اسلام اوریورپ کاایک زیادہ مکمل بیانیہ
دی اکانومسٹ نے12ستمبر2026ءکے شمارے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون«یورپ میں اسلام کی حقیقت»میں بجاطورپر اس خیال کی تردیدکی کہ یورپ پراسلام کاغلبہ ہونے والاہے۔مگربات یہاں تمام نہیں ہوتی۔قارئین کاحق ہے کہ وہ اسلام کوصرف اس خوف کی روشنی میں نہ دیکھیں جواس کے نام سے پیداکیاجاتاہے،بلکہ ان اصولوں سے بھی واقف ہوں جن کی بنیادپراسلام خود اپنے ماننے والوں کے عمل کوپرکھتاہے۔
جب کسی مذہب کاذکرزیادہ تراس کےبارے میں پھیلےہوئےاندیشوں اوراس کے نام پرہونے والی زیادتیوں کے حوالےسےکیا جائے توبحث کادامن تنگ ہوجاتا ہے۔ اندیشے مخلصانہ بھی ہوسکتے ہیں،اورزیادتیاں ایسی حقیقت ہیں جن کاسامناکرنالازم ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی چیزتنہااسلام کامکمل تعارف نہیں بن سکتی۔ صحافت کافرض اگراقتداراورطاقت کامحاسبہ ہے تویہ بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ کسی تہذیبی روایت کے بنیادی اصول نگاہ سے اوجھل نہ ہونے پائیں۔
قرآنِ مجید عدل کواخلاقی زندگی کےمرکزمیں رکھتاہے۔وہ اہلِ ایمان کوحکم دیتاہے کہ انصاف پرقائم رہیں،خواہ گواہی خودان کےاپنےخلاف ہویاوالدین اور عزیزوں کے خلاف (4:135)۔وہ یہ بھی متنبہ کرتاہے کہ کسی قوم کی دشمنی انہیں انصاف سے نہ ہٹادے (5:8)۔یہ آسان نصیحتیں نہیں؛خصوصاًاس وقت جب غصہ اورعصبیت زیادہ سہل راستہ دکھاتے ہوں۔ان احکام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ کسی مسلمان کے جرم پراس کی مذہبی شناخت کے باعث پردہ ڈال دیاجائے،یاکسی غیرمسلم مظلوم کے حق کوکمترسمجھاجائے۔
عقیدےکےباب میں بھی یہی اصولی سنجیدگی دکھائی دیتی ہے۔قرآن اعلان کرتاہے کہ دین کے معاملے میں جبرنہیں (2:256)۔ وہ انسانوں کومختلف قوموں اورقبیلوں میں بٹے ہوئے ایسے لوگ قراردیتاہے جوایک دوسرے کوپہچان سکتے ہیں،اورفضیلت کی بنیادنسب کی بجائے کردارکوبناتاہے(49:13)۔وہ ان لوگوں کے ساتھ نیکی اورانصاف سے منع نہیں کرتاجو مسلمانوں سے دین کی وجہ سے جنگ نہیں کرتے اورانہیں ان کےگھروں سے نہیں نکالتے(60:8)۔ان آیات کے ذکرسے اسلامی تاریخ یافقہ کا ہراختلاف ختم نہیں ہوجاتا۔مگراسلام کی تعلیمات کادیانت دارانہ بیان ان کےبغیربھی مکمل نہیں ہوسکتا۔مسلمانوں سے منسوب خطرات گنوائے جائیں اوردین کے یہ روشن اصول پس منظرمیں رکھ دیے جائیں توتصویرکے وہ نقوش مٹ جاتے ہیں جن سے اس کی اصل صورت پہچانی جاسکتی ہے۔
یورپ کایہ سوال بجاہے کہ مذہبی وابستگی،ملکی قانون،مساوی شہریت اورآزادیِ ضمیرکے ساتھ کس طرح نبھ سکتی ہے۔ مسلمانوں کواس کاصاف جواب دیناچاہیے ۔ کسی خاندان،مدرسے، خیراتی ادارے یامذہبی تنظیم کویہ حق نہیں کہ اختلاف کرنے والوں کودھمکائے،زیادتی پرپردہ ڈالے یاکمزورافرادکوقانون کےتحفظ سے محروم رکھے۔کسی لڑکی کے ساتھ ظلم کرنے والوں کا مذہب اس کے حقِ انصاف میں حائل نہیں ہوسکتا۔جومسلمان اپنے گردوپیش کی مذہبی قیادت سے اختلاف کرے،اس کی آزادی اورسلامتی بھی دوسرے شہریوں ہی کی طرح محفوظ ہونی چاہیے۔یہ مطالبات مساوی شہریت کاتقاضا ہیں؛اوراس قرآنی تعلیم سے بھی ہم آہنگ ہیں جواپنے لوگوں سے وفاداری پرانصاف کومقدم رکھتی ہے۔
تاہم محاسبہ اس وقت اپنی دیانت کھوبیٹھتاہے جب چندافرادکی بداعمالی وہ مستقل کسوٹی بن جائے جس پرلاکھوں انسانوں کو پرکھاجائے۔یورپ کی سیاسی روایت کوکوئی سنجیدہ مؤرخ صرف مذہبی جنگوں،نوآبادیاتی اقتداریاظلم وتعصب کے ادوارسے متعین نہیں کرے گا۔اس تاریخ کوبیان کرناضروری ہے؛اتناہی ضروری ان اصولوں اوراصلاحی کوششوں کوسمجھناہے جن کے ذریعے اہلِ یورپ نے اپنی خطاؤں سے نبردآزماہونے کی کوشش کی۔اسلام کے مطالعے میں بھی یہی علمی انصاف درکارہے: نہ اسے تنقیدسے بالاتررکھاجائے،نہ اس کی پوری روایت کواس کے تاریک واقعات میں محصورکردیاجائے۔
مذہب اورکسی سیاسی تحریک کے درمیان فرق مفید ہوسکتاہے،مگرمحض نام رکھ دینے سے معاملہ واضح نہیں ہوتا۔’’اسلام ازم‘‘کے عنوان میں نہایت مختلف دعوے اورجماعتیں سمودی جاتی ہیں۔تنقیدکوبتاناچاہیے کہ زیرِبحث عمل کیاہے:کیاکوئی گروہ لوگوں پرجبرکررہاہے،عوامی اختیارکاغلط استعمال کررہاہے، جمہوری طریقے سے قانون میں تبدیلی چاہتاہے،یامحض ایسے عقائدکا اظہار کررہاہے جن سے دوسرے اختلاف رکھتے ہیں؟ان سوالات سے شواہدکی طرف پیش قدمی ہوتی ہے اورعلاج بھی مسئلے کے مطابق تجویزکیاجاسکتاہے۔مبہم اصطلاح،اس کے برعکس ، ایک مسلمان کی جائزشہری شرکت کوبھی محض اس کی نمایاں مذہبی شناخت کے باعث مشتبہ بناسکتی ہے۔
انضمامِ معاشرت کی بحث میں بھی یہی احتیاط درکارہے۔ہرباشندے سے قانون کی پابندی اوردوسروں کے حقوق کے احترام کی توقع معقول ہے۔مگریہ کہنامعقول نہیں کہ مسلمان اپنی وفاداری ثابت کرنے سے پہلے اپنی مذہبی شناخت کونظروں سے اوجھل کردیں۔یورپی معاشروں نے طویل عرصے سے عقائداورطرزِ زندگی کےگہرے اختلافات کیلئےجگہ پیداکی ہے۔ان کے اداروں کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ یہ آزادی سب کیلئےیکساں طورپرمحفوظ رکھ سکیں:دیندار کیلئے بھی، غیرمذہبی شخص کیلئےبھی، اقلیت کے اندراختلاف کرنے والےکیلئےبھی،اوراس فردکیلئےبھی جواپنی جماعت سے الگ ہوناچاہتاہو۔
اخلاقی امورمیں اختلاف کونقصان پہنچانےکی اجازت بھی نہیں سمجھناچاہیے۔مذہبی اہلِ فکراورغیرمذہبی شہری،جنسی اخلاقیات ،خاندانی زندگی اوراجتماعی معاملات میں مذہب کےمقام پرگہرا اختلاف رکھ سکتے ہیں۔جمہوری معاشرہ انہیں اپنے دلائل پیش کرنے کی آزادی دیتاہے؛ساتھ ہی ہرشخص کودھمکی،ہراسانی اورتشددسےتحفظ بھی فراہم کرتاہے۔حدِفاصل عمل ہے،اور قانون کواس حدکانفاذسب کیلئےیکساں کرناچاہیے۔مسلمان شہریوں سے اس کی پابندی کامطالبہ کیاجاسکتاہے،مگراس شرط پرنہیں کہ وہ اپنے مذہبی یقین کی بنیاد پراستدلال کاحق چھوڑدیں۔
تاریخ نہ تویورپ کواس بقائے باہمی سے مایوس ہونے کاجوازدیتی ہے،نہ یہ گمان کرنے کاکہ وہ کسی کوشش کے بغیرقائم رہے گی۔مسلم اوریورپی معاشروں کے تعلقات میں جنگ اورغلبے کے باب بھی ہیں،مگرتجارت،علم، سفارت اورروزمرہ ہمسائیگی کی داستانیں بھی ہیں۔صرف تصادم کویادرکھناتاریخ کے ایک حصے کوپوری تاریخ بنادیناہے۔ماضی کوبےعیب قراردینابھی اتنا ہی بے سودہوگا۔اس سے حاصل ہونے والاسبق زیادہ کڑاہے:گہرے اختلاف رکھنے والے لوگ ایسے ادارے بناسکتے ہیں جو طاقت کوحدودمیں رکھیں اورایک دوسرے کیلئےجگہ پیدا کریں۔
یہ پالیسی کاسوال بھی ہے۔حکومتوں کوزیادتی پرقانونی کارروائی کرنی چاہیے،اختلاف کرنے والوں کوتحفظ دیناچاہیےاور قانون کوکسی امتیازکے بغیرنافذکرنا چاہیے۔انہیں مسلمان عورتوں اور مردوں کی متنوع آوازیں سننی چاہییں،چندمنتخب چہروں کوسب کانمائندہ قرارنہیں دے دیناچاہیے۔انہیں نہ تعصب کے الزام کے خوف سے جبرکونظراندازکرناچاہیے،نہ ہرمسجد، مدرسے یا انجمن کوسازش کی نگاہ سےدیکھناچاہیے۔دونوں روشیں ان اداروں پراعتمادکمزورکرتی ہیں جن کے بغیر منصفانہ حکمرانی ممکن نہیں۔
صحافت پربھی اس باب میں ذمہ داری عائدہوتی ہے۔اسے انتہاپسندی اورادارہ جاتی ناکامیوں کی خبرکسی مصلحت آمیزپردے کےبغیردینی چاہیے۔مگراسے قارئین تک یہ بات بھی پہنچانی چاہیے کہ اسلام عدل،ضمیراوردوسروں کے ساتھ برتاؤکے متعلق کیاتعلیم دیتاہے۔مسلمانوں کومحض ایک’’مسئلے‘‘کے طورپر زیرِ بحث لانے کی بجائے شہریوں کی حیثیت سے اپنی بات کہنے کاموقع بھی ملناچاہیے۔یہ موافقانہ کوریج کامطالبہ نہیں؛یہ مکمل کوریج کامطالبہ ہے۔
کسی مذہب کے اصول نگاہوں سے پوشیدہ رکھ کراس سے منسوب خطرات کومسلسل نمایاں نہیں کیاجاسکتا۔قارئین آئینے کا دوسرارخ دیکھنے اورپھرآزادانہ، تنقیدی رائے قائم کرنے کاحق رکھتے ہیں۔ممکن ہے انہیں اس رخ پرایسا مذہب نہ ملے جو سوال سے بالاترہو؛البتہ ایک ایسی اخلاقی روایت ضرورملے گی جس سے یورپ استدلال کرسکتاہے،اختلاف کرسکتاہے اور جس کے ماننے والوں کے ساتھ مشترکہ شہری زندگی بسر کرسکتاہے۔دیانت دارصحافت کواس ملاقات کی راہ ہموارکرنی چاہیے۔











