سیاسی مداریوں کے تماشے اورعوامی سیاپے

:Share

میں خودبڑے عرصے سے محسوس کررہاہوں،میری تحریرمیں ایک بیزاری،ایک لاتعلقی سی آچکی ہے۔وہ تلخی،وہ آگ اوروہ سلگتا ہوادرد ختم ہوتاجارہاہے جواس تحریرکی پہچان تھا۔ایساکیوں ہورہاہے؟میں اکثرخودسے سوال کرتاہوں۔ہربارمیں خودکویہی جواب دیتاہوں،کوئی نیاموضوع ،کوئی نیاایشو نہیں۔ مہنگائی پراورکتنے کالم لکھے جائیں؟بیروزگاری،جہالت اوربیماری پرکوئی کہاں تک لکھ سکتاہے؟بد امنی،حکومتی رٹ، حکومتی بے حسی،لوٹ کھسوٹ، کرپشن،دفتری تاخیر،سرخ فیتہ اورسیاسی مکروفریب پر کتنے ٹن مضامین چھاپے جاسکتے ہیں؟آخرانسانی دماغ کی بھی ایک حدہوتی ہے،آپ سیاپابھی ایک حدتک کرسکتے ہیں،بچہ ماں کوکتناپیاراہوتاہے،بچہ مرجائے توماں بین کرتی ہے،روتی ہے چلاتی ہے لیکن کتنی دیر؟ایک گھنٹہ،ایک دن یاایک ہفتہ،آخر بین چیخوں،چیخیں سسکیوں اورسسکیاں آہوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں،دلِ مضطرب کوچین آجاتاہے۔ایک ہلکی سی کسک،دردکی ایک تھوڑی سی آہٹ باقی رہ جاتی ہےلیکن پروفیسرحسین عالم ہرکالم کے صوتی تبصرہ میں بین السطورکو اس طرح ننگاکردیتاہے جس کولاکھ جتن کرکےچھپانے کی کوشش کرتا ہوں کہ قارئین زیادہ دل گرفتہ نہ ہوں لیکن وہ سمجھتاہی نہیں اوراس کے چیخیں اوربین باقاعدہ ایک سیاپے کی شکل اختیارکرلیتے ہیں۔

کوئی اسے سمجھائے کہ لکھاریوں کی تحریریں ایک بین،ایک چیخ ہوتے ہیں۔یہ چیخ یہ بین بتاتے ہیں کہ لوگو!تمہارے ساتھ ظلم ہوگیا،تم لٹ گئے،تم بربادہو گئے۔اس چیخ،اس بین پرلوگ متوجہ ہوجائیں اورظالم ٹھٹک کررک جائے تولکھاری کافرض پوراہوگیا لیکن اگرظالم ان چیخوں،ان بینوں کے باوجود ظلم کرتارہے،ایک لمحے کیلئے اس کاہاتھ نہ رکے،اس کے ماتھے پرشرمندگی کا پسینہ تک نہ آئے،تووہ چیخ،وہ بین ایک فضائی آلودگی کے سواکچھ نہیں۔لوگ بھی اگراس چیخ اوراس بین کومعمولی سمجھیں اورایک روٹین کادرجہ دے دیں توبھی یہ چیخیں یہ بین آوازوں کے جنگل میں ایک سوکھی سڑی جھاڑی اورایک کچلی گھاس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ چوکیدارکے”جاگتے رہو”کے اعلان سے اگرچورگھبرائیں اورنہ ہی اہلِ محلہ کی آنکھ کھلے تو چوکیدارکیاکرے گا؟اس کی پتلیوں میں بھی نیندہچکولے لے گی،اس کاضمیربھی جمائیاں لینے لگے گا۔

عزیزم!یقین کرو میں جب لکھنے بیٹھتاہوں توخودسے سوال کرتاہوں،کس کیلئے لکھ رہاہوں؟ان لوگوں کیلئے جوغلامی سہنے کی عادت،زیادتیاں برداشت کرنے کی خوجن کی نس نس میں بس چکی ہے،جواپنے اوپرہونے والے ظلم کی داستان کوبھی ایک افسانہ سمجھ کرپڑھتے ہیں،جواپنے قتل کے گواہ پرہنستے ہیں یااس حکومت کیلئے جوخداترسی کی اپیل کوپاگل اورقنوطیوں کاسیاپا سمجھتی ہے۔میں اس نتیجے پرپہنچ چکاہوں آپ بیل کولیکچرکے ذریعے چیتانہیں بناسکتے۔ بھیڑیئے کے دل میں بھیڑکیلئے ہمدردی بھی نہیں جگاسکتے،لہندامیرے نوجوان عزیز!سچی بات ہے سیاپے کی یہ نائین(پیغام دینے والی مائی)تھک چکی ہے ۔آخرقبرستانوں میں اذان دینے کی ایک حدہوتی ہے لیکن شائدتم نے تہیہ کررکھاہے کہ اپنی چیخوں سے ان قبرستان کے باسیوں کوبھی جگاکردم لو گے۔

رہادوسرااعتراض تومیں نے پچھلی پانچ دہائیوں میں سیاستدانوں کے وہ رنگ دیکھے کہ لفظ سیاست سے مجھے گھن آتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی کچراگھرکی دیوارپربیٹھاہوں،ایسی دیوارجس میں اصول،انصاف،وفاداری،ایمانداری اور ضمیرنام کی ہروہ خوبی،ہروہ وصف گل سڑرہاہے،جس کی وجہ ایک درندہ اشرف المخلوقات بنتاجارہاہے،مجھے ان اوصاف،ان خوبیوں کے لاشوں میں کیڑے رینگتے نظرآتے ہیں۔میں نے ان پچھلی پانچ دہائیوں میں ان لوگوں کواپنے محسنوں کوگالیاں دیتے دیکھا۔میں نے فوجی حکمرانوں پرتنقیدکرنے والوں کوان کے تلوے چاٹتے دیکھا۔ آپ کویادہوگاکہ جنرل ضیاء الحق نے جب کہاتھا کہ میں ان سیاستدانوں کو اشارہ کروں تویہ دم ہلاتے میرے پاس آجائیں۔

آپ کسی غیرت مندکوگالی دے سکتے ہیں لیکن جس کی آنکھوں کی شرم ہی مرچکی ہو،جسے پارٹی بدلتے،وفاداری تبدیل کرتے، نظریہ اورمنشور بھلاتے اتنے دیربھی نہ لگتی ہوجتنی بنیان بدلنے یاجرابیں تبدیل کرنے میں لگتی ہے توآپ اس کوکتنابرابھلاکہہ دیں گے۔ان سے تووہ شخص بہترتھا جس نے یہ کہاتھاکہ میں انکارمیں اتناآگے جاچکاہوں کہ میرے لئے واپسی ممکن نہیں۔آپ خود سوچیں!بدبوکے اس جوہڑپرکیالکھاجائے؟ان غلاظت اورسڑاند بھرے کچراگھروں سے کون ساسورج طلوع ہوگا،یہ لوگ کس مستقبل کی بنیادرکھ رہے ہیں۔قوم نےایک مرتبہ پھراقتدارکی کوکھ میں پروان چڑھنے والے لوگوں کے ہاتھوں اپنی انا،اپناضمیر اوراپنی زبان گروی رکھ کر جنم لینے والوں سیاستدانوں کومسنداقتدارپربٹھادیاہے اورآج وہ جمہوریت”ریاست مدینہ” کے نعروں کی بانہوں میں ہلکورے لے رہی ہے،بھلااب اس سے کیاتوقع کی جائے؟

جوایک بوڑھی ماں کے ساتھ بلکہ قوم کی بیٹی عافیہ کی رہائی کوشب وروزاپنی سیاست کاوظیفہ بناکرمسنداقتدارپہنچتے ہی اپنا پہلا کام بتاتے تھے،اب نہ صرف آنکھیں پھیرچکے ہیں بلکہ عافیہ کی بہن سے ملنے سے بھی گریزاں ہیں،ایسے حکمراں جواپنے ہی نظریئے پرقائم نہیں رہ سکے،جو ایفائے عہدکاپاس نہ کرسکے، وہ میرے یاآپ کے کیاہوں گے۔وہ میرے نظریات ، میرے احساسات اورمیرے جذبات کی کیاترجمانی کریں گے۔وہ میرے لئے تبدیلیوں کے کون سے سورج تراشیں گے،وہ انقلاب کے کن سویروں کی پنیریاں لگائیں گے؟یادرکھیں میرے آقاومربّی خاتم النبیّین ﷺ کا قول مبارک ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بات کرے توجھوٹ کہے،جب وعدہ کرے تواس کے خلاف کرے اورجب اس کو امانت دار سمجھا جائے توخیانت کرے”۔ یہ نیت کی بددیانتی کااورجھوٹی نیت کانتیجہ ہے کیونکہ آدمی گناہ گاراس وقت ہے جب وعدہ یاعہد کرتے وقت اس کی نیت ہی وفا کی نہ ہویابعدمیں وفاکی نیت پرقائم نہ رہے،اگرنیت وعدہ وفاکرنے کی ہے مگر حالات کے ہاتھوں بے اختیارہونے کی وجہ سے وعدہ وفا نہ کرسکا تواس پرمؤاخذہ نہیں.اللہ تعالیٰ کسی جان کوتکلیف نہیں دیتامگراس کی طاقت کے مطابق(البقرۃ: 286)رسول اللہ ﷺ نےیہ بھی فرمایا:انسان کی فطرت میں خیانت اورجھوٹ کے علاوہ تمام خصلتیں ہوسکتی ہیں۔

آخرقوم کوعافیہ صدیقی کی رہائی کے بارے میں سچ سچ کیوں نہیں بتایاجاتا؟کون سی ایسی پابندیاں ہیں کہ جن کی وجہ سے عافیہ کانام لیتے ہی زبان پرچھالے نکل آئیں گے؟کیاکسی نے عافیہ کی ماں کے دل کے زخموں کودیکھاہے؟ کیاڈاکٹرفوزیہ کا اپنی بے گناہ بہن کیلئے مسلسل دربدرہونا اور خاک چھاننایونہی بیکار جائے گا؟کیاعافیہ کے بچے جوبچپن ہی میں اپنی مامتاسے محروم کردیئے گئے اورشب وروزاس کی جدائی کاایک ایک گھونٹ پی کرعہدشباب میں قدم رکھ چکے ہیں،وہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھےگھٹ گھٹ کر مرجانے والی اپنی ماں پرہونے والے اس ظلم و ناانصافی کاحساب کس سے مانگیں؟ برسوں سے ملک کی شاہراہوں اورمیڈیاپرآپ کوشب وروزعافیہ کے بارے میں اپنے عہدوپیماں یادکروانے والے جن کے خطوط کاجواب تک دیناآپ کوگوارہ نہیں،ان کی گواہیاں کیایونہی بیکارچلی جائیں گی؟
تپتے صحرامیں مرے حال پہ کوئی بھی نہ رویا
گرپھوٹ کررویا تومیرے پا ؤ ں کاچھالہ

کان کھول کرسن لو:ہرگز نہیں،رب کعبہ کی قسم:عافیہ کواس حال تک پہنچانے اورمسنداقتدارکے نشے میں عافیہ کوبھول جانے والو!یادرکھو:یہ تمام فریادیں اورمناجات کے لہولہو الفاظ سے تمہارے خلاف اس دنیامیں اورروز قیامت کیلئے ایک مضبوط” ایف آئی آر”تیارہورہی ہے جہاں عافیہ کے جسم وروح پرلگے ہوئے تمام رستے زخم اوراس کے تمام بہی خواہوں کے چھلنی دلوں پربیت جانے والے دردناک لمحات کااندراج ہوگاجس کاایک ایک لفظ چیخ چیخ کرحق وصداقت کی ایک نئی قیامت برپا کرے گا جس کے بعد تم رب سے دنیامیں واپس جانے کی تھوڑی سی مہلت مانگوگے لیکن نہیں ملے گی اورتم اپنے ان تمام ساتھیوں کے ساتھ کفِ افسوس ملتے رہ جا ؤگے……یہ وہ دن ہوگاجب عافیہ اوراس کے تمام بہی خواہ اپنے رب کے فیصلے پرپرشاداں و فرحاں اپنی منزل جاوداں کوپالیں گے ……ان شاء اللہ

عزیزم حسین عالم!ربِّ کعبہ کی قسم!میں اپنے وجودپرشرمندہ ہوں،مجھے شرم آتی ہے،میں کس دور،کس عہدمیں جی رہاہوں۔میں اپنے بچوں،اپنی آئندہ نسل کوکس عہد،کس دورمیں چھوڑکرجاؤں گا۔میں توہواکے اس جھونکے سے بھی ہلکاہوگیاہوں جواگرچلتی ہے تودنیاسے بدبووسڑاند کا ایک تولہ کم ہوجاتاہے اورتم مجھ سے اللہ کاواسطہ دیکرایک عجیب مطالبہ کررہے ہوکہ میں ان سیاستدانوں پرلکھوں،شیطان کوبددعائیں دوں،یہ جانتے ہوئے بھی مطالبہ کرتے ہوکہ سیاپوں،بینوں اورچیخوں سے مردے جاگا کرتے ہیں اورنہ ہی بددعاؤں سے شیطان مراکرتے ہیں تاہم جانے سے پہلے یہ میرے آقا مخبرِصادق ﷺ کی ایک حدیث ِ مبارک سن لیں جس نے میرے شب وروزکوجنجھوڑکررکھ دیا ہے:

شقیاالاصبحی جوکہ اسلاف کی ایک نشانی ہیں،مدینے میں انسانوں کاایک جم غفیردیکھ کراس معاملہ کی تہہ کی جونہی کوشش کرتے ہیں توکیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے ایک عاشق رسول ﷺ کواپنے حصارمیں لیاہے اورحدیث سنانے کی درخواست کررہے ہیں توجواب میں ان کے ہونٹوں اورجسم پرایک لرزہ طاری ہوجاتاہے اوردردناک چیخ مارکربے ہوش ہوجاتے ہیں۔تین بارکوشش کی لیکن زبان نے اللہ کے خوف کی وجہ سے ساتھ نہ دیا۔جب غشی کی حالت ختم ہوگئی توفرمایا:

ایک ایسی حدیث سناتاہوں جواسی گھرمیں رسول اکرم ﷺ کے منہ سے سنی تھی”قیامت کے روزجب اللہ بندوں کے فیصلے کیلئے اترے گاتوسب سے پہلے تین اشخاص طلب کئے جائیں گے،ایک قاری،دوسرادولت مند اورتیسراشہید!اللہ قاری سے پوچھے گاکہ کیاہم نے تجھے قرآن نہیں سکھایا ،اس پرتو نے کیاعمل کیا؟قاری جواب میں دن رات قرآن کی تلاوت کاذکرکرے گاتواللہ اس سے فرمائے گاکہ توجھوٹ کہتاہے،تم نے یہ سب لوگوں کیلئے کیا تاکہ تم کوقاری کہیں۔اسی طرح دولت منداپنی سخاوت کااورشہیداپنی جان کی قربانی کاذکرکرے گاتوجواب میں رب ذوالجلال ان کوبھی جھوٹ سے تشبیہ دے کردنیاکے دکھلاوے کاعمل کہے گااوریہ کہہ کررسول اکرم ﷺ نے میرے زانوپرہاتھ ماراکہ اللہ تعالی حکم صادرکریں گے کہ ان کومنہ کے بل گھسیٹ کرجہنم میں دھکیل دواورسب سے پہلے جہنم کی آگ ان پرہی شعلہ زن ہوگی”۔

پھرجس طرح حدیث سنانے والے کی(حضرت ابوہریرہ)کی چیخیں لوگوں نے نکلتی ہوئی دیکھیں یہی عالم سارے مجمع کاہوا۔ ہمارے اسلاف پیکر اخلاص تھے اورہم اس سے کوسوں دور!وہ ریاکاری کے خوف اوراس کے لرزہ خیزانجام سے لرزہ براندام تھے،ہم دنیاداری کودین وایمان سمجھ کربڑے اطمینان سے بیٹھے ہیں۔شائدیہی وجہ ہے کہ دنیاکے طول وعرض میں مختلف حادثات کوپڑھ کرہم محض اس لئے مطمئن ہیں کہ ہم اس کاشکارنہیں ہوئے حالانکہ دل کی اسی بے حسی اوربدلتی ہوئی کیفیت نے توثابت کردیاہے کہ ہم جوبرسوں سے انحطاط کاشکارہیں اس کی وجہ ہمارایہی عارضی قلبی اطمینان ہے۔ مومن اورمسلمان کے دل میں توایک تڑپ رہتی ہے جواس کوہرپل بے چین رکھتی ہے۔دنیامیں اللہ اوررسول ﷺ کے احکام کی روگردانی اس سے برداشت نہیں ہوتی۔اس ساری سوسائٹی وتہذیب کے دھارے کوتبدیل کرنے کی کوشش میں اپنی پوری زندگی کھپادیتاہے۔ لوگوں کے دلوں کواپنےرب سے جوڑتاہے۔رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کوشب وروزدہراتاہے۔صحابہ کی زندگیوں کوسامنے رکھ کرروزانہ کے اعمال کا ہرروزسونے سے پہلے محاسبہ کرتاہے۔

یادرکھیں اس قوم نے مسنداقتدارپرپہنچنے کیلئے اس سے پہلے بھی سیاسی مداریوں کے تماشے اورکرتب دیکھے ہیں جب اس ملک میں نظام مصطفی کے نفاذ کے نام پرڈگڈگی بجاکرمجمع لگائے گئے لیکن حصولِ اقتدارکیلئے اسی عطارکے لونڈے کی دہلیزپرسربسجودہوگئے جومسلمانوں کی کمزور خلافتِ عثمانیہ بھی برداشت نہ کرسکے اوراس کاخاتمہ کرتے ہوئے یہ عہدکیاکہ آئندہ دنیامیں کسی ایک چپے پربھی اس حقیقی دین کونافذنہیں ہونے دیں گے۔ہم ایک دفعہ پھرسادہ لوحی سے”ریاستِ مدینہ ”کے قیام کے نام پراس جال میں پھنس گئے جوعافیہ کی رہائی کواپناایمان سمجھتاتھا لیکن اسی بے گناہ وبیکس عافیہ صدیقی کی آہ و بکا،فریادیں جیل کی سلاخوں سے ہرروزاپنے رب کوانصاف کیلئے پکاررہی ہیں۔یقینا صاحب نہج البلاغہ سیدناحضرت علی کرم اللہ وجہہ کامبارک قول اپنی صداقتوں کاامین بن کرپوراہوکررہے گاکہ”کفرکی حکومت توقائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی نہیں”۔
ہم سیاست سے،محبت کاچلن مانگتے ہیں
شبِ صحراسے مگرصبح ِ چمن مانگتے ہیں
وہ جوابھرابھی توبادل میں لپٹ کرابھرا
اس بچھڑے ہوئے سورج سے کرن مانگتے ہیں
کچھ نہیں مانگتے ہم لوگ بجزاذنِ کلام
ہم توانسان کابے ساختہ پن مانگتے ہیں
ایسے غنچے بھی توگل چیں کی قبامیں ہیں
اسیربات کرنے کوجواپنا ہی دہن مانگتے ہیں
ہم کومطلوب ہے تکریم قدوگیسوکی
ہم تواہل وطن دردِوطن مانگتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

3 + 8 =