جناح اورگاندھی تارِیخ کی نظرمیں

:Share

قوم ہرسال23مارچ کوقراردادِپاکستان بڑے جوش وجذبے اورعقیدت واحترام سے مناتے ہیں۔میڈیامیں اس دن کے حوالے سے بہت سیرحاصل معلومات پڑھنے اورسننے کوملتی ہیں اوراسی حوالے سے اسلامیانِ برصغیر کے متفقہ،جرأت مند اوربے داغ کردار کے مالک قائداعظم نے قیامِ پاکستان کی صورت میں جوعظیم اورتاریخی کارنامہ انجام دیا،اس پرخراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے تقریبات کااہتمام کیاجاتاہے۔ بی بی سی کے زیرِاہتمام ایک عالمی سروے میں قائداعظم کوجنوبی ایشیاکاعظیم ترین رہنماتسلیم کیاگیاہے۔ان کی عظمت کے کئی پہلوہیں،جن کااعتراف دنیاکے تمام انصاف پسندحلقوں نے کیاہے حتیٰ کہ منصف مزاج ہندومصنفین اوردانشوروں نے بھی ان کی جرأت واستقامت،بالغ نظری،دوراندیشی،جمہوریت وقانون پسندی اوردیانت وامانت کوخراجِ تحسین پیش کیااوربعض ہندورہنماؤں نے یہ تک کہاکہ کانگرس میں ایک جناح ہوتاتوبرصغیرکی تقسیم نہ ہوتی۔

قائداعظم نے علیحدہ وطن کامطالبہ اس وقت کیاجب سفیراتحادکی حیثیت سے برصغیرکی دونوں قوموں کواکٹھارکھنے اورہندو اکثریت کومسلم اقلیت کے سیاسی و اقتصادی حقوق جمہوری اصولوں کے مطابق تسلیم کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئیں اورانتہا پسند،تنگ نظراورمسلم دشمن کانگریسی قیادت نے ثابت کردیاکہ وہ متحدہ ہندوستان میں ماضی کی حکمران مسلمان قوم کاوجود برداشت کرنے اورآزادی کے بعداسے عزت واحترام کے ساتھ اپنے ساتھ رکھنے پر آمادہ نہیں۔قائداعظم نے ایک گولی چلائے بغیر اپنی باعزم قیادت اوراسلامیانِ برصغیر کی جمہوری جدوجہدکے ذریعے آزادخود مختارریاست حاصل کی جس کے بارے میں وہ بارباریقین دلاچکے تھے کہ نئی ریاست اسلام کاقلعہ ہوگی اوراس کے سنہری اصولوں کااحیاءکرے گی،جمہوری پارلیمانی نظام کے تحت کام کرے گی اورجدید تقاضوں کے مطابق صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست ہوگی۔

اقبال نے دوقومی نظریہ کے تحت ایک آزاد مسلم ریاست کو جوتصورپیش کیااورجسے قائداعظم نے حاصل کرنے کیلئے مردانہ وارجدوجہدکی،اس کے بارے میں بانی پاکستان نے باربارواضح کیاکہ وہ مسلمانوں کے معاش اورروزگارکامسئلہ حل کریں گے۔ ایک موقع پرانہوں نے کھل کریہ کہاکہ مجھے ایسے پاکستان میں کوئی دلچسپی نہیں جوجاگیرداروں،وڈیروں اورسرمایہ داروں کے حقوق کامحافظ ہو۔قائداعظم نے اپنی زندگی میں پاکستان کیلئے اسلامی جمہوری پارلیمانی نظام پسند کیا،آئین کے بارے میں واضح طورپرکہاکہ اسلام کے جمہوری اصولوں کے مطابق مدون ہوگا۔نئی ریاست میں اقلیتوں کومکمل حقوق حاصل ہوں گے جو اسلام نے انہیں عطا کئے ہیں اورفوج کاکردارمنتخب جمہوری حکومت کے ایک ماتحت ادارے کاہوگا۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قائدکی زندگی ہی میں انگریزکمانڈرانچیف نے حکم عدولی کی اورقائداعظم کے احکامات کے تحت پاکستان کی شہہ رگ کشمیرمیں فوجی دستے بھیجنے سے انکارکیاجبکہ بھارت کے فوجی کمانڈرانچیف نےنہروکے احکام کی مکمل اطاعت کی اورسرینگرائیرپورٹ پرقبضہ کرکے مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیئے۔

قا ئداعظم کی وفات کے صرف10سال بعدجنرل ایوب خان نے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کرملک میں فوج کی حکمرانی کا اصول متعارف کرایاجوکسی نہ کسی شکل میں تین مرتبہ دہراگیا۔سیاسی حکومتیں بھی یہ ملک اقبال اورقائداعظم کی تعلیمات کے مطابق نہ توجدیدجمہوری پارلیمانی ریاست بننے میں کامیاب ہوسکیں اورنہ اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل ممکن ہوسکی ہے البتہ فوجی حکمرانی اورہمارے سیاسی لیڈروں کی غلط حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کااکثریتی حصہ جداہو گیااورباقی ماندہ ملک میں لسانی،نسلی فرقہ واریت ،صوبائی تعصبات،معاشی ابتری اورسیاسی انتشارنے ملک کوایسے خطرات سے دوچار کررکھاہے کہ ملک کی سلامتی کی ہروقت فکررہتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل کوتاریخ کے حوالے سے بتایاجائے کہ کن مشکل حالات میں پاکستان کوحاصل کیا گیا،اس کااندازہ ہمیں قائداعظم کے اس خط سے ہوتاہے جوانہوں نے25ستمبر1944ءکویعنی ملاقاتوں کے آخری دنوں میں گاندھی جی کولکھا۔قائداعظم لکھتے ہیں”آپ پہلے ہی قراردادلاہورکے بنیادی اصولوں کومستردکرچکے ہیں،آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمان ایک قوم ہیں،آپ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلمانوں کوحقِ خوداختیاری ہے اوروہی اسے استعمال کرسکتے ہیں،آپ یہ نہیں مانتے کہ پاکستان دوخطوں اورچھ صوبوں پرمشتمل ہے……….آپ سے خط و کتابت اوربحث کے بعدمیں یہ کہہ سکتاہوں کہ انڈیا کی پاکستان اورہندوستان میں تقسیم کی آوازصرف آپ کے لبوں پرہے،یہ آپ کے دل کی آوازنہیں ۔” گاندھی کے اس رویے سے ناکامی اس بات چیت کامقدربن گئی۔

29ستمبر1944ءکوویول نے اپنی ڈائری میں لکھاکہ مجھے(اس گفت وشنیدسے)بہترنتیجے کی توقع تھی۔اس سے ایک لیڈرکے طورپرگاندھی کی شہرت کوشدید دھچکالگاہے۔جناح کاکام بہت آسان تھا،انہیں گاندھی جی سے صرف یہ کہتے رہناتھاکہ تم بکواس کررہے ہواوریہ بات ٹھیک بھی تھی لیکن انہوں نے یہ بات گستاخانہ اندازمیں کی……..میرے خیال میں اس سے اپنے پیروکاروں میں جناح کی عزت توشائدبڑھ گئی ہولیکن اس معقول آدمیوں کے درمیان ان کی شہرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔”ویول اوردیگر انگریزحکمرانوں کی نظرمیں معقول آدمی وہ ہے جوان ہی کے دماغ سے سوچے اوراس پرعمل کرے۔ان کی معقولیت کی ڈکشنری میں آزادانہ فکروعمل کی کوئی گنجائش نہیں۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد قائداعظم نے4/اکتوبر1944ءکوایک پریس کانفرنس میں اپنے نقطہ نظرکی وضاحت کی۔ایک اخباری نمائندہ نے ان سے پوچھاکہ کیا مستقبل قریب میں گاندھی جی سے آپ کی ملاقات کاکوئی امکان ہے؟قائداعظم نے مزاحاًکہاکہ مسٹر گاندھی جی کہتے ہیں کہ اس کاانحصاران کے دل کی آوازپر ہے چونکہ میری وہاں تک رسائی نہیں،اس لئے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ گاندھی جی کی نیت معاملات کوطے کرنے کی تھی ہی نہیں۔قائد اعظم سے گفت وشنیدکے دوران ہی انہوں نے راجگوپال اچاریہ سے کہاتھاکہ اس بات چیت سے میرااصل مقصدجناح کے منہ سے یہ کہلواناہے کہ پاکستان کاتصورہی غلط اورلغوہے۔معلوم ہوتاہے کہ گاندھی کوقائداعظم کی صلاحیتوں کاصحیح اندازہ نہیں تھااس لئے ان کی تمام تدابیرغیر مؤثر رہیں۔

1945ءمیں قائداعظم کونظرآرہاتھاکہ اب برطانوی حکومت کوہندوستان میں الیکشن کرانے ہی پڑیں گے چنانچہ انہوں نے اپنی مہم کاآغازکرتے ہوئے 16/ اگست1945ءکوبمبئی سے ایک بیان میں کہاکہ مسٹرگاندھی جی جب مناسب سمجھیں وہ کسی کے بھی نمائندے نہیں ہوتے،وہ ذاتی حیثیت میں بات کرتے ہیں،وہ کانگرس کے چارآنے کے بھی رکن نہیں۔وہ اپنے آپ کوصفرکرلیتے ہیں اوراپنی اندرونی آوازسے مشورہ کرتے ہیں،تاہم جب ضرورت پڑے تووہ کانگرس کے سپریم آمربن جاتے ہیں اوراپنےآپ کو سارے ہندوستان کانمائندہ سمجھتے ہیں۔گاندھی ایک معمہ ہیں…….مسلمانوں اورمسلم لیگ کے خلاف کانگرس میں اتنازہراور تلخی ہے کہ انہیں نیچادکھانے کیلئے وہ ہرسطح سے نیچے گرسکتی ہے اورتمام اصولوں کوترک کرسکتی ہے۔

10/اکتوبر1945ءکوکوئٹہ مسلم لیگ کے زیرِاہتمام ایک جلسہ عام میں انہوں نے گاندھی جی کی سیاست کانقشہ کھینچتے ہوئے کہاکہ”لیڈری حاصل کرنا، پولیس لاٹھی چارج کے موقع پربکری کی طرح بیٹھ جانا،پھرجیل چلے جانا،پھروزن کم ہونے کی شکائت کرنااورپھراس طرح رہائی حاصل کرلینا،میں اس قسم کی جدوجہد پریقین نہیں رکھتالیکن جب آزمائش کاوقت آئے توسب سے پہلے میں اپنے سینے پرگولی کھاؤں گا”۔21نومبر1945ءکوپشاورمیں تقریر کرتے ہوئے کہاکہ کانگرس کوپاکستان کا مطالبہ تسلیم کرناہو گایامسلمانوں کوکچلناہوگالیکن اب کوئی طاقت10کروڑمسلمانوں کوکچل نہیں سکتی۔ 24نومبرکوانہوں نےاسی شہرمیں کہاکہ”جب تک میں زندہ ہوں مسلمانوں کے خون کاایک قطرہ بھی بے فائدہ نہیں بہنے دوں گا،میں مسلمانوں کوکبھی بھی ہندوؤں کاغلام نہیں بننے دوں گا…….انگریزاورہندودونوں مسلمانوں کے دوست نہیں ہیں۔ہمارے ذہنوں میں یہ بالکل واضح ہے کہ ہمیں ان دونوں سے لڑنا ہے…..ہم ان کی متحدہ طاقت سے لڑیں گے اورانشاءاللہ کامیاب ہوں گے۔

3دسمبر1945ءکوگاندھی جی کی بنگال کے گورنر”کیسی” سے ملاقات ہوئی توگاندھی جی نے ان سے کہاکہ”جناح ایک جاہ پسند آدمی ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ وہ ہندوستان،مشرقِ وسطیٰ اوردیگرممالک کے مسلمانوں کے درمیان رابطہ قائم کریں،میں نہیں سمجھتاکہ جناح اپنے ان خوابوں سے باہرآسکتے ہیں۔”دراصل گاندھی الیکشن کے نتائج اوراس کے متوقع اثرات کااندازہ ہورہاتھا اس لئے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی انہیں اسلامی یکجہتی کی فکرپریشان کر رہی تھی،واضح رہے کہ یہ وہی گاندھی جی ہیں جو مسلمانوں میں بھی اپنی لیڈرشپ قائم کرنے کیلئے تحریکِ خلافت کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے،اب وہ بنگال کے پاکستان مخالف گورنرکے ذہن کومزیدزہرآلودکرنے کیلئے اپنے ترکش کے سارے تیراستعمال کررہے تھے۔

23مارچ1946ءکوکیبنٹ مشن ہندوستان آیا۔3/اپریل1946ءکوگاندھی جی کی مشن سے گفتگوہوئی،انہوں نے صرف ایک دھوتی باندھی ہوئی تھی اوربہت صحت منددکھائی دے رہے تھے۔گاندھی نے مشن سے کہاکہ جناح کوملک کی پہلی(عبوری)حکومت بنانے دیں،وزاراءملک کے منتخب نمائندوں میں سے ہوں،جناح جس کوچاہیں لیں لیکن وزاراءکواپنی اپنی اسمبلی سےاعتمادکا ووٹ لیناپڑے گا۔اگرجناح حکومت بنانے سے انکارکردیں توپھرکانگرس کویہی پیشکش کی جائے۔آپ نے گاندھی کااندازدیکھاکہ وزیراعظم جناح صرف ان لوگوں کوچن سکیں گے جن پران کی اسمبلیاں اعتماد کااظہارکریں۔اپنی آبادی کی وجہ سے مسلم اقلیتی صوبوں کی اسمبلیوں میں ہندوؤں کی بڑی بھاری اکثریت تھی،ادھرعوام میں انتہائی مقبولیت کے باوجود ،مسلم اکثریتی صوبوں کی اسمبلیوں میں مسلمانوں کوآبادی کے لحاظ سے نشستیں نہ ملنے پرمسلم لیگ کوقطعی اکثریت حاصل نہ تھی،اس لئے مجبوراًاسے تقریباًسارے کے سارے کانگریسی ہندویاغیرلیگی مسلمان وزیررکھنے پڑتے۔ایسی پیشکش کوقائداعظم کیوں قبول کرتے اوراس کے بعدحکومت خودبخود کانگرس کے پاس چلی جاتی۔یہ تھی گاندھی جی کی مکارانہ چال قائداعظم کیلئے!
بروایں دام برمرغ دگرنہ
کہ عنقارابلنداست آشیانہ
پیتھک لارنس نے گاندھی جی سے کہا کہ اس طرح توجناح کے زیادہ تروزاراءغیرلیگی ہی ہوں گے،گاندھی نے کہاکہ اس سے توگریزنہیں،ایسی بات کوکون آگے بڑھاتا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرائے کے طورپر24مارچ کوحلف اٹھایااورفوراًبعدسیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں شروع کردیں۔ گاندھی نے31 مارچ سے14/اپریل1974ءتک ہرروزلارڈماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کی ۔یکم اپریل کی ملاقات میں گاندھی نے تجویزکیاکہ مسٹرجناح کومتحدہ ہندوستان کاوزیراعظم بنادیاجائے……..اورجب تک وہ ہندوستانی عوام کے مفاد میں کام کرتے رہیں گے،کانگرس ان کے سا تھ پورے خلوص کے ساتھ تعاون کرے گی ……..اس بات کافیصلہ کہ وہ عوام کے مفاد میں کام کررہے ہیں یانہیں،صرف اورصرف لارڈماؤنٹ بیٹن ہی کریں گے،اگر جناح یہ تجویزنہ مانیں توپھر کانگرس کویہی آفرکی جائے۔ماؤنٹ بیٹن تسلیم کرتے ہیں کہ میں گاندھی کی یہ تجویزسن کرہکابکارہ گیا۔انہوں نے گاندھی سے پوچھاکہ اس تجویزکے بارے میں مسٹرجناح کاکیا تاثرہوگا؟گاندھی نے جواب دیااگرآپ انہیں یہ کہیں گے کہ یہ تجویزگاندھی کی طرف سے آئی ہے تو جناح کہیں گے”مکارگاندھی”۔ماؤنٹ بیٹن نے مزے لے لے کرپوچھا”غالباًیہ بات درست ہوگی”۔اس پرگاندھی جی بڑے جوش سے کہا”نہیں نہیں میں یہ تجویزپورے خلوص سے پیش کررہا ہوں۔”

قائداعظم سے بات کرنے سے پہلے ماؤنٹ بیٹن نے اسی دن یہ بات نہروکوبتائی تویہ سن کران کے مہاتما(گاندھی)ان کی جگہ قائداعظم کووزیراعظم بنانے کی پیشکش کررہے ہیں،نہروکے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔نہرونے ماؤنٹ بیٹن سے کہاکہ گزشتہ برس گاندھی جی نے کیبنٹ مشن کے سامنے بھی ایسی ہی تجویز پیش کی تھی لیکن یہ مسئلےکاایک غیرحقیقی حل ہے۔گاندھی کو دہلی میں چنددن اوررہناچاہئے کیونکہ چارمہینے تک مرکزسے دوررہنے کی وجہ سے وہ تیزی سے معاملات سے بے خبرہوتے جارہے ہیں۔نہروکی رائے سننے کے بعدماؤنٹ بیٹن نے قائداعظم سے بات کرنامناسب نہ سمجھااوراگر ماؤنٹ بیٹن قائداعظم سے یہ بات کربھی لیتے کیاہوتا؟وہ اپنی ذات کیلئے قوم کوداؤپرلگادینے والے ہرگزنہیں تھے،اس قسم کی پیشکش کووہ بغیرکسی تامل کے ٹھکرادیتے۔

ان چند واقعات سے ظاہرہوتاہے کہ گاندھی کی نیت اورطریقِ کارکوقائداعظم خوب سمجھتےتھے اوراللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ان کاہرلحاظ سے مناسب جواب دیا۔
رہے نام میرے رب کاجس نے پاکستان کوایک خاص مبارک رات کوایک بہت بڑے مقصدکیلئےبنایا……..

اپنا تبصرہ بھیجیں