The Revenge of Nature

قدرت کاانتقام

زمانہ اپنے سینے میں صرف واقعات نہیں چھپاتا،بلکہ تکبرکی داستانیں اوران کے انجام بھی محفوظ رکھتاہے۔تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توان میں صرف جنگوں کی گونج نہیں سنائی دیتی،بلکہ غرورکے ٹوٹنے کی کرچیاں بھی چبھتی محسوس ہوتی ہیں۔یہ ایک ازلی قانون ہے—ایسا قانون جونہ کسی سلطنت کے سامنے جھکتاہے،نہ کسی سرمایہ کے آگے بکتاہے۔

غرور… یہ محض ایک اخلاقی عیب نہیں،بلکہ ایک ایسادعویٰ ہے جودراصل خدائی صفت کوچیلنج کرتاہے۔احادیثِ مبارکہ میں آیاہے کہ کبریائی اللہ تعالیٰ کی چادر ہے اورچادر وہ ہوتی ہے جسے کوئی دوسراچھوئے توگستاخی شمار ہوتی ہے۔جب ایک معمولی انسان کسی دوسرےانسان کی چادرکوکھینچنے کی جسارت کرے تووہ معاف نہیں کیاجاتاتوپھریہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ریاست ، کوئی اقتدار، کوئی سرمایہ داراللہ کی چادرِکبریائی کوچھونے کی جسارت کرے اورعذاب سے محفوظ رہے ؟

یہی وہ نکتہ ہے جسے دبئی کی چمکتی ہوئی عمارتوں،شیشے کے میناروں،اورمصنوعی جزیروں کے درمیان فراموش کردیاگیا۔جب دولت کوتقدیرسمجھ لیاجائے،اور طاقت کودائمی مان لیاجائے،تو انسان حقیقت سے دورہوجاتاہے۔متحدہ عرب امارات اوراس کے متکبر اتحادی بھی اسی فریب کاشکارہوئے—انہوں نے یہ گمان کیاکہ سرمایہ ان کاحصارہے،اورعالمی تعلقات ان کی ڈھال،مگرتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے کبریائی کے میدان میں قدم رکھا،اسے اپنی اوقات یاددلادی گئی۔فرعون کے محلات ہوں یاقارون کے خزانے—سب ایک لمحے میں نشانِ عبرت بن گئے۔آج اگرمشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی داستان رقم ہورہی ہے،تووہ دراصل اسی ازلی حقیقت کی ایک تازہ تفسیر ہے۔یہ تحریرمحض سیاسی تجزیہ نہیں،بلکہ ایک آئینہ ہے—ایساآئینہ جس میں ہم طاقت کے نشے،غرور کے فریب،اورتقدیرکے انتقام کوایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔

زمانہ ہمیشہ اپنےسینےمیں ان کہی داستانوں کاایک طوفان چھپائےرکھتاہے۔جب یہ طوفان سطح پرآتاہےتوتاریخ کے اوراق لہوسے رنگین ہوجاتے ہیں،اور قومیں اپنے فیصلوں کی قیمت اداکرتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے افق پرجب سے جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں توتوپ وتفنگ کی گھن گرج سے پہلے ہی خاموشی کاایک عجیب دبیزپردہ چھاگیاہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کی تقدیریں لکھی جاتی ہیں۔آج ایک ایسی ہی خاموش جنگ کے آثارنمایاں ہیں،ایک ایسی جنگ جس میں بارودکی بوکم اورحکمتِ عملی کی چالیں زیادہ کارفرماہیں۔

متحدہ عرب امارات نے جب اوپیک کی صف سے علیحدگی اختیارکی توبظاہریہ ایک راست قدم اورمعاشی فیصلہ تھا،مگراس کے پسِ پردہ سیاسی ارتعاشات کی ایک پوری دنیاپوشیدہ تھی۔درحقیقت یہ سیاسی شطرنج کی ایک خطرناک چال تھی—ایسی چال جس میں مہرے توحرکت میں تھے مگربساط کی نزاکت کاادراک نہ تھا۔یہ فیصلہ گویاایک ایسے پتھرکی مانندتھاجوپرسکون جھیل میں پھینکاجائے اوراس کی لہریں دورتک پھیلتی چلی جائیں۔

سعودی عرب،جو اس خطے میں توازنِ طاقت کامحورہے،اورپیٹروڈالرکی شہ رگ کامحافظ ہے،اس فیصلے کونہ صرف محض ایک اختلاف اورپشت میں پیوست خنجرکے مترادف سمجھا بلکہ اس اقدام کوصرف ایک اقتصادی اختلاف نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک چیلنج کے طورپردیکھاگیا۔یواے ای نے شایدیہ گمان کیاکہ سرمایہ،انفراسٹرکچر،اورعالمی روابط اسے ہربحران سے نکال لیں گے مگروہ اس بنیادی حقیقت کونظراندازکربیٹھاکہ جغرافیہ—یہ خاموش مگرفیصلہ کن قوت — ہرمصنوعی طاقت پرغالب آجاتاہے اوریواے ای نے یہ بھی نہ جاناکہ اس کاجواب توپوں سے نہیں بلکہ جغرافیہ کے بے رحم قانون سے دیاجائے گا۔ جغرافیہ نہ صرف راستے بناتاہے بلکہ راستے بندبھی کردیتاہے؛یہ نہ صرف قربت پیداکرتاہے بلکہ تنہائی بھی مسلط کردیتاہے۔

جغرافیہ—یہ وہ خاموش قوت ہے جونہ صرف سرحدیں بناتاہے بلکہ سلطنتوں کے عروج وزوال کافیصلہ بھی کرتاہے۔یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے یواے ای کی مشکلات کاآغازہوا۔اس نے دولت کی چمک میں جغرافیے کی سختی کوبھلادیا،اورجب حقیقت نے دروازہ کھٹکھٹایاتووہ اس کیلئے تیارنہ تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب یواے ای کوپہلی باراحساس ہوناچاہیے تھاکہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی نہیں بلکہ مفادبولتاہےمگرافسوس کہ جب آنکھ کھلی توخواب بکھرچکاتھا۔

بین الاقوامی سیاست میں دوستی ایک خوبصورت لفظ ضرورہے،مگراس کی بنیادہمیشہ مفادپراستوارہوتی ہے۔جب تک مفادات ہم آہنگ رہیں،تعلقات بھی خوشگواررہتے ہیں؛مگرجیسے ہی مفادات میں تصادم پیداہو،وہی تعلقات بوجھ بن جاتے ہیں۔یواے ای نے جب اپنی کرنسی کوسہارادینے کیلئے امریکاسے کرنسی سویپ کی درخواست کی تواسے امیدتھی کہ اس کادیرینہ اتحادی اس مشکل گھڑی میں اس کاساتھ دے گا۔توجواب میں جوملاوہ الفاظ نہیں بلکہ خاموشی تھی—ایک گہری،معنی خیزخاموشی تھی—اورکبھی کبھی ایسی خاموشی جوالفاظ سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے،سب سے بلنداورعبرت ناک جواب ہوتی ہے۔

امریکا،جواپنے مفادات کانگہبان ہے،وہ کبھی بھی سعودی عرب جیسے اسٹریٹیجک ستون کوایک نسبتاًنوخیز،لگژری ریاست کیلئے قربان نہیں کرسکتاتھا۔ امریکا کیلئے سعودی عرب صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کاایک ستون ہے۔پیٹروڈالرکی بنیاداسی تعلق پرقائم ہے،اوراس بنیادکوخطرے میں ڈالنا کسی بھی صورت ممکن نہ تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب یواے ای کوپہلی باراحساس ہوناچاہیے تھا کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی نہیں بلکہ مفادبولتاہے مگرافسوس کہ جب آنکھ کھلی توخواب بکھرچکاتھا۔

چنانچہ یواے ای کویہ تلخ حقیقت سمجھنے میں دیرنہ لگی کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی تعلق مستقل نہیں ہوتا—سوائے مفادکے۔یہ لمحہ دراصل یواے ای کی سفارتی تنہائی کاآغازتھا۔اسے پہلی باریہ احساس ہواکہ اس کے گردموجوداتحاددراصل ایک سراب تھے،جوحقیقت کی دھوپ میں تحلیل ہونے لگے تھے۔

فضائیں ہمیشہ آزادی کی علامت سمجھی جاتی ہیں،مگرجب یہی فضائیں بندہوجائیں تووہی آزادی قیدمیں بدل جاتی ہے۔سعودی عرب نے جب اپنی فضائی حدودکو سیکیورٹی وجوہات کے پردے میں بندکیاتوگویایواے ای کی شہ رگ پرہاتھ رکھ دیاگیا۔سعودی عرب کی جانب سے اماراتی پروازوں کیلئے فضائی حدودکی بندش ایک ایسا ہی اقدام تھاجس نے یواے ای کوعملی طورپرگھیر لیا۔دبئی سے لندن کاسفر جوکبھی سات گھنٹوں کی کہانی تھا،اب چودہ گھنٹوں کی آزمائش بن گیا۔یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک اسٹریٹیجک ضرب تھی۔دبئی،جوعالمی ہوابازی کامرکزتھا،اچانک اپنی برتری کھونے لگا۔لمبے راستے،بڑھتے اخراجات ،اورمسافروں کی کم ہوتی تعداد—یہ سب مل کراس شہرکی معیشت پرایک کاری ضرب بن گئے۔

یہ محض فضائی راستے کی بندش نہ تھی بلکہ عالمی تجارت،سیاحت اورمسابقت کے دروازوں پردستک دینے والی ایک خاموش دستبرداری تھی۔لگژری ہوٹلز،جو کبھی سیاحوں سے بھرے رہتے تھے،اب سنسان دکھائی دینے لگے۔شیشے کی عمارتوں میں روشنی تو تھی مگرزندگی کی حرارت مفقودہوچکی تھی۔دبئی،جوکل تک ایک خواب تھا،آج ایک سوال بن گیاتھا،جوکل تک روشنیوں کاشہرتھا،آج ایک تنہاجزیرے کی ماننددکھائی دینے لگا—جہاں شیشے کے محلات توتھے مگرزندگی کی رونق ماندپڑچکی تھی اوردبئی کی روشنیاں اپنے تاریک مقدرپرنوحہ گراں دکھائی دینے لگیں۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی بلکہ معیشت،خوراک اوررسدکے محاذپربھی اس کے فیصلے ہوتے ہیں۔یادرہے کہ جنگ ہمیشہ بارودسے نہیں لڑی جاتی؛کبھی کبھی روٹی بھی ہتھیاربن جاتی ہے۔یو اے ای کی سترفیصدخوراک زمینی راستوں سے آتی تھی،اورجب یہ راستے مسدودہوئے توبازاروں میں مہنگائی کاطوفان امڈآیا۔گویایواے ای کاخوراک کیلئے بیرونی انحصاراس کی سب سے بڑی کمزوری بن کرسامنے آیا۔

جب زمینی راستے مسدودہوئے تواشیائے خوردونوش کی قلت پیداہوگئی۔قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،اوروہ معاشرہ جوآسائش کا عادی تھا،اچانک ضرورت کی سطح پرآگیا۔یہ منظر ایک تلخ حقیقت کی یاددہانی تھاکہ ترقی کاوہ ماڈل جو خود کفالت سے عاری ہو،وہ بحران کے وقت بکھرجاتاہے۔ایک ہفتے کے اندر قیمتوں کاچارسوفیصدبڑھ جانااس بات کاثبوت تھاکہ معیشت کی عمارت کتنی نازک بنیادوں پرکھڑی تھی۔سپرمارکیٹوں میں راشن بندی،بندہوتے کیفے، اورخالی میزیں —یہ سب اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ آسائش کا یہ قلعہ اندرسے کتناکھوکھلاتھا۔یہ منظرایک تلخ حقیقت کی یاددہانی تھاکہ ترقی کاوہ ماڈل جوخود کفالت سے عاری ہو،وہ بحران کے وقت بکھرجاتاہے۔بھوک،جوہمیشہ خاموشی سے آتی ہے،یہاں بھی آہستہ آہستہ اپنے قدم جمارہی تھی۔

معیشت کی دنیامیں کرنسی کسی بھی ریاست کی معاشی خودمختاری کی علامت ،اور ریاست کی نبض ہوتی ہے۔ جب درہم پردباؤبڑھاتویو اے ای کی معیشت کی بنیادیں ہلنے لگیں۔درہم لڑکھڑانے سے توگویا پوراوجود لرز اٹھا ہے۔زرمبادلہ کے ذخائرتیزی سے کم ہونے لگے،اور اعتمادکی فضازائل ہونے لگی۔یواے ای اپنے زرمبادلہ کے ذخائرکوبے دریغ خرچ کررہاتھا،جیسے کوئی پیاساسمندرسے پانی نکالنے کی کوشش کرے۔

یہ وہ مرحلہ تھاجہاں فیصلے مشکل اورنتائج سنگین تھے۔ دوراستے سامنے تھے:یاتوکرنسی کوآزادچھوڑدیاجائے اورعوام کی جمع پونجی کوخطرے میں ڈال کرڈوبنے دیاجائے،یاسخت پابندیاں لگاکر سرمایہ کاری پرپابندیاں لگاکردنیاکودروازے سے باہرکردیاجائے۔دونوں صورتوں میں دبئی معجزہ،جوکبھی ترقی کی علامت تھا، اب ایک نازک خواب ثابت ہورہاتھا۔ ایک افسانہ بننے کوتھا—ایساافسانہ جسے سن کرآنے والی نسلیں حیران ہوں گی کہ کیاواقعی ایسابھی ہواتھا؟

یہ وہ لمحہ تھاجب حقیقت نے فریب کانقاب چاک کردیا کیونکہ دونوں راستے تباہی کی طرف لے جاتے تھے۔سیاسی دنیامیں تنہائی سب سے بڑاعذاب اورایک ایسازہرہے جوآہستہ آہستہ اثرکرتاہے مگراس کاانجام ہمیشہ مہلک ہوتاہے۔یواے ای کیلئے یہی زہراب حقیقت بنتاجا رہاتھا۔اس کے اتحادی ایک ایک کر کے دورہورہے تھے،اورجوباقی تھے وہ بھی محتاط خاموشی اختیارکیے ہوئے تھے۔مصراوربحرین کاریاض کے ساتھ کھڑاہونا،اسرائیل کاخاموش مفادپرستی اختیار کرنا ، اورابراہام معاہدے کابوجھ—یہ سب یواے ای کیلئے ایک ایسی زنجیر بن گئے جس نے اس کی سفارتی پروازکوروک دیا۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات، جو کبھی ایک کامیابی سمجھے گئے تھے،اب ایک بوجھ بن گئے تھے۔

نیتن یاہوکادورہ اوراس کااعتراف گویاجلتی پرتیل تھا۔مسلم دنیامیں یہ پیغام واضح ہوگیاکہ یواے ای کی پالیسی دورخی ہے—اوردورخی پالیسیوں کاانجام ہمیشہ بے اعتباری ہوتاہے۔مسلم دنیامیں اس کے خلاف جذبات ابھرنے لگے،اوراس کی پالیسیوں پرسوالات اٹھنے لگے۔ یہ وہ لمحہ تھاجب یواے ای کواپنی سفارتی حکمت عملی پرنظرثانی کرنی چاہیے تھی—مگروقت ہاتھ سے نکل چکاتھا۔

تاریخ کاسب سے دلچسپ پہلویہ ہے کہ وہ خودکودہراتی نہیں بلکہ نئے اندازمیں ظاہرکرتی ہے۔قطر،جوکبھی محاصرے کاشکارتھا،آج ایک نئے کردارمیں سامنے آیا۔2017ءمیں جس قطرکو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تھی،وہی آج نئے اتحادکامرکزبن گیا۔اس نے نہ صرف سعودی عرب کاساتھ دیابلکہ خودکو ایک متبادل مرکزکے طورپرپیش کرناشروع کیا۔سعودی عرب کیلئے فضائی حدودکھولنااورمتبادل کانفرنس کی تیاری کرنا،گویاتاریخ کاایک ایساطنزتھاجس میں سبق بھی تھااورانتقام بھی۔یواے ای،جوکل تک مرکزتھا،آج حاشیے پرآچکا تھا—اوریہ حاشیہ بھی ایسا کہ جہاں سے واپسی آسان نہ تھی۔یہ یواے ای کیلئے ایک بڑادھچکہ تھا—ایک ایسادھچکہ جس نے اس کی سفارتی حیثیت کومزیدکمزورکردیا۔

جب ریاستیں بیرونی دباؤکاشکار ہوتی ہیں تواندرونی مسائل اورکمزوریاں بھی سراٹھانے لگتی ہیں۔اماراتی معاشرہ،جومختلف قومیتوں کا مجموعہ تھا،اب تقسیم کا شکار ہونے لگا۔اماراتی خاندانوں کے سعودی عرب سے تعلقات،شہریوں کی دوہری وابستگیاں،غیرملکی آبادی کا تیزی سے انخلا،معاشی غیریقینی صورتحال،اور سماجی اضطراب،یہ سب ایک ایسے طوفان کی علامات تھیں جواندرہی اندرجنم لے رہا تھااوریہ سب ایک بڑے بحران کی علامات تھیں۔ہوائی اڈے،جوکبھی زندگی سے بھرپورتھے،اب ویرانی کامنظرپیش کررہے تھے۔گویا ایک شہراپنی سانسیں کھورہا ہو۔ریاست کی بنیادیں،جوکبھی مضبوط دکھائی دیتی تھیں،اب لرزنے لگی تھیں۔

ہربحران ایک فیصلہ کن موڑپرپہنچتاہے جہاں انتخاب ناگزیرہوجاتاہے۔یواے ای کیلئے یہ لمحہ بھی آچکاتھا۔پینتالیس دن کامحاصرہ کسی بھی معیشت کوہلادینے کیلئے کافی ہوتاہے۔ذخائرختم ہونے لگے،کرنسی گرنے لگی،امیدیں دم توڑنے لگیں اوراعتمادختم ہورہاتھا۔وہی پاکستان جس کودباؤمیں لانے کیلئے فوری طورپر عالمی بینک میں مشروط شرائط کیلئے رکھے گئے قرض کی فوری واپسی کاکہاگیا، یواے ای کے مربیوں نے اس طرح پاکستان کابازومروڑنے کامشورہ دیاتھالیکن بات الٹی گلےکوپڑگئی اورپاکستان نے چاردن کے نوٹس میں اس قرض کی مکمل ادائیگی کرکے اس شکنجے سے اپنی گردن چھڑالی لیکن مجبوری بھی کیاچیز ہوتی ہے کہ خودی کوسرنگوں کردیتی ہے۔اس مشکل حالات میں پاکستان سے ثالثی کی درخواست اس بات کاثبوت تھی کہ یواے ای اپنی حدوں کو پہنچ چکاہے۔ایسے میں ثالثی کی کوششیں شروع ہوئیں،مگرنتائج وہ نہ نکل سکے جن کی توقع تھی۔جب جواب میں سردمہری ملی تویہ واضح ہوگیاکہ اب کھیل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔

بالآخروہی ہواجوتاریخ میں اکثرہوتاآیاہے—کمزورکو جھکناپڑتاہے۔آخرکاریواے ای کووہی کرناپڑاجس سے وہ بچناچاہتاتھا۔اوپیک میں واپسی،بھاری ٹرانزٹ فیس،اوراخلاقی نقصان کابوجھ—یہ سب اس بات کی قیمت تھے جوایک غلط فیصلے کے بدلے اداکی گئی۔یہاں ایک گہراسبق پوشیدہ ہے:دولت عمارتیں بناسکتی ہے،مگراسٹریٹیجک گہرائی نہیں خریدسکتی۔طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ حکمت سے حاصل ہوتی ہے۔یواے ای نے طاقت کودولت میں تلاش کیا،جبکہ حقیقت جغرافیہ کے سینے میں چھپی ہوئی تھی۔

عالمی سیاست کی بساط پرمہرے مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔امریکا،چین،اورایران کے درمیان تعلقات نے ایک نئی شکل اختیارکرلی تھی۔ ٹرمپ اورچینی صدر کی ملاقات کے بعدآبنائے ہرمزکاچین کیلئے کھل جاناعالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کااشارہ تھا۔ایران،جوکبھی دباؤمیں تھا،اب مصالحتی میزپرمضبوط پوزیشن میں آچکاتھا۔یواے ای نے جن مہروں پراعتمادکیاتھا،وہ یکے بعددیگرے گرنے لگے۔ شطرنج کی یہ بازی اب اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔یواے ای،جوخودکوایک اہم کھلاڑی سمجھ رہاتھا،اب اس کھیل میں ایک کمزور مہرہ بن چکاتھا۔

آخرکاروہ وقت آیاجب سب کچھ خاموش ہوگیا۔شور،جوکبھی طاقت کی علامت تھا،اب سناٹے میں بدل چکاتھا۔اورپھروہ وقت آیاجب محلات کے مندر سنسان ہوگئے،آوازیں دب گئیں، اور طاقت کے دعوے خاموشی میں بدل گئے۔”ہورچوپو”—یہ لفظ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے،ایک ایسا المیہ جو اس وقت جنم لیتاہے جب غرورحقیقت سے ٹکراجائے۔

یہ داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتورکے ساتھ نہیں بلکہ سمجھدارکے ساتھ ہوتی ہے۔جوقومیں اپنے محل ریت پربناتی ہیں ،وہ ایک دن ہواکے ایک جھونکے سے بکھرجاتی ہیں۔یہ انجام اس بات کی یاددہانی تھاکہ غرورکاانجام ہمیشہ زوال ہوتاہے۔تاریخ کاپہیہ کبھی رکتانہیں،اورجواس کے ساتھ نہیں چلتاوہ اس کے نیچے آجاتاہے۔جب تاریخ اپنافیصلہ سناتی ہے تواس کے الفاظ میں نہ جذبات ہوتے ہیں نہ رعایت—وہ صرف حقائق کی روشنائی سے وہ سچ لکھ دیتی ہے جسے مٹایانہیں جاسکتا۔دبئی کی چمکتی ہوئی راتیں،بلندوبالاعمارتیں، اوردنیا کو مرعوب کرنے والی چکاچوند—یہ سب ایک لمحے میں اپنی معنویت کھوبیٹھتے ہیں جب تقدیرکاپہیہ الٹتا ہے۔

یہ داستان ہمیں پھراسی بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتی ہے کہ غرورصرف اللہ کی صفت ہے۔جواسے اپنازیوربناتاہے،وہ دراصل اپنی بربادی کی بنیادرکھتاہے ۔جب ایک فردکویہ حق نہیں کہ وہ دوسرے کی چادرکوہاتھ لگائے،توپھرکوئی ریاست،کوئی اتحاد،کوئی طاقت یہ جسارت کیسے کرسکتی ہے کہ اللہ کی چادرِکبریائی کوچھونے کی کوشش کرے؟یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ سزادیتی ہے—خاموش مگر قطعی۔نہ توپیں بولتی ہیں،نہ میزائل گرتے ہیں،مگرجغرافیہ،معیشت، اور سفارت کے نام پرایک ایسامحاصرہ قائم ہوجاتاہے جوکسی بھی جنگ سے زیادہ ہولناک ہوتاہے۔

دبئی کا“معجزہ”جب لرزنے لگا،تودراصل یہ عمارتیں نہیں بلکہ ایک تصور ٹوٹ رہاتھا—وہ تصورکہ دولت سب کچھ خریدسکتی ہے۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ دولت راستے نہیں بناتی،جغرافیہ بناتاہے؛طاقت عمارتوں سے نہیں،حکمت سے جنم لیتی ہے؛اوربقاسرمایہ سے نہیں، انکساری سے حاصل ہوتی ہے۔

یہ انجام صرف ایک ملک کانہیں،بلکہ ایک سبق ہے—ایساسبق جوہراس قوم کیلئےہے جواپنے فیصلے غرورمیں کرتی ہے۔تاریخ کے دربارمیں کوئی وکیل نہیں ہوتا،کوئی اپیل نہیں ہوتی—وہاں صرف اعمال پیش ہوتے ہیں اورفیصلے صادرہوتے ہیں اورجب فیصلہ صادر ہوتاہے،توپھروہی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے:کہ جواللہ کی چادرکو چھونے کی جسارت کرے،وہ محفوظ نہیں رہتا۔یہی قانونِ قدرت ہے،یہی فیصلۂ تاریخ—اوریہی اس داستان کا حاصل۔

یہ داستان محض ایک ملک کی نہیں بلکہ ایک اصول کی ہے—وہ اصول جوکہتاہے کہ طاقت کاتوازن ہمیشہ حقیقت کے ساتھ ہوتاہے،نہ کہ خواہش کے ساتھ۔ یہ پوری کہانی ایک آئینہ ہے—ایساآئینہ جس میں ہم اپنی غلطیوں،اپنی کمزوریوں اوراپنی خواہشات کاعکس دیکھ سکتے ہیں۔یہ محض یو اے ای کی داستان نہیں بلکہ ہر اس ریاست کی کہانی ہے جوطاقت کے نشے میں حقیقت کوفراموش کردیتی ہے۔ جوقومیں اپنے فیصلے جذبات یاغرورمیں کرتی ہیں،وہ آخرکارتاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہیں اورتاریخ—صرف فیصلہ سناتی ہے۔تاریخ کاقلم کبھی معاف نہیں کرتا؛وہ صرف لکھتاہے—اورجولکھ دیاجائے،وہ پھرمٹایانہیں جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں