The Stick Of Certainty

سردجنگ میں کڑاامتحان

:Share

امریکاوچین کے درمیان جاری ممکنہ سردجنگ کے تناظرمیں دنیابھرکے ممالک اپنی اپنی سٹریٹجی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ جنوبی ایشیا بالعموم اوربالخصوص خلیجی ممالک بھی ان دوعالمی طاقتوں کے حوالے سے خطے میں اپنے مختلف مقاصد اورترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کررہے ہیں،انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس صورتحال میں ذراسی غلطی کی بھاری قیمت اداکرنی پڑسکتی ہے۔ان دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان سردجنگ میں خلیجی تعاون کونسل کاکرداردیگر ممالک سے زیادہ اہم ہے۔امریکانےاس خطے میں ایک مخصوص پلان کے تحت عراق کویت جنگ کاجال جس کامیابی کے ساتھ پھیلایا،آج اسی کے نتیجے میں 1991ء۔1990ء کی خلیج جنگ سے ان ممالک کی سیکورٹی کے معاملات میں براہ راست شامل ہوچکاہے۔ خلیج کی اس حماقت کی بناء پران ممالک کوامریکی افواج کی موجودگی کیلئےکثیرسرمایہ صَرف کرناپڑرہاہے۔اس پرمستزادسعودی عرب نے اپنے اتحادیوں سمیت قطرکی ناکہ بندی کرکے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی اوران ممالک کوپورایقین تھاکہ قطرچندہفتوں میں پرانی تنخواہ پرکام کرنے کیلئے آمادہ ہوجائے گالیکن قطرنے بہترین سیاسی حکمت عملی سے اس تمام پروگرام کونہ صرف سبوتاژکرکے خودکومنوایابلکہ ان تمام ممالک کودوبارہ قطرکے ساتھ تعلقات استوار کرنے پرمجبورکردیالیکن ان حالات کے دوران بھی امریکانے نہ صرف قطرکے اربوں ڈالرکے سرمایہ سے تیارکردہ بحری اڈے پراپنی افواج کوتعینات کررکھاہے بلکہ امریکانے اپنی موجودگی سے قطر،بحرین،متحدہ عرب امارات،کویت، عراق، سعودی عرب میں اپنے مضبوط پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح ان ممالک میں امریکااپناگہرااثرو رسوخ قائم کرچکاہے۔

امریکی پالیسی کی ناکامی کی بازگشت کے باوجودسابقہ صدرٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ پالیسیوں کوبائیڈن انتظامیہ نے بھی اسرائیل، متحدہ عرب امارت اور بحرین کے درمیان تعلقات کوبحال کرنے میں نہ صرف مزیدکامیابی حاصل ہوئی ہے بلکہ امریکی کوششوں سے سعودی عرب اور اسرائیل تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔امریکانے خطے میں اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے اپنی تزویراتی حکمت عملی سے قطر،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات ،مصراوربحرین کے مابین جاری سرد جنگ کوامن اوراعتمادکی فضامیں کامیابی سے تبدیل کر لیاہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ موجودہے کہ امریکااورچین دونوں،تیل کی ضروریات کیلئےخلیجی ممالک کے وسائل پرانحصارکرنے پرمجبورہیں۔وبا کی صورت حال سے پہلے چین نے اپنی ضرورت کا28فیصد تیل خلیجی ممالک سے حاصل کیا۔مئی2020ءمیں سعودی عرب نے اپنے تیل کا تین تہائی حصہ صرف چین کودرآمدکیا۔اسی طرح عراق نے بھی تیل کاایک بڑاحصہ چین کودرآمدکیاتھا۔اپنی معاشی ضرورت کے تناظر میں خلیجی ممالک کیلئے چین کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں۔خاص طورپر موجودہ معاشی صورتحال اورعدم استحکام میں ان تعلقات کی اہمیت اوربڑھ جاتی ہے۔

اس وقت امریکااورچین کے درمیان تنازع کی ایک اہم وجہ5جی نیٹ ورک ہے۔ٹرمپ کی حکومت نے اپنے53اتحادی ممالک کے ساتھ “کلین نیٹ ورک انیشیٹو”کاآغارکیاتھا،جس کامقصدچین کوٹیکنالوجی کے میدان میں تنہاکرنے اوراس کی بڑھتی ہوئی تکنیکی ترقی اوراثر ورسوخ کوروکنا تھا ۔اس حوالے سے امریکا نے اسرائیل پربھی زوردیاتھاکہ وہ چین کے تکنیکی وسائل کے استعمال سے اجتناب کرے۔ امریکااپنے اتحادیوں کوچین کے خلاف تکنیکی جنگ کیلئےتیارکرنے کے بعداب خلیجی ممالک پراس حوالے سے دباؤبڑھانے کی تیاری کررہاہے۔کویت میں موجودچینی سفارت کار اورامریکی ہم منصب کے درمیان ٹوئٹرپیغام کے تبادلے کوامریکااورچین کے درمیان جاری سردجنگ کے وسیع ترتناظرمیں دیکھناچاہیے۔

امریکامیں دفاعی وسیاسی تجزیہ نگاروں نے بائیڈن حکومت کومشورہ دیاہے کہ اب امریکاکواب اپنی پالیسی چین کے تناظرمیں ترتیب دینا ہوگی جبکہ امریکاکوخلیجی ممالک میں اپنی موجودگی برقراررکھنے اوردنیابھرمیں اپنی افواج کی موجودگی کے حوالے سے ازسرنواپنی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکاکواپنی نئی تزویراتی منصوبہ بندی کے تحت انڈوپیسیفک خطے میں اپنااثر ورسوخ بڑھانے کیلئے اپنی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیوں کاآغازکردیناچاہئے۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ بائیڈن کے قیادت میں چین کے حوالے سے امریکاکی سابقہ پالیسی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی جس کااندازہ جوبائیڈن کے ایک حالیہ جارحانہ بیان سے اندازہ لگانامشکل نہیں جس میں انہوں نے چین کوانتباہ کرتے ہوئے کہاکہ “امریکا،اکیلےچین کوعالمی معاشی کیک کھانے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔امریکادیگرممالک کے ساتھ شراکت اورتعاون کوچین کے تناظر میں ترتیب دے گااورخلیجی ممالک میں اپنی غیرمعمولی توجہ اور موجودگی کوبرقرار رکھے گا۔تاہم امریکادنیابھرمیں اپنی عسکری صف بندی کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں کرسکتاہے”۔

امریکایہ جان چکاہے کہ سی پیک پاکستان کے بہترین مفادکامنصوبہ ہونے کے ساتھ خطے کیلئے گیم چینجرکی بھی حیثیت رکھتاہےاور یہ عظم منصوبہ دشمن قوتوں کے سینے پرسانپ بن کربھی لوٹ رہاہے اوران کے شب وروزسی پیک معاہدے کوسبوتاژکرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں اوربالخصوص امریکاہرحال میں اس پراجیکٹ کوناکام کرنے کیلئے ہمارے ازلی دشمن بھارت کواستعمال کر رہاہے۔اب یہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے مگراس کے خلاف سازشوں کے جال متواتربنے جارہے ہیں۔گزشتہ چھ سال کے دوران سی پیک کے حوالے سے سست ہونے والی رفتارمیں ایک مرتبہ پھرنمایاں پیشرفت شروع ہوچکی ہے۔34منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جوپاکستان کی سماجی واقتصادی ترقی اورعوامی فلاح وبہبودکی بہتری میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ان کے نتیجہ میں لوکل ٹرانسپورٹیشن انفرا سٹرکچراور پاور سپلائی میں زبردست بہتری آئی ہے۔اس کے علاوہ کروناکے باوجود75ہزارملازمتیں پیداہوئیں اورپاکستان کی جی ڈی پی پیداوارمیں1سے2فیصداضافہ ریکارڈ کیاگیا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ سی پیک نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کرداراداکررہاہے بلکہ اس سے عوام کامعیارزندگی بھی بلند ہونے کے روشن امکانات ہیں۔ان حالات میں اب یہ افواہ بھی گردش کررہی ہے کہ امریکانے ایک مرتبہ پھرافغانستان سے اپنی فضائی فورس کیلئےپاکستان سے شمسی ائیربیس کے علاوہ دیگرہوائی اڈے مانگ لئے ہیں اورعنقریب ایک امریکی جنرل باقاعدہ پاکستانی قیادت سے بالمشافہ مطالبہ کرنے کیلئے پاکستان کادورہ کرنے والاہے جس کیلئے امریکانے پاکستان کے دوست ملک سے بھی اپنااثرورسوخ استعمال کرنے کاکہاہے۔

ادھرہرطرف سے ناکامی کے بعداب امریکانے چین کوساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں اورساتھ ہی چائنہ سی کے اردگرد موجودتمام ممالک انڈونیشیا،برونائی،چاپان، فلپائن،تائیوان،ہانگ کانگ،ساؤتھ کوریا،ویت نام کوچین کے خلاف اکسانے میں کامیاب ہوگیاہے اور آسٹریلیاتویہاں اپنے ڈیسٹرائٹر اورایئرکرافٹ کیریئرلے کرگشت کررہاہے اوربھارت پربھی اس مطالبے کے بعدکڑاوقت آن پہنچاہےکہ وہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کوچین کے بحری جہازوں کیلئے بندکردے۔یادرہے کہ آبنائے ملاکاکے ذریعے چین کی زیادہ ترتجارت ہوتی ہے اورچین کا80٪ تیل اسی راستے سے گزرتاہے۔اگریہ راستہ بندہوتا ہے توبدلے میں چین کے پاس اپنی تجارت کیلئے صرف گوادربچتاہے جوکہ”پاکستان”کیلئے بہت ہی خوش آئندبات ہے۔دوسری طرف بھارت جانتاہے کہ اگر اس نے آبنائے ملاکابند کرنے کی کوشش کی تو جواب میں چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کرکے سلی گڑی کوریڈور جوکہ بھارت کی سات ریاستوں آسام، ناگا لینڈ،اروناچل پردیش،میگ ہالیہ،میزورام،منی پور،تری پورکوباقی بھارت سے ملاتاہے،اس پرقبضہ کرکے ان سب کوبھارت سے علیحدہ کردے گا۔بھارت یہ بات اچھی طرح جانتاہے اوراسی لئےکافی حدتک خاموش ہے۔اب بھارت نے اگرتبت کارڈکھیلنے کافیصلہ کیا اور دلائی لامہ کوپوری دنیامیں لیکرجانے کاپروگرام بنایاتو مغرب ایک مرتبہ پھرامریکاکے کہنے پریواین اومیں اس کارڈکی پشت پناہی کرے گاتواس کے نتیجے میں چین پاکستان سے مل کرکشمیرکی آزادی کارڈبڑی قوت سے کھیلے گا اورہرصورت کشمیر کی آزادی کیلئے وہ تمام وسائل بروئے کارلائے گاجوکبھی مغرب اورامریکانے روس کوافغانستان سے نکالنے کیلئے استعمال کئے تھے اوریہ ہزاروں میل دوربیٹھے مغرب اورامریکاکیلئے بھارت کواس مشکل سے نکالناناممکن ہوجائے گاکیونکہ چین اور پاکستان کئی اطراف سے بھارت اور کشمیرکاگھیراتنگ کردیں
گے اورروس بھی بھارت کی امریکا دوستی کے جواب میں جوادھارکھائے بیٹھاہے، اپنا حساب برابرکر دے گا کیونکہ امریکاکے کہنے پرمودی نے روس سے اسلحے کے معاہدے پردستخط کے باوجود فرانس سے رافیل طیارے خریدے ہیں اور یہ بات پاکستان کیلئے اتنی ہی خوش آئندہے کہ اسی روس نے پاکستان کوتوڑنے اوربنگلہ دیش بنانے میں بھارت کی مددکی تھی اوراب بھارت کو توڑنے میں روس اپنے مفادات کی تکمیل میں پاکستان اورچین کاساتھ دینے پرمجبورہوگا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ برس ستمبرسے ‏سی پیک کے خلاف بھارتی اورامریکی سازش کے توڑکیلئے چین ماؤنٹ ایورسٹ پرفوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹرزکے ساتھ ساتھ لداخ اور ماؤنٹ ایورسٹ پر پانچ ہزارسے زائد فوجی تعینات کرچکاہے۔ذرائع کایہ بھی کہناہےکہ گیلون ندی ‏(لداخ)سمیت تین مختلف مقامات پرچینی فوج 4-5 کلومیٹرتک “ایل اے سی”سے آگے مورچہ بند ہوچکی ہے۔صرف گلون ندی کے مقام پرچین نے100سے زائدٹینٹ لگا دیئے ہیں جہاں بھارتی میڈیاکے مطابق چینی فوج زیرزمین بنکرز بناچکاہے جبکہ گزشتہ برس کچھ بھارتی فوجیوں کوگرفتارکرکے بڑاواضح پیغام دے چکاہے جبکہ اس معرکے میں بڑی تعدادمیں بھارتی فوجیوں نے بھاک کرجان بچائی تھی۔لداخ اورسکم کی سرحدپرچینی فوج کی نقل وحرکت سے بھارت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف250کلومیٹردورہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحدپرچینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔بھارت نے پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیاہے کہ چین لداخ کے 38 ہزارمربع میل پرقبضہ کرچکاہے۔اس کااعتراف خود بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ بھارتی پارلیمان میں کرچکاہے۔میں یہاں یہ بھی بتاتاچلوں کہ لداخ کاکل رقبہ 59146مربع میل ہے۔

دوسری طرف چین نے ایران کے ساتھ 460بلین ڈالرکاتجارتی سمجھوتہ کرکے اس کومکمل طورپربھارت کی گودسے نکال لیاہے اوراب ایران بھی چین کی خوشنودی کیلئے کھل کربھارت کے خلاف میدان میں آرہاہے۔اب صرف عرب ممالک کافیصلہ باقی ہے۔چین نے سعودی عرب اورباقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالرمیں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفرکی ہے جوکہ امریکی ڈالر کوبدترین دھچکاہوگاجبکہ کوروناکی وجہ سے امریکی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کی شکارہے۔اس وقت امریکاکابھی عرب ممالک اورپاکستان پربھرپوردباؤہے۔اگرسعودی عرب دباؤپرگھٹنے ٹیک کرامریکی بلاک میں رہتاہے توچین فوری طورپر سعودی عرب کی بجائے ایران اورروس سے تیل خریدناشروع کردے گا۔یادرہے کہ چین صرف سعودی عرب سےسالانہ40ارب ڈالرزکاتیل خریدتاہے جبکہ ایران پہلے ہی چین کوآدھی قیمت پرتیل دینے کی آفرکرچکاہے۔

عرب ممالک پربہت ہی کڑاوقت ہے بالخصوص پچھلے دنوں بائیڈن نےسعودی ولی عہدکافون سننے سے یہ کہہ کرانکارکردیاتھاکہ یہ پروٹوکول کے خلاف ہے۔ یقیناً ولی عہدسعودی عرب پرامریکی میڈیامیں شائع ہونے والی اس خبرنےبھی کوئی اچھااثرنہیں چھوڑااورتاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کیلئے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کوڈستاہے اورچین ہرحال میں اپنے دوستوں کو ساتھ لیکرچلتاہے اب فیصلہ محمدبن سلمان کے صوابدیدپرہے کہ وہ خطے میں اپنے اقتداراورملکی سلامتی کیلئے زندگی اورموت میں کس کاچناؤکرتاہے جبکہ پاکستان اورچین پہلے ہی سعودی عرب اورایران میں تعلقات کی بحالی کیلئے کام کررہے ہیں۔

بائیڈن اپنی انتخابی سرگرمیوں کے دوران بھی زوردیتے رہے ہیں کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوروکناضروری ہے۔خلیجی قیادت امریکاکے دیگر ممالک کے ساتھ ممکنہ اتحاد اورشراکت کے حوالے سے اضطراب کاشکارہیں۔لگتایہ ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اقتصادی اورمعاشی مفادات کے پیش نظرچین کے خلاف امریکاکی صف بندی میں شمولیت سے اجتناب کریں گے۔خلیجی ممالک کواس بات کاادراک ہوگیاہے کہ انہیں اپنی دوررس تزویراتی منصوبہ بندی،خطے میں استحکام اوراپنے مفادات کے تحفظ کیلئے امریکا کے ساتھ ساتھ دیگرممالک فرانس،روس،یونان اوربرطانیہ کے علاوہ دیگرممالک کے ساتھ تعلقات استوارکرنابھی ضروری ہے اوراس کڑے وقت میں عربوں کو پاکستان کے مقابلے میں انڈیاکوبھی آزمانے کاموقع ملاہے اوروہ ایک مرتبہ پھرجان چکے ہیں کہ پاکستان کی دوستی ہرآزمائش میں پوری اتری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں