ہرعہداپنے سوالوں کے ساتھ دنیامیں آتاہے،مگربعض سوال زمانوں کی گردسے دھندلے نہیں ہوتے۔انسان کون ہے،اس کی زندگی کس معنی کی حامل ہے، اوراس کے گردپھیلی ہوئی ہستی کاآخری سہاراکیاہے؟تہذیبوں کے لباس بدل جاتے ہیں،ان سوالوں کی آنچ باقی رہتی ہے۔کبھی یہ کسی حکیم کی خلوت میں جاگتے ہیں،کبھی کسی شاعرکے اضطراب میں،اورکبھی ایک ایسے انسان کی خاموشی میں جس کے پاس آسائش کی ہرچیزہے،مگراطمینان کاکوئی ٹھکانانہیں۔
ہمارے زمانے نے انسان کوغیرمعمولی قدرت بخشی ہے۔اس کے ہاتھ میں فاصلے سمٹ آئے ہیں،اس کی نگاہ کے سامنے پوشیدہ جہان کھل گئے ہیں؛تاہم قدرت میں اضافہ ہمیشہ بصیرت میں اضافے کاہم معنی نہیں ہوتا۔بہت کچھ کرسکنے والاانسان اب بھی پوچھتاہے کہ اسے کیا کرناچاہیے،اورکیوں۔یہی وہ مقام ہے جہاں علم کی کامیابیاں،انسانی وجودکی معنوی طلب سے ہم کلام ہوتی ہیں۔
وجودِخداکی بحث اسی طلب کاایک سنجیدہ اظہارہے۔اسے محض مذہبی اورغیرمذہبی گروہوں کی کشمکش بنادینااس کے مرتبے کوگھٹادیتا ہے۔یہاں کسی جماعت کی فتح سے بڑھ کرانسانی فہم کی دیانت مطلوب ہے۔یقین اگرسوال سننے سے گھبرائے تواپنااعتمادمجروح کرتاہے، اورانکاراگرہرمتبادل تعبیرکوپیشگی مستردکردے تو تحقیق کی وسعت محدودکردیتاہے۔
اسٹیفن مائرکی حالیہ تحریراس مکالمے کوایک نئی مناسبت فراہم کرتی ہے۔اسلامی فکر کیلئےیہ موقع اپنے علمی ورثے کوتازہ نظرسے دیکھنے اورعصرِحاضرسے گفتگو کرنے کاہے۔اس گفتگوکی آبرواسی میں ہے کہ دلیل روشن،زبان شائستہ اورانسان محترم رہے۔کیونکہ حقیقت کی جستجومیں بلندترین آوازسے زیادہ قدر،اس نگاہ کی ہے جوانصاف کے ساتھ دیکھ سکے۔
انسان نے آسمان کی وسعتوں میں دوربینیں نصب کردیں،ذرّے کے باطن میں جھانکنے کیلئےعظیم تجربہ گاہیں تعمیرکرلیں،اورحیات کے دفترمیں پوشیدہ وراثتی حروف بھی پڑھ لیے؛مگرایک سوال آج بھی اپنے پورے وقارکے ساتھ اس کے سامنے کھڑاہے:یہ سب کچھ موجود کیوں ہے؟قوانینِ فطرت کی دریافت نے کائنات کانقشہ روشن کیاہے،لیکن نقشے کی روشنی،وجودکے سرچشمے سے بے نیازی کااعلان نہیں۔اسلامی نقطۂ نظرسے خدائے لازوال کااثبات کسی سائنسی خلامیں پناہ لینے کانام نہیں؛یہ خودوجود،اس کی محتاجی،اس کے نظم اور انسانی شعورکی معنویت پرغورکرنے کانتیجہ ہے۔
22ستمبر2026ء کے”دی ٹیلیگراف”میں شائع ہونے والااسٹیفن مائرکا مضمون اسی سوال کو تازہ کرتاہے۔وہ کائنات کے آغاز،طبیعی مناسبتوں اورحیاتیاتی معلومات سے خالق کی طرف استدلال کرتے ہیں۔ان کی تحریرایمان کے حق میں گفتگوکاموقع فراہم کرتی ہے،لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذکرناکہ سائنس نے خدا کو تجربہ گاہ میں ثابت کردیا،استدلال کی منزلوں کوخلط ملط کرنا ہو گا۔سائنس مشاہدہ دیتی ہے؛ فلسفہ اس کے مضمرات جانچتاہے؛وحی خالق کی معرفت،بندگی اوراخلاقی جواب دہی کاراستہ دکھاتی ہے۔ان تینوں کی باہمی گفتگوثمرآور ہے،بشرطیکہ کسی ایک کی آوازکودوسرے کے نام سے نہ پکاراجائے۔
خداکے وجودکاسوال جدیدمغرب کی ایجادنہیں۔قرآن نے ساتویں صدی میں ان لوگوں کاقول نقل کیاجوزندگی کودنیاتک محدوداورموت کو گردشِ زمانہ کانتیجہ سمجھتے تھے،پھراس دعوے کی علمی بنیادپرسوال اٹھایا:ان کے پاس اس کاعلم نہیں،محض گمان ہے(الجاثیہ45:24)۔ اس لیے الحادکوصرف درآمد شدہ بیماری قراردیناتاریخ کے دائرے کوتنگ کرناہے۔انسانی ذہن نے مختلف تہذیبوں میں وجود،علت اورانجام کے سوال اٹھائے؛اسلام نے ان سوالوں کودلیل،تذکیراوراخلاقی دعوت کے ساتھ مخاطب کیا۔
مسلم روایت بھی یک آوازاوربے اختلاف نہیں رہی۔ابن سینانے الشفاءکی الٰہیات میں ممکن الوجوداورواجب الوجودکی تمیزسے استدلال کیا؛ غزالی نے تہافت الفلاسفہ میں فلسفیانہ دعووں کی تنقیدکی؛ابن رشد نے تہافت التہافت میں جواب دیا۔ان کے اختلافات حقیقی تھے،مگراس تاریخ کاحاصل یہ نہیں کہ عقل ایمان کی دشمن ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ مسلم تہذیب نے بنیادی سوالات پرباقاعدہ بحث کی۔فلسفے کو سراسرتخمین کہناخود اس عقلی میراث سے دستبرداری ہے جس نے دعوے اوردلیل میں فرق سکھایا۔
قرآن کی دعوت میں نظراورفکرکی جگہ نمایاں ہے۔
آسمان وزمین کی تخلیق اوررات دن کی گردش اہلِ عقل کیلئےنشانیاں ہیں(آل عمران 3:190)۔
نشانیاں اپنے آپ کوآخری حقیقت نہیں کہتیں؛وہ نگاہ کوآگے بڑھاتی ہیں۔اسلامی تہذیب میں کائنات کوقابلِ فہم سمجھنے کی ایک بنیادیہی تصورہے کہ وہ بے معنی انتشارنہیں،ایک حکیم خالق کی تخلیق ہے۔البتہ علمی دیانت ہمیں یہ کہنے سے روکتی ہے کہ ہرمسلمان مفکرنے ایک ہی فلسفہ اختیارکیا،یاہرسائنسی کامیابی محض مذہبی اعتقادکالازمی ثمرتھی۔تاریخ کی عظمت اس کے تنوع سمیت قبول کی جاتی ہے۔
اثباتِ خداکی مضبوط عقلی بنیادیہ سوال ہے کہ محتاج اشیاکے وجودکی آخری توضیح کیاہے۔ہم جن اشیاکوجانتے ہیں وہ مخصوص حالات، اجزااورتعلقات پرقائم ہیں ۔ ان کاہوناان کی تعریف سے لازم نہیں آتا؛وہ نہ بھی ہوتیں تومنطقی تضادپیدانہ ہوتا۔ایسے وجودکوفلسفیانہ زبان میں ممکن کہاجاتاہے۔استدلال یہ ہے کہ اگر وجود کی ہربنیادخودکسی دوسری بنیادکی محتاج ہو،تومحض محتاجیوں کی فہرست طویل کرنے سے غیرمحتاج بنیادمیسرنہیں آتی۔قرض کی رسیدوں کاانباراپنے آپ سرمایہ نہیں بن جاتا۔
یہ دلیل صرف زمانی آغازکی دلیل نہیں۔فرض کیجیے کائنات کی تاریخ انسانی حساب سے بے آغازثابت ہوجائے،تب بھی اس کے وجوداور قوانین کی بنیادکاسوال باقی رہتاہے۔ازلی مدت اوروجودی خودکفالت ایک چیزنہیں۔ایک ہمیشہ روشن رہنے والاچراغ بھی،اگراس کی روشنی کسی مستقل منبع پرمنحصرہو،اس انحصارسے آزادنہیں ہوتا۔مثال دلیل کابدل نہیں،مگرفرق واضح کرتی ہے:سوال صرف یہ نہیں کہ کائنات کب شروع ہوئی؛سوال یہ بھی ہے کہ وہ اپنے وجودمیں قائم بالذات کیوں سمجھی جائے۔
یہاں ملحداعتراض کرسکتاہے کہ کائنات ایک بنیادی حقیقت ہے جس کی مزیدتوضیح ضروری نہیں۔یہی اصل محلِ نزاع ہے۔مسلمان مفکر کواپنی دلیل کامقدمہ صاف بیان کرناچاہیے: محتاج حقیقت کافی توضیح چاہتی ہے،اوراس توضیح کی آخری بنیادخودمحتاج نہیں ہوسکتی۔ مخالف اس اصول وردکرسکتاہے،مگرپھرگفتگودلیل کے اصل مقام پرہوگی۔واجب الوجودکااستدلال اسی اصول کواختیارکرکے ایک غیر محتاج اصل تک پہنچتاہے؛اس کی مزیدصفات اوروحی کی صداقت کیلئےمزید دلائل درکارہیں۔
عام اعتراض ہے کہ اگرہرچیزکوخالق چاہیے توخداکاخالق کون ہے؟مگرمعتبردلیل کامقدمہ یہ نہیں کہ ہرموجودمخلوق ہے؛مقدمہ یہ ہے کہ جووجودپیداہوایااپنی حقیقت میں محتاج ہے،وہ توضیح چاہتاہے۔خداسے مراداسی محتاجی سے پاک حقیقت ہے۔اسے بھی مخلوق فرض کرکے پھراس کے خالق کامطالبہ کرنازیرِبحث تصور بدل دیناہے۔تاہم محض کسی شے کوغیرمحتاج کہہ دینے سے دلیل مکمل نہیں ہوتی؛دکھاناہوتا ہے کہ محتاج وجودکی آخری بنیادکیوں درکارہے اوروہ خوداسی زنجیرکی ایک کڑی کیوں نہیں ہوسکتی۔ سورۂ اخلاص اس تصورکونہایت جامع صورت میں پیش کرتی ہے:
اللہ ایک ہے،بے نیازہے،نہ اس کی اولادہے،نہ وہ کسی کی اولاد،اورکوئی اس کاہمسرنہیں (112:4:1)
یہاں خالق کائنات کے اندررہنے والی بڑی مخلوق یاجسمانی انجینئرنہیں۔وہ اس پورے نظام کی اصل ہے۔ قرآن کاسوال کہ
کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں،یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے۔ نسان کواپنے وجودکی حقیقت پرغورکی دعوت دیتاہے۔(36:35:52)
جدید کونیات ایک گرم،کثیف ابتدائی حالت سے کائنات کے پھیلاؤکی مضبوط شہادتیں پیش کرتی ہے۔ناساکے بیان کے مطابق موجودہ کونیاتی تاریخ تقریباًتیرہ ارب اسی کروڑبرس پیچھے تک جاتی ہے،مگر ابتدائی تیزپھیلاؤسے پہلے کی صورت اوراس کے محرک کے بارے میں اہم سوالات کھلے ہیں۔لہٰذابگ بینگ کوعدمِ محض سے تخلیق کی براہِ راست تجرباتی تصویر کہنا درست نہیں ۔وہ کائنات کی طبیعی تاریخ کانمونہ ہے؛اس سے پہلے یااس کی بنیادمیں کیا ہے ،یہ علیحدہ بحث ہے۔
بورڈ،گتھ اورویلنکن کامعروف مقالہ بھی احتیاط چاہتاہے۔مخصوص اوسط توسیعی شرط کے تحت ان کانتیجہ ماضی کی سمت زمانی ونوری راستوں کی نامکملیت ہے؛ خود مصنفین کہتے ہیں کہ توسیعی خطے کی ماضی کی حدسمجھانے کیلئےمزید طبیعیات درکارہے۔یہ ہرممکن کائناتی نمونے کے عدم سے ظہور کا جامع ثبوت نہیں۔تاہم اس سے اتناضرورواضح ہوتاہے کہ توسیع کانمونہ اپنے آپ مکمل آخری توضیح نہیں۔یہاں ایمان کی قوت مبالغے میں نہیں،اس سوال کی بقامیں ہے جوطبیعی بیان کے بعدبھی باقی رہتاہے۔
اسی طرح کوانٹمی خلاکوفلسفیانہ عدم سمجھ لینالفظوں کی لغزش ہے۔جہاں میدان،حالت،امکانات اورقوانین زیرِبحث ہوں،وہاں عدمِ محض نہیں ہوتا۔کوئی طبیعی نمونہ اگرکائنات کی پیدائش سمجھادے تومسلمان اس کامیابی کوقبول کرسکتاہے،پھرپوچھ سکتاہے کہ اس نمونے کی واقعی بنیاداورقانون پذیرحقیقت کیوں موجودہے۔ریاضیاتی مساوات سے خالق تک پہنچنابھی ایک فلسفیانہ استدلال ہوگا،مساوات کاتجرباتی نتیجہ نہیں۔دفترمیں لکھی ہوئی تعمیرکی ترکیب اورواقعی عمارت الگ چیزیں ہیں؛لیکن اس تمثیل سے تمام کوانٹمی نظریات یک قلم باطل نہیں ہو جاتے۔
مائرکی دوسری دلیل طبیعی مقداروں کی حیات موافق مناسبت ہے۔بعض بنیادی مقداریں اورابتدائی حالات بدلیں توستاروں،عناصریاپیچیدہ کیمیائی ساختوں کے امکانات بہت مختلف ہوسکتے ہیں۔لیوک بارنزنے اس موضوع کاتفصیلی علمی جائزہ پیش کیاہے۔تاہم یہ کہناکہ ہرمقدار کی معمولی تبدیلی ہرقسم کی ممکنہ زندگی ختم کردے گی،غیرمحتاط تعمیم ہے۔معلوم زندگی،ممکن زندگی،مشترکہ طورپربدلنے والی مقداریں اورنامعلوم بنیادی نظریہ الگ سوال ہیں۔امکانات کی تقسیم جانے بغیرقطعی احتمال نکالنابھی آسان نہیں۔
اسلامی استدلال اس نظم کوحکمت کے حق میں قرینہ سمجھتاہے۔کائنات کاسمجھ میں آنا،اس میں مستقل تعلقات کاہونااورحیات کیلئےامکانات کاکھلنا،ایک عاقل اصل کے تصورسے مناسبت رکھتاہے۔مگریہ ریاضیاتی جبرنہیں جس کے بعداختلاف ناممکن ہوجائے۔کثیرکائنات،زیادہ بنیادی طبیعی ضرورت اورانتخابی اثرات جیسے متبادل زیرِبحث آتے ہیں۔کثیرکائنات کوصرف خداسے فرارکہنامخالف کی نیت کافیصلہ ہے؛درست سوال اس کی شہادت،آزمائش پذیری اورتوضیحی قوت کاہے۔متعدد کائناتیں ہوں تب بھی ان کے مجموعی نظام کی بنیادپوچھی جاسکتی ہے۔
ڈی این اے کی ساخت اوروراثتی عمل حیرت انگیزہیں،مگرحیرت کوجلدبازی سے برہان بنانامناسب نہیں۔حیاتیاتی معلومات کی کمپیوٹر پروگرام سے مشابہت مفید ہوسکتی ہے،لیکن دونوں کی مکمل یکسانی ثابت نہیں۔جاندارنظام کی تبدیلی میں وراثت،تغیراورانتخاب کردارادا کرتے ہیں۔پہلے قابلِ تکثیرنظام کی پیدائش اور موجودجانداروں کاارتقادومختلف تحقیقی مسائل ہیں۔پہلی بحث کے نامکمل ہونے سے دوسری کے شواہدختم نہیں ہوتے؛نہ ارتقاکی توضیح اپنے آپ خداکے انکار کا منطقی حکم بن جاتی ہے۔
2022ءکے ایک تجرباتی مقالے میں پہلے سے قائم آراین اے تکثیری نظام،فراہم کردہ حیاتیاتی اجزااورتجرباتی حالات کے اندرزیادہ پیچیدہ باہمی نظام کے ابھرنے کی اطلاع دی گئی۔یہ عدمِ حیات سے مکمل اولین خلیہ پیداکرنے کامظاہرہ نہیں تھا،مگریہ بھی درست نہیں کہ طبیعی عمل سے فعالی پیچیدگی میں اضافے کیلئےکوئی تجرباتی شہادت موجودنہیں۔مسلمان کی دلیل تحقیق روکنے سے مضبوط نہیں ہوگی۔کل اگر حیات کے آغازکی زیادہ جامع طبیعی توضیح مل جائے،توخلقِ الٰہی کاسوال اس توضیح کے اسباب،قوانین اوروجودی بنیادکے بارے میں قائم رہے گا۔
خلائی مخلوق کے ذریعے زندگی کی منتقلی کامفروضہ بھی آخری سوال کودوسری جگہ منتقل کرتاہے۔لیکن ڈاکنزکی کسی امکانی گفتگوکو خداپرایمان کااقرارکہنادرست نہیں۔ممکنہ حیاتیاتی تخلیق کار اورواجب الوجودمیں بنیادی فرق ہے:پہلاخودپیداشدہ اورمحتاج ہوسکتاہے،دوسرا تمام محتاج وجودکی اصل کے طورپرزیرِ بحث ہے ۔اسی طرح تاریک مادے کے استنباط اورخداکے فلسفیانہ اثبات میں کچھ عمومی مشابہت ہوسکتی ہے کہ آثارسے علت کی طرف جاتے ہیں؛مگردونوں کے طریقۂ آزمائش اوردعوے کی نوعیت یکساں نہیں۔
انسان صرف خارجی دنیاکاناظرنہیں؛وہ اپنے وجودکاتجربہ بھی رکھتاہے۔دماغی عمل اورشعوری حالتوں کے تعلقات معلوم ہونے سے یہ فلسفیانہ سوال لازماًختم نہیں ہوتاکہ ذاتی تجربے اور معنویت کی مکمل توضیح کیاہے۔تاہم یہاں نامعلوم کوفوراًخداکاثبوت بنادیناپھروہی کمزور راستہ ہوگا۔اسلامی تصورانسان کوصاحبِ ذمہ داری اوراخلاقی خطاب کامخاطب سمجھتاہے۔یہ تصور شعور ، ارادے اورانسانی حرمت کو ایک مربوط معنوی افق دیتاہے؛اس کی قوت مجموعی توضیح میں ہے، کسی ایک نامکمل عصبی تحقیق میں نہیں۔
اخلاق کے باب میں بھی انصاف لازم ہے۔ملحدانسان ایثار،دیانت اورہمدردی کااعلیٰ نمونہ ہوسکتاہے۔بحث اس کے کردارکی نہیں،اخلاقی الزام کی آخری بنیادکی ہے:ظلم اس وقت بھی براکیوں ہے جب ظالم کامیاب اورمعاشرہ خاموش ہو؟اسلامی جواب انسانی پسندسے بلندعدل، خداکے حضورجوابدہی اورآخرت ہے۔ غیر مذہبی اخلاقی فلسفوں کے بھی سنجیدہ جوابات ہیں؛انہیں سنے بغیراپنی فتح کااعلان علمی وقارکے خلاف ہے۔دلیل کامقصدمخالف کوبے ضمیرثابت کرنانہیں ، اخلاقی حقیقت کی بنیادجانچناہے۔
اس کے مقابل مسئلۂ شرنہایت سنگین ہے۔بچے کی تکلیف،جنگ کی تباہی اوربے گناہ کادکھ محض مناظرے کی مثالیں نہیں۔اسلام دنیاکو امتحان،انسان کومحدود علم رکھنے والااورآخرت کوکامل عدل کی منزل قراردیتاہے؛لیکن کسی خاص سانحے کاپوشیدہ مقصدجان لینے کا دعویٰ نہیں کرتا۔شرکے وجودسے خداکے انکار کا قطعی نتیجہ نکالنے کیلئےمزید مقدمات درکارہیں،تاہم اس سے مومن کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔مصیبت زدہ کے سامنے پہلافرض مرہم ہے۔عدل کاعقیدہ ظلم کے خلاف عمل میں ظاہرنہ ہوتوزبان کااستدلال بے اثررہتاہے۔
خالق کے حق میں عمومی دلیل اوراسلام کی حقانیت کامقدمہ ایک مرحلہ نہیں۔اول ہمیں ایک غیرمحتاج اصل،حکمت اورمعنویت کی طرف لے جاسکتاہے؛
دوم کیلئےنبوت،قرآن،سیرت اوروحی کے دعوے کامستقل جائزہ چاہیے۔قرآن کوپہلے سے غیرمعتبرسمجھنے والے مخاطب کے سامنے صرف آیت پڑھ دینامشترک عقلی دلیل کابدل نہیں۔ آیت اسلامی تصورواضح کرتی ہے،پھراس تصورکے عقلی مقدمات اوروحی کی صداقت الگ پیش ہوتے ہیں۔اسی ترتیب سے خطاب دعوے کی تکرارکی بجائے معرفت کاسفربنتاہے۔
الحادکی پسپائی کاقیمتی نکتہ یہی ہے کہ انسان کولاجواب کرنااوراس کادل مطمئن کرنامختلف کام ہیں۔البتہ ہرمنکرکوخواہش پرست یامغربی اثرکااسیرکہنادعوت کے دروازے بندکرسکتاہے۔کوئی مذہبی ظلم سے زخمی ہے،کوئی سائنسی اعتراض سے الجھا،کوئی محض مطالعے میں ہے۔قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کاقلبی اطمینان طلب کرناسوال کی گنجائش روشن کرتاہے:
اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔(البقرہ 2:260)۔صحیح مسلم کی روایت میں ناگواروسوسوں پرپریشان اہلِ ایمان کوتسلی ملتی ہے؛اسے خودانکارِخدا کی توثیق نہیں سمجھناچاہیے۔
پس علمی گفتگوکاراستہ حکمت،حسنِ نصیحت اوربہترین اندازِمجادلہ ہے(النحل16:125)۔الحادکی واپسی کاسفرکسی معروف شخص کے مذہب بدلنے،تہذیبی وابستگی ظاہرکرنے یاکسی نئی دریافت پرفاتحانہ نعرہ لگانے سے ثابت نہیں ہوتا۔وہ اس وقت ممکن ہوتاہے جب انکار کی قطعی زبان اپنی بنیادوں پرنظرثانی کرے، اورایمان کی زبان دیانت کے ساتھ دلیل پیش کرے۔خدائے لازوال پریقین کی مضبوط صورت وہ ہے جوکائنات کی محتاجی کوپہچانے،نظم میں حکمت کے قرائن دیکھے،اورمعرفت کوعدل ورحمت میں ڈھال دے ۔تب علم کی روشنی بندگی کے چراغ کوبجھاتی نہیں؛اس کے سامنے افق وسیع کرتی ہے۔
اس گفتگوکے بعداصل سوال ہمارے اپنے طرزِفکراورطرزِعمل کی طرف پلٹتاہے۔اگرانسان اپنے آپ کوایک حکیم وعادل خالق کے حضور جواب دہ سمجھتا ہے ،تواس اعتقادکااثراس کی معاشرت میں بھی دکھائی دیناچاہیے۔اس کے ہاتھ سے کسی کمزورکاحق محفوظ ہو،اس کی زبان سے اختلاف کرنے والے کی عزت سلامت رہے،اوراس کی قوت کسی بے بس کیلئےپناہ بنے۔معرفت جب کردارمیں اترتی ہے،تب یقین کووہ وقارملتاہے جومحض خطابت سے حاصل نہیں ہوتا۔
ہمارے عہدکوایسے مذہبی مکالمے کی ضرورت ہے جس میں سوال کرنے والااپنی تحقیرکااندیشہ محسوس نہ کرے۔بہت سے ذہن کسی دلیل سے پہلے ایک محفوظ سماعت کے محتاج ہوتے ہیں؛انہیں ایساماحول چاہیے جہاں وہ اپنی الجھن پوری بیان کرسکیں۔اہلِ ایمان کی علمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ماحول کی تعمیرکریں،اپنی کمزوریوں کی اصلاح کریں اورجوبات معلوم نہ ہو، اسے معلوم ظاہرکرنے سے گریزکریں۔ اعترافِ لاعلمی،سچائی سے وفاداری کی ایک صورت ہے۔
اسی طرح انکارکی جانب کھڑے ہوئے انسان کیلئےبھی نظرثانی کادروازہ کھلارہناچاہیے۔کسی رائے سے طویل وابستگی اسے حقیقت کا آخری نام نہیں بنادیتی۔ذہن کی آزادی میں یہ حوصلہ بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے پسندیدہ جواب کودوبارہ پرکھ سکے،اورجہاں روشنی زیادہ ہو،وہاں قدم بڑھانے میں اپنی سابق شناخت کو رکاوٹ نہ بنائے۔الحاد سے ایمان کی طرف سفر،اگرآغازپاتا ہے،تواس کی منزل کسی مخالف کی شکست نہیں،انسان کی داخلی کشادگی ہے۔وہاں علم کے ساتھ تواضع اوریقین کے ساتھ رحمت پیداہوتی ہے۔یہی اس بحث کاتہذیبی ثمرہوسکتا ہے: ایک ایساانسان جوحقیقت کاطالب بھی ہواورمخلوق کا خیرخواہ بھی؛جس کی بندگی اس کے باطن کوروشن کرے اوراس روشنی سے دوسروں کاراستہ بھی آسان ہو۔











