ہم پست کیوں ہوگئے؟

:Share

کشمیریوں اورفلسطینیوں پر قیامت بیت رہی ہے اور یہاں ہماری محفلیں شگوفہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ بستی میں ایسی بے حسی تو کبھی نہ تھی۔ درست کہ ہم آج کمزور ہیں اور ان کی عملی مدد سے قاصر ہیں۔ لیکن ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ یہ دکھ امانت کی طرح سنبھال کر رکھیں اور نسلوں کو وراثت میں دے جائیں۔ کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔وقت کا موسم بدل بھی تو سکتا ہے۔ ہم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ موسموں کے بدلنے تک اپنے زخموں کو تازہ رکھیں۔ ان سے رستے لہو کو جمنے نہ دیں۔ بھلے وقتوں کی بات ہے ابھی روشن خیالی کی مسند مسخروں کے ہاتھ میں نہیں آئی تھی۔ ہمارا ادیب دائیں اور بائیں کی تقسیم سے بے نیاز ہو کر یہ امانت نسلوں تک پہنچا رہا تھا۔
اقبال، قدرت اللہ شہاب، فیض،شورش کاشمیری، انتظار حسین، حبیب جالب، احمد ندیم قاسمی، ابن انشاء، احمد فراز، رئیس امروہوی، ن م راشد، مستنصر حسین تارڑ، قرۃ العین حیدر، مظہر الاسلام، ادا جعفری، یوسف ظفر، منظور عارف، ضمیر جعفری، خاطر غزنوی، محمود شام، نذیر قیصر، شورش ملک، سلطان رشک، طاہر حنفی، بلقیس محمود۔۔۔ کتنے ہی نام ہیں جنہوں نے اپنے افسانوں اور نظموں میں اس دکھ کو آئندہ نسلوں کیلئےامانت کے طور پر محفوظ کر دیا۔ یہ مگر گزرے دنوں کی بات ہے۔
اب فلسطین سے دھواں اٹھتا ہے تو ایک مستنصر حسین تارڑ کا قلم نوحے لکھتا ہے۔ باقی ادیب کیا ہوئے؟ قلم ٹوٹ گئے، سیاہی خشک ہوگئی یا احساس نے دم توڑ دیا؟ برسوں پہلے انتظار حسین کا افسانہ ’’شرم الحرم‘‘ پڑھا تھا۔ کچھ فقرے آج بھی دل میں ترازو ہیں۔ ’’بیت المقدس میں کون ہے؟ بیت المقدس میں تو میں ہوں۔ سب ہیں۔ کوئی نہیں ہے۔ بچے کمہار کے بنائے پتلے کوزوں کی طرح توڑے گئے، کنواریاں کنویں میں گرتے ہوئے ڈول کی رسی کی مانند لرزتی ہیں۔ ان کی پوشاکیں لیر لیر ہیں۔ بال کھلے ہیں۔ انہیں تو آفتاب نے بھی کھلے سر نہیں دیکھا تھا۔ عرب کے بہادر بیٹے بلندو بالا کھجوروں کی مانند میدانوں میں پڑے ہیں۔ صحرا کی ہواؤں نے ان پر بین کیے‘‘۔
انتظار حسین ہی کے افسانے ’’کانے دجال‘‘ کو میں نے کتنی ہی بار پڑھا۔ یہ پیراگراف ہر دفعہ خون رلاتا ہے۔ ’’پلنگ پہ بیٹھی اماں جی چھالیاں کاٹتے رونے لگیں۔ انہوں نے سروتا تھالی میں رکھا اور آنچل سے آنسو پونچھنے لگیں۔ ابا جان کی آواز بھر آئی تھی مگر ضبط کر گئے۔ اپنے پروقار لہجے میں شروع ہو گئے: آنحضورؐ دریاؤں، پہاڑوں، صحراؤں، سے گزرتے چلے گئے۔ مسجد اقصیٰ میں جاکر قیام کیا۔ حضرت جبریلؑ نے عرض کیا یا حضرتؐ تشریف لے چلیے، آپؐ نے پوچھا کہاں؟ بولے کہ یا حضرتؐ زمین کا سفر تمام ہوا۔ یہ منزل آخر تھی۔ اب عالم بالا کا سفر درپیش ہے۔ تب حضورؐ بلند ہوئے اور بلند ہوتے چلے گئے……….. وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ..
ابا جان کا سر جھک گیا۔ پھر انہوں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔ بولے ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔
لڑکپن جوانی میں بدلا اور جوانی ڈھل چلی، کنپٹیوں کے بال اب سفید ہو رہے ہیں اور عائشہ اب چہچہاتی ہے کہ بابا آپ تو بڈھے ہو گئے۔ لیکن یہ فقرہ آج بھی نیزے کی انی کی طرح وجود میں پیوست ہے ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔ عشروں پہلے بھی یہ فقرہ پڑھا تو آگے پڑھا نہ گیا۔ آج بھی یہاں پہنچتا ہوں تو آنکھوں میں دھند اتر آتی ہے. سید علی گیلانی کانورانی اورپرعزم چہرہ سامنے آن کھڑاہوجاتاہے اور افسانہ ایک طرف رکھ دیتا ہوں۔
منیر نیازی والا معاملہ درپیش ہوتا ہے: ’’اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور‘‘۔ لمحہ موجود کی روشن خیالی کا تو سارا بانکپن ہی مسلمانوں پرغرانے اور غراتے رہنے میں ہے۔ میں مگر بھلے وقتوں کی بات کر رہا ہوں۔ جب روشن خیالی کی مسند ابھی مسخروں کے ہاتھ نہیں آئی تھی۔ تب فیض احمد فیض نے فلسطینی مجاہدوں کیلئےایک ترانہ لکھا تو قرآن کی آیت کو عنوان بنا دیا: ’’لا خوف علیھم‘‘۔
ابن انشاء کی دیوارِ گریہ پڑھیے، فیض کی سرِ وادیِ سینا کو دیکھیے، ادا جعفری کی مسجد اقصیٰ پر نگاہ ڈالیے، منظور عارف کے ’آئینے کے داغ‘ دیکھیے، احمد فرازکے ’بیروت‘ کو دیکھیے، رئیس امروہوی کا ’فدیہ‘اور محمود شام کی ’بنت اقصیٰ‘دیکھیے، آپ کو سطر سطر یہ دکھ تازہ ملے گا۔ انہوں نے اس دکھ کو اگلی نسلوں تک امانت کے طور پر پہنچایالیکن آج کیوں قحط الرجال ہے،یہ میں نہیں بلکہ بھارت کی بدنام زمانہ جیل میں صعوبتیں برداشت کرنے والی میری مجاہدہ بہن سیدہ آسیہ انداربی اوراس کے ساتھ قیدفہمیدہ اورنسرین پوچھ رہی ہیں اورمیرے پاس اس کاکوئی جواب نہیں۔
اس امانت میں صرف درد کا احساس ہی نہیں وقت کے موسموں کے بدلنے کی آس بھی ہے۔مستنصر حسین تارڑ کے ’’خانہ بدوش‘‘ کا آخری پیرا گراف پڑھیے: ’’میں سینکڑوں فلسطینیوں سے مل چکا تھا۔ مگر احمد ایک مختلف انسان تھا۔ وہ حقارت سے اسرائیل کا ذکر کرتا تھا بلکہ ایک سپاٹ اور کاروباری انداز میں۔ وطن اس کیلئےایک اغوا شدہ بچہ تھا جو جذباتی ہونے سے نہیں مل سکتا تھا۔ اس کی تلاش میں اس کے نقش نہیں بھولنے تھے اور ایک سرد منصوبہ بندی سے خرکار کیمپ تک پہنچنا تھا‘‘۔ یہی نقش ہم بھولتے جارہے ہیں۔ یہ نقش کیسے یاد رہتے ہیں؟ ماؤں کی لوریاں انہیں تازہ رکھتی ہیں،نصاب تعلیم تذکیر کا کام کرتا ہے،ادیب اور شاعر کاقلم اسے سنوارتارہتا ہے۔ ماؤں کے پاس اب وقت نہیں، باپ کی جانے بلا، فلسطین اورکشمیر کیا ہے؟ نصاب تعلیم اجنبی ہو چکا، اور ادیب و شاعر گونگے ہو چکے۔
ایک یلغار ہے جس نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فلسطین کی بات کرنا اب دقیانوسی رویہ ہے کہ عرب جوخودکوفلسطین کاوکیل سمجھتے تھے، نہ صرف اس کامقدمہ ہارچکے بلکہ خودکواس وکالت نامے سے آزادکرکے اس کانام بھی سنناانہیں گوارہ نہیں۔ان کی ترجیحات تواپنے اقتدار کوطول دینا ،قومی دولت کواغیارکے خزانوں میں محفوظ کرناکہ مشکل وقت میں کام آئے گی۔انہیں صدام اورمعمرقذافی کے عبرتناک انجام سے ڈرایاجاتا ہے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جب بھیڑکوذبح کردیاجائے تواس کی بلاسے کہ اس کی بوٹیوں کاسائزکیاہوگایاپھراس کے گوشت کاقیمہ بنایاجائے گا۔
کون نہیں جانتاکہ معمر قذافی کو امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط نہ رکھنے کی سزا دی جارہی ہے، لیبیا کے عوام کو بچانے کا پراپیگنڈا کرکے ان کی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی سازشیں جاری ہیں۔بظاہر تو لیبیا پر یہ کہہ کر دودفعہ حملہ کیا گیا کہ وہاں کے عوام کو قذافی سے بچایا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معمر قذافی نہ یورپی ممالک اور نہ امریکا کو اپنے اقتصادی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دےرہےبلکہ وہ عالمی منڈی میں تیل کے بدلے ڈالرکے مقابلے میں سونے کاسکہ چلانے کیلئے کوشاں ہیں اورتمام تیل پیداکرنے والے ممالک کواس فارمولے پرقائل کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہورہے ہیں۔ قذافی کی کوشش ہے کہ وہ چین ، ترکی اور ایشیائی ممالک سمیت ان ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلق رکھیں جو امریکا کے اثر سے پاک ہیں۔
مقبوضہ کشمیرکی وولرجھیل کے کنارے اب سیدعلی گیلانی اپنی سوانح حیات لکھ رہاہے اوراب بھی بھارتی بنئے کے سینے پربیٹھ کراپنے لاکھوں چاہنے والوں اورسرفروشوں کے درمیان علی الاعلان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ “ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہماراہے” لیکن کیاکشمیریوں کاقصوربھی یہ ہے کہ وہ تاریخ ِ عالم میں اُن چند پُرعزم، بلندحوصلہ، حق پرست ، حریت پسند اورجذبۂ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سرِ فہرست ہیں جوسات لاکھ سے زائد بھارتی درندوں کے ظلم سے نہ توخوفزدہ ہیں اورنہ ہی ان کے سامنے سر تسلیم ِ خم کیا ہے۔1947ء سے لیکر آج تک ان پرزندگی تنگ کردی گئی ہے جوبلاشبہ ہندوبنئے ڈوگرہ راج کاتسلسل ہے۔گمنام اجتماعی قبریں، بے گناہ شہداء، معصوم یتیم، بیوہ و نصف بیوہ عورتیں، نابینا بچے،جوان، معذور و بے سہارا بوڑھے اور لہو لہان وادیٔ کشمیر بھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن وہ آج بھی اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ جوان دنوں بڑی طاقتوں کی ایک لونڈی کاکرداراداکررہاہے،سے اپناوہ جائزحق مانگ رہے ہیں جواس ادارے میں اقوام عالم کے اتفاق رائے سے دنیاکی چندبڑی طاقتوں کے بطورضامن ،ان کودینے کاوعدہ کیاگیاتھا۔آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری خاموش زبانوں، نابینا آنکھوں،بہتے زخموں، لُٹی عزتوں اور بے بس ہاتھوں میں جوان لاشے اٹھائے ضمیر ِعالم کو جھنجھوڑنے کی ناکام مگر پُر امید کوشش میں مصروف و شکوہ کناں ہیں۔
1948ء میں اقوامِ متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے 48 ممالک کی رضامندی سے 30 دفعات پر مشتمل عالمی منشور جاری کیاتھا – اس منشور کے تحفظ ،بہتری اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیاتھا – انسانی حقوق کے اس عالمی منشور میں بنیادی انسانی حقوق مثلاً انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے-گو کہ اِس دن دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی ،مگر سوا ئے پاکستان و دیگر چند ممالک کے ،اقوامِ عالم نے کشمیرو فلسطین میں ہونے والی اندوہ ناک انسان دشمنی کو ہمیشہ کی طرح پسِ پشت ڈالے رکھاہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ(افسپا)، جمّوں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ اور ٹیرر ازم اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیویٹیز ایکٹ (ٹاڈا ایکٹ) جیسے کالے قوانین کے تحت ’’لائسنس ٹو کِل‘‘کی حامل7لاکھ سے زائد بھارتی فوج ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے جبکہ کم و بیش بیس ہزار کے قریب لوگ بالخصوص نوجوان لا پتہ ہیں جن کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ کسی کال کوٹھڑی میں بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہو رہے ہوں گے۔
-بھارت انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے گمنام قبروں کی تحقیقات کے حوالے سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبے کو بارہا رد کر چکاہے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے جو بین الاقوامی و بھارتی نجی قوانین کے مطابق بچوں کے حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے -اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں بھارت عالمی برادری کے سامنے کشمیری جدوجہد کو دہشت گرد ی قرار دینے کی کوششیں کرتا رہا ہے البتہ جولائی 2016ء میں کشمیری حریت پسند برہان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہدِ حقِ خود ارادیت میں ایک نیا جذبہ و جنون بھرتےہوئے بھارت کی تمام گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے-جس کا منہ بولتا ثبوت مذکورہ بآلا اقوام متحدہ کمشن برائے انسانی حقوق کی جون 2018ءمیں کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مرتب کی جانے والی (پہلی) رپورٹ ہے جس کے مطابق جولائی 2016ءسے مارچ 2018ء تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 170 نہتے کشمیری بھارتی جارحیت کا نشانہ بنے جبکہ 6 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن میں کئی افراد بینائی جیسی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں-اس رپورٹ میں قتل، انصاف کی کمی، فوجی عدالتیں، انتظامی ناکامی، طاقت کا بے دریغ استعمال، پیلٹ گن کا وحشیانہ استعمال، من مانی گرفتاریاں، تشدد، گمشدگیاں، حقوقِ صحت،تعلیم اور اظہار ِرائے کی خلاف ورزی، صحافیوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی جیسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے-دیگر کئی تنظیموں کی تحقیقات سمیت اس رپورٹ میں بھی بھارتی کالے قوانین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا -بھارت کی جانب سے اس رپورٹ کی مجرمانہ مخالفت کے بعد بھارتی غیر قانونی کردار میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی اور اب عالمی برادری کی خاموشی یقیناً مجرم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگی۔
پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپینوزا کے حالیہ دورہ پاکستان پر انہیں مقبوضہ کشمیر کی مکمل صورتحال سے آگاہ کیا گیا -یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک متنازعہ علاقہ ہے جس میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ، استصوابِ رائے سے کرنا ہے۔
مسلمانوں کے دکھ پر رونا اب انتہا پسندی بن چکا۔ اب تو مطالعہ پاکستان بھی مسخروں کے مزاح کا عنوان بن چکا، بیانیہ اب وہی ہے جو مغرب سے آتا ہے اور مسلمانوں کے حقوق انسانی نہیں ہوتے۔ ہم نے اپنے نصاب کو جانے کن کن فضولیات سے بھر رکھا ہے۔ کیا اس میں فلسطین کے محمود درویش کی دو نظمیں ہم شامل نہیں کر سکتے۔کبھی آپ محمود درویش کو پڑھ کر تو دیکھیے۔ میں انگریزی ادب کا بھی طالب علم رہا ہوں اور ورڈز ورتھ، کیٹس، بائرن، شیلے، ییٹس، براؤننگ، ہارڈی، جان ڈن، شیکسپیئر، ملٹن سمیت کتنوں کو پڑھ رکھا ہے لیکن جو بات محمود درویش میں ہے وہ ان میں کہاں۔ محمود درویش، نزاد قبانی، سمیع قاسم، فوزی اسمر، حنا ابوحنا، توفیق زیاد، توفیق فیاض، امین حبیبی، ایک کہکشاں آباد ہے ہمیں جس کا علم ہی نہیں۔ سمیع قاسم کی نظم ’’ارم‘‘ تو کمال ہے۔ ابدا علی ھذاالطریق،رایاتنابصرالضریر۔ ہمیشہ سے اس راستے پر ہمارے پرچم اندھوں کیلئےبصارت بنے ہیں۔محمود درویش کہتا: ’’ویشتمنااعادینا،ھلا!ھمج ہم،عرب۔ نعم عرب‘‘۔ ہمارے دشمن آوازے کستے ہیں، یہ عرب ہیں، یہ اجڈ ہیں اور وحشی۔ ہاں سن رکھو ہم عرب ہیں۔ درویش کے ’’انا شید کوبا‘‘ کا تو جواب نہیں۔
ذدا نزاد قبانی کی یہ نظم دیکھیے: ’’آل اسرائیل! ایسا اترانا بھی کیا؟ گھڑی کی سوئیاں آج رک گئیں تو کیا ہوا کل یہ پھر سے چل پڑیں گی۔ زمین کے چھن جانے کا غم نہیں باز کے پر بھی جھڑ جایا کرتے ہیں۔ طویل تشنگی کا بھی ڈر نہیں کہ پانی ہمیشہ چٹانوں کی تہہ میں ہوتا ہے۔ تم نے فوجوں کو ہرا دیا لیکن تم شعور کوشکست نہیں دے سکے۔ تم نے درختوں کی چوٹیاں کاٹ ڈالیں جڑیں مگر باقی ہیں‘‘۔ ہم آج بے بس سہی، مگر جڑیں تو باقی ہیں۔ ان جڑوں کی آبیاری تو ہم کر ہی سکتے ہیں۔ ہم اپنے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے لیکن ہم ان دکھوں کو سنبھال کر تو رکھ سکتے ہیں۔ ہم اس امانت کو اگلی نسل کو تو سونپ سکتے ہیں۔ کیا عجب ہماری نسلیں ہماری طرح بے بس نہ ہوں۔ وقت کا موسم بدل بھی تو سکتا ہے۔
محمود درویش نے کہا تھا: ’’اے میرے وطن میری زنجیروں نے مجھے عقاب کی سختی اور رجائی کی نرمی سکھائی معلوم نہ تھا ہماری کھال کے نیچے طوفان جنم لیں گے اور دریاؤں کا وصل ہوگا انہوں نے مجھے کوٹھڑی میں قید کیا میرے دل نے وہاں مشعلیں فروزاں کر دیں انہوں نے دیوار پر میرا نمبر لکھا لیکن دیواریں مرغزار ہو گئیں انہوں نے میرے جلاد کی تصویر بنائی ، روشن زلفوں سے اسے چھپا لیا میں نے شکست کو اٹھا کر پٹخ دیا اور فاتحین نے تو صرف زلزلوں کو جگایا ہے‘‘۔ ہم کیسے بھول جائیں ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔
یہ دکھ ہماری اگلی نسل کی امانت ہے۔ آپ کے آنگن میں بچے کھیل رہے ہوں گے۔ انہیں بلایے، پاس بٹھایے اور یہ دکھ ان کی رگِ جاں میں انڈیل دیجیے کہ ’’جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔اورہاں ان تمام نوحوں میں بھارتی درندوں کی بے رحم سنگینوں کاشکار،خونِ حق سےتربترکشمیرہم نے کہاں کھودیا؟اس کی یادیں اب کیوں دھندلارہی ہیں؟ہرروزوہاں کے نوجوان اپنے سروں پر سبز ہلالی پرچم کواپنا کفن سجا کرراہِ عدم کوروانہ ہونے میں تفاخرمحسوس کررہے ہیں۔وقت رخصت ان کے چہروں کی مسکراہٹ پتہ دے رہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق کے حضور اس کے انعامات سے خوش وخرم اورراضی ہوکرابدی اوردائمی زندگی کی کامیابی کے پروانوں کے تمغوں سے سرفرازکر دیئے گئے ہیں۔ ایساکیوں نہ ہو کہ وہاں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی نشانی،مردِ بطل حریت سیدعلی گیلانی کی للکاراورانکاررگوں میں منجمدخون کوایسی حرارت بخش رہاہے جس سےجہاں ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں شوقِ شہادت کے جذبوں سے معمورجوانیاں میدانِ عمل میں اترآئی ہیں وہاں ارضِ جنت سے آسیہ اندرابی نمودارہوکرمتعصب شیطانوں اورظالم کافروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرآتش حریت سےپکار اٹھی ہے کہ
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سوبارلے چکاہے توامتحاں ہمارا
آج آسیہ کواس کی دو نوجوان ساتھیوں سمیت بھارت کی سب سے بدترین جیل کی کال کوٹھڑیوں میں قیدتنہائی میں ڈال کراس کے عزم کوشکست دینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ بزدل بنیاء جانتاہے کہ آسیہ نے ساری عمرثابت قدمی کی وہ زریں مثال قائم کی ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے اس کے شوہرڈاکٹرقاسم کوبے گناہی کے جرم میں آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے کے باوجوداس کے پائے استقامت میں کوئی لرزش نہیں آئی۔ اس علیل مجاہدہ کوجیل کی کوٹھڑی میں جہاں انتہائی ضروری ادوّیات سے محروم کردیاگیاہے وہاں کال کوٹھڑی میں قیدتنہائی میں ناقص اورمضر صحت غذا بھی سلاخوں سے پلاسٹک کی تھیلیوں میں ڈال کردھکیل دی جاتی ہے۔یقیناً میری مجاہدہ بہن اپنے رب کے اس وعدے پرایمان کی حدتک یقین لاچکی ہے ، اور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے،اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے(سورة الضحى: 4-5)اسی لئے وہ آج ہندودرندوں کے تعذیب وابتلاء کوانتہائی بہادری سے برداشت کررہی ہے۔
مجھ تک جب ایسی مستندخبریں پہنچتی ہیں تومیرے شب وروزمجھے انتہائی بے چین ،پریشان اورکرب میں مبتلاکردیتے ہیں کہ ہمارامیڈیاکس قدر آسانی سے ان کوبھولنے کے جرم عظیم کامرتکب ہورہاہے۔اسلام آبادمیں میرے آقاکی سیرت پربین الاقوامی کانفرنس کاانعقادہواجہاں دنیابھر سے معززعلماء اورموجودہ حکمرانوں نے میرے آقاکی صفات کاتذکرہ کیالیکن میرے آقا نبیۖ اکرم جنہیں میرے رب نے وَمَاأَرْسَلْنَاكَ إِلَّارَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَسب جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا،ان کے سینہ مبارک پرنازل الہامی اورآخری کتاب قرآن حکیم کایہ پیغام کیوں بھول گئے کہ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا۔۔ اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور ان بیکس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کےرہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما(سورة نساء:75)۔
پاکستان کوریاست مدینہ بنانے والے میرے رب کایہ اٹل فیصلہ بھی ذہن نشیں کرلیں کہ:…کیالوگوں نے یہ سمجھ رکھاہےکہ وہ بس اتناکہہ دینے سے چھوڑدیئے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے”اوران کوآزمایانہ جائے گا؟اللہ کوتویہ ضروردیکھناہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون!(سورة العنکبوت:2۔3)اورہاں یہ بھی سن لو””۔ اور اس سے بہتر کس کی بات ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور خود بھی اچھے کام کیے اور کہا بے شک میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں!(سورة الفصلات:33۔41) یقیناًان حالات میں دل بے اختیار پکاراٹھتاہے کہ
’’ جہاں ہمارے حضورؐ بلند ہوئے تھے، وہاں ہم پست ہو گئے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں