائی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،کاربن اخراج میں کمی لانے میں مدد دیتی ہے اورطویل مدت میں توانائی کے بحران کاایک مؤثرحل فراہم کر سکتی ہے۔

دوسری جانب یہی ٹیکنالوجی اپنے اندرایسے حساس پہلورکھتی ہے جنہیں نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔جوہری علم،ایندھن کاچکر،یورینیم افزودگی اورمتعلقہ تکنیکی صلاحیتیں ایسی جہتیں ہیں جن کے اثرات صرف توانائی کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ براہ راست قومی سلامتی اورعالمی طاقت کے توازن سے جڑجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیاکی نظریں امریکا–سعودی جوہری تعاون پر مرکوز ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب جوہری توانائی کیوں حاصل کرناچاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیایہ منصوبہ صرف توانائی، ترقی اورمعاشی تبدیلی کاذریعہ بنے گا؟کیااسے عالمی نگرانی،شفافیت اورذمہ داری کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایاجائے گا؟یاپھریہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے ایک نئے مقابلے کاآغازبن سکتاہے؟

جوہری توانائی کاہرقدم اپنے ساتھ ایک آئینہ لے کرآتاہے،جس میں انسان کی ترقی بھی نظرآتی ہے اوراس کی ذمہ داری کاامتحان بھی۔امریکا–سعودی جوہری تعاون بھی اسی آئینے کے سامنے کھڑاایک ایساتاریخی لمحہ ہے جہاں سائنس،سیاست اورانسانی بصیرت ایک دوسرے سے سوال کررہی ہیں۔سعودی عرب کیلئےجوہری توانائی کامنصوبہ محض بجلی پیداکرنے کا پروگرام نہیں بلکہ اس کے قومی مستقبل کےوسیع ترتصورکا حصہ ہے۔ایک ایسی ریاست جس کی معاشی طاقت طویل عرصے تک تیل کی برآمدات سے وابستہ رہی،اب یہ محسوس کررہی ہے کہ عالمی معیشت کامستقبل تیزی سے تبدیل ہورہاہے۔ توانائی کی عالمی منڈی،موسمیاتی تبدیلی کے تقاضے،نئی ٹیکنالوجیزاورصنعتی مقابلہ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے دنیاکے ممالک کواپنی اقتصادی حکمت عملیوں پرنظرثانی کرنے پرمجبورکیاہے۔سعودی عرب بھی اسی تبدیلی کے سفرمیں شامل ہے۔

جوہری توانائی کے حصول کے پیچھے کئی بنیادی مقاصدموجودہیں۔سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات کوصرف تیل اورگیس تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ مستقبل کی ایک مضبوط معیشت کیلئےتوانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اہم ہے یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ توانائی کانظام مختلف ذرائع پرقائم ہوتاکہ عالمی منڈی کے اتارچڑھاؤسے کم متاثرہو۔

دوسرامقصدصنعتی اورسائنسی ترقی کوفروغ دیناہے۔جوہری توانائی صرف بجلی پیداکرنے کاذریعہ نہیں ہوتی۔اس کے ساتھ انجینئرنگ،تحقیق،طبی شعبے،جدیدصنعت،سائنسی تعلیم اورانسانی وسائل کی ترقی کے وسیع امکانات وابستہ ہوتے ہیں۔

تیسرامقصدوژن2030کوعملی بنیادفراہم کرناہے۔سعودی عرب ایک ایسی معیشت تشکیل دیناچاہتاہے جس میں سرمایہ کاری،علم، ٹیکنالوجی اورجدت بنیادی کردارادا کریں۔جوہری شعبہ اسی جدید معیشت کے قیام کی ایک کڑی ہے لیکن سعودی عرب کا یہ سفر صرف داخلی ضرورتوں تک محدود نہیں۔اس کے عالمی اثرات بھی ہیں،کیونکہ توانائی کے میدان میں کوئی بڑی تبدیلی ہمیشہ بین الاقوامی سیاست پراثراندازہوتی ہےاور یہی وہ مقام ہے جہاں امریکاکاکردارسامنے آتاہے۔

امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون کوصرف ریاض کی توانائی کی ضروریات کےتناظرمیں دیکھنااس کی مکمل تصویرپیش نہیں کرتا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ واشنگٹن کی وسیع تر مشرقِ وسطیٰ پالیسی، عالمی طاقتوں کے مقابلے اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔امریکاکیلئےسعودی عرب کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم شراکت داررہاہے۔اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مختلف ادوارمیں کئی نشیب وفرازسے گزرے، انسانی حقوق،علاقائی پالیسیوں اوربعض سیاسی اختلافات کے باعث تنقیدکاسامنابھی رہا،لیکن توانائی،دفاع، تجارت اورعلاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون نے دونوں ممالک کوایک دوسرے سےجوڑے رکھا۔جوہری تعاون کا معاہدہ اسی طویل تعلق کوایک نئےمرحلےمیں داخل کرنےکی کوشش کےطورپر دیکھا جاسکتاہے۔

واشنگٹن کیلئےاس تعاون کے کئی تزویراتی پہلوہیں۔خلیجی خطے میں اپنے دیرینہ اثرورسوخ کوبرقراررکھنا؛سعودی عرب کوجدید امریکی ٹیکنالوجی اورسرمایہ کاری کے نیٹ ورک سے مزید مربوط کرنا؛چین اورروس کے بڑھتے ہوئے کردارکامقابلہ کرنا؛امریکی کمپنیوں کیلئےتوانائی،تحقیق اورجدید صنعت کے نئے مواقع پیداکرنا؛مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل میں امریکاکےکردارکودوبارہ مضبوط بنانا۔لیکن یہاں ایک بنیادی تضاد بھی موجودہے۔امریکاایک طرف سعودی عرب کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلقات چاہتا ہے،دوسری طرف وہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤکے اصولوں کاایک اہم محافظ بھی سمجھاجاتاہے۔یہی تضاد اس معاہدے کاسب سے بڑاسفارتی امتحان ہے۔

اگرواشنگٹن سعودی عرب کوزیادہ جوہری خودمختاری دیتاہے تواسے یہ بھی یقینی بناناہوگاکہ یہ تعاون ایسے راستے پرنہ جائے جو مستقبل میں علاقائی طاقت کے توازن کومزید پیچیدہ بنادے۔کیونکہ جوہری ٹیکنالوجی صرف ایک صنعتی شعبہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست میں ایک حساس طاقت کاعنصر بھی ہے۔ہربڑی سائنسی کامیابی اپنے ساتھ امکانات کی روشنی بھی لاتی ہے اورخطرات کا ایک خاموش سایہ بھی۔جوہری توانائی اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہے۔

ایٹم کے اندرموجودقوت نے انسان کوتوانائی کے ایک نئے دورمیں داخل کیا۔اس نے طب،زراعت،صنعت اوربجلی کی پیداوارکے میدانوں میں انقلاب برپا کیالیکن اسی قوت نے انسان کویہ احساس بھی دلایاکہ بعض دریافتیں صرف ترقی کے دروازے نہیں کھولتیں بلکہ ذمہ داری کے نئے امتحانات بھی پیدا کرتی ہیں۔امریکا–سعودی جوہری تعاون کاسب سے پیچیدہ پہلویہی ہے کہ یہ ایک ایسے خطے میں سامنے آرہاہے جہاں پہلے ہی سلامتی کے خدشات،علاقائی رقابتیں اورطاقت کے عدم توازن موجودہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی حساس ٹیکنالوجی صرف ایک ملک کاداخلی معاملہ نہیں رہتی۔وہ فوری طورپرعلاقائی سیاست اورعالمی سلامتی کے مباحث کاحصہ بن جاتی ہے۔جوہری ٹیکنالوجی کے حوالے سے بنیادی سوال ہمیشہ یہی رہاہے۔ایک پرامن ایٹمی پروگرام کہاں ختم ہوتاہے اورتزویراتی صلاحیت کاآغازکہاں سے ہوتاہے؟یہی وہ لکیرہے جس نے عالمی برادری کو ہمیشہ محتاط رکھاہے۔

دنیاکاتجربہ یہ بتاتاہے کہ جوہری علم حاصل کرنےکےبعداس کےاثرات صرف بجلی پیدا کرنےتک محدود نہیں رہتے۔ایندھن کاچکر، تحقیق،افزودگی کی صلاحیت اورمتعلقہ تکنیکی مہارتیں ایسی صلاحیتیں ہیں جن کی دوہری نوعیت ہوتی ہے۔یعنی وہ ترقی کاذریعہ بھی بن سکتی ہیں اورطاقت کے حصول کی بنیادبھی ۔ اسی لیے عالمی ادارے کسی بھی نئے جوہری پروگرام کو صرف معاشی ترقی کے زاویے سے نہیں دیکھتےبلکہ اس کے ممکنہ تزویراتی اثرات کابھی جائزہ لیتے ہیں

امریکاسعودی جوہری تعاون کوایران کےپس منظرکےبغیرمکمل طورپرسمجھناممکن نہیں۔ایران اورسعودی عرب کےدرمیان کئی دہائیوں سےجاری علاقائی اثرورسوخ کی رقابت نےمشرقِ وسطیٰ کی سیاست پرگہرے اثرات مرتب کیےہیں۔شام،یمن،عراق،لبنان اور خلیجی سلامتی کے معاملات میں دونوں ممالک کے مفادات کئی مواقع پرایک دوسرے سے متصادم رہے ہیں۔اگرچہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کےدرمیان سفارتی رابطوں میں بہتری کےآثاربھی سامنےآئے،لیکن تاریخی عدم اعتماداورعلاقائی مقابلہ اب بھی موجود ہے۔

ایسےماحول میں سعودی عرب کی جوہری پیش رفت کوتہران محض ایک توانائی منصوبےکےطورپرنہیں دیکھ سکتا۔اگرایران کویہ محسوس ہوتاہے کہ خطےمیں طاقت کاتوازن اس کے خلاف تبدیل ہو رہاہے،تواس کاردعمل مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پراثراندازہو سکتاہے۔یہاں اصل خطرہ صرف جوہری صلاحیت کا ہیں بلکہ عدم اعتماد ے ڑھتے ہوئے ائرے کاہے۔عالمی سیاست میں اکثرریاستیں دوسرے ممالک کےموجودہ ارادوں سے زیادہ ان کے ممکنہ مستقبل کے اقدامات کے خوف سے اپنی پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں۔ایک ملک جسے اپنی سلامتی کیلئے دفاعی قدم محسوس ہوتا ہے، دوسراملک اسے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اعتمادسازی کی اہمیت سب سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

سعودی عرب کامؤقف یہ رہاہے کہ خطےمیں کسی بھی ملک کوایسی صلاحیت حاصل نہیں ہونی چاہیے جودوسرے ممالک کیلئےعدم تحفظ پیدا کرے لیکن بین الاقوامی سیاست میں صرف ارادے کافی نہیں ہوتے،تصورات بھی اہم کرداراداکرتے ہیں۔اورجب اعتماد کمزورہوتواچھے ارادے بھی شکوک کی نظرسے دیکھے جانے لگتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کےموجودہ طاقت کے نظام میں اسرائیل ایک منفردمقام رکھتاہے۔اگرچہ اسرائیل اپنی جوہری صلاحیت کے بارے میں سرکاری طورپرواضح پالیسی اختیارنہیں کرتا،لیکن خطے کے تزویراتی توازن میں اس کا کردارہمیشہ اہم رہاہے۔سعودی عرب کی جوہری پیش رفت اسرائیل کیلئےایک حساس مسئلہ اس لیے بھی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ سلامتی کےڈھانچےاورعسکری برتری کو برقرار رکھناچاہتاہے۔اگرچہ گزشتہ برسوں میں سعودی عرب اوراسرائیل کےدرمیان تعلقات کے حوالے سےسفارتی امکانات پیداہوئے ہیں،لیکن جوہری صلاحیت کامعاملہ اعتماد ، سلامتی اور علاقائی توازن کےسوالات کومزیدپیچیدہ بناسکتاہے۔

اسرائیلی تشویش کی بنیادصرف یہ نہیں کہ سعودی عرب جوہری ٹیکنالوجی حاصل کررہاہے،بلکہ یہ بھی ہےکہ اگرخطےکےدیگر ممالک بھی اسی راستے پرچلنے لگےتومشرقِ وسطیٰ کاموجودہ طاقت کاڈھانچہ بنیادی طورپرتبدیل ہوسکتاہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہےکہ بڑی تزویراتی تبدیلیاں اکثرایک ملک تک محدودنہیں رہتیں۔ایک ریاست کی نئی صلاحیت دوسرے ممالک کوبھی اپنی سلامتی کی پالیسیوں پرنظرثانی کرنے پرمجبورکرسکتی ہے۔اگرسعودی عرب ایک مکمل جوہری پروگرام قائم کرتاہےتوممکن ہےکہ دیگرخلیجی ریاستیں بھی مستقبل میں اپنی توانائی اورسلامتی کی حکمت عملی میں جوہری عنصر شامل کرنے کی کوشش کریں ۔ایسی صورتحال ایک ایسے ماحول کوجنم دے سکتی ہےجہاں ہر ریاست اپنی حفاظت کیلئےنئی صلاحیتیں حاصل کرناچاہے،مگرمجموعی طورپرپورا خطہ مزید غیر محفوظ ہوجائے۔

تاریخ کاایک تلخ سبق یہی ہےکہ ہتھیاروں کی دوڑاکثرتحفظ کےنام پرشروع ہوتی ہے،لیکن وقت گزرنےکےساتھ وہ خوف،عدم اعتماد اورمقابلے کے ایسے دائرے کوجنم دیتی ہےجس سے نکلنامشکل ہوجاتاہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کوآج صرف علاقائی طاقتوں کے درمیان رقابت کے زاویے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔یہ خطہ اب ایک وسیع ترعالمی مقابلےکامیدان بن چکاہے،جہاں بڑی طاقتیں توانائی، تجارت،ٹیکنالوجی،سلامتی اورسفارتی اثرورسوخ کیلئےاپنی حکمت عملیاں تشکیل دے رہی ہیں۔امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون بھی اسی عالمی کشمکش کاایک اہم پہلوہے جہاں عالمی طاقتوں کی نئی بساط امریکا،چین اورروس کامقابلہ واضح نظرآرہاہے۔

دنیاکی تاریخ میں طاقت کےمراکزہمیشہ تبدیل ہوتےرہےہیں۔کبھی سمندری راستوں پرقبضہ عالمی برتری کی علامت تھا،کبھی صنعتی پیداوارطاقت کاپیمانہ بنی،پھرتیل نے بیسویں صدی کی عالمی سیاست کونئی سمت دی۔لیکن اکیسویں صدی میں طاقت کاتصورمزید پیچیدہ ہوچکاہے۔آج توانائی،جدیدٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت،سائنسی تحقیق،دفاعی صلاحیت اوراقتصادی اثرو رسوخ مل کرکسی ریاست کی اصل طاقت کاتعین کرتے ہیں۔اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری توانائی کامعاملہ صرف بجلی پیداکرنے کامسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت کے توازن کاحصہ بھی ہے۔

گزشتہ برسوں میں چین نے خلیجی خطے میں اپنی اقتصادی اورسفارتی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیاہے۔توانائی کی تجارت،بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، سرمایہ کاری اورطویل المدتی اقتصادی شراکت داریوں کے ذریعے بیجنگ نےمشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم مقام حاصل کیاہے۔چین کیلئےخلیجی ممالک صرف توانائی کےذرائع نہیں بلکہ عالمی تجارت،سرمایہ کاری اورمستقبل کی اقتصادی حکمت عملی کااہم حصہ ہیں۔سعودی عرب کے ساتھ چین کےتعلقات بھی اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھےجاتے ہیں۔

ریاض اب عالمی سیاست میں کسی ایک طاقت کےساتھ مکمل وابستگی کی بجائے مختلف عالمی مراکزکے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی پالیسی اختیارکررہا ہے۔یہ نئی سعودی سفارت کاری کابنیادی اصول بنتاجارہاہے،شراکت داری سب کےساتھ،انحصارکسی ایک پرنہیں۔اسی حکمت عملی کے تحت سعودی عرب امریکاکے ساتھ سلامتی اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھاتاہے،چین کےساتھ اقتصادی روابط کووسعت دیتاہے،اوردیگرعالمی طاقتوں کے ساتھ بھی تعلقات کومتوازن رکھنے کی کوشش کرتاہے۔

روس بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی برقراررکھنے کی کوشش کررہاہے۔توانائی کےمیدان میں روس اورخلیجی ممالک کے درمیان تعاون،دفاعی تعلقات اورعلاقائی سیاست میں سفارتی روابط نےماسکوکوخطے میں ایک اہم کھلاڑی بنائے رکھاہے۔اگرچہ روس کے وسائل امریکایاچین کے برابرنہیں،لیکن شام جیسے معاملات میں اس کاکرداریہ ثابت کرتاہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کوعالمی سیاست کےبڑے میدان کےطورپردیکھتاہے۔ایسے ماحول میں امریکا–سعودی جوہری تعاون کوواشنگٹن کیلئےصرف ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی پیغام بھی سمجھاجاسکتاہے۔یہ پیغام یہ ہے کہ امریکااب بھی خلیجی سلامتی،جدیدٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے میدان میں ایک مرکزی کرداررکھتاہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے طاقت کےتوازن میں پاکستان کاذکربھی اہمیت رکھتاہے۔پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے،سعودی عرب کے ساتھ اس کے تاریخی ،دفاعی،اقتصادی اور برادرانہ تعلقات موجودہیں،جبکہ خلیجی سلامتی کے معاملات میں اسلام آبادکاکردارکئی دہائیوں سے نمایاں رہاہے۔اگرچہ امریکا –سعودی جوہری تعاون بنیادی طورپردوریاستوں کے درمیان ایک معاملہ ہے،لیکن خطے کی وسیع ترسلامتی کے تناظرمیں پاکستان ایک ایساملک ہے جس کے تجربات،سفارتی روابط اوردفاعی تعلقات کونظر اندازنہیں کیاجا سکتا۔

پاکستان کیلئےبھی یہ ایک حساس سفارتی توازن کامعاملہ ہے۔ایک طرف اسے اپنے دیرینہ دوستوں اورشراکت داروں کے ساتھ تعلقات کوبرقرار رکھناہے ، دوسری جانب اسے عالمی عدم پھیلاؤکے اصولوں،علاقائی امن اورسلامتی کے تقاضوں کوبھی مدنظررکھناہے۔ پاکستان کاممکنہ کرداربراہ راست جوہری تعاون سے زیادہ سفارتی اعتمادسازی،علاقائی مکالمے اورامن کے فروغ کےحوالے سےاہم ہوسکتاہے۔ایک ایسےخطےمیں جہاں طاقت کےمقابلے کے امکانات موجودہوں،پاکستان اپنے تاریخی تجربے اورسفارتی تعلقات کے ذریعے ایک پل کا کرداراداکرسکتاہے۔خاص طورپراس لیے کہ پاکستان خودجانتا ہے کہ جوہری طاقت صرف ایک تکنیکی صلاحیت نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔

جوہری تعاون کاسب سے اہم ستون صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتمادہوتاہے۔دنیابھرمیں جوہری پروگرام سخت نگرانی،شفافیت اوربین الاقوامی اصولوں سےمنسلک کیےجاتےہیں،کیونکہ جوہری شعبے میں چھوٹی سی غلطی بھی بڑے اثرات پیداکرسکتی ہے۔امریکا کیلئےسب سے بڑاچیلنج یہی ہوگاکہ وہ سعودی عرب کی توانائی کی ضروریات اورعالمی عدم پھیلاؤکے اصولوں کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کرے۔اگرنگرانی کے نظام مضبوط ہوں،معلومات کاتبادلہ شفاف ہواوربین الاقوامی اداروں کاکردارمؤثررہے تو جوہری توانائی ترقی کاایک شاندارذریعہ بن سکتی ہے۔

لیکن اگراعتمادکافقدان پیداہوجائے یایہ تصورمضبوط ہوجائے کہ جوہری ٹیکنالوجی علاقائی طاقت کےحصول کاذریعہ بن رہی ہے تو یہی منصوبہ کشیدگی کا سبب بھی بن سکتاہے۔جوہری توانائی کامستقبل دراصل صرف ری ایکٹرز،ایندھن اورٹیکنالوجی سے طے نہیں ہوگابلکہ اس سیاسی اوراخلاقی ماحول سے طے ہوگاجس میں اسےاستعمال کیاجائے گا۔

امریکا–سعودی جوہری تعاون ایک بنیادی سوال کودوبارہ زندہ کرتاہے، کیا ہروہ چیزجو انسان حاصل کرسکتاہے،اسے حاصل کرنا ضروری بھی ہے؟یہ سوال صرف سائنس کانہیں بلکہ اخلاقیات، سیاست اورانسانی شعورکاسوال ہے۔جوہری ٹیکنالوجی انسانی ذہانت کی عظیم ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔اس نے طب،زراعت،صنعت اورتوانائی کے میدانوں میں انقلاب برپاکیا۔لیکن یہی ٹیکنالوجی اس وقت خطرے کاباعث بن جاتی ہے جب اسے خوف،مقابلے اور طاقت کی سیاست اپنے تابع کرلیں۔

سعودی عرب کیلئےاصل امتحان صرف جوہری صلاحیت حاصل کرنانہیں بلکہ یہ ثابت کرناہوگاکہ جدیدطاقت کاحقیقی معیارصرف ٹیکنالوجی کا حصول نہیں بلکہ اس کاذمہ دارانہ استعمال ہے ۔ امریکاکیلئےبھی امتحان صرف اپنےاتحادی کےساتھ تعاون نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرناہے جہاں مفادات اوراصول ایک دوسرے کے مخالف نہ بنیں۔کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھتی کہ قوموں نے کتنی طاقت حاصل کی،بلکہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ انہوں نے اس طاقت کوکتنی دانش مندی سے استعمال کیا۔

امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون کامستقبل صرف معاہدے کی شرائط سے طے نہیں ہوگابلکہ اس اعتمادسے طے ہوگاجواس کے نفاذکے دوران قائم کیاجائے گا۔اس کے سامنے دومختلف راستے موجودہیں۔ایک راستہ وہ ہے جہاں یہ تعاون سعودی عرب کیلئے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیداکرے؛صنعتی ترقی کوفروغ دے؛سائنسی تحقیق کو مضبوط بنائے؛مستقبل کی معیشت کیلئےنئی بنیاد فراہم کرے۔

اگریہ منصوبہ شفافیت، ذمہ داری اورعالمی نگرانی کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے توسعودی عرب ایک ایسی مثال بن سکتاہے کہ قدرتی وسائل رکھنے والی ریاست کس طرح علم اور ٹیکنالوجی پرمبنی جدید معیشت تشکیل دے سکتی ہے۔لیکن دوسراراستہ وہ ہے جہاں علاقائی عدم اعتمادبڑھ جائے اوریہی منصوبہ طاقت کےمقابلے کی علامت بن جائے۔ایسی صورت میں ایران اپنی سلامتی کی پالیسی مزیدسخت کرسکتاہے؛دیگرخلیجی ممالک بھی نئی صلاحیتوں کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں؛مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجودکشیدگی مزیدگہری ہوسکتی ہے۔اسی لیے اصل فیصلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں کرے گی،بلکہ وہ سیاسی حکمت،سفارتی بصیرت اورذمہ دارانہ قیادت کرے گی جواس ٹیکنالوجی کے گردقائم کی جائے گی۔

امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون واشنگٹن کیلئےمحض ایک سفارتی کامیابی یامعاشی موقع نہیں بلکہ ایک پیچیدہ توازن کاامتحان بھی ہے۔امریکاایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کومضبوط بناناچاہتاہے،کیونکہ خلیجی خطے میں سعودی عرب سیاسی،معاشی اورسلامتی کےاعتبارسے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتاہے۔دوسری طرف واشنگٹن کےسامنے یہ ذمہ داری بھی موجودہے کہ وہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤکے اصولوں،شفافیت اورعلاقائی استحکام کےتقاضوں کونظر اندازنہ کرے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی پالیسی کااصل امتحان شروع ہوتاہے۔اگرامریکاصرف اپنے فوری تزویراتی مفادات کوترجیح دیتاہےاور نگرانی،شفافیت اور حفاظتی اصول کمزورپڑجاتے ہیں تو اس پردوہرے معیارکے الزامات لگ سکتے ہیں۔لیکن اگرواشنگٹن ایک ایسا ماڈل قائم کرتاہے جس میں جدید جوہری ٹیکنالوجی تک پرامن رسائی؛سخت حفاظتی معیار؛مؤثرعالمی نگرانی؛علاقائی اعتمادسازی؛ اورذمہ دارانہ استعمال کے اصول ایک ساتھ آگے بڑھیں،تو یہ تعاون مستقبل کیلئےایک نئی مثال بن سکتاہے۔اصل کامیابی صرف ایک معاہدہ کرنے میں نہیں بلکہ ایسااعتمادپیداکرنے میں ہوگی جوآنے والی دہائیوں تک قائم رہ سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہاں ہربڑی تزویراتی تبدیلی کےساتھ کئی نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔یہ خطہ صرف وسائل کی سرزمین نہیں بلکہ تہذیبوں،مذاہب،ثقافتوں اور عالمی راستوں کامرکزبھی ہے۔یہاں ہونے والے فیصلے صرف حکومتوں تک محدودنہیں رہتے بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل پراثراندازہوتے ہیں۔اگرسعودی عرب کاجوہری پروگرام صرف توانائی،تحقیق اور ترقی کے مقاصدتک محدودرہتاہے،عالمی اصولوں کےمطابق آگے بڑھتاہے اورعلاقائی اعتمادسازی کے ساتھ منسلک رہتاہے تویہ پورے خطےکیلئےایک مثبت مثال بن سکتاہے۔

لیکن اگراسے علاقائی طاقت کےحصول کی علامت سمجھاگیاتواس کےاثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ پہلےہی کئی دہائیوں سے عدم اعتماد،تنازعات اورجغرافیائی سیاسی کشمکش کا سامنا کررہاہے۔ایسے ماحول میں نئی تزویراتی صلاحیتیں اگرتعاون کے بجائے مقابلےکی زبان میں سمجھی جائیں توخطےکاعدم استحکام مزیدبڑھ سکتاہے۔اصل چیلنج یہ ہے کہ جوہری توانائی کو طاقت کے مقابلے کاذریعہ بنانے کی بجائےترقی اورامن کےوسیلے میں تبدیل کیاجائے۔

اکیسویں صدی میں طاقت کاتصوربنیادی طورپرتبدیل ہورہاہے۔ماضی میں طاقت کاتعلق زیادہ ترفوجی قوت،سرزمین اورقدرتی وسائل سےتھا،لیکن آج حقیقی طاقت ان ممالک کےپاس ہےجوٹیکنالوجی،معیشت،توانائی،تعلیم،تحقیق اورسفارت کاری کوایک مربوط حکمت عملی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔سعودی عرب کاجوہری سفربھی اسی وسیع ترتبدیلی کی علامت ہے۔یہ ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جواپنی شناخت کوصرف تیل کےذخائر سے آگے لے جاناچاہتاہے اورخود کوجدید معیشت،سائنس،سرمایہ کاری اورٹیکنالوجی کے میدان میں ایک عالمی مرکز کے طورپر دیکھناچاہتاہے۔

لیکن ہرنئی طاقت اپنے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔جوہری صلاحیت کااصل امتحان یہ نہیں کہ کون اسے حاصل کرتاہے، بلکہ یہ ہےکہ کون اسےکس مقصد،کس دانش مندی اورکس اخلاقی شعورکے ساتھ استعمال کرتاہے کیونکہ طاقت اگرحکمت سے جدا ہوجائے توخوف پیداکرتی ہے،لیکن اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہوتو ترقی کاذریعہ بن جاتی ہے۔دنیا تیزی سے ایسے دورمیں داخل ہورہی ہے جہاں توانائی کامستقبل صرف تیل اورگیس سے وابستہ نہیں رہے گا۔صاف توانائی،جدید صنعت،مصنوعی ذہانت،ڈیجیٹل معیشت اورسائنسی تحقیق آنے والے وقت کی بنیادی قوتیں ہوں گی۔

ایسے میں جوہری توانائی سعودی عرب کوکئی اہم مواقع فراہم کرسکتی ہے۔توانائی کےذرائع میں تنوع؛صنعتی شعبےکی مضبوطی؛ سائنسی تحقیق کافروغ؛نئی نسل کیلئےتکنیکی مہارتوں کے مواقع؛اورمستقبل کی معیشت کیلئےمضبوط بنیادہیں۔اگریہ سفرشفافیت اور ذمہ داری کے ساتھ جاری رہتاہےتوسعودی عرب ایک ایسی مثال بن سکتاہے کہ کس طرح قدرتی وسائل رکھنے والی ریاست علم اور ٹیکنالوجی پرمبنی معیشت کی طرف منتقل ہوسکتی ہے۔یہ تبدیلی صرف سعودی عرب تک محدودنہیں رہے گی بلکہ پورے خلیجی خطے کےمعاشی مستقبل پراثر اندازہو سکتی ہے۔

امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون دراصل ایک بڑے انسانی سوال کی علامت ہے۔کیاطاقت کاحصول انسان کوزیادہ محفوظ بناتاہے، یاطاقت کے ساتھ آنے والی ذمہ داری ہی حقیقی تحفظ فراہم کرتی ہے؟جوہری توانائی نے انسان کوکائنات کی ایک عظیم قوت تک رسائی دی۔ایٹم کی تقسیم نے بجلی کے نئے دروازے کھولے،طب کے میدان میں انقلاب برپاکیا ، صنعت کونئی رفتاردی اورترقی کے بے شمار امکانات پیداکیے لیکن اسی ایٹم نے انسان کویہ سبق بھی دیاکہ بعض قوتیں صرف حاصل کرناکافی نہیں ہوتیں،انہیں قابومیں رکھنابھی ضروری ہوتاہے کیونکہ ایٹم کی اصل طاقت اس کےاندر چھپی توانائی نہیں بلکہ اس انسان کی دانش مندی میں ہے جواس توانائی کواستعمال کرتاہے۔

تاریخ کےبڑے فیصلے اکثراپنے وقت میں مکمل طورپرواضح نہیں ہوتے۔بعض اوقات ایک معاہدہ بظاہرصرف ایک معاشی یاتکنیکی قدم دکھائی دیتاہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ عالمی سیاست کے بڑے موڑکی حیثیت اختیارکرلیتاہے۔امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون بھی ایساہی ایک مرحلہ ہے۔یہ صرف دوممالک کے درمیان ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کاامتحان ہے،کیا انسان اپنی حاصل کردہ طاقت کواپنی حکمت کے تابع رکھ سکتاہے؟

اگر یہ تعاون ترقی، شفافیت اورامن کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھتاہے تویہ ایک نئی صبح کاآغازبن سکتاہے۔لیکن اگر طاقت،خوف اورمقابلہ اس پر غالب آگئے تویہی روشنی اپنے ساتھ سائے بھی پیداکرسکتی ہے۔کیونکہ جوہری عہدہمیں یہی سبق دیتاہے کہ اگرترقی رفتارہے توذمہ داری اس کی سمت ہے۔اگرطاقت ایک چراغ ہے تودانش مندی اس کامحافظ ہے اوراگر جوہری توانائی مستقبل کا دروازہ ہے توانسانی شعوروہ چابی ہے جوطے کرے گی کہ یہ دروازہ روشنی کی طرف کھلے گایااندھیرے کی طرف۔

مشرقِ وسطیٰ آج ایک ایسے تاریخی موڑپرکھڑاہے جہاں ہرفیصلہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پراثراندازہوسکتاہے۔امریکا–سعودی عرب جوہری تعاون بھی اسی امتحان کاحصہ ہے۔یہ معاہدہ ایک نئی صبح،نئی ترقی اورنئی سائنسی پیش رفت کاآغازبن سکتاہے، بشرطیکہ طاقت کوحکمت کےساتھ استعمال کیاجائے کیونکہ تاریخ کاسب سے بڑاسبق یہی ہے،قومیں صرف اپنی طاقت سے عظیم نہیں بنتیں،بلکہ اپنی طاقت کوذمہ داری،دانش مندی اور انسانیت کے اصولوں کے مطابق استعمال کرنے کی صلاحیت سے عظیم بنتی ہیں اوریہی وہ فکری توازن ہے جوجوہری عہدمیں انسان کی بقا،امن اورمستقبل کی اصل ضمانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں