افغانستان میں بینائی کی بحالی کیلئےقرنیے کی پیوند کاری روکنے کی خبر نے ایک بنیادی سوال کوپھرنمایاں کردیاہےکیااسلام کسی ایسے طبی عمل کی مخالفت کرتاہے جومناسب شرائط کے ساتھ ایک انسان کی بینائی بحال کرنے کاذریعہ بن سکتاہو؟اس سوال کاجواب تلاش کرنےکیلئےضروری ہے کہ کسی حکومت کے دعوے کواسلامی تعلیمات کا آخری نمائندہ نہ سمجھاجائے،بلکہ قرآن، سنت،مسلم فقہاکی آرااورطبی حقائق کاجائزہ لیاجائے۔اس جائزے سے واضح ہوتاہے کہ قرنیے کی پیوندکاری کومطلقاًاوربلاشرط’’غیر اسلامی‘‘قرار دینا درست نہیں۔متعدد معتبر اسلامی فقہی اداروں نے بعض شرائط کے تحت اسے جائزقراردیاہے۔
اگرافغان حکام نےجائزاوررضاکارانہ عطیے پرمبنی قرنیے کی پیوند کاری کوبھی مکمل طورپرروک دیاہے تواس فیصلے پرشرعی، اخلاقی اورانسانی بنیادوں پرسنجیدہ اعتراض اٹھتاہے۔اسلامی حکومت کادعویٰ کرنے والے حکمرانوکیلئےضروری ہے کہ ان کے فیصلوں میں عدل،رحمت،انسانی وقاراورمریضوں کی ضرورت بھی نمایاں ہو۔
برطانیہ کے مشہورِزمانہ اخبار دی ٹیلیگراف میں27/اکتوبر2026کوشائع ہونے والی خبرکے مطابق افغان ڈاکٹروں اورمریضوں کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ افغان طالبان کی ہدایات کے بعدقرنیے کی پیوندکاری کے آپریشن روک دیے گئے۔اس رپورٹ میں اس خبر کاجائزہ قرآن،سنت اورمعتبراسلامی فقہی اداروں کی آراکی روشنی میں لیناضروری ہے تاکہ اسلا کے بارے میں گمراہ کن خبروں کابروقت تدارک ہو سکے۔
فراہم کردہ مضمون کے مطابق طالبان نے اس طریقۂ علاج کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے افغان ڈاکٹروں کوقرنیے کی پیوندکاری کے آپریشن روکنے کی ہدایت کردی ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ حکام نے اس طریقۂ علاج کواسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیاہے،جس کے نتیجے میں بینائی سے محروم یااس کے خطرے سے دوچارمریض متاثرہوئے ہیں۔
کابل کے نورآئی ہسپتال کے ڈاکٹرنورزمان ہاشم کے مطابق ان کے عملے نے پروگرام بندہونے سے پہلے حالیہ مہینوں میں پیوند کاری کے 90آپریشن کیے تھے۔ انہوں نے اخبارکوبتایاکہ منتظرمریضوں میں ایسے نوجوان شامل تھے جن کی بینائی دھماکوں،زخموں اورویلڈنگ کے حادثات سے متاثرہوئی تھی۔رپورٹ کے مطابق امریکامیں قائم پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی فلاحی تنظیم اے پی پی این اے نے افغانستان میں مفت قرنیے فراہم کرنے اورمقامی ڈاکٹروں کی تربیت میں مدددی۔تنظیم کے حوالے سے کہاگیاکہ اس پروگرام کے تحت افغانستان میں289 سے زیادہ آپریشن کیے گئے۔
ایک الگ رپورٹ میں2024کے دوران افغانستان میں اعضاکی تجارت اورپیوند کاری پرطالبان کی پابندی کی اطلاع دی گئی تھی۔طالبان کی وزارت نے انسانی اعضا کی خریدوفروخت کو انسانی وقارکے خلاف قراردیاتھا۔تاہم اس پرانی رپورٹ سے قرنیے کے بارے میں بعدکے مخصوص اورمبینہ زبانی حکم کی تمام تفصیلات ثابت نہیں ہوتیں۔یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ انسانی اعضاکی غیرقانونی تجارت روکنااور رضامندی وطبی نگرانی کے تحت علاج کی اجازت دینادوالگ معاملات ہیں۔پہلے مسئلے کاحل دوسرے پرغیرضروری پابندی نہیں ہونا چاہیے۔قرآنِ مجیدانسانی جان،عزت اورفلاح کوبڑی اہمیت دیتاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔ اوربے شک ہم نے اولادِ آدم کوعزت بخشی۔(الاسراء:70)
یہ اعزازکسی ایک قوم،زبان یاطبقے تک محدودنہیں۔ایک زخمی افغان،ایک نابینابچہ،ایک مزدوراورایک بوڑھی خاتون—سب انسانی عزت کے حق دارہیں۔ بینائی سے محروم ہونابذاتِ خودانسان کی عزت یاقدرمیں کوئی کمی نہیں کرتا۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے فردکے وقار، حقوق اورمعاشرے میں اس کی شرکت کااحترام کیاجائے۔اسی کے ساتھ،جب کوئی محفوظ اورمناسب علاج ممکن ہوتومریض کواس تک رسائی فراہم کرنابھی اس کی ضرورت اوراختیارکااحترام ہے۔
قرآن میں ایک انسانی جان کی حفاظت کی اہمیت یوں بیان ہوئی ہے۔۔اور جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔(المائدہ:32)
اس آیت کابراہِ راست موضوع انسانی جان کی حرمت ہے۔قرنیے کی پیوندکاری کوبلاامتیازجان بچانے کاعمل کہنادرست نہ ہوگا،کیونکہ اس کابنیادی مقصدعموماً بینائی بحال کرنایامحفوظ رکھنا ہوتاہے۔تاہم انسانی جان کی قدرکے اس قرآنی اصول سے انسانی بھلائی اورشدیدنقصان سے بچانے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔بینائی کی بحالی بھی ایک اہم انسانی فائدہ ہے،جسے فقہا نے اپنے اجتہادی فیصلوں میں اہمیت دی ہے۔
اسلام مریض کومحض بیماری برداشت کرنے کی تلقین تک محدودنہیں رکھتا،بلکہ مناسب علاج اختیارکرنے کی حوصلہ افزائی کرتاہے۔حضرت اسامہ بن شریکؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺسے علاج کے بارے میں پوچھاتوآپﷺنے فرمایا:علاج کرو،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیماری کے ساتھ اس کاعلاج بھی رکھاہے،سوائے بڑھاپے کے۔(سنن ابی داؤد:3855)
اس حدیث سے علاج کی عمومی ترغیب ملتی ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ ہرنیاطبی طریقہ خودبخودہرحالت میں جائزہوجاتاہے؛ہرطریقے کے فوائد،نقصانات اورشرعی حدودکوبھی دیکھا جائے گالیکن محض اس وجہ سے کہ کوئی علاج جدیدہے یارسول اللہﷺکے دورمیں موجود نہیں تھا،اسے غیراسلامی نہیں کہاجاسکتا۔
قرنیے کی پیوند کاری ایک جدید طبی طریقہ ہے۔اس کے جوازپرگفتگوکرتے ہوئے سوال یہ ہوناچاہیے کہ قرنیہ کس ذریعے سے حاصل ہوا ،عطیہ دینے والے یامتعلقہ ورثاکی رضامندی موجود تھی یانہیں،موت کی تصدیق ہوئی یانہیں،اورمریض کوفائدے کی معقول امیدہے یانہیں۔ یہی وہ سوالات ہیں جنہیں معتبر فقہی اداروں نے اپنے فیصلوں میں پیشِ نظررکھاہے۔
جدہ میں قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی نے،جواسلامی تعاون تنظیم سے وابستہ ہے،فروری1988میں انسانی اعضاکی پیوندکاری کے بارے میں ایک اہم قرارداد منظور کی۔قرار داد نمبر 26(1/4)میں قرنیے کوصراحت کے ساتھ انسانی اعضااوربافتوں کی بحث میں شامل کیا گیا۔اکیڈمی نے قراردیاکہ وفات پانے والے شخص کے جسم سے عضوکسی زندہ انسان کومنتقل کیا جا سکتاہے،اگراس سے زندگی بچانے یا جسم کے کسی بنیادی فعل،مثلاًبینائی،کی بحالی میں مددملتی ہو۔اس کیلئےمتعلقہ شرائط میں مرحوم کی زندگی میں اجازت،یاوفات کے بعد ورثاکی اجازت شامل ہے؛نامعلوم یابے وارث میت کے معاملے میں متعلقہ ذمہ دارحکام کی اجازت کابھی ذکرکیاگیاہے۔یہ فیصلہ ایک اہم بات واضح کرتاہے۔معتبرمسلم فقہاکے نزدیک بینائی کی بحالی ایسی ضرورت ہوسکتی ہے جس کیلئےمخصوص شرائط کے تحت وفات یافتہ عطیہ دہندہ کاقرنیہ استعمال کرناجائزہو۔
اسی قراردادنے انسانی جسم کی حرمت کوبھی نظراندازنہیں کیا۔اس نے انسانی اعضاکی خریدوفروخت کی ممانعت بیان کی اوریہ بھی کہا کہ کسی زندہ شخص سے ایساعضویااعضالیناجائزنہیں جس سے اس کابنیادی جسمانی فعل ختم ہوجائے؛مثال کے طورپردونوں آنکھوں کے قرنیے لے لینا۔یوں یہ رائے مریض کے فائدے کے ساتھ عطیہ دینے والے کے حقوق کاتحفظ بھی کرتی ہے۔لہٰذاقرنیے کی پیوندکاری کے بارے میں شرعی بحث کومحض’’جائز‘‘یا’’ناجائز‘‘کے دوغیرمشروط خانوں میں رکھ دینااس پیچیدہ مسئلے کی درست تصویر پیش نہیں کرتا۔
اردن کے سرکاری محکمۂ افتانے بھی وفات کے بعدقرنیے کے عطیے اورپیوند کاری کی اجازت دی ہے۔اس کے فیصلے میں چندشرائط نمایاں ہیں:
٭عطیہ دینے والے کی موت کی تصدیق ہو۔
٭ڈاکٹروں کے نزدیک آپریشن کی کامیابی کی غالب امیدہو۔
٭مرحوم نے اپنی زندگی میں اجازت دی ہویااس کے ورثااجازت دیں۔
محکمۂ افتانے اس رائے کی بنیادانسانی بھلائی،نقصان دورکرنے اورمیت وزندہ انسان دونوں کے احترام پررکھی۔اس کے مطابق مناسب شرائط کے ساتھ قرنیہ عطیہ کرناایسی بے حرمتی نہیں جس کامقصدمیت کوذلیل کرناہو۔یہ رائے اس دعوے کے برعکس ہے کہ قرنیے کی ہرپیوندکاری لازماًاسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔اس سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ اسلامی فقہ جدیدطبی مسائل سے سنجیدہ علمی گفتگواور انسانی ضرورت کوپیشِ نظررکھتے ہوئے معاملہ کرسکتی ہے۔
دیانت دارانہ تحقیق کاتقاضاہے کہ اس مسئلے پرموجوداختلاف کوبھی تسلیم کیاجائے۔بعض مسلم اہلِ علم انسانی جسم کی حرمت،موت کی تشخیص،رضامندی اوراعضاکے استعمال سے متعلق تحفظات کی بناپرعطیے یاپیوندکاری کی بعض صورتوں سے اختلاف کرتے ہیں۔
برطانیہ کے قومی ادارۂ صحت سے وابستہ ادارے این ایچ ایس بلڈاینڈٹرانسپلانٹ نے بھی واضح کیاہے کہ مسلم علماکے درمیان اعضاکے عطیے پرمختلف آراپائی جاتی ہیں۔اس لیے یہ کہنادرست نہیں ہوگاکہ تمام مسلم علماہرنوعیت کی پیوندکاری کے جوازپرمتفق ہیں۔تاہم اتنی بات معتبرفقہی فیصلوں سے واضح ہے کہ مخصوص شرائط کے ساتھ قرنیے کی پیوندکاری کے جوازکی مضبوط اورباوقارعلمی بنیاد موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی انتظامی فیصلے کومحض’’اسلام کافیصلہ‘‘کہہ کرپیش کرنا، جبکہ معتبراسلامی ادارے مختلف رائے رکھتے ہوں،دنیاکے سامنے اسلامی علم کی مکمل تصویرپیش نہیں کرتا۔
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی طرف بلادلیل بات منسوب کرنے سے خبردارکرتا ہے
اپنی زبانوں سے جھوٹ گھڑتے ہوئے یہ نہ کہوکہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے،تاکہ تم اللہ پرجھوٹ باندھو۔(النحل:116)
یہ آیت مذہبی حکم بیان کرنے میں بڑی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔کسی سنجیدہ فقیہ کادلائل کے ساتھ مختلف رائے اختیارکرنا ایک بات ہے؛مگرکسی پیچیدہ طبی مسئلے میں تمام دوسری معتبرآراکونظراندازکرکے اپنی انتظامی رائے کواسلام کاواحدممکنہ مؤقف بنا کرپیش کرنادوسری بات ہے۔
اگرافغان حکام کے پاس قرنیے کی پیوند کاری پرکسی خاص اعتراض کی شرعی یاطبی بنیادموجودہے تواسے شفاف اندازمیں شائع کیاجانا چاہیے۔اس میں یہ بھی واضح ہوکہ اعتراض اعضاکی خرید وفروخت،رضامندی،موت کی تشخیص یاطریقۂ علاج کی کسی اورصورت سے متعلق ہے۔دلیل سامنے آئے گی تواہلِ علم اورطبی ماہرین اس کاجائزہ لے سکیں گے،اورمریض بھی جان سکیں گے کہ ان کے علاج کا مستقبل کیاہے۔
قرآنِ مجید عدل کواجتماعی زندگی کی بنیادقراردیتاہے:۔۔ بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔(النحل:90)
عدل کاتقاضاصرف قانون نافذکرنانہیں،بلکہ قانون کے اثرات کوبھی دیکھنا ہے۔اگرکسی حکم سے ایک غریب مریض اس علاج سے محروم ہو جائے جو اسے دوبارہ دیکھنے میں مدددے سکتاہے،توفیصلہ سازوں پر لازم ہے کہ وہ اس محرومی کے جوازکومضبوط دلائل کے ساتھ واضح کریں۔سورۃ النساءمیں انصاف پرمضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کی گئی ہے،خواہ اس کیلئےاپنے خلاف یااپنے قریبی لوگوں کے خلاف ہی بات کیوں نہ کہنی پڑے۔ یہ اصول حکمرانوں اوران کے ناقدین، دونوں پریکساں لاگوہوتاہے:اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہواورخدا کیلئے سچی گواہی دوخواہ(اس میں )تمہارایا تمہارےماں باپ اوررشتہ داروں کانقصان ہی ہو۔(النساء:4-135)
اسی لیے طالبان کی پالیسی کاجائزہ لیتے وقت دوباتیں بیک وقت کہی جاسکتی ہیں،انسانی اعضاکی خریدوفروخت اورغریب افرادکے استحصال پرتشویش جائزہے؛ اورایسے استحصال کوروکنے کے نام پرتمام رضاکارانہ،ضابطہ بنداورطبی اعتبارسے مناسب پیوندکاری بند کردیناایک الگ فیصلہ ہے،جس کے انسانی نتائج کاجواب دیناضروری ہے۔
اگرحکمران اسلام کے نام پررحم،عدل اورعوام کی خدمت کادعویٰ کریں،لیکن کسی قابلِ علاج مریض کومعتبرشرعی جوازرکھنے والے علاج سے روک دیں،توان کے دعوے اوراس پالیسی کے اثرات کے درمیان واضح تضادپیداہوتاہے۔یہ فیصلہ سخت تنقیدکامستحق ہے۔البتہ کسی ایک خبرکی بنیادپران کے’’تمام‘‘قول و فعل کے بارے میں حتمی فیصلہ صادرکرناتحقیقی احتیاط کے خلاف ہوگا۔
اعضاکے عطیے پرمذہبی تحفظات کومذاق یابے حسی کے ساتھ ردنہیں کرناچاہیے۔اسلام میں میت کااحترام حقیقی اہمیت رکھتاہے۔بہت سے خاندان اپنے عزیزکے جسم کے بارے میں جذباتی اوردینی حساسیت رکھتے ہیں،اوران کے احساسات کالحاظ ضروری ہے۔تاہم میت کا احترام اورمریض کی مددلازماًایک دوسرے کی ضد نہیں۔جوازدینے والے فقہانے اسی توازن کوقائم کرنے کی کوشش کی ہے۔موت کی معتبر تصدیق،رضامندی،احترام کے ساتھ طبی عمل،معقول فائدے کی امیداورانسانی اعضا کی تجارت سے اجتناب۔
ایک ذمہ دار نظام میں عطیہ دینے کافیصلہ آزادانہ ہو،خاندان پردباؤنہ ڈالاجائے،اعضاکے حصول اوراستعمال کاریکارڈرکھاجائے اور مستحق مریضوں کے انتخاب میں انصاف ہو۔جہاں کسی شخص یاخاندان کودینی تحفظ ہو،اسے اپنے ضمیرکے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی دی جائے۔یہ اصول بیک وقت انسانی جسم کی حرمت ،مریض کی ضرورت اورخاندان کے وقارکالحاظ کرتے ہیں۔فراہم کردہ خبرمیں کابل کے ایک گنے کارس فروخت کرنے والے شخص کاذکرہے جوگیس سلنڈرکے دھماکے میں اپنی بینائی کھوبیٹھا۔ خبرکے مطابق اسے آپریشن کی امید دلائی گئی،لیکن بعدمیں بتایاگیاکہ پروگرام بندہوچکاہے۔اسی طرح جلال آبادکی ایک خاتون نے اخبارکو بتایاکہ وہ آنکھ کی چوٹ کے علاج کیلئےرجسٹر ہوئی تھیں،مگرہسپتال کوپروگرام روکنے کی ہدایت دی گئی۔
ان واقعات کی انفرادی طورپرآزادانہ تصدیق اس رپورٹ کیلئےنہیں ہوسکی،لیکن یہ اس نوعیت کے فیصلوں کے ممکنہ انسانی اثرات کو سمجھنے میں مدددیتے ہیں۔ کسی مریض کیلئےنظرکی بحالی کامطلب کام پرواپسی،تعلیم جاری رکھنا،گھروالوں کوپہچاننایاروزمرہ زندگی میں زیادہ خودمختاری حاصل کرناہوسکتاہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ بینائی سے محروم افرادکی زندگی کوکمترقرارنہ دیا جائے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ مریض کوممکنہ علاج،درست معلومات اوراپنے بارے میں باوقار فیصلہ کرنے کاموقع ملناچاہیے۔
افغانستان جیسے ملک میں،جہاں طبی وسائل محدود ہیں اوربیرونِ ملک علاج بہت سے خاندانوں کی استطاعت سے باہرہوسکتاہے،ایک مفت طبی پروگرام کی بندش کااثرخاص طورپرغریب مریضوں پرپڑسکتاہے۔برطانوی حکومت کی افغانستان کے طبی نظام سے متعلق معلومات بھی سہولتوں،عملے اورعلاج تک رسائی کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
جب کسی ملک کاحکمران طبقہ اپنے فیصلوں کواسلام کے نام سے منسوب کرتاہے،توان فیصلوں کی بازگشت اس ملک کی سرحدوں سے باہربھی سنائی دیتی ہے۔ دنیا بھرکے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیااسلام واقعی ایسے علاج کی مخالفت کرتاہے؟اگرمکمل صورتِ حال نہ بتائی جائے توایک انتظامی پابندی کوپورے دین کی تعلیم سمجھ لیاجاتاہے۔اس سے وہ مسلمان بھی متاثرہوتے ہیں جودنیابھرمیں طبی خدمت، فلاحی کام،تحقیق اورمریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔
اسلام کامؤثردفاع یہ نہیں کہ ہرمسلمان حکمران کے ہرفیصلے کادفاع کیاجائے۔زیادہ ذمہ دارانہ راستہ یہ ہے کہ جب کسی پالیسی پرسوال اٹھے تواسے قرآن،سنت ،معتبرفقہی آرااوراس کے عملی نتائج کی روشنی میں پرکھاجائے۔معتبرمسلم فقہی اداروں کی جانب سے مشروط اجازت اس بات کاثبوت ہے کہ اسلامی روایت میں علاج،انسانی بھلائی اورجدیدطبی تحقیق کیلئےسنجیدہ گنجائش موجودہے۔دنیاتک یہ بات پہنچاناضروری ہے کہ کسی ایک حکومت یاگروہ کی تعبیرتمام مسلمانوں کی واحد آوازنہیں۔
اسی طرح طالبان کی کسی پالیسی پرتنقیدکوافغان عوام یاعام مسلمانوں کے خلاف نفرت کاجوازبنانابھی ناانصافی ہوگی۔افغان مریض،ڈاکٹر، علمااورفلاحی کارکن خوداس بحث کے اہم فریق ہیں اوران کی آوازسنی جانی چاہیے۔اگرخبرمیں بیان کردہ پابندی نافذہے تواس پرنظرثانی کیلئےچند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
٭حکم اوراس کی بنیاد شائع کی جائے،واضح کیاجائے کہ پابندی کن صورتوں پرہے،کس اتھارٹی نے جاری کی اوراس کے پیچھے شرعی و طبی دلائل کیا ہیں۔مشترکہ علمی جائزہ لیا جائے۔
٭افغان اوردوسرے مسلم علما،ماہرینِ چشم،طبی اخلاقیات کے ماہرین اورمریضوں کے نمائندے مل کرمعاملے کاجائزہ لیں۔
٭اعضا کی تجارت اورجائزعطیے میں فرق کیاجائے،غیرقانونی خریدوفروخت،دباؤاوراستحصال روکاجائے،جبکہ جائزاوررضاکارانہ موت عطیےکیلئےواضح ضابطہ بنایاجائے۔رضامندی اورحرمت کاتحفظ کیاجائے،معتبرتصدیق،مناسب اجازت،میت کے احترام اورطبی نگرانی کولازمی بنایاجائے۔مریضوں کیلئےفوری راستہ فراہم کیاجائے،جن افرادکے آپریشن رکے ہوئے ہیں،انہیں واضح معلومات،مناسب طبی معائنہ اوردستیاب متبادل علاج فراہم کیاجائے۔
٭فیصلوں کاآزادانہ جائزہ ممکن ہو،مریض اورڈاکٹر انتظامی فیصلوں پرسوال اٹھاسکیں اورمتعلقہ حکام کے سامنے اپنامؤقف پیش کرسکیں۔یہ اقدامات محض طبی انتظام نہیں بلکہ شفافیت، انصاف اورانسانی ضرورت کوسنجیدگی سے لینے کاتقاضا ہیں۔
قرآن وسنت انسان کی حرمت،علاج کی اہمیت،عدل اورذمہ دارانہ فیصلے کی بنیادفراہم کرتے ہیں۔بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی اوراردن کے محکمۂ افتاکے فیصلے یہ دکھاتے ہیں کہ وفات یافتہ عطیہ دہندہ سے قرنیے کی پیوند کاری کومخصوص شرائط کے تحت جائز سمجھنے کی معتبرشرعی رائے موجود ہے۔لہٰذااگرافغانستان میں اس نوعیت کی تمام پیوندکاری محض’’ غیر اسلامی‘‘ قراردے کرروک دی گئی ہے،تواس فیصلے کواسلام کی متفقہ تعلیم کہنادرست نہیں۔اسے چیلنج کرنادین کی مخالفت نہیں،بلکہ دین کے نام پرکیے جانے والے فیصلے کوخوداس کے عدل،رحمت اورعلمی ذمہ داری کے معیارپرپرکھناہے۔
افغانستان کے مریضوں کونظریاتی کشمکش کابے آوازموضوع بنانے کی بجائے ان کی تکلیف،وقاراورعلاج کی ضرورت کوفیصلہ سازی کے مرکزمیں رکھاجاناچاہئے۔اسلام کی بہتر نمائندگی اسی وقت ہوگی جب اس کے نام پرکیے گئے فیصلے دلیل کے ساتھ پیش ہوں اوران میں انسانوں کیلئےانصاف اوربھلائی واضح نظرآئے۔











