Guilty Conscience

ضمیرکی خلش

:Share

چشم فلک نے طاقت کے نشے میں چُورہوکرکسی بھی کمزورملک پرچڑھ دوڑنے والے ممالک تاریخ کے ہردورمیں دیکھے ہیں۔یہ دنیا اسی طور چلتی آئی ہے۔یہ مکارطاقتورکبھی بھی خودسے زیادہ طاقتوریااپنے جیسے سے ٹکرلینے کی غلطی نہیں کرتے بلکہ تاریخ کے مختلف ادوارمیں یہ طاقتورٹولے ایک دوسرے کے ساتھ اندروں خانہ یہ معاہدہ کرکے کمزوروں کی دنیاکوتقسیم کرلیتے ہیں اورپھر کمزوروں کودبانے اوراپنے مفادات کی تکمیل کیلئے جارحیت کے نوکیلے خون آشام دانت گاڑنے میں لمحہ بھرکی تاخیرنہیں کرتے۔افغانستان میں امریکانے دوعشروں میں ہرطرف تباہی اوربربادی کے وہ پہاڑڈھائے ہیں کہ ممکن ہے کہ افغانستان کو اس تباہی کے ازالے کیلئے اگلے پچاس سال سے بھی زیادہ عرصہ لگ جائے۔انہی افغانوں اورپاکستان کی قربانیوں نے امریکاکودنیاکی واحدسپرپاوربنایااور اب یہ امریکاواحدسپرپاورکی حیثیت سے کم وبیش سات عشروں تک ہرکمزورکودباکراس کے وسائل پرقبضہ کرنے اوراپنے مفادات کوزیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے بعدجب دنیاکوانسانی حقوق، اخلاق، جمہوریت کاسبق سکھانے کابیڑااٹھانے کادعویٰ کرتاہے جو خودانتہائی خونخواراوربدتہذیب ہےتودنیاکوایسی مکاری اور پرفریب بیانات پرہنسی آجاتی ہے کہ یہ بھلا کس منہ سے کسی اورکوتہذیب سکھانے کیلئے مجبورکرسکتے ہیں۔

نصف صدی سے زائد مدت کی تاریخ گواہ ہے کہ امریکانے مختلف خطوں کوکنٹرول کرنے کیلئےان پر چڑھائی کی اوروہاں مستقل عسکری موجودگی یقینی بنانے پر خاص توجہ دی۔ نکاراگوا،پانامہ،ویتنام،افغانستان،شام اورعراق اس حوالے سے نمایاں ترین مثالیں ہیں۔ افغانستان میں دوعشروں تک امریکی فوج نے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کرقتل وغارت کابازارگرم رکھا۔امریکاکے تین صدورنے افغانستان میں کمزورونہتے شہریوں پرمنی ایٹم بم برسانے کے عمل کوجنگ کا نام دیا۔افغانستان جیسے ملک کی کیامجال کہ کسی بھی بڑے ملک پرحملہ کرنے اوراسے تباہ کرنے کاسوچ بھی سکے اورپھرامریکا؟افغانستان کسی بھی حیثیت سے اور کسی بھی معاملے میں امریکاسے بھلاکیسے ٹکراسکتاتھا؟یہ توسوچابھی نہیں جاسکتا۔دہشتگردی کوختم کرنے کابہانہ تراشاگیا۔نائن الیون کے ذریعے فضاتیارکی گئی اورجب معاملات قابومیں آگئے توافغانستان پرچڑھائی کردی گئی۔طالبان اورالقاعدہ کوکچلنے کے نام پرپوری دنیاسے افواج جمع کی گئیں۔کمزوراورنہتے افغانوں پر ظلم ڈھانے کایہ شرم ناک عمل پوری دنیانے مجرمانہ خاموشی سے دیکھا۔دوعشروں تک ایک تباہ حال ملک کومزیدتباہ کرنے کاعمل جاری رکھاگیا۔نہتے افغان شہریوں کونشانہ بنانے میں کسی بھی مرحلے پرشرم محسوس نہیں کی گئی۔

معروف امریکی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ‘‘کے رپورٹرکریگ وِٹ لاک نے’’دی افغانستان پیپرز:اے سیکریٹ ہسٹری آف دی وار‘‘میں بتایا ہے کہ کس طرح امریکا کے تین صدورنے افغانستان کے حوالے سے مجموعی طورپردوعشروں تک جھوٹ بول کراپنی ہی قوم کودھوکا دیا۔ کتاب کاایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے: ’’خودکش بمبار27فروری 2007ءکی صبح بگرام ایئربیس پرٹویوٹاکرولامیں پہنچا۔وہ پہلی چیک پوسٹ پرافغان پولیس سے بچ نکلنے میں کامیاب رہااورکم وبیش مرکزی دروازے کی طرف ایک چوتھائی میل تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔وہاں وہ ایک اورچیک پوسٹ کی طرف بڑھا۔یہاں امریکی فوجی تعینات تھے۔اس نے رکاوٹوں،پیدل چلنے والوں اورٹریفک کے ہجوم میں خودکش جیکٹ کاٹریگردبادیا۔اس دہماکے سے20افغان مزدورمارے گئے جواس روزکام کی تلاش میں وہاں آئے تھے۔دہماکے سے بین الاقوامی فوجی اتحادسے وابستہ دوامریکی اورجنوبی کوریاکاایک باشندہ بھی ہلاک ہوا‘‘۔

حملے کے وقت بگرام ایئربیس پرامریکی نائب صدرڈک چینی بھی موجودتھے جومکمل محفوظ رہے۔اُن کی موجودگی کے حوالے سے خاموشی اختیارکی گئی تھی۔ ڈک چینی خطے کے دورے کے موقع پرایک دن پہلے ہی خاموشی سے وارزون میں داخل ہوئے تھے۔اسلام آبادسے ایئرفورس ٹوکے ذریعے افغانستان پہنچنے والے ڈک چینی(اس وقت کے)افغان صدرحامدکرزئی سے ملاقات کیلئےچندگھنٹے افغان سرزمین پرگزارناچاہتے تھے۔خراب موسم نے انہیں افغانستان کے دارالحکومت کابل تک جانے سے روک دیاتھااس لیے انہوں نے رات بگرام ایئر بیس پرگزاری۔کابل سے30میل دورواقع بگرام ایئربیس پراس وقت9ہزار نفوس پرمشتمل امریکی عملہ تعینات تھا۔خودکش دہماکے کے چندہی گھنٹے بعدطالبان نے صحافیوں سے رابطہ کرکے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی اوریہ بھی کہاکہ امریکی نائب صدرڈک چینی ان کاہدف تھے۔تاہم امریکی فوجی حکام نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ شرپسندمحض جھوٹ بول رہے ہیں۔

2007ءکے اس واقعے سے دومحاذوں پرجنگ کی شدت اختیارکرنے کاپتا چلتا ہے ۔ غیرمعمولی سیکورٹی انتظامات کی حامل بگرام ایئر بیس میں امریکی نائب صدر کو نشانہ بنانے کی کوشش کے ذریعے طالبان نے یہ جتادیاکہ وہ جنوبی اورمشرقی افغانستان میں اپنے گڑھ سے کسی بھی ہائی پروفائل مقام پر بڑے پیمانے کاجانی نقصان کرنے والے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اوردوسری طرف نائب صدرڈک چینی کے نزدیک پہنچ جانے والے حملہ آورکے معاملے میں جھوٹ بول کر امریکی فوج عوام کوجنگ کے حوالے سے تاریکی میں رکھنے کی راہ پرچل پڑی۔

یہ کتاب،جس میں یہ بیان کیاگیاہے کہ افغانستان میں آخرکہاں کہاں کیاکوتاہیاں سرزدہوئی ہیں۔کس طورسابق صدوربش،اوبامااورٹرمپ کی انتظامیہ نے اس سچائی کودوعشروں تک چھپایاکہ کس طورامریکاایک ایسی جنگ ہاررہاتھاجسے ابتدامیں امریکیوں کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔سچ بیان کرنے کے بجائے تین صدور اوران کے ماتحت کام کرنے والی انتظامیہ نے اپنی غلطیوں کوچھپانے کوترجیح دی اوراس کے نتیجے میں جنگ میں بالادستی والامعاملہ نہ رہا۔ یوں صدربائیڈن کو اسی سال افغانستان سے امریکی افواج کاانخلامکمل کرنے کااعلان کرناپڑااورطالبان2001ءکے بعدسے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں مضبوط ترہوکر ابھرے ہیں۔

امریکانے افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کے نام پرجوکچھ کیاوہ ایک طرف توغیرمعمولی مالی بوجھ کاباعث بنااوردوسری طرف یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ اس نام نہادجنگ نے امریکامیں عام آدمی کوشدیداحساسِ جرم سے دوچارکیا۔افغان قوم پرڈھائے جانے والے مظالم نے امریکاکے ہزاروں فوجیوں کوشدید نوعیت کے ڈپریشن اوراحساسِ جرم کے دائرے میں قیدکردیاہے۔بے قصورمردوں، عورتوں اوربچوں کواندھادھندبمباری،گولاباری اورفائرنگ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے والے امریکی فوجیوں میں سے بہت سوں کواب تک مختلف ذہنی عوارض نے گھیررکھاہے۔جن فوجیوں نے یہ سب کچھ نہ چاہتے ہوئے کیاوہ آج روحانی طورپرانتہائی زخمی اور کھوکھلے ہیں۔

آج بھی امریکی فوج کواندرونی سطح پراسی بحران کاسامناہے۔افغانستان اورعراق میں لاکھوں بے قصورافرادکوموت کے گھاٹ اتارنے والے امریکی فوجی آج مختلف ذہنی وروحانی عوارض کاشکارہیں۔بہت سے مکمل پاگل ہوچکے ہیں۔ضمیرکی خلش بہت سوں کوانتہائی بے چین رکھتی ہے۔امریکامیں نفسیاتی امراض کے علاج کیلئےاسپتالوں کارخ کرنے والے سابق فوجیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں