Behind the scenes of Badr

بدر کے پسِ پردہ

تاریخ کے دفترمیں بعض معاہدے محض رسمی دستخط بن کررہ جاتے ہیں اوربعض،اگرتدبیروتسلسل کاساتھ میسرآئے،قوموں کے مستقبل کی صورت گری کرتے ہیں۔تاہم کسی تازہ مفاہمت کی پیشانی پرعہدِنوکی فتح لکھ دینابھی عجلت ہے اوراسے بے مصرف کاغذسمجھ لینا بھی کوتاہ نظری۔قطر،ترکی،پاکستان اور انڈونیشیاکی بدرمفاہمت کواسی میزان پرپرکھناچاہیے:اس کے ممکنہ مقاصد کیا ہیں،عملی امکانات کتنے ہیں،اورعلاقائی سیاست اس کیلئےکون سے دروازے کھولتی یابندکرتی ہے؟

بدرمفاہمتی یادداشت پربدھ،21اکتوبر2026کودوحہ میں پاکستان،ترکی،قطراورانڈونیشیاکے دفاعی نمائندوں نے دستخط کیے۔پاکستان کی نمائندگی وزیرِدفاع خواجہ محمدآصف نے کی۔دیگرنمائندوں میں ترک وزیرِدفاع یشارگولر،قطرکے نائب وزیراعظم ووزیرِمملکت برائے دفاعی امورشیخ سعودبن عبدالرحمٰن آل ثانی اورانڈونیشیاکے نائب وزیرِدفاع یوسف جوہری شامل تھے۔اناطولیہ خبر رساں ادارے ٹی آرڈی کے مطابق ترکی کے دفاعی صنعت کے سربراہ خلوق گورگون بھی دستخط کنندگان میں شامل تھے۔

اعلان کردہ مقاصدمیں دفاعی پیداوارکا فروغ،عسکری صلاحیتوں کی تقویت،تکنیکی تربیت اورتحقیق وترقی میں اشتراک شامل ہیں۔ترکی کے ایوانِ صدارت کے شعبۂ ابلاغ نے بھی انہی میدانوں کومفاہمت کابنیادی محوربتایاہے۔اس اعتبارسے بدرکااولین تعارف دفاعی وصنعتی تعاون کاایک کثیرملکی ڈھانچاہے۔اسے فوری طورپراجتماعی جنگی اتحاد قراردینادرست نہیں۔دستیاب اعلانات خودکارفوجی مداخلت، مشترکہ کمان یاکسی ایک ملک پرحملے کوسب پرحملہ سمجھنے کی شق ثابت نہیں کرتے۔اسی طرح صرف«مفاہمتی یادداشت»کے عنوان سے یہ فیصلہ بھی نہیں کیاجاسکتاکہ اس کی ہرشق غیرلازم ہے؛اس کاانحصاراصل عبارت پرہو گا۔اصل امتحان عملی انتظام ہے:منصوبوں کی منظوری کون دے گا،سرمایہ کیسے فراہم ہوگا،حاصل شدہ ٹیکنالوجی کی ملکیت کس کے پاس ہوگی،اوراختلاف کی صورت میں فیصلہ کیسے ہوگا؟اعلانات ارادے کاچراغ روشن کرتے ہیں؛ادارے اوروسائل اسے ہواسے بچاتے ہیں۔

عربی میں بدرمکمل چاندکوکہتے ہیں۔خبرمیں اس نام کی یہی تعبیربیان ہوئی ہے۔اسلامی تاریخی شعورمیں اس لفظ کی ایک دوسری،نہایت گہری بازگشت بھی موجود ہے،لیکن مفاہمت کے نام سے کسی مخصوص جنگی یامذہبی محاذکامقصداخذکرناتحقیقی احتیاط کے خلاف ہوگا۔اس کی موزوں سیاسی تعبیرتکمیلِ استعدادہے:ایک شریک کے پاس صنعت،دوسرے کے پاس سرمایہ ،تیسرے کے پاس افرادی مہارت اور چوتھے کے پاس وسیع منڈی ہوتواشتراک نئی گنجائش پیداکرسکتاہے۔ تاہم یہ تجزیاتی امکان ہے،طے شدہ تقسیمِ کارنہیں۔

تہذیبی نسبت تعاون کوجذباتی توانائی دے سکتی ہے،لیکن دفاعی صنعت محض اخوت کے خطبوں سے قائم نہیں ہوتی۔اسے تحقیق،تربیت یافتہ انجینئر،معتبرمعیار اورمستقل سرمایہ چاہیے ۔اسلامی اخلاق کی روسے بھی عہدکی پاسداری،امانت اورعدل بنیادی اوصاف ہیں۔کسی منصوبے کاحسن اس کے نام سے بڑھ کراس کے کردارمیں ظاہرہوتاہے۔قطرکے سرکاری خبر رساں ادارے نے مفاہمت میں دفاعی وزارتوں کے ساتھ پاکستان کے دفاعی پیداواری ادارے اورترکی کے دفاعی صنعت کے صدارتی ادارے کی شرکت بھی بیان کی ہے۔اس سے اس اقدام کاصنعتی پہلونمایاں ہوتاہے۔

تجزیاتی اعتبارسے مشترکہ مرمت،پرزہ سازی،تربیت،معیاربندی اورمنتخب تحقیق ابتدائی میدان ہوسکتے ہیں۔بڑے ہتھیاری منصوبوں کی نسبت محدوداورواضح اہداف پرتعاون جلدقابلِ پیمائش نتائج دے سکتاہے۔مثال کے طورپرکسی مشترکہ ضرورت کیلئےمقامی طورپرپرزے تیارکرنا،برسوں پرمحیط کسی پیچیدہ نظام کی مکمل مشترکہ تیاری سے زیادہ قابلِ عمل آغازہوسکتاہے لیکن مشترکہ پیداواراورحقیقی خود کفالت ایک چیزنہیں۔اگربنیادی پرزے،حساس برقی اجزایااجازت نامے تیسرے فریق کے اختیارمیں رہیں توانحصارکی گرہ پوری طرح نہیں کھلتی۔کامیابی کامعیاریہ ہوگاکہ شریک ممالک کتنی مستقل فنی صلاحیت حاصل کرتے ہیں،محض کتنی خریداری کرتے ہیں،یہ نہیں۔

کسی مخصوص حکومت کامصدقہ بیان سامنے نہ ہوتواس کی طرف خوشی،اضطراب یامخالفت منسوب کرناقبل ازوقت ہوگاالبتہ ممکنہ ردعمل کاتجزیہ کیاجاسکتا ہے ۔بھارت پاکستانی دفاعی استعدادمیں اضافے کاجائزہ لے سکتاہے؛خلیجی حکومتیں اسے سلامتی کے مزیدذرائع پیداکرنے کی کوشش سمجھ سکتی ہیں؛بڑی اسلحہ ساز طاقتیں اس میں نئی شراکت یاتجارتی مسابقت دیکھ سکتی ہیں۔انڈونیشیاکی شرکت یہ یاد دلاتی ہے کہ ممالک کے تعلقات ایک ہی محورپرقائم نہیں رہتے۔کوئی ریاست پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھاتے ہوئے دوسرے ممالک سے اپنے روابط بھی برقراررکھ سکتی ہے۔سفارت کاری میں ہرنئی دوستی کسی پرانی دوستی کی نفی نہیں ہوتی۔

اصل ردعمل معاہدے کے نام سے زیادہ اس کے نتائج پرمنحصرہوگا۔مشترکہ کارخانہ،حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی،فوجی تعیناتی اورکسی تنازعے میں عملی شرکت، چارمختلف درجے ہیں۔ان سب کوایک ہی سیاسی مفہوم پہناناتجزیے کوغیرضروری طورپرتندوتیزبنادیتاہے۔اس مفاہمت سے یہ نتیجہ ثابت نہیں ہوتاکہ امریکا خطے سے اپنابوریابسترلپیٹ رہاہے۔مقامی دفاعی تعاون میں اضافہ اورامریکی موجودگی کاخاتمہ دوالگ سوال ہیں۔ریاستیں بسااوقات پرانے سلامتی تعلقات برقراررکھتے ہوئے نئے سہارے بھی پیداکرتی ہیں۔امریکی انخلاکامعتبر جائزہ فوجی اڈوں عملی تعیناتی،دفاعی وعدوں اورسرکاری فیصلوں سے ہوگا۔اس کے برعکس اکتوبرکی دستیاب خبررسانی میں امریکی عسکری موجودگی بڑھنے اورایران کے ساتھ کشیدگی برقراررہنے کی اطلاعات بھی موجودہیں؛اس لیے بدرکو امریکی رخصتی کاقطعی اعلان قراردیناخصوصاًمشکل ہے۔

زیادہ محتاط تعبیریہ ہے کہ بعض ممالک غیریقینی حالات میں اپنے اختیارات وسیع کرناچاہتے ہیں۔اس خواہش میں خوداعتمادی بھی ہو سکتی ہے اورخارجی ضمانتوں کے بارے میں اندیشہ بھی ۔تاریخ کاپہیہ ہمیشہ ایک سلطنت کے نکلنے اوردوسری کے داخل ہونے سے نہیں گھومتا؛بعض اوقات کئی طاقتیں ایک ہی میدان میں مختلف درجوں کی موجودگی برقراررکھتی ہیں۔

ایران کیلئےبنیادی سوال مفاہمت کی عملی سمت ہوگا۔اگریہ دفاعی پیداواراورتربیت تک محدودرہے تواس کے معنی کچھ اورہوں گے؛اگر اس کااستعمال ایرانی اہداف کے خلاف عسکری کارروائیوں میں ہوتومعنی بدل جائیں گے۔لہٰذاایرانی ردعمل کے بارے میں قطعی پیش گوئی کے بجائے ان شرائط کوواضح کرنازیادہ مفیدہے۔پاکستان کیلئےیہاں نازک توازن درکارہے۔ایران ہمسایہ ہے،جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اہم تعلقات ہیں۔ایک طرف کی قربت کو دوسری طرف کی دشمنی بنادیناسفارتی گنجائش گھٹاسکتاہے۔بہترحکمتِ عملی واضح ابلاغ ہے:دفاعی تعاون کادائرہ کیاہے اوراس کی حدود کہاں ہیں؟بدرکے بارے میں کسی مخصوص،مصدقہ ایرانی سرکاری ردعمل کی عدم موجودگی میں«ایران خوفزدہ ہے»یا«ایران اسے اپنے خلاف اتحادسمجھتاہے»جیسے جملے قیاس ہوں گے۔محقق کاکام پردۂ غیب اٹھانانہیں،معلوم اورنامعلوم کے درمیان حدقائم رکھناہے۔

میڈیامیں10اکتوبرکے مبینہ اسرائیلی حملے اورصدرٹرمپ کے روکنے کابڑاتذکرہ ہے،مگراس خاص واقعے کی قابلِ اعتمادتصدیق اس تحقیق میں نہیں ملی۔ اسے ثابت شدہ مقدمہ بناکرآئندہ تباہی کانقشہ کھینچنامناسب نہیں البتہ خطرے کی ایک صورت قابلِ فہم ہے:اگرفریق ایک دوسرے کے اشاروں کوغلط سمجھیں، محدودکارروائی کوفیصلہ کن حملہ تصورکریں یامذاکرات کے دوران قوت آزمائی بڑھاتے جائیں تو کشیدگی قابوسے نکل سکتی ہے۔اکتوبرکی خبررسانی میں امریکی وزیرِدفاع اوراسرائیلی وزیراعظم کی ایران سے متعلق ملاقات کی اطلاع ہے،تاہم اس کی تفصیلات علانیہ نہیں کی گئیں۔ملاقات کاوقوع،حملے کاحتمی فیصلہ اورحملے کی عملی تیاری ایک جیسے دعوے نہیں۔ سنجیدہ سیاسی تحریران کے درمیان فاصلہ محفوظ رکھتی ہے۔جنگ کا خطرہ بیان کرناضروری ہے،لیکن اندیشے کوخبربنادینا قارئین کی بصیرت میں اضافہ نہیں کرتا۔

محدودکارروائی کوفیصلہ کن حملہ تصورکریں یامذاکرات کے دوران قوت آزمائی بڑھاتے جائیں تو کشیدگی قابوسے نکل سکتی ہے۔اکتوبرکی خبررسانی میں امریکی وزیرِ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان سے منسوب بیان میں آبنائے ہرمزسے گزرنے والی مواصلاتی تاروں اورنئے اہداف کاذکرسامنے آیا ہے۔اسی خبرمیں دوسرے ایرانی عہدیدارکی جانب سے زیرِآب تاروں،معلوماتی مراکزاورمتعلقہ تنصیبات کوممکنہ ہدف بنانے کی دھمکی بھی بیان ہوئی۔یہ دھمکی کی خبرہے؛اسے حملہ ہوجانے کی خبرنہیں سمجھناچاہیے۔ان تاروں کونقصان شدیدمعاشی ومواصلاتی خلل پیداکر سکتاہے،لیکن«دنیابھرکے تمام تجارتی اداروں کی بربادی» ایک مبالغہ آمیزنتیجہ ہے۔اصل اثرنقصان کی جگہ،متبادل راستوں،اضافی گنجائش اوربحالی کی مدت پرمنحصرہوگا۔

قطرنے بھی متنبہ کیاکہ ایسی کارروائی علاقائی ممالک سمیت ایران کونقصان پہنچائے گی۔یہ تنبیہ اہم ہے:جدید معیشت کی رگیں ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔مخالف کیلئےکھودی گئی خندق کبھی اپنے راستے بھی کاٹ دیتی ہے۔اس لیے شہری مواصلاتی ڈھانچے کاتحفظ محض فنی ضرورت نہیں،اجتماعی معاشی مفادبھی ہے۔

20/اکتوبرکی خبرکے مطابق فیلڈمارشل عاصم منیرایک وفدکے ساتھ تہران پہنچے اورتعطل کاشکارسفارتی کوششوں کے تناظرمیں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔اس دوران ایران نے مذاکرات کیلئےامریکی دھمکیوں اورپابندیوں کے خاتمے پرزوردیا۔دستیاب خبردورے کو مصالحتی کوششوں کے تسلسل کو سردمہری سے تعبیرکی جارہی ہے اوریہ بھی کہاجارہا ہےکہ پاکستان نے ثالثی چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔اسی طرح یہ کہنابھی زائدہوگاکہ دورے کاواحدمقصد ایران کو مواصلاتی تاریں کاٹنے سے روکناتھا،درست نہیں۔بندکمرے کی گفتگوکے بارے میں سرکاری تفصیل کے بغیرمخصوص مقصداخذنہیں کرناچاہیے۔البتہ کشیدگی کم کرنا،مذاکرات کی گنجائش محفوظ رکھنااورجنگ کے معاشی اثرات محدودکرناپاکستان کے مفاد میں ہیں۔مؤثرثالث وہ نہیں جوہرفریق کے سامنے ایک ہی لہجہ اختیارکرے،بلکہ وہ ہے جو اختلاف کے باوجوداعتبارقائم رکھے اورقابلِ قبول راستہ سامنے لائے۔تاہم ایرانی سرکاری میڈیانے اس دورے کو بہت سراہاہے۔

پاکستان کی اہمیت اس کے جغرافیے،عسکری استعداد،آبادی اورمختلف مراکزِقوت تک رسائی سے پیداہوتی ہے۔ایران سے ہمسائیگی اور خلیجی ممالک سے تعلقات اسے ایک مفیدرابطہ کاربناسکتے ہیں۔تاہم رابطہ ہونااورفریقین کوفیصلہ قبول کراسکناالگ صلاحیتیں ہیں۔ثالثی کا دارومداراس امرپربھی ہے کہ متحارب قوتیں سمجھوتے کیلئےکتنی آمادہ ہیں۔اگربنیادی اختلاف برقرارہوتوپیغام رسانی مذاکرات کادروازہ کھلارکھ سکتی ہے،مگرخودبخودتصفیہ پیدانہیں کرتی۔

پاکستان کیلئےداخلی استحکام بھی خارجی اثرکاسرمایہ ہے۔معاشی قوت،آئینی اعتماداورادارہ جاتی تسلسل کے بغیرسفارتی کامیابیوں کابوجھ اٹھانامشکل ہوتاہے۔ بہتر صورت یہ ہے کہ عسکری رابطہ،وزارتِ خارجہ کی مہارت اورمنتخب حکومت کی سیاسی ذمہ داری ایک مربوط قومی پالیسی میں ڈھلیں۔شخصی رسائی راستہ کھول سکتی ہے؛مستقل ادارے اس راستے کوشاہراہ بناتے ہیں۔

افغان طالبان اورتحریکِ طالبان پاکستان الگ تنظیمیں ہیں،لیکن ان کے تاریخی روابط کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔پاکستانی توقع کامسئلہ یہ تھا کہ ماضی کاتعاون مستقبل کے رویے کی ضمانت سمجھ لیاگیا۔بظاہراقتدارمیں آنے والاگروہ اپنے نظریاتی رشتوں،داخلی اتحاداوربقاکے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرتاہے لیکن درپردہ معاملہ کچھ اورہے۔اقوامِ متحدہ کے متعلقہ تحقیقی ادارے کی رپورٹ بھی طالبان کے اقتدارکے بعد ٹی ٹی پی جیسے علاقائی گروہوں کیلئےسازگارحالات پیدا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔اس سے پاکستانی خدشے کومحض بدگمانی قراردینامشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔اس سلسلے میں پاکستان نے اپنے مؤقف کوٹھوس بنیادوں پراقوام عالم کے سامنے پیش بھی کیاہے کہ کس طرح افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کواپنے مفادات کیلئے پناہ دے رکھی ہے اوران گروہوں کوکہاں کہاں سے مددمل رہی ہے جس میں بھارت کا ناپاک چہرہ سب سے نمایاں ہے۔

یہاں سبق تعلقات کی نفی نہیں،توقعات کی اصلاح ہے۔ریاستی سلامتی کوتاریخی احسان ،مذہبی قربت یاشخصی شناسائی کے سپردنہیں کیاجا سکتا۔دوستی کی قدراپنی جگہ ، لیکن اس کی سیاسی معنویت تب ہے جب سرحدپارتشددکم ہواوردوحہ معاہدہ کی ذمہ داریاں پوری ہوں۔نیک گمانی مفیداخلاقی وصف ہے؛تنہاسلامتی حکمتِ عملی نہیں۔جب تک افغان طالبان اپنے قول وفعل کے تضادکوختم نہیں کرتے،اس وقت تک خطے میں دہشتگردی کاذمہ دارافغان طالبان اوراس کے اتحادی یعنی بھارت اوراسرائیل کانام واضح رہے گا۔

29فروری2020کادوحہ معاہدہ امریکااورطالبان کے درمیان ہواتھا۔پاکستان اس کاسہولت کارتھا،مرکزی دستخط کنندہ نہیں۔اس فرق کو محفوظ رکھناضروری ہے،ورنہ دوسرے فریقوں کے فیصلوں کی تمام ذمہ داری بھی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی جائے گی۔پھربھی پالیسی کاتنقیدی سوال بجاہے:کیاپاکستان نے اپنے مخصوص سلامتی خدشات کیلئےالگ،قابلِ تصدیق انتظام پرکافی زوردیا؟امریکی انخلااور پاکستان میں دہشتگردی کاخاتمہ ایک ہی مقصد نہیں تھے۔عمومی یقین دہانی کے ساتھ نگرانی،کارروائی کی مدت اورخلاف ورزی کے نتائج بھی ضروری تھے۔

افغان طالبان اورامریکاکے درمیان دوحہ مصالحتی معاہدے کیلئے پاکستان کو165مرتبہ دوحہ کاسفراختیارکرناپڑااوراس وقت افغانستان کی جیلوں میں ڈھائی ہزار سے زائددہشتگردموجودتھے جوافغان طالبان نے حکومت سنبھالتے ہی جیلوں سے رہاکرکے اپنے ہاں پناہ دے دی تاکہ بوقت ضرورت ان سے کام لیاجاسکے اور آج وہ ان سے پاکستان میں دہشتگردی کابازارگرم کرنے کیلئے کام لے رہاہے۔پاکستان سے اس وقت ایک شدید غلطی یہ ہوئی کہ اس وقت پاکستان نے اپنے برادرانہ تعلقات کی خوش فہمی میں افغان طالبان سے ان دہشتگردوں کے متعلق کوئی ضمانت طلب نہیں کی۔پاکستان کوچاہئے تھاکہ ان سب دہشتگردوں کی حوالگی کامطالبہ کرتایاپھرانہیں جیلوں میں قیدرکھنے کی مضبوط گارنٹی طلب کرتا۔تاہم زیادہ اہم سوال سفارت کاری کی کامیابی قدموں کی مسافت سے نہیں،نتائج کی پائیداری سے ناپی جاتی ہے۔

ایک توضیح نظریاتی قربت اورسابقہ رفاقت ہے۔دوسری،سخت کارروائی سے اپنے اندراختلاف یاجنگجوؤں کی مخالف گروہوں کی طرف منتقلی کااندیشہ۔اقوامِ متحدہ کی رپورٹ پرمبنی خبرمیں انہی روابط اورداعش خراسان کی طرف ممکنہ انتقال کے خدشے کاذکرملتاہے۔یہ توضیحات طالبان کے رویے کوسمجھنے میں مدددیتی ہیں،جواسے جائزنہیں ٹھہراتیں۔

حقانی حلقے اورقندھارکی قیادت کے اختلافات کوبھی دیکھاجاسکتاہے،جس کیلئے ٹی ٹی پی کولازماًآئندہ داخلی خانہ جنگی کی محفوظ قوت بنایاجارہاہے۔داخلی کشمکش کا امکان کسی مخصوص خفیہ منصوبے کااہم حصہ معلوم ہوتے ہیں۔پاکستان کیلئےعملی کسوٹی واضح ہونی چاہیے:دہشتگردی کے تمام مراکزبندہوئے یانہیں،مالی راستے رکے یانہیں،منصوبہ سازوں کی آزادی محدودہوئی یانہیں،اورحملوں میں مستقل کمی آئی یانہیں۔نیت کے اعلانات سے زیادہ رویے کے نتائج اہم ہیں جس میں ابھی تک افغان طالبان دانستہ طورپرتمام ہمسایہ ممالک کوبھی مایوس کرچکے ہیں۔

افغانستان میں سابقہ فوجی ذخائرکی موجودگی اوران میں سے مخصوص ہتھیاروں کاپاکستان کے خلاف استعمال ایک مضبوط شواہدکے طورپرمضبوط دلیل ہیں۔ دعوے کیلئےبرآمدگی،شناختی تفصیل اوررسدکی زنجیرثابت ہوچکی ہے۔اسی طرح بھارت کے سفارتی بیانات، طالبان سے رابطے اوردہشتگردگروہوں کی مالی معاونت تین الگ معاملات نہیں بلکہ ایک باضابطہ دہشتگردی کی ایک مکروہ کڑی ہے۔

پاکستان کامقدمہ دستاویزی شہادت سے مضبوط ہورہاہے:قابلِ جانچ مالی ریکارڈ،ضبط شدہ مواصلات اورمنظم تفتیشی مواد۔وہ معتبرشواہد ہیں جومخالف کے انکار کے باوجودایک مضبوط شہادت کے بل پرقائم ہیں۔شہری نقصان کے بارے میں بھی یہی دیانت ضروری ہے۔فوجی ہدف کادعویٰ شہری ہلاکت کے امکان کوختم نہیں کرتا،اورمخالف فریق کابیان تنہاحتمی ثبوت نہیں۔حالیہ سرحدی کشیدگی کی خبررسانی میں شہری نقصان کامسئلہ نمایاں ہے۔آزادتصدیق،متاثرین تک رسائی اورغلطی کی صورت میں جواب دہی ریاستی وقارمیں اضافہ کرتے ہیں۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کی نقدترسیلات کی اصل موجود ہے۔تاہم اقوامِ متحدہ نے واضح کیاتھاکہ یہ رقوم اس کے کام اورمنظورشدہ شراکت داروں کیلئےنجی بینک کھاتوں میں رکھی جاتی ہیں،طالبان حکومت یامرکزی بینک کوبراہِ راست نہیں دی جاتیں۔بالواسطہ فائدہ ایک الگ معاملہ ہے۔ٹیکس،فیس،مقامی خریداری یامداخلت کے ذریعے طالبان کے مستفیدہونے کے خدشات کی نشاندہی امریکی نگران ادارے سے متعلق خبرمیں بھی کی گئی ہے۔گویااس سے ہرترسیل کوخفیہ اداروں کی براہِ راست ادائیگی قراردیاجانے کاقوی امکان ہے۔

ہرمنگل نیروبی سے لازماً چارکروڑڈالرکی ترسیل ایک اورخطرناک سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔امدادکاانسانی مقصد،معاشی اثراور ممکنہ سیاسی فائدہ الگ الگ پرکھنے چاہییں۔اگرایسانہیں توسب ایک سازش کامخصوص ٹارگٹ ہے جوخطے میں اپنے اہداف کی تکمیل کیلئے استعمال میں لایاجارہاہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کے برطانیہ کے دورے کے دوران میڈیاکوبریکنگ نیوز کے طورپرافغانستان کے سب سے بڑے ہوائی اڈے ننگرہارکوجلدامریکی استعمال کاعندیہ دیاگیاتھا۔

یادرہے کہ اس سلسلے میں طالبان کادہشتگردوں کوکنٹرول کرنے کیلئے پاکستان سے دس ارب روپے مانگنے کادعویٰ خواجہ آصف سے منسوب ہواجوانہوں نے اسمبلی کے فلورپربتایالیکن پاکستان نے اہم ضمانتوں کے بعداس کی ادائیگی کااشارہ بھی کیالیکن بعدازاں افغان طالبان کی طرف سے مطلوبہ ضمانتوں کوقبول نہ کرتے ہوئے سرے سے اس کی تردیدکردی لیکن اس کے باوجود طالبان کے بعض گروہوں نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی لیکن پاکستان نے اس کوبلیک میلنگ سے تشبیہ دیتے ہوئے ردکردیاکہ بین الاقوامی اصولوں کے تحت افغان طالبان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ہاں سے اپنے تمام ہمسایہ ممالک میں ہونے والی دہشتگردی کوروکے۔اصولی سوال زیادہ اہم ہے:جنگجوسرحدسے دورمنتقل ہوبھی جائیں توکیاان کی تنظیمی،مالی اورعملی صلاحیت ختم ہوگی؟محض جغرافیہ بدلنے سے خطرہ لازماًنہیں مٹتا۔کسی بندوبست میں تخفیفِ اسلحہ،نگرانی،بھرتی کی روک تھام اورخلاف ورزی کے نتائج واضح ہونے چاہییں۔

پاکستان کومذاکرات کے ساتھ داخلی انسدادِدہشتگردی،مالی تفتیش اورسرحدی نظم بہترکرناہوگا۔کسی ہدفی جواب کی کامیابی فوری نقصان کے دعوے سے نہیں، آئندہ حملوں میں پائیدارکمی سے جانچی جائے۔افغان شہریوں اورمہاجرین کومسلح گروہوں کے ساتھ خلط ملط کرنا بھی نقصان دہ ہوگا۔واضح دشمن کی شناخت، وسیع آبادی کودشمن سمجھنے سے مختلف ہے۔

سابق فاٹاکاخیبرپختونخوامیں انضمام ریاستی نظم کی اہم تبدیلی تھالیکن آئینی فیصلہ خودبخودروزمرہ انصاف،روزگاراورتحفظ پیدانہیں کرتا۔ اس کی تکمیل کیلئے عدالت ،پولیس،بلدیاتی نمائندگی،تعلیم اوربنیادی سہولتوں کومؤثربناناضروری ہے جس کیلئےآئینی طریقہ اختیار کرتے ہوئے فاٹاکوخیبرپختونخواہ کاحصہ بنادیاگیا جس کے بعدوہاں وہ تمام قوانین کانفاذہوگیا جہاں سے اس خطے کی ترقیاتی کاموں کیلئے بھاری فنڈزمہیاکرکے وہاں کے مواصلاتی نطام کوترقی دیتے ہوئے تعلیم، صحت اورسیکورٹی کے تمام مروجہ نظام کوحرکت میں لایاگیاجہاں سے وہاں کے عوام کوزندگی کی تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کاکام تیزی سے جاری ہے جبکہ اس سے قبل فاٹاکے نظام میں دونوں اطراف کے افرادکوکھلے عام بغیرکسی شناخت کے ملکی نظام کوچیلنج کرنے کاخطرہ ہروقت موجودرہتاتھا۔ٹی ٹی پی ملکی قانونی نظام کوتسلیم کرنے کوتیارنہیں۔تاہم ریاستی عملداری کااصول واضح ہے: انتظامی بندوبست کسی مسلح گروہ کے دباؤ پرطے نہیں ہوناچاہیے۔

ریاست کی گرفت اس وقت پائیدارہوتی ہے جب شہری اسے اپنے حق کی محافظ سمجھیں۔اگرقانون حاضرہومگرانصاف غائب،راستہ بنے مگرروزگارنہ آئے، اور قربانی مانگی جائے مگرآوازنہ سنی جائے توبے اعتمادی باقی رہتی ہے۔بدرمفاہمت ہویاافغان حکمتِ عملی،پاکستان کی قوت کاآخری سرچشمہ اپنے شہریوں کااعتماد ہے۔دفاعی استعداداس اعتمادکی نگہبان بنے توقومی طاقت میں وقارپیداہوتاہے؛اسی سے امن محض وقفۂ جنگ کی بجائے ایک قابلِ دوام اجتماعی حالت بنتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں