عالمی سیاست کے افق پراس وقت جومنظرنامہ ابھررہاہے،وہ کسی طوفانِ نوح سے کم نہیں۔طاقت کے ایوانوں میں فیصلے ایسے ہورہے ہیں جن کی بازگشت صدیوں تک سنائی دے گی۔یہ زمانہ محض واقعات کانہیں بلکہ تعبیرات کازمانہ ہے۔تاریخ کے اوراق پرجوسطریں لکھی جارہی ہیں،وہ صرف قلم کی جنبش نہیں بلکہ اقوام کے مقدرکی تحریرہیں۔ٹرمپ کاایران معاہدے کوابراہیمی معاہدات کے ساتھ مشروط کرنااسی سلسلے کی ایک کڑی ہے—ایک ایساسیاسی جال جس میں سفارت کاری،طاقت،مفاداورنظریات ایک دوسرے میں اس طرح گتھم گتھاہیں جیسے شام کے کسی قدیم بازارکی پیچیدہ گلیاں۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران معاہدے کوابراہیمی معاہدات کے ساتھ مشروط کرنادراصل ایک ایساشطرنجی داؤہے جس میں مہرے بھی وہی ہیں اوربساط بھی انہی کی بچھائی ہوئی۔یہ محض سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک فکری،تہذیبی اورسیاسی کشمکش کی علامت ہے—ایک ایسی کشمکش جس میں مسلم دنیاکواپنی شناخت،غیرت اور حکمتِ عملی کے درمیان توازن قائم کرناہے۔سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کوتسلیم کرنے سے کیوں جوڑااورکیاسعودی عرب اور پاکستان انکارکرسکیں گے؟کیاباقی مسلم دنیااس دباؤکے آگے سر جھکادے گی یااپنے اصولوں کی شمع کوفروزاں رکھے گی،دراصل ہمارے عہدکاسب سے بڑا امتحان ہے۔
یہ سوال محض سفارتی نہیں بلکہ تہذیبی اورنظریاتی کشمکش کاآئینہ دارہے۔ٹرمپ کی یہ حکمت عملی دراصل ایک ہمہ گیرسیاسی جال اورعالمی سیاست کے وہ پیچیدہ دھاگے ہیں جن کو سلجھانے کیلئے کوئی سراہی نہیں ملتا۔جس میں ایران کے ساتھ امن کواسرائیل کے اعتراف سے مشروط کرکے ایک ایسادباؤپیدا کیا جا رہاہے جومسلم دنیاکوایک نئی صف بندی پرمجبور کرے ۔
یہ گویاامن کے نام پرایک ایسی شرط ہے جس میں انصاف کی روح کم اورمفادکی چمک زیادہ نظرآتی ہے۔سعودی عرب اورپاکستان جیسے ممالک کیلئےیہ فیصلہ محض سیاسی نہیں بلکہ اپنے تاریخی مؤقف،عوامی جذبات اورمذہبی وابستگیوں کے درمیان ایک نازک توازن کاتقاضاکرتاہے۔انکارممکن ہے،مگراس کی قیمت بھی کم نہ ہوگی۔
ضروری ہے کہ ایک مرتبہ پھرانتہائی اختصارکے ساتھ ابراہام اکارڈکے تصور،پس منظراورحقیقت کے بارے میں جان لیں۔2020ءمیں ہونے والے ابراہیمی معاہدات ایک ایسے دورکاآغازتھے جہاں شدید ترین امریکی دباؤکے تحت عرب دنیاکے چندممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے ۔اسے ایک تاریخی پیش رفت قراردیاگیا۔بظاہریہ امن کی طرف ایک قدم تھا،مگرحقیقت میں یہ ایک نئی صف بندی کاآغاز بھی تھا۔یہ تاثردیاگیاکہ ابراہیمی معاہدات دراصل وہ سفارتی پل ہیں جوبظاہرعالمی امن کے پیامبراورضمانت تھے،مگر درحقیقت ان میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کونئے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش پوشیدہ تھی۔یہ معاہدات گویاایک ایسے پل کی مانندتھے جوبظاہردوکناروں کوملاتے ہیں،مگران کے نیچے مفادات کی تندوتیزلہریں بہتی رہتی ہیں۔
یہ وہ لمحہ تھاجب تاریخ نے کروٹ لی،اورصدیوں پرانی روایت—یعنی فلسطینی مسئلے کے حل تک اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی پالیسی—کوپہلی بارچیلنج کیاگیا ۔ اب’نیوابراہیم اکارڈز‘کی بات دراصل اسی سلسلے کی توسیع ہے—گویاایک ادھوری داستان کومکمل کرنے کی کوشش۔اس نئے تصورمیں سعودی عرب،پاکستان اوردیگرممالک کوشامل کرکے ایک ایساعلاقائی اتحاد قائم کرنے کی خواہش ہے جوبظاہرامن کاعلمبردارہومگردرحقیقت نئی سیاسی صف بندی کی بنیادرکھتاہو۔
ٹرمپ کی حالیہ پیشکش دراصل اسی سلسلے کی توسیع ہے۔ٹرمپ کی حالیہ حکمت عملی میں”نیوابراہیم اکارڈز”کاتصوردراصل ایک نئے دباؤکی علامت ہے۔ سعودی عرب،پاکستان،قطر اور دیگرممالک کواس میں شامل کرنے کی کوشش ایک نئی عالمی حکمت عملی کاحصہ ہے اوریہ اس بات کابھی ثبوت ہے کہ امریکا اب صرف ثالث نہیں بلکہ ہدایت کارکاکردار اداکرنا چاہتا ہے۔یہ ایساہی ہے جیسے کوئی شطرنج کاماہرکھلاڑی ایک ہی چال میں کئی مہروں کوحرکت دے—بظاہر سادہ،مگردرحقیقت نہایت پیچیدہ،یاجیسے کوئی دریاکواس کے بہاؤکے خلاف موڑنے کی کوشش کرے—بظاہرممکن،مگرفطرت کے خلاف۔
پاکستان کااسرائیل کے حوالے سے مؤقف اس کی نظریاتی اساس سے جڑاہواہے۔فلسطین کامسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ ایک اخلاقی اورتاریخی سوال ہے۔شروع دن سے پاکستان کامؤقف تاریخی طورپرواضح اورغیر متزلزل رہاہے کہ اسرائیل کوتسلیم کرنے کاسوال فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط ہے۔پاکستان نے واضح طورپرکہاہے کہ وہ ابراہیمی معاہدات کاحصہ نہیں بنے گاجب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی،اسرائیل کوتسلیم کرناممکن نہیں۔یہ مؤقف نہ صرف سفارتی بلکہ اخلاقی بنیادوں پربھی قائم ہے۔یہ کسی وقتی مصلحت کانتیجہ نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف ہےجس کی جڑیں قیامِ پاکستان کے فلسفے میں پیوست ہیں۔یہ مؤقف محض سفارتی نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔علاوہ ازیں اسلام آباد نے ہمیشہ اس مسئلے کوامتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیرکامسئلہ سمجھاہے،نہ کہ محض دوریاستوں کے درمیان تنازع۔
سعودی عرب کامعاملہ اوربھی نازک ہے۔سعودی عرب کی حیثیت محض ایک ریاست کی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے روحانی مرکزکی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب کیلئےیہ مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اورقومی سلامتی سے جڑہوا ہے۔حرمین شریفین کی سرزمین ہونے کے ناطے اس کاہرفیصلہ سیاسی نہیں بلکہ مذہبی اورتہذیبی اثرات کاحامل ہوتاہے اورپوری امت مسلمہ پراثراندازہوتاہے۔ اس لئے فیصلہ نہایت سوچ سمجھ کرکیاجائے گا،کیونکہ اس کے اثرات پوری مسلم دنیاپرپڑیں گے۔ریاض کایہ اصرارکہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کوتسلیم نہیں کیاجائے گا،دراصل ایک تاریخی ذمہ داری کامظہرہے۔یہ فیصلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اور مذہبی وقارکابھی حامل ہے۔
سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک اسرائیل کوتسلیم کرنے سے کیوں انکارکرتے رہے ہیں؟یہ انکارکسی ضد یاہٹ دھرمی کانتیجہ نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام سے جڑاہواہے۔مسلم دنیاکااجتماعی ضمیریہ تسلیم کرتاہے کہ بیت المقدس محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک علامت ہے—ایک ایسی علامت جس میں تاریخ،عقیدہ اورشناخت یکجاہوجاتے ہیں۔جب تک فلسطینیوں کوان کاحق نہیں ملتا،یہ انکارایک اخلاقی ذمہ داری کے طورپرباقی رہے گا۔
توکیاتمام ممالک اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں؟بظاہریہ ممکن دکھائی نہیں دیتا،مگرحقیقت میں ہرملک کے اپنے داخلی اورخارجی عوامل ہیں۔کچھ ممالک شایدمصلحت کے تحت شامل ہوجائیں،مگرکئی ایسے بھی ہیں جن کیلئےیہ قدم اپنے نظریاتی تشخص سے انحراف کے مترادف ہوگا۔
ایران اورامریکاکے درمیان جاری مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔بظاہرمفاہمت کی فضاہے،دوسری طرف جنگ کے سائے منڈلارہے ہیں۔یوں پسِ پردہ عسکری کارروائیاں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ اعتمادکی بنیادابھی کمزورہے۔امریکی حملوں اورایرانی بیانات کے درمیان جوتضادہے، وہ اس حقیقت کوآشکارکرتاہے کہ یہ معاہدہ ابھی اعتمادکی بنیادپرقائم نہیں بلکہ مفادات کے توازن پرکھڑاہے۔
ایران اورامریکاکے مذاکرات اورحملوں کایہ تضاداس حقیقت کوآشکارکرتاہے کہ عالمی سیاست میں الفاظ اوراعمال اکثرایک دوسرے کے متضادہوتے ہیں۔ ایک طرف مذاکرات کی میزسجی ہے،دوسری طرف میدانِ جنگ گرم ہے—یہ وہی کیفیت ہے جسے”امن کی بات،جنگ کی رات”کہاجاسکتاہے۔جسے شاعر نے یوں بیان کیا:
ہنوزدِل میں ہے اک خوفِ نامعلوم ساباقی
کہ جیسے رات کے دامن میں ہوکچھ دھندلاساباقی
کیایہ دبا ؤڈالنے کی حکمت عملی ہے؟جی ہاں،یہ ایک واضح دباؤکی پالیسی ہے۔ٹرمپ کی حکمت عملی کواگرباریک بینی سے دیکھاجائے تویہ دباؤاورترغیب کاایک مرکب ہے اوراس کے پسِ پردہ طاقت کااظہاربھی واضح ہے۔ایک طرف امن کانعرہ،معاہدے کی دعوت، دوسری طرف جنگ کی دھمکیوں پرعمل کرتے ہوئے دوبارہ عسکری کارروائیاں شروع کردیں ہیں—یہ وہی سیاست ہے جسے”گاجر اورچھڑی”کی پالیسی کہاجاتاہے۔یہ وہ دودھاری تلوارہے جس سے امریکا اپنی مرضی کانقشہ کھینچناچاہتاہے۔
ٹرمپ کایہ کہناکہ تمام ممالک فوری طورپرابراہیمی معاہدات پردستخط کریں،دراصل ایک انتہائی آمرانہ اورمتنازع مطالبہ ہے۔ٹرمپ مسلم ممالک کوایک مخمصے میں ڈالناچاہتے ہیں—یاتو اسرائیل کوتسلیم کریں یاخطے میں امن کےعمل کوخطرے میں ڈالیں۔یہ ایک ایسا جال ہے جس سے نکلناآسان نہیں۔عالمی ردعمل میں خاموشی بھی ہےاورتشویش بھی۔ کئی ممالک اس معاملےمیں محتاط ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ محض سفارتی نہیں بلکہ داخلی استحکام اورعوامی ردعمل سے بھی جڑاہواہے۔
یہاں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخرٹرمپ ایران معاہدہ کوابراہیمی معاہدات کےساتھ کیوں جوڑناچاہتے ہیں؟یہ دراصل ایک بڑی تصویرکاحصہ ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کوایک نئے سیاسی نظام میں ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ تصوربظاہرپرکشش مگرعملی طورپرپیچیدہ ہے۔ٹرمپ ان معاہدات کووسعت دیکراسے اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طورپرپیش کرناچاہتے ہیں۔یہ ان کیلئےایک تاریخی ورثہ بنانے کی کوشش بھی ہے،جسے وہ اپنی صدارت کی پہچان بناناچاہتے ہیں۔
امریکی سینیٹرلنزے گراہم کایہ کہناکہ مسلم ممالک کے پاس”ناکامی کاکوئی آپشن نہیں”،دراصل ایک ایساتصورہے جوزمینی حقائق سے زیادہ خواہشات پرمبنی ہے۔دراصل ایک ایسی متکبرانہ سوچ کی عکاسی کرتاہے جوعالمی سیاست کومحض طاقت کے زاویے سے دیکھتی ہے مگرتاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف دباؤسے نہیں بلکہ بلکہ اپنے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور ان کے پیچھے ایک اجتماعی شعوراوراحساسِ غیرت بھی ہوتاہے۔امن محض معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتاہے۔یہ بیان زیادہ ترایک خواہش معلوم ہوتاہے،حقیقت نہیں۔
پاکستان کاماضی اس بات کاگواہ ہے کہ اس نے کئی مواقع پرامریکاسے اختلاف کیاہے۔اس لیے یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ پاکستان انکارکر سکتاہے،مگراس کے ساتھ سفارتی دباؤاورمعاشی چیلنجزبھی آئیں گے جس کاسامنا ماضی میں پاکستان کئی بارکرچکاہے۔یہ فیصلہ ایک تلوارکی دھارپرچلنے کے مترادف ہوگااوردانشمندی تویہ ہے کہ اس کیلئے ابھی سے کمرکس لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان،سعودی عرب اوردیگرمسلم ممالک میں عوامی رائے اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔پاکستان اوردیگرمسلم ممالک میں عوامی رائے اس معاملے میں نہایت حساس ہے اورعوام کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف ہے۔بعض حدتک ہاں،سعودی عرب کا فیصلہ خطے میں ایک رہنماحیثیت رکھتا ہے ۔اگرریاض اپنامؤقف بدلتاہے تواسلام آبادپربھی دباؤبڑھے گا،مگرحتمی فیصلہ پھر بھی پاکستان کے داخلی حالات اورعوامی رائے پرمنحصرہوگا۔تاہم یہ بھی حقیقت ہےکہ کوئی بھی حکومت اگراسرائیل کوتسلیم کرنے کی طرف قدم بڑھاتی ہے تواسے شدیدعوامی ردعمل کاسامناکرناپڑسکتاہے۔یہ وہ طاقت ہے جو اگرچہ خاموش ہوتی ہے،مگرجب بیدارہوتی ہے تونہ صرف ایوانوں کے فیصلوں کوبدل دیتی ہے بلکہ تخت وتاج ہلادیتی ہے۔
غزہ، لبنان اورشام میں اسرائیلی کارروائیوں نے اس کے خلاف عدم اعتمادکومزیدگہرااوراس کے خلاف شکوک وشبہات کوبڑھادیاہے۔ ایسے میں تعلقات کی بحالی محض سفارتی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔اعتمادایک ایسانازک آئینہ ہےجوایک بار ٹوٹ جائے تودوبارہ آسانی سے نہیں جڑتایاجڑنے میں طویل وقت لگتاہے جب تک پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی گزر چکاہوتاہے۔اگرچہ مصر،اردن اورترکی،ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات موجودہیں،مگر حالیہ جنگوں کے بعدان تعلقات میں واضح تناؤاورشدید سردمہری دیکھی جارہی ہے۔یہ تعلقات اب محض رسمی رہ گئے ہیں،جن میں وہ حرارت باقی نہیں رہی جوکبھی سفارت کاری کی جان ہوتی ہے۔
ٹرمپ بزورطاقت دراصل ایک تصورکو دوسرے تصورسے بدلنے کی جارحانہ کوشش کررہے ہیں—خطے کونئے نظام میں ڈھالنے اور ایک نئے مشرقِ وسطیٰ کاخواب دیکھ رہے ہیں۔ایک ایساخطہ جہاں ایران کومحدودکردیاجائے اوراسرائیل کومرکزی حیثیت حاصل ہو۔یہ تصوربظاہرپرکشش ہے،مگراس کے عملی نتائج نہایت پیچیدہ اورہولناک ہوسکتے ہیں۔اپنے اس خواب کی تکمیل کیلئے ٹرمپ نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جزوی طورپرایران پرحملہ کیاہے۔یہ ناراضگی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ان کی خواہشات کے مطابق پیش رفت نہیں ہورہی۔ ایران پرحملے کوبعض تجزیہ کارطاقت کے بجائے بے بسی کی علامت بھی قراردیتے ہیں—گویاجب دلیل کمزورہوجائے تو طاقت کاسہارا لیا جاتاہے۔
سیتھ فرانٹزمین جوموجودہ دورکے ایک معروف امریکی نژاداسرائیل میں مقیم صحافی،سیاسی تجزیہ کار،محقق اورمصنف ہیں،جنہیں خاص طورپرمشرقِ وسطیٰ کی جنگوں،ایران،اسرائیل، شام، عراق اورعسکری حکمتِ عملی کے تجزیے پرگہری مہارت حاصل ہے۔ان کے مطابق”نیوابراہیم اکارڈز”ایک غیرحقیقی تصورہے کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ان کے مطابق خطہ اس وقت استحکام کے بجائے مزید کشیدگی کی طرف بڑھ رہاہے،نہ کہ امن کی طرف۔ اس لیے ایسے معاہدات کاپھیلاؤمشکل دکھائی دیتاہے کیونکہ اگران میں انصاف کاعنصر شامل نہ ہواتویہ مزیدتنازعات کوجنم دے سکتے ہیں۔امن صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتاہے۔یہ تجزیہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ زمینی حقائق اورسیاسی بیانیے میں کتنا فرق ہے۔ایران جنگ کے بعدممکن ہے کہ نئے اتحادابھریں۔ ترکی،سعودی عرب اورپاکستان ایک مشترکہ محاذبناسکتے ہیں۔یہ اتحاداگروجودمیں آیاتوعالمی سیاست میں ایک نئی قوت کے طورپر سامنے آسکتاہے۔
کیاامریکا’گریٹر اسرائیل‘کے تصورکو فروغ دے رہاہے؟بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایساہی لگتاہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکاایک ایسے مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل چاہتاہے جہاں اسرائیل مرکزی حیثیت رکھتاہو—یہی” گریٹراسرائیل” کاتصورہے۔بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکااس تصورکوعملی شکل دینے کی کوشش کررہاہے۔یادرہے کہ گریٹراسرائیل کاتصور ایک ایسا نظریہ ہےجو صرف خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی طورپربے چینی کاسبب بناہواہے۔ یہ تصورخطے میں بے چینی کوبڑھاسکتاہےاورنئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
پاکستان کے ساتھ ماضی میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاں—خصوصاًسوویت یونین کے خاتمے کے بعد—پاکستان کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ عالمی سیاست میں مفادات کوترجیح دی جاتی ہے۔گویاعالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں اور امریکا کی تاریخ یہ گواہ ہے کہ اس نے اپنے مفادات کے حصول کے بعد فووری طورپراپنے محسنوں کی گردن پرچھری چلانے میں لمحہ بھرکیلئے تاخیرنہیں کی۔کیاہم اب بھی اس تاریخ سے سبق حاصل کرنے کوتیار ہیں کہ نہیں۔
امریکاکابھارت کے ساتھ بڑھتاہواتعلق اوراسے اسٹریٹجک پارٹنربناناپاکستان کیلئےایک بڑاچیلنج ہے۔یہ تبدیلی خطے میں طاقت کے توازن کومتاثرکررہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کایہ کہنا کہ وہ پاکستان کیلئےبھارت کوقربان نہیں کرسکتے،دراصل یہ ایک واضح پیغام ہے کہ امریکاکی ترجیحات بدل چکی ہیں اورخطے میں طاقت کے توازن کی نئی سمت کی نشاندہی کرتاہے۔
پاکستان کیلئےاس صورتحال میں یہ اہم سبق ہے کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز ورحکمت سے کام لے۔”بیگانی شادی میں ناچنے”کی روایت ترک کرکے اپنے مفادات کوترجیح اورمقدم رکھنا وقت کی ضرورت ہے اوراپنی خارجہ پالیسی کوحقیقت پسندانہ بنیادوں پراستوار کرکے مستقبل کے محفوظ راستے کاانتخاب کرتے ہوئےعالمی سیاست میں توازن برقراررکھے کیونکہ تاریخ انہی قوموں کویادرکھتی ہے جواپنے اصولوں پرقائم رہتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ مسلم دنیااپنی صفوں میں اتحادپیداکرے۔یہ سوال کہ مسلم دنیاابراہیمی معاہدات میں شامل ہویانہیں،دراصل ایک بڑے سوال کا حصہ ہے—کیاہم اصولوں پرقائم رہیں گے یامفادات کے سامنے جھک جائیں گے؟کیایہ فیصلے انصاف پرمبنی ہیں یامحض طاقت کے کھیل کاحصہ؟اگرانصاف کونظرانداز کیا گیاتوامن محض ایک سراب رہے گا۔اگراصولوں کا سوداکیاگیاتووقتی فائدہ توہوسکتاہے،مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ اصولوں کے حق میں ہوتاہے۔
تاریخ خاموش نہیں رہتی،وہ ہرعمل کاحساب رکھتی ہے۔آج جوفیصلے کیے جارہے ہیں،وہ آنے والی نسلوں کےمستقبل کاتعین کریں گے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں سے زندہ رہتی ہیں۔اگرمسلم دنیانے اپنے اصولوں کاسوداکر لیا تووہ اپنی شناخت کھودے گی لیکن اگر مسلم دنیانے اتحاد،حکمت اوراصولوں کادامن تھام لیاتووہ اس بحران سے سرخروہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر،یہ موقع بھی تاریخ کے اوراق میں ایک کھوئے ہوئے امکان کے طورپردرج ہوجائے گا۔یہ وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
تاہم یہ تمام سوالات دراصل ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
کیادنیاانصاف پرمبنی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے یامحض طاقت کے کھیل میں الجھ رہی ہے؟
اگرمسلم دنیانے اپنے اصولوں کومضبوطی سے تھام لیاتووہ اس طوفان سے گزرکرایک نئی صبح دیکھ سکتی ہے—ورنہ یہ اندھیری رات طویل بھی ہوسکتی ہے اور صبر آزمابھی۔