پاکستان نے ایران کیلئےتجارتی راہداری کھولنے کااعلان کیاہے جس کے تحت ایران اپنی مصنوعات کی ترسیل اورحصول کیلئےگوادر اورکراچی کی بندرگاہوں سے استفادہ کرسکے گا۔بادی النظر میں یہ ایک انتظامی فیصلہ اورسرکاری اعلامیہ ہے،مگردرحقیقت یہ اُس خاموش سفارتکاری کی گونج اورتاریخ کے دھارے میں ڈالاگیاایک ایسامعنوی کنکرہے جس کی لہریں دورتک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اوریہ بروقت فیصلہ قوموں کی تقدیرکے دھارے کوموڑنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ اعلان محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ خطۂ ایشیاکی سیاسی ومعاشی بساط پرایک نئی چال ہے،ایک ایسی چال جس میں تدبرکی روشنی،مصلحت کی نرمی ہے اورتاریخ کی گہری بازگشت سنائی دیتی ہے۔تاریخ کے اوراق میں جب بھی اقوام نے اپنے جغرافیے کوشعورکی آنکھ سے دیکھاہے،انہوں نے راستوں کومحض راستے نہیں رہنے دیاانہیں تقدیرکی شاہراہوں میں بدل دیا۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب مشرقِ وسطیٰ کے افق پربارودکی بورچی ہوئی ہے،آبنائے ہرمزکی موجیں سیاست کے طوفان سے مضطرب ہیں اوریہ خطہ آگ میں دہک رہاہے،اورعالمی طاقتوں کی کشمکش نے تجارت کے سمندروں کوبھی بےقرارکر رکھاہے۔عالمی شطرنج پرمہرے اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔یہ اقدام اس عہدکے سیاسی اضطراب، معاشی مجبوریوں اورعلاقائی تقاضوں کاایسامرکب ہے جس میں حکمت کی چاشنی بھی ہے اورجرأت کی حرارت بھی۔گویاپاکستان نے ایک ایسے وقت میں،جب خطۂ مشرقِ وسطیٰ جنگ کی آگ میں جھلس رہاہے،اپنے جغرافیے کوایک وسیلۂ امن وتجارت میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ایسے میں پاکستان کایہ فیصلہ نہ صرف تلاطم خیزلہروں کے درمیان ایک پُرسکون بندرگاہ کاکرداراداکرتاہے بلکہ ایسے میں پاکستان کایہ اقدام جونہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے ہمسائے کیلئےبھی گویاایک ایسا چراغ ہے جواندھیروں کے بیچ روشن کیاگیاہے اوریہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ اپنے نئے باب رقم کرتی ہے۔یادرہے کہ قومیں صرف تلوارسے نہیں،تدبیر سے زندہ رہتی ہیں اوریہی تدبیرآج پاکستان کی پالیسی میں جھلکتی نظرآتی ہے۔
پاکستان کی وزارتِ تجارت کا”پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ آرڈر2026″کے تحت ایران کیلئےچھ مختلف تجارتی راہداریوں کا اعلان محض انتظامی پیش رفت اورمحض راستوں کی نشاندہی نہیں،بلکہ جہاں امکانات کی توسیع کاایک فکری انقلاب ہے وہاں دراصل ایک ایسے دروازے کوواکرناہے جوبرسوں سے نیم واتھا۔یہ اقدام اس تصورکی عملی تعبیرہے کہ سرحدیں اگرچہ زمین پرکھنچی جاتی ہیں،مگرتجارت ان سرحدوں کوعبورکرنے کاہنرجانتی ہے۔
ان راہداریوں کے ذریعے ایران اپنی مصنوعات کوپاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیابھر کی منڈیوں اورتیسرے ممالک تک پہنچاسکے گا،اوربیرونی دنیاسے سامان منگوانے کیلئےبھی پاکستان کو ایک محفوظ تجارتی پل کے طورپراستعمال کرے گا۔گویاپاکستان نے اپنے جغرافیے کوایک ایسے وسیلے میں ڈھال دیاہےجو صرف زمین کا ٹکڑانہیں بلکہ امکانات کااستعارہ بن چکاہے۔
یہ راستے گویاشریانیں ہیں اوران میں دوڑنے والاخون تجارت کاوہ سیال ہے جومعیشت کوزندگی عطاکرتاہے۔یوں کہیے کہ یہ راہیں اب خاک کی پگڈنڈیاں نہیں ،بلکہ زرکی شاہراہیں بننے جا رہی ہیں۔یہ فیصلہ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ تجارت محض منڈیوں کالین دین نہیں بلکہ ریاستوں کے درمیان اعتمادکا ُل بھی ہوتی ہے۔یہ اقدام دراصل اُس نظریے کی عملی شکل ہے کہ جغرافیہ اگربصیرت کے ہاتھوں میں ہوتو تقدیرمیں بدل جاتاہے۔یہ راستے محض سڑکیں نہیں بلکہ اقتصادی شریانیں ہیں،جن میں تجارت کاخون دوڑے گااور علاقائی معیشت کوحیاتِ نوبخشے گا۔اس اقدام سے پاکستان خودکوایک ایسے پل کے طورپرپیش کررہاہے جومشرق اورمغرب،جنوب اور شمال کے درمیان رابطے کاذریعہ بن سکتاہے۔
ایران میں 28فروری سے جاری جنگ اورآبنائے ہرمزمیں امریکی ناکہ بندی نے ایران کی معیشت کوایک ایسے حصارمیں قیدکرکے اس کی شہہ رگ کوگویادبا دیاہے جہاں نہ صرف ہرراستہ مسدوددکھائی دیتاہے بلکہ سانس لینابھی دشوارہوچکاہے۔سمندرجوکبھی وسعت کا استعارہ تھا،اب پابندی کانشان بن چکاہے۔ تجارت کےدربندہوں توریاستیں صرف معیشت نہیں بلکہ اپنے عوام کے حوصلے بھی کھوبیٹھتی ہیں۔ایسے میں پاکستان کایہ فیصلہ ایک ایسادروازہ کھولنے کے مترادف ہے جوبندگلی میں امیدکی ایسی کھڑکی ہے جس سے تازہ ہواکا جھونکااندرداخل ہوسکتاہے۔یہ اقدام محض اقتصادی سہولت نہیں بلکہ ایک راست مؤقف بھی ہے اورانسانی ہمدردی اورایک اسلامی تصورِاخوت کی جھلک بھی ہے،جہاں ہمسائیگی محض جغرافیائی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔مشکل کی گھڑی میں ہمسایہ ہاتھ تھامتے ہیں،منہ نہیں موڑتے۔اوریہی وہ پہلوہے جواسے ایک اخلاقی وزن عطاکرتاہے اورسیاسی بصیرت کا حسین امتزاج نظرآتا ہے۔
یہ فیصلہ محض سیاسی حکمت نہیں بلکہ ایک اسلامی تصورِاخوت کی جھلک بھی رکھتاہے،جہاں ہمسائیگی محض جغرافیائی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ جب بندرگاہیں خاموش ہو ائیں اورسمندرراستہ دینےسے انکارکردے،تب خشکی کی راہیں ہی امید کا چراغ بنتی ہیں۔ایسے میں پاکستان کی جانب سے یہ انسانی ہمدردی کے تحت سہولت فراہم کرناایک ایسانیک عمل ہے جوایرانی اپنی تاریخ کا روشن باب سمجھ کراس کی ہمیشہ قدرکریں گے۔
عالمی اصولوں کے مطابق لینڈلاک ممالک اپنی تجارت کیلئےدیگرممالک اوربالخصوص پڑوسی ریاستوں کے رحم وکرم پرہوتے ہیں اور ان کی بندرگاہوں پر انحصاران کی معاشی زندگی کی مجبوری ہوتاہے۔اگرچہ ایران ایک ساحلی ملک ہے،مگرموجودہ حالات نےاسےعملاً ایک لینڈ لاک ریاست میں بدل دیاہے۔ ایران،جوکبھی اپنی بندرگاہوں کےذریعے عالمی منڈیوں سے جڑاہوا تھا ،اب حالات کےجبرسےایک ایسے مقام پرآ کھڑاہواہے جہاں اسے متبادل راستوں کی ضرورت ہے۔اورایسے میں ہمسایہ ممالک کاکردارفیصلہ کن ہوجاتاہے۔
یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت کی یاددلاتی ہے کہ جغرافیہ جامدنہیں ہوتا،وہ سیاست کے ہاتھوں بدلتارہتاہے۔جب سمندرراستہ نہ دے،تو خشکی اپنی آغوش کھول دیتی ہے۔پاکستان کایہ اقدام اس حقیقت کوتسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ جغرافیہ کبھی کبھی سیاست کے سامنے جھک جاتاہے،پاکستان نے اس حقیقت کوسمجھتے ہوئے ایران کیلئےاپنے دروازے واکیے ہیں، گویااس نے اپنے جغرافیے کوایک وسیلۂ رحمت بنادیاہو۔اس تناظرمیں پاکستان کاکردارایک ایسے ہمسائے کاہے جووقتِ ضرورت دروازہ بندکرنے کی بجائے چراغ جلادیتاہے۔
پاکستان کی جانب سے امریکااورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں پہلے ہی جاری تھیں۔ایسے میں یہ تجارتی راہداری ایک خاموش سفارتی اشارہ ہے،ایک ایسااشارہ جوالفاظ سے زیادہ عمل کی زبان میں مؤثربات کرتاہے۔سفارتکاری کاکمال یہی ہے کہ وہ شورکے بغیراثرپیداکرے۔یہ اقدام اعتمادسازی کی ایک اینٹ ہے،جس پرمستقبل کے تعلقات کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاراسے اعتمادسازی کاایک اہم قدم قراردیتے ہیں،کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں اکثروہی اقدامات دیرپاثابت ہوتے ہیں جوعملی بنیادوں پراٹھائے جائیں۔یہ اقدام سفارتکاری کے اس اصول کی یاددلاتاہے کہ بعض اوقات خاموش خدمات بلند ترین خطبات سے زیادہ اثررکھتی ہیں۔گویاسیاست اگرحکمت سے خالی ہوتومحض شوررہ جاتی ہےاورپاکستان نے اس شورمیں حکمت کی آواز پیداکی ہے۔
وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق پاکستان اس اقدام سے نہ صرف علاقائی تجارت کوفروغ اوراقتصادی مرکزبننے کی جانب گامزن اورایک لاجسٹکس حب میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا بلکہ پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا۔گوادر،کراچی اور تافتان کوٹرانزٹ کوریڈورز قراردینااس بات کااعلان ہے کہ پاکستان اب محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ایک مرکز بننے کی خواہش رکھتا ہے اوراپنی جغرافیائی حیثیت کومعاشی قوت میں تبدیل کرناچاہتاہے۔یہ وہی خواب ہے جوصدیوں پہلے شاہراہِ ریشم کے قافلوں نے دیکھا تھاکہ یہ خطہ دنیاکی تجارت کادل بن سکتاہے۔آج پاکستان اسی خواب کی تعبیرکی طرف قدم بڑھارہاہے۔یہ بروقت فیصلہ دراصل پاکستان کے جغرافیے کواقتصادی تقدیرمیں بدلنے کی ایک کوشش ہے۔
پاکستان اورایران کے درمیان909کلومیٹرطویل سرحدمحض ایک حد بندی نہیں بلکہ تہذیبوں کاسنگم اورربط کی علامت ہے۔تافتان،گبد اورمندجیسے راستے صدیوں سے قافلوں کی گزرگاہ اور تاجروں کے قدموں کی چاپ سنتے آئے ہیں۔یہ وہ راستے ہیں جن پرکبھی اونٹوں کی گھنٹیاں بجتی تھیں،آج یہی راستے جدید تجارت کی شاہراہیں بننے جارہے ہیں،آج انہی شاہراہوں پر ٹرکوں کے قافلے چلیں گے۔فرق صرف رفتارکاہے،مقصدکانہیں کہ تجارت ہمیشہ قوموں کو جوڑتی ہے،توڑتی نہیں۔گویاتاریخ خودکونئے قالب میں ڈھال رہی ہے۔یہ سرحد نہیں،دو تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ ہےجوکبھی رکانہیں،صرف بدلتا رہاہے۔
اگرجغرافیہ تقدیرکاپہلاباب ہے تورسائی اُس کی تکمیل کاآخری مصرع۔ایران کیلئےکھولی گئی یہ تجارتی راہداری دراصل پاکستان کیلئےوسطی ایشیاکے دروازوں پردستک ہے۔یہ وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال،مگرسمندری راستوں سے محروم رہاہےاور یہی محرومی اسے راہداریوں کامحتاج بناتی ہے۔یہ راہداری مستقبل میں پاکستان کیلئےوسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا دروازہ کھول سکتی ہے۔پاکستان کایہ اقدام گویاایک تیرسے دوشکارکے مترادف ہے۔یہ اقدام صرف ایک فوری ضرورت کاجواب نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کاحصہ ہے ، ایسی حکمت عملی جوپاکستان کوعلاقائی تجارت کے مرکزمیں لاسکتی ہے۔
بظاہریہ سہولت ایران کیلئےہے،مگردرحقیقت یہ راستہ تاشقند،سمرقنداوربخاراکے دروازوں تک جاپہنچتاہے۔یہ وہی سرزمین ہے جہاں کبھی ریشم،مصالحہ جات اورعلم کےقافلے گزرتے تھے ۔آج اگروہی راستے جدید شاہراہوں میں ڈھل جائیں توتاریخ ایک بارپھراپنےآپ کو دہراسکتی ہےمگراس باردائرہ وسیع تررفتار ہوگا۔قومیں جب اپنے جغرافیےکوپہچان لیتی ہیں توفاصلےسمٹ جاتے ہیں اورسرحدیں راستوں میں بدل جاتی ہیں۔گویایہ قدم صرف ایک ملک کیلئےنہیں بلکہ پورے خطے کیلئےامکانات کی نئی صبح لےکرآیاہے۔
یہ اقدام کسی اچانک واردہونے والے خیال کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی تسلسل کی کڑی ہے۔2008میں پاکستان اورایران کے درمیان سڑک کے ذریعے تجارت کامعاہدہ طے پایا ،جبکہ2006میں ٹرانزٹ آرڈرجاری کیاگیا،یہ دونوں معاہدے گویااس فیصلےکی بنیاد ہیں اورپاکستان اپنی تجارتی پالیسیوں کا تسلسل برقراررکھناچاہتاہے۔اب2026میں انہی بنیادوں پرایک نئی عمارت تعمیرکی جارہی ہے۔یہ وہ تسلسل ہے جوقوموں کوسنجیدگی عطاکرتاہے،ریاستوں کواستحکام بخشتاہے اورعالمی برادری میں ان کی ساکھ کومضبوط کرتاہے کیونکہ پالیسیوں کاتسلسل ہی ریاستی وقارکاضامن اورریاستوں کواستحکام بخشتاہے۔
یادرہے کہ یہ فیصلے یکایک نہیں اُگتے،یہ تاریخ کی زمین میں برسوں پہلے بوئے گئے بیج ہوتے ہیں،جووقت آنے پرثمردیتے ہیں۔یہاں یہ امربھی قابلِ غورہے کہ پاکستان نے محض معاہدے کیے نہیں بلکہ انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق زندہ رکھااوریہی زندہ قوموں کی پہچان ہے۔پاکستان نے ثابت کیاہے کہ تاریخ کے اوراق صرف محفوظ رکھنے کیلئےنہیں بلکہ وقت آنے پرانہیں عمل کی روشنائی سے دوبارہ لکھنے کیلئےہوتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد وہ سکہ ہے جوہربازارمیں چلتاہے،مگراسے کماناآسان نہیں ہوتا۔پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کیلئےبینکنگ شرائط میں نرمی کرکے اوراب ٹرانزٹ سہولت فراہم کرکے ایک ایساماحول پیداکیاہے جس میں باہمی اعتمادپروان چڑھ سکتاہے۔تجارت دراصل تعلقات کی وہ زبان ہے جسے ہرقوم سمجھتی ہے۔یہ اقدام محض اقتصادی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہےکیونکہ قومیں صرف مفادات سے نہیں،اعتمادسے جڑتی ہیں۔ایران کے عوام میں پاکستان کیلئےخیرسگالی کاجذبہ بھی اسی عمل سے فروغ پائے گا۔اسے یوں فکری اندازمیں کہاجاسکتاہے کہ معیشت اگراخلاق سے جڑی ہوتووہ محض دولت کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ جہاں تجارت کایہ بہاؤ تعلقات کی زمین کوزرخیزبنائے گاوہاں یہ تعلقات کی تعمیرکامضبوط وسیلہ بھی بن جاتاہے۔یہ اقدام سیاسی زبان میں ایک مثبت پیغام ہے۔
اگرچہ ایران توانائی کے وسائل سے مالامال ہے،اوردنیاکے بڑے تیل اورگیس پیدا کرنے والے ممالک میں شمارہوتاہے،مگرعالمی پابندیوں نے اس کی اقتصادی قوت کو محدود کردیاہے۔پاکستان،جواپنی توانائی کی ضروریات کیلئے دیگرخلیجی ممالک پرانحصار کرتا ہے، اوراس صورتحال میں ایک محتاط توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کایہ اقدام حقیقت پسندی پرمبنی ہے،وہ براہِ راست تجارت کے بجائے سہولت فراہم کررہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی پالیسی میں حقیقت پسندی جھلکتی ہے۔پاکستان کایہ قدم براہِ راست تجارت نہیں بلکہ سہولت فراہم کرناہے ، جو بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں آتاہے۔ وہ براہِ راست توانائی کے شعبے میں ایران سے وابستگی بڑھانے کی بجائے ایک ایسا راستہ اختیارکررہاہے جوقانونی اورسفارتی حدودمیں بھی ہواورفائدہ مندبھی۔یہ سیاست کی وہ لطیف جہت ہے جہاں اصول اورمفاد ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔اسے سفارتی رنگ میں یوں کہاجاسکتاہے کہ حکمت وہی ہے جوحالات کے ساتھ ٹکرانے کی بجائے انہیں اپنے حق میں موڑ لے۔
جب رسمی بینکنگ نظام پابندیوں کے بوجھ تلے دب جائے توتجارت اپنے لیے نئے راستے تراشتی ہے۔پاکستان اورایران کے درمیان بارٹرسسٹم اسی تخلیقی مزاحمت کی ایک مثال ہے، جس کے تحت اشیاءکے بدلے اشیاءکاتبادلہ جاری رہا۔یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ جب رسمی راستے بندہوں توغیررسمی راستے جنم لیتے ہیں اوریہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایسی صورت میں قومیں نئے راستے تلاش کرلیتی ہیں۔یہ نظام بظاہرقدیم محسوس ہوتاہے،مگردرحقیقت یہ جدیدمعاشی جمودکے خلاف ایک عملی حل ہے۔یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ معیشت کا پہیہ صرف کرنسی سے نہیں بلکہ ضرورت سے چلتاہے۔اسے شگفتہ نثرمیں یوں کہاجاسکتا ہےکہ جب سکّے خاموش ہوجائیں توضرورت خودزبان بن جاتی ہے،اورتجارت اپنی نئی لغت ترتیب دیتی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیاپاکستان عالمی پابندیوں کے باوجودایران کوٹرانزٹ سہولت فراہم کرسکتاہے؟اس کاجواب بین الاقوامی قانون میں پوشیدہ ہے ۔ اقوامِ متحدہ کےقوانین کے تحت ٹرانزٹ فراہم کرناایک جائزعمل ہےاورسمندری قوانین کے تحت کسی ایسے ملک کو،جوعملی طورپرلینڈلاک ہوچکاہو،تجارتی راہداری فراہم کرناایک جائزعمل ہے۔پاکستان نے اسی قانونی بنیادکوپیشِ نظررکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایاہے،جس سے اسے عالمی دباؤکاسامنانہیں کرناپڑے گا ۔یہ فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا خیال رکھتا ہے بلکہ عالمی قوانین کی پاسداری کوبھی مقدم جانتاہے۔اسے سفارتی اورفکری سانچے میں یوں کہاجاسکتاہے کہ عدل وہی ہے جواصولوں پرقائم ہو،اورسیاست وہی پائیدارہوتی ہے جو انصاف کے دائرے سےباہرنہ جائے۔
پاکستان کی جانب سے ایران کیلئےتجارتی راہداریاں کھولنے کے اعلان پرامریکاکی طرف سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔بظاہریہ خاموشی ایک معمولی امرمحسوس ہوتی ہے،مگر سفارتکاری کی دنیامیں خاموشی بھی ایک زبان رکھتی ہےاوراکثراوقات یہ زبان الفاظ سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔یہ عدمِ ردعمل اس امرکی طرف اشارہ کرتاہے کہ پاکستان نےاپنے اس فیصلے میں نہ صرف قانونی تقاضوں کوملحوظ رکھابلکہ عالمی طاقتوں کوبھی پیشگی اعتمادمیں لیا۔گویایہ اقدام کسی جذباتی جوش کانتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچاسمجھا ،نپاتلاقدم ہے۔
ایران میں جنگ کے باعث ادویات اوردیگرضروری اشیاءکی قلت پیداہوچکی ہے،اورپاکستان کے ذریعے انہی اشیاءکی ترسیل ممکن ہو گی جوعالمی پابندیوں کی زد میں نہیں آتیں۔یہ پہلواس فیصلے کوایک انسانی جہت بھی عطاکرتاہےکہ تجارت یہاں محض منافع کاکھیل نہیں بلکہ انسانی ضرورت کی تکمیل کاوسیلہ بھی ہے۔ اسے بھی سفارتی اورانسانی ہمدردی کی زبان میں یوں کہاجاسکتاہے کہ خاموشی اگر حکمت سے لبریزہوتووہ خودایک تقریربن جاتی ہے،جسے سمجھنے کیلئےالفاظ کی نہیں،بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
امریکاکی جانب سے تاحال کوئی ردعمل نہ آنااس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہ اقدام عالمی اصولوں کے مطابق ہے۔اب تک امریکا کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا،جو اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہ اقدام نہ صرف عالمی سطح پرقابلِ قبول دائرے میں ہے بلکہ عالمی اصولوں کےمطابق ہے۔
اقتصادی ماہرین اس اقدام کوپاکستان کے اس دیرینہ خواب کی تعبیرکی طرف ایک اہم قدم قراردیتے ہیں جس کے تحت وہ علاقائی تجارت کامرکزبنناچاہتاہے ۔اقتصادی ماہرین اسے ایک سٹریٹیجک پیش رفت قراردیتے ہیں۔یہ ایک ایساخواب ہے جس کی تعبیرپورے خطے کی تقدیربدل سکتی ہے اوریہ خواب محض اقتصادی نہیں بلکہ جغرافیائی حقیقتوں میں پیوست ہے۔پاکستان ایک ایسے مقام پرواقع ہے جہاں جنوب ایشیا،مشرقِ وسطیٰ اوروسطی ایشیاکی سرحدیں ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتی ہیں۔اگراس محلِ وقوع کومؤثرحکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیاجائے تویہ خطہ عالمی تجارت کے نقشے پرایک نمایاں مقام حاصل کرسکتاہے۔گویایہ سرزمین اگراپنی حیثیت کوپہچان لے توقافلے اس کے درپرخوددستک دیں گے،اورراستے اس کے نام سے پہچانے جائیں گے۔
پاکستان–ایران ٹرانزٹ راہداری کے عملی آغازکے ساتھ ہی پہلی تجارتی کھیپ ایران کے راستے تاشقند،ازبکستان روانہ کی گئی۔یہ واقعہ اس امرکاثبوت ہے کہ یہ منصوبہ محض کاغذی نہیں بلکہ عملی حقیقت میں ڈھل چکاہے۔کراچی سے گبداوررامیدان بارڈرکے راستے ایران میں داخل ہونے والایہ سامان دراصل اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں تجارت کے نئے در کھل رہے ہیں۔یہ ایک علامتی سفر بھی ہےجویہ پیغام دیتاہے کہ اگرارادہ پختہ ہوتو فاصلے رکاوٹ نہیں بنتے۔ اسےفکری انداز میں میں یوں کہاجاسکتاہے کہ عمل وہ معیار ہے جودعوؤں کو حقیقت میں بدلتاہے،اورقومیں اسی سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہ اپنے ارادوں کوکس حدتک عملی جامہ پہناتی ہیں۔
2018ءمیں پاکستان اورایران کے درمیان یہ اتفاق ہواتھاکہ ایران کے راستے ترکی تک اورپاکستان کے راستے چین تک تجارتی راہداری کھولی جائے گی۔یہ معاہدہ دراصل ایک وسیع تر اقتصادی نیٹ ورک کی بنیادہے،جس میں پوراخطہ ایک دوسرے سے جڑسکتاہے۔اگر ایران پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی تجارت میں حصہ لیتاہے توپاکستان بھی ایران کے راستے وسطی ایشیااوریورپ تک رسائی حاصل کرسکتاہے۔یہ باہمی انحصاردراصل علاقائی استحکام کا ضامن بن سکتاہے۔اسے سفارتی اسلوب میں یوں کہاجاسکتاہے کہ راستے جب ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں تووہ صرف فاصلے کم نہیں کرتے بلکہ دلوں کوبھی قریب لے آتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں وسطی ایشیا تک زمینی رسائی کیلئےافغانستان پرانحصار کرتارہاہے،مگروہاں کی غیر یقینی صورتحال اورسیاسی کشیدگی نے اس راستے کوغیرمستحکم بنادیاہے۔گزشتہ سال سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باعث گزرگاہیں بندہیں،جس سے تجارت شدیدمتاثرہوئی جس نے پاکستان کومتبادل راستوں کی تلاش پرمجبورکیاکہ ایران کے ذریعے یہ خلاپُر ہو سکتاہے اورتجارت کوتسلسل مل سکتاہے۔ایسے میں ایران کے ذریعے متبادل راستہ تلاش کرناایک ناگزیرحکمت عملی تھی۔یہ اقدام پاکستان کو ایک زیادہ محفوظ اورقابلِ اعتمادتجارتی راستہ فراہم کرسکتاہے،ایساراستہ جوسیاسی اتارچڑھاؤسے نسبتاً محفوظ ہو۔گویاجب ایک دربندہو جائے تودانشمند وہی ہے جودیوارمیں دروازہ تلاش کرے،نہ کہ بند درکے سامنے بیٹھ کرماتم کرے۔
آبنائے ہرمزکی بندش کے دوران کئی جہازپاکستان کی بندرگاہوں پرلنگراندازہوئے،جس سے کراچی کی بندرگاہوں پرکارگوہینڈلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ عالمی تجارتی جہازوں کی آمدنے یہ واضح کردیاکہ یہ بندرگاہیں خطے کی معیشت میں کلیدی کرداراداکرسکتی ہیں۔یوں بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ایک معاشی مرکزبننے کی راہ پرگامزن ہے۔اب ایران کیلئےتجارتی راہداری کھلنے کے بعدیہ سرگرمیاں مزیدتیزہونے کی توقع ہے۔ گوادراورکراچی کی بندرگاہیں محض ساحلی مقامات نہیں رہیں بلکہ وہ معاشی سرگرمیوں کےمراکزبننے جارہی ہیں۔۔یہ بندرگاہیں اب محض ساحلی مقامات نہیں بلکہ اقتصادی زندگی کی دھڑکن بن رہی ہیں۔یہ وہ دھڑکنیں ہیں جن سے معیشت کاجسم زندہ رہتاہے۔گویاسیاسی دانش کایہ بروقت فیصلہ درست ثابت ہواکہ معیشت کی قوت اس کے بہاؤ میں ہوتی ہے،اورجہاں بہاؤرک جائے وہاں زوال جنم لیتاہےیہ اقدام اسی بہاؤکوبرقراررکھنے کی ایک کوشش ہے۔اب اس فیصلے کے بعد ان میں مزید تیزی آئے گی۔
یہ ساری داستان محض راہداریوں،بندرگاہوں اورمعاہدوں کی نہیں بلکہ ایک قوم کےشعورکی کہانی ہے،ایک ایسی قوم جواپنے محلِ وقوع کواپنی تقدیرمیں بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔پاکستان نے ایران کیلئےتجارتی راہداری کھول کرنہ صرف ایک ہمسائے کی مدد کی ہے بلکہ اپنے لیے بھی امکانات کے درواکیے ہیں ۔یہ اقدام سیاست،معیشت اوراخلاق تینوں کاایک حسین امتزاج ہے۔یہ فیصلہ محض ایک اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہےکہ پاکستان اپنے جغرافیے کواپنی تقدیربنانے کی صلاحیت رکھتاہے۔
اگرنیت میں اخلاص اورحکمت میں توازن قائم رہا،ااوریہ پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تووہ دن دورنہیں جب پاکستان واقعی علاقائی تجارت کامرکزبن جائے گااورتب تاریخ یہ لکھے گی کہ ایک قوم تھی جس نے اپنے جغرافیے کوپہچانا،اسے سنوارا،اورپھراسے اپنی تقدیربنالیااوریہی وہ لمحہ تھاجب جغرافیہ اللہ کی بیش بہانعمت ثابت ہوااورزمین نے تاریخ کوجنم دیا۔
یہ فیصلہ محض راہداری کھولنے کانہیں بلکہ امکانات کے درواکرنے کاہے۔اس میں سیاست کی بصیرت،معیشت کی ضرورت اورتہذیب کی شائستگی تینوں یکجاہیں ۔ اگرتاریخ کوغورسے دیکھاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ اقوام وہی زندہ رہتی ہیں جواپنے جغرافیے کوتقدیرمیں بدلناجانتی ہیں۔پاکستان نے اس اقدام کے ذریعے یہی پیغام دیاہے کہ وہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک راستہ ہےایک ایساراستہ جو مشرق ومغرب کوملاتاہے،اورجس پرچل کرخطۂ ایشیاایک نئی صبح کی طرف بڑھ سکتاہے۔