Accountability of Borders: Kashmir's Incomplete Decision

سرحدوں کااحتساب:کشمیر کانامکمل فیصلہ

اقوام کی تاریخ محض واقعات کی گرد نہیں ہوتی بلکہ وہ زمان ومکان کے سینے پرلکھی ہوئی ایک زندہ دستاویزہوتی ہے،ایسی دستاویز جس میں سیاست کے نشیب وفراز،جغرافیے کی سنگلاخی ،اورتہذیبوں کی کشمکش ایک دوسرے میں یوں پیوست ہوجاتی ہیں جیسے دریا اپنے کناروں سے۔برصغیرکی تاریخ محض واقعات کا انباراورسلسلہ ہی نہیں بلکہ تہذیبوں کے تصادم،مفادات کی کشمکش اورجغرافیے کے سینے پرلکھی ہوئی ایک ایسی داستان ہے جس میں ہرموڑپرایک نیاسوال جنم لیتاہے۔یہ ایک ایساآئینہ ہے جس میں طاقت،تہذیب اور جغرافیے کی باہمی کشمکش جھلکتی ہے۔

چین، پاکستان اوربھارت کے مابین سرحدی تنازع بھی اسی داستان کاایک باب ہے—ایک ایساباب جس میں تاریخ،سیاست،سفارت کاری اورطاقت کے توازن کی گہری پرتیں پوشیدہ ہیں۔چین اورپاکستان کی مشترکہ سرحدکامعاملہ بھی اسی تاریخی بیانیے کاحصہ اوراسی پیچیدہ داستان کاایک روشن مگرمتنازع باب ہے،جسے حالیہ دنوں میں ایک بارپھرنئی معنویت ملی ہے اورآبی تعاون کے تناظرمیں دوبارہ زندہ کیاگیاہے،جبکہ بھارت اس سرحدکے وجودہی سے انکاری ہے اور1963کے معاہدے کوبھی تسلیم نہیں کرتا۔اسلام آباداوربیجنگ کے درمیان سرحدپارآبی تعاون کی بات ہواورنئی دہلی اس کے وجودہی سے انکاری ہو—یہ محض سفارتی اختلاف نہیں بلکہ تاریخ کے ادھورے فیصلوں کی بازگشت ہے۔

یہ امرکسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اورچین کے تعلقات کوآج”آہنی بھائی چارہ”اور”ہرموسم کی دوستی”کے استعاروں سے یادکیاجاتا ہے،مگراس رفاقت کی بنیادیں محض جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ ٹھوس تاریخی معاہدوں اورمشترکہ مفادات پراستوارہیں۔ان بنیادوں میں سب سے اہم سنگِ میل1963کا پاک-چین سرحدی معاہدہ ہے—ایک ایسامعاہدہ جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کونئی جہت دی بلکہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کوبھی ایک نئے زاویے سے متعارف کروایا۔

مئی2026میں وزیراعظم شہبازشریف کادورۂ چین اسی تاریخی تسلسل کی ایک تازہ کڑی تھا۔اس دورے کے اختتام پرجاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں جب سرحدپارآبی وسائل میں تعاون کاذکرآیاتوگویادہلی کے ایوانوں میں ایک نئی ہلچل مچ گئی اوربھارت کی جانب سے شدیدردعمل سامنے آیا۔بھارت نے نہ صرف اس بیان کومستردکیابلکہ اس بنیادی حقیقت ہی سے انکارکردیاکہ چین اورپاکستان کے درمیان کوئی مشترکہ سرحدموجودہے۔اس انکارمیں محض سفارتی احتجاج نہیں بلکہ ایک دیرینہ مؤقف کی جھلک تھی جو1963کے معاہدے کوبھی غیرقانونی قراردیتاہے۔یہ مؤقف دراصل ایک طویل تاریخی اختلاف کاتسلسل ہے،جس کی جڑیں برطانوی راج کے ان مبہم نقشوں میں پیوست ہیں جنہوں نے خطے کوایک دائمی الجھن میں مبتلاکر دیا۔اس ردعمل نے ایک بارپھر پرانے تنازع کوتازہ کردیا۔

انیسویں صدی کے وسط میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت زوال پذیرہوئی توبرطانوی سامراج نے1846کے معاہدہ امرتسرکے تحت کشمیرکوگلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کردیا۔یوں ایک ایسی ریاست وجودمیں آئی جس کی سرحدیں واضح نہ تھیں،خصوصاًمشرقی سمت میں جہاں تبت اورسنکیانگ کے بنجرمیدان پھیلے ہوئے تھے۔برطانوی حکام نے مختلف سرحدی خطوط تجویزکیے—ارداغ-جانسن لائن،میکارٹنی-میکڈونلڈلائن،اوربعدازاں مکماہون لائن—مگران میں سے کوئی بھی عالمی سطح پرتسلیم نہ ہوسکا۔یہی وہ ابہام تھاجس نے بعدازاں چین،بھارت اورپاکستان کے درمیان تنازع کوجنم دیا۔چین نے ہمیشہ اس بات پرزوردیاکہ اس نے برطانوی ہندوستان کے ساتھ کسی سرحدی معاہدے پردستخط نہیں کیے،لہٰذاوہ ان لکیروں کوتسلیم کرنے کاپابند نہیں۔دوسری جانب بھارت نے نوآبادیاتی ورثے کواپنی خودمختاری کی بنیادبناکران علاقوں پردعویٰ کیا۔

سوال یہ ہے کہ آخریہ تنازع ہے کیا؟اس کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟اوروہ کون ساتاریخی موڑتھاجہاں بیجنگ اوراسلام آبادکے راستے ایک دوسرے سے آ ملے ؟ان سوالات کاجواب ہمیں تاریخ کےان اوراق میں ملتاہے جہاں کبھی”ہندی چینی بھائی بھائی”کانعرہ گونجتاتھااور دوقدیم تہذیبیں باہمی دوستی کے خواب دیکھ رہی تھیں۔علاوہ ازیں1963کاوہ کون سامعاہدہ ہے جس نے چین اور پاکستان کو قریب لا کھڑا کیا؟اس کیلئےہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے،جہاں”ہندی چینی بھائی بھائی”کانعرہ گونج رہاتھا۔

بیسویں صدی یعنی1950ءکی دہائی میں میں چین اوربھارت کے تعلقات بظاہرمثالی اورنہایت خوشگوارتھے۔اس زمانے میں بیجنگ کا جھکاؤپاکستان کے بجائے بھارت کی طرف تھا۔چین نے نہ صرف سفارتی سطح پربھارت کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے بلکہ سرحدی تنازع کے حل کیلئےعلاقائی تبادلے کی تجاویزبھی زیرغورآئیں مگرتاریخ کی بساط پرمہرے ہمیشہ ایک ہی جگہ نہیں رہتےمگریہ ہم آہنگی زیادہ دیربرقرارنہ رہ سکی۔اکسائی چن اوراروناچل پردیش جیسے علاقوں پر اختلافات نے دونوں ممالک کوآمنے سامنے لاکھڑاکیا،جہاں ہرفریق اپنی تاریخی اورجغرافیائی دلیل پیش کررہاتھا۔جلدہی اکسائی چن اوراروناچل پردیش جیسے حساس علاقوں پر اختلافات نے اس دوستی کورقابت میں بدل دیا۔اکسائی چن کاعلاقہ اس تنازع کامرکزبن گیا۔بھارت اسے لداخ کاحصہ قراردیتاہے جبکہ چین اسے اپنے سنکیانگ اورتبت کوملانے والی ایک اہم گزرگاہ سمجھتاہے۔

مغرب میں اکسائی چن کوبھارت لداخ کاحصہ قراردیتارہا،جبکہ چین اسے اپنی تزویراتی شہ رگ سمجھتاتھا۔مشرق میں مکماہون لائن ایک ایساتنازع بنی جس نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کوگہراکردیا۔1956-57میں چین نے اس علاقے سے ایک سڑک تعمیرکی، جس سے اس کی عسکری اورمواصلاتی حیثیت مزیدمستحکم ہوگئی۔بھارت کواس سڑک کی خبرتاخیرسے ہوئی،جس کے بعدسرحدی کشیدگی نے جنم لیااوربالآخر1962کی چین-بھارت جنگ چھڑگئی ۔یہ جنگ نہ صرف ایک عسکری تصادم تھی بلکہ اس نے خطے کی سیاسی صف بندی کوبھی بدل کررکھ دیا۔جہاں ایک طرف بھارت کوایک شدیددھچکالگا،وہیں پاکستان نے اس صورتحال کوایک موقع کے طورپردیکھا۔چین،جوپہلے بھارت کے قریب سمجھاجاتاتھا،اب پاکستان کی طرف مائل ہونے لگا۔

اس تمام منظرنامے میں کشمیرکامسئلہ محض پاکستان اوربھارت کے درمیان ایک تنازع نہیں رہابلکہ ایک سہ فریقی قضیہ بن کرابھرا، جس میں چین ایک خاموش مگرمؤثر فریق کے طورپرموجود تھا۔حالیہ بیانات میں بھی اس حقیقت کااظہارکیاگیاکہ کشمیرکا تنازع،جو عمومی طورپرپاکستان اوربھارت کے درمیان سمجھاجاتا ے ، درحقیقت سہ فریقی یعنی تین ممالک کے درمیان ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس میں چین بھی ایک اہم فریق ہے۔اعدادوشماراس حقیقت کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق کشمیرکاتقریباً45.62٪حصہ بھارت ،35.15٪ پاکستان اور19.23٪چین کے زیرانتظام ہے۔یہ تقسیم محض جغرافیائی نہیں بلکہ سیاسی،عسکری اورسفارتی پیچیدگیوں کی آئینہ دارہے اوریہ تقسیم خو اس تنازع کی پیچیدگی کوظاہرکرتی ہے۔اسی تناظرمیں پاکستان اورچین کے درمیان سرحدی مذاکرات کاآغازہوا۔ابتدائی طورپرچین کارویہ محتاط اورشکوک سے بھرپورتھا،مگروقت کے ساتھ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے مؤقف کوسمجھناشروع کیا۔ اکتوبر1962میں مذاکرات کاآغازہوااوربالآخر2مارچ1963کوبیجنگ میں تاریخی معاہدہ طے پایا۔

دراصل اس تنازع کی جڑیں برطانوی راج کی اس پالیسی میں پیوست ہیں جس نے خطے کو ایک مبہم ورثہ دے کررخصت لی۔جب 1846کے معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیرکوایک نیم خود مختارریاست کے طورپرتشکیل دیاگیا،مگراس کی سرحدیں واضح نہ کی گئیں،خصوصاً مشرقی سمت میں۔بعدازاں اسی معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیرکوگلاب سنگھ کے حوالے کیاگیا،مگراس کی سرحدوں کاتعین ادھوراچھوڑ دیاگیا—خصوصاًمشرقی سمت میں جہاں بنجراورغیرآبادعلاقے پھیلے ہوئے تھے۔برطانوی حکام نے وقتاًفوقتاًمختلف سرحدی لکیریں تجویزکیں— مگرچین نے کبھی ان کوتسلیم نہیں کیاکیونکہ ان میں سے کوئی بھی چین کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے ذریعے طے نہ ہوسکی۔یہی وجہ تھی کہ چین نے ان تمام لکیروں کویکسرمستردکردیا۔جب1947میں برطانوی راج کاخاتمہ ہواتواکسائی چن کی سرحدغیرواضح اورایک معمہ بنی ہوئی تھی۔یہ ایک ایساعلاقہ تھا جس پردونوں ممالک بھارت اورچین دونوں نے دعویٰ کر تے ہوئے اپنے اپنے نقشوں میں شامل کرلیا،حالانکہ زمینی حقیقت میں یہ ایک غیرمتعین خطہ تھا ۔ یوں ایک “نومینزلینڈ”تنازع کامرکزبن گیا۔

چین نے1956-57میں اس علاقے سے گزرنے والی ایک اہم فوجی سڑک تعمیرکی،جس نے سنکیانگ کوتبت سےجوڑدیاجس سے اس کی عسکری برتری مستحکم ہوئی۔یہ اقدام نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم تھا بلکہ اس نے چین کی اس علاقے پرگرفت کوبھی مضبوط کردیا اوربھارت کیلئےخطرے کی گھنٹی بج گئی۔چین نے تنازع کے حل کیلئےایک عملی تجویز پیش کی کہ اکسائی چن اسے دے دیاجائے اور بھارت اکسائی چن کوتسلیم کرلے اوربدلے میں چین اروناچل پردیش پر اپنے دعوے سے دستبردارہوجائے گامگربھارت نے اسے اپنی خود مختاری کے منافی سمجھتے ہوئے مستردکردیاجس کے بعدکشیدگی میں اضافہ ہواجوآج شدت اختیارکرچکاہے۔

اس انکارکانتیجہ اکتوبر1962کی جنگ کی صورت میں نکلا،جس کے بعدلداخ کاشمال مشرقی حصہ چین کے کنٹرول میں آگیا، اگرچہ وقتی خاموشی طاری ہوئی، مگر سرحدی تنازع اپنی جگہ برقراررہا اور خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔اس جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کومنجمد کردیا بلکہ خطے کی جغرافیائی سیاست کوبھی یکسر بدل کررکھ دیا۔بعدازاں 1993 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کوتسلیم کرنے کامعاہدہ ایک عارضی سکون کاباعث بنا، لیکن2019میں بھارت کی جانب سے جموں وکشمیرکی آئینی حیثیت کی تبدیلی نے اس توازن کوایک بارپھرتہ وبالاکردیاجس پرچین کے شدید ترین ردعمل نے اس اقدام کواپنی علاقائی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔

یہ تمام پیش رفتیں اس امرکی غمازی کرتی ہیں کہ کشمیرکاتنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے—ایسامرحلہ جہاں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون مزید گہرا اور بامعنی ہو سکتا ہے۔پاکستان اورچین کے درمیان بھی ابتدامیں سرحدی اختلافات موجود تھے۔ 1959میں پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کوچین نے سرد مہری سے لیا،کیونکہ اس وقت اس کی ترجیح بھارت تھا۔تاہم وقت کے ساتھ حالات بدلے۔ایوب خان اورچینی قیادت کے درمیان سفارتی روابط نے اس جمودکوتوڑا،ایوب خان کی قیادت میں دونوں ممالک نے باہمی احترام کی بنیاد پرمسائل کوحل کرنے کیلئے ایک متوازن سفارتی حکمت عملی اپنائی،اورمضبوط اعتمادسازی کی فضاقائم کرنے کی جامع پالیسیاں تشکیل دیں۔اقوام متحدہ میں چین کی نمائندگی کے معاملے پرپاکستان کی حمایت نے بھی دونوں ممالک کوقریب لانےمیں اہم کرداراداکیا۔

بالآخر12اکتوبر1962کوباقاعدہ مذاکرات کاآغازہوا۔ابتدائی اختلافات کے باوجوددونوں فریقین نے حقیقت پسندی کامظاہرہ کیااورایک قابلِ قبول حل کی طرف پیش رفت کی۔جن میں چین نے ابتدائی طورپرکچھ علاقوں پردعویٰ کیامگربعد ازاں پاکستان کے مؤقف کوتسلیم کرتے ہوئے معمولی ترامیم پراتفاق کیا ۔2مارچ1963کوبیجنگ میں تاریخی معاہدہ طے پایا۔یہ معاہدہ قراقرم واٹرشیڈپرمبنی تھااوراس میں قراقرم واٹرشیڈکوبنیادبنایاگیا،اوردونوں ممالک نے باہمی رضامندی سے اپنی سرحدوں کاتعین کیا۔یہ ایک ایسالمحہ تھاجس نے دونوں ممالک کے تعلقات کونئی بنیادفراہم کی۔

پاکستان اورچین کے درمیان طے پانے والامعاہدہ ایک عارضی انتظام کے طورپربھی دیکھاگیا،جس میں یہ شرط شامل تھی کہ اگرکشمیر کامسئلہ کسی حتمی حل کی طرف بڑھتاہے توسرحدی حد بندی کاازسرنوجائزہ لیاجاسکتاہے۔معاہدے میں یہ واضح کیاگیاکہ یہ ایک عبوری انتظام ہے اورجموں وکشمیرکے حتمی حل کی صورت میں اس کاازسرنوجائزہ لیاجاسکتاہے۔اس معاہدے میں واضح کیاگیاکہ یہ جموں و کشمیرکی حتمی حیثیت پراثراندازنہیں ہوگا،بلکہ ایک عبوری انتظام ہے۔یہ شق اس معاہدے کی دوراندیشی کامظہراوربصیرت کامنہ بولا ثبوت ہے۔

پاکستان نے اس معاہدے میں اپنے مفادات کاتحفظ کرتے ہوئے ایک انچ زمین دیئے بغیر750مربع میل علاقہ حاصل کیا—یہ معاہدہ محض سرحدوں کی حد بندی نہیں تھابلکہ ایک فکری ہم آہنگی کامظہرتھا۔پاکستان نے اپنے تاریخی حقوق کاتحفظ کرتے ہوئےشمشال پاس کے پار واقع چراگاہی علاقوں کوبھی اپنے نقشے میں شامل کروایا،جوصدیوں سے ہنزہ کے باشندوں کے زیراستعمال تھے۔یہ چین کی جانب سے ایک غیرمعمولی لچک کااظہاراورچین کی فراخ دلی کامظہرتھا۔

یہی وہ لمحہ تھاجب پاکستان اورچین کے تعلقات نے ایک نئی کروٹ لی۔یہ معاہدہ نہ صرف سرحدی تنازع کے حل کی ایک مثال بنابلکہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اورہم آہنگی کی ایک مضبوط بنیادبھی فراہم کی۔1963ءکاپاک-چین سرحدی معاہدہ محض ایک جغرافیائی سمجھوتہ نہ تھا،بلکہ ایک ایسی سفارتی حکمت عملی کامظہر تھاجس نے خطے میں طاقت کے توازن کونئی شکل دی۔اس معاہدے کے بعدچین نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی بھرپور اورجاندارتائیدکی بلکہ کشمیرکے مسئلے پربھی اس کے ساتھ ہم آہنگی اختیارکی جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماداورہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔

بھارت نے اس معاہدے کویکسرمستردکردیااوراسےغیر قانونی قراردیا،یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پوراکشمیراس کااٹوٹ انگ ہے۔مگر پاکستان کے وزیرخارجہ ذوالفقارعلی بھٹونے اس مؤقف کو نہایت مدلل اندازمیں ردکیا۔بھٹو نے اس معاہدے میں کلیدی کرداراداکیااورچین کے ساتھ تعلقات کوایک نئی جہت دی ،جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی آئی۔ان کی سفارتی بصیرت نے پاکستان کوایک نئی سمت دی اورچین کے ساتھ تعلقات کومضبوط بنیادوں پراستوارکیا۔انہوں نے واضح کیاکہ کشمیرایک متنازع خطہ ہے جس کا مستقبل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے ہوناچاہیے،نہ کہ یکطرفہ دعوؤں کے ذریعے۔

آج جب ہم موجودہ عالمی منظرنامے پرنظر ڈالتے ہیں تویہ واضح ہوتاہے کہ کشمیرکا تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔بھارت کی جانب سے5 اگست 2019کوآئینی تبدیلیاں،چین کاردعمل،اورپاکستان کانیانقشہ—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ خطہ ایک نئی صف بندی کی طرف بڑھ رہاہے۔ایسے میں سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیایہ تنازع یکطرفہ اقدامات سے حل ہوسکتاہے؟یا اس کیلئےایک جامع، منصفانہ اورباہمی طورپرقابلِ قبول حل کی ضرورت ہے؟

بطورایک کشمیری نژادپاکستانی،یہ سوال میرے لیے محض ایک علمی بحث نہیں بلکہ ایک ذاتی احساس کادرجہ رکھتاہے۔میں نے اپنی کئی ذاتی ملاقاتوں میں مرحوم اے جی نورانی جیسے دانشوروں سے جوکچھ سیکھا،وہ یہ ہے کہ تاریخ کے فیصلے جذبات سے نہیں بلکہ شواہد،اصولوں اورانصاف کے تقاضوں سے کیے جاتے ہیں۔ یہ امرقابلِ غورہے کہ چین نے1963سے 2008کے درمیان اپنے تقریباً تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کوبڑی حد تک حل کرلیامگربھارت اوربھوٹان کے ساتھ اس کے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔یہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ مسئلہ صرف سرحدوں کانہیں بلکہ سیاسی ارادوں کابھی ہے۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ تنازعات کاحل صرف تاریخی دعووں یاعسکری طاقت سے نہیں بلکہ باہمی مفاہمت،لچک اورحقیقت پسندی سے ممکن ہوتا ہے۔

آج جب ہم اس تمام تاریخی پس منظرکودیکھتے ہیں توایک سوال ہمارے سامنے ابھرتاہے:کیایہ تنازعات یکطرفہ اقدامات سےحل ہوسکتے ہیں؟یااس کیلئے باہمی مفاہمت،لچک اورحقیقت پسندی کی ضرورت ہے؟تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ پائیدارامن صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام فریقین اپنے اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹ کرمشترکہ مستقبل کی طرف بڑھیں۔شایدیہی وہ راستہ ہے جوجنوبی ایشیا کوایک نئے دورِاستحکام کی طرف لے جاسکتاہے۔

آج ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں کودہرانے کے بجائے مستقبل کی راہوں کوہموارکریں۔چین اورپاکستان نے1963میں جس بصیرت کامظاہرہ کیا،وہ آج بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔اگربھارت بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے توبعیدنہیں کہ یہ خطہ ایک نئے امن،استحکام اورترقی کے دورمیں داخل ہوجائے۔آخرمیں یہ کہنابے جانہ ہوگاکہ سرحدیں صرف زمین کوتقسیم کرتی ہیں،دلوں کو نہیں۔اگرنیتوں میں خلوص،پالیسیوں میں توازن اورقیادت میں بصیرت ہوتوہرتنازع ایک نئے آغازاورایک بہترکل کاموقع بن سکتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں