Sample Sharam

محاسبہ

:Share

یہ بات توطے ہے کہ ہم نےاپنے کریم ورحیم رب کوایساناراض کیاہے کہ اس اشرف المخلوق کوسبق سکھانے کیلئے اس کی فوج کے ایک ان دیکھے ادنیٰ سپاہی کرونا نے کس طرح متکبرطاقتوں کی ناک کوبھی خاک میں ملادیااورغریب ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ کوروناوباکی آمد سے قبل تربیت کیلئےماہِ رمضان المبارک کے شب وروزکے پروگرام اس طرح مرتب کئے جاتے تھے کہ اپنے رب کو کیسے راضی کیاجائے اور اوراس ماہ کی تربیت کوباقی پوراسال اپنی زندگی کا اوڑھنابچھونا بنایاجا سکے۔افطاری اورشب بیداری کے پروگرام تربیت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے لیکن کروناوباکے خوف نے ہمیں ان فیوض وبرکات سے محروم کردیاہے۔

مجھے دوبرس قبل کی ایک ایسی افطاری کی یادنے تڑپاکررکھ دیاہے جہاں ایک ایسی ہی تقریب میں شاہ صاحب سے ملا قات ہوئی،میزبان نے تعارف کروانے کی کو شش کی مگرمیں نے آگے بڑھ کران کا ہاتھ تھام لیا،شاہ صاحب نے بڑی گرمجوشی سے مجھے گلے لگالیا۔”آپ توایک دوسرے کوپہلے سے جانتے ہیں۔”میں نے جواباًعرض کیاکہ ”میں شاہ صاحب کونہ صرف جانتاہوں بلکہ دل سے ان کی قدربھی کرتا ہوں۔ان کاتعلق ان چند سیاستدانوں سے ہے جوکبھی اصول پرسمجھوتہ نہیں کرتے،جنہوں نے ہمیشہ ایمانداری،خلوص اورنیک نیتی کوزادِ راہ جانا،جنہوں نے ہردورمیں سیاست کوکچھ نہ کچھ دیا،اس سے وصولی کی کوشش نہیں کی ۔ ”ہم دونوں ایک کونے میں بیٹھ گئے۔شاہ صاحب اپناسیاسی اتارچڑھاؤبتانے لگے ،انہوں نے سیاست کیسے شروع کی،الیکشن کیسے لڑا،کیسے وزیربنے،رشوت اور لوٹ کھسوٹ سے بچنے کیلئے انہیں کون کون سے پاپڑبیلنے پڑے۔ انہیں الیکشن میں کیسے ہروایا گیااورآخرمیں انہوں نے پارٹی کیسے چھوڑی، وغیرہ وغیرہ۔

میں نے ایک بارپھران کی ایمانداری کی تعریف کی،انہوں نے تڑپ کرمیری طرف دیکھااورٹھنڈے ٹھارلہجے میں بولے”میں اپنی اس ایمانداری،اس اصول پسندی اوراخلاص پرشرمندہ ہوں۔تجربے اوروقت نے ثابت کیااس ملک میں جن لوگوں نے کچھ کمالیاوہی صحیح رہے،جنہوں نے موقع کھودیا وہ پچھتاتے رہے، دیکھ لیں ایمانداری کاصلہ،آج میرے ہاتھ میں سیاست ہے نہ ہی مال”۔شاہ صاحب نے بیسیویں مثالیں دیں،لوگ کیسے خالی ہاتھ سیاست میں آئے،وقت اور موقع سے فائدہ اٹھایا،فرش سے عرش تک جاپہنچے اورآج عیش کر رہے ہیں۔احتساب کے درجنوں محکمے بنے،ان کے خلاف کیس اورریفرنس بھی دائرہوئے لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑا،ان میں سے کچھ نے دے دلا کرجان چھڑالی اورکچھ مک مکا کرکے ایک دفعہ پھرایماندارسیاستدان کاتمغہ حاصل کرچکے۔چندایک حضرات قانون کے مورچے میں پناہ گزیں ہوئے لیکن بالآخرانہوں نے بھی وفاداریاں تبدیل کرکے جان اورمال بچالئے اورپیچھے رہ گئے ہم جیسے بے وقوف! جن کادامن خالی تھااورخالی ہے،وہ گھاٹ کے رہے اورنہ ہی انہیں گھرنصیب ہوا۔

میرصاحب ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ تھے۔35سال اقتداراوراختیار کے کوریڈورمیں رہے،کس کس قیمتی پوسٹ اورکیسے کیسے سنہرے عہدے پر رہے لیکن کیامجال کہ ایمان اورایمانداری کوہا تھ سے جانے دیاہولہنداجب ریٹائرہوئے توسرچھپانے کیلئے چھت تک نہیں تھی، جوپس اندازتھاوہ کواپریٹو بینک لے اڑا، اورزندگی انہوں نے پنشن اوردکھ میں گزاردی۔ہر صبح بیوی کے طعنوں اوراولادکے شکوؤں سے آنکھ کھلتی اوررات کوحالات کے بوجھ اورضروریات کی گرانی تلے بندہوتی،میرصاحب نے بھی آخری زندگی پچھتاوے میں گزاری،وہ بھی کہا کرتے تھے”نیکی بندے کووہاں کرنی چاہئے جہاں نیکی کی کوئی وقعت ہو،جس معاشرے میں ایمانداری کادوسرانام بے وقوفی ہووہاں ایمانداری سے پرہیزلازم ہے،افسو س مجھے دورانِ ملازمت اس بات کااحساس تک نہ ہوا”۔

یہ شاہ صاحب ہوں یامیرصاحب،ہمارے معاشرے میں ایسے کرداربکھرے پڑے ہیں،ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی شاہ صاحب، کوئی نہ کوئی میرصاحب ضرورہوں گے،یہ لوگ پہلے اکثریت میں ہوتے تھے لیکن اب اقلیت کی شکل اختیارکرتے جارہے ہیں۔ہرآنے والادن ایسے لوگوں کی نعشوں پرطلوع ہورہاہے ،وہ لوگ جوکبھی ضمیرکوعدالت سمجھتے تھے،جنہیں محسوس ہوتاتھاسب آنکھیں بندہو جائیں توبھی ایک آنکھ انہیں مسلسل دیکھتی رہتی ہے،جویہ سوچتے تھے دنیا عارضی کھیل ہے اوراس کھیل میں سب کچھ ہاردینابے وقوفی ہے اورجویہ کہتے تھے اطمینان سے بڑی کوئی دولت اورسچائی سے بڑی کوئی طاقت نہیں،وہ لوگ اس معاشرے سے سمٹتے جا رہے ہیں،یہ معاشرہ،یہ ملک ان لوگوں سے خالی ہوتاجارہاہے،اس ملک میں ایمانداری کی زمین بڑی تیزی سے سیم اور تھور کا شکار ہوتی جارہی ہے۔

ہمارے ملک میں کرپشن کے نئے اسکینڈلزنے ایمانداری،سچائی اورخلوص کاجنازہ نکال کررکھ دیااوراب یہ اوصاف ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ ایسی کھلے عام لوٹ مچی ہے کہ الامان الحفیظ!الزمات اورانکشافات کی ایسی غلیظ تھیلی بیچ چوراہے میں رکھ دی گئی کہ قوم سکتے میں آگئی ہے۔ان الزامات اورانکشافات میں بھی کئی آدھے سچ اورجھوٹ شامل کرکے قوم کی توجہ ان خطرات سے ہٹادی گئی ہے جس کی آگہی سے عوام کواپنے وطن کے بارے میں اپنے دوستوں اوردشمنوں کی تمیز ہو رہی تھی۔ایک ہی وار میں اپنے تمام مخالفین کوبدنام کرنے کی بڑے زوروشورسے مہم شروع ہے۔حیرت اس بات پرہے کہ سابقہ کرپشن کےشوروغل میں اپنے آٹا،چینی اورادویات مافیازکے سنگین الزامات اورانکشافات کوبڑی مہارت کے ساتھ دبالیاگیاہے۔

ہمارے ملک میں پہلے ہی ایمانداری،وفاداری اورخلوص ختم ہوتاجارہاہے۔یہ لوگ جوپچھتاوے کی سڑک پرقدم رکھ رہے ہیں ان کیلئے بھی کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے ۔ہم اگرانہیں کچھ دے نہیں سکتے توکم ازکم ان کاحوصلہ توضروربڑھاسکتے ہیں،ان کوعزت تودے سکتے ہیں،ان کی نیکی اور ایمانداری کااعتراف توکرسکتے ہیں، لوگ بجھتے چراغوں کی پھڑپھڑاتی لوبچانے کیلئے اپنے ہاتھ جلابیٹھتے ہیں،ہم کیسے لوگ ہیں ہمارے سامنے زندگی کے بھانبھڑ میں برف کاشت کی جارہی ہے لیکن ہم خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔یاد رکھئے! اگرہم نے بھی ایمان اورنیکی کے ان چراغوں کی حفاظت نہ کی توہماری اولادنیکی اورایمان کے الفاظ تک سے واقف نہیں ہوگی۔یہ معاشرہ یہ ملک”کامیاب”لوگوں کاملک،موقع سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں کامعاشرہ ہوگا۔ہمیں فی الفور ان لکڑہاروں کامحاسبہ کرناہوگا جوہمارے ملک کے تمام درختوں کوکاٹنے کیلئے کندھے پر کلہاڑیاں لئے تیارکھڑے ہیں۔

یقین کیجئے!جب کلہاڑا(امریکا)جنگل میں درخت(مسلمانوں)کاٹنے آیا،تودرخت بولے: کلہاڑی کادستہ(مسلمان لیڈر)ہم میں سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × three =