Behind the Narrative

پردہ وبیانیہ

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست محض واقعات کی قطارنہیں بلکہ معانی کاایک سمندرہے—ایساسمندرجس کی سطح پرلہریں دکھائی دیتی ہیں مگراس کی گہرائیوں میں تہذیب،طاقت،خوف اورمفادکے ایسے بہاؤجاری ہوتے ہیں جن تک رسائی ہرنگاہ کونصیب نہیں ہوتی۔خطہ کی سیاست ہمیشہ سے رازونیاز،مصلحت ومکر اورظاہروباطن کی ایک پیچیدہ داستان رہی ہے۔یہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتابلکہ اشارہ بن جاتا ہے،اورخاموشی کبھی کبھی بلندترین اعلان سے زیادہ معنی خیز ہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کواگرایک تمثیل میں سمویاجائے تویہ ایک ایسادبیز پردہ ہے جس کے پیچھے کردارمسلسل حرکت میں ہیں،مگرسامنے صرف سائے دکھائی دیتے ہیں۔

یہاں فیصلے بندکمروں میں ہوتے ہیں اوراعلانات کھلے میدانوں میں—اوراکثران دونوں کے درمیان فاصلہ اتناہوتاہے کہ حقیقت اورتاثر دوالگ دنیائیں بن جاتی ہیں۔حالیہ قضیہ—اسرائیلی وزیاعظم کے مبینہ خفیہ دورے اورمتحدہ عرب امارات کی فوری اوردوٹوک تردیدکا معاملہ بھی اسی دوئی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔یہ محض ایک خبریااس کی تردیدنہیں بلکہ طاقت،بیانیہ،علاقائی توازن اورنفسیاتی سفارت کاری کاایک پیچیدہ مرکب ہے—اسی داستان کاایک نیاباب ہے،جس میں سیاست کے پردے کے پیچھے کئی پرتیں جھلکتی ہیں۔ نیتن یاہوکاخفیہ دورہ اسی سمندرکی ایک پرشورموج ہے،جس کے نیچے کئی خاموش دھارائیں اپناراستہ بنارہی ہیں ۔

سیاسی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بعض اوقات واقعہ خوداہم نہیں ہوتابلکہ اس کااعلان زیادہ معنی رکھتاہے،یہاں بھی یہی ہوا۔سوال یہ نہیں کہ دورہ ہوایا نہیں—بلکہ یہ کہ اس کا اعلان اس وقت کیوں کیاگیا؟یہ وہ لمحہ تھاجب اسرائیل داخلی طورپردباؤکاشکارتھا،اورعلاقائی سطح پرخودکوتنہامحسوس کررہاتھا۔ایسے میں ایک خفیہ سفارتی کامیابی کااعلان ایک نفسیاتی حربہ بن جاتاہے—ایک ایساحربہ جوعوام کویہ باورکراتاہے کہ قیادت اب بھی حالات پرقابض ہے۔

دوگھنٹوں کے اندراندربیانیہ بدل جانااس بات کی دلیل ہے کہ جدیدسفارت کاری میں وقت بھی ایک ہتھیارہے۔امارات کی وزارت خارجہ نے جس سرعت سے ردعمل دیا،وہ دراصل ایک پیشگی دفاع تھا—ایک ایساحصارجس میں داخل ہوکرکوئی دوسرابیانیہ اثراندازنہ ہو سکے۔اسرائیلی دفترسے اعلان اورصرف دوگھنٹوں بعداماراتی تردید—یہ تیزی محض ردعمل نہیں بلکہ پیش بندی تھی۔یہ محض ایک خبرکی تردیدنہ تھی بلکہ خودمختاری کاایک سفارتی اعلان تھاکہ ابوظہبی اپنی خارجہ پالیسی کابیانیہ خودتحریرکرے گا۔گویاابوظہبی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا، ہماری زمین پرہونے والی ہرکہانی،ہماری اجازت سے لکھی جائے گی اورہماری سفارت کاری کی کتاب،کسی اورکے قلم سے نہیں لکھی جاسکتی۔

متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی گزشتہ دہائی میں ایک نئے سانچے میں ڈھلی ہے۔یہ پالیسی نہ تومکمل خاموشی پرمبنی ہے اورنہ ہی مکمل اعلانیہ صف بندی پر بلکہ یہ ایک درمیانی راہ ہے جسے محسوس مگرغیر مرئی سفارت کاری کہاجاسکتاہے۔اسی لیے جب اسرائیلی اعلان نے اس توازن کوتوڑنے کی کوشش کی توامارات نے فوراًردعمل دیا۔یہ ردعمل دراصل ایک اصول کادفاع تھاکہ تعلقات ہو سکتے ہیں،مگران کی تشہیرہماری شرائط پرہوگی۔

اسرائیل کے اعلان میں جہاں داخلی سیاست کی بواوراضطراب جھلکتاہے،وہیں سعودی عرب کیلئےایک نہائت اہم اشارہ بھی پوشیدہ ہے — ایک ایسااشارہ جو بظاہرنرم مگرمعنوی طورپر نہایت گہراہے یعنی سعودی عرب کیلئےایک اہم خاموش پیغام بھی پوشیدہ تھا،دیکھو! راستے کھل چکے ہیں،اب تم پرہے کہ قدم بڑھاؤ یاٹھہرجاؤ۔

جب ایک امارتی محقق اورنامورپروفیسر اس بیانیے کو تخیل کی تصویر قراردیتاہے تویہ محض رائے نہیں رہتی بلکہ ایک فکری مورچہ بن جاتی ہے۔اماراتی پروفیسر کی تردیددراصل ریاستی مؤقف کی علمی توثیق تھی۔یہاں علم،سیاست کادست وبازوبنتاہے اوربیانیے کوجواز فراہم کرتاہے انہوں نےاس بیانیے کوسیاسی تخیل قراردےکریہ واضح کیاکہ بعض اوقات سیاست دان حقیقت سےزیادہ افسانہ نگارہوتے ہیں۔

خلیجی ریاستیں خصوصاً امارات اورسعودی عرب،اپنی خارجہ پالیسی میں ایک خاص نفسیاتی توازن برقراررکھتی ہیں۔وہ بیک وقت تین سطحوں پرکھیل رہی ہوتی ہیں۔عوامی سطح پرعرب و اسلامی تشخص،عملی سطح پرمغربی واسرائیلی تعاون اورعلاقائی سطح پرایران کے ساتھ کشیدگی کاتوازن۔وہ تینوں دائروں کوبیک وقت سنبھالناایک نازک فن ہے۔اسی لیے کسی بھی خفیہ تعلق کا قبل ازوقت انکشاف اس پورے توازن کوبگاڑسکتاہے۔

زیو اگمون کی تصدیق ایک اورکہانی سناتی ہے جوایک دلچسپ تضاد کوجنم دیتی ہے۔ان کے بیان میں جوشان وشوکت اوشاہی استقبال کا ذکرہے،وہ دراصل اسرائیلی عوام کیلئےایک نفسیاتی تسکین اورذہنی مرہم ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ واقعہ ہوایانہیں—سوال یہ ہے کہ اسے کیوں سنایاگیا؟دراصل حقیقت میں یہ وہ ضرورت جوایک سیاسی رہنماکواپنے بیانیے کےاستحکام کیلئےدرکارہوتی ہے۔اسرائیل کیلئےسب سے بڑاخطرہ صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی تنہائی بھی ہے ۔اگرعرب دنیاکے ساتھ تعلقات کومعمول پرلانے کاتاثرقائم ہوجائے تویہ اس کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے اعلانات کے ذریعے یہ پیغام دیاجاتاہے کہ ہم تنہانہیں،بلکہ خطے کے اہم کھلاڑی ہمارے ساتھ ہیں—چاہے وہ کھل کرنہ بھی کہیں۔

اس پورے معاملے کوایران کے بغیرسمجھناممکن نہیں۔ایران نہ صرف ایک علاقائی طاقت ہےبلکہ ایک نظریاتی قوت بھی ہے،جس کے ساتھ خلیجی ریاستوں کاتعلق کشیدگی اورمجبوری کے درمیان جھولتارہتاہے۔امارات اگراسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کوزیادہ نمایاں کرے تویہ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کوجنم دے سکتاہے۔اسی لیے تردیدایک سفارتی ضرورت بن جاتی ہے۔یہاں ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات اس خاموش کشمکش کی علامت ہیں جوخلیج میں زیرِسطح بہہ رہی ہے۔گویا اس داستان کا وہ باب ہیں جو بظاہر الگ مگردرحقیقت مرکزی حیثیت رکھتاہے۔خلیج کی سیاست میں ایران ایک ایساکردار ہے جس کی موجودگی ہرفیصلے کے پس منظرمیں سایہ فگن رہتی ہے۔یہ خطہاب صرف جغرافیہ نہیں رہابلکہ ایک شطرنج کی بساط بن چکاہے جہاں ہرچال کئی سمتوں میں اثرڈالتی ہے۔

یروشلم کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان داخلی سیاست کاحربہ دباؤکاشاخسانہ تھا۔جب قیادت دباؤمیں ہوتووہ بیرونی کامیابیوں کے افسانے تراش کرداخلی کمزوریوں کوڈھانپنے کی کوشش کرتی ہے۔جب سیاسی زمین کھسکنے لگے تورہنمابیرونی کامیابیوں کی کہانیاں تراشتے ہیں تاکہ عوامی اعتمادکوسہارادیاجاسکے۔یہ پہلاموقع نہیں کہ خفیہ دوروں یاپس پردہ ملاقاتوں کی خبریں سامنے آئی ہوں۔خفیہ سفارت کاری کی تاریخ میں اس کی بے شمارمثالیں موجودہیں۔مصراور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈمعاہدے سے پہلے کی خفیہ ملاقاتیں ہوں یااوسلومعاہدے کی پس پردہ گفت وشنید،فرق صرف یہ ہے کہ آج کے دورمیں میڈیا کی رفتارنے رازوں کوزیادہ دیرتک رازرہنے نہیں دیا۔

انتخابات قریب ہوں توہرخبرایک ہتھیاربن جاتی ہے۔نیتن یاہوکیلئےیہ اعلان محض اطلاع نہ تھابلکہ ایک سیاسی مہم کاحصہ تھا۔ایک ایسا تاثر کہ وہ اب بھی عالمی سطح پرموثراورمتحرک ہیں۔یہ اعلان انتخابی موسم کی پیداوارمعلوم ہوتاہے۔نیتن یاہوکیلئےیہ ضروری تھاکہ وہ خودکوایک ایسے رہنماکے طورپرپیش کریں جوعرب دنیاکے دروازے کھول رہاہے۔

آج کامیڈیامحض اطلاع کاذریعہ نہیں بلکہ بیانیہ سازی کاایک طاقتورہتھیارہے۔اسرائیلی میڈیا،مغربی میڈیااورعلاقائی میڈیا—ہرایک اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق خبرکوپیش کرتاہے۔اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ ہم جوکچھ پڑھتے یاسنتے ہیں،وہ حقیقت ہے یاکسی خاص زاویے سے پیش کی گئی تصویر؟

آئرن ڈوم کاذکراس تعلق کی گہرائی کوظاہرکرتاہے جوسطح پرمکمل طورپرعیاں نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اورسلامتی ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔اگ واقعی امارات کے دفاع میں اسرائیلی نظام استعمال ہواتویہ تعلقات کی گہرائی کوظاہرکرتاہے،مگریہی وہ نکتہ ہے جسے ابوظہبی عوامی سطح پر اجاگر نہیں کرناچاہتا۔یادرہے کہ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ ساکھ سے بھی چلتی ہیں۔ امارات نے گزشتہ برسوں میں خودکوایک معتدل،خودمختاراورجدید ریاست کے طورپرپیش کیاہے۔اگروہ کسی جنگ میں خفیہ شریک کے طورپرسامنے آتاتواس کی یہ ساکھ متاثرہوسکتی تھی۔اسی لیے تردیددراصل اپنی عالمی شناخت کاتحفظ تھی۔

امارات جانتاہے کہ کھلے عام قربت ایران کے ساتھ تعلقات کوکشیدہ کرسکتی ہے۔اس لیے امارات کی پالیسی گویااس اصول پرقائم ہے کہ توازن قائم رکھتے ہوئےتعلقات رکھو،یہی وجہ ہے کہ امارات نے یہ پالیسی بنارکھی ہے کہ فائدہ حاصل کرو،مگرشورنہ مچاؤ۔ادھرنیتن یاہوکی سیاست میں ایک مستقل عنصریہ رہاہے کہ داخلی چیلنجزکاجواب خارجی کامیابیوں سے دیا جائے ۔جب اپوزیشن مضبوط ہو،یا عوامی اعتمادمتزلزل ہو،تو بیرونی دنیامیں کامیابیوں کاتاثرپیداکرنا ایک آزمودہ حربہ ہوتاہے۔

یہ اطلاعات گویاایک ایسادھندلاآئینہ ہیں جس میں ہرفریق اپنی مرضی کی تصویردیکھ رہاہے۔مغربی میڈیا کی رپورٹس ایک ایساآئینہ ہیں جس میں حقیقت کبھی صاف اورکبھی دھندلی نظرآتی ہے ۔مغربی میڈیاکی رپورٹس اس بیانیے کومزیدپیچیدہ بناتی ہیں۔ہر رپورٹ اپنے ساتھ ایک زاویہ لے کرآتی ہے،اورہرزاویہ حقیقت کے ایک نئے رخ کوظاہرکرتاہے۔اس ساری کہانی میں سعودی عرب کا کرداربظاہرخاموش ہے،مگردرحقیقت نہایت اہم ہے۔اسرائیل کیلئےاصل ہدف ہمیشہ ریاض رہاہے،کیونکہ اس کے ساتھ تعلقات پورے عرب واسلامی دنیامیں ایک بڑی تبدیلی کاباعث بن سکتے ہیں۔یہ اعلان شایداسی سمت ایک نفسیاتی دباؤڈالنے کی کوشش تھا۔

یہ تردیددراصل طاقت بطوردفاعی ہتھیارکااظہاراورایک ڈھال تھی،ایسی ڈھال جونہ صرف سیاسی ساکھ کومحفوظ رکھتی ہےبلکہ علاقائی توازن کوبھی برقرار رکھتی ہے۔امارات نے واضح کیاکہ وہ کسی اورکے بیانیے کاحصہ بننے کیلئےتیارنہیں۔اگرامارات کوایک خفیہ اتحادی کےطورپرپیش کیاجائے تواس کے کئی نتائج ہوسکتے ہیں۔داخلی سطح پرعوامی ردعمل،علاقائی سطح پراعتمادمیں کمی اوربین الاقوامی سطح پرکردارکی تبدیلی کااظہارمحسوس کیاجائے گا،اسی لیے اس تصورکوفوری طورپرردکرناضروری تھا۔

اگریہ دورہ تسلیم کرلیاجاتاتوامارات کاتشخص ایک پردہ نشین اورایک خفیہ اتحادی کےطورپرپیش ہوتا۔تردیدنے اس امکان کوختم کردیا اوراسے ایک خودمختار ریاست کے طورپربرقراررکھا۔آج کی سفارت کاری شدت پسندنہیں رہی بلکہ انتہائی لچکدارہوچکی ہے۔ریاستیں بیک وقت مخالف قوتوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہیں اوراپنے مفادات کے مطابق انہیں استعمال کرتی ہیں۔امارات نے درپردہ یہ تاثردینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اسی نئی سفارت کاری کی ایک مثال ہے لیکن وہ فی الحال ان تعلقات کوآہنی پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کررہاہے لیکن خوداسرائیل نے اس پردہ کوچاک کردیاہے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب حساس تعلقات کوسیاسی فائدے کیلئےاستعمال کیاگیاہو۔ان کی سیاست میں سفارتی انکشافات ایک آزمودہ ہتھیار رہے ہیں۔ان کی سیاست میں بیانیہ سازی ایک فن کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ سیاست میں سچ وہی ہوتاہے جومان لیاجائے۔اگر واقعی اماراتی قیادت کویہ محسوس ہوا کہ اسرائیل نے اس اعلان کے ذریعے ایک حد پار کی ہے تویہ اس بات کی علامت ہے کہ خفیہ تعلقات کی بھی کچھ حدودہوتی ہیں اوران حدودکااحترام ضروری ہے۔ اسرائیل میں داخلی بحران اورآئندہ انتخابات اورسیاسی عدم استحکام نے اس بیانیے کو جنم دیاہے۔جب گھرمیں چراغ مدھم ہوتوباہرکی روشنی دکھانا ضروری سمجھاجاتا ہے۔جب داخلی سطح پراختلافات بڑھ جائیں توبیرونی محاذکونمایاں کرناایک آزمودہ نسخہ ہوتاہے۔یہی حکمت عملی یہاں بھی کارفرمانظرآتی ہے۔اس طرح کے واقعات بعض اوقات اعتمادکومتاثرکرتے ہیں۔اگرایک فریق دوسرے کے خفیہ روابط کواپنے سیاسی مفادکیلئےاستعمال کرے تویہ مستقبل کے تعلقات کیلئے خطرہ بن سکتاہے۔

خلیج کاپوراخطہ اس وقت ایک نازک توازن پرقائم ہے۔یہاں ہرقدم سوچ سمجھ کر اٹھاناپڑتاہے،کیونکہ ایک غلط قدم پورے خطے کوعدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔نیتن یاہوکاامارات کاخفیہ دورہ کایہ اعلان دراصل ایک سفارتی سرگوشی تھا—ایساپیغام جوبراہِ راست نہیں مگرگہرے اثرات کاحامل ہے۔یہ اعلان ریاض کیلئےایک اشارہ تھاکہ اگرابوظہبی آگے بڑھ سکتا ہے ، توتم کیوں نہیں؟

ریاستیں چاہے جتنی بھی طاقتورہوں،وہ عوامی رائے کومکمل طورپرنظراندازنہیں کرسکتیں۔اسی لیے بعض فیصلے پس پردہ رکھے جاتے ہیں تاکہ عوامی ردعمل سے بچاجاسکے۔اس لئے یہ حکمت عملی نئی نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات میں بارہادہرائی گئی ہے۔مقصد ہمیشہ ایک ہی رہاہے،عرب دنیامیں اختلافات کوبڑھاکر اسرائیل اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرناچاہتاہے۔اسرائیل کی تقسیم کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ اختلاف پیداکرواوراثربڑھاؤ۔

ایک طرف نظریاتی سطح پر فلسطینی مسئلہ اورعرب یکجہتی کی بات ہوتی ہے،اوردوسری طرف عملی سطح پرمفادات کے تحت تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔یہ تضادجدیدمشرقِ وسطیٰ کی سیاست کاایک بنیادی پہلوہے۔اس ماحول میں انورقرقاش کابیان ایک فکری توازن کی عکاسی کرتاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ خطہ تصادم سے نہیں بلکہ تعاون سے آگے بڑھ سکتاہے۔ان کابیان گویاایک فکری چراغ ہے جو اس ہنگامہ خیزماحول میں توازن کی راہ دکھاتاہے۔انہوں نے واضح کیاکہ طاقت کے ساتھ ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔

جدیدسفارت کاری میں سچ اوربیانیہ دوالگ حقیقتیں ہیں۔کبھی یہ ملتی ہیں اورکبھی ایک دوسرے کے متوازی بہتی رہتی ہیں۔امارات کی تردیداوراسرائیل کا اعلان —دونوں اپنی اپنی جگہ ایک سچ ہیں،مگرمکمل حقیقت ان کے درمیان کہیں پوشیدہ ہے۔یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتاہے کہ آنے والے وقت میں سیاست میں حقیقت سے زیادہ بیانیہ اہم ہوگا۔جو ریاست اپنے بیانیے کوبہتراندازمیں پیش کرے گی،وہی عالمی سطح پرزیادہ مؤثرثابت ہوگی۔

یہ پوراواقعہ ہمیں اس حقیقت سے آشناکرتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسی داستان ہے جس میں ہرکرداراپنے اپنے سچ کے ساتھ موجودہے۔یہ پورا معاملہ ہمیں جہاں اس حقیقت سے بھی روشناس کراتاہے کہ آج کی دنیامیں سیاست صرف طاقت کاکھیل نہیں بلکہ تاثر،بیانیہ اورنفسیات کابھی میدان ہے وہاں یہ سارامعاملہ ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست محض واقعات کامجموعہ نہیں بلکہ مفادات،خوف،امیدوں اورحکمتوں کا ایک پیچیدہ جال ہے۔یہاں لفظ محض اظہارنہیں بلکہ طاقت ہے،اور خاموشی محض سکوت نہیں بلکہ ایک مکمل بیان ہے اوریہاں ہرلفظ ایک ہتھیاراورہرلفظ تول کربولاجاتاہے،ہرخاموشی ایک حکمت اور ایک اہم پیغام،اورہرتردیدایک نئی کہانی کی ابتدااورایک نئی تصدیق کا دروازہ کھولتی ہے۔

گویامشرقِ وسطیٰ ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات کبھی مکمل نہیں ہوتے—ہرواقعہ ایک نئی سطرلکھتاہے،اورہرسطراپنے اندر کئی معنی چھپائے ہوتی ہے۔ یہ خطہ ایک ایسی داستان ہے جس کاہرباب ادھوراہے،اورہرکرداراپنے اپنے سچ کے ساتھ اس کہانی کوآگے بڑھارہاہے۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے یہ خطہ ایک عظیم الشان داستان کااسٹیج اورسیاست کی ایک ایسی تہذیبی تمثیل ہے،جہاں پردے گرتے بھی ہیں اوراٹھتے بھی،مگرکہانی کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ہرواقعہ ایک نئے باب کی تمہیدبن جاتاہے،اورہرتردیدایک نئی حقیقت کو جنم دیتی ہے۔تاہم تردیدکے پردے میں بھی یواے ای خودکوچھپانے میں مکمل طورپر ناکام نظر آ رہاہے اوراس کی نئی داخلی اورخارجہ پالیسیاں مستقبل میں مزیدتنہائیوں کاخوفناک طوفان تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں