مودی کاجنگی جنون

:Share

بھارت کے دفاعی بجٹ اورفوجی اخراجات نے پچھلے کئی برسوں سے پوری دنیاکی توجہ حاصل کررکھی ہے۔ہرسال جب بھی بھارتی حکومت دفاع کے نام پراربوں ڈالرمختص کرتی ہےتودنیابھرکےتھنک ٹینکس اس کانہایت دلچسپی اورمختلف زاویوں سے بغورجائزہ لیتےہیں۔اس مرتبہ بھی جب بھارت کی وزیرخزانہ نرملاستھرامن نے2020-21کیلئے86ء65بلین ڈالر (471،378 کروڑ روپے) کادیوقامت دفاعی بجٹ پیش کیااوراس طرح کل بجٹ میں پچھلے سال کی نسبت 40،367،21 کروڑروپے کااضافہ کیاگیا، دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت نے اپنے بجٹ میں دفاع کیلئےاصل مختص رقم سے کئی گنا کم رقم ظاہرکی ہےکیونکہ یہ سمجھا جاتاہے کہ بھارتی حکومت اپنی ویب سائٹس پرجودفاعی بجٹ ظاہرکرتی ہے،اس میں پھرچپکےسے’’نظرثانی شدہ بجٹ‘‘اور’’اصل اندازوں‘‘کے نام پربڑے اضافے کیےجاتے ہیں جوعالمی میڈیامیں رپورٹ نہیں ہوتے۔

ابھی یہ بحث جاری تھی کہ28اپریل کواسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سپری)نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ بھارت گزشتہ برس امریکااورچین کے بعددنیامیں تیسرابڑافوجی بجٹ مختص کرنے والاملک رہاجس کے فوجی اخراجات 1ء71بلین ڈالرتک پہنچ گئےہیں۔اس میں1990ءسے2019ء تک پچھلے30برسوں میں259فیصدکااضافہ ہواہے۔بھارت کے دفاعی اخراجات اورمختلف ممالک کے ساتھ ہتھیاروں کے معاہدوں پرعالمی میڈیامیں بحث تقریباًسال بھر چلتی رہتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ آخراس شعبے میں اتنی تگ ودوکیوں کررہاہے اوراس پرہتھیاروں اوراسلحے کے ڈھیر لگانے کااتناجنون کیوں سوارہے؟اس کاجواب ڈھونڈنے کیلئےہم بھارتی حکمت عملی کاتین زاویوں سے جائزہ لیں گے۔ (1)جنگجویانہ خارجہ پالیسی، (2)اشتعال انگیزدفاعی پالیسی اور(3)پہلی دونوں پالیسیوں کومدد دینے والی اقتصادی پالیسی۔

بھارت کی خارجہ پالیسی کے متعلق بھارتی اسکالرراج موہن لکھتے ہیں’’بھارت کی وسیع حکمت عملی دنیاکو تین دائروں میں تقسیم کرتی ہے۔پہلے دائرے میں،جوقریب ترین پڑوسیوں پرمحیط ہے،بھارت برتری اوربیرونی طاقتوں کے اقدامات کوناکام بنانے کی کوشش کرتاہے۔دوسرے دائرے میں جہاں ایشیااوربحرہندکے ساحل پرپھیلے نام نہادقدرے دورکے پڑوسی شامل ہیں، بھارت دوسری طاقتوں کے ساتھ توازن قائم کرنے اورانہیں اپنے مفادات کونقصان پہنچانے سے روکنے کیلئےکوشاں رہتاہے۔ تیسرے دائرے میں،جس میں پوری دنیاشامل ہے،بھارت بڑی طاقتوں میں سے ایک کامقام پاناچاہتاہے جوعالمی امن وسلامتی میں ایک اہم کھلاڑی ہو‘‘۔

ہم اگرایشیا میں بھارتی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں تووہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ کسی نہ کسی محاذ آرائی میں مصروف ہے۔اس نے اپنے قیام کے فوری بعد حیدرآباد دکن،سکم،گوااورجوناگڑھ اورپھرمقبوضہ کشمیرکوہڑپ کرلیا۔اس کی پاکستان کے ساتھ1948ء، 1965ء،1971ء،1999ءکی جنگوں سمیت کئی چھوٹی بڑی جھڑپیں ہوچکی ہیں اوریہ ابھی تک لائن آف کنٹرول پرامن کوتہہ وبالا کیے ہوئے ہے۔اس نے چین کے ساتھ1962ءمیں جنگ لڑی اوراب بھی لداخ کے سرحدی تنازع میں منہ کی کھاچکاہے جبکہ2017ءمیں ڈوکلام کشمکش میں ہزیمت اٹھاچکاہے لیکن پھربھی سرحدی جھڑپوں میں مصروف ہے،جس میں تازہ ترین جھڑپ10مئی کو ہوئی۔بھارت نے1980ءکی دہائی میں سری لنکامیں فوجی مداخلت کی تھی۔1988ءمیں مالدیپ کے سیاسی معاملات میں بھی ٹانگ اڑائی۔بھارت نے اس کے علاوہ بھوٹان میں اپنے مستقل فوجی تعینات کیےہیں جبکہ پاکستان،بنگلادیش اورنیپال کے ساتھ سرحدی تنازعات میں بھی دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی میں جارحیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ اس نے ایک ماہ کےاندراندرمئی میں پاکستانی علاقوں گلگت بلتستان اورآزادکشمیرکواپنی نیوزبلیٹن کاحصہ بنایا،چین کے ساتھ سرحدی تصادم کیا،جس میں بھارت کے حصے میں خوب رسوائی آئی اوراس نے چین کے مقام منساروور(Manasarovar)تک سڑک بنانے کیلئےنیپالی علاقے لپولیخ(Lipulekh)پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جہاں سے یہ سڑک گزارنا چاہتاہے،اس پالیسی پرنیپال نے شدیدردعمل دکھایاہے۔

امریکا کے سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرزبگنیوبرزیزنسکی(Zbigniew Brzezinski)اپنی کتاب’’اسٹریٹجک وژن: امریکا اینڈدی کرائسس آف گلوبل پاور‘‘میں لکھتے ہیں:’’بھارتی حکمت عملیاں ایران سے لے کرتھائی لینڈتک کے علاقے میں گریٹربھارت کی پوزیشن کاکھلااظہارہیں۔بھارت بحرہندپرفوجی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے۔قریبی ممالک بنگلا دیش اوربرمامیں مضبوط ٹھکانے قائم کرنے کیلئےسیاسی کوششوں کی طرح اس کے بحری اورفضائیہ کے پروگرام اس رجحان کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں‘‘۔

بھارتی دفاعی پالیسی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کی حکومت نے مختص سالانہ دفاعی بجٹ کے علاوہ تینوں سروسز چیفس کوفوجی سازوسامان حاصل کرنے کیلئےپانچ سالہ ماڈل منصوبہ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔بھارتی بحریہ 2027ءتک 200 جہازوں پرمشتمل بیڑہ حاصل کرناچاہتی ہے ۔اس کی کوشش ہے کہ چھ نئی آبدوزاور111نیول یوٹیلٹی ہیلی کاپٹرکاحصول ممکن بنائے۔ بھارت2015ءمیں36رافیل طیاروں کاآرڈردینے کے علاوہ114نئے لڑاکاطیارے بھی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔بھارت فوجی ٹیکنالوجی درآمد کرنے کیلئےکئی ممالک سے معاہدے کررہاہے۔ اکتوبر2019ءمیں پینٹاگان نے کہاتھاکہ واشنگٹن اوردہلی کے درمیان دوطرفہ دفاعی تجارت سال کے اختتام تک18بلین ڈالرتک پہنچنےکاامکان ہے۔اسی سال امریکی محکمہ خارجہ نےکہاتھاکہ وہ بھارت کو6ء2بلین ڈالرکے عوض ایم ایچ60-آرسی ہاک ہیلی کاپٹر،3ء2بلین ڈالرمالیت کے اپاچی ہیلی کاپٹر،3بلین ڈالرکے پی-8آئی میری ٹائم پیٹرول ائیرکرافٹ اور737ملین ڈالرکے ایم777ہاوٹزرفروخت کرے گا۔اس کےبعدفروری فروری2020ءمیں ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان3بلین ڈالرکادفاعی معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے تحت امریکابھارتی فوج کوہیلی کاپٹراوردیگرفوجی سازوسامان فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ رواں سال کے اوائل میں امریکانے بھارت کوIntegrated Air Defence Weapon System (IADWS) کی فروخت کی منظوری دی تھی،جس کی مالیت87ء1بلین ڈالرہوگی۔اس نظام میں لانچر،ٹارگٹنگ اینڈ گائیڈنس سسٹمز،درمیانی فاصلے کے فضاسے فضاتک مارکرنے والے جدیدمیزائل(AMRAAM)اوراسٹنگرمیزائل،تھری ڈی سینٹنل ریڈارز، فائرڈسٹری بیوشن سنٹرزاور کمانڈاینڈ کنٹرول یونٹس شامل ہوں گے۔ہروقت جنگ کیلئےتیاررہنے والے بھارت کے دارالحکومت دہلی کیلئےایک فضائی دفاعی منصوبہ بنایاجارہاہے جس میں کئی پرتوں کاحامل میزائل دفاعی نظام قائم کیاجائےگا۔

اس نظام میں اندرون دہلی کی حفاظت National Advanced Surface to Air Missile System کے ذریعے کی جائے گی ۔ اس کے اوپرآکاش دفاعی میزائل نظام نصب کیاجائےگاجس کی رینج 25کلومیٹرتک ہوگی۔اکتوبر2020ءسے اپریل 2023ءکے درمیان حاصل کیے جانے والے روسی ساختہ ایس400میزائل نظام دوسری پرت بنائے گا، جس میں250 ،200 ، 120اور380کلومیٹرتک مارکرنے والے میزائل شامل ہوں گے۔اگلی پرت میں اسرائیل کے اشتراک سے بنائے گئے زمین سے فضا تک درمیانی فاصلے تک مارکرنے والے براک-8میزائل نصب کیے جائیں گے۔ایڈوانسڈائیرڈیفنس(اے اے ڈی)اورپرتھوی ائیرڈیفنس(پی اے ڈی)انٹرسیپٹرمیزائل دہلی کے میزائل شیلڈکی سب سے بیرونی پرت میں نصب کیے جائیں گے۔

بحرہند کی تزویراتی اہمیت کے بارے میں امریکی بحریہ کے ایڈمرل الفرڈ ٹی۔ماہن نےکہاتھاکہ’’جس کسی نے بھی بحرہندمیں میری ٹائم برتری حاصل کرلی وہ عالمی منظرنامے پرایک بڑاکھلاڑی بن جائے گا‘‘اور اب بھارت پرخطے میں برتری کابھوت سوارہے۔ بھارتی بحریہ کاآبدوزبیڑہ نیوکلئیربیلسٹک میزائل آبدوز(ایس ایس بی این)آئی این ایس،چارفرانسیسی ساختہ سکورپین کلاس آبدوزوں اورروس سے حاصل کی گئیں اکولاکلاس آبدوزوں پرمشتمل ہےلیکن وہ اس میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔اس وقت بحرہندمیں بھارت کے لگ بھگ140جنگی جہازلنگراندازہیں اوروہ2027ءتک یہ تعداد200تک بڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔بھارت خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئےبحرہندمیں مختلف طریقوں سے اپنی طاقت بڑھانے کی پالیسی پرعمل پیراہے۔وہ چاہتاہے کہ بحرہندکےممالک سری لنکا،مالدیپ،ماریشیئس اورسے شلزمیں چین کے اثرورسوخ کوقابوکرے کیونکہ ان ممالک میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے سے وہ ان کے پانیوں میں کاروباری مقاصد کیلئےاستعمال ہونے والے راستوں تک چین کی رسائی محدود کرنے کی پوزیشن میں آجائے گا اوراس سے جڑے اپنے مفادات حاصل کرسکے گا۔بھارت انڈیمان اور نکو بارجیسےجزائرپراپنے فوجی انفرااسٹرکچرکومضبوط کر رہاہے،یہ جزیرے آبنائے ملاکاتک ہونے والے بحری سفرپرنگاہ رکھنے کیلئےعمدہ جگہیں ہیں۔بھارت نے یہاں بڑے سمندری گشتی طیاروں کیلئےوسیع میدان قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلحے کے گودام بنائے ہیں اوربڑے جہازوں کیلئےلنگراندازی کی بہترین سہولت کابندوبست کرلیاہے۔بھارتی افواج بحرہندمیں امریکا کےساتھ Communications, Compatibility and Security Agreement کے تحت امریکی فوج کے ساتھ سمندر میں مشترکہ آپریشنزاورسالانہ مشقیں کرتی ہیں۔بھارت اورامریکادونوں اس سمندرمیں چین کا اثرورسوخ محدود کرنے کا مشترکہ مقصدرکھتےہیں اوربھارت بحرہندمیں چین کی سرگرمیوں کاتوڑکرنے کیلئےبحیرہ جنوبی چین میں’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کے تحت چین کے خلاف اپنااثرورسوخ بڑھارہاہے۔

اقتصادی شعبے میں دیکھاجائے توبھارت چین کے منصوبے Belt and Road Initiative (BRI) کی مخالفت کرتارہاہےلیکن اب وہ اس کے خلاف قائم ہونے والے نئے محاذکابھی رکن بن گیاہے۔نومبر2019ءمیں بنکاک تھائی لینڈمیں آسٹریلیا،امریکااور جاپان نے بلیوڈاٹ نیٹ ورک (بی ڈی این)کے قیام کااعلان کیا۔امریکاکی سربراہی میں شروع ہونے والے اس منصوبےکامقصدیہ ہےکہ مختلف بڑی بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے چین میں ہونے والی سرمایہ کاری کووہاں سے اٹھاکرنئے صنعتی مراکز میں لایاجائےجس کیلئےزمین بھارت فراہم کرے گا۔اس نے ملک کے مختلف علاقوں میں بی ڈی این منصوبے میں امریکاکو 461589ہیکٹرزمین کی پیشکش کی ہے۔یہ چین کے صنعتی مراکزکوتباہ کرنے کی ایک بہت جارحانہ کوشش ہے۔اب بھارت اقتصاد ی میدان میں بھی چین کے مفادات سے براہ راست ٹکرارہاہے۔

بھارت کی جنگجویانہ خارجہ پالیسی،دفاعی اوراقتصادی پالیسیوں کاجائزہ لینے کے بعد ہرسال تیزی سے بڑھتے ہوئے اس کے فوجی اخراجات کامقصد واضح ہوجاتاہے اوروہ یہ ہے کہ بھارت ہرصورت میں ایشیاکاٹھیکیداربنناچاہتاہے اوراس کیلئےمختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔بھارت کواندازہ ہے کہ اس کی اشتعال انگیزپالیسیاں کسی بھی وقت خطے میں جنگ چھیڑسکتی ہیں اور اس وجہ سے وہ ہتھیاروں کے انبارلگاکرہروقت بڑی جنگ کیلئےتیاررہنے کی کوششوں میں مگن ہے۔

کروناوباکے باوجود(چائنا انٹرنیشنل مشین ٹول اینڈ ٹولز نمائش) 18سے22مئی2020ءاور پھر9ستمبرسے2020ء سے 11ستمبر کی کامیاب عالمی تجارتی بین الاقوامی نمائش کرکے جرمنی (ای ایم او)اورشکاگوامریکامیں (آئی ایم ٹی ایس) کےعالمگیر حوالے کے بعد بہت بڑی پیشرفت کرکے اپنی برتری ثابت کرکے عالمی مارکیٹ میں اپناوجودمنواچکاہے جس میں30ممالک اورخطوں کے 1,300سے زیادہ مینوفیکچررزنے ہرسیشن میں حصہ لیااورجس کی32سے زیادہ ملکی اوربیرون ملک میڈیاکی سائٹ پرموجود رپورٹس نےامریکااوربھارت پرلرزہ طاری کردیاہے۔

چین کی ایران میں تیل وگیس،ٹرانسپورٹ،مواصلات اور تعمیراتی شعبوں میں لگ بھگ410بلین ڈالرکی چین کی سرمایہ کاری خطے میں امریکی بالادستی کیلئے جہاں ایک ایسامشکل چیلنج ہے وہاں پر اعتمادچین اس خطے میں ناقابل تسخیر طاقت کے طورپرسامنے آ گیاہے۔اس سرمایہ کاری کے بدلے ایران اگلی چوتھائی صدی تک بڑے ٹینڈرمیں اولین ترجیح چینی کمپنیوں کودی جائے گی۔ایران چین کواس مدت میں کم ازکم12فیصدرعایت پرتیل اورگیس فروخت کرے گااوراس فروخت میں بھی چین کی ضروریات کودیگر گاہکوں کی ضروریات پراولیت حاصل ہوگی۔ایران موجودہ امریکی پابندیوں کے سبب محض دولاکھ بیرل روزانہ تک محدودہے جبکہ ایران اگرچہ یومیہ 5ملین بیرل سے زائدتیل کی پیداواری صلاحیت رکھتاہے۔ چین کی توانائی ضروریات اتنی ہیں کہ روس اورایران ہی اس کی تمام ضروریات پوری کرنے کیلئےکافی ہیں۔

اس معاہدے کے بعدروس اورایران کوایک مستقل اورمضبوط گاہک مل جائے گااورچین کودومستقل قابلِ اعتمادسپلائرمل جائیں گے۔ ایرانی بندرگاہیں چین کے روڈاینڈریل منصوبےکاحصہ بن جائیں گی۔ہائی اسپیڈ ریل لنک چین کووسطی ایشیا، ایران اورترکی کے راستے یورپ سے جوڑے گا۔چین ترکمانستان گیس پائپ لائن کی اگرایران تک توسیع ہوگئی توآبنائے ہرمزسے بحیرہ جنوبی چین تک کے سمندری راستے میں درپیش ممکنہ خطرات سے کم ازکم چین تک پہنچنے والی توانائی کی رسد محفوظ ہوجائے گی۔ان حالات میں سی پیک کی تکمیل اوراس کے استعمال کیلئے جہاں چین اپنی دفاعی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتاہے وہاں ضرورت اس امرکی بھی ہے کہ پاکستان کے دفاع کومزیدناقابل تسخیربنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ مکاربنئے کوواضح پیغام مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں