Iron Lashes....

عزیمت اوررخصت میں فرق

:Share

عباسی خلفاء کے دورمیں جب بدعت وظلم کی سیاہ وحشت ناک راتوں نے دین اسلام کے اجالے میں عظیم فتنہ،،خلق قرآن،،کے نام سے بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی تواس زمانے کی ظالم حکومت نے اپنے پورے قہروجبرکے ساتھ کلمتہ الحق کہنے والوں کی زبانیں کاٹ کران کے منہ زروجواہرسے بھرناشروع کردیئے۔اپنے اقتدارکی طوالت کی خاطررسن وداراورفولادی زنجیروں کی بھرمارکرڈالی اوراہل دہشت کی بناء پرخوفِ خداکی شاہراہ کو سنسان کرنے کاہمہ وقتی عمل شروع کردیا۔جہادوغیرہ کادرس دینے والے سہمی ہوئی بھیڑوں کی طرح ایک کونے میں سرچھپائے ہوئے تھے۔اس زمانے میں عام مسلمان”علما”کوگوشہ سکوت میں سر چھپائے ہوئے دیکھ کربڑی دلسوزی کے ساتھ اس بات کی گڑگڑاکردعامانگ رہے تھے کہ کوئی توخداکابندہ ایساہوجواس ظلم وباطل کاحق وراستی کے ساتھ مقابلہ کر سکے اوراس امت کوآخرت میں محمدعربیﷺکے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالے۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس لرزہ خیزمحاذپراللہ نے اپنے بندو ں کی مناجات،التجائیں بہت قریب سے سنیں اوراس بستی میں سے ایک مجاہدنے اس جہادمیں کود کراس خون آشام جابراورایمان کش اقتدارپرکلمتہ الحق کی ایسی بجلیاں گرائیں کہ کفرکاساراسیاہ دامن اوربدعت وظلمت کاپوراوجودلرزنے لگا۔جب اس بندہ خدانے ظلم وجبرکی آندھیوں میں حق پرستی اورحق گوئی کے چراغ اپنے لہواوراشکوں سے جلانے شروع کئے توان دنیادار،ظلمتوں کے علم برداروں نے اپنی پوری کوشش کرڈالی کہ اس روشنی کوزرو جواہر،اقتداراورمنصب کی لالچ سے ڈھانپ کربجھادیاجائے لیکن”وہ”جان چکاتھاکہ”خوف خدا”دنیاکے تمام مصائب سے نجات دلا دیتاہے۔اس لئے اس نے”خوفِ خدا”سے اپنے دل کومزین کرلیا۔اس مردِ مومن نے خوفِ خداکی ضربِ کلیمی سے خوفِ دنیاکے پرخچے اڑادیئے۔اس مردِ مومن کویہ علم تھا کہ اس عمل کے بعد اس کے وجودکے پرزے اڑادیئے جائیں گے لیکن ایمانی جوش دنیاوی ہوش پرہمیشہ سبقت لےجاتاہےاوراس کے دل پریہ پیغام پہنچ چکاتھا کہ:
یہ قدم قدم بلائیں یہ قدم کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہوپیاری
جاہ واقتدارکی مکروہ پیشانی جس کی نگاہوں نے ہمیشہ اپنے سامنے سرجھکتے ہوئے دیکھے تھے،ایک مردِ حق کاباطل کے سامنے اٹھاہواسردیکھاتوبے شمار بل آ گئے ،نخوت وتکبرنے اس تنہاگردن وجبیں کوجھکانے کیلئے اپنی پوری طاقت کااظہاراس طرح کیاکہ منوں وزنی لوہے کی زنجیروں میں پابجولاں کرکے شہرکی گلیوں میں گھمایا۔موت کی ہلاکت آفرینیاں ہروقت اس مردِ حق کے سرپرمنڈلارہی تھیں،اس وقت بھی اس عظیم الشان مردِ مجاہد کے چہرے پرایسی مسکراہٹ تھی جس نے اس کے چہرے کے بے حجاب حسن وجمال میں اس قدراضافہ کردیاکہ باطل کے پروردہ منافقین اپنے چہروں کی سیاہی کوچھپانے کیلئے گھروں کے تاریک کونوں کھدروں میں چھپ گئے لیکن اس مردحق کی عاجزی اورانکساری کاجلال پکارپکارکرکہہ رہاتھاکہ حق کو مٹانے والے خودمٹ جاتے ہیں اورحق کی خاطرموت کوگلے لگانے والے ابدی زندگی سے ہمکنارہوتے ہیں اوررہتی دنیاتک امرہوجاتے ہیں۔

عقوبت گاہ میں جب اس مردِ حق پرزندگی ہرطرح سے تنگ کردی گئی،رمضان المبارک کے صبرآزمامہینے میں اس فولادی عزیمت کے پیکر پرکوڑوں کی بارش نے خون کے چھینٹے اڑانے شروع کئے اورپھر کوڑے بھی ایسے کہ ہاتھی کی پشت پراگر برسیں تووہ بھی بلبلااٹھے لیکن اس عظیم شخص کے منہ سے کوئی کراہ،کوئی آہ اورنہ ہی کوئی بددعاکے الفاظ جاری ہوئے بلکہ وہ توان تمام چیزوں کواپنے دردکی توہین اوراس راستے پرچلنے کاانعام سمجھ رہاتھا۔اگراس کے منہ سے کوئی آوازنکلی تویہی کہ: “کتاب وسنت سے کوئی دلیل لاؤ”حالانکہ اس بھاری ابتلاء کے موقع پرجب کہ خون آشام جبڑے ان کی ہڈیوں کوچبانے کیلئے اپنی پوری قوت صرف کر چکے تھے،حاکمِ وقت نے خودان کی عظمت کوسلام کرکے اپنی ہارماننے کیلئے یہ تجویزرکھی کہ اس معاملے پر خاموش ہوجاؤ،اس کی اگرتائیدنہیں کرسکتے توتردیدبھی نہ کرولیکن عزیمت کے اس پیکرنے آسمان کی طرف منہ اٹھا کراپنی اشک آلودنگاہیں اٹھاکر اپنے رب سے فضل ورضاکی درخواست کی اورپھرزمین پرجھک کرقبرو برزخ کی دنیامیں جھانک کراپنی مظلومیت کے حسین ترین انجام کودیکھ کرجب حاکمِ وقت پرنگاہ ڈالی تواس کاساراشاہی رعب ودبدبہ،اس کاتخت وتاج اور اس کا اپناوجودان نظروں کی تاب نہ لاسکااوراس مغروربادشاہ کاساراوقاراس درویش کے قدموں میں ڈھیرہوگیا۔وہی ظلم وقہرکا پہاڑ جس نے تمام علمائے سوکواپنے گردجمع کررکھاتھااورشرعی آڑکی رخصت میں تمام علمائے سوکو زرو جواہرکے بدلے اپنا ہمنوا بنارکھاتھا،منت سماجت پراترآیا لیکن اس مردِ مومن کی ایک ہی پکارتھی کہ “اگر کوئی دلیل کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ سے لےآؤتویہ سرنہ صرف اطاعت کیلئے جھک جائےگابلکہ قربان بھی ہوجائے گا وگرنہ ہم دونوں کے راستے بالکل الگ الگ ہیں”۔

جب کوڑوں کی بارش نے جسم کی کھال ادھیڑدی،فولادی زنجیروں نے جسم پرخونچکاں بسیراکرلیا،بھوک وپیاس کی اذیت نے قیامت کاساماں پیداکردیا توجسم پرغشی کی حالت طاری ہوگئی۔آنکھ کھلنے پرکچھ علمائے سوکے ہاتھوں میں ٹھنڈاپانی دیکھاجو شریعت میں اس موقع پرپانی پینے کی گنجائش بتارہے تھے تاکہ زندگی بچ جائے لیکن عزیمت کے اس امام نے تاریخ سازجواب دیکر”میں روزے کی حالت میں اپنے رب سے ملنے کی خواہش وتڑپ رکھتاہوں ” پانی کے اس پیالےکونظروں سے دورکردینے کوکہا،انہی زخموں سے چوراپنےخالقِ حقیقی کے سامنے سجدہ ریزہوگئے اوردل سے جوہوک اٹھی کہ “شریعت میں صرف رخصت ہی نہیں عزیمت بھی ہے”۔اگرمیں رخصت کی راہ پکڑلوں توآخراس حدیث نبویۖ پرکون عمل کرے گاکہ جس میں وضاحت کے ساتھ ختم الرسلﷺنے اپنے صحابہ اکرام کے مصائب کی فریادپرفرمایا کہ:
“تم سے پہلے ایسے لوگ گزرچکے ہیں جن کے سروں پرآرے چلادیئے گئے اورجسم لکڑی کی طرح چیردیاگیا،لوہے کے کنگھوں سے ان کے جسم کے گوشت کو نوچ ڈالاگیاپھربھی یہ تکالیف ان کوحق کے راستے سے نہ ہٹاسکیں”۔

وہ علماء جوشرعی رخصتوں کی آڑلیکراس فانی دنیامیں چندروزخیریت سے زندگی گزارناچاہتےتھے وہ بھی اس مردِ مجاہدکو اپنا ہمنوانہ بناسکےکیونکہ ان کوعلم ہوگیاتھاکہ یہ اللہ کاسچارفیق طے کرچکاہےکہ محض چندروزہ فانی زندگی کے مقابلے میں اخروی زندگی بدرجہابہترہے۔موت سے توکسی کومفرنہیں،کسی نہ کسی آرزوکارنگ توکفن کو رنگین کرے گا،پھرکیوں نہ راہِ حق میں استقلال کارنگ اپنے کفن کیلئے منتخب کرلیاجائے تاکہ جب اس حالت میں فرشتے خداکے پاس لیکرحاضرہوں تودورسے ہی اس کفن کے رنگ میں اللہ کی خوشنودی کاپیام موصول ہواورخداکی رحمت دنیامیں دیئے گئے زخموں پروالہانہ پیارکرنے کیلئے لپک کربوسے دے:
توحیدتویہ ہے کہ خداحشرمیں کہہ دے
یہ بندۂ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے

پھروقت نے دیکھاکہ دنیاوی لحاظ سے کمزوروناتواں،بے سروسامان مردِمجاہدنے اس بادشاہِ وقت کوجو اپنےظلم کاہروارآزماچکا تھا،وہ جواپنی طاقت پر بہت گھمنڈ کرتاتھا،جس کواپنے ہتھیاروں اوراپنے عقوبت گاہوں پربڑانازتھا،جواپنی دولت سے ہرکسی کو خریدنے کادعویٰ کرتاتھا،اپنی فوجوں کی بہادری اورآہنی محل کے پہریداروں پربڑافخرکرتاتھا،اللہ کی نصرت کے بل بوتے پرنہ صرف اس کوشکست فاش دی بلکہ موت کے فرشتے نے اس کے جسم سے اس طرح جان نکالی کہ آہنی پہریداراورفولادی حلقے اورمضبوط درودیواربے بسی کے ساتھ بڑی حسرت ناک اورعبرتناک موت کے سامنے چوں چراِں نہ کر سکے۔

اس مردحق کی زنجیریں نئی قیادت نے انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ نہ صرف کاٹ ڈالیں بلکہ تعظیم وتکریم کے تمام جھونکے نچھاورکرڈالے۔قدم قدم پر عقیدت کیشوں نے آنکھیں بچھائیں مگرعظمت کے اس پہاڑ نے فاتحانہ نہیں مگرعاجزانہ چال کے ساتھ سب سے پہلے صبرکے ابلتے ہوئے آنسوؤں اورخوشیوں کی چیخوں میں شکرانے کے جہاں نوافل اداکئے وہاں ظالموں کیلئے راہِ ہدائت کی دعائیں کیں۔نئی قیادت نے پرانے مظالم کاحساب دنیامیں چکانے کی کوشش کی تواس مردِ درویش کی آنکھیں غصے سے ابل پڑیں کہ:یہ شاہی اشرفیوں کے توڑے شاہی عتاب کے کوڑوں سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہیں۔یہ دنیاجسے ستم سے نہ دباسکی اب اس کوکرم سے خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایک طرف دین کافتنہ تھا،دوسری طرف دنیاکافتنہ!!شائد ان کووہ واقعہ یادآگیاکہ جب دنیابن سنورکرمحمدﷺعربی کادل لبھانے کیلئے آگے بڑھی تومیرے آقا ﷺنے دونوں ہاتھوں سے اس کودھکے دیکرنکال دیاتھا،دنیانے اس وقت کہاتھا”آپﷺتومجھ سے بچ گئے لیکن آپﷺکے بعد لوگ شائدہی مجھ سے بچ سکیں”۔

یہی وجہ تھی کہ وقت کے اس عظیم امام نے شاہی نوازشات کوبھی بڑی حقارت کے ساتھ ٹھکرادیا۔وہ حاکمِ وقت کے نہیں بلکہ حاکموں کے حاکم کے شکر گزار تھے کہ جس نے ان کی ہرمشکل میں نصرت فرمائی اوران کے دل کویہ توانائی بخشی کہ جسم میں سب سے چھوٹے لوتھڑے نے پہاڑوں کوریزریزہ کردیا۔اکثرتنہائی میں اپنی اورمسلمانوں کی بخشش کی دعائیں کرتے تووہاں ایک گمنام شخص”ابوالہیثم”کی بخشش کی دعائیں بڑی رقت آمیزاندازمیں کرتے ۔عقدہ کھلاکہ ابوالہیثم ایک چورتھا،جب اس مرد مجاہدکو پابجولاں کرکے بازاروں اورگلیوں میں رسواکیاجارہاتھاتواس وقت اس چورنے بڑی دلسوزی کے ساتھ کہاکہ”میں ایک چورہوں اورچوری کیلئے کم وبیش18سے20ہزارضربیں اپنی کمرپربرداشت کرچکاہوں،اس کے باوجودمیرے ارادے ٹس سے مس نہیں ہوئے اورمیری یہ ثابت قدمی دنیاجیسی ناپاک چیز کیلئے تھی۔ہزارافسوس ہوگاتم پراگرتم”راہِ حق”میں اتنی بھی ہمت نہ دکھاسکو”۔

چورکایہ پیغام ان کے دل میں تیرِحق بن کراترگیااوراس پیغام نے اس مردِحق کواپنے وقت کاعظیم امام”احمدبن حنبل”بناڈالا۔یہ اس عہدکی کہانی ہے کہ جب ایمان کی آگ سینوں میں اتنی تھی کہ چورکے چندسوزبھرے کلمات نےتاریخ کوایک عظیم الشان مجاہد سے متعارف کروادیالیکن آج سینکڑوں نہیں لاکھوں زبانیں جمع ہوکرجبہ ودستارکی آڑلیکر فلک شگاف نعرے بھی لگارہی ہیں،اسی قرآن وسنت سے بے شمارواقعات سناکرجذبات بھی ابھارے جارہے ہیں،یقیناًیہ ایک نیک وصالح عمل ہے لیکن اس کے باوجودجب کبھی ایسا مشکل وقت آن پڑتاہے توواعظ اپنی جان بچانے کوعین فرض سمجھ کرراہِ فراراختیارکرلیتاہے۔اگر کہیں خودنمائی کے مواقع موجودہیں تواس میں شرکت عین ثواب،اگرکشمیر،فلسطین اورافغانستان کے عملی جہاد کاذکرتوپھرعین جواب!تقریرکیلئے بہترین سٹیج مہیاکیاجائے توعین عبادت لیکن یہی جبہ ودستارکے پرستاردوستوں سے عمل کی اپیل محض اس لئے کی جائے کہ مسلمان اپنے سچے قول وفعل سے بھی دنیاتسخیرکرسکتاہے توپھرساری کاوشیں بیکار!

حصولِ اقتدارکیلئے دن رات نفاذِ اسلام کانعرہ لیکن اقتدارحاصل کرنے کے بعداسلامی اقدارپرپہرہ!ملک کی معیشت کواسلامی خدو خال پراستوارکرنے کا دعویٰ مگر ورلڈبینک،آئی ایم ایف اورامریکابہادر کے احکام کاپہناوہ!جہادافغانستان اورکشمیرکی جیتی ہوئی بازی استعمارکے کہنے پرہاردی۔کشمیر پچھلے 76سالوں سے ظلم وستم کاشکارہے لیکن کشمیرکوفتح کرنے کے دعویداراقوام متحدہ میں اس مسئلے کواٹھانے سے گریزاں ہیں۔اگرکوئی جماعت مکمل دین حق کانفاذچاہتی ہے تواس کوملک دشمن اوربنیادپرست کہہ کرالزامات کی بارش سے نوازدیاجاتاہے۔اغیارکے ساتھ ملی بھگت کرکے آج اسلام کونظامِ عبادت کے طورپرتوقبول کیاجاتاہے لیکن نظامِ حکومت کے طورپراس کوناقابل عمل سمجھ کرپس پشت ڈال دیاگیاہے۔اسلام جوکہ اخو ت اورمحبت کا درس دیتاہےآج اس کے نام لیوااورپیشوااپنے مذموم مقاصد کیلئے تفرقہ بازی جیسی لعنت کو گلے لگاکرامت کوپارہ پارہ کررہے ہیں۔ہمارے علماء کاآپس میں دست وگریباں ہونا،اتحاد کیلئے کی جانیوالی تمام کاوشوں کواپنی ذاتی انااورذاتی مخاصمتوں کی بناءپرسبوتاژکرنا،کہیں ایساتو نہیں یہ دنیاکی چکاچونداور خیرہ کردینے والی روشنی ان کی آنکھوں کے ساتھ ان کے دل کوبھی اپنی زدمیں لے چکی ہے اوراب کتاب اللہ اورسنت رسول اللہﷺ کی حفاظت کاکام ان سے واپس لیاجارہاہے۔(خدا نہ کرے)اوریہ کام جواسلام کے نام پرحاصل کئے گئے خطہ ارض پرنہ ہوسکا،اب اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ان افغانوں اورکشمیریوں سے لے لے جنہوں نے فی الواقع جہادکرکے دنیاکی ایک سپرطاقت کو ٹکڑے کر ڈالااوربہت جلددوسری سپرطاقت کی ریشہ دوانیوں کابھی عبرتناک انجام ہوکررہے گاکیونکہ اب وقت نے بھی اس بات کی گواہی دے دی ہے کہ:
فطرت کےمقاصد کی کرتاہے نگہبانی
یابندہ صحرائی یامردِکوہستانی

آیئے آج اپنے اسلاف کے کارناموں کی روح کوسامنے رکھ کراپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں کہ ہمیں دنیاوآخرت کی فلاح کیلئے کون ساراستہ اختیار کرناہے ۔کیاوہی راستہ وہی نظام حکومت،وہی نظامِ عدل جس میں کتاب اللہ اورسنت رسول سے ہمیشہ ہرپہلوپررہنمائی حاصل کی گئی اورجس کے طفیل حامل کتاب و سنت کودنیاکوامام بنادیاگیا یاپھرکتاب اللہ اورسنت رسول سے دوری جس نے واقعی ہمیں ہرچیزسے دورکردیا۔اللہ سے دعاہے کہ ہمیں حق پرچلنے اس پر عمل کرنے اوراس کی برملاحمائت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں

twelve + 19 =