A Narrow Passage

جہاں ایک لہر دنیا بدل سکتی ہے

آبنائے ہرمز—تاریخ کے دریامیں ایک باریک مگرفیصلہ کن دھارا،تاریخی ارتقااورطاقت کی کشمکش اورتلاطمِ کاایک ایسانازک موڑہے ،جہاں جغرافیہ تقدیر بن جاتاہے۔انسانی تاریخ کے طویل سفرمیں بعض مقامات ایسے ابھرتے ہیں جواپنی جسامت میں چھوٹے مگراپنے اثرات میں وسیع ترکائنات کے ہم پلہ اوردنیا کے نقشے پرایسے ہوتے ہیں جومحض خطِ فاصل نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کوموڑدینے والی قوت رکھتےہیں۔بحرِ ہندکی وسعتوں اورخلیجِ فارس کی خاموش لہروں کے درمیان آبنائے ہرمز اسی قبیل کا ایک نادر نمونہ اورایک باریک مگرفیصلہ کن درزہے—ایک ایسامقام جہاں پانی کی ایک تنگ لکیر،زمانے کی وسعتوں کو اپنے اندرسمیٹ لیتی ہے۔

ایک تنگ ساآبی راستہ،مگرمعنویت میں ایک وسیع سمندر۔یہ وہ مقام ہے جہاں زمین کی ساخت،قدرت کے اسرار،اورانسانی حرص و اختیارکی داستانیں ایک دوسرے میں یوں مدغم ہو جاتی ہیں کہ حقیقت اورعلامت میں فرق مٹنے لگتاہے۔یہ محض پانی کاایک راستہ نہیں، بلکہ تہذیبوں کی سانس،معیشتوں کی نبض،اورعالمی سیاست کی وہ گردن ہے جہاں ہاتھ ڈالنے کا مطلب پوری دنیاکی دھڑکن کوگرفت میں لیناہے۔یہاں لہریں صرف ساحلوں سے نہیں ٹکراتیں بلکہ سلطنتوں کے ارادوں،معیشتوں کے توازن اورتہذیبوں کے تسلسل سے ہم آہنگ ہو کرایک ایسی موسیقی ترتیب دیتی ہیں جس کی گونج دوردرازبراعظموں تک سنائی دیتی ہے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جہاں کہیں وسائل کی رگیں گزرتی ہیں،وہاں طاقت کے پنجے بھی ضرورپہنچتے ہیں۔آبنائے ہرمزاسی اصول کی جیتی جاگتی مثال ہے—ایک ایسامقام جہاں جغرافیہ،معیشت،عسکری حکمتِ عملی اورعالمی سیاست ایک دوسرے میں یوں لفظ ومعنی کی طرح گندھ جاتے ہیں۔یہ ایک ایسا دروازہ ہے جس سے گزرے بغیرعالمی معیشت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔یہاں سے گزرنے والا ہرجہازمحض سامان نہیں لے جاتابلکہ دنیاکے مختلف حصوں کی امیدوں،ضرورتوں اورخوابوں کواپنے ساتھ بہالے جاتاہے۔

اگردنیاکوایک جسم تصورکیاجائےتوآبنائے ہرمزاس کی شہ رگ ہے—ایسی رگ جس میں توانائی کی روانی جاری رہےتوحیات کاتسلسل برقراررہتاہے،اوراگر اس میں رکاوٹ آجائے توپورانظام لرزاٹھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے،نگاہیں اسی مقام پرآکرٹھہرجاتی ہیں۔ اسی لیے جب یہاں اضطراب پیداہوتاہے تواس کی بازگشت عالمی نظام کےہرگوشے میں محسوس کی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے—

امریکا اورایران کے درمیان جاری کشمکش ایک سطحی تصادم نہیں بلکہ تہہ درتہہ تاریخ کانتیجہ ہے—امریکااورایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں؛یہ ایک طویل تاریخی بیانیہ ہے جس کی جڑیں انقلابِ ایران سے لے کرمشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست تک پھیلی ہوئی ہیں۔ایسی تاریخ جس میں انقلاب،نظریات،طاقت اورخوف ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔مگرحالیہ حالات میں اس کشیدگی نے ایک نئی جہت اختیارکرلی ہے—ایک ایسی جہت جس میں زمین نہیں بلکہ سمندرمیدانِ کارزاربن چکاہے۔

امریکااورایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عملی جنگ کی شکل اختیارکرلی ہے۔امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک ایران کی بحری صلاحیت صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک ایساہتھیارہے جوعالمی تجارت کویرغمال بناسکتاہے۔اس کشیدگی کاحالیہ مرحلہ اس وقت اوربھی معنی خیزہوجاتاہے جب اس کامرکززمین سے ہٹ کر سمندرکی وسعتوں میں منتقل ہوجاتاہے۔اسی لیے واشنگٹن نے اپنی توجہ براہِ راست ایران کے ساحلی علاقوں پرمرکوزکردی ہے—وہ علاقے جہاں سے نہ صرف جہازگزرتے ہیں بلکہ طاقت کے توازن کاتعین بھی ہوتاہے۔

حالیہ دنوں میں امریکی کارروائیوں کامحورایران کے ساحلی علاقے بن چکے ہیں—وہ علاقے جونہ صرف جغرافیائی لحاظ سے حساس ہیں بلکہ عالمی تجارت کے دروازے بھی انہی سے کھلتے ہیں۔یہاں اب توپوں کی گھن گرج کے بجائے جہازوں کی نقل وحرکت،ڈرونز کی پروازیں،اورساحلی تنصیبات کی خاموشی بولتی ہے۔امریکا کیلئےیہ مسئلہ عالمی نظام کی حفاظت کاہے،جبکہ ایران کیلئےیہ اپنی خودمختاری اورعلاقائی شناخت کاسوال بن چکاہے۔یوں دونوں ریاستیں ایک ایسے مقام پرآکھڑی ہوئی ہیں جہاں ہرقدم نہ صرف موجودہ حالات بلکہ آنے والے وقت کی سمت کاتعین بھی کرتاہے۔واشنگٹن کی حکمتِ عملی بظاہریہ ہے کہ ایران کی بحری طاقت اوراس کی تجارتی جہازرانی پراثراندازہونے کی صلاحیت کومحدود کیاجائے،تاکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی روانی بلاتعطل جاری رہے۔

حالیہ عسکری کارروائیاں محض طاقت کےاظہارکا ذریعہ نہیں بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔جب ساحلی علاقوں کونشانہ بنایا جاتا ہے تودراصل اس نظام کومتاثرکیاجاتاہےجو سمندر اورزمین کے درمیان ایک پُل کاکام کرتاہے۔امریکی سینٹرل کمانڈکی جانب سے 13جولائی کوطاقت کاخاموش مگرگونجتا ہوااعلان اورمکمل کی جانے والی کارروائی محض ایک عسکری آپریشن نہیں تھی بلکہ ایک محدودمگرایک علامتی پیغام بھی تھی۔ایک ایساپیغام جس میں بارودکی گھن گرج سے زیادہ سیاسی معنویت پوشیدہ تھی۔

یہ حملے گویاایک خاموش اعلان ہیں کہ جنگ اب روایتی میدانوں تک محدودنہیں رہی بلکہ اس نےاپنے دائرے کووسعت دے کراُن مقامات کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے جہاں سے زندگی کی روانی برقراررہتی ہے۔ان کارروائیوں کے ذریعے یہ پیغام دیاگیاکہ سمندر کی سطح پرموجودہرحرکت اب عالمی نگرانی میں ہے۔پانچ گھنٹوں پرمحیط اس کارروائی میں جن مقامات کونشانہ بنایاگیا،وہ محض جغرافیائی نقاط نہیں بلکہ ایران کی بحری خودمختاری کے ستون تھے۔بوشہرسے بندر عباس تک،چابہارسے جاسک تک،ایرانی ساحلوں پر حملوں کی ایک ایسی لہردوڑی جس نے نہ صرف عسکری تنصیبات کونشانہ بنایابلکہ ایک واضح پیغام بھی دیا: سمندراب خاموش نہیں رہا ۔ان حملوں میں میزائل سسٹمز،ڈرون تنصیبات اورساحلی دفاعی ڈھانچے کونشانہ بنایا گیا—یعنی وہ تمام عناصرجوایران کوسمندرمیں اپنی موجودگی مؤثربنانے کی قوت دیتے ہیں۔بوشہرکی بندرگاہ،جہاں سے توانائی کی داستانیں جنم لیتی ہیں؛چابہار،جوایران کابحیرۂ عمان سے رابطہ ہے؛اوربندر عباس،جواس کابحری دل ہے—ان سب کونشانہ بناکرامریکانے گویایہ واضح کردیاکہ اس کی نظرصرف موجودہ صورتحال پرنہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ توازنِ طاقت پربھی ہے۔

جب محافظت کومعاشی قدرسے جوڑاجاتاہے توطاقت اورمعاشیات کے امتزاج کاایک نیانظریہ جنم لیتاہے—ایسانظریہ جس میں سلامتی کوایک خدمت بناکر اس کی قیمت طے کی جاتی ہے ۔امریکی صدرکابیان اسی تصورکاعکاس ہے،جہاں طاقت کوایک ایسے نظام میں ڈھالا جارہاہے جس میں ہرگزرنے والے جہازکو ایک قیمت اداکرنی ہوگی۔یہ تصوربظاہرنظم وضبط کاضامن معلوم ہوتاہے،مگراس کے اندر ایک ایسی طاقت کی جھلک بھی ہے جوعالمی گزرگاہوں کواپنے زیرِ اثرلاناچاہتی ہے۔یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتاہے کہ کیایہ واقعی حفاظت ہے یاپھر ایک نئے معاشی تسلط کی ابتدا؟

جب امریکی صدرنے آبنائے ہرمزکیلئےخودکو”محافظ” قراردیاتویہ لفظ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک نظریہ تھا—ایک ایسانظریہ جس میں عالمی گزرگاہوں کوطاقت کے ذریعے منظم کرنے کا تصورشامل ہے۔جب امریکی صدرنے آبنائے ہرمزکیلئےخودکو”محافظ” قرار دیاتو یہ لفظ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ یہ ایک محافظت کےنام پرتسلط کانظریہ تھا—ایک ایسانظریہ جس میں عالمی گزرگاہوں کو طاقت کے ذریعے منظم کرنے کاتصورشامل ہے۔

امریکی صدرکایہ اعلان کہ آبنائے ہرمزسے گزرنے والے جہازوں پر20فیصدفیس عائدکی جائے گی،عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتاہے۔ کیا امریکاواقعی محافظ ہے،یایہ محافظت ایک نئے معاشی نظام کی بنیادہے؟یہ اعلان بظاہرسلامتی کے نام پرہے،مگراس میں طاقت کی وہ جھلک بھی نمایاں ہے جو عالمی گزرگاہوں کونجی نگرانی میں لینے کاخواب دیکھتی ہے اورسلامتی کوایک خدمت بتا کراس کی بھاری قیمت بطورجبری بھتہ وصول کرنے کی سازش ہے۔20 فیصدفیس کااعلان دراصل ایک نئے عالمی معاشی ماڈل کی جھلک پیش کرتاہے،سوال یہ ہے کہ کیایہ عالمی نظم کی نئی صورت ہے،یا طاقت کے پرانے کھیل کانیا نام؟

ایرانی وزیرخارجہ کاخودمختاری کابیانیہ اورتاریخی شعورسے نہایت بھرپورمعنی خیزردعمل محض ایک سفارتی،سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان تھا۔ انہوں نے نہ صرف امریکی مؤقف کوجزوی طورپرتسلیم کیابلکہ اس بات پرزوردیاکہ اصل محافظ ایران خودہے۔وہ خودکواس خطے کامحافظ اس لیے سمجھتاہے کہ اس کی تاریخ،اس کی جغرافیائی موجودگی اوراس کی ثقافتی شناخت اس آبنائےکےساتھ جڑی ہوئی ہے—ایران خودکو اس خطے کافطری نگہبان سمجھتاہے، جس کی جڑیں صدیوں پرمحیط سمندری روایت اورتاریخ میں پیوست ہیں۔

یہ دعویٰ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ ایران خودکوصرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک تہذیبی اکائی سمجھتاہے،جس کاحق ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی دائرے میں ہونے والی ہرسرگرمی پر نظررکھے۔یہ مؤقف دراصل تاریخ،خودمختاری،وقارکے امتزاج کےایک ایسے شعورکی نمائندگی کرتاہے جس میں ریاست اپنی سرزمین کوصرف حدودکے طورپرنہیں بلکہ ایک امانت کے طورپردیکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے کردارکومحض ایک شریک کے بجائے ایک نگران کے طورپرپیش کرتاہے۔

مفاہمتی یادداشتیں اکثرامیدکی کرن بن کرسامنے آتی ہیں،مگرجب ان کے پیچھے موجودنظریات میں ہم آہنگی نہ ہوتویہ کرن جلدہی مدھم پڑجاتی ہے۔ 17 جون کوطےپانے والی مفاہمتی یادداشت بظاہرامن کی ایک کرن اورایک ایسے چراغ کی مانندتھی جواندھیرے میں جلایا گیاہو،مگراس کی روشنی کمزوراور غیر مستحکم تھی،جس کے اندرامیدکی کرن کے ساتھ فریبِ نظرجیسے اختلافات کی چنگاریاں پوشیدہ تھیں۔ یہ معاہدہ دراصل دومختلف نظریات کاتصادم تھا—ایک طرف عالمی آزادیٔ تجارت،اوردوسری طرف علاقائی خودمختاری۔

اس میں شامل شقیں اگرچہ تعاون کی بات کرتی تھیں،مگران کے درمیان اختلاف کی خلیج بھی نمایاں تھی۔یہی حال اس معاہدے کابھی ہوا، جہاں الفاظ میں ہم آہنگی تھی مگرنیتوں میں اختلاف۔امریکاکھلی گزرگاہ کاخواہاں تھا،جبکہ ایران کنٹرول اورفیس کے حق پراصرارکرتا رہا۔یوں الفاظ اورحقیقت کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسےپل کی مانندثابت ہواجو دونوں کناروں کو جوڑنے کے بجائے بیچ میں معلق رہ گیا۔ یہ معاہدہ گویاایک ایسی کشتی ثابت ہواجوبظاہرمستحکم دکھائی دیتی تھی مگراس کے اندرونی تختے کمزورتھے،اورجیسے ہی حالات کا دباؤبڑھا،اس کی کمزوری نمایاں ہوگئی۔

اختیاراورذمہ داری کاتعلق ہمیشہ سے فلسفیانہ بحث کاموضوع رہاہے۔جب کسی کوذمہ داری دی جاتی ہے تووہ اس کےساتھ اختیاربھی چاہتاہے،اوریہی وہ مقام ہے جہاں اختلاف جنم لیتاہے۔ایران نے اختیارکی فلسفیانہ جہت کے مدنظرمعاہدے کی شق نمبرپانچ کواپنےمؤقف کی بنیاداوراپنی دلیل کامحوربناتے ہوئے جس کے تحت اسے انتظامی کردارحاصل تھا،دراصل اس اصول کواجاگرکیاکہ بغیراختیارکے ذمہ داری محض ایک بوجھ بن جاتی ہے،اوریہی بوجھ تنازع کوجنم دیتاہے۔

ایران کامؤقف یہ تھاکہ اگرذمہ داری اس کی ہے تواختیاربھی اسی کاہوناچاہیےاوراس میں کوئی حیرت نہیں۔جب کسی ریاست کوذمہ داری دی جائے تووہ اختیاربھی چاہتی ہے،اوریہی وہ مقام ہے جہاں تنازع جنم لیتاہے۔یہ شق دراصل ایک آئینی سوال بن گئی—کیاذمہ داری اختیارکے بغیرمکمل ہوسکتی ہے؟یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی قانون اورعلاقائی طاقت کاتصادم واضح ہوجاتاہے۔

25اور27جون کے حملے محض حادثات نہیں تھے بلکہ اس کشیدگی کانقطۂ عروج تھے جو کئی ہفتوں سے پنپ رہی تھی ۔جون کے آخری ہفتے میں عمانی پانیوں میں جہازوں پرحملے اس کشیدگی کےارتقاکی واضح مثال اورموجودہ جنگ کےایک نئے مرحلے کانقطۂ عروج بن گئے۔یہ واقعات اچانک نہیں ہوئےبلکہ ایک تدریجی عمل کانتیجہ تھے،جس میں ہرقدم پچھلےقدم کامنطقی تسلسل تھا ۔امریکانے انہیں خلاف ورزی قراردیا،جبکہ ایران نے جوابی کارروائیوں کا دفاع کیا۔یوں الزام اورجواب کاایک ایساسلسلہ شروع ہواجس میں حقیقت دھندلا گئی اورطاقت کا اظہارنمایاں ہوگیا۔ان واقعات نے نہ صرف معاہدے کی کمزوری کوظاہرکیابلکہ یہ بھی ثابت کیاکہ زمینی حقیقتیں کاغذی معاہدوں سے زیادہ طاقتورہوتی ہیں۔یہ سلسلہ ہمیں یہ سکھاتاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی واقعہ تنہانہیں ہوتابلکہ ہر واقعہ ایک بڑی کہانی کاحصہ ہوتاہے۔

دنیاکی معیشت ایک پیچیدہ جال ہے،اورآبنائے ہرمزاس جال کامرکزی گرہ ہے۔اگرعالمی معیشت کوایک زندہ وجودسمجھاجائے توآبنائے ہرمزاس کی وہ رگ ہے جس میں توانائی کی روانی جاری رہتی ہے۔یہاں سے گزرنے والاہرقطرہ تیل، گیس کی ہرلہر،محض ایندھن نہیں بلکہ عالمی ترقی کی بنیادہے اوردنیاکے مختلف حصوں میں زندگی کی رفتارکوبرقراررکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں معمولی خلل بھی عالمی سطح پرشدید اثرات مرتب کرتاہے۔

دنیاکے تیل کاپانچواں حصہ اس تنگ راستے سے گزرتاہے—یہ محض اعدادنہیں،بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔اس کاتنگ ہوناہی اس کی اہمیت کاسبب ہے،کیونکہ جہاں راستہ محدودہو،وہاں کنٹرول کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں میں ایسازلزلہ برپاکر دیتا ہے جوعالمی جغرافیہ،معیشت،خطرات اورعالمی تقدیرکو کھنڈرات میں تبدیل کرسکتاہے۔

یہ آبنائے ہرمزایران،عمان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے—ایک ایسامقام جہاں زمین اورسمندرایک دوسرے کے قریب آکر عالمی تجارت کوراستہ دیتے ہیں۔یہ آبنائے ہرمزاپنی تنگی میں ایک عجیب وسعت رکھتی ہے اوریہی تنگی ہی اس کی پوشیدہ طاقت ہے، اس کی گہرائی،اس کے مخصوص راستے اسےایک ایساچُوک پوائنٹ بنادیتے ہیں جہاں ایک چھوٹی سی رکاوٹ بھی عالمی بحران میں بدل سکتی ہے۔یہاں ہرجہازایک مخصوص راستےسےگزرتاہے، اور یہی محدودیت اسےایک ایسامقام بناتی ہے جہاں کنٹرول کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

اس کے اطراف کےممالک اسےایک ایسامقام بناتےہیں جہاں جغرافیہ خودسیاست بن جاتاہے۔یہ جغرافیہ گویاایک ایساخاموش کردارہےجو عالمی سیاست کےہرمنظرمیں اپنااثردکھاتا ہے ۔یہ ایک ایسی سمندری راہ گزرہےجہاں سےگزرنےوالاہرجہازعالمی سیاست کاحصہ بن جاتا ہے۔یہاں سےگزرنےوالی توانائی دراصل دنیاکی معیشت کی نبض ہے۔اس کی روانی میں تسلسل کامطلب استحکام ہے،اوراس میں رکاوٹ کا مطلب بحران۔ یہی وہ حقیقت ہےجواس آبنائےکوعالمی اہمیت کاحامل بناتی ہے،روزانہ کروڑوں بیرل تیل اوراربوں مکعب فٹ گیس کا گزراس بات کاثبوت ہے کہ آبنائے ہرمزمحض ایک راستہ نہیں بلکہ توانائی کاعالمی مرکزہے۔یہاں بہنے والی توانائی دراصل دنیاکی معیشت کوحرکت دیتی ہےایشیا،خصوصاًچین،اس پرسب سے زیادہ انحصارکرتاہے—گویایہ راستہ مشرقی معیشتوں کی زندگی کاضامن ہے۔

صرف تیل ہی نہیں،بلکہ دیگرضروری اشیاء،کھاد،خوراک،ادویات اورصنعتی سامان بھی اسی راستےسےگزرتاہے۔یوں یہ آبنائے انسانی زندگی کےہرپہلوسے جڑی ہوئی ہے۔خوراک، ادویات، اورصنعتی سامان سب اسی سے وابستہ ہیں۔یوں یہ آبنائے ہرمززندگی کےہرپہلو سے جڑی ہوئی ہے اوراس کی بندش صرف معیشت نہیں بلکہ انسانی بقاکوبھی متاثرکرسکتی ہے ۔جب کشیدگی بڑھتی ہے توخطرات بھی بڑھتے ہیں۔یہ خطرات صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اورنفسیاتی بھی ہوتے ہیں۔یہاں ہرجہاز ایک غیریقینی صورتحال کاسامناکرتاہے،اوریہی غیریقینی عالمی نظام کومتاثرکرتی ہے۔ڈرون،میزائل،بارودی سرنگیں اورجنگی کشتیاں — یہ سب اس راستے کوایک ممکنہ خطرناک جنگی میدان میں بدل دیتے ہیں۔یہاں جنگ کامطلب صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ عالمی نظام کاعدم استحکام ہے۔ایک حملہ نہ صرف ایک جہازبلکہ پوری عالمی معیشت کومتاثرکرسکتاہے۔

جب خطرہ بڑھتاہے توجہاں اعتمادکم ہوتاہے وہاں جہازرانی کی انشورنس مہنگی ہونےسےسفرکی لاگت بڑھ جاتی ہے،اورتجارت سست پڑجاتی ہے۔انشورنس کمپنیوں کاعدم اعتماددراصل عالمی معیشت کیلئےایک خاموش خطرہ ہے۔انشورنس کے نرخوں میں اضافہ دراصل اس خوف کی عکاسی کرتاہے جوسمندرکی گہرائیوں میں نہیں بلکہ انسانی ذہنوں میں پیداہوتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کااثرمیدانِ جنگ سے نکل کربازارتک پہنچ جاتاہے۔

ایشیامیں ایندھن کی قلت،یورپ میں راشننگ،افریقہ میں بجلی کی پابندیاں—یہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ آبنائے ہرمزکابحران مقامی نہیں بلکہ عالمی ہے ۔ یہ بحران کسی ایک خطے تک محدودنہیں رہتابلکہ پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔ہرملک،ہرمعیشت اس کے اثرات محسوس کرتی ہے،چاہے وہ براہِ راست اس سے وابستہ ہویانہیں۔یہ ایک ایسامسئلہ ہے جوسرحدوں سے ماوراہے۔

پائپ لائنزاورمتبادل بندرگاہیں اورراستے موجودہیں،مگران کی صلاحیت محدودہے۔وہ مکمل حل نہیں۔وہ صرف ایک عارضی سہارافراہم کرتے ہیں،اصل انحصاراب بھی اسی آبنائے ہرمزپرہے۔وہ اس خلاکومکمل طورپرنہیں کرسکتیں جوآبنائے ہرمزکی بندش پیداکرسکتی ہے۔ یہ راستہ اب بھی ناگزیرہے۔آبنائے ہرمزصرف پانی کی پٹی نہیں ہے بلکہ انسانیت کی اجتماعی تقدیر کااستعارہ ہے۔یہاں، طاقت اورضرورت،سیاست اورمعاشیات، خوف اورامید-سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں ایک چھوٹاسافیصلہ عالمی سطح پرزلزلہ بن سکتاہے۔اگریہاں امن قائم رہتاہے تودنیاکی معیشت سانس لیتی ہے،اوراگریہاں کشیدگی بڑھتی ہے تواس کی گونج ہربراعظم میں سنائی دیتی ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ آبنائے ہرمزدراصل دنیاکاآئینہ ہے—جہاں ہم اپنی طاقت،اپنی کمزوری،اوراپنے مستقبل کوایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمزدراصل ایک سوال اورامتحان ہے—ایک ایساسوال جودنیاسے پوچھتاہے کہ کیا طاقت اورتعاون ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟اور امتحان اس لئے ہےکہ یہ ایساامتحان جس میں دنیا کویہ ثابت کرناہے کہ کیاوہ طاقت کوتوازن میں بدل سکتی ہے یانہیں۔کیاعالمی مفادات اور علاقائی خودمختاری میں توازن ممکن ہے؟اس وقت آبنائے ہرمز—انسان اورطاقت کے درمیان ایک آزمائش بن چکی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ہرفیصلہ ایک نئی تاریخ رقم کرتاہے،اورہرغلطی ایک نیابحران جنم دیتی ہے۔

اگردنیانےاس مقام کی نزاکت کوسمجھ لیاتویہ راستہ امن کاذریعہ بن سکتاہے،اوراگرنہیں—تویہی آبنائے ہرمزآنے والے طوفانوں کی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔اگرانسان نے اس مقام کی نزاکت کوسمجھ لیاتویہ راستہ امن،تعاون اورترقی کی علامت بن سکتاہے؛اوراگرنہیں—تویہی آبنائے ہرمزآنے والے طوفانوں کی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔یادرکھیں!یہی آبنائے ہرمزآنے والے زمانوں میں ایک ایسی داستان بن جائے گی جسےتاریخ حسرت اورافسوس کے ساتھ بیان کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں