اکیسویں صدی کے افق پرجب تاریخ اپنی نئی کروٹ بدل رہی ہے،توطاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی سرگوشیاں بھی اب محض رسمی نہیں رہیں—وہ تقدیروں کے فیصلے سنانے لگی ہیں۔واشنگٹن کی راہداریوں سے لے کرتل ابیب کے جنگی کمرۂ مشاورت تک، اور تہران کے بنددروازوں کے پیچھے ہونے والی حکمتِ عملیوں تک—ہرسمت ایک بے نام سااضطراب تیرتامحسوس ہوتاہے۔یہ وہ زمانہ ہے جہاں اتحادیقین نہیں بلکہ امکان بن چکاہے،اوراختلاف حادثہ نہیں بلکہ ناگزیرحقیقت۔جب دوطاقتوررہنما،جن کے ہاتھوں میں خطوں کی تقدیریں اور قوموں کی امیدیں بندھی ہوں،ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں توان کے جملے صرف آوازنہیں ہوتے—وہ تاریخ کے اوراق پرکندہ ہونے والی تحریریں بن جاتے ہیں۔
ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان ہونے والاوہ تلخ مکالمہ—جسے دنیانے محض ایک فون کال سمجھا—درحقیقت ایک ایسے طوفان کاپیش خیمہ تھاجس کی گونج ابھی پوری شدت سے سنائی دیناباقی ہے۔یہ مکالمہ نہیں تھا،بلکہ طاقت کے توازن میں ایک لرزش تھی؛یہ اختلاف نہیں تھا،بلکہ عالمی نظام کے اندرچھپی ہوئی دراڑوں کاانکشاف تھا۔مشرقِ وسطیٰ،جوصدیوں سے سلطنتوں کے عروج وزوال کاگواہ رہاہے،ایک بارپھرتاریخ کے اسی موڑپرکھڑاہے جہاں ایک فیصلہ نسلوں کی تقدیربدل سکتاہے ۔لبنان کی گلیوں میں گونجتی بارودکی بو،ایران کی نظریاتی استقامت،اوراسرائیل کی عسکری بے چینی—یہ سب مل کرایک ایسی داستان رقم کررہے ہیں جس میں ہرلمحہ ایک نیاسوال جنم لیتاہے۔یہ مضمون اسی داستان کی پرتیں کھولنے کی ایک کوشش ہے—نہ صرف واقعات کی ترتیب میں،بلکہ ان کے پس منظرمیں چھپے ہوئے ان محرکات کوسمجھنے کیلئے،جوبظاہرنظرنہیں آتے مگراصل کھیل وہی طے کرتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست اس مقام پرکھڑی ہے جہاں قیادتیں محض فیصلے نہیں کررہیں بلکہ ردِعمل کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی سیاست کے موجودہ دورمیں طاقت کےمراکزمحض ہم آہنگ اتحادنہیں بلکہ مسلسل آزمائشوں کے میدان بن چکے ہیں۔عالمی سیاست کے افق پرجب طاقتور ریاستوں کے سربراہان باہم ہمکلام ہوتے ہیں تو گفتگومحض الفاظ کاتبادلہ نہیں رہتی بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک نیاموڑبن جاتی ہے۔حالیہ منظرنامے میں ٹرمپ اورنیتن یاہو کے درمیان مبینہ“تلخ فون کال”اسی نوعیت کی ایک علامت بن کرابھری ہے۔ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان حالیہ رابطوں کواگرمحض ایک سفارتی واقعہ سمجھاجائے تویہ تجزیے کی سطحی قرأت ہوگی۔
ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان حالیہ رابطوں کواسی وسیع ترتناظرمیں دیکھاجائے تویہ ایک ایسے نظام کی علامت بنتے ہیں جواندرسے بظاہرمضبوط مگراندرونی تضادات سے بوجھل ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ سردجنگ کے بعد قائم ہونے والاعالمی نظم اب ایک“پولی سینٹرک اسٹریٹجک سسٹم”میں تبدیل ہوچکاہے، جہاں ہرطاقت دوسرے کی حدودکوآزماتی ہے۔
یہ کشمکش کسی ایک واقعے کی پیداوارنہیں بلکہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی پالیسیوں،علاقائی جنگوں اورباہمی توقعات کی پیچیدہ تہہ داری کانتیجہ ہے۔یہ محض ذاتی ناراضی کامعاملہ نہیں بلکہ اس کے پردے میں مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست،لبنان کی جنگی فضا،اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی کشمکش کی پوری ایک داستان مضمرہے۔گویاایک فون کال نہیں ہوئی،بلکہ طاقت کے توازن کی ایک باریک لکیر لرزگئی ہے۔
تاریخی طورپرلبنان ہمیشہ سے اسرائیل،شام اورایران کے درمیان ایک بفراسٹیٹ کی حیثیت رکھتاآیاہے،مگرموجودہ دورمیں یہ بفرنہیں بلکہ تصادم کاایندھن بن چکاہے،جہاں ہر عسکری اقدام سفارتی زلزلہ پیداکرتاہے۔لبنان کی سیاسی حیثیت محض ایک چھوٹے ملک کی نہیں رہی بلکہ یہ خطے کی اسٹریٹجک حرکیات کامرکزبن چکاہے۔ایران کی پالیسی محض ردعمل نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوںپراستوارہے،جس میں مزاحمتی محورایک مرکزی ستون کی حیثیت رکھتاہے۔ کے 1979ء کےبعدسے ایرانی خارجہ پالیسی میں ایک تسلسل نظرآتاہے جس میں خطے میں امریکی اثرورسوخ کومحدودکرنابنیادی ہدف رہاہے۔یوں مشرقِ وسطیٰ میں لبنان کی سرزمین ایک بارپھراس صورتحال کامرکزبن گئی ہے جہاں عسکری کارروائیاں صرف میدان جنگ تک محدودنہیں رہتیں بلکہ سفارتی میزوں کوبھی ہلادیتی ہیں۔لبنان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے نہ صرف علاقائی قوتوں بلکہ عالمی طاقتوں کیلئے بھی پالیسی سازی کومزیدپیچیدہ بنادیاہے، خاص طورپراس وقت جب اسرائیل کی عسکری حکمت عملی تیزترہورہی ہے۔
ایران نے حالیہ کشیدگی کے بعداپنی سفارتی حکمت عملی میں سخت لہجہ اختیارکیاہے۔لبنان پراسرائیلی کارروائیوں کےبعدایران کی جانب سے امریکاکے ساتھ مذاکرات کی معطلی کاعندیہ محض کوئی جذباتی فیصلہ نہیں،بلکہ یہ ردعمل ایک سنگین سفارتی اشارہ اور اسٹریٹجک پیغام ہے کہ خطے کے تنازعات کوجزوی نہیں بلکہ جامع طورپردیکھاجائے گا۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں امریکاکی ثالثی کوششیں ایک غیریقینی کیفیت سے دوچارہوجاتی ہیں۔یہ وہ لمحہ تھاجہاں امن کی امیدیں دھندلاگئیں اورجنگ کے خدشات نے سایہ پھیلادیا۔تہران کامؤقف ہمیشہ سے یہی رہاہے کہ لبنان کے مسئلے کوایران سے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔اس تناظرمیں امریکی کوششیں،جوکسی ممکنہ جنگی تصادم کوروکنے کیلئے تھیں، ایک نازک دوراہے پرآکھڑی ہوئیں۔
نیو یارک پوسٹ کے انٹرویومیں ٹرمپ نے جس اندازمیں فون گفتگوکی تصدیق کی،وہ جدیدامریکی سفارتکاری کےغیرروایتی لب ولہجے کی جھلک پیش کرتاہے ۔ انہوں نے اگرچہ غصے کی کیفیت سے انکارکیا،لیکن“تشویش”کااعتراف کیا۔یہ جملہ کہ“کیاآپ پاگل ہو؟”محض ایک جذباتی فقرہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی دباؤکی علامت ہے جس میں امریکااپنے روایتی اتحادی کے رویے سے غیرمطمئن دکھائی دیتاہے مگرساتھ ہی یہ حقیقت بھی برقراررہی کہ دونوں رہنما ایک دوسرے کو“اچھادوست” قراردیتے رہے۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کواگرداخلی امریکی سیاست کےتناظرمیں دیکھاجائے توواضح ہوتاہے کہ واشنگٹن کی پالیسی ہمیشہ بیرونی نہیں بلکہ اندرونی سیاست سے بھی تشکیل پاتی ہے۔امریکامیں خارجہ پالیسی اب“ڈومیسٹک پولیٹیکل پریشرسسٹم” کاحصہ بن چکی ہے،جہاں ہرعالمی فیصلہ انتخابی بیانیے سے جڑاہوتاہے۔بین الاقوامی سیاست میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جوبیک وقت قربت اورکشیدگی دونوں کوسموئے ہوتے ہیں۔ٹرمپ اورنیتن یاہوکا تعلق بھی اسی نوعیت کاہے۔ایک طرف ذاتی قربت،سیاسی تعاون اورتاریخی شراکت؛دوسری طرف عملی میدان میں اختلافات اورپالیسیوں کی ٹکراؤ۔یہ تعلق گویاایک ایسی تلوارہے جس کے دونوں کنارے تیزہیں۔
ٹرمپ کے سیاسی بیانات میں حالیہ سختی دراصل امریکی خارجہ پالیسی کے اندرونی دباؤکی عکاسی کرتی ہے۔ان کے لہجے میں ایک ایسی بے چینی جھلکتی ہے جو اتحادیوں کے غیرمتوقع فیصلوں سے پیداہوتی ہے۔یہ کیفیت اس حقیقت کونمایاں کرتی ہے کہ عالمی قیادت صرف فیصلوں کانام نہیں بلکہ ردعمل کی مسلسل مشق بھی ہے۔
یہ پہلاموقع نہیں کہ نیتن یاہونے کسی امریکی صدرکوآزمائش میں ڈالاہو۔امریکی صدورکے ساتھ ان کے تعلقات کی تاریخ دراصل مسلسل کشمکش کی تاریخ ہے،جہاں ہردورمیں نئے سوالات نے سراٹھایا۔نیتن یاہوکی قیادت میں اسرائیل نے ہمیشہ خطے میں“فعال دفاع”کی پالیسی کوترجیح دی ہے۔یہی مزاج امریکا کیلئے کبھی تعاون اورکبھی تناؤکاسبب بنتارہاہے۔اسرائیلی پالیسی اکثرفوری سیکیورٹی ضرورتوں پرمبنی ہوتی ہے،جوامریکی اسٹریٹجک صبرکے ساتھ ہمیشہ ہم آہنگ نہیں رہتی۔نیتن یاہوکی قیادت دراصل اسرائیلی اسٹریٹجک فکرکے اس تسلسل کاحصہ ہےجو1948کے بعدسے سیکیورٹی کوریاستی وجودکابنیادی ستون سمجھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی عسکری پالیسی اکثر“پری ایمپٹواسٹرائیک ڈاکٹرین”کے گردگھومتی ہے،جوامریکاکی محتاط سفارت کاری سے ہمیشہ ہم آہنگ نہیں ہوتی۔
نیتن یاہوکی سیاسی گفتگومیں اختلاف کوغیرمعمولی نہیں بلکہ“روٹین”کے طورپرپیش کیاجاتاہے۔اس کی سیاسی زبان میں ایک خاص حکمت عملی یہ بھی ہے کہ اختلاف کوبحران کے بجائے “معمول کاحصہ”بنادیاجائے۔نیتن یاہوکایہ بیان کہ“یہ خاندانی اختلاف کی طرح ہے”دراصل مشرقی سیاست کےاس اسلوب کی یاددلاتاہے جہاں تلخی کوبھی نرم لفظوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔یہ اندازدراصل بحران کو معمول کے فریم میں رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ عالمی رائے عامہ میں شدت کاتاثرکم ہو۔یہ تکنیک جدیدسفارت کاری میں“کریسس ڈی-اسکیلیشن بائی نارملائزیشن”کہلاتی ہے،جس کامقصدعالمی رائے عامہ کوغیریقینی کیفیت سےدوررکھناہوتاہے۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ اختلافات کی نوعیت محض لفظی نہیں بلکہ عملی نتائج رکھتی ہے مگر سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اختلافات محض گھریلونوعیت کے نہیں بلکہ اس کے پیچھے خاص طورپرلبنان اورایران کے حوالے سے اسٹریٹجک تضادات ہیں ۔
بین الاقوامی سفارت کاری کےماہرین کےمطابق اسرائیل کی خودمختارعسکری حکمت عملی اکثرامریکی توقعات سےآگےنکل جاتی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کارکے مطابق نیتن یاہوکی پالیسیوں میں ایک مستقل مزاجی اورسخت گیری پائی جاتی ہے۔وہ امریکی ہدایات کوہمیشہ مکمل طور پرقبول نہیں کرتے۔اسرائیلی پالیسی سازی میں ایک مستقل خودمختاری کارجحان پایاجاتا ہے جوواشنگٹن کی توقعات سےمکمل طورپرہم آہنگ نہیں ہوتا۔یہی عدم ہم آہنگی امریکی پالیسی سازوں میں مایوسی اوربے یقینی کوجنم دیتی ہے۔
یہی صورتحال سابقہ ادوارمیں بھی دیکھنے کوملی جب واشنگٹن کی جانب سے دی گئی حدودعملی میدان میں کمزورپڑگئیں،اوراتحادی تعلق“کنٹرولڈالائنس”کی بجائے“ڈیفرنشل الائنس”میں بدل گیا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ٹرمپ کوبھی یہ احساس ہواکہ اتحادی ہوناہمیشہ ہم آہنگی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ایران اور لبنان کے درمیان تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اورعسکری ہم آہنگی پرمبنی ہے۔ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی گروہ اورلبنان میں سرگرم عسکری ڈھانچے اسرائیل کیلئے مستقل سیکیورٹی چیلنج ہیں اوراسٹریٹجک تضادکے تناظرمیں امریکااوراسرائیل کے مقاصد ایک دوسرے سے مکمل ہم آہنگ نہیں۔اسرائیل حزب اللہ کوبراہ راست ہدف بناناچاہتاہے،جبکہ امریکاایران کے ساتھ سفارت کاری کادروازہ بندنہیں کرناچاہتا۔
یہ محوراسرائیل کیلئے اسٹریٹجک گھیراؤکاسبب بنتاہے،جبکہ امریکاکیلئے یہ ایک ایسی پیچیدگی ہے جو“ڈیٹرنس”اور“ڈپلومیسی”کے درمیان مسلسل توازن کاتقاضا کرتی ہے۔یہی پیچیدگی امریکاکو ایک ایسے توازن پرمجبورکرتی ہے جہاں سفارت کاری اورعسکری حمایت ایک ساتھ چلتے ہیں مگر ایک دوسرے سے مکمل طورپر ہم آہنگ نہیں ہوتے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اتحاد اختلاف میں بدل جاتاہے۔
امریکامیں اسرائیل سے متعلق رائے عامہ میں تبدیلی ایک خاموش مگرگہرارجحان اورواضح تبدیلی دیکھی جارہی ہے اورامریکامیں اسرائیل کے بارے میں رائے عامہ کابدلاؤمحض وقتی نہیں بلکہ“جنریشنل شفٹ”کی علامت ہے۔نوجوان امریکی طبقہ اب خارجہ پالیسی کواخلاقی اورانسانی حقوق کےتناظرمیں زیادہ دیکھ رہاہے،جس سے روایتی اسٹریٹجک اتحادپرسوالات پیداہورہے ہیں ۔یہ تبدیلی صرف خارجہ پالیسی پرنہیں بلکہ امریکی شناخت اورعالمی کردارکے بارے میں بھی نئے سوالات پیداکررہی ہے۔
یہ رجحان بتاتاہے کہ جدید دورمیں خارجہ پالیسی اب صرف حکومتوں کی نہیں بلکہ عوامی شعورکی بھی مرہون منت ہوچکی ہے۔سروے کے مطابق منفی رائے میں اضافہ اس بات کااشارہ ہے کہ امریکی سماج میں یہ تبدیلی محض سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اورفکری سطح پر بھی ایک نئی بحث کوجنم دے رہی ہے۔امریکی سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث شدت اختیارکرچکی ہے کہ آیامشرقِ وسطیٰ کی پالیسی ریاستی مفادکے مطابق ہے یالابنگ نیٹ ورکس کے زیراثر۔یہاں طاقت کے مراکز صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی سطح پربھی تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔بعض حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی سازی میں کس حد تک بیرونی اثرات شامل ہیں۔یہ بحث دراصل امریکی جمہوری ڈھانچےکے اندر “پاوراینڈ انفلوئنس میٹرکس”کوچیلنج کررہی ہےاوریہ بحث محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی سیاست میں بھی اثراندازہورہی ہے۔
امریکامیں بعض قدامت پسند حلقے بھی یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ آیااسرائیل واقعی امریکی پالیسی کومتاثرکرتاہے یانہیں۔جوکینٹ جیسے سابق اہلکاروں کے بیانات اس بحث کومزیدہوا دیتے ہیں۔یہاں مسئلہ صرف خارجہ پالیسی کانہیں بلکہ اندرونی سیاسی طاقتوں کےتوازن کا بھی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کیلئے یہ ضروری بن جاتاہے کہ وہ بعض مواقع پر اسرائیل سے فاصلے کاتاثردیں تاکہ داخلی سیاسی بیانیہ متوازن رہے۔شائد اسی لئے ٹرمپ کے سیاسی رویے میں یہ پہلونمایاں ہے کیونکہ خارجہ پالیسی اکثرداخلی انتخابی ضروریات کے تابع ہو جاتی ہے۔یہ عمل محض سفارتی نہیں بلکہ انتخابی سیاست کابھی حصہ ہے جہاں ہر بیان ایک حکمت عملی ہوتاہے۔یہ صورتحال امریکی سیاست میں نئی نہیں،مگرموجودہ دورمیں اس کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اصولوں سے زیادہ “بیانیے” کی اسیر ہوجاتی ہے۔
نیتن یاہواورامریکی صدورکے درمیان کشمکش کی تاریخ نئی نہیں۔نیتن یاہواورمختلف امریکی قیادتوں کے درمیان تعلقات ہمیشہ ایک سیدھی لکیر پ نہیں رہے۔بل کلنٹن سے لے کر بارک اوباما تک،ہردورمیں تعلقات میں تناؤکے عناصرموجودرہے اورسابقہ امریکی صدور کے ادوارمیں بھی پالیسی اختلافات نمایاں رہے۔ نیتن یاہواورامریکی قیادت کے درمیان اختلافات کی تاریخ میں بل کلنٹن کے دورمیں اوسلو معاہدے کے بعدپیداہونے والی کشیدگی ایک اہم مثال ہے۔اسی طرح بارک اوباماکے دورمیں ایران جوہری معاہدہ ایک ایسا نقطہ تھاجس نے دونوں ممالک کے درمیان پالیسی فاصلے کوواضح کردیا۔
جوبائیڈن کے دورمیں اسلحہ جاتی تعاون اورانسانی بحرانوں کے درمیان توازن ایک مستقل چیلنج رہا۔ان کے دورمیں بھی اسلحہ فراہمی اورجنگی پالیسیوں پر اختلافات سامنے آئے۔یہ وہ مرحلہ تھاجہاں امریکی پالیسی“دوہری ذمہ داری” اتحادی حمایت اورانسانی دباؤکے بوجھ تلے نظرآئی—اسرائیل نے بعض مواقع پرامریکاپردباؤکاالزام لگایا،جودونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی کمزوری کوظاہرکرتا ہے۔یہ اختلافات اس بات کاثبوت ہیں کہ دونوں ریاستوں کے مفادات ہمیشہ مکمل طورپریکساں نہیں ہوتے اوراس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ادارہ جاتی پالیسی ذاتی تعلقات سے زیادہ مضبوط ہوتی جارہی ہے خصوصاًایران معاہدے اوراقوام متحدہ کی پالیسیوں پراختلافات نے اس تعلق کومزی پیچیدہ بنایا۔
ٹرمپ کی گفتگوکااندازکلاسیکی سفارتکاری سے مختلف ہے،جہاں الفاظ محض نرم یاسخت نہیں ہوتے بلکہ طاقت کے اظہارکاذریعہ ہوتے ہیں اوراستعمال ہونے والے سخت الفاظ محض ذاتی جذبات نہیں بلکہ ایک وسیع ترسیاسی اضطراب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے سخت بیانات عالمی سفارتکاری میں اس تناؤکی علامت ہیں جہاں جذبات اوراسٹریٹجی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ یہ اس بات کاکھلااظہارہے کہ جدید سفارت کاری میں“لسانی اسلوب ”خودایک اسٹریٹجک ہتھیاربن چکاہے جہاں الفاظ محض اظہارنہیں رہتے بلکہ سیاسی پیغام بن جاتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں سفارتکاری کی زبان جذبات کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے۔
نیتن یاہو اورٹرمپ کے تعلقات میں بنیادی عنصر“اسٹریٹجک انٹرسٹ کمپلیمنٹریٹی”ہے،نہ کہ جذباتی وابستگی۔یہ تعلق اس وقت تک مستحکم رہتاہے جب تک مفادات ایک دوسرے کے متوازی رہیں،ورنہ اس میں تناؤناگزیرہوجاتاہے۔نیتن یاہواورٹرمپ کے تعلقات میں بیک وقت اعتماداوراختلاف دونوں موجود ہیں ۔یہ تعلق ایک ایسے سیاسی توازن کی مثال ہے جومفادات کے گردگھومتاہے نہ کہ جذبات کے گرد ۔تمام اختلافات کے باوجودنیتن یاہونے ٹرمپ کو “اسرائیل کاعظیم ترین دوست”قراردیا۔یہ بیان محض تعریف نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں دوستیاں ہمیشہ مستقل نہیں ہوتیں،مگرمفادات اکثرمستقل رہتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ کشیدگی ایک مستقل تبدیلی کی علامت ہے یا محض وقتی اضطراب؟ کیا یہ کسی بڑے بریک کا پیش خیمہ ہے یامحض وقتی جھٹکا؟نیتن یاہواورٹرمپ کے تعلقات کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ یہ رشتہ ٹوٹتاکم اوربدلتازیادہ ہے اوران دونوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عالمی سیاست میں تعلقات ختم نہیں ہوتے،وہ صرف نئی شکل اختیارکرتے ہیں—اوریہی اس پورے منظرنامے کی سب سے بڑی حقیقت ہے مگرعالمی سیاست کے بدلتے ہوئے موسم میں کوئی بھی پیش گوئی حرفِ آخرنہیں ہوتی۔ تاریخ اکثراپنے فیصلے اچانک سناتی ہے—خاموشی کےبعد،اورکبھی ایک فون کال کے بعد۔
موجودہ عالمی نظام کسی جامدترتیب کانام نہیں بلکہ مسلسل حرکت میں رہنے والاایک ایساڈھانچہ ہےجس میں اتحاداوراختلاف ایک ساتھ سفرکرتےہیں۔نیتن یاہواورٹرمپ کےتعلقات اسی متحرک نظام کی مثال ہیں،جہاں حتمی فیصلےنہیں بلکہ مسلسل تبدیلی ہی اصل حقیقت ہے۔
جب تاریخ اپنے صفحات سمیٹتی ہے تووہ کبھی سیدھی لکیرنہیں کھینچتی—بلکہ الجھی ہوئی لکیروں میں وہ سچ چھپادیتی ہے جسے سمجھنےکیلئے وقت درکارہوتاہے ۔ ٹرمپ اورنیتن یاہوکے درمیان حالیہ کشیدگی بھی شایداسی نوع کی ایک لکیرہے—نہ مکمل انقطاع،نہ مکمل اتصال؛بلکہ ایک ایساموڑجہاں راستے بظاہرجدا ہوتے ہیں مگرانجام ایک ہی افق کی طرف جاتاہے۔یہ تعلقات جوبظاہردوافرادکے درمیان نظرآتے ہیں،درحقیقت ریاستوں،نظریات اورمفادات کے درمیان جاری ایک طویل مکالمہ ہیں۔یہاں دوستی بھی مفادکی تابع ہے اوراختلاف بھی حکمت کاحصہ۔یہی وجہ ہے کہ آج جوتلخی دکھائی دیتی ہے،کل وہی کسی نئے اتحادکی بنیاد بن سکتی ہے۔مگراصل سوال اب بھی تشنہ ہے:کیایہ کشمکش کسی بڑے تغیرکاآغازہے یامحض وقتی ارتعاش؟کیایہ وہ خاموشی ہے جو طوفان سے پہلے آتی ہے،یاوہ تھکن جوجنگ کے بعدمحسوس ہوتی ہے؟
عالمی سیاست کامزاج ہمیں یہ سکھاتاہے کہ یقین یہاں ایک عارضی شے ہے،اورتغیرایک مستقل حقیقت۔طاقت کے ایوانوں میں کیے گئے فیصلے کبھی صرف حال کونہیں بدلتے—وہ مستقبل کے دروازے بھی ازخودکھول دیتے ہیں،چاہے وہ دروازے امن کی طرف جائیں یا تصادم کی طرف۔اورشایدیہی اس پوری داستان کاسب سے گہراسسپنس ہے—کہ ابھی کچھ بھی حتمی نہیں۔تاریخ ابھی لکھی جارہی ہے، اوراس کے قلم کی سیاہی میں وہ لرزش باقی ہے جوکسی بھی لمحے ایک نئے باب کاآغازکرسکتی ہے۔
کون جانتاہے،کل کی سرخی کیاہوگی؟ایک نیااتحاد…یاایک نئی جنگ؟
یہ سوال ابھی فضامیں معلق ہے—اوریہی معلق لمحہ اس پوری کہانی کاسب سے بڑارازہے۔