The diplomatic table, the shadow of war

سفارت کی میز،جنگ کاسایہ

یہ داستان محض سیاست کے خشک اوربے روح ابواب میں سے ایک باب نہیں،بلکہ یہ انسانیت کے سینے پرلکھی ہوئی وہ دردناک تحریر ہے جس کے ہرلفظ سے بارودکی بواورہرسطرسے آہوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔یہ معاملہ دوریاستوں کے درمیان کشمکش کانہیں، بلکہ اُس عالمی ضمیرکاامتحان ہے جوصدیوں کی تہذیب،مذہب،اخلاق اورانسان دوستی کے دعوؤں کے باوجودآج بھی طاقت کے بت کے سامنے سجدہ ریزدکھائی دیتاہے۔

عصرِحاضرکی دنیابظاہرترقی،علم اورٹیکنالوجی کے بامِ عروج پرکھڑی ہے،مگرباطن میں وہی قدیم درندگی،وہی ہوسِ اقتداراوروہی خون آشام مفادات آج بھی زندہ ہیں۔طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے وہ عناصر،جواپنے مفادات کی شمع کوروشن رکھنے کیلئےپوری انسانیت کواندھیروں میں دھکیلنے سے بھی گریزنہیں کرتے،دراصل اسی المیے کے معمارہیں۔یہ وہ قوتیں ہیں جوامن کے نام پرجنگ کی تجارت کرتی ہیں،اورانسانیت کے نام پرانسانوں کے لہوسے اپنے ایوانوں کی بنیادیں مضبوط کرتی ہیں۔

یہی وہ پس منظرہے جس میں یہ تنازع ایک معمولی سفارتی اختلاف سے بڑھ کرایک عالمی سانحہ بن جاتاہے۔یہاں ہرفیصلہ صرف سیاسی نہیں،بلکہ انسانی تقدیروں کافیصلہ بن جاتاہے۔ایک طرف طاقت کاغرورہے،تودوسری جانب بقاکی جدوجہد؛ایک طرف مفادات کا اندھاکھیل ہے،تو دوسری جانب انسانیت کی سسکتی ہوئی آواز۔

قارئین!اس تحریرک محض ایک رپورٹ نہ سمجھاجائے،بلکہ اسے ایک آئینہ تصورکیاجائے جس میں ہم اپنےعہدکی سچائیوں کوبے نقاب ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔یہ وہ لمحۂ فکریہ ہے جہاں ہمیں یہ طے کرناہے کہ آیاہم جنگ کے اس اندھے طوفان کاحصہ بنیں گے یاامن کی اُس شمع کوروشن کریں گے جواندھیروں کے سینے کوچیرکرروشنی کی نویددیتی ہے۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے تلوار کودلیل پرترجیح دی،تواس کے ہاتھ میں فتح نہیں بلکہ اپنے ہی وجودکی شکست آئی۔ یہ قضیہ محض سفارتی نزاکتوں کابیان نہیں،بلکہ عہدِ حاضرکی بین الاقوامی سیاست کے اُس پیچیدہ شطرنج کانقشہ ہے جس میں ہرمہرہ اپنی چال سے زیادہ اپنے مفہوم کاحامل ہے۔

یہ معاملہ محض دوریاستوں کے درمیان اختلافات کانہیں اورنہ یہ قضیہ محض سفارتی نزاکتوں کابیان ہے،بلکہ عصرِحاضرکی عالمی سیاست کے اُس پیچیدہ شطرنج کا نقشہ اوراس پیچیدہ باب کا عنوان ہے جس میں ہرمہرہ اپنی چال سے زیادہ اپنے مفہوم کاحامل ہے۔جس میں طاقت،نظریہ،مفاداورخوف—چاروں عناصر ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ ان کی تفریق محال نظرآتی ہے۔ اسی پس منظر میں ایک مفصل،اورفکری گہرائی سے مزین رپورٹ،اصل ترتیب کے ساتھ،پیش کی جارہی ہے تاکہ آپ خودفیصلہ کرسکیں کہ دنیاکی تباہی جوچند گھنٹوں کے فاصلے پرمنتظرتھی،ابھی تک ان خطرات سے باہرنہیں نکل سکی۔

امریکااورایران کے تعلقات کی داستان ایک ایسے آئینے کی مانندہے جس میں بدگمانی کی دھندہمیشہ چھائی رہتی ہے۔اس وقت امریکااور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات ایسے موجود ہیں جوکامیابی کی صلیب پردنیاکےامن کوللکاررہے ہیں۔
٭پہلاایرانی جوہری پروگرام کے متعلق ہے،یہ وہ عقدہ ہے جومدتوں سے کھلنے کانام نہیں لیتا؛یہ وہ بنیادی نکتۂ نزاع ہے جس نے دہائیوں سے دونوں ممالک کوآمنے سامنے لاکھڑاکیاہے۔امریکاکے نزدیک ایران کاجوہری پروگرام ایک ممکنہ خطرہ ہے،جبکہ ایران اسے اپنی قومی خودمختاری اورسائنسی ترقی کاحق سمجھتاہے۔گویاایک کے نزدیک یہ“خطرہ”ہے،دوسرے کے نزدیک“جائزحق اوروقار”کامسئلہ ہے۔
٭دوسراعلاقائی اثرورسوخ ہے،ایران کا“محورِمزاحمت”امریکا واسرائیل کیلئےخارِراہ ہے۔ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں اور پراکسی گروہوں کے ذریعے ایک ایساجغرافیائی دائرہ قائم کیاہے جسے وہ“مزاحمت کامحور”کہتاہے۔امریکااوراس کےاتحادی اسےعدم استحکام کاسبب سمجھتے ہیں۔یوں یہ اختلاف صرف سرحدوں کانہیں،بلکہ نظریات کی جنگ ہے۔
٭تیسراپابندیوں اورمعاشی دباؤکاہے،امریکاکی اقتصادی پابندیوں کی تلوار،ایران کی گردن پرہمیشہ معلق رہی ہے۔امریکاکی عائدکردہ پابندیاں ایران کی معیشت کومسلسل دباؤمیں رکھتی ہیں۔ایران ان پابندیوں کو“اقتصادی جنگ”قراردیتاہے،جبکہ امریکاانہیں“دباؤکاسفارتی ہتھیار”سمجھتاہے۔
٭چوتھاآبنائے ہرمزکاتنازع ہے،یہ محض ایک گزرگاہ نہیں،بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ایران اس پراپنی خودمختاری کادعویٰ کرتا ہے،جبکہ امریکااسے بین الاقوامی پانی قراردیتاہے۔اس اختلاف میں عالمی معیشت کی دھڑکن شامل ہے۔
٭اورپانچواں اعتمادکاشدید فقدان ہے،سب سے بڑامسئلہ شایدیہی ہے کہ دونوں کے درمیان اعتمادکارشتہ ناپیدہے۔دونوں فریقوں کے درمیان بدگمانی کی دیواریں اس قدربلندہیں کہ مکالمہ بھی سرٹکراتامحسوس ہوتاہے۔ہرمعاہدہ شک کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اورہربیان کے پیچھے نیت پرسوال اٹھایاجاتاہے۔

اسلام آبادکی سرزمین پرہونے والے مذاکرات بظاہرایک نئی صبح کی امیدتھے،گویااُس چراغ کی مانندتھے جسے آندھی کےبیچ روشن کرنے کی سعی کی گئی ہو مگردرحقیقت یہ ایک ایسے سفرکا آغازتھاجس کی منزل خوددھندمیں لپٹی ہوئی تھی۔ابتداہی سے یہ امرروزِ روشن کی طرح عیاں تھاکہ دونوں اطراف کے مابین ایسے بنیادی اختلافات کے پہاڑحائل ہیں جونہ صرف محض محض سفارتی مسکراہٹوں سے حل ہوسکتے ہیں اورنہ ہی الفاظ کے پل سے عبورکیاجاسکتاہے۔یہ مذاکرات ایک ایسے دریاپرپل بنانے کی کوشش تھے جس کے دونوں کنارے نہ صرف دورتھے بلکہ درمیان میں طوفانی اورسرکش شیطانی موجیں بھی سر اٹھائے کھڑی تھیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمائیل بقائی کابیان اس حقیقت کاآئینہ دارہے کہ مذاکرات مکمل ناکام نہیں تھے،مگرچند بنیادی نکات ایسے تھےجو“گرہِ کور”بنے رہے اورکامیابی سے بھی کوسوں دوررہے لیکن ایرانی ترجمان کے بیان سے یہ حقیقت بھی مترشح ہوتی ہے کہ اگرچہ کئی امورپرمفاہمت کی کرن پھوٹی،مگردویاتین اہم نکات ایسے تھےجو“گرہِ ناگشودہ”بنے رہے ۔آبنائے ہرمزجیسے نئے موضوعات نے اس پیچیدگی میں مزیدتہہ د تہہ اضافہ کیا،ہر موضوع اپنے اندرایک نئی الجھن لیے ہوئے تھا،گویاایک مسئلہ حل کرنے کیلئےکئی نئے مسائل کوجنم دیاجا رہاہو۔یوں یہ مذاکرات منزل سے پہلے ہی تھک کربیٹھ گئے۔

ایران کاجوہری پروگرام اس تنازع کامرکزی ستون ہے۔یہ تنازع گویاایک ایسی پرانی داستان ہے جس کے اوراق بوسیدہ ضرورہوچکے ہیں،مگراس کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔امریکاکا مؤقف ہے کہ ایران اس پروگرام کی آڑمیں جوہری ہتھیاربنانے کی صلاحیت حاصل کرناچاہتاہے،امریکاکے نزدیک یہ خطرے کی گھنٹی ہے،جبکہ ایران اس الزام کومستردکرتے ہوئے اسے محض پرامن مقاصدکیلئےقرار دیتاہے اورایران اسے اپنی خودمختاری کااستعارہ سمجھتاہے ۔یہ اختلاف دراصل طاقت اورخوف کے درمیان ایک کشمکش ہے—امریکا کاخوف اورایران کی طاقت کی خواہش۔امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کے بیان میں ایک واضح پیغام پوشیدہ تھا،ہمیں الفاظ نہیں،یقین چاہیے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ امریکا کی اولین ترجیح ایران سے ایسی ٹھوس یقین دہانی حاصل کرناہے جومحض الفاظ تک محدود نہ ہو۔

ان کے مطابق مذاکرات کی روح یہی تھی کہ ایران کونہ صرف جوہری ہتھیاربنانے سے بازرہناہوگابلکہ اس کیلئےدرکارتمام وسائل اور صلاحیتوں سے بھی دستبردارہوناہوگابلکہ اس سمت جانے والے تمام راستے بھی مسدودکرنے کی تحریری یقین دہانی کرواناہوگی۔یہ مطالبہ دراصل“عدم اعتماد”کی بنیادپرکھڑا ہے،امریکاکوایران کے وعدوں پریقین نہیں،اوروہ عملی اقدامات کا خواہاں ہےمگربقول اُن کے، یہ“آمادگی” ابھی افق پرنمودارنہیں ہوئی۔

ایران اپنے مؤقف پرکوہِ گراں کی مانند قائم ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤکے معاہدے کے تحت اسے پرامن مقاصد کیلئےیورینیم افزودہ کرنے کاپوراحق حاصل ہے۔ایران اپنے مؤقف میں یہ دلیل پیش کرتاہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤکے معاہدے کادستخط کنندہ ہے،لہٰذااسے پرامن مقاصدکیلئے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔اس کی دس نکاتی تجویزاسی اصول کی بین الاقوامی توثیق کی طلبگار ہے—گویاوہ اپنے حق کوسندِ جوازدلواناچاہتاہے،جس میں وہ عالمی سطح پر اپنے اس حق کی تسلیم شدگی کاحق دارہے۔یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ ایران کی قومی خودمختاری اوروقارکاسوال ہے۔

امریکی خاکہ اس کے برعکس ایک انتہائی مطالبہ پیش کرتاہے،امریکاکے15نکاتی منصوبے میں ایران سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پرہر قسم کی یورینیم افزودگی مکمل طورپرختم کرے۔ یہ مطالبہ ایران کیلئےناقابلِ قبول ہے اوریہ ایسامطالبہ ہے جوایران کیلئےاپنی ملکی اورسائنسی خودمختاری سے دستبرداری کے مترادف ہے۔اوریہی وہ مقام ہے جہاں مفاہمت کی راہیں مسدودہوجاتی ہیں۔ یوں یہ اختلاف ایک ایسی لکیربن جاتاہے جسے عبورکرنا دونوں کیلئےمشکل ہے۔

مشترکہ جامع منصوبۂ عمل(جوائنٹ کمپری ہینسوپلان آف ایکشن)”ایران جوہری معاہدے”کاباقاعدہ نام ہے۔یہ2015ءمیں (امریکا،برطانیہ، فرانس، چین،روس،علاوہ جرمنی)اوریورپی یونین اورایران کے درمیان ایک معاہدہ ہواتھا،جواقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام کومحدود کرنے کیلئےڈیزائن کیاگیاتھا۔ایک زمانے میں امیدکی کرن تھا،یہ ایک ایسامعاہدہ تھاجس نے ایک وقت میں امیدکی نئی راہیں کھولی تھیں جسے طویل سفارتی ریاضت کے بعدحاصل کیاگیامگرآج وہ ایک ایسی داستانِ نیم تمام معلوم ہوتاہے جسے وقت کی گرد نے دھندلادیاہے۔وقت کے ساتھ یہ معاہدہ اپنی افادیت کھوبیٹھاہےاورآج یہ ایک ادھوری کہانی کی مانندمحسوس ہوتاہے—ایک ایساباب جومکمل ہونے سے پہلے ہی بندہوگیا۔

لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں ان مذاکرات پرایک ایسے گہرے سایے کی مانندچھائی رہیں جیسے بادل سورج کی روشنی کومدھم کردیتے ہیں۔ایران کے اتحادی گروہ، خصوصاًحزب اللہ،اس تنازع کااہم حصہ ہیں۔ایرانی صدرمسعودپزشکیان کی تنبیہ اس امرکی غمازتھی کہ میدانِ جنگ کی گونج ،میزِ مذاکرات کی آوازکودبا سکتی ہے۔اگریہ کارروائیاں جاری رہیں تو مذاکرات کی حیثیت محض رسمی رہ جائے گی۔

جنگ بندی کااعلان بظاہرایک مثبت قدم تھا،مگراس کی پائیداری مشکوک رہی۔اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری کارروائیوں نے اس معاہدے کوکمزور کردیا۔یہ صورتحال اس حقیقت کوظاہرکرتی ہے کہ میدانِ جنگ کی حقیقتیں اکثرسفارتی معاہدوں کوبے معنی بنادیتی ہیں۔ اسلام آبادسے امریکی وفدکی روانگی کےفوراًبعد جنوبی لبنان میں حملوں کی خبریں اس حقیقت کااعلان تھیں کہ جنگ بندی محض کاغذی معاہدہ بھی ہوسکتی ہے۔گویا لفظوں کے قلعے،بارود کی ایک چنگاری سے مسمارہوجاتے ہیں۔

آبنائے ہرمزایک ایسی گزرگاہ ہےجس سے دنیاکی ایک بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔یہ گزرگاہ محض جغرافیہ نہیں،بلکہ عالمی معیشت کی نبض ہے۔ ایران کا اس پرکنٹرول جہاں عالمی سطح پرتشویش کاباعث ہے وہاں ایران کااس پرسخت کنٹرول اورجہازوں سے محصولات وصول کرنا مریکا یلئےناقابلِ قبول ہے۔ مریکاکامؤقف ہے کہ یہ بین الاقوامی پانی ہے، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کا حصہ قراردیتاہے۔یہ تنازع دراصل“جغرافیہ”اور“معیشت”کے ملاپ کانتیجہ ہے،یہاں مفاداوراختیارکی کشمکش اپنے عروج پرہے۔

ایران آبنائے ہرمزکو اپنے پانی قراردے کرجہاں ایک نئی قانونی وسیاسی بساط بچھاناچاہتاہے وہاں آبنائے ہرمزپراپنی گرفت کومضبوط کرتے ہوئے اسے باضابطہ شکل دیناچاہتاہے۔یہ قدم دراصل اس کی اس خواہش کااظہارہے کہ وہ خطے میں اپنی بالادستی کوباضابطہ شکل دے۔وہ نئے قواعدوضوابط متعارف کروانے کی بات کررہاہے تاکہ اس گزرگاہ پراس کاکنٹرول مزیدمستحکم ہوسکے۔یہ قدم اس کی علاقائی حکمت عملی کاحصہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی پوزیشن کومضبوط بناناچاہتاہے۔

ایران کاپراکسی نیٹ ورک،جس میں حزب اللہ،حوثی،حماس اوردیگرگروہ شامل ہیں—اس کی“فارورڈ ڈیفنس”حکمت عملی کابنیادی جزو اورجنگی حکمت عملی کا ستون ہیں۔ یہی وہ جال ہے جس کے ذریعے ایران اپنے دشمنوں کودورسے الجھائے رکھتاہے،اوربراہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے اپنے مفادات کاتحفظ کرتا ہے مگریہی نیٹ ورک امریکااوراسرائیل کیلئےایک مستقل خطرہ تصورکیاجاتاہے۔ اسرائیل اسے اپنے وجودکیلئےخطرہ سمجھ کراس کے خاتمے کاخواہاں ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکااورایران میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پرمسلسل فضائی حملے جاری ہیں جس کی سنگینی پراب عالمی اوریورپی رہنماؤں کی طرف سے بھی تشویش کااظہار کیاجارہاہے۔

ادھردوسری طرف ایران کی معیشت طویل عرصے سے پابندیوں کے باعث دباؤکاشکاراورپابندیوں کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے۔عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ داخلی سطح پربھی حکومت کوچیلنجز کاسامناہے۔عوام کی خواہش ہے کہ وسائل جنگی سرگرمیوں اورمہمات کی بجائے فلاحِ عامہ پرصرف ہوں،مگرریاستی پالیسی اورترجیحات ابھی تک اس خواہش کی ہم نوانظرنہیں آتی کیونکہ ایک طویل عرصے سے امریکااوراسرائیل نے ایران پرجنگ ٹھونس رکھی ہے اورایران سلامتی کے پیشِ نظرملکی دفاع پر خطیر رقم خرچ کرنے کیلئےمجبور ہے۔

ایران کاایک بڑامطالبہ یہ ہے کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اوربین الاقوامی پابندیاں ختم کی جائیں۔مگرامریکاکی جانب سے ایسی فراخ دلی کاامکان کم دکھائی دیتاہے۔اوردن بدن اس مطالبے کوقبول کرنے کے امکانات محدوددکھائی دیتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں امیداورحقیقت کے درمیان خلیج وسیع ہو جاتی ہے اورمذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حائل ہوجاتی ہے۔

یہ تمام قضیہ اس حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ امریکااورایران کے درمیان تنازع محض چندنکات کااختلاف نہیں،بلکہ نظریات، مفادات،طاقت اور تاریخ کاایک ایساپیچیدہ امتزاج ہے،جس کے بوجھ کاتصادم بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اوربالعموم ساری دنیاکوتباہی کے کنارے پرلاکھڑاکیاہے اوراب تومشرقِ وسطیٰ کے عوام بھی برملاکہہ رہے ہیں کہ امریکااس خطے میں اسرائیل کی بالا دستی کیلئے ہمارے وسائل کوبھی لوٹ رہاہے۔یہ ایک ایسی داستان ہے جس کا ہر باب نئے سوالات کوجنم دیتاہے،اورہرکوشش کے باوجوداس کاانجام ابھی تک تحریرنہیں ہوسکا۔یہ ایک ایسی گرہ ہے جسے کھولنے کیلئےصرف سفارت کاری نہیں،بلکہ اعتماد،بصیرت اوروقت—تینوں کی ضرورت ہے۔

یہ تمام ترمنظرنامہ ایک تلخ حقیقت کوبے نقاب کرتاہے کہ دنیاآج بھی طاقت کے توازن کی بنیادپرچل رہی ہے،انصاف اورانسانیت کے اصول ابھی تک عملی دنیامیں مکمل طورپرنافذ نہیں ہوسکے۔یہ تنازعات،یہ جنگیں،یہ سفارتی کشمکشیں —یہ سب دراصل اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان ابھی تک اپنی فطری درندگی سے مکمل طورپر نجات حاصل نہیں کرسکا۔مگرسوال یہ ہے کہ آخرکب تک؟کب تک انسانیت کے نام پر انسانوں کے خون سے کھیل کھیلا جاتا رہے گا؟کب تک معصوم جانیں طاقت کےایوانوں کی نذرہوتی رہیں گی؟اورکب تک امن کی آوازکوبارود کی گھن گرج میں دبایاجاتارہے گا؟

دنیاکی امن پسندقوتوں کیلئےیہ ایک لمحۂ آزمائش ہے۔اگرآج بھی وہ خاموش رہیں،توتاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔وقت کاتقاضا ہے کہ وہ میدانِ عمل میں آئیں،اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیواربن کران ظالم اورجارح قوتوں کےسامنے کھڑی ہوجائیں جواپنے مفادات کیلئےپوری دنیاکوتباہی کے دہانے پرلے آئی ہیں۔

امن کوئی کمزوری نہیں،بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔یہ وہ قوت ہے جوقوموں کوجوڑتی ہے،تہذیبوں کوپروان چڑھاتی ہے اورانسانیت کوبقاعطاکرتی ہے۔ اس کے برعکس جنگ ایک ایسی آگ ہے جونہ صرف دشمن کوبلکہ خوداپنے وجودکوبھی جلاڈالتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری محض بیانات اور قراردادوں تک محدود نہ رہے،بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان قوتوں کاسدباب کرے جودنیاکوایک نئے عالمی المیے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک مفادات کی سیاست کواصولوں کی سیاست پرفوقیت حاصل رہے گی،تب تک امن ایک خواب ہی رہے گا۔اس خواب کوحقیقت میں بدلنے کیلئےضروری ہے کہ عالمی نظام کوانصاف،مساوات اورباہمی احترام کی بنیادوں پراستوارکیا جائے ۔

آج انسانیت ایک دوراہے پرکھڑی ہے—ایک راستہ جنگ،تباہی اوربربادی کی طرف جاتاہے،جبکہ دوسرا امن،استحکام اوربقاکی طرف۔ انتخاب ہمیں کرناہے ۔ اگرہم نے آج بھی خاموشی اختیارکی،توکل تاریخ ہمارے بارے میں یہی لکھے گی کہ جب دنیاجل رہی تھی،ہم تماشائی بنے بیٹھے تھے۔پس، وقت کی پکاریہی ہے کہ انسانیت کےعلمبرداراٹھیں،ظلم کے خلاف آوازبلند کریں،اوراس دنیاکوایک بارپھرامن کا گہوارہ بنانے کیلئےاپنی ذمہ داری اداکریں کیونکہ اگرآج ہم نے انسانیت کونہ بچایا،توکل شاید انسانیت ہمیں بچانے کیلئےموجود نہ ہو۔

فی الحال،یہ کشتی بیچ منجدھارمیں سیاست کے طوفانی سمندرمیں ہچکولے کھارہی ہے،اورساحل ابھی نگاہوں سے دوراوراوجھل توقعات اورامیدوں کے دم توڑنے کاپتہ دے رہاہے مگرپھر بھی کچھ غیبی ہاتھ انسانیت کی بقاءکیلئے مسیحائی کاکرداراداکررہے ہیں اورعالمی طورپرپاکستان پرسب کی نگاہیں اٹکی ہوئی ہیں کہ کب دائمی جنگ بندی کی نامکمل داستان مکمل ہوکردنیامیں امن کاپیام بن کرابھرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں