Walls of power and the scales of history

طاقت کی فصیلیں اورتاریخ کامیزان

امریکی جنگوں،مداخلتوں اورسیاسی شکستوں کاتاریخی وتحقیقی مطالعہ

تاریخ کے صحیفے پرسلطنتوں کے نام ہمیشہ سونے کے پانی سے نہیں لکھے جاتے؛بعض اوقات توپوں کادھواں،اجڑے ہوئے شہروں کی خاک اورشکستہ قوموں کی آہیں بھی ان کےنام کے گردایسا حاشیہ کھینچ دیتی ہیں جسے زمانے کی کوئی روشنائی مٹا نہیں سکتی۔ قوت، بلاشبہ ،ریاستوں کے ہاتھ میں ایک عظیم وسیلہ ہے؛مگر قوت اورحکمت ایک ہی چیز نہیں،اورعسکری فتح اورسیاسی کامیابی ہمیشہ ایک ہی منزل کے دو نام نہیں ہوتے۔دنیا کی تاریخ بارباریہ سبق دہراتی رہی ہے کہ تلوارکسی دروازے کوتوڑتوسکتی ہے،مگر دلوں پرحکومت نہیں کرسکتی؛فوج کسی دارالحکومت پرقبضہ توکرسکتی ہے،مگرکسی قوم کی اجتماعی یادداشت،تہذیبی مزاحمت اورسیاسی ارادے کوہمیشہ کیلئےزیرنہیں کرسکتی۔

امریکا بیسویں صدی کے نصف آخرسے اکیسویں صدی تک دنیاکی سب سے طاقتورعسکری،معاشی اورتکنیکی قوتوں میں سرفہرست رہاہے۔اس کے پاس سمندروں پرتیرتے ہوئے ہوائی اڈے ہیں،براعظموں کوناپنے والی فضائی قوت ہے،دنیاکے مختلف خطوں میں عسکری اڈوں کاجال ہے اورایسا دفاعی بجٹ ہے جس کابہت سی ریاستیں تصوربھی نہیں کرسکتیں۔اس کے باوجودسوال یہ ہے کہ آخرکیوں کوریاسے ویتنام،بیروت سے موغادیشو،کابل سے بغداداور لیبیا سے شام تک کئی مقامات پرغیر معمولی عسکری طاقت دیرپاسیاسی وفوجی فتح میں تبدیل نہ ہوسکی؟یہ سوال امریکادشمنی یاامریکادوستی سے زیادہ تاریخ، طاقت اور سیاسی بصیرت کاسوال ہے۔

اصل مسئلہ شایدیہ نہیں کہ امریکاہرجنگ’’ہار‘‘گیا؛تاریخی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ امریکا نے کتنی جنگیں میدان میں جیت کرسیاست میں ہاریں؟کتنی حکومتیں گراکرایسے بحران پیدا کیے جن کاحل خودواشنگٹن کے پاس بھی نہ رہا؟اورکتنی مرتبہ ایک محدودعسکری مقصد بتدریج ایسے سیاسی دلدل میں بدل گیاجہاں فتح کی تعریف ہی مبہم ہوگئی؟

1950ءمیں جزیرۂ کوریاجنگ کی آگ میں لپٹاتوابتدامیں اسے کمیونزم اور مغربی دنیاکےدرمیان ایک بڑے نظریاتی تصادم کی پہلی مسلح آزمائش سمجھاگیا۔شمالی کوریاکی افواج جنوب کی طرف بڑھیں؛امریکااقوام متحدہ کے پرچم تلے جنوبی کوریاکی حمایت میں میدان میں اترا۔ابتدائی مہینوں میں جنگ کانقشہ کئی مرتبہ بدلا ۔کبھی شمالی افواج جنوبی ساحلوں تک پہنچیں،کبھی جنرل ڈگلس میک آرتھرکی قیادت میں اتحادی افواج شمال کی جانب اس سرعت سے بڑھیں کہ یالودریا تک پہنچنے لگیں لیکن چین کے جنگ میں داخل ہونے سے طاقت کاترازوپھربدل گیا۔

تین برس کی خونریزلڑائی کے بعد1953ءمیں جنگ بندی ہوئی۔نہ مکمل فتح ہوئی،نہ مکمل شکست۔سرحدتقریباًاسی علاقے میں قائم رہی جہاں سے تصادم شروع ہواتھا۔لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں،بستیاں اجڑیں،خاندان ہمیشہ کیلئےدوحصوں میں تقسیم ہو گئے اورکوریا آج تک سیاسی طورپرمنقسم ہے۔گویاکوریا:وہ جنگ جس کااختتام ہوا،فیصلہ نہیں۔یہ جنگ امریکی عسکری تاریخ کا پہلا بڑا سبق تھی کسی مخالف فوج کوپیچھےدھکیل دیناآسان ہوسکتاہے،مگر ایک ایسےسیاسی تنازعےکوہمیشہ کیلئےختم کرناکہیں زیادہ دشوارہے جس کےپیچھےبڑی طاقتوں کے مفادات اورمقامی قومیتیں کارفرما ہوں۔

اگرکوریاایک نامکمل فیصلہ تھاتوویتنام امریکی طاقت کیلئےایک ایساآئینہ بن گیاجس میں پہلی مرتبہ عسکری قوت کی حدود پوری دنیاکونمایاں دکھائی دیں۔ویتنام میں مریکاکابڑھتاہواکردارسردجنگ کےاس نظریےسےوابستہ تھاجسے’’ڈومینو تھیوری‘‘کہاجاتاتھا؛اندیشہ یہ تھاکہ اگرجنوبی ویتنام کمیونسٹ قوتوں کے ہاتھ آ گیاتوجنوب مشرقی ایشیاکے دوسرے ممالک بھی یکے بعددیگرے اسی جانب جھک سکتے ہیں۔

1960ءکی دہائی تک امریکی فوجی موجودگی لاکھوں سپاہیوں تک پہنچ گئی۔دنیاکی جدیدترین فضائی قوت نے بمباری کی، جنگلات پرکیمیائی مادے برسائے گئے، دیہات خالی ہوئے اورایسی کارروائیاں ہوئیں جن کے اثرات نسلوں تک باقی رہے۔ لیکن میدانِ جنگ کی ایک حقیقت واشنگٹن کے عسکری منصوبہ سازوں کے سامنے روزبروزواضح ہوتی گئی:ویت کانگ اور شمالی ویتنامی افواج کیلئےیہ محض ایک نظریاتی جنگ نہ تھی؛ان کیلئےیہ قومی خودمختاری،تاریخی مزاحمت اور بیرونی اقتدارکے خلاف طویل جدوجہدکاتسلسل بھی تھی۔یہی وہ فرق تھاجسے صرف اعدادوشما سے سمجھناممکن نہ تھا۔امریکادشمن کے کتنے سپاہی مارسکتاہے،یہ ایک عسکری سوال تھا؛لیکن کتنے ویتنامی دوبارہ جنگ میں شامل ہونے کیلئے تیارہوں گے، یہ سیاسی اورتہذیبی سوال تھا۔

1968ءکا’’ٹیٹ حملہ‘‘عسکری اعتبارسے شمالی ویتنام اورویت کانگ کیلئےبھاری نقصان کاباعث بنا،لیکن سیاسی اعتبارسے اس نے امریکی رائے عامہ کوجھنجھوڑدیا ۔ واشنگٹن کے ان دعوؤں پراعتبارمتزلزل ہونے لگاکہ فتح قریب ہے۔بالآخر1973ء میں امریکی افواج کا بڑا حصہ واپس چلاگیااور1975ءمیں سائگون شمالی ویتنام کےقبضے میں آگیا۔سائگون سے امریکی انخلاکی تصاویرمحض ایک جنگ کے اختتام کی تصویریں نہ تھیں؛وہ اس حقیقت کااستعارہ بن گئیں کہ جدیدترین اسلحہ بھی اس وقت بےبس ہوسکتاہے جب کسی جنگ کاسیاسی مقصد،مقامی حقیقت اورعوامی ارادہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ویتنام نے امریکا کو یہ درس دیا تھا۔افسوس یہ کہ تاریخ کے استاد کی آوازاکثرتوپوں کے شورمیں سنائی نہیں دیتی۔

ایران اورامریکاکے تعلقات کومحض حالیہ تصادم یاپابندیوں سے سمجھناایسا ہی ہے جیسے کسی درخت کے پتوں کودیکھ کر اس کی جڑوں کافیصلہ کرلیاجائے۔ 1953ء اس تاریخ کاایک اہم موڑ ہے۔ایرانی وزیراعظم محمدمصدق نے تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لینےکی کوشش کی۔برطانیہ کےساتھ شدیدتنازع پیداہوااورامریکی وبرطانوی خفیہ اداروں نےان کی حکومت کے خلاف ایک خفیہ آپریشن کی حمایت کی جس کے نتیجےمیں مصدق اقتدارسےہٹادیے گئےاور شاہ محمدرضاپہلوی کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ یہ واقعہ ایرانی اجتماعی یادداشت میں ایک ایسازخم بن گیاجس نے امریکاکے بارے میں گہرے عدم اعتمادکوجنم دیا ۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب نے شاہی نظام ختم کیا،امریکی سفارت خانے کابحران پیداہوااوردونوں ممالک کے تعلقات تقریباً مستقل دشمنی کی طرف چلے گئے ۔ 1980ءکی دہائی میں ایران۔عراق جنگ کے دوران امریکاکی خلیج میں فوجی موجودگی بڑھی۔ 1988ءمیں’’آپریشن پریئنگ مینٹس‘‘کے دوران امریکی اورایرانی افواج کے درمیان براہ راست بحری جھڑپ بھی ہوئی۔ اسی سال امریکی بحری جہازیوایس ایس وینسینیس نے ایران ایئرکی مسافرپرواز655کو مار گرایا،جس میں290افرادہلاک ہوئے ۔ یہ سانحہ ایرانی ذہن میں آج بھی ایک گہرا تاریخی حوالہ ہے۔

بعدکے عشروں میں پابندیاں،جوہری پروگرام،خلیجی سیاست،اسرائیل کی سلامتی،عراق،شام اورلبنان جیسے مسائل دونوں ممالک کوایک دوسرے کے مقابل کھڑاکرتےرہے۔جنوری 2020ء میں بغدادمیں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے کشیدگی کونئی سطح تک پہنچادیا۔یہاں بھی بنیادی سوال یہی ہے:کیاکسی ریاست کومعاشی پابندیوں، عسکری دباؤیامحدودحملوں کے ذریعے مستقل طورپرایک خاص سیاسی راستہ اختیارکرنے پرمجبورکیا جا سکتاہے؟تاریخ کاجواب نہایت محتاط ہے۔

دباؤحکومتوں کوکمزوربھی کرسکتاہے،مگربعض اوقات وہی دباؤقوم پرستانہ جذبات کومضبوط،مخالف حکومت کوداخلی جوازفراہم اورخطے میں غیرریاستی اتحادیوں کے استعمال کوبڑھادیتاہے۔حالیہ موجودہ امریکی پالیسی کوچین کی توانائی کی ضروریات،ایران اوروینزویلاکے تیل اوربڑی طاقتوں کی معاشی رقابت سے بھی جوڑتاہے۔ توانائی،تجارتی راستے اوربڑی طاقتوں کی معاشی مسابقت ہمیشہ سے جنگ وامن کی سیاست کے اہم عناصررہے ہیں۔

11ستمبر2001ءکے حملوں کے بعدامریکاافغانستان میں داخل ہوا۔ابتدائی مقصدنسبتاًواضح تھا:القاعدہ کے ڈھانچے کو تباہ کرنا اورطالبان حکومت کوہٹانا جس نے اسامہ بن لادن کوپناہ دے رکھی تھی۔چندہفتوں میں طالبان حکومت بڑے شہروں سے ہٹ گئی۔یہ عسکری فتح تھی۔لیکن اس کے بعدجنگ کی نوعیت بدل گئی۔دہشتگردی کے خلاف محدودکارروائی بتدریج ریاست سازی،جمہوری اداروں کی تعمیر،افغان فوج کی تشکیل،ترقیاتی منصوبوں،انسدادِبغاوت اور پورے سیاسی نظام کی تشکیلِ نو کے ایک عظیم منصوبے میں تبدیل ہوگئی۔یہیں سے عسکری کامیابی اورسیاسی حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگا۔

افغانستان محض نقشے پرکھینچی ہوئی سرحدوں کانام نہیں تھا۔قبائلی تعلقات،نسلی تقسیم پاکستان وایران سمیت پڑوسی ممالک کےمفادات،بدعنوانی،مقامی طاقت کے مراکز،دیہی معاشرہ، مذہبی روایت اورجنگ کی کئی دہائیوں نے ایساپیچیدہ سماجی منظر نامہ تشکیل دیاتھاجسے بیرونی طاقت کے ذریعے چندبرسوں میں ازسرنو مرتب کرناتقریباً ناممکن تھا۔طالبان ختم نہیں ہوئے۔وہ دیہی علاقوں میں دوبارہ منظم ہوئے،سرحدی خطوں میں پناہ گاہیں تلاش کیں اوروقت کواپنے حق میں استعمال کیا۔امریکاکے پاس گھڑیاں تھیں؛طالبان کے پاس وقت۔یہ فرق بالآخر فیصلہ کن ثابت ہوا۔

اگست2021ءمیں کابل پرطالبان کادوبارہ قبضہ امریکی تاریخ کے سب سے تکلیف دہ سیاسی مناظرمیں شمارہوا۔کابل ہوائی اڈے کی تصاویرنے ویتنام کی یاد تازہ کردی۔یہ کہناتاریخی طور پرزیادہ درست ہوگاکہ امریکاافغانستان میں ہرعسکری معرکہ نہیں ہارا؛لیکن وہ اس سیاسی نظام کومستقل بنیادوں پرقائم رکھنے میں ناکام رہاجس کیلئےبیس برس،بے پناہ وسائل اورہزاروں جانیں صرف کی گئی تھیں۔یہ عسکری شکست سے کہیں بڑھ کر سیاسی منصوبے کی شکست تھی۔ گویاافغانستان:بیس برس، دو کھرب ڈالرسے زیادہ اخراجات اورامریکی بدترین شکست کاایک نامکمل خواب تاریک کاحصہ بن گیا۔

2003ءمیں امریکااوراس کے اتحادیوں نے عراق پرحملہ کیا۔بنیادی جوازیہ پیش کیاگیا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔بغدادچند ہفتوں میں گرگیا۔صدام حسین کانظام ختم ہوگیا۔لیکن وہ ہتھیار،جنہیں جنگ کا مرکزی جوازبنایاگیاتھا،اس شکل میں دریافت نہ ہوئے جس کادعویٰ کیاگیاتھا۔یہاں سے اخلاقی اورسیاسی بحران نے جنم لیا۔

عراقی فوج اوربعث پارٹی کے وسیع ریاستی ڈھانچے کوتوڑنے سے لاکھوں افراداچانک اقتداراورروزگارسے باہرہوگئے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی،بغاوت نے جنم لیا،القاعدہ اِن عراق نمودارہوئی اوربعدکے برسوں میں انہی بحرانوں کی خاک سے داعش جیسی تنظیم اٹھی۔ابوغریب جیل کی تصاویرنے امریکاکی اخلاقی ساکھ کوشدید نقصان پہنچایا۔عراق کی جنگ اس تضادکی شاید سب سے نمایاں مثال ہے جس میں ایک سپر پاورنے دشمن کی باقاعدہ فوج کوچندہفتوں میں شکست دی،لیکن وہ سیاسی خلاجواس فتح نے پیدا کیا،برسوں تک پُرنہ کیاجاسکا۔گویاقصر فتح ہوا،سلطنت کا نقشہ بدل گیا،مگرکوچہ وبازارمیں امن نہ اترسکا۔تاریخ کافیصلہ توپ کی آخری گھن گرج پرنہیں ہوتا؛وہ اس دن ہوتاہے جب یہ دیکھاجاتاہے کہ جنگ کے بعدانسان کی زندگی پہلے سے زیادہ محفوظ ہوئی یا نہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ عراق:بغداد فتح ہوا،مگرامن کہاں تھا؟

1991ءکی خلیجی جنگ اس عمومی داستان میں ایک اہم استثناپیش کرتی ہے۔صدام حسین نے کویت پرقبضہ کیاتھا۔امریکاکی قیادت میں ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد تشکیل پایا۔مقصد نسبتاًمحدود اورواضح تھا:عراقی افواج کوکویت سے نکالنا۔آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم نے مختصرعرصے میں یہ مقصدحاصل کرلیا۔امریکی قیادت نے بغداد پرمستقل قبضہ کرنے یاپوراعراقی سیاسی نظام بدلنے کی کوشش نہیں کی۔یہی فرق قابلِ غورہے۔جب جنگ کامقصدواضح،محدود اورقابلِ پیمائش ہو؛جب بین الاقوامی حمایت وسیع ہو؛اورجب عسکری کامیابی کےبعدسیاسی منصوبہ بےحد پھیل نہ جائے توطاقت نسبتاًمؤثرثابت ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خلیجی جنگ1991ء:محدودمقصد،واضح کامیابی کے باوجودناکامی تصورکیاجاتاہے۔2003ءکاعراق اسی ملک میں ایک بالکل مختلف نتیجہ سامنے لایا، کیونکہ مقصدمحض کویت آزادکرانانہیں بلکہ ایک پورا سیاسی نظام بدلناتھا۔

1999ءمیں نیٹونے یوگوسلاویہ کے خلاف تقریباًگیارہ ہفتے فضائی کارروائیاں کیں۔مقصدکوسووومیں سرب افواج کی کارروائیاں رکواناتھا۔آخرکارسرب افواج کوسوووسے نکلیں اوربین الاقوامی انتظام قائم ہوا۔نیٹواسے کامیابی قرار دیتا ہے،اور اس زاویےسےدیکھاجائےتواس کے بنیادی عسکری وسیاسی مقاصد بڑی حد تک حاصل ہوئے۔تاہم جنگ کےقانونی جواز، سلامتی کونسل کی واضح اجازت نہ ہونے،بمباری کے انسانی اثرات اوربعدکے سیاسی بندوبست پرآج تک بحث جاری ہے۔اسی لیے تاریخ کونعروں کے بجائے میزان درکارہے۔ہرپیچیدہ جنگ کوصرف’’فتح‘‘یا’’شکست‘‘کے ایک لفظ میں مقیدکرناکبھی کبھی خود تاریخ کے ساتھ ناانصافی بن جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ فیصلہ نہیں ہوپایا کہ کوسووو:فتح تھی یاایک پیچیدہ سمجھوتا؟

امریکا کیلئےطاقت کا آسان امتحان گریناڈااورپانامہ کے واقعات ہیں۔1983ءمیں امریکانےکیریبین کےچھوٹےجزیرے گریناڈا میں فوجی کارروائی کی۔امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کی حفاظت اورخطے میں پیداشدہ سیاسی بحران کواس کے اسباب میں شمارکیا۔چند ہی دنوں میں مزاحمت ختم ہوگئی۔1989ءمیں پانامہ میں’’آپریشن جسٹ کاز‘‘کے ذریعے جنرل مینوئل نوریگا کی حکومت ختم کی گئی۔یہ دونوں کارروائیاں عسکری اعتبارسے امریکاکیلئےنسبتاً آسان تھیں،کیونکہ مخالفین کے پاس نہ ویتنام جیسی افرادی قوت تھی،نہ افغانستان جیسا جغرافیہ،نہ عراق جیسا وسیع ریاستی ڈھانچہ اورنہ بڑی طاقتوں کی براہ راست پشت پناہی۔ مگر یہاں بھی ایک اصول سامنےآتا ہے:طاقت ہمیشہ وہاں سب سے زیادہ مؤثردکھائی دیتی ہےجہاں طاقت کاعدم توازن سب سے زیادہ ہو۔ اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں مخالف طاقت محض فوج نہیں بلکہ نظریہ،جغرافیہ،قومیت، مذہب، تاریخ اورعوامی مزاحمت کامجموعہ بن جائے۔

1982ءکے بعدلبنان میں امریکی افواج کثیرالقومی امن مشن کاحصہ بنیں ۔لیکن لبنان کی خانہ جنگی،اسرائیلی حملے،فلسطینی مسئلہ اورعلاقائی طاقتوں کی رقابت نے صورتحال کوبےحدپیچیدہ بنارکھاتھا۔اکتوبر1983ءمیں بیروت میں امریکی میرین بیرکس پرخودکش بم حملے میں241امریکی فوجی ہلاک ہوئے ۔چندماہ بعدامریکی فوج لبنان سے نکل گئی۔گویا بیروت لبنان کی تلخ یاد کایہ واقعہ آنےوالی دہائیوں میں غیرریاستی عسکری تنظیموں کیلئےایک نفسیاتی حوالہ بن گیا:اگر ایک سپرپاورکوناقابلِ برداشت سیاسی قیمت اداکرنے پرمجبورکیا جائے تواسے میدان چھوڑنے پرآمادہ کیاجاسکتاہے۔یہی منطق بعدمیں صومالیہ، عراق اور افغانستان میں مختلف صورتوں میں دیکھی گئی۔

1992ءمیں امریکی افواج انسانی امداد کی فراہمی اورقحط زدہ صومالیہ میں امن قائم کرنے کے وسیع بین الاقوامی منصوبے کے تحت داخل ہوئیں۔لیکن مشن جلد ہی مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں تبدیل ہوگیا۔اکتوبر1993ءمیں موغادیشومیں امریکی خصوصی دستوں کی کارروائی شدید لڑائی میں بدل گئی۔ امریکی ہیلی کاپٹرگرائے گئے،اٹھارہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے اوران کی لاشوں کی تصاویردنیابھرکے ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئیں۔واشنگٹن میں سیاسی فضابدل گئی اوراگلے برس امریکی افواج نکل گئیں۔ایک بارپھرمسئلہ یہ نہ تھاکہ امریکاکے پاس مزید لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔مسئلہ یہ تھاکہ جنگ کی سیاسی قیمت اس کے مقصد سے بڑی ہو گئی تھی۔یہی جدید جمہوری طاقتوں کی ایک بنیادی کمزوری اورخوبی بھی ہےکہ فوج میدان میں لڑتی ہے،مگرجنگ جاری رکھنے کی اجازت بالآخرعوامی رائےاورسیاسی نظام سے ملتی ہے۔موغادیشوصومالیہ کی گلیوں نے طاقت کی حدکی ایک نئی تشریح واضح کردی۔

2011ءمیں عرب بہارکے دوران معمرقذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی۔نیٹونے فضائی کارروائیاں کیں،جن میں امریکانے اہم کرداراداکیا۔قذافی کی حکومت ختم ہو گئی۔لیکن اس کے بعدلیبیامستحکم جمہوری ریاست میں تبدیل نہ ہوسکا۔مختلف مسلح گروہ، متوازی حکومتیں،قبائلی کشمکش،خارجی مداخلت اور طویل خانہ جنگی نے ملک کوتقسیم کردیا۔یہ عراق کے تجربے کی ایک اور بازگشت تھیحکومت ہٹاناریاست تعمیرکرنےسے کہیں آسان ہے۔بم طاقت کے بل بوتے پرکسی فوجی مرکزکوتباہ کرسکتے ہیں؛عدالت، پولیس،آئین،سیاسی اعتماداورسماجی مصالحت پیدانہیں کرسکتے۔یہ ادارے بارودکی بوسے نہیں،وقت، رضامندی اورمعاشرتی اعتمادسے بنتے ہیں۔تاہم یہ ثابت ہوگیا کہ لیبیاکی حکومت توگرانے میں کامیاب ہوگئے لیکن ریاست پھر بھی بکھرگئی۔

شام کی خانہ جنگی میں امریکانےبراہ راست پورے ملک پرقبضےکی کوشش نہیں کی،مگرداعش کےخلاف فضائی کارروائیاں،کرد قیادت میں شامی ڈیموکریٹک فورسزکی حمایت،محدود موجودگی اورشامی حکومت کے خلاف بعض میزائل حملے اس تنازعے میں امریکی کردارکے نمایاں پہلورہے۔داعش کی نام نہاد خلافت کاجغرافیائی اقتداربڑی حدتک ختم ہوگیا،مگرشام کاسیاسی بحران ختم نہیں ہوا۔یہاں روس،ایران،ترکیہ،اسرائیل،خلیجی ممالک،کرد قوتیں،شامی حکومت اورمتعدد مسلح گروہ اپنے اپنے مفادات کے ساتھ موجودرہے۔شام نے ایک مرتبہ پھرثابت کیاکہ محدودجنگ،لامحدودپیچیدگیوں کے باوجودایک جنگ میں ایک دشمن کوشکست دینااورپورے سیاسی مسئلے کوحل کرنا دوجداگانہ چیزیں ہیں۔

امریکی مداخلتوں کی تاریخ صرف باقاعدہ جنگوں تک محدود نہیں بلکہ لاطینی امریکا میں توپوں سے پہلے خفیہ ہاتھوں نے بھی پورازورلگایا ۔1954ءمیں گوئٹے مالامیں صدریعقوب آربینزکی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی حمایت یافتہ کارروائی نے حکومت کاتختہ الٹ دیا۔1961ءمیں کیوباکے’’بے آف پگز‘‘حملے میں امریکاکی حمایت یافتہ جلاوطن کیوبن فورسزفیڈل کاسترو کی حکومت گرانے میں ناکام رہیں۔

1965ءمیں امریکی فوج ڈومینیکن ریپبلک میں اتری۔1980ءکی دہائی میں نکاراگوامیں’’کونٹرا‘‘باغیوں کی امریکی حمایت نے وسطی امریکاکوایک طویل سیاسی اورعسکری بحران میں مبتلا رکھا۔ان مثالوں کاذکراس لیے اہم ہے کہ جدیدطاقت صرف ٹینک کے ذریعے اپنااثر نہیں بڑھاتی۔خفیہ ادارے،اقتصادی پابندیاں،حکومت مخالف قوتوں کی حمایت،سفارتی دباؤ،تجارتی محاصرہ اورمعلوماتی جنگ بھی ریاستی طاقت کےآلات ہیں۔یوں بعض جنگیں اعلان کے بغیر لڑی جاتی ہیں۔ان میں توپ کی آوازکم ہوتی ہےمگرتاریخ کے زخم کبھی کبھی اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں۔

آخرامریکابار بارسیاسی دلدل میں کیوں اترتاہے؟اس طویل تاریخ سے چندمستقل اصول نمایاں ہوتے ہیں۔
اول، واشنگٹن کئی مرتبہ عسکری برتری کوسیاسی اختیارسمجھنے کی غلطی کرتارہا۔میدانِ جنگ میں دشمن کوشکست دینا کسی معاشرے کواپنی مرضی کے مطابق دوبارہ تشکیل دینے کی ضمانت نہیں۔
دوم، مقامی تاریخ کونظراندازکرناخطرناک ثابت ہوا۔ویتنام میں قوم پرستی،افغانستان میں قبائلی ومذہبی ڈھانچہ،عراق میں فرقہ وارانہ توازن اورلیبیا میں ریاستی کمزوری ایسی حقیقتیں تھیں جنہیں واشنگٹن کی منصوبہ بندی ہمیشہ مکمل طورپرسمجھ نہ سکی۔
سوم،’’مشن کریپ‘‘یعنی مقصدکامسلسل پھیلاؤباربارسامنے آیا۔افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائی ریاست سازی میں بدل گئی؛عراق میں حکومت کی تبدیلی پورے سیاسی نظام کی تعمیرنوبن گئی۔
چہارم،جدید جنگیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ جوازسے بھی جیتی جاتی ہیں۔جس دن جنگ کے اخلاقی یاقانونی جوازپرسوال اٹھ جائے،اسی دن دشمن کوایک ایساہتھیارمل جاتاہے جوکسی میزائل سے زیادہ مؤثر بیانیہ ہوسکتاہے۔
پنجم،بڑی طاقتیں وقت کوبرسوں میں ناپتی ہیں،مقامی مزاحمتی قوتیں نسلوں میں۔ایک امریکی صدرچاریاآٹھ سال کیلئےآتاہے؛ ایک افغان جنگجواپنی زمین
کواپنے دادااورپوتے کے درمیان جاری تاریخ سمجھ سکتاہے۔دونوں کی گھڑی ایک نہیں ہوتی۔ امریکاکے پاس گھڑی توہے لیکن وقت ہمیشہ مقابل فریق کا
ساتھی رہا۔

گزشتہ کئی واقعات کے بعداس سخت مگر حقیقی دعویٰ کوبہت تقویت ملی ہے کہ امریکااپنے مفادات کی خاطربالآخراپنے دوستوں کوقربان کردیتاہے۔اس دعوے کومطلق تاریخی قانون بنانافی الحال مشکل اس لئے ہے کہ امریکا کے کئی اتحاد کئی دہائیوں سے قائم ہیں،جن میں نیٹو،جاپان،جنوبی کوریااوردیگرریاستوں کے ساتھ تعلقات شامل ہیں لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔نیٹوکے ساتھ تعلقات ٹرمپ کے شکوہ وشکائت کے بعدلرزرہے ہیں،جاپان میں بھی اسے طاقت کے زورپرتعلقات قائم رکھنے پرآوازیں بلندہوناشروع ہوگئی ہیں اورجنوبی کوریافی الحال شمالی کوریاکی سخت گیرپالیسیوں سےنالاں ہونے کی بناء پرامریکی شجرسے پیوستہ ہے۔

دوست،اتحادی اورمفاد کی سردمنطق کوسمجھنے کیلئے بین الاقوامی سیاست کابنیادی اصول یہ ہے کہ ریاستیں ہمیشہ دوستی سے زیادہ مفادکی پابند ہوتی ہیں۔آج کا اتحادی کل اختلاف کاشکار ہوسکتاہے۔ایران کاشاہ کبھی واشنگٹن کاقریبی اتحادی تھا۔ دام حسین کے عراق کو1980ءکی دہائی میں ایران کے مقابل ایک مخصوص اسٹریٹجک زاویے سے دیکھاگیا،مگر1990ءکے بعد وہ امریکاکاسب سے بڑاعلاقائی دشمن بن گیا۔افغان مجاہدین کوسوویت یونین کےخلاف حمایت ملی؛بعدمیں اسی خطےمیں امریکانے بیس سال کی جنگ لڑی۔یہ واقعات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں دائمی محبت یادائمی نفرت نہیں، دائمی مفادات کاتصورزیادہ طاقت وررہاہے۔لیکن یہی حقیقت بڑی طاقتوں کیلئےایک اخلاقی امتحان بھی ہے۔جو ریاست ہرتعلق کوصرف فائدے اور نقصان کے ترازومیں تولے،وہ ممکن ہے وقتی اتحادی توپیدا کرلے،لیکن پائیداراعتمادکم ہی پیداکرتی ہے۔

اکیسویں صدی میں امریکاکیلئےسب سےبڑاطویل المدت اسٹریٹجک سوال چین کاعروج ہے۔یہ کشمکش صرف بحری جہازوں اورمیزائلوں تک محدود نہیں۔ سیمی کنڈکٹر،مصنوعی ذہانت، بندرگاہیں،تجارتی راستے،توانائی، معدنیات،کرنسی،عالمی مالیاتی نظام اورانفراسٹرکچراس نئے مقابلے کے محاذ ہیں۔اسی تناظرمیں ایران،خلیج،بحیرۂ عرب،بحرِہنداورپاکستان جیسے ممالک کی جغرافیائی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

موجودہ عالمی سیاست کے تناظرمیں ایران اور وینزویلا کے تیل کو چین کی توانائی کی ضروریات سے جوڑااورسی پیک کو اسی بڑی طاقتوں کی مسابقت کاحصہ سمجھا جا رہاہے۔یہ دعویٰ اب ڈھکا چھپانہیں رہالیکن یہ بنیادی حقیقت ناقابلِ انکارہے کہ چین کی بیلٹ اینڈرودآنیشیٹو ،بحری راستے،خلیجی تیل اوربحرِہند تک رسائی آنے والے عشروں کی عالمی سیاست کے اہم موضوعات ہیں۔یہاں امریکاکے سامنے وہی پراناسوال نئے لباس میں کھڑاہے:کیاہرجغرافیائی چیلنج کاجواب فوجی دباؤہوگا؟یا آنے والی طاقت وہ ہوگی جوبازار،بندرگاہ،علم، ٹیکنالوجی،سفارت اوراعتماد کے ذریعے اپنااثر قائم کرے گی؟

سلطنتیں اکثراپنے عروج میں یہ گمان کربیٹھتی ہیں کہ ان کی طاقت ہی ان کی دلیل ہے۔لیکن تاریخ کامیزان مختلف ہے۔روم کے لشکرتھے؛روم باقی نہ رہا۔ منگولوں کی یلغارتھی؛ان کی سلطنت تقسیم ہوئی۔برطانیہ کے بحری جہازسات سمندروں پرحکمرانی کرتے تھے؛بالآخرنوآبادیاتی نظام سمٹ گیا۔سوویت یونین ایٹمی اسلحے اورلاکھوں فوجیوں کامالک تھا؛لیکن کابل کی خاک اورداخلی اقتصادی وسیاسی بحران نے اس کے اقتدارکی بنیادیں ہلا دیں۔امریکابھی تاریخ کے اسی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔

اس کی یونیورسٹیاں،سائنس،ٹیکنالوجی،معاشی قوت،آئینی ادارے اورتخلیقی معاشرہ اس کی اصل طاقت کے بڑے سرچشمے ہیں لیکن اگراس کی عالمی شناخت مسلسل جنگ،پابندی،حکومتوں کی تبدیلی اورعسکری مداخلت کے ساتھ جڑتی گئی تونرم قوت کی وہ دولت گھٹ سکتی ہے جسے کوئی طیارہ بردارجہاز واپس نہیں لا سکتا۔طاقت کاسب سے بڑاکمال دشمن کوفناکرنا نہیں؛دشمنی کے اسباب کوکم کرناہے۔دانش مندریاست وہ نہیں جوہرمیدان میں جنگ جیت لے،بلکہ وہ ہے جوایسی جنگ سے بچ جائے جس کے اختتام کانقشہ اس کے پاس موجودنہ ہو۔

ویتنام کی دلدل،بیروت کے ملبے،موغادیشوکی گلیوں،بغداد کی آگ اورکابل کے ہوائی اڈے سے اٹھتی ہوئی گردگویاایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔ ہرباب کے عنوان مختلف ہیں،لیکن حاشیے پرایک ہی جملہ لکھادکھائی دیتاہے:عسکری قوت سیاسی حکمت کا نعم البدل نہیں۔اوریہی شایدامریکی جنگی تاریخ کا سب سے بڑاسبق اورآخری فیصلہ ہے۔جب کسی طاقت کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ چونکہ جنگ شروع کرسکتی ہے،اس لیے اس کاانجام بھی اپنے ارادے کے مطابق لکھ سکتی ہے،اسی لمحے تاریخ خاموشی سے اپناقلم اٹھاتی ہے۔تاریخ کاقلم بادشاہوں سے اجازت نہیں لیتا۔وہ فاتح کی تقریرنہیں سنتا؛وہ نتائج دیکھتا ہے۔

وہ پوچھتاہے کہ کتنے شہر فتح ہوئے نہیں،بلکہ کتنے معاشرے سنبھلے؛کتنے دشمن مارے گئے نہیں،بلکہ کتنی دشمنیاں ختم ہوئیں؛کتنے پرچم قلعوں پرلہرائے نہیں، بلکہ کتنے انسان امن کے ساتھ اپنے گھروں کولوٹے۔عدل سے محروم طاقت اپنی ہی ہیبت کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے،اوربصیرت سے خالی فتح کبھی کبھی شکست کاپیش لفظ ثابت ہوتی ہے۔قوموں کے عروج وزوال کی داستان میں یہی وہ میزان ہے جس سے کوئی سپرپاور،کوئی شہنشاہی اورکوئی عسکری اتحاد فرار نہیں پاسکا۔

آخرکارتوپیں خاموش ہوجاتی ہیں۔جہازبندرگاہوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔جرنیل ریٹائرہوجاتے ہیں۔صدربدل جاتے ہیں۔مگر زمین اپنے مقتولوں کو یاد رکھتی ہے،مائیں اپنے بیٹوں کو، قومیں اپنی توہین کواورتاریخ اپنی گواہی کو۔اورتاریخ کی گواہی یہ ہے کہ طاقت کی سب سے بلند منزل غلبہ نہیں،عدل ہے؛ اور سیاست کی سب سے بڑی فتح وہ ہے جس کے بعدنئی جنگ کی ضرورت باقی نہ رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں