جنوبی ایشیاایک ایساخطہ ہے جہاں تاریخ،سیاست اورتہذیب ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ کسی ایک عنصرکونظرانداز کرنا ممکن نہیں۔تاریخ کے اوراق جب کبھی پلٹے جاتے ہیں توان میں جنگ وجدل،کشاکش اوراقتدارکی رسہ کشی کے ایسے نقوش نمایاں ہوتے ہیں جوحال کے آئینے میں بھی خوفزددہ کردیتے ہیں۔آج ایک مرتبہ پھراس خطے کی فضااسی اضطراب ،اندیشوں اورغیریقینی کے بادلوں سے ڈھکی آشناہورہی ہے جسے تاریخ بارہااپنے خونچکاں اوراق میں ثبت کرچکی ہے۔حالیہ بیانات،جن میں ایک ریاست کے وجودکو چیلنج کیاگیا، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیانیاتی جنگ اب عسکری حکمت عملی کااہم حصہ بن چکی ہے۔
حالیہ بیان،جس میں پاکستان کے وجودکومٹانے کی بات کی گئی،دراصل محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنی ساخت کاآئینہ دارہے جوطاقت کوحق پر فوقیت دیتی ہے۔انڈین فوج کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کوجغرافیے سے مٹانے کی دھمکی نے اس خطے کے امن کوایک بارپھرسوالیہ نشان بنادیاہے۔ گویا الفاظ کے تیر،کمان سے نکل چکے ہیں،اوراب فضا میں معلق یہ سوال گردش کررہاہے کہ کیایہ محض خطیبانہ جوش ہے یاآنے والے کسی طوفان کاپیش خیمہ؟ پاکستان کی مسلح افواج کاردعمل نہ صرف عسکری توازن کااظہار اوربصیرت کاآئینہ دارہے بلکہ اس میں وہ فکری بلوغت اورسنجیدگی بھی جھلکتی ہے جو ایک ذمہ دارجوہری ریاست کی پہچان اورشیوہ ہوناچاہیے۔تاریخ صرف واقعات کامجموعہ نہیں بلکہ اقوام کے شعو کاآئینہ ہوتی ہے۔اسی تناظرمیں یہ بحث محض الفاظ کی جنگ نہیں بلکہ شعوراوراقتدار کے درمیان کشمکش ہے۔
یہ مقالہ جنوبی ایشیامیں حالیہ عسکری وسیاسی بیانات کے تناظرمیں پاکستان اورانڈیا کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کاتجزیہ پیش کرتا ہے۔تحقیق کامقصد بیانیاتی تصادم،جوہری ڈیٹرنس،اورعلاقائی استحکام کے مابین تعلق کوواضح کرناہے۔اس مطالعے میں سرکاری بیانات، تاریخی پس منظر،اورمعاصرسفارتی رویوں کو مدنظررکھتے ہوئے یہ استدلال پیش کیاگیاہے کہ خطے میں پائیدارامن صرف توازنِ قوت اورفکری اعتدال کے ذریعے ممکن ہے۔
سیناسمواد2026جیسے فورمزبظاہرمکالمے اورفکری تبادلے کیلئےتشکیل دیے جاتے ہیں،مگرجب ان میں پیش کیے جانے والے خیالات میں اعتدال کی جگہ شدت لے لے تویہ مکالمہ اپنی اصل روح کھودیتاہے۔سینا سموادتقریب میں جب انڈین آرمی چیف سے سوال کیاگیاکہ ممکنہ تصادم کی صورت میں پاکستان کوکیساجواب دیاجائے گا،توان کے لبوں سے اداہونے والے الفاظ محض ایک جواب نہ تھے بلکہ ایک ذہنی کیفیت کی ترجمانی تھے۔انہوں نے پاکستان کے وجود کوتاریخ اورجغرافیہ کےتناظرمیں مشروط قراردیا—یہ بیان جہاں ریاستی خودمختاری کے اصولوں کے برخلاف ایک جارحانہ بیانیے کی عکاسی کرتاہے وہاں دراصل یہ ایک ایسی سوچ کی غمازی ہے جوریاستوں کے مابین برابری کے اصول کوتسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔گویاایک ریاست کے وجودکوکسی دوسرے کی خواہش کے تابع سمجھناتاریخ کی اُس تلخ حقیقت کی بازگشت ہے جہاں طاقت کوحق پرترجیح دی جاتی رہی ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے نظریہ حقیقت پسندی کے مطابق،ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےطاقت کااستعمال کرتی ہیں۔تاہم،جوہری دورمیں یہ حکمت عملی خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جوقومیں دوسروں کے وجودکو چیلنج کرتی ہیں،وہ خودبھی عدم استحکام کاشکارہو جاتی ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کاردِعمل نہایت واضح،نہایت متین،مدلل اورتاریخی شعورسے مزین مگرمعنی خیزتھا۔یہ کہناکہ کسی جوہری ریاست کوصفحۂ ہستی سے مٹانے کی بات دراصل علمی دیوالیہ پن،فکری افلاس اورجنگی جنون کی علامت ہے،ایک ایساجملہ ہے جو اپنے اندرکئی صدیاں سمیٹے ہوئے ہے۔یہ ایک ایسانکتہ ہے جونہ صرف سفارتی زبان کی شائستگی کوبرقرار رکھتا ہے بلکہ عالمی اصولوں کی پاسداری بھی کرتاہے۔پاکستان کی حیثیت محض ایک جغرافیائی اکائی کی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست کی ہے جس کی بنیادایک مخصوص فکری اورتہذیبی شناخت پررکھی گئی ہے۔
پاکستان کاردعمل جوہری ڈیٹرنس کے اصول پرمبنی ہے،جس کے مطابق جوہری طاقتیں جنگ نہیں چھیڑتیں،کیونکہ اس کاانجام دونوں کیلئےتباہ کن ہوتاہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے پاکستانی مؤقف میں واضح طورپردیکھاجاسکتاہے کہ کسی بھی قسم کاتصادم دوطرفہ نقصان کاباعث بنے گا۔پاکستان نہ صرف عالمی سطح پر اپنی شناخت مستحکم کرچکاہے بلکہ وہ جنوبی ایشیاکے جغرافیے کا ایک ناقابلِ انکارجزو بن چکاہے۔تاریخ کے دھارے میں بہنے والے یہ حقائق کسی خطیبانہ بیان سے تبدیل نہیں ہوسکتے۔
یہ امربھی قابلِ غورہے کہ برصغیر کی تقسیم کوآٹھ دہائیاں گزرچکی ہیں،مگربعض ذہن اب بھی ماضی کی نفسیات سے باہرنہیں نکل سکے اوراس حقیقت کوتسلیم کرنے سے قاصراورگریزاں ہیں ۔یہی وہ فکری جموداورسیاسی انجمادہے جوبارباراس خطے کوکشیدگی اور بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیتاہے اورموجودہ نفرت اورکشیدگی کاسب سے بڑاسبب ہے۔دہلی کی پالیسیوں میں جھلکتی جارحیت دراصل ایک ایسی نفسیاتی کیفیت اورمایوسی کااظہارہے جس میں ماضی کی شکست خوردہ خواہشات حال کے فیصلوں پراثراندازہوتی ہیں۔اور یہی مایوسی کااظہاراپنے مقاصدکے حصول میں ناکامی کے بعدمزید شدت اختیارکرلیتاہے۔جب قومیں اپنے ماضی کے خول میں قیدہو جائیں توان کاحال بھی اسیرہوجاتاہے اورمستقبل تباہی کے راستے پرگامزن ہوجاتاہے۔
پہلگام کاواقعہ ایک انسانی المیہ تھاجس نے پورے خطے کوسوگوارکردیا۔یہ سانحہ،جس میں بے گناہ سیاحوں کی جانیں ضائع ہوئیں،یقیناً ایک افسوسناک واقعہ تھا۔اس کے بعدکیے گئےاقدامات نے اسے ایک بیانیاتی ہتھیارمیں تبدیل کردیاہے۔ایسے واقعات کوبنیادبناکریکطرفہ کارروائیوں کاجوازپیش کرنااوراس واقعے کوبنیادبناکرپاکستان کے اندرمبینہ کارروائیوں کادعویٰ کرنااوراسے آپریشن سندورکانام دینا، جونہ صرف بین الاقوامی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے بلکہ ایک ایسی حکمت عملی کی نشاندہی کرتاہے جس میں حقائق اور بیانیے کے درمیان ایک باریک مگرخطرناک لکیرکھینچ دی جاتی ہے۔ذمہ دارریاستیں تحقیق اورشواہدکی بنیادپراپنے بیانیے کوڈھالتی ہیں۔آپریشن سندورکے نام سے کی جانے والی کارروائیوں کابیانیہ دراصل ایک ایسی حکمت عملی کاحصہ معلوم ہوتاہے جس میں جذبات کوحقائق پرغالب کردیاجاتاہے۔
اس کے بعدچارروزہ تصادم نے دونوں ممالک کے تعلقات کوایک نازک موڑپرلاکھڑاکیا۔اس تصادم نے اس حقیقت کوایک بارپھرآشکار کیاکہ جدیدجنگیں محض ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اطلاعات،بیانیے اورنفسیاتی دباؤکے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔چارروزہ فضائی جھڑپیں اورمیزائل حملوں کے دعوے ایک ایسے ماحول کوجنم دیتے ہیں جہاں عوامی رائے کومخصوص سمت میں موڑناآسان ہوجاتاہے۔فضاؤں میں گونجتے طیارے،سرحدوں پرگرتے میزائل،اورمیڈیاکے ذریعے پھیلتی خبریں—یہ سب مل کرایک ایسامنظرنامہ تشکیل دیتے ہیں جہاں حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق مٹنے لگتاہے۔گزشتہ برس مئی کاتصادم اس امر کی مثال ہے کہ جدیدجنگیں محدودمگرشدید نوعیت کی ہوتی ہیں۔جنگ سیاست کاتسلسل ہے،مگردوسرے ذرائع کے ذریعے۔یہ تصادم اسی اصول کی عملی تصویر پیش کرتاہے۔
دونوں ممالک کے کامیابی کے دعوے دراصل اس نفسیاتی جنگ اورجدید جنگی حکمت عملی کاحصہ ہیں جسے اطلاعاتی جنگ کہاجاتا ہے جوجدیدجنگوں میں کلیدی کرداراداکرتے ہیں اور عسکری محاذسے زیادہ اہمیت اختیارکرچکے ہیں۔پاکستان کایہ دعویٰ کہ اس نے جدید طیاروں کونشانہ بنایا،اورانڈیاکایہ کہناکہ اس نے اہم تنصیبات کونقصان پہنچایا—مگرحقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں اعتمادکی فضاکو مزیدکمزورکرتے ہیں۔یہ سب بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف میدان میں نہیں،بلکہ بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے ۔
مستقبل میں دوبارہ تصادم کے خدشات اوربیانات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک غیریقینی کیفیت سے گزررہاہے۔مستقبل کے حوالے سے دیے جانے والے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کادفاعی عزم اور انڈیا کاجارحانہ لہجہ ایک ایسی کشمکش کوجنم دے رہاہے جوکسی بھی وقت شدت اختیار کرسکتی ہے اورمعمولی چنگاری بھی شعلہ بن سکتی ہے۔مسلسل دھمکی آمیز بیان بازی خطے میں تزویراتی عدم تحفظ کوبڑھاتی ہے۔علاقائی سلامتی کمپلیکس تھیوری کے مطابق،ایک ریاست کاعدم استحکام پورے خطے کو نہیں بلکہ پوری دنیا کومتاثرکرتا ہے۔
سیناسموادجیسے فورمزبظاہر مکالمے کیلئےہوتے ہیں،اوران پلیٹ فارمزپرپیش کیے جانے والے خیالات کوتوازن اورذمہ داری کامظہر ہوناچاہیے۔مگرجب ان میں پیش کیے جانے والے خیالات میں توازن کی بجائے شدت غالب آجائے تووہ مکالمہ نہیں بلکہ اعلانِ جنگ محسوس ہونے لگتاہے۔انڈین آرمی چیف کایہ کہنا کہ فوج اورعوام کے درمیان ہم آہنگی جنگی تیاریوں میں اہم ہے،ایک حقیقت توہے،مگر اس کااستعمال کس سمت میں ہو۔اس ہم آہنگی کارخ امن کی طرف ہونا چاہیے،نہ کہ تصادم کی طرف۔یہی اصل سوال ہے۔زبان صرف اظہار نہیں ،کردارکی آئینہ داربھی ہوتی ہے۔
پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات عائدکرناایک پرانابیانیہ ہے جسے وقتاًفوقتاً دہرایاجاتارہاہے اوربری طرح پِٹ چکاہے۔پاکستان پرعائد کیے جانے والے الزامات ایک طویل عرصے سے جاری ہیں،مگران کے ثبوت عالمی سطح پرکبھی بھی اس شدت کے ساتھ تسلیم نہیں کیے گئے جس طرح انہیں پیش کیاجاتاہے۔ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئےشواہداس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کامسئلہ یک طرفہ نہیں بلکہ کثیرجہتی ہے۔پاکستان پرالزامات اوراس کے جوابات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشتگردی کامسئلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہے۔پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پرپیش کیے گئے شواہداس امرکی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حقیقت اس بیانیے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔یہ الزام تراشی دراصل ایک ایسی حکمت عملی کاحصہ معلوم ہوتی ہے جس کامقصد داخلی مسائل سے توجہ ہٹانا اوربیرونی دباؤ پیداکرناہے۔
گزشتہ ایک برس کے دوران دونوں ممالک کے بیانات میں تلخی کابڑھنااس بات کاثبوت ہے کہ سفارتی ذرائع کمزورپڑرہے ہیں۔دونوں ممالک کے لہجوں میں بڑھتی ہوئی تلخی اس بات کاثبوت ہے کہ سفارتی زبان اپنی شائستگی کھوتی جارہی ہے۔جب الفاظ میں زہرگھلنے لگے تواندازہ ہوجاتاہے کہ دلوں میں کتنی کدورت جمع ہوچکی ہے۔ان حالات میں تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ بین الاقوامی نظام میں توازن کیلئےسفارت کاری بنیادی ستون ہے۔
انڈین وزیردفاع کے بیانات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جن میں مستقبل کی کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئیں۔ان کے عسکری بیانیے کااستعمال بھی اسی رجحان کی عکاسی کرتاہے جہاں طاقت کے اظہارکوسیاسی مقبولیت کیلئےاستعمال کیاجاتاہے۔یہ زبان اگرچہ داخلی سیاست میں مقبول ہوسکتی ہے،مگربین الاقوامی سطح پراس کے اثرات نہایت دوررس اورغیر دانش مندانہ ہوتے ہیں۔مگرتاریخ گواہ ہے کہ ایسے بیانات وقتی فائدہ تودے سکتے ہیں مگر طویل المدت استحکام کیلئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
پاکستان کے وزیردفاع کاردِعمل نسبتاً متوازن،اصولی اورذمہ دارانہ تھاجونہ صرف بین الاقوامی قانون،اواقوام متحدہ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ خطے میں استحکام کیلئےبھی ضروری ہے۔جہاں امن او استحکام کی خواہش کے ساتھ ساتھ اپنی خودمختاری کے دفاع کا عزم اورعلاقائی سالمیت کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتاہے جوجذبات کے بجائے اصولوں پرمبنی ہے۔
سندھ کے حوالے سے دیے گئے بیانات نے ایک نئی بحث کوجنم دیاہے۔سندھ کے حوالے سے دیے گئے بیانات دراصل ایک تہذیبی بیانیے کوجغرافیائی دعوے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں،جوبین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔یہ ایک ایسے بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں جوتاریخ کواپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتاہے۔تاریخ اورتہذیب کے نام پرسرحدوں کوچیلنج کرنادراصل اُس سوچ اور جارحیت کی نشاندہی کرتاہے جوماضی کے سائے سے نکلنے کوتیارنہیں۔پاکستان کے دفترخارجہ کاجواب نہایت مناسب تھاکہ ہرریاست کوپہلے اپنے اندرانصاف اورمساوات کویقینی بناناچاہیے،کیونکہ داخلی کمزوریاں ہی خارجی جارحیت کوجنم دیتی ہیں۔
یہ پورامنظرنامہ ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتاہے کہ جنوبی ایشیااس وقت ایک نازک دوراہے پرکھڑاہے۔ایک راستہ تصادم،عدم استحکام اورتباہی کی طرف جاتاہے،جبکہ دوسراراستہ مکالمے،برداشت اورباہمی احترام کی طرف۔جبکہ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ طاقت کا توازن ہی امن کی ضمانت ہوتاہے۔جب یہ توازن بگڑتاہے توتاریخ اپنے وہی پرانے زخم دہرانے لگتی ہے۔جنوبی ایشیاآج ایک ایسے موڑپر کھڑاہے جہاں دانش،تدبر اورتحمل ہی وہ راستے ہیں جواسے تباہی کے دہانے سے واپس لاسکتے ہیں۔قوموں کی تقدیرصرف میدانِ جنگ میں نہیں،بلکہ افکارکی دنیامیں طے ہوتی ہے۔اگراس خطے میں بھارتی ہندتواکی متعصب قیادت نے دانشمندی کامظاہرہ نہ کیاتوتاریخ ایک بارپھرخودکودہراسکتی ہے۔قوموں کی تقدیرصرف میدانِ جنگ میں نہیں،بلکہ افکارکی دنیامیں طے ہوتی ہے۔اگراب بھی مودی نے گزشتہ برس مئی میں ہونے والی عبرتناک تاریخی شکست سے سبق نہ سیکھاتوبعید نہیں کہ آنے والے صفحات بھی اسی خونچکاں داستان کو دہراتے نظرآئیں۔خاکم بدہن وگرنہ ایٹمی تصادم کے نتیجے میں دونون ممالک راکھ کاڈھیر توبن جائیں گے لیکن پھربھی اس کرہ ارض پر 56 مسلم رہاستیں موجودرہیں گی لیکن دنیابھرمیں کہیں بھی ہندوریاست کانام ونشان باقی نہیں رہے گاتاہم اگرعقل وتدبرکورہنمابنایاگیاتو یہی خطہ امن،ترقی اور استحکام کی ایک نئی مثال بھی قائم کرسکتاہے۔
گویایہ تحقیق اس نتیجے پرپہنچتی ہے کہ جنوبی ایشیامیں امن کاانحصارتوازنِ قوت،فکری اعتدال،اورمؤثرسفارت کاری پرہے۔اگربیانیاتی جنگ کوقابو نہ کیاگیا تویہ خطہ ایک بارپھر تصادم کی طرف بڑھ سکتاہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ ہندوتواکی متعصب قیادت اوران کے فوجی سربراہ کیلئے فوری طورپردماغی معالج سے رجوع کیاجائے تاکہ وہ اپنے اقتدارکودوام پہنچانے کی بجائے حقائق سے کام لیں۔اقبالؒ کے الفاظ میں تمدن،تصادم سے نہیں،تفاہم سے پروان چڑھتاہے۔