بحرالکاہل میں ایک چھوٹاساجزیرہ دنیاکے نقشے پرنقطہ دکھائی دیتاہے،مگراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کی آواز ایک بڑی طاقت کی طرح ایک ووٹ شمارہوتی ہے۔دوسری طرف پاکستان ہے،وسیع سرزمین،بڑی آبادی،دفاعی صلاحیت اور بے شمارانسانی امکانات کے باوجودباربار بیرونی مالی سہارے کامحتاج۔یہ تقابل محض چھوٹے اوربڑے ملک کانہیں؛قانونی آزادی،معاشی اختیاراورعوامی خوشحالی کے درمیان فاصلے کا ہے ۔اسی فاصلے میں عالمی سیاست کے دوہرے معیاراور ہماری اپنی حکمرانی کی کمزوریاں بیک وقت نمایاں ہوتی ہیں۔
زیرنظربحث کامرکزی سوال یہ ہے کہ محدودوسائل رکھنے والی ریاستیں عالمی نظام میں اپنی جگہ کیسے برقراررکھتی ہیں، بڑی طاقتیں ان سے کیا فائدہ اٹھاتی ہیں،اورپاکستان اپنے وسائل کوقومی وقارمیں کیوں پوری طرح تبدیل نہیں کرپاتا۔اسی احتجاج کی زبان میں”50جعلی ممالک”کا سخت استعارہ سمجھانے کیلئے استعمال کیاجارہاہے تاہم جسے قانونی درجہ بندی کی بجائے ایسی خود مختاری پرتنقیدسمجھناچاہیے جوبیرونی انحصارسے محدودہوجاتی ہے۔چھوٹے ملک کے باشندے حقیقی انسان ہیں؛ان کی شناخت کااحترام کرتے ہوئے بھی ان کے گردقائم مفادات کے نظام پرپوری قوت سےسوال اٹھایاجاسکتاہے۔
1945ءکے بعداقوام متحدہ کے منشورنے خودمختارمساوات اورطاقت کے استعمال پرپابندی کوقانونی بنیاددی۔تاہم جنرل اسمبلی کی برابرآواز، مالی اداروں میں برابراختیارنہیں؛وہاں معاشی وزن فیصلہ سازی کومتاثرکرتاہے۔مضمون کی طوالت سے بچنے کیلئے صرف پچاس ممالک کی بجائے صرف نام اورآبادی کے ساتھ صرف بائیس ممالک اور علاقوں کی مثالیں پیشِ خدمت ہیں؛باقی اٹھائیس نام ازخود شامل نہیں کیے گئے۔جبکہ دوسرے مقامات پربحث سے محفوظ رکھنے کیلئے مذکورمثالیں متعلقہ خطے میں جمع کی گئی ہیں۔تاکہ قاری کونامکمل فہرست سے مکمل فہرست کابھی اندازہ ہو جائے۔
ان میں پہلاگروہ کیریبین کاہے:کیریبین کی بنیادی مثالوں میں سینٹ کٹس اینڈنیوس کی آبادی53ہزار،انٹیگواوباربوڈاکی ایک لاکھ، ڈومینیکا کی72ہزار،سینٹ لوشیا کی ایک لاکھ 80ہزاراور گریناڈا کی ایک لاکھ12ہزاربیان ہوئی ہے۔اسی خطے کی مالیاتی مثال کیمن آئی لینڈزہے،جس کی آبادی 68 ہزاربتائی جاتی ہے۔یہ برطانیہ کاسمندرپارعلاقہ ہے،آزادریاست نہیں۔ویسٹ انڈیزکا معروف کرکٹ نام اس خطے کی مشترکہ پہچان سمجھنے میں مدددیتاہے،لیکن اس سے تمام شریک معاشرے ایک ملک یا یکساں آئینی حیثیت نہیں اختیارکرلیتے۔
ان چھوٹی آبادیوں کیلئےساحل،سیاحت،مالی خدمات اوربیرونی سرمایہ آمدن کے اہم امکانات بن سکتے ہیں۔تاہم محدودداخلی منڈی اوردرآمدی ضروریات انہیں عالمی کساد،سفری پابندیوں اورقدرتی آفات سے بھی متاثرکرتی ہیں۔ان کی حکومتوں کا مسئلہ صرف سرمایہ لانانہیں،اس سرمایہ کومقامی روزگار،تعلیم اوربنیادی خدمات میں تبدیل کرناہے۔جب بیرونی کاروبار ترقی کی شرط بن جائے توضابطوں کی نرمی اورعوامی مفادکے درمیان کشمکش پیداہوتی ہے۔یہی کشمکش تنقیدکاایک بنیادی سراہے۔
دوسراگروہ بحرالکاہل سے منسوب ہے:بحرالکاہل کی بنیادی فہرست میں ناوروکی آبادی12ہزار،تووالوکی11ہزار،پالاؤکی18 ہزار،مارشل آئی لینڈزکی42ہزاراوروفاقی ریاستہائے مائیکرونیشیاکی ایک لاکھ 15ہزارہے۔سفارتی مقابلے کی بحث میں وانواتوکی آبادی تین لاکھ، سولومن آئی لینڈزکی سات لاکھ اورکیریباتی کی ایک لاکھ 20ہزاربھی بیان ہوئی ہے۔یوں اس گروہ کی آٹھ مثالیں مکمل طورپرسامنے آتی ہیں۔یہ معاشرے ایک دوسرے سے مختلف ہیں،لیکن سمندری فاصلے اوربڑی طاقتوں کی دلچسپی ان کے معاملات میں مشترک اہمیت رکھتے ہیں۔
یہاں بندرگاہ،فضائی رسائی سمندری نگرانی اورسفارتی تعلقات کسی جزیرے کے زمینی رقبے سے کہیں بڑی اہمیت پیداکر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکا،چین اورآسٹریلیاجیسے ممالک ان چھوٹی ریاستوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔مقامی حکومت کیلئےترقیاتی منصوبہ بنیادی ضرورت ہوسکتاہے؛ بیرونی شراکت دارکیلئےوہی منصوبہ طویل مدتی رسائی کاوسیلہ۔دونوں ضرورتیں بیک وقت موجودہوں توتعلق کوسمجھنے کیلئےامدادکے حجم کے ساتھ معاہدے کی شرائط اورفیصلہ سازی کی آزادی بھی دیکھنی پڑتی ہے۔
تیسراگروہ یورپ میں اپناوجودبرقراررکھے ہوئے ہے۔یورپی مثالوں میں ویٹیکن سٹی کی آبادی800افراد،موناکوکی39ہزار، لیختنسٹائن کی38 ہزار،سان مارینوکی33ہزاراورانڈوراکی77ہزاردرج ہے ۔ان کاذکردکھاتاہےکہ چھوٹی ریاست کاتصورصرف دورافتادہ جزیرے تک محدود نہیں ۔تاہم ویٹیکن سے متعلق ہولی سی اقوام متحدہ میں مستقل مبصرہے،عام رکن کی طرح ووٹ نہیں رکھتا۔اس فرق کوماننے سے اصل استدلال ختم نہیں ہوتا؛صرف یہ واضح ہوتاہے کہ ہرچھوٹی سیاسی اکائی کوایک ہی ووٹنگ حساب میں شامل نہیں کیاجاسکتا۔
یہ تمام ممالک اپنےقومی پرچم کے ساتھ اپنی شناخت رکھتے ہیں یعنی سہولت کے پرچم کی وضاحت کیلئےپاناماکی آبادی44 لاکھ اورلائبیریاکی53لاکھ ہے؛پہلاوسطی امریکااوردوسرامغربی افریقہ میں ہے۔موسمیاتی بحث میں جنوبی ایشیاکے مالدیپ کی آبادی پانچ لاکھ بیان ہوئی ہے۔ان تین مثالوں کوکیریبین،بحرالکاہل یایورپ میں زبردستی رکھنے کی بجائے الگ بیان کرنا جغرافیہ درست رکھتاہے۔ان کامشترک کرداریہ ہے کہ وہ پرچم ، سمندر،تجارت یاماحولیاتی خطرے کے ذریعے عالمی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔یادرہے کہ ان تینوں گروپس میں شامل بیشتر ممالک کی آبادی کراچی یالاہورکے ایک محلے سے بھی کم ہے یایوں کہہ سکتے ہیں کہ ان تمام ممالک کی مجموعی آبادی کراچی سے بھی کہیں کم ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان ریاستوں کو حض کمزور بادیوں کے مجموعے کے باوجودعالمی مفادات کے فعال مراکزبناکرکیوں رکھا گیاہے۔انہیں ختم کرنا مہنگا اورموجودہ صورت میں برقراررکھنابڑی طاقتوں کیلئےنسبتاًسستاہے۔قبضے کیلئےفوج،انتظامیہ اور مزاحمت کی قیمت اداکرناپڑتی ہے؛تعاون یا انحصارکے ذریعے مطلوبہ فائدہ کم خرچ میں حاصل ہوسکتاہے۔تمام ریاستوں کی پیدائش اوربقاکی تاریخی توجیہ سمجھنے کیلئے چاروجوہات ہی کافی ہیں:
پہلی وجہ مالی پناہ گاہیں اورٹیکس کے مفادات ہیں۔بعض چھوٹے علاقے بڑی دولت کیلئےمالی پناہ گاہ بنتے ہیں۔کم ٹیکس، پیچیدہ کمپنی ڈھانچے اورمالک کی شناخت تک مشکل رسائی ایسے انتظامات کوپرکشش بناسکتی ہے۔کیمن آئی لینڈزاس استدلال کی نمایاں مثال ہے۔غیرمصدقہ دعوے کے طور پر دنیاکی سوبڑی کمپنیوں میں سے نوے کے کاغذی دفاتروہاں ہیں اور تقریباًدوہزارارب ڈالرکاکالادھن موجودہے۔
اس دعوے کابنیادی سیاسی مفہوم اہم ہے:دولت جہاں قانونی اورانتظامی سہولت پاتی ہے،وہاں طاقتورمفادات بھی اس سہولت کے تسلسل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔قانونی ٹیکس منصوبہ بندی،ٹیکس سے گریزاورغیرقانونی رقم چھپاناالگ معاملات ہیں، مگران کے درمیان دھندلاپن عوامی جوابدہی کوکمزورکرسکتاہے۔اعتراض اس بندوبست پرہےجس میں سرمایہ اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے راستے تلاش کرے اورعام شہری ریاستی اخراجات کابڑھتابوجھ اٹھائے۔یہ اعتراض کسی مخصوص رقم کی تصدیق کے بغیربھی اپنی اخلاقی معنویت رکھتاہے۔
دوسری وجہ سیاحت اورساحلی معیشت ہے:ساحلوں اورتفریحی معیشت کی تجارتی قدرہے۔انٹیگواکے365ساحلوں اورسالانہ دس لاکھ سیاحوں کی مثال سرفہرست ہے۔ان معاشروں کاامن ،بیرونی سیاح،ہوٹل،فضائی کمپنی اورسرمایہ کارکے مفادسے جڑ جاتاہے۔اس نسبت سے بڑی طاقتوں کوان کی سلامتی اوربنیادی استحکام میں دلچسپی موجودہے۔تاہم یہ تعلق خودبخودکسی مستقل امریکی حفاظتی ضمانت کاثبوت نہیں؛مگریہاں بیان کردہ بات تجارتی مفاداورسیاسی دلچسپی کاممکنہ رشتہ ضرور دکھائی دیتاہے۔
سیاحت مقامی معاشرے کوروزگاربھی دیتی ہے اورخطرات بھی۔بیرونی ہوٹل منافع باہرمنتقل کرے،ساحلی زمین مہنگی ہویا خوراک درآمد کرنا پڑے توسیاحوں کی تعدادبڑھنے کے باوجودعوامی فائدہ محدودرہ سکتاہے۔اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ خوبصورت ساحل کس کیلئے محفوظ ہیں،بلکہ یہ بھی ہے کہ آمدن کس کے حصے میں آتی ہے۔دوسری وجہ اسی حقیقت کو کھولتی ہے کہ کسی چھوٹے ملک کاقدرتی حسن عالمی کاروبارکی ایسی ضرورت بن سکتاہے جسے برقراررکھنے میں متعدد طاقتوں کافائدہ ہو۔
تیسری وجہ سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت اوروہ پروگرام ہیں جنہیں اصل تحریر«پاسپورٹ کی دکان»کہتی ہے۔ اس میں دو لاکھ ڈالرکے بدلے سینٹ کٹس یاانٹیگواکی شہریت ،تقریباً150 ممالک میں ویزے کے بغیرسفر اور سالانہ500ملین ڈالرسے زیادہ مجموعی آمدن کے دعوے درج ہیں۔یہ اصل مفادات کی مثالیں ہیں؛اگرانہیں آج کی یکساں قیمت،مستقل سفری حق یاہرشریک ملک کی مصدقہ آمدن نہ بھی سمجھاجائے لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ریاستی شناخت خودایک معاشی اثاثہ بن جاتی ہے۔
اگربیرونی سرمایہ سرکاری آمدن میں حصہ ڈالے توچھوٹی آبادی کیلئےخدمات مہیاکرناآسان ہوسکتاہے لیکن شہریت کامعاملہ صرف تجارتی لین دین نہیں؛اس میں شناخت کی جانچ،مالی شفافیت، سلامتی اورمقامی شہریوں کے حقوق بھی شامل ہیں۔آمدن کاایک ایساذریعہ جس کے قواعد بیرونی دباؤسے بدل سکتے ہوں،مستقل مالی بنیادنہیں بن سکتا ۔اس کاروبارکوبرقراررکھنے میں مقامی حکومت اورسرمایہ کارکامفادمشترک ہوسکتا ہے ،مگرعوامی فائدہ تبھی یقینی ہوگاجب حاصل رقم اوراس کے استعمال کاواضح حساب موجودہو۔
چوتھی سب سے اہم مرکزی وجہ سفارتی ووٹ اورسیاسی اثراقوام متحدہ کاووٹ ہے۔جنرل اسمبلی میں رکن ریاست کاووٹ آبادی کے تناسب سے نہیں گناجاتا؛اسی لیے چھوٹی ریاست بھی اہم سفارتی تعدادکاحصہ بن سکتی ہے۔اسے«ووٹ کی منڈی» کہاجاتاہے اورسالانہ50سے100 ملین ڈالر،سڑک یااسٹیڈیم کے بدلے حمایت حاصل کرنے کاتصورپیش کیاجارہاہے۔اس تعبیر میں مالی انحصاراورسیاسی سودے بازی بنیادی عوامل ہیں۔تاہم ہرامدادی رقم کوکسی مخصوص ووٹ کی ثابت شدہ قیمت کہنا الگ شہادت مانگتاہے۔
یہ فرق ملحوظ رکھتے ہوئے مضمون کااصل وزن محفوظ رہتاہے۔جب ضروری خدمات بیرونی مالی مددسے وابستہ ہوں تو حکومت اختلاف کی قیمت سے ڈرسکتی ہے۔دوسری طرف چھوٹی ریاست اپنی اہمیت پہچان کربہترشرائط حاصل کرنے کی کوشش بھی کرسکتی ہے۔اس تعلق میں صرف کمزورکی مجبوری نہیں،اس کی مذاکراتی صلاحیت بھی کام کرتی ہے۔عالمی دوہرا معیار تب نمایاں ہوتاہے جب طاقتورکی ایسی سودے بازی قومی مفادکہلاتی ہے اورکمزورکااسی نوع کااقدام فوراًبے اصولی قرارپاتاہے۔
ووٹ کے ساتھ دوسرااثاثہ قومی پرچم ہے۔بحری جہازکامالک ایک ملک میں اورجہازکی رجسٹریشن دوسرے میں ہوسکتی ہے۔ پاناما،لائبیریااور مارشل آئی لینڈزاسی بحث کی مثالیں ہیں۔70فیصد تجارتی جہازسالانہ دس سے بیس ہزارڈالررجسٹریشن فیس اداکرتے ہیں۔مختلف پیمانوں اوررجسٹروں کویکجاکرنے والے ان اعدادکوفراہم کردہ عمومی تصویرکے طورپرپڑھنا چاہیے،تمام بحری تجارت کی قطعی شرح کے طورپرنہیں۔اس انتظام کامقصدکم لاگت،انتظامی سہولت یامختلف ضابطوں سے فائدہ اٹھاناہوتاہے؛بعض معاملات میں دوسرے پرچم سے ہرٹیکس اورقانونی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ پھربھی اصل اعتراض برقرارہے کہ ملکیت،رجسٹریشن اورکاروبارمختلف سرحدوں میں تقسیم ہوں تومزدورکے حقوق اورحادثے کی ذمہ داری کاتعین مشکل ہوجاتا ہے۔پرچم ریاست کیلئےآمدن لاتاہے، مالک کوسہولت دیتاہے،اورنگرانی مؤثرنہ ہوتواجتماعی نقصان کاامکان بھی بڑھاتاہے۔یہی معاشی فائدے اورجوابدہی کے درمیان بنیادی کشمکش ہے۔
چین تائیوان اورفلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔چین اورتائیوان کے مقابلے میں وانواتو،سولومن آئی لینڈزاورکیریباتی کے ترقیاتی منصوبوں کوسفارتی وفاداری سے جوڑتی ہے۔سرمایہ کاری تعلقات کی سمت بدلنے کاذریعہ بن سکتی ہے۔اس تجزیے میں سفارتی شناخت کی اہمیت بالکل بجاہے،لیکن تمام مذکورممالک کی تاریخ اورفیصلے یکساں نہیں۔کسی مخصوص تبدیلی کوسمجھنے کیلئےاعلان،معاہدہ اوروقت الگ دیکھناہوگا۔ تائیوان کے باقی حلیفوں کی اصل متن والی تعدادبھی اسی تحریرکے زمانی تناظرکی بات ہے،مستقل تعداد نہیں۔
فلسطین کے معاملے میں مائیکرونیشیا،مارشل آئی لینڈز،پالاؤاورناوروکے بعض مؤقفوں کوامریکی اثرسے تعبیرکیاجارہاہے۔ یہ عالمی طاقت اور انسانی اصول کے تعلق پرسخت سوال ہے،اقوام متحدہ میں ہرقراردادمیں انہی ممالک کاایک ہی ووٹ ہونا عالمی صورتحال بدل دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔ مدادی اورسلامتی کے تعلقات سفارتی ترجیح پراثرڈال سکتے ہیں؛براہ راست مالی خریداری کادعویٰ اس سے آگے ہے۔انسانی جان کے تحفظ میں دوہرامعیارثابت کرنے کیلئےان ممالک کاووٹنگ ریکارڈکافی مضبوط بنیادہے،اسے غیرثابت شدہ قیمتوں سے کمزور کرنے کی ضرورت نہیں۔
ایک مزیداعتراض یہ ہے کہ تووالواورمالدیپ جیسے ممالک کی موسمیاتی امدادکوسیاسی حمایت سے مشروط کیاجاسکتاہے۔ اس امکان کواس کے تجزیےکے طورپربرقراررکھناچاہیے۔اقوام متحدہ کم بلندی والے جزیروں کیلئےاسے حقیقی وجودی خطرہ کوتسلیم کرتاہے۔گھر،میٹھاپانی،کھیت اوراجتماعی یادیں ایک ساتھ خطرے میں آسکتی ہیں۔اصل تنقیدآفت پرنہیں،امدادکو مفادکے تابع بنانے اوروعدے کے باوجودوسائل نہ پہنچانے پرہے۔
ان تمام مندرجہ بالانکات کی روشنی میں پاکستان کیلئےکیاعملی اسباق ہیں۔پاکستان کیلئےپہلا سبق یہ ہے کہ قومی اثاثے کا فائدہ شہری تک پہنچنا چاہیے ۔چھوٹے جزیرے کے ووٹ اورہماری سیاسی جماعتوں کے سودوں کاتقابل اس مثال سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہرجزیرے کی امدادلازماًہسپتال بن جاتی ہے اورپاکستان کی ہرمددذاتی جیب میں جاتی ہے،ایسا عمومی فیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔قابل عمل معیاریہ ہے کہ معاہدے سے عوام کوکیاملا، رقم کہاں خرچ ہوئی اورذمہ دارسے حساب کس نے لیا۔قومی مفادکادعویٰ اس جانچ کے بغیرمحض نعرہ رہتاہے۔
دوسرا سبق قرض کی شفافیت اورپیداواری استعمال ہے۔ستمبر2024ءمیں پاکستان کیلئےتقریباً7/ارب ڈالرکا37ماہ کاآئی ایم ایف پروگرام منظور ہوا۔مالی سہاراادائیگیوں کی فوری مشکل کم کرسکتاہے،مگرمسلسل قرض تبھی گھٹے گاجب آمدن اورپیداوار بڑھیں۔ہربڑے قرض کی شرائط ،ادائیگی کاشیڈول اورمجوزہ استعمال پارلیمان اورعوام کے سامنے ہوناچاہیے۔منصوبہ مکمل ہونے پراس کی حاصل کردہ پیداواریابچت بھی ناپی جائے،تاکہ نئی ادائیگی کیلئےنیاقرض مستقل قومی عادت نہ بنے۔
تیسراسبق منصفانہ محصولات اوراخراجات کانظم ہے۔اصلاح کابوجھ ہرمرتبہ عام شہری کے بل پرڈالناآسان ہے،لیکن دیرپا حل نہیں۔بااثر طبقوں کی رعایتیں،ناقص وصولی اورغیرضروری حکومتی اخراجات بھی جانچ کے تابع ہوں۔ٹیکس کااخلاقی جوازتب مضبوط ہوتاہے جب قانون سب پریکساں نافذہواورشہری کوتعلیم،علاج اورتحفظ کی بہترصورت دکھائی دے۔معاشی حساب درست کرنے کے ساتھ سماجی انصاف محفوظ نہ ہوتواصلاح اعتمادپیداکرنے کی بجائے فاصلے بڑھاتی ہے۔
چوتھاسبق دفاعی قوت کے ساتھ انسانی اورمعاشی قوت کی تعمیرہے۔ایٹمی صلاحیت سلامتی میں اہم ہے،لیکن استاد،ہنرمند کارکن،تحقیق، معتبر عدالت اورقابل اعتمادبجلی کابدل نہیں۔برآمدات بڑھانے کیلئےمعیار،مسابقت،مستقل قواعداورچھوٹے کاروبارکی سہولت ضروری ہے۔توانائی کے نقصانات اورانتظامی ناکامیوں کاعلاج پیداوارکی شرط ہے۔لڑکیوں کی تعلیم، بنیادی خواندگی،غذائیت اورعلاج میں سرمایہ کاری قوم کی مستقبل کی آمدن بڑھاتی ہے؛انہیں بجٹ کی بچی ہوئی رقم کا مصرف سمجھناآزادی کی بنیادکمزورکرتاہے۔
پانچواں سبق سیاسی اتحادوں کی جواب دہی ہے۔مصنوعی قیادتوں،تانگہ پارٹیوں اورنویااٹھارہ ستارہ اتحادوں کااستعارہ ہمارے سامنےہے۔اس احتجاج کاہدف ایسی سیاست ہے جوعوامی پروگرام کی بجائے چندنشستوں اورعہدوں کے سودے پرقائم ہو۔ چھوٹی جماعت علاقائی یااصولی نمائندگی بھی کرسکتی ہے؛اس لیے معیارحجم نہیں،کردارہوناچاہیے۔اتحادکامشترکہ پروگرام، جماعتوں کی مالی اعانت اورنمائندوں کے بڑے فیصلوں کی وجوہ واضح ہوں،تاکہ ووٹرکی دی ہوئی طاقت بندکمروں میں ذاتی فائدے کاوسیلہ نہ بنے۔
چھٹاسبق اصولی اورمتنوع سفارتکاری ہے۔پاکستان چھوٹی ریاستوں کوحقیرسمجھنے کی بجائے برابرکے تعلقات قائم کرے، مشترکہ موسمیاتی مسائل پرتعاون بڑھائے اورمالی تعاون کی منصفانہ شرائط کی حمایت کرے۔کسی ایک بیرونی سرپرست پر ضرورت سے زیادہ انحصارمذاکرات کا اختیارمحدودکرتاہے۔اندرون ملک قانون،شہری وقاراوراختلاف رائے کااحترام بیرونی اخلاقی مؤقف کو معتبربناتاہے۔خودمختاری کی حفاظت صرف مخالف پراعتراض سے نہیں،اپنے فیصلے کی قیمت برداشت کرنے اوراس کاحساب دینے کی صلاحیت سے ہوتی ہے۔
عالمی سیاست کے دوہرے معیارسے آنکھ نہیں چرائی جاسکتی،مگرپاکستان کی تقدیرکومکمل طورپردوسروں کے ہاتھ میں سمجھنابھی درست نہیں۔ ہمیں مفادات کے پوشیدہ تعلقات دکھاتی ہے ؛ان تعلقات کوسمجھ کرقومی وسائل کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔اصل سبق اپناووٹ یاپرچم بیچنا نہیں،ان کے پیچھے موجودانسانی امانت کی قدرکرناہے۔باوقارآزادی تب بنتی ہے جب قوم اپنے بچوں کیلئےفیصلے کرسکے،ان فیصلوں کاحساب دے اورانہیں قرض،بے یقینی اوربے اختیارسیاست سےبہتر مستقبل سونپے۔











