بعض اوقات قوموں کی تقدیرتوپوں کی گھن گرج میں نہیں،بندرگاہوں کے خاموش پانیوں میں لکھی جاتی ہے۔سمندربظاہر پرسکون رہتاہے،مگر اس کی تہہ میں تجارت،طاقت،مفاداورجغرافیہ کی ایسی لہریں چل رہی ہوتی ہیں جوپورے خطے کارخ بدل سکتی ہیں۔ گوادر بھی اسی نوعیت کاایک ساحلی نقطہ ہے؛نقشے پر ایک بندرگاہ،مگر تزویراتی منظرنامے میں ایک ایسی شطرنج کی بساط جہاں ہرمہرہ اپنی جگہ سے کہیں زیادہ معنی رکھتاہے۔
بلوچستان کی داخلی بے چینی،علاقائی تجارتی مسابقت،بیرونی مالی اثرات اورپاکستان کی معاشی کمزوریاں جب ایک ہی افق پرابھرتی ہیں توسوال محض یہ نہیں رہتا کہ پردے کے پیچھے کون ہے،بلکہ یہ بن جاتاہے کہ پردہ حقیقت میں کتناموٹاہے اور اس کے پیچھے دکھائی دینے والے سائے کتنے حقیقی ہیں۔اس لیے یہ بحث الزام کی تلواراٹھانے کی بجائے ثبوت کاچراغ جلانے کی متقاضی ہے—کیونکہ قومی سلامتی کے حساس معاملات میں شورسے زیادہ اہم وہ خاموش نشانیاں ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ایک بڑی تصویر تشکیل دیتی ہیں۔
تاریخِ اقوام کا ایک عجیب دستور ہے کہ بڑے معرکے ہمیشہ میدانِ جنگ میں نہیں لڑے جاتے۔ کبھی بندرگاہیں توپوں سے زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں، کبھی قرض کی ایک سطر لشکر کے ایک دستے سے زیادہ دباؤ پیدا کرتی ہے، اور کبھی چند تجارتی راستے پورے خطے کی سیاست کا قبلہ متعین کر دیتے ہیں۔ بحرِ عرب کے ساحل پر واقع گوادر بھی محض ایک بندرگاہ نہیں؛ یہ جغرافیہ، تجارت، توانائی، چین کے ابھرتے ہوئے اثرورسوخ، خلیجی معیشت اور پاکستان کی قومی سلامتی کے باہم ملتے ہوئے دائروں کا نقطۂ اتصال ہے۔
کیا بلوچستان کی بے چینی کے پسِ پردہ صرف داخلی محرومیاں کارفرما ہیں، یا بحرِ عرب کے کنارے ابھرتا ہوا گوادر کسی ایسی خاموش علاقائی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے جس کے اثرات بظاہر نظر آنے والی سفارت کاری سے کہیں زیادہ گہرے ہیں؟ کیا خلیج کی معاشی رقابت، بین الاقوامی تجارتی مفادات، بلوچ علیحدگی پسند نیٹ ورکس اور پاکستان کی اپنی سیاسی و مالی کمزوریاں ایک دوسرے سے کہیں نہ کہیں جا ملتی ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ الزام کس پر ہے، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ دستیاب شواہد حقیقت کی کس حد تک گواہی دیتے ہیں؟
زیرِ نظر رپورٹ میں میں پیش کیے گئے الزامات، قرائن، معاشی مفادات اور قومی سلامتی کے حساس نکات اورسوالات کا تاریخی و تحقیقی جائزہ لیاگیا ہے۔ یہاں ہر دعوے کو ایک ہی میزان میں نہیں تولا گیا: بعض امور دستاویزی ریکارڈ اور تاریخی حوالوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، بعض الزامات، مالی و تزویراتی قرائن اور مشتبہ روابط کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد کسی پیشگی فیصلے پر مہر لگانا نہیں، بلکہ شواہد اور شبہات کے درمیان موجود اس باریک لکیر کو تلاش کرنا ہے جہاں معاشی رقابت ممکنہ خفیہ مداخلت میں بدل سکتی ہے، اور جہاں پاکستان کی خارجی کمزوری اس کی داخلی فیصلہ سازی کو متاثر کرنے لگتی ہے۔ کیونکہ تحقیق کا وقار اسی میں ہے کہ قرینے کو ثبوت نہ بنایا جائے، شبہے کو فیصلہ نہ سمجھا جائے اور الزام کو حقیقت کا قائم مقام نہ ٹھہرایا جائے۔ مگر جب مختلف واقعات، مفادات اور روابط بار بار ایک ہی سمت اشارہ کرنے لگیں تو انہیں نظرانداز کرنا بھی تحقیق نہیں، غفلت بن جاتا ہے۔ یہ مضمون اسی پردۂ ابہام کو ایک ایک تہہ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش ہے۔
اس قضیے کی پہلی اہم گرہ دستاویزکے مطابق2008ءکی ایک خفیہ پارلیمانی بریفنگ سےکھلتی ہے،جس میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمدشجاع پاشاسے منسوب یہ مؤقف سامنےآیاکہ بھارت،روس اورمتحدہ عرب امارات بلوچستان کی شورش میں معاون کرداراداکررہےتھے۔دستاویزکاآغازایک حساس سوال خصوصاًیہ الزام نقل کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے بلوچ لبریشن آرمی،یعنی بی ایل اے،کواسلحہ اورمالی معاونت فراہم کی اوراس کابنیادی محرک گوادربندرگاہ کی ترقی کی مخالفت تھا۔
یہ الزام اپنی نوعیت میں اس لیے معمولی نہیں کہ اسے کسی غیرمعروف مبصریااخباری قیاس سے نہیں،بلکہ پاکستان کے اعلیٰ ترین انٹیلی جنس منصب سے منسوب کیاگیامگرتاریخی تحقیق کامیزان ہمیں یہ بھی سکھاتاہے کہ اعلیٰ منصب سے صادرہونے والاالزام یقیناً سنجیدہ توہوتاہے،لیکن کیااپنی ذات میں عدالتی یاناقابلِ تردیدثبوت بن سکتاہے؟اس کاجواب یقیناًبڑامشکل ہے۔
یہاں اصل سوال دوسطحوں پرپیداہوتاہے۔پہلی سطح یہ ہے کہ کیاپاکستان کی ریاستی مشینری کے پاس ایسے معلوماتی قرائن موجودتھے جن کی بنیادپراماراتی کردارپرشبہ کیاگیا؟دستاویزاس کاجواب اثبات میں دیتی ہے۔دوسری اورزیادہ کڑی سطح یہ ہے کہ کیایہ تعاون کسی منظم، مسلسل اورریاستی پالیسی کاحصہ تھا؟ اس سوال کاقطعی جواب خودفراہم کردہ موادبھی نہیں دیتایوں 2008 ء کی بریفنگ کواس پوری بحث کانقطۂ آغازکہاجاسکتاہے،نقطۂ اختتام نہیں۔یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کے افق پرپہلادھواں دکھائی دیتاہے،مگرابھی آگ کی پوری ہیئت واضح نہیں ہوتی۔
عالمی سیاست میں دوستی اوررقابت اکثرایک ہی میزپربیٹھتی ہیں۔ریاستیں ایک ہاتھ سے سرمایہ کاری کرتی ہیں تودوسرے ہاتھ سے اپنے دیرینہ معاشی مفادات کی حفاظت بھی کرتی ہیں ۔زیرِنظردستاویزمتحدہ عرب امارات اورگوادرکے درمیان ممکنہ کشمکش کواسی زاویے سے دیکھتی ہے۔دستاویز کے مطابق دبئی مشرقِ وسطیٰ کاایک نہایت اہم لاجسٹکس اورری ایکسپورٹ مرکزہے۔اگرگوادرپوری استعداد کے ساتھ کام کرنے لگے اوراسے وسطی ایشیااورمغربی چین تک قابلِ اعتمادزمینی راستےمیسرآجائیں توخلیج میں موجودبعض قائم شدہ تجارتی مراکز کیلئےمسابقت پیداہوسکتی ہے۔اسی تناظرمیں دستاویزیہ استدلال پیش کرتی ہے کہ گوادرکو غیرمستحکم رکھناایک ابھرتے ہوئے تجارتی حریف کومحدود کرنے کاذریعہ بن سکتاہے۔
یہاں س پیک کی جہت معاملے کواورگہراکردیتیہے۔گوادرصرف پاکستانی تجارت کامنصوبہ نہیں رہتابلکہ چین کے بحیرۂ عرب تک رسائی کے بڑے تصورسے جڑجاتاہے۔یوں ایک بندرگاہ کے گردتین دائرے بن جاتے ہیں:پاکستان کی معاشی خودمختاری،چین کی تزویراتی رسائی اورخلیجی بندرگاہوں کی موجودہ تجارتی برتری۔تاہم مسابقت بذاتِ خودتخریب کاثبوت نہیں۔دنیا میں سنگاپور،دبئی،جبل علی،چاہ بہار،دوحہ اوردیگربندرگاہیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں؛ ہرمعاشی حریف لازماًدوسرے کے خلاف خفیہ کارروائی نہیں کرتا۔ لہٰذاگوادر–دبئی رقابت ممکنہ محرک توفراہم کرتی ہے،مگرمحرک اورجرم کے درمیان ایک ایسافاصلہ ہوتاہے جسے محض سیاسی خطابت سے نہیں بلکہ قابلِ تصدیق ثبوت سے طے کیاجاتاہے۔
اسی لیے اس نکتے کی صحیح تعبیریہ ہے کہ گوادرکی کامیابی خلیجی بحری تجارت کے موجودہ توازن میں تبدیلی لاسکتی ہے،اوریہی تبدیلی بعض ریاستوں کواپنے مفادات کے تحفظ کیلئےزیادہ فعال بھی بناسکتی ہے اورمقابلےکالاحق خوف لاحق نتیجہ ازخودکسی عسکری یاعلیحدگی پسندتنظیم کی سرپرستی کی طرف اشارہ بھی کرتاہے۔
فراہم کردہ دستاویزایسے مبینہ مالی اورلاجسٹک روابط کا ذکرکرتی ہے جن کے بارے میں کہاگیاہے کہ ان کی کڑیاں لندن،قطر،متحدہ عرب امارات اوربلوچ عسکریت پسندحلقوں تک جاتی تھیں ۔ یہ نکتہ سب سے زیادہ حساس بھی ہے اورسب سے زیادہ تحقیق طلب بھی دستاویزکے مطابق دبئی میں بی ایل اے سے منسلک بعض اکاؤنٹس میں قابلِ ذکررقوم پہنچنے کےدعوے سامنے آئے،حتیٰ کہ بعض رپورٹس میں خواتین عسکریت پسندوں کی عملی مالی معاونت کوبھی دبئی میں مقیم افرادسے منسلک کیاگیاہے۔
شارجہ سے مزیداہم واقعہ راشد بلوچ کی گرفتاری کاہے جو2019ء میں کراچی میں چینی قونصل خانے پرحملےکے ایک اہم سہولت کارکے طورپر نامزد ہے۔اس واقعے سے ایک قابلِ غور بات ضرورنکلتی ہے:بلوچ عسکری یاعلیحدگی پسندحلقوں سے منسلک افرادکی امارات میں موجودگی یانقل وحرکت کاسوال محض نظری نہیں رہتالیکن یہاں بھی منطقی احتیاط لازم ہے کسی ملک میں کسی مشتبہ شخص کی موجودگی اوراس ملک کی ریاستی سرپرستی دومختلف حقیقتیں ہیں بلکہ گرفتاری کا واقعہ بعض حالات میں اس کے برعکس ریاستی تعاون کی دلیل بھی سمجھاجا سکتاہے۔
دستاویزمیں یمن میں جنوبی عبوری کونسل(ایس ٹی سی)کیلئے اماراتی حمایت کوایک وسیع ترعلاقائی طرزکی مثال کے طورپربھی پیش کیاگیاہے،یعنی مقامی یا علیحدگی پسندقوتوں کے ذریعے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کی پالیسی۔ مگر ایک خطے کی پالیسی کودوسرے خطے پرخودکارطورپرمنطبق کرناتحقیق نہیں بلکہ قیاس ہوگا۔قرائن چراغ کی مانندراستہ دکھا سکتے ہیں،مگر وہ ہمیشہ منزل کا نام نہیں بتاتے۔
بین الاقوامی سیاست کاچہرہ اکثریک رنگ نہیں ہوتا۔کبھی دوممالک دفاعی شریک ہوتے ہوئے اقتصادی حریف ہوتے ہیں،کبھی اقتصادی شراکت دارہوتے ہوئے کسی تیسرے خطے میں ایک دوسرے کے مفادات سے متصادم کھڑے ہوتے ہیں۔یہی تضادپاکستان اورمتحدہ عرب امارات کے معاملے میں دستاویز نمایاں کرتی ہے۔ایک جانب اماراتی کردارکے بارے میں بلوچستان سے متعلق سنگین الزامات موجودہیں ،دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں سرکاری سطح پرتعاون اورسرمایہ کاری کی پالیسی بھی جاری رکھی۔ فراہم کردہ موادکے مطابق2018ءمیں گوادرمیں ایک بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹ کیلئےحمایت کاوعدہ کیاگیا،جبکہ2025ءمیں شمسی توانائی اوردیگرتوانائی منصوبوں پربلوچستان حکومت سے بات چیت ہوئی۔پاکستانی حکام نے بعض مواقع پراماراتی مداخلت سے متعلق الزامات کو’’جھوٹا پروپیگنڈا ‘‘بھی قراردیا۔
یہ صورتِ حال ایک نہایت اہم اصول یاددلاتی ہے:ریاستوں کے تعلقات خانوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔تجارت الگ،سلامتی الگ،توانائی الگ، علاقائی رقابت الگ۔ایک شعبے میں تعاون دوسرے شعبے میں اختلاف کوناممکن نہیں بناتا۔لیکن اسی اصول کاالٹا استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے۔اگرسرمایہ کاری کسی الزام کو خود بخودردنہیں کرتی توالزام بھی سرمایہ کاری کوخفیہ سازش کانقاب ثابت نہیں کرتا۔اس طرح، متحدہ عرب امارات کی ظاہری سرمایہ کاری اس پورے معاملے میں اعتبارکافرق پیداکرتی ہے۔
چنانچہ امارات کی علانیہ سرمایہ کاری اس پورے قضیے میں ایک اعتبارکافرق پیداکرتی ہے۔اگرریاست براہِ راست اورمسلسل گوادر کوناکام بنانے کی پالیسی پر کاربندہوتی تواسی مقام پرترقیاتی منصوبوں میں شرکت بظاہرمتناقض دکھائی دیتی ہے۔یہی تضاد قطعی فیصلے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔
اس بحث کاشاید سب سے زیادہ تلخ باب یہ ہےکہ یہاں انگلی باہرسے مڑکراندر کی طرف اٹھتی ہے۔دستاویز کے مطابق 2024ء کے”دبئی پراپرٹی لیکس”میں دبئی کی23 ہزارسے زیادہ جائیدادوں کوپاکستانی شہریوں سے منسلک کیاگیا،جن میں سیاسی خاندانوں،سابق حکومتی شخصیات،پارلیمانی وکابینہ اراکین،سابق فوجی افسران اوراعلیٰ سرکاری شخصیات کے نام یاخاندانی روابط شامل ہونے کادعویٰ کیاگیا۔ دستاویزاس صورتِ حال کوپاکستان کی حکمران اشرافیہ کیلئےامارات کے ساتھ تعلقات میں ایک ممکنہ ٹکراؤکے طورپردیکھتی ہے۔یہاں بنیادی قومی سوال یہ نہیں کہ کسی پاکستانی کادبئی میں قانونی اثاثہ کیوں ہے۔بیرونِ ملک قانونی سرمایہ کاری بذاتِ خودجرم یاغداری نہیں۔اصل سوال شفافیت،ملکیت کے قانونی ذرائع او اس امرکاہے کہ کیاذاتی معاشی مفادات قومی سلامتی کے فیصلوں کومتاثرکرتے ہیں؟
یہی وہ باریک لکیرہے جہاں شخصی مفاداورریاستی مفادایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔اگرقومی فیصلہ سازوں کے اثاثے،کاروباریا معاشی تحفظ کسی دوسرے ملک کے مالی نظام سے غیرمعمولی طورپر جڑے ہوں تومحض حقیقی بدعنوانی ہی مسئلہ نہیں رہتی؛ممکنہ مفادات کےتصادم کاتاثربھی ریاستی اعتمادکو مجروح کرسکتا ہے۔
دستاویزاپریل2026ءمیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے3.5ارب ڈالرکے قرض کی قبل ازوقت واپسی کےمطالبے کومعاشی دباؤکے تناظرمیں پیش کرتی ہے،اورپاکستانی شیعہ کارکنوں کی امارات سے بڑے پیمانے پرملک بدری کاذکربھی کرتی ہے۔انہی عوامل کو رپورٹ میں پاکستان کی مبینہ”اسٹریٹجک فالج”سے جوڑاگیا ہے۔
یہاں ریاست کیلئےسبق نہایت واضح ہے:جوملک معاشی طورپرضرورت مند،مالی طورپرمنحصراوراشرافیائی مفادات میں بیرونی مراکز سے بندھاہو،اس کی سفارت کاری کے پرکبھی کبھی نظرنہ آنے والی زنجیریں باندھ دی جاتی ہیں۔قومی خودمختاری محض سرحد کی حفاظت کانام نہیں؛فیصلہ سازی کی آزادی بھی خود مختاری ہی کاحصہ ہے۔
اس پورے مسئلے کاسب سے قیمتی حصہ شایدیہی نکتہ ہے،کیونکہ یہاں دستاویزخوداپنے دعووں کی درجہ بندی کرتی ہے۔رپورٹ 2008ءکے آئی ایس آئی الزام ،دبئی اورگوادرکی ممکنہ تجارتی رقابت،2019ءمیں ایک مبینہ بی ایل اے سہولت کارکی شارجہ میں گرفتاری،اور پاکستانی اشرافیہ کے وسیع اماراتی اثاثوں کوقابلِ دستاویزامورمیں شمارکرتی ہے۔دوسری طرف 2004ءسے2026ءتک یواے ای کی اعلیٰ ریاستی سطح سے بی ایل اے کی مسلسل براہِ راست سرپرستی کوعوامی ریکارڈمیں ثابت شدہ قراردیتی ہے۔یہ امتیاز اس بحث کی جان ہے۔
یہ کہناایک بات ہے کہ امارات میں ایسے مالی،سیاسی یاانفرادی عناصرہوسکتے ہیں جوبلوچ علیحدگی پسندوں کیلئےسہولت پیداکرتے ہوں ؛یہ کہنادوسری بات ہے کہ یہ سب کچھ متحدہ عرب امارات کی مرکزی ریاستی پالیسی اوراعلیٰ قیادت کے براہِ راست حکم سے ہورہاہے ۔
دستاویزبالآخرایک قابل فہم مفروضہ پیش کرتی ہے کہ یواےای سے منسلک مالی یاسیاسی کردار،ممکنہ سرکاری چشم پوشی کے ماحول میں،بلوچ علیحدگی پسندعناصر کی معاونت کرسکتے ہیں،اور پاکستانی اشرافیہ کی مالی وابستگیاں مؤثرردعمل میں رکاوٹ بن سکتی ہیں مگرمفروضے کی شائستگی اسی میں ہے کہ اسے فیصلہ نہ بنایا جائے .
قومی سلامتی کے معاملات میں دوانتہائیں یکساں نقصان دہ ہیں:ایک یہ کہ ہرشبہے کوسازش کہہ کرنظراندازکردیاجائے؛دوسری یہ کہ ہر قرینے کوقطعی جرم سمجھ کرسفارتی فیصلہ صادرکردیاجائے۔دانش مندی دونوں کے درمیان اس پل کانام ہے جس کی بنیادتحقیق،مالیاتی سراغ رسانی،انٹیلی جنس تعاون اورقابلِ تصدیق شہادت پرقائم ہو۔
آخرکاراس پوری بحث کاجوہرایک ہی مرکزی سوال میں سمٹ آتاہے کہ کیامتحدہ عرب امارات نےصرف گوادرکوایک معاشی وتزویراتی حریف کے طورپر دیکھا،یااماراتی ریاستی اداروں یا یواے ای سے وابستہ غیرریاستی عناصرنےجائزمسابقت کی حدعبورکرکے بلوچ علیحدگی پسندسرگرمیوں کی عملی معاونت بھی کی ہے؟فراہم کردہ دستاویزبھی اسی سوال کواپنی آخری کسوٹی قرار دیتی ہے۔دستیاب مواد سے کم ازکم اتناضرورسامنے آتاہے کہ اس کوسرسری افواہ کہہ کر دفن کرنادانش مندی نہیں۔ایک سابق اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدارسے منسوب الزام،گوادراورخلیجی تجارتی مفادات کاممکنہ تصادم،امارات میں بلوچ عسکریت سے منسلک افرادکے روابط،مالی معاونت سے متعلق رپورٹس،اورپاکستانی سیاسی وانتظامی اشرافیہ کی وسیع مالی وابستگیاں—یہ سب مل کرایک ایساسوالنامہ ضرور بناتے ہیں جسے ریاستی سطح پرسنجیدہ تحقیقات کاموضوع ہوناچاہیے۔دستاویزبھی ان عوامل کوایک اہم قومی سلامتی کی تشویش قراردیتی ہے،تاہم مسلسل اماراتی ریاستی پالیسی کاقطعی ثبوت نہ ہونے کی حد بھی واضح کرتی ہے۔
پاکستان کیلئےاصل سبق شایدامارات سے زیادہ خودپاکستان کےبارے میں ہے۔اگرگوادرقومی مستقبل کادروازہ ہےتواس کی حفاظت صرف بندوق بردار دستوں سے نہیں ہوگی۔اسے شفاف حکمرانی،بلوچستان کے عوام کی سیاسی ومعاشی شمولیت،مضبوط مقامی اداروں،قابلِ اعتمادانٹیلی جنس،غیرملکی مالیاتی روابط کی نگرانی اورایسی خارجہ پالیسی درکارہے جس میں فردکاسرمایہ ریاست کےمفادپرسایہ نہ ڈال سکے۔
بلوچستان کے مسئلے کوصرف بیرونی ہاتھ کی کہانی بنادینابھی حقیقت سے فرارہوگا۔بیرونی قوت وہیں قدم جماسکتی ہے جہاں اندرونی محرومی،سیاسی بے یقینی، معاشی ناانصافی یاادارہ جاتی کمزوری اسے زمین فراہم کرے۔ قومی سلامتی کی مضبوط ترین دیوارسرحدپر کھڑی چوکی نہیں،بلکہ وہ شہری ہے جسے اپنی ریاست میں عزت،حصہ،انصاف اورمستقبل دکھائی دیتاہو۔
گوادرکے نیلے پانیوں پرآنے والے جہازصرف مال نہیں لائیں گے؛وہ پاکستان کی ریاستی بصیرت کاامتحان بھی لائیں گے۔اگرہم نے اپنی معیشت کوقرض کے سہارے،سیاست کوذاتی مفادات کے رحم وکرم پراورقومی اثاثوں کومحض تقریروں کی آرائش بنادیاتودوسروں کی چالوں کاشکوہ ہماری کمزوری کامداوا نہ ہوگا۔مگراگرپاکستان اپنے فیصلوں کو مالی انحصارسے آزادکرے، بلوچستان کووفاقی قوت کاحقیقی شریک بنائے،بیرونی مالیاتی وعسکری روابط کی غیر جانبدارتحقیقات کرے،اورہرالزام کوثبوت کی کسوٹی پرپرکھے توگوادررقابت کامیدان نہیں بلکہ قومی خود اعتمادی کی علامت بن سکتاہے۔
تاریخ ہمیشہ یہ نہیں پوچھتی کہ دشمن کون تھا؛کبھی وہ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب خطرے کی آہٹ سنائی دی توریاست کتنی بیدار،کتنی آزاداو اپنے ہی مفادات کے مقابلے میں کتنی دیانت دارتھی۔اسی سوال میں امارات–بلوچستان قضیے کی اصل معنویت پوشیدہ ہے،اورشاید پاکستان کے آئندہ تزویراتی سفرکاسب سے بڑا سبق بھی۔
آخرکاراس پوری بحث کارخ بیرونی کرداروں سے زیادہ پاکستان کےاپنےآئینے کی طرف مڑتاہے۔گوادراگرمستقبل کادروازہ ہے تواس کی حفاظت صرف بندوق ،باڑاوربندرگاہی منصوبوں سے نہیں ہوگی؛اسے سیاسی اعتماد،معاشی خودمختاری،شفاف حکمرانی اوربلوچستان کے عوام کی حقیقی شمولیت کامضبوط قفل بھی درکارہوگا۔یادرکھیں:بیرونی اثروہاں زیادہ مؤثرہوتاہے جہاں داخلی محرومی،ادارہ جاتی کمزوری اورمعاشی انحصارپہلے سے دراڑیں پیداکرچکے ہوں۔
ریاستیں اکثرطوفان کوسرحدکے اُس پارتلاش کرتی ہیں،حالانکہ کبھی کبھی کشتی میں موجودباریک سوراخ زیادہ خطرناک ثابت ہوتاہے۔پاکستان کیلئے اصل امتحان یہ نہیں کہ ہرشبہے کودشمنی میں بدل دیاجائے،بلکہ یہ ہے کہ ہرالزام کوثبوت،ہر مالی تعلق کوشفافیت اورہرتزویراتی فیصلے کوقومی مفادکی کسوٹی پرپرکھا جائے۔تاریخ شایدیہ نہ پوچھے کہ کون سی طاقت گوادرسے خوفزدہ تھی؛وہ یہ ضرورپوچھے گی کہ جب مفادات کےبادل جمع ہورہے تھے،پاکستان نےاپنے چراغ کتنےروشن رکھے۔











