In whose hands are the scales?

ترازوکس کے ہاتھ میں؟

کسی قوم کی تہذیبی پختگی کااندازہ اس کے ایوانوں کی بلندی سے کم اوراس بات سے زیادہ ہوتاہے کہ وہ اپنے بارے میں ناخوش گوارسچ اوراپنے ہمسائے کے بارے میں خوشگوارسچ،دونوں سننے کی کتنی تاب رکھتی ہے۔جب معاشرے میں بے چینی بڑھتی ہے توایک آسان راستہ ہمیشہ سامنے آتاہے:کسی نمایاں اقلیت کواس بے چینی کانام دے دیاجائے۔یوں مسائل کی پیچیدہ تاریخ ایک چہرے میں سمٹ جاتی ہے؛ رہائش،غربت،تعلیم،تنہائی،جرائم اورسیاست کے جداجداسوالات ایک مذہب کے کھاتے میں درج ہونے لگتے ہیں۔اس سے بحث تو گرم ہوجاتی ہے،مگرحقیقت روشن نہیں ہوتی۔

دی اکانومسٹ کی زیرِبحث تحریرکے ساتھ انصاف کاپہلا تقاضایہ ہے کہ اس کی ہربات کوایک ہی رنگ میں نہ رنگاجائے۔دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں یہ بات صاف موجودہے کہ مسلمان،بحیثیتِ مسلمان،خطرہ نہیں ہیں۔مضمون سخت گیرسیاسی فکراورعام مسلمان کے درمیان فرق بھی قائم کرنے کی کوشش کرتاہے،اوریہ تسلیم کرتاہے کہ انتہاپسندانہ رویوں سے متاثر ہونے والوں میں مسلمان خودشامل ہیں۔اس امتیازکو نظراندازکرکے جواب لکھنابھی وہی غلطی ہوگی جس پررپورٹ کے بعض استدلات کوگرفت میں لیاجاناچاہیے۔

رپورٹ کی طاقت اسی سبب اس کی کمزوری بھی بن سکتی ہے:وہ ایک طرف عام مسلمان اورسیاسی انتہاپسندکے درمیان دیواراٹھاتی ہے، دوسری طرف واقعات کی ترتیب میں ایسے اشارے رکھتی ہے جن سے یہ دیوارقاری کی نگاہ میں باربارگرتی ہے۔ایک سروے کاجواب کسی تنظیم کے منشورکے پاس،تنظیم کامنشورمحلے کی آبادی کےپاس اورمحلے کی آبادی جرم کی خبرکے پاس رکھ دی جائے توہرشے دوسری کاثبوت معلوم ہونے لگتی ہے۔حالاںکہ تحقیق کاپہلافرض ان چیزوں کوالگ الگ جانچناہے۔ترتیب بھی استدلال کی ایک صورت ہے؛اس کے اثرکی ذمہ داری لکھنے والے پرعائدہوتی ہے۔

لیکن مسئلہ وہاں پیداہوتاہے جہاں تحریرکاابتدائی امتیازاس کے مجموعی تاثرمیں دھندلاجاتاہے۔تشددکی دھمکی،کسی تنظیم کے سیاسی مقاصد، ایک فردکی مذہبی رائے،محلے کی آبادی اوراسکول میں بچوں کی نسلی ساخت،سب ایک ہی سلسلۂ اندیشہ میں آتے جائیں توقاری کے ذہن میں ایک ایسانقش بن سکتاہے جوہرواقعے کے ثبوت سے کہیں بڑاہو۔کسی رپورٹ کاسوال صرف یہ نہیں ہوتاکہ اس کاہرجملہ الگ پڑھنے پر کیاکہتاہے؛یہ بھی ہوتاہے کہ پوری تحریرمل کرقاری کوکس نتیجے کی طرف لے جاتی ہے۔

یہیں اخبارکی ادارت کاایک پرانااصول یادآتاہے:خبرمیں خوف کاسبب بیان کیجیے،خوف کوسبب کی جگہ نہ بٹھائیے۔کسی مقامی تنازعے کی پوری تفصیل جاننےسےپہلےاسےپورے مذہب کےمستقبل کی علامت بنادیناقاری کی بصیرت سےزیادہ اس کی بے چینی کوخطاب کرتاہے۔ خودرپورٹ میں سفیدفام انتہاپسندی اورمسلمانوں کے خلاف تعصب کاذکرموجودہے؛اسی اعتراف کومتن کےباقی حصوں میں بھی یکساں وزن ملناچاہیےتھا۔

رپورٹ میں ایک ایسے اسکول کاذکرآتاہےجہاں،بیان کے مطابق،ایک بھی سفیدفام برطانوی بچہ نہیں۔اگریہ مشاہدہ درست ہے تواس پرسماجی تحقیق ہونی چاہیے۔ مختلف پس منظر کے بچوں کا باہم ملنا ایک صحت مند معاشرے کیلئےقیمتی تجربہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس مشاہدےسے کس کی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے؟اسکول میں پڑھنے والے بچوں کامذہب اس کے داخلوں کاضابطہ نہیں لکھتا۔نہ وہ اپنے علاقے میں مکانوں کی قیمتیں طے کرتے ہیں،نہ خاندانوں کی نقل مکانی،نہ اسکولوں کی گنجائش۔کسی اسکول کی ساخت سمجھنے کیلئےاس کے علاقے کی آبادی،درخواستوں کی تعداد،نشستوں،داخلے کے معیاراوروالدین کےانتخاب کو دیکھناہوگا۔انگلستان میں اسکول داخلوں کےقواعدموجودہیں؛نشستیں کم ہوں تومختلف ترجیحی اصول لاگو ہوسکتے ہیں،جبکہ مذہبی بنیادپر ترجیح بعض مخصوص مذہبی اسکولوں کے قواعدسے متعلق ہوسکتی ہے۔اس لیے کسی ایک جماعت کی تصویرسے یہ نتیجہ نکال لیناکہ مسلمان دوسروں کواپنے سے دوررکھناچاہتے ہیں،تحقیق کی منزل پرپہنچنے سے پہلے فیصلہ سنادیناہے۔

یہاں دوسری جانب بھی سوال اٹھانابجاہے۔کیاایسے اسکول ہیں جہاں مسلمان خاندانوں کوداخلے میں دشواری پیش آتی ہے؟اگرہیں تووجہ کیا ہے:گنجائش،رہائشی حدود،ترجیحی معیاریاواقعی امتیاز؟اس کاجواب مثالوں،درخواستوں اورفیصلوں کے ریکارڈسےنکلےگا۔محض«داخلے بند ہیں»سن لینامذہبی امتیازکاحتمی ثبوت نہیں؛مگرکسی خاندان کےساتھ امتیازہواہوتواسے ضابطے کےپردے میں چھپنےبھی نہیں دیناچاہیے۔ انصاف کی ایک ہی ترازوہوگی تواس پرسب کااعتمادقائم رہےگا۔

مل جل کررہنے کی خواہش کوبھی یک طرفہ حکم نہیں بنایاجاسکتا۔کسی نئے آنے والے سےیہ کہناآسان ہے کہ وہ معاشرےسےملے؛زیادہ مشکل سوال یہ ہےکہ معاشرےنےاسے کہاں،کس برابری اورکس احترام کےساتھ ملنے کی جگہ دی؟یہی سوال ہرگروہ کیلئےہے۔مشترک شہری زندگی محض مختلف آبادیوں کوایک نقشے پربسادینےسے پیدانہیں ہوتی۔وہ مشترک اسکولوں،مقامی اداروں،کام کی جگہوں اورروزمرہ ملاقاتوں میں پروان چڑھتی ہے۔

بریڈفورڈیابلیک برن کےکسی بچےکواپنے شہرکی نسلی ساخت ہی پورابرطانیہ دکھائی دیتی ہوتویہ تعلیمی اورسماجی رابطے کامسئلہ ہے۔ لیکن یہی اصول اس بچےپربھی لاگوہوگاجومسلمان ہم جماعت،استادیاہمسائے کوجاننے کے بغیراسلام کے بارے میں صرف خوفناک خبریں سنتاہے۔تعصب دونوں سمتوں میں لاعلمی سے غذاپاتاہے۔اس کاعلاج بچوں پرالزام رکھنانہیں، انہیں ایسی جگہیں دیناہے جہاں وہ دوسروں کو خبرکےعنوان کی بجائے انسان کےطورپرجان سکیں۔

رپورٹ میں جنسی استحصال،دھمکیوں اورعورتوں پردباؤ جیسے سنگین معاملات کاذکرہے۔ان میں کسی متاثرہ شخص کی تکلیف کوبحث کی سہولت کیلئےکم نہیں کیاجاسکتا۔ جنہوں نے جرم کیا، انہیں قانون کےسامنےجواب دیناچاہیے۔جن اداروں نےشکایت نظراندازکی،ان کی غفلت بھی سامنےآنی چاہیے۔کسی لڑکی کی سلامتی،کسی استادکی آزادی اورکسی مسلمان عورت کاحقِ انتخاب،سب یکساں سنجیدگی کےمستحق ہیں۔

تاہم فردکےفعل سےپورے مذہب کاکرداراخذ کرنادوسری ناانصافی کوجنم دیتاہے۔اگرکسی مجرم کی شناخت کوجرم کے اسباب میں شمارکیا جائے تواس دعوے کی جانچ بھی لازم ہے:کتنے واقعات،کس مدت میں،کس آبادی کے تناسب سے،کن یکساں جرائم کےمقابلے میں؟پولیس ریکارڈ،مقدمہ،سزااورجیل میں موجودگی الگ الگ پیمانے ہیں۔ان میں سے کسی ایک عددکواٹھاکرپوری آبادی کے اخلاق کافیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔دوسرے گروہوں میں بھی جرم ہوت ہے،کسی مخصوص جرم سے چشم پوشی کاجوازنہیں۔مظلوم کوحق دلانااوربے گناہ کواجتماعی الزام سے بچاناایک دوسرے کے مخالف کام نہیں۔

یہ اصول خودمسلم معاشرے کیلئےبھی اہم ہے۔اگرکسی گھرمیں عورت کی آوازدبائی جاتی ہے،اگرکوئی صاحبِ اثرشخص مذہب کےنام پر دھمکی دیتاہے،یاکوئی گروہ کمزورآدمی کوخوفزدہ کرتاہے تواسے اپنی برادری کی عزت کامسئلہ بناکرچھپانانہیں چاہیے۔عزت جرم کے انکار سے نہیں،مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے سے قائم ہوتی ہے۔اسلام کے دفاع کی معتبرصورت بھی یہی ہے کہ اس کے نام پرہونے والی زیادتی سے صاف انکارکیاجائے۔

یہاں اسلامی تاریخ کااخلاقی حوالہ بھی معنی رکھتاہے۔مدینہ کے معاشرتی تجربے کواس لیے یادکیاجاتاہے کہ اس میں مختلف گروہوں کے ساتھ عہداورذمہ داری کی زبان اختیارکی گئی؛بعدکی مسلم تاریخ میں علم،طب،فلسفے اورترجمے کی روایتیں بھی مختلف تہذیبوں سے مکالمے میں پروان چڑھیں۔اس تاریخ کوبے عیب زمانے کاقصہ بنادینادرست نہیں،لیکن اسے محض جبر کی تاریخ سمجھنابھی حقیقت کاانکارہے۔کسی مذہب کی تعبیراس کے سب سے تنگ نظردعوے دارتک محدودنہیں ہوتی؛اس کے اصول،عمل اورداخلی اختلاف سب دیکھنےپڑتےہیں۔

اس مقام پرایک بڑاسوال سامنے آتاہے:معاشرے کی اپنی خرابیوں کاجائزہ لیے بغیرکیاہربے چینی کارخ مسلمانوں کی طرف موڑدینادرست ہے؟یقیناًنہیں۔بچوں کی ذہنی صحت،خاندانوں پرمعاشی دباؤ،والدین کیلئےوقت کی کمی،رہائش کابحران اورنسلوں کے درمیان بڑھتی دوری ایسے مسائل ہیں جنہیں کسی ایک مذہبی اقلیت کی موجودگی سےسمجھانہیں جاسکتا۔برطانیہ کوان سوالات پراپنی پوری معاشرتی ساخت کے حوالےسےغورکرناہوگا۔

البتہ اس بحث میں ہمیں ایک اصول اپنےحق میں بھی قائم رکھناچاہیے:جس اجتماعی الزام کوہم مسلمانوں کیلئےردکرتے ہیں، اسےاکیلی ماؤں، غیرشادی شدہ والدین یاطلاق یافتہ خاندانوں پرعائد نہیں کرسکتے۔ایک اکیلی ماں بسااوقات دوانسانوں کابوجھ تنہااٹھاتی ہے؛اس کی محنت کو بچے کی ہرمشکل کاسبب کہناناانصافی ہوگی۔کسی بچے کی نفسیاتی کیفیت سے اس کے والدین کے ازدواجی درجے کاسیدھافیصلہ بھی نہیں نکلتا۔آمدنی،مسلسل تناؤ،محفوظ رہائش،گھریلو تعلقات، دستیاب مدداوربہت سے دوسرے عوامل اہم ہوتے ہیں۔

سرکاری اعدادخاندانوں کی مختلف صورتیں دکھاتے ہیں،مگرکسی ایک صورت کوہربچے کی کامیابی یاناکامی کاقطعی سبب قرارنہیں دیتے۔ خودانگلستان اورویلز کی مردم شماری میں خاندان کی تعریف شادی شدہ جوڑے،ساتھ رہنے والے جوڑے اورایک والدیاوالدہ والے خاندان، سب پرمحیط ہے۔سماجی پالیسی کاکام ان خاندانوں کوایک دوسرے کے مقابل کٹہرے میں کھڑاکرنا نہیں،ہربچے کوتحفظ،توجہ اورمواقع دینا ہے۔

اسلامی تعلیم میں نکاح،رشتے کی ذمہ داری،بچوں کی پرورش اوربزرگوں کااحترام یقیناًنمایاں اقدارہیں۔ان اقدارکی خوبی بیان کرنے کیلئےکسی اورگھر کی توہین درکارنہیں۔بہترسوال یہ ہے کہ کون سے عملی رویے بچے کے حق میں ہیں:والدین کاباہمی احترام،جھگڑے میں بچے کو ہتھیارنہ بنانا،تعلیم میں دلچسپی،معاشی اورجذباتی سہارا،اورمشکل وقت میں خاندان یابرادری کی مدد۔یہ رویے جس گھرمیں ہوں،ان کی قدر کی جانی چاہیے؛جس گھرمیں نہ ہوں،وہاں ان کی ضرورت محسوس کی جانی چاہیے۔

بچے کوسب سے زیادہ ضرورت اس یقین کی ہوتی ہے کہ مشکل گھڑی میں اسے کسی قابلِ اعتمادبالغ کاسہارامیسرہوگا۔یہ بالغ ماں ہوسکتی ہے،باپ،نانی،دادا، استاد یا سرپرست۔خاندان کی روایت اسی وقت نعمت بنتی ہے جب اس میں کمزورکی آوازبھی محفوظ ہو۔چنانچہ خاندان کی مضبوطی کے حق میں مؤثردلیل دوسرے خاندانوں کی تحقیرنہیں،ایسے اداروں اوررویوں کی تعمیرہے جووالدین کووقت،مشورہ اورمددمہیا کریں۔

یہ دعویٰ سننے میں حوصلہ افزاہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح سب سے کم ہے اوراس کی وجہ مشترک خاندانی نظام ہے۔ طلاق کی کم شرح،اگرکسی خاص گروہ میں معتبرتحقیق سے ثابت ہو،تب بھی اس کے کئی ممکنہ معنی ہوسکتے ہیں: بہتر باہمی تعاون، مضبوط رشتے،معاشی انحصار،یاعلیحدگی سے متعلق سماجی دباؤ۔اچھے محقق کوپہلے ان امکانات میں فرق کرناہوگا۔یہی علمی دیانت اسلام کے حق میں لکھی ہوئی تحریرکوبھی معتبربناتی ہے۔

اس احتیاط سے خاندانی یک جہتی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔بہت سے خاندانوں میں بزرگ نوجوانوں کی بات سنتے،جھگڑے سلجھاتے اورمشکل دنوں میں سہارابنتے ہیں۔یہ سرمایہ قابلِ احترام ہے۔بزرگ مصالحت کاوسیلہ بنتے ہیں؛کبھی سماجی دباؤکسی عورت یامردکونقصان دہ رشتے میں خاموش رہنے پرمجبورکرسکتاہے۔اس لیے کامیاب خاندانی نظام کامعیارصرف طلاق سے بچنانہیں،گھرکے اندروقار،تحفظ اوررضامندی بھی ہے جوان بزرگوں کی زندگی بھرکاتجربہ آئندہ نوجوان نسل کے کام آتاہے۔

تاہم مصالحت کی مجلس اس وقت کارگرہے جب فریقین کوبولنے کایکساں موقع ملے،راز داری کااحترام ہواورتشددیاجبرکی صورت میں حفاظت کواولیت دی جائے۔بزرگوں کاتجربہ بہت قیمتی ہے،مگربزرگ ہوناعدالت کامتبادل نہیں۔دین کی نسبت سے عدل کی بات کرنے والے کوگھرکے اندربھی اسی عدل کامطالبہ کرناچاہیے جسے وہ اخبارکے صفحے پراپنے لیے چاہتا ہے ۔

والدین کی خدمت اسلام کے اخلاقی تصورمیں بلندمقام رکھتی ہے۔بہت سے مسلمان خاندان اسے محض سماجی روایت نہیں،دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ایک بزرگ کاگھرمیں موجودہونا بچوں کیلئےزبان،تاریخ،یادداشت اورشفقت کاایساسرچشمہ بن سکتاہے جو کسی نصابی کتاب میں پورانہیں سماتا۔وہ بچے کوسکھاتاہے کہ انسان کی قدراس کی کمائی،جوانی یاطاقت ختم ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔

مسلمان لڑکیوں کی تعلیم پرتوجہ ایک ایساموضوع ہے جسے سنجیدگی سےاجاگرکرناچاہیے۔کسی برادری کےبارے میں اگرصرف پابندی اور محرومی کی تصویریں دکھائی جائیں تواس کی طالبات، اساتذہ،محققین اورپیشہ ورخواتین کی محنت اوجھل رہ جاتی ہے۔ایک باپ جواپنی بیٹی کیلئےکتاب خریدتاہے،ایک ماں جواس کی پڑھائی کیلئےوقت نکالتی ہے،اورایک لڑکی جورکاوٹوں کے باوجودآگے بڑھتی ہے،یہ سب مسلم معاشرت کی حقیقی صورتوں میں شامل ہیں۔

مزیدتحقیق کیلئےعمر،جنس،نسل،خاندانی آمدنی اورنقل مکانی کی تاریخ کوساتھ رکھناہوگا۔آج اسکول جانے والی بچیوں کے تعلیمی امکانات کوکئی دہائیاں پہلے برطانیہ آنے والے افرادکی رسمی قابلیت کےساتھ خلط ملط نہیں کرناچاہیے۔اسی طرح کسی علاقے میں پاکستانی یابنگلہ دیشی نژادطلبہ کے نتائج سے اگرتمام مسلمانوں کانتیجہ اخذنہیں کیاجاسکتاتوتحسین کی بجائے تحقیر کے زمرے میں ڈالنے سے بھی گریزکی ضرورت ہے: نسل، وطن اور مذہب ایک دوسرے کے متبادل الفاظ نہیں۔

مسلم بچیوں کی کامیابی کوان کی آزادی اورامکانات کے ساتھ دیکھناہوگا۔ایک کامیاب طالبہ کاقصہ کسی دوسری طالبہ کی رکاوٹ کومٹانہیں دیتا،اورکسی گھرمیں رکاوٹ کی خبرلاکھوں گھرانوں کی امنگوں کوباطل نہیں کرتی۔تعلیمی انصاف کیلئےداخلہ،حاضری،نتائج،اعلیٰ تعلیم تک رسائی اورملازمت میں منتقلی،سب کوالگ الگ جانچناچاہیے۔والدین اوراساتذہ کی ملاقاتیں تبھی معنی خیزبنتی ہیں جب زبان،اوقات اورکام سے چھٹی لینے کی مشکلات کابھی لحاظ کیاجائے۔رپورٹ کے سروے میں اخلاقی آرا،شرعی اصولوں،قانون اورتوہین کے جواب سے متعلق سوالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ان جوابات کوسمجھنے کیلئےسوال کے لفظ،جواب کے ممکنہ معنی اورشہری عمل میں فرق رکھناہوگا۔کوئی شخص اپنے مذہب کی اخلاقی تعلیم پریقین رکھتاہواورساتھ ہی دوسروں کے قانونی حقوق کااحترام کرتاہو؛یہ دونوں باتیں لازمًامتضادنہیں۔اسی طرح کسی قانون پرپُرامن تنقیدکرنا،اسے بزورطاقت بدلنے کی کوشش کرنے کے برابرنہیں۔

لیکن تشددکے معاملے میں زبان بالکل صاف ہونی چاہیے۔مذہب،پیغمبر،مقدس کتاب یاکسی بھی محترم ہستی سے متعلق شدیدرنج بھی کسی انسان کودھمکانے یانقصان پہنچانےکاجوازنہیں بن سکتا۔مسلمان شہری اختلاف کااظہار،احتجاج اورقانونی مطالبہ کرسکتاہے؛دوسروں کوبھی اسلام پرتنقیداوراپنے عقیدے کےاظہارکاحق حاصل ہے لیکن عقیدے کی توہین کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔امن اسی وقت قائم رہے گاجب قانون کسی کے خوف کے تابع نہ ہواورمذہبی حساسیت کامذاق اڑانابھی شہری شرافت کامعیارنہ سمجھاجائے۔

اسی اصول کادوسرارخ مسلمانوں کاتحفظ ہے۔کسی مسلمان عورت کواس کے لباس،کسی مردکواس کے نام،یاکسی مسجدکوچندمجرموں کے فعل کاجوابدہ بنانابھی آزادی نہیں۔اسلام پرتنقیداور مسلمانوں کے ساتھ امتیازمیں فرق کرناممکن ہے،بلکہ ضروری ہے۔مضبوط جمہوریت اس فرق سے گھبراتی نہیں؛وہ اسے اپنے قانون اورعوامی گفتگومیں واضح کرتی ہے۔

رپورٹ کے اعدادپڑھتے ہوئے ایک اوراحتیاط بھی لازم ہے۔الگ الگ سال،الگ سوال اورالگ نمونے والے سروے کی شرحیں ساتھ رکھنے سے بظاہرسیدھاموازنہ بنتاہے،مگرسوال کی عبارت بدل جائے توجواب کامطلب بھی بدل سکتاہے۔کسی مذہبی متن کونقصان پہنچانے کے خلاف قانون کی رائے،کسی انسان پرحملے کی اجازت نہیں۔دوسری طرف اگرکسی جواب دہندہ نے واقعی توہین کے بدلے تشددکودرست سمجھاہے تویہ جواب پریشانی کاباعث ہے،خواہ اس کی مذہبی شناخت کچھ بھی ہو۔

یہاں ایک دوررس سوال سامنے آتاہے:کیامسلمانوں کوبرطانیہ کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی میسرہے؟اس کاجواب محض ایک عددسے نہیں نکلے گا۔نمائندگی پارلیمان کی نشستوں میں بھی ہے،مقامی کونسلوں،تعلیمی اداروں،پولیس،ذرائع ابلاغ اوران مقامات پربھی جہاں پالیسی بنتی ہے۔پھریہ دیکھناہوگاکہ وہاں پہنچنے والوں کواپنی پوری برادری کاخودساختہ ترجمان تونہیں سمجھ لیاجاتا،جبکہ برادری کےاندر عورتوں،نوجوانوں اورمختلف فکری رجحانات کی آوازیں پس منظرمیں رہ جاتی ہیں۔

مردم شماری میں انگلستان اورویلز کے 6٫5 فیصد لوگوں نے خودکومسلمان بتایاتھا۔اس سے سیاسی شرکت کاسوال ضروراٹھتاہے،مگراسے برطانیہ بھرکی ہرمنتخب نشست کاخودکار«حق»سمجھ لینابرطانوی انتخابی نظام کی پیچیدگی کومختصرکردے گا۔حلقوں کی جغرافیائی تقسیم، جماعتوں کی امیدوارنامزدگی،ووٹرکی ترجیحات اورانتخابی طریقہ،سب نتائج پراثراندازہوتے ہیں۔مزیدیہ کہنادرست نہیں ہوگا کہ مسلمانوں کی آبادی ایک سیاسی رائے نہیں رکھتی؛وہ دوسری برطانوی آبادیوں کی طرح مختلف معاشی مفادات اورسیاسی نظریات رکھتی ہے۔

اس کے باوجودنمائندگی کےراستے میں رکاوٹیں ہوں توانہیں معمول سمجھ کرقبول نہیں کیاجاسکتا۔کیااہل امیدواروں کوبڑی جماعتوں میں مناسب موقع ملتاہے؟کیامسلمان خاتون صرف اپنے حجاب پرسوالوں کاجواب دیتی رہ جاتی ہے،جبکہ اس کے تعلیم یاصحت سے متعلق خیالات سنے ہی نہیں جاتے؟کیاکسی امیدوارکومسلمان آبادی والے حلقے میں توموزوں سمجھاجاتاہے ، مگرکسی دوسرے حلقے میں نہیں؟یہ قابلِ تحقیق جمہوری سوالات ہیں۔ان کے جواب کیلئےامیدواروں،منتخب نمائندوں اورتقرریوں کےاعدادکےساتھ جماعتوں کے عملی فیصلوں کوبھی دیکھنا ہوگا۔

جمہوریت کاقصوراس کے بنیادی وعدے میں نہیں؛قصوراس وقت پیداہوتاہے جب اس وعدے کے علمبرداراسے محدودکردیتے ہیں۔ووٹ کو قبول اورووٹرکی آوازکومشکوک سمجھنادیرپا سیاسی اعتمادپیدانہیں کرسکتا۔ہرشہری کوانتخاب لڑنے،اختلاف کرنےاوراپنےمسئلے کوپارلیمان تک پہنچانے کاحق ہے۔کسی مسلمان کاغزہ،کشمیر،تعلیم،رہائش یاشہری حقوق پرسیاسی مؤقف رکھنااسے فی نفسہٖ انتہاپسندنہیں بناتا۔اس کے مؤقف اورطریقۂ کارپردوسروں ہی کی طرح تنقیدہوسکتی ہے،مگراس کی شہری حیثیت ہربارنئے سرے سے ثابت کرانے کی چیزنہیں۔اسی تناظرمیں سیاسی شرکت کومحض انتخابی مہم کامسئلہ سمجھناناکافی ہے۔نمائندگی کامطلب یہ بھی ہےکہ جب حکومت مسلم شہریوں کے بارے میں پالیسی بنائےتواس سے اختلاف رکھنے والی مسلمان عورت،نوجوان اورآزادمحقق بھی سنے جائیں اوراس کےنتائج بھی عوام کے سامنے آئیں۔یادرہے اگرصرف بلندآوازتنظیمیں میزپرہوں توپوری برادری کی خاموش اکثریت پس منظر میں رہ سکتی ہے۔کوئی بھی فرداپنے مذہب کےتمام پیروکاروں کامستقل ترجمان نہیں،چاہےحکومت اسےیہ منصب دے یاوہ خوددعویٰ کرے۔

برطانوی مسلمانوں سے قانون کی پابندی، دوسروں کے حقوق کا احترام اور جرائم کے خلاف تعاون مانگنا بالکل درست ہے۔ مگر وفاداری کا ثبوت صرف ان ہی سے بار بار طلب کرنا، گویا باقی شہری پیدائشی طور پر اس امتحان سے مستثنیٰ ہوں، مشترک قومیت کو کمزور کرتا ہے۔ کسی ملک سے تعلق کا اظہار روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے: اس کی زبانیں سیکھنے، اس کے اداروں میں حصہ لینے، اپنے پڑوسی کے کام آنے، قانون کے تحت حقوق مانگنے اور اسی قانون کے تحت ذمہ داریاں ادا کرنے میں۔

اس تعلق کےراستے میں مسلمانوں کےاپنے حصےکےکام بھی ہیں۔وہ اپنےاندراختلاف کوجگہ دیں،عورتوں اورنوجوانوں کی بات سنیں،جرم یاجبرپرخاموشی اختیارنہ کریں اورمذہبی وابستگی کو شہری برتری کادعویٰ نہ بنائیں۔وسیع تربرطانوی معاشرے کاحصہ یہ ہے کہ وہ مسلمان کوپہلے ہی قدم پرشبہے کی نگاہ سے نہ دیکھے۔ان دونوں ذمہ داریوں کوایک ساتھ اداکیاجائے تو وفاداری کوئی نعرہ نہیں رہتی؛وہ مشترک زندگی کی روزانہ مشق بن جاتی ہے۔

برطانیہ میں اسلام اختیارکرنے والے افراد،بالخصوص خواتین، کے تجربات پربھی سنجیدہ تحقیق ہونی چاہیے۔ان کی موجودگی کوکسی طے شدہ سیاسی سازش کاثبوت بنانااتناہی بے بنیادہے جتناہرقبولِ اسلام کوکسی ایک مثالی وجہ سےمنسوب کرنا۔ایمان کےفیصلے شخصی تجربے، مطالعے،تعلقات اورروحانی تلاش سےبنتےہیں؛انہیں خودان افرادکی آوازمیں سنناچاہیے۔ایک آزادبالغ عورت اپنےمذہبی انتخاب کی خودگواہ ہوسکتی ہے۔اسے محض کسی اورکے خوف یاخوش فہمی کااستعارہ نہ بنایاجائے۔

اسلام کے بارے میں انصاف پسندتحریرکامطلب یہ نہیں کہ اس کے ماننے والوں سے متعلق ہرمشکل سوال روک دیاجائے۔اس کامطلب یہ ہے کہ سوال درست شخص سے،درست ثبوت کے ساتھ اوردرست حدودمیں پوچھاجائے۔اگرکوئی فردمجرم ہےتوفردجواب دے۔اگرکوئی ادارہ ناکام ہواہے توادارہ جواب دے۔اگرکسی محلے میں فاصلے بڑھ رہے ہیں تورہائش،تعلیم اورمقامی پالیسی کے اسباب جانچے جائیں۔مذہب کانام لے کران سب تحقیقات کوایک ہی جواب میں بدل دیناآسان ضرورہے،مگرسچ تک پہنچنے کاراستہ نہیں۔

شہریت کی کسوٹی پرمساوات کاایک عملی امتحان بھی ہے۔نفرت انگیزحملےکاشکارہونے والامسلمان شہری پولیس کےپاس اعتمادسےجا سکے؛انتہاپسندکےدباؤسے خوفزدہ مسلمان بھی اسی اعتمادسےجاسکے؛اوراختلافِ رائےرکھنےوالاغیرمسلم شہری بھی دھمکی کےبغیربول سکے۔یہ تینوں حقوق ایک ہی قانون کی شاخیں ہیں۔ان میں سے کسی ایک کوکاٹ کرباقی دوکوسرسبز نہیں رکھاجاسکتا۔

برطانیہ اپنی تکثیری روایت کاحق اسی وقت اداکرے گاجب وہ مسلمان شہری کونہ معصومیت کاخودکارسرٹیفکیٹ دے،نہ دائمی شک کاحکم نامہ۔مسلمان بھی اسی قانون کے تابع ہیں جس کے تابع دوسرے شہری ہیں،اوراسی تحفظ کے حق دارہیں جس کاوعدہ دوسروں سے کیاگیاہے۔ تہذیب کی روشنی وہاں پہچانی جاتی ہے جہاں عدالت کے دروازے پرنام اورلباس دیکھ کر ترازونہ بدلے۔یہی انصاف اس بحث کاحاصل ہونا چاہیے؛اسی سےبرطانیہ بھی مضبوط ہوگااوراس کےتمام شہری بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں