تاریخ کے بعض ادوارایسے ہوتے ہیں جب زمانہ خودسوال بن کراقوام کے دروازے پردستک دیتاہے۔امتوں کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب وقت کی دھڑکنیں تیزہوجاتی ہیں اورجغرافیے کی سرحدیں لرزنے لگتی ہیں۔عالمِ اسلام اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں سیاسی افق پربادل گہرے ہیں،مگرانہی بادلوں کے پسِ پردہ امکانات کی بجلی بھی چمک رہی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ فضا،عالمی طاقتوں کی صف بندیاں،اورخطے میں طاقت کے نئے توازن کی جستجو—یہ سب عوامل ایک ایسے تصورکودوبارہ زندہ کررہے ہیں جسے بعض حلقوں نے’’اسلامی نیٹو‘‘کانام دیاہے۔یہ نام محض اصطلاح نہیں،بلکہ ایک خواہش،ایک اضطراب،اورایک حکمتِ عملی کی علامت ہے۔
آج عالمِ اسلام بھی ایک ایسے ہی سوال کے روبروکھڑا ہے—گویاقرونِ ماضی کی خوابیدہ آرزونئی تعبیرکی تلاش میں بیدارہورہی ہو۔ یہ محض عسکری بندوبست کاسوال نہیں،بلکہ تہذیبی وقار، سیاسی خودمختاری اوراجتماعی سلامتی کا قضیہ ہے۔کیامسلمان ممالک بکھری ہوئی جغرافیائی اکائیوں کی صورت میں عالمی سیاست کی موجوں کاسامناکرتے رہیں گے،یاوہ ایک منظم،مربوط اور باوقار تزویراتی وحدت کی شکل اختیارکریں گے؟ایسے ہی ایک عہدِاضطراب میں’’اسلامی نیٹو‘‘کاتصورپھرسے افقِ سیاست پرنمودارہواہے۔
عالمِ اسلام کی سیاسی فضااس وقت تغیرکے ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں ہرسمت سے سوال اٹھ رہے ہیں:کیامسلمان ممالک منتشر قوتوں کامجموعہ رہیں گے یاایک مربوط تزویراتی وحدت کی صورت اختیارکریں گے؟مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی،عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں،اورعلاقائی تنازعات نے اس سوال کومحض نظری نہیں بلکہ عملی بنادیاہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی،عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں،توانائی کی سیاست،اوراسرائیل کی عسکری برتری نے مسلم دنیامیں اجتماعی دفاع کے تصورکوازسرِنوزندہ کیاہے۔امریکا اورایران کے درمیان کشیدہ تعلقات اورایران کی جوہری ومیزائل صلاحیتوں کے گردگھومتی عالمی سیاست نے اس امکان کوجنم دیاہے کہ خطہ کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتاہے۔ایسے میں یہ سوال ناگزیرہوگیاہے کہ کیامسلم ممالک ایک دفاعی وسیاسی اتحادکی شکل میں اپنی اجتماعی سلامتی کویقینی بناسکتے ہیں؟
عالمِ اسلام ایک ایسے عہدِانتقال سے گزررہاہے جہاں قوت کامفہوم بدل رہاہے۔اب صرف سپاہ اوراسلحہ فیصلہ کن نہیں،بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت،ادارہ جاتی ہم آہنگی اورسیاسی عزم بھی طاقت کے ستون ہیں۔’’اسلامی نیٹو‘‘کاتصوراگرچہ ابھی بیانیاتی سطح پرہے،مگراس کے امکانات کوعملی صورت دینے کیلئےہر اسلامی ملک کواپنی مخصوص قوت کے ساتھ کرداراداکرناہوگا۔
امریکااورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اوراسرائیل کی عسکری برتری نے مسلم دنیامیں اجتماعی دفاع کے تصورکوازسرِنو زندہ کیاہے۔اسی پس منظر میں ترکی کے صدررجب طیب اردوغان نے مسلم ممالک کواسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے مقابل اتحادکی دعوت دی،اورپاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف نے’’اسلامی نیٹو‘‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ایک نیٹوطرزکے عسکری اتحادکی تجویزپیش کی۔یہ بیانیہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ جہاں ایک ایسے فکری وعملی مباحثے کی تمہیدہے جوعالمِ اسلام کی آئندہ سمت کاتعین کرسکتاہے وہاں ’’اسلامی نیٹو‘‘کی اصطلاح نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔یہ مضمون اسی بحث کووسعت دیتے ہوئے ایک جامع خاکہ پیش کرتاہے—جس میں تاریخی تناظر،سیاسی تجزیہ،معاشی امکانات، عسکری حکمتِ عملی،تہذیبی جہات اور ممکنہ چیلنجزسب کویکجاکرکے ایک جامع اورمفصل خاکہ پیش کرتاہے۔
امریکااورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کوایک بارپھربارودکے ڈھیرپرلاکھڑاکیاہے۔اگرایران کی جوہری یا میزائل صلاحیتوں کوہدف بنانے کی کوئی مہم شروع ہوتی ہے تواس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے؛یہ پورے عالمِ اسلام کوسیاسی وعسکری ارتعاش میں مبتلاکر سکتے ہیں۔امریکااورایران کے درمیان کشیدگی،اسرائیل کی عسکری پیش رفت،اورخطے میں پراکسی جنگوں کے تسلسل نے عرب ومسلم دنیاکوایک بارپھر اجتماعی دفاع کے سوال سے دوچارکیاہے۔اگر ایران کی جوہری یامیزائل صلاحیتوں کوہدف بنانے کی کوئی مہم شروع ہوتی ہے تواس کے اثرات محض تہران تک محدود نہیں رہیں گے؛پوراخطہ اس کے ارتعاش سے لرزسکتاہے۔
امریکاکی جانب سے ایران پرممکنہ حملے کے خدشات اورخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عرب ومسلم دنیاکوایک بارپھراجتماعی دفاع کی ضرورت کااحساس دلایاہے۔اسلامی نیٹوکاتصوراسی اضطرارکی کوکھ سے جنم لیتاہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد قابلِ عمل ہے یامحض اضطرابِ حال کی پیداوار؟کیایہ اتحاد ردِعمل کی سیاست ہوگایادوراندیشی کی حکمت؟اگریہ صرف کسی ممکنہ حملے کے خوف سے تشکیل پاتاہے تواس کی بنیاد کمزورہوگی؛لیکن اگریہ اجتماعی سلامتی، دفاعی خودکفالت اوراسٹریٹجک خودمختاری کے تصورپرقائم ہوتویہ پائیدارڈھانچہ بن سکتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اتحادمحض جذبات سے نہیں،مشترک مفادات،سیاسی عزم اورادارہ جاتی استحکام سے جنم لیتاہے۔اگریہ عناصرہم آہنگ ہوجائیں تویہ خواب حقیقت کاجامہ پہن سکتاہے؛بصورتِ دیگریہ بھی اُن معاہدوں کی طرح کاغذی قلعہ ثابت ہوگاجووقت کی پہلی آندھی میں ریزہ ریزہ ہوگئے۔
کسی بھی اتحادکی پہلی اینٹ نظریاتی وضاحت قانونی فریم ورک ہوتی ہے۔تمام اسلامی ممالک کوایک مشترکہ دفاعی منشورتیار کرنا چاہیے جس میں یہ طے ہو کہ اتحادکامقصددفاع ہے،جارحیت نہیں۔اس منشورمیں یہ شق شامل ہوکہ کسی ایک رکن پرحملہ سب پر حملہ تصورہوگا—مگراقوامِ متحدہ کے چارٹر اوربین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ساتھ۔ایک مستقل مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے جوپالیسی،مشاورت اوربحران کے وقت رابطہ کاری سنبھالے۔یہی وہ پس منظرہے جس میں ترکی کے صدررجب طیب اردوغان نے مسلم ممالک کواتحادکی دعوت دی،اور پاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف نے ’’اسلامی نیٹو‘ ‘ کی اصطلاح کوزبان دی۔یہ بیانیہ وقتی ردِعمل بھی ہوسکتاہے اورایک طویل المدت حکمتِ عملی کی تمہیدبھی۔
اسلامی تاریخ میں اتحاد کا تصور نیا نہیں۔ خلافتِ راشدہ سے لے کر سلطنتِ عثمانیہ تک، مختلف ادوار میں سیاسی وحدت نے امت کو عسکری و تہذیبی قوت عطا کی۔ مگر جدید قومی ریاستوں کے قیام کے بعد عالمِ اسلام جغرافیائی اور سیاسی طور پر منقسم ہو گیا۔عرب لیگ اوردیگر علاقائی معاہدے وجود میں آئے،مگر بیشتر دفاعی معاہدے کاغذی ثابت ہوئے۔اس تاریخی تجربے نے یہ سبق دیاکہ اتحاد صرف اعلامیہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی استحکام،مشترکہ مفادات اورمستقل مزاج قیادت کاتقاضاکرتاہے۔
ستمبر2024میں رجب طیب اردوغان نے مسلم ممالک کواسرائیل کے’’توسیع پسندانہ عزائم‘‘کے مقابل اتحادکی دعوت دی۔یہ بیان محض سفارتی جملہ نہ تھابلکہ ترکی کی نئی خارجہ حکمتِ عملی کامظہرتھا—وہ حکمتِ عملی جس میں انقرہ خودکومحض پل نہیں بلکہ مرکزِتوازن کے طورپرپیش کررہاہے۔بعدازاں ستمبر2025میں خواجہ آصف نے’’اسلامی نیٹو‘‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ایک نیٹوطرزکے عسکری بندوبست کی تجویز پیش کی۔خواجہ آصف کی جانب سے’’اسلامی نیٹو‘‘کی اصطلاح کااستعمال ایک علامتی پیش رفت تھی۔پاکستان،جوایٹمی قوت اور عسکری تجربے کاحامل ہے،اس اتحادمیں وزن ڈال سکتاہے۔اسی تسلسل میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ اورترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان حالیہ سفارتی روابط نے اس بیانیے کو مزیدمہمیزاورعملی جہت دی ہے۔ ترکی کی فعال خارجہ پالیسی،مصرکی علاقائی اہمیت،اورسعودی عرب کی مالی وسیاسی قوت اگریکجاہوجائیں توایک ایسامحورتشکیل پاسکتاہے جو مشرقِ وسطیٰ کے توازن کومتاثرکرسکتاہے۔یادرہے کہ گزشتہ دوبرسوں میں ترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان سفارتی روابط میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ترکی نے اپنی خارجہ پالیسی کوفعال اورخودمختاربنانے کی کوشش کی ہے۔مصربحیرۂ روم اورافریقہ کے سنگم پرواقع ایک کلیدی ملک ہے،جبکہ سعودی عرب خطے میں سیاسی ومالی اثرورسوخ رکھتاہے۔
اسلامی نیٹوکی تجویزکی سیاسی معنویت،قیادت کابیانیہ اورپاکستان بطورایٹمی قوت کے ذمہ دارانہ کردارایک انتہائی اہم ذمہ داری کا بوجھ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔پاکستان کواپنی ایٹمی صلاحیت کوڈیٹرنس(بازدارقوت) کے طورپرپیش کرناچاہیے،نہ کہ سیاسی دباؤکے آلے کے طورپر۔میزائل ٹیکنالوجی،دفاعی تربیت،اورانسدادِدہشت گردی کے تجربے کو رکن ممالک کے ساتھ شیئرکیاجاسکتاہے۔ایک مشترکہ جوہری سلامتی وتحقیقی فورم قائم کیاجائے تاکہ ٹیکنالوجی کے پرامن اوردفاعی استعمال میں رہنمائی ہو۔یہ کردار پاکستان کوقیادت نہیں بلکہ ذمہ داری کاامین بنائے گا۔
لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ رأي اليوم نے یہ دعویٰ کیاکہ صدراردوغان کے ریاض اورقاہرہ کے دورے ایک ایسے منصوبے کاحصہ ہیں جس کا مقصد سیاسی وعسکری اسلامی اتحادکی بنیادرکھناہے۔اسی طرح القدس العربی نے اسے ایک ممکنہ’’دفاعی چھتری ‘‘قراردیاجبکہ ترک ویب سائٹ ترک پریس نے مصر،سعودی عرب اورترکی کی بڑھتی ہوئی قربت کو ایک نئے علاقائی اتحادکاپیش خیمہ کہاجبکہ عربیک ڈیفنس اورمصری اخبار یوم7نے اس پیش رفت کوسیاسی حقیقت پسندی کی علامت قراردیتے ہوئے احتیاط اور تدریج کی ضرورت پرزور دیا ہے—یعنی اختلافات کومنجمدکرکے مشترکہ مفادات کی طرف پیش قدمی—گویا حقیقت پسندی جذباتیت پر سبقت لے رہی ہے۔مگربیانیہ اورحقیقت کے درمیان ابھی فاصلہ باقی ہے۔تاہم عرب ذرائع ابلاغ میں زیرِ گردش قیاس آرائیاں ابھی ٹھوس شواہدسے محروم ہیں—گویاافواہوں کی فصیلیں بلندہیں مگربنیادیں ابھی ڈالی نہیں گئیں۔
بعض عرب رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے ترکی اورپاکستان کوشامل کرتے ہوئے کسی باقاعدہ’’اسلامی نیٹو‘‘منصوبے کی تردیدکی ہے۔ممکنہ شرکاء کے طورپرترکی،مصر،پاکستان اور انڈونیشیاکے نام لیے جارہے ہیں۔یہ ممالک جغرافیائی اعتبارسے تین براعظموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔اگریہ سب ایک دفاعی فریم ورک میں منسلک ہوں تویہ اتحادبحیرۂ روم سے بحرالکاہل تک ایک اسٹریٹجک پٹی تشکیل دے سکتاہے۔
پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے۔اس کی میزائل ٹیکنالوجی اورعسکری تجربہ اتحاد کواسٹریٹجک گہرائی فراہم کرسکتاہے۔ مگراس کردارکوذمہ داری اورتوازن کے ساتھ نبھاناہوگا،تاکہ ایٹمی قوت محض بازداررہے،انسدادِ دہشتگردی،میزائل ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ فوجی تربیت میں پاکستان کاتجربہ قیمتی اثاثہ ہے۔ایک مشترکہ نیوکلیئرسیفٹی فورم کے قیام سے سلامتی کے معیارات کوہم آہنگ کیاجاسکتاہے۔اشتعال انگیزنہ بنے لیکن دشمن پراپنی ہیبت طاری کرنے کیلئے ہرقسم کے جدیداسلحہ ومیزائل کے تجربات جاری رہیں۔
ترکی نے ڈرون ٹیکنالوجی،بکتربند گاڑیوں اوربحری دفاعی نظام میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ترکی کودفاعی پیداوارکے میدان میں مشترکہ صنعتی زونز قائم کرنے کی پیشکش کرنی چاہیے۔ٹیکنالوجی کی منتقلی اورمشترکہ تحقیق وترقی”آراینڈڈی”کے منصوبے شروع کیے جائیں۔دفاعی نمائشوں اورمشترکہ مشقوں کےذریعےعملی ہم آہنگی کوفروغ دیاجائے۔ترکی کاتجربہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیاسی عزم اور صنعتی پالیسی مل کر خود کفالت کی راہ ہموارکرتے ہیں۔ سرکاری حمایت یافتہ تحقیقی ادارہ سیٹااس فعال حکمتِ عملی کوترکی کے نئے عالمی کردارسے تعبیرکرتاہے—ایک ایسا کردارجوپل سے بڑھ کرمحور بننے کی خواہش رکھتاہے۔
قطر،متحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ریاستیں توانائی کی دولت رکھتی ہیں۔ایک’’اسلامی دفاعی سرمایہ کاری فنڈ‘‘قائم کیاجائے۔ دفاعی صنعتوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ درآمدی انحصارکم ہو۔مصرافریقہ اورعرب دنیاکے سنگم پرواقع ہے۔ مصراپنی بحری اورزمینی فوجی مہارت کومشترکہ مشقوں کے ذریعے بروئے کارلاسکتاہے۔نہرِسویزکی اسٹریٹجک اہمیت کے پیشِ نظربحری سلامتی میں مرکزی کرداراداکیاجاسکتاہے۔مصرنہرِسویز کے ذریعےعالمی تجارت میں کلیدی حیثیت بھی رکھتاہے۔بحری سلامتی میں قائدانہ کرداراداکیاجاسکتاہے۔افریقی ممالک کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی کوفروغ دیاجا سکتاہے۔
انڈونیشیااورملائشیادفاعی ٹیکنالوجی اوربحری صنعت میں تجربہ رکھتے ہیں۔یہ دونوں ممالک بحری سلامتی اورصنعتی مہارت کے حوالے سے اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔ان کی شمولیت جنوب مشرقی ایشیااتحادکوجغرافیائی وسعت اورعملی توازن دے گی۔جنوب مشرقی ایشیامیں بحری سلامتی کیلئےمشترکہ بیڑہ تشکیل دیاجا سکتاہے۔سائبرسکیورٹی اورالیکٹرانک وارفیئرکے میدان میں تعاون کووسعت دی جائے مگرداخلی سیاسی ترجیحات،معاشی مسائل اورعلاقائی رقابتیں اس خواب کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض سفارتی قربت ہے یاحقیقی عسکری ہم پیمانی کی تمہید؟
روزنامہ رای الیوم کے دعوے کے مطابق ابتداتین ممالک سے ہوسکتی ہے۔یہ حکمت عملی یورپی تجربے سے مماثل ہے جہاں محدود شراکت نے رفتہ رفتہ وسعت اختیارکی۔اگرترکی، مصراورسعودی عرب ابتدائی فریم ورک تشکیل دیں تووہ دفاعی ہم آہنگی،مشترکہ مشقوں اورانٹیلی جنس تعاون کے ذریعے اعتماد سازی کی فضا قائم کرسکتےہیں—اوریہی اعتماد آئندہ وسعت کاپیش خیمہ ہو گا۔اخبارکا دعویٰ ہے کہ صدراردوغان کے ریاض وقاہرہ کے دورے ایک ایسے منصوبے کاحصہ ہیں جس کامقصدابتدائی طورپرتین ممالک پر مشتمل اتحادہے،جس میں بعد ازاں پاکستان اورانڈونیشیا شامل ہوسکتے ہیں۔اگریہ درست ہے تویہ تدریجی حکمتِ عملی کی علامت ہے—پہلے بنیاد،پھرعمارت.
سعودی عرب،قطر،متحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ممالک توانائی کی دولت سے مالامال ہیں۔ یہ ممالک ایک اسلامی دفاعی سرمایہ کاری فنڈقائم کرسکتے ہیں۔اس فنڈکے ذریعے مشترکہ اسلحہ سازی کارخانوں،ٹیکنالوجی پارکس اور عسکری اکیڈمیوں میں سرمایہ کاری ہو۔دفاعی صنعت کومحض درآمدی انحصار سے نکال کرمقامی پیداوارکی طرف منتقل کیاجائے۔سرمایہ اگرحکمت کے ساتھ جڑے تو قوتِ بازوکودوام بخشتاہے۔
مشترکہ دفاعی منشورواضح کیاجائے کہ اتحادکامقصددفاع اورعلاقائی استحکام ہے۔بحران کے وقت فوری ردعمل کیلئےمرکزی نظام، یعنی مشترکہ کمانڈاینڈ کنٹرول سینٹرقائم کیاجائےجوسالانہ مشترکہ فوجی مشقیں،فضائی،بحری اورزمینی افواج کی ہم آہنگی کی ذمہ دار ہو۔اسلامی دفاعی یونیورسٹی میں افسران اور سائنس دانوں کی مشترکہ تربیت،دفاعی صنعت میں خودانحصاری،مشترکہ اسلحہ سازی کارخانے اورٹیکنالوجی پارکس کیلئے ہنگامی بنیادوں پرکام شروع کیا جائے ۔علاوہ ازیں اقتصادی ومالیاتی تعاون کیلئے مقامی کرنسیوں میں تجارت اوردفاعی منصوبوں کیلئےخصوصی بینک قائم کئے جائیں۔یہ اقدامات تدریجی ہوں مگرمربوط—کیونکہ اتحادایک دن میں نہیں بنتا،بلکہ اعتماد کی اینٹوں سے تعمیرہوتاہے۔ان خوابوں کی تعبیرکیلئے عملی اقدامات کرناضروری ہے ۔
ترک پریس نے مصر،سعودی عرب اورترکی کے مابین بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کوایک نئے اتحادکی علامت اورعلاقائی اتحادکاپیش خیمہ قراردیا۔تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیایہ محض وقتی مفاہمت ہے یااسٹریٹجک ہم آہنگی؟مصراورترکی کے تعلقات حالیہ برسوں میں کشیدہ رہے؛اگریہ دونوں ممالک اختلافات کوپسِ پشت ڈال کرمشترکہ مفادات پرمتفق ہوتے ہیں تویہ علاقائی سیاست میں بڑی تبدیلی ہوگی۔تاہم بعض مبصرین کے نزدیک یہ اتحادسے زیادہ مفاہمت کی سیاست ہے—یعنی اختلافات کومنجمد کرکے مشترک مفادات کی طرف پیش قدمی۔
ماضی کے کئی دفاعی معاہدے عملی صورت اختیارنہ کرسکے۔عرب دنیاکی داخلی کشمکش اورباہمی بداعتمادی اس کی بڑی وجہ رہی۔ اگریہ اتحادبھی محض اعلامیہ رہاتوانجام مختلف نہ ہوگا۔دوسری جانب امریکااوراسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے خلاف سمجھ سکتے ہیں۔سفارتی دباؤ،اقتصادی پابندیاں یاسیاسی مداخلت ممکنہ رکاوٹیں ہیں۔لہٰذااتحادکوصرف عسکری نہیں،سفارتی اورمعاشی سطح پربھی مضبوط ہوناہوگا۔
سفارتی وقانونی حکمتِ عملی اتحادکوعالمی برادری کے سامنے ایک دفاعی واستحکامی اقدام کے طورپرپیش کیاجائے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹرکی پاسداری۔مشترکہ سفارتی محاذ تاکہ کسی رکن ملک کے خلاف غیرقانونی اقدام کی صورت میں متحدہ ردعمل دیاجاسکے۔ اتحادکوعالمی سطح پرجارحانہ بلاک کے طورپرنہیں بلکہ دفاعی واستحکامی اقدام کے طورپرپیش کیاجائے۔اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری اوربین الاقوامی قانون کااحترام ضروری ہوگا۔ممکن ہے کہ امریکااور اسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے خلاف سمجھیں۔اس لیے سفارتی محاذپرمضبوط اور متوازن حکمتِ عملی درکارہوگی۔
عربیک ڈیفنس کے مطابق یہ قربت سیاسی حقیقت پسندی کامظہرہے،یعنی نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ مفادات کی بنیادپرقربت قراردیا ہے۔مگرجامع سٹریٹجک اتحاد کی منزل ابھی دور ہے ۔مصری اخباریوم7کے ماہرین نے اسے وسیع تراتحادکی بنیادکہا۔گویایہ ایک تدریجی سفراورشجرِاتحادکاپہلابیج ہے—پہلے مفاہمت،پھرتعاون،اوربالآخراتحادپرمنتج ہوگا۔ماہرین کے مطابق مکمل ادارہ جاتی اتحاد فوری ممکن نہیں۔داخلی سیاسی عدم استحکام،وسائل کی غیر مساوی تقسیم،بیرونی دباؤاورپابندیاں،ان رکاوٹوں کاحل شفافیت،تدریج اور مستقل مزاج قیادت میں ہے۔مکمل ادارہ جاتی اتحاد فوری ممکن نہیں؛ ’’لچکدار ہم آہنگی‘‘زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ ہے—یعنی مشترکہ مشقیں،انٹیلی جنس تعاون،اوردفاعی صنعت میں شراکت۔یہ ماڈل رفتہ رفتہ جامع معاہدے کی شکل اختیارکرسکتاہے۔تاہم اس معاہدے کے راستے میں چیلنجزاوررکاوٹیں بھی موجودہیں۔یعنی باہمی بداعتمادی اورتاریخی اختلافات،بیرونی دباؤاوراقتصادی پابندیاں،داخلی سیاسی عدم استحکام،وسائل کی غیرمساوی تقسیم،ان رکاوٹوں کاحل شفافیت،تدریج اورمستقل مزاج قیادت میں مضمرہے۔
اسرائیل اورایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے بعد عرب میڈیامیں اتحادکی بحث نے شدت اختیارکی اوراتحادکی بحث کومہمیزدی ہے۔مصری ویب سائٹ العروبہ الیوم نے اسے جہاں ناگزیرقراردیاہے وہاں الجزیرہ مباشرپراس موضوع کوخطے کی بقاسے جوڑاگیا ہے۔الجزیرہ مباشرپرسابق سفارتکاروں نے اسے تاریخ کاممکنہ موڑکہا—ایک ایساموڑجہاں سے یاتوخوداعتمادی کاسفرشروع ہوگایا انتشارکی پرانی راہیں دوبارہ کھلیں گی۔یہ تصوراب صرف نظری نہیں بلکہ سلامتی کی حکمتِ عملی کے طورپرزیرِ بحث ہے۔
مشترکہ عسکری کمانڈاورتربیت پرزوردیتے ہوئے تجویزکیاگیاکہ ایک اسلامی مشترکہ کمانڈسینٹرقائم کیاجائے۔سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں ہوں،جن میں فضائی،بحری اورزمینی افواج شامل ہوں۔ایک متحدہ عسکری اکیڈمی یااسٹاف کالج قائم کیاجائے جہاں افسران مشترکہ تربیت حاصل کریں۔ فوری طورپرمکمل ادارہ جاتی اتحادممکن نہیں۔ابتدامشترکہ مشقوں اوردفاعی صنعت میں تعاون سے کی جائے۔رفتہ رفتہ جامع دفاعی معاہدے کی شکل دی جائے۔یہی تدریجی حکمت عملی پائیدارنتائج دے سکتی ہے۔
یہ اتحادمحض توپ وتفنگ کابندوبست نہ ہو،بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کااظہارہو۔اگراس کے پس منظرمیں انصاف،استحکام اورباہمی احترام کااصول ہوتویہ عالمِ اسلام کیلئےاحیائے نوکی تمہیدبن سکتاہے۔ورنہ یہ بھی ایک سیاسی نعرہ رہ جائے گاجووقتی جذبات کوتو گرمادے گا،مگرتاریخ کے صحیفے میں محض ایک حاشیہ بن کررہ جائے گا۔اسلامی عسکری اتحاداگرمحض توپ وتفنگ کابندوبست رہاتواس کی عمرمختصر ہوگی۔اسے تہذیبی خوداعتمادی،باہمی احترام اورعدل کے اصول پر قائم ہوناہوگا۔اتحادکامقصدکسی قوم یاریاست پرغلبہ نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی اوروقارکاتحفظ ہونا چاہیے۔
لندن کے روزنامہ القدس العربی نے اس ممکنہ اتحادکو’’دفاعی چھتری‘‘سے تعبیرکیا— اس استعارے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے: اجتماعی سلامتی کاتصور، جہاں ایک پرحملہ سب پرحملہ سمجھا جائے۔ایسی چھتری جوایک کے بعددوسرے اسلامی ملک پرحملے کے تسلسل کوروک سکے۔یہ تعبیرمحض لفظی صنعت نہیں بلکہ اجتماعی بقاکی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے۔مگرایسی شق اسی وقت موثرہوگی جب تمام اراکین سیاسی عزم اورعسکری تیاری میں ہم آہنگ ہوں۔
دفاعی صنعت میں خودانحصاری کیلئے ضروری ہے کہ اسلحہ سازی کی مشترکہ پیداوار،ڈرون اورمیزائل پروگرام،اوردفاعی سافٹ ویئرکی تیاری پرمکمل توجہ دی جائے اوربیرونی طاقتوں پرانحصارکم کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے بھی کئے جائیں۔ فوری طور پرنوجوان سائنس دانوں اورانجینئروں کیلئے وظائف اورتحقیقاتی گرانٹس جاری کرکے دفاعی خودکفالت کی طرف پوری توجہ دی جائے۔یہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہ ہوبلکہ تہذیبی خوداعتمادی اورفکری جہت کی علامت ہو۔اگراس کے پس منظرمیں انصاف،باہمی احترام اورخودمختاری کااصول ہوتویہ امت کیلئےاحیائے نوکی تمہیدبن سکتاہے۔
ترک قیادت نے یورپی یونین کی مثال دے کرغلبے کی سیاست کی نفی کی ہے۔ترک وزیرِخارجہ نے یورپی تجربے کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ نہ ترک غلبہ،نہ عرب،نہ فارسی—بلکہ ذمہ دار اشتراک۔ اس تناظرمیں یورپی یونین کاحوالہ ایک ماڈل کے طورپردیاگیا۔سوال یہ ہے کہ کیامسلم دنیابھی اپنے تاریخی اختلافات سے بلندہوکرمشترک پلیٹ فارم تشکیل دے سکتی ہے؟اگریہ اتحاد کسی ایک ملک کی بالادستی کے بجائے مساوی شراکت پرقائم ہوتو اس کی قبولیت بڑھے گی۔ان اختلافات کوختم کرنے کیلئے بنیادی اقدامات اٹھاتے ہوئے فوری دفاعی اتحادکو معاشی اتحادسے جوڑاجائے۔مشترکہ بینک یامالیاتی ادارہ قائم کیا جائے جودفاعی منصوبوں کوفنڈکرے۔مقامی کرنسیوں میں لین دین کے نظام کوفروغ دیاجائے تاکہ بیرونی دباؤکم ہو۔لیکن یہاں اس خدشہ کااظہار بھی ضروری ہے کہ اسلامی دنیاکی تاریخ اس بات کی شاہدہے کہ قیادت کاتنازع اکثراتحاد کوپارہ پارہ کردیتاہے۔
حکومتی حمایت یافتہ ترک اداروں—بالخصوص سیٹاسے وابستہ ماہرین کے مطابق انقرہ اب غیر فعال پل کے کردارسے نکل کرفعال اتحادوں کی سیاست کی طرف بڑھ رہاہے۔ترکی کامصر کو فوجی سازوسامان کی برآمداورسعودی عرب کی ممکنہ سرمایہ کاری اس عملی رخ کی علامت اوردفاعی صنعت کے میدان میں عملی پیش رفت ہے۔یہ اقدامات بیانیے کوحقیقت میں ڈھالنے کی کوشش ہیں—اگرچہ ابھی منزل دورہے۔اتحادکوعالمی سطح پرجارحانہ بلاک کے طورپر نہیں بلکہ دفاعی و استحکامی فریم ورک کے طور پرپیش کیا جائے۔اقوامِ متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرمشترکہ موقف اختیارکیاجائے۔کسی بھی رکن ملک کے خلاف غیرقانونی اقدام کی صورت میں اجتماعی سفارتی ردِعمل کابھرپورعملی اظہارکیاجائے۔
ماضی کے مشترکہ دفاعی معاہدے اکثر کاغذی ثابت ہوئے۔عرب لیگ کے دفاعی معاہدے ہوں یادیگرعلاقائی کوششیں—ان میں ادارہ جاتی قوت اور سیاسی عزم کی کمی رہی۔سب سے بڑاچیلنج ماضی کے وہ دفاعی معاہدے ہیں جوکبھی عملی شکل اختیارنہ کرسکے۔ بعض اوقات تومعاہدہ کرنے والے ممالک باہم متصادم بھی ہوئے۔یہ تاریخی تجربہ ہرنئے منصوبے کواحتیاط کادرس دیتاہے کہ اتحاد محض اعلامیہ سے نہیں، مستقل اداروں اور مشترکہ کمانڈ اسٹرکچرسے بنتاہے۔یہ تاریخ کابوجھ ہے جوہرنئے خواب کی پیشانی پر سوالیہ نشان ثبت کرتاہے۔
مزیدبرآں،امریکاواسرائیل کی ممکنہ مزاحمت، خطے کی داخلی سیاسی تبدیلیاں،اورباہمی بداعتمادی اس راہ کے کانٹے ہیں۔اگراتحادمحض ردِعمل ہوگاتوپائیدارنہ ہوگا؛اسے مثبت ایجنڈااور اقتصادی ودفاعی انضمام کی بنیاد درکار ہوگی جس کیلئے ضروری ہے کہ باہمی تنازعات کے حل کیلئےثالثی کونسل قائم کی جائے۔فرقہ وارانہ یانظریاتی اختلافات کوسیاسی حکمت سے سنبھالا جائے۔ اتحادکوکسی ایک ملک کی بالادستی سے محفوظ رکھاجائے۔
ترکی،مصراورسعودی عرب کے درمیان بعض علاقائی امورپراختلافات برقرارہیں۔مزیدبرآں امریکااوراسرائیل جیسے طاقتورفریق اس اتحادکواپنے مفادات کے منافی سمجھ سکتے ہیں۔اگربیرونی دباؤ بڑھاتوداخلی کمزوریاں آشکارہوسکتی ہیں۔اس لیے اتحادکی کامیابی داخلی ہم آہنگی اورخود انحصاری پر منحصر ہوگی۔
عرب یوریشین اسٹڈیزسینٹرکے مطابق سب سے زیادہ قابلِ عمل صورت’’لچکدار ہم آہنگی‘‘ہے—یعنی مکمل ادارہ جاتی اتحادکے بجائے موضوعاتی تعاون سے آغازکیاجائے۔ابتدامیں دفاعی صنعت،انٹیلی جنس شیئرنگ،اورسیاسی مشاورت کانظام اورمشترکہ مشقوں تک محدود تعاون رکھاجائے،مگرمکمل عسکری معاہدہ نہیں۔یہ راستہ تدریجی ہےمگرقابلِ عمل بھی ہے۔رفتہ رفتہ اسے جامع دفاعی معاہدے کی شکل دی جائے۔یہ حقیقت پسندی کاراستہ ہے۔کم سے آغاز،تدریج سے ارتقاکاسفرشروع کیاجائے۔ذرائع ابلاغ اورتعلیمی اداروں کے ذریعے اتحادکامثبت بیانیہ تشکیل دیاجائے۔عوام کوباور کرایاجائے کہ یہ اتحادتصادم کیلئےنہیں بلکہ امن وسلامتی کیلئےہے۔
ترکی کامصرکے ساتھ 350ملین ڈالرکادفاعی معاہدہ اورسعودی دلچسپی عسکری تعاون کی عملی جہت اوراس امرکی علامت ہے کہ دفاعی صنعت اتحادکی بنیادبن سکتی ہے۔مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اوراسلحہ سازی میں اشتراک وہ ستون ہیں جن پرمستقبل کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔ممکنہ رکاوٹوں کاواحد حل یہی ہے کہ بیرونی دباؤکامقابلہ داخلی اتحادسے کیاجائے۔اقتصادی انحصار کم کیاجائے۔شفافیت اوراحتساب کے ذریعے اعتماد سازی کی جائے۔
اس معاہدے کے راستے میں جوبنیادی چیلنجزدرپیش ہوں گے ان میں سیاسی عدم استحکام،باہمی بداعتمادی،معاشی کمزوریاں،بیرونی طاقتوں کادباؤکاسامنا کرنا پڑے گااواگران رکاوٹوں کودورنہ کیاگیاتواتحادمحض بیانیہ رہے گا۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی لابیاں اس اتحاد کوسبوتاژکرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔اگرایسا ہواتوسفارتی محاذپرشدیدکشمکش متوقع ہے۔اتحادکواپنی قانونی و سفارتی بنیادمضبوط کرناہوگی۔
مستقبل کے منظرنامہ میں سب سے زیادہ ممکنہ صورت یہی دکھائی دیتی ہے کہ مکمل’’اسلامی نیٹو‘‘کی بجائے ایک تدریجی،لچکدار اورکثیرسطحی تعاون کاڈھانچہ ابھرے گا۔اگرقیادتیں اخلاص اوربصیرت کے ساتھ آگے بڑھیں تویہ اتحادمحض دفاعی بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کی علامت بن سکتاہے۔ لیکن اگ یہ جذباتی نعروں تک محدودرہاتوتاریخ اسے ایک اورناتمام خواب کے طورپر یادرکھے گی۔
یادرہے کہ اسلامی دفاعی اتحادکاقیام محض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی خوداعتمادی کااعلان ہوسکتاہے۔پاکستان کی ایٹمی قوت، ترکی کی دفاعی صنعت، خلیجی ممالک کی مالی طاقت، مصر کی جغرافیائی اہمیت،اورجنوب مشرقی ایشیاکی صنعتی مہارت—یہ سب مل کرایک ایسا توازن قائم کرسکتے ہیں جوخطے کوبیرونی مداخلت سے محفوظ رکھے۔لیکن شرط یہ ہے کہ یہ اتحاد ردِعمل کی نفسیات سے نکل کرتدبر،تدریج اورتدبیرکی راہ اختیارکرے۔اتحادتوپ وتفنگ کانہیں، ارادوں کی ہم آہنگی کانام ہے۔جب نیتیں صاف،حکمتِ عملی واضح اورقیادت بالغ نظرہو تو منتشرقوتیں بھی تاریخ کادھاراموڑدیتی ہیں۔
اسلامی نیٹوکاتصوردراصل ایک سوال ہے—کیامسلم دنیاتاریخ کے دباؤکوموقع میں بدل سکتی ہے؟کیا اختلافات کی خاک سے وحدت کی چنگاری پھوٹ سکتی ہے؟اگرقیادتیں اخلاص، بصیرت اورتدبر سے کام لیں تویہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی احیا کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔وگرنہ یہ بھی تاریخ کے اوراق میں ایک خوبصورت مگرناتمام خواب کے طورپر درج ہوجائے گا۔
اتحادکی قوت توپ وتفنگ میں نہیں،نیت کی صداقت اورحکمتِ عملی کی پختگی میں ہوتی ہے۔اسلامی عسکری اتحادکاخواب اگرچہ دشوارہے،مگرناممکن نہیں ۔جب تک مفادات کی ہم آہنگی اورقیادت کی بالغ نظری نہ ہو،تب تک بڑے سے بڑامعاہدہ بھی محض روشنائی کانقش رہتاہےاورجب ارادے یکسوہوجائیں تومنتشر قوتیں بھی تاریخ کادھاراموڑدیتی ہیں اوراگریہ عناصر جمع ہوجائیں توبکھری ہوئی ریت بھی سنگِ مرمرکااستعارہ بن جاتی ہے۔
اسلامی مممالک کایہ اتحاد تدبرکی حکمت ہو؛قیادت کاغرورنہیں بلکہ اشتراک کی بصیرت ہو؛اورطاقت کامظاہرہ نہیں بلکہ سلامتی کا عہدہو۔تاریخ نے امتوں کوبارہاموقع دیاہے کہ وہ انتشارسے وحدت کی طرف قدم بڑھائیں۔اسلامی عسکری اتحادکاتصورنہ تومحض خواب ہے اورنہ ہی فوری حقیقت۔یہ ایک ایسا راستہ ہے جس کیلئےسیاسی بصیرت،معاشی حکمت،عسکری تیاری اور تہذیبی اعتمادسب درکارہیں۔پاکستان کی ایٹمی بازدارقوت،ترکی کی دفاعی خود کفالت ، خلیجی سرمایہ،مصرکی جغرافیائی اہمیت اورجنوب مشرقی ایشیا کی صنعتی مہارت—یہ سب عناصراگرایک متوازن اورتدریجی حکمتِ عملی کے تحت یکجاہوں توایک نیاتوازنِ قوت جنم لے سکتاہے۔ مگرشرط یہی ہے کہ اتحادردِعمل کی سیاست اورجذبات کی تپش سے نہیں بلکہ تدبرکی روشنی سے تشکیل پائے۔ اگرایساہواتویہ اقدام نہ صرف دفاعی بندوبست ہوگابلکہ تہذیبی وقارکی نئی صبح کاپیامبربھی بن سکتاہے۔اوراگریہ محض نعرہ رہاتوتاریخ اسے ایک ناقابل معافی کےطورپریادرکھے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا عالمِ اسلام اس بار اس موقع کوپہچان سکے گا؟اگر ہاں،تویہ اتحادمحض عسکری بندوبست نہیں بلکہ تہذیبی وقار کی نئی صبح ہوسکتاہے ۔ اگر نہیں،تویہ خواب بھی گزشتہ خوابوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہوجائے گا—ایک حسین مگر ناتمام داستان کے طور پرجس کوہماری آنے والی نسلیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔۔