تاریخِ معاصرِمشرقِ وسطیٰ کے افق پراگرنگاہِ عبرت ڈالی جائے تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ یہاں سیاست،تیل کی نالیوں سے زیادہ خونِ دل سے لکھی جارہی ہے۔ایران کے خلاف امریکاواسرائیل کی کشیدگی کےسائےجب خلیج کے ساحلوں تک درازہوئے تومتحدہ عرب امارات بھی محض ایک تماشائی نہ رہابلکہ ایک فعال کردارکےطورپرابھرا۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کواگر کسی ایک لفظ میں سمیٹاجائےتویہ وہ “غیراعلانیہ جنگ”ہے جوایران اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی بظاہرسرحدوں سے دورہے،مگر اس کی بازگشت خلیج کے ہر ساحل تک سنائی دیتی ہے۔متحدہ عرب امارات اس کشمکش میں ایک“درمیانی مگرفعال کھلاڑی”کے طورپر سامنے آیاہے۔
امریکاکے ساتھ عسکری تعاون اوراسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے تہران کے ساتھ اس کے سفارتی فاصلے بڑھادیے۔حالیہ برسوں میں جب امریکی حملوں کےبعدایران کی جانب سے ڈرون اورمیزائل حملوں کےالزامات سامنےآئے تویواے ای کی وزارتِ دفاع کےبیانات نے اس خطےکوایک بارپھربارودکی بوسےبھردیا۔جب امریکی حملوں کے بعدایران کی جانب سےڈرون اورمیزائل حملوں کے الزامات سامنےآئےتویہ واضح ہواکہ اب خلیج صرف تیل کی نہیں بلکہ”سلامتی کی جغرافیائی لکیر“بھی بن چکی ہے۔
یہ صورتِ حال محض عسکری تناؤنہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی وسیاسی کشمکش کی علامت ہے،جہاں ہرفریق اپنی بقاکودوسرے کی کمزوری میں تلاش کرتاہے۔ ایران اوراسرائیل کی اس پراکسی جنگ میں امارات کاکردارایک ایسے توازن کی کوشش معلوم ہوتاہےجو کبھی ایک طرف جھک جاتاہے اورکبھی دوسری طرف۔یہ صورتحال محض دفاعی ردِعمل نہیں بلکہ اس خطے میں”طاقت کی نئی تعریف “ہے،جہاں ہرریاست اپنی بقاکوعسکری اتحادوں کےذریعے محفوظ کرنےکی کوشش کررہی ہے۔
جب متحدہ عرب امارات نےاوپیک سے علیحدگی کےاعلان کی طرف قدم بڑھایاتویہ محض ایک معاشی تکنیکی اوراقتصادی فیصلہ نہ تھا بلکہ ایک فکری انحراف کی علامت اورایک علامتی سیاسی بیان تھا۔اس فیصلےکے پسِ پردہ وہ نئی علاقائی حکمتِ عملی کارفرماہےجو خلیجی ریاستوں کے روایتی اتحادسے ہٹ کرایک خودمختار راستہ تلاش کررہی ہے۔متحدہ عرب امارات دراصل یہ پیغام دے رہاہےکہ وہ اب صرف “تیل پیداکرنے والی ریاست”نہیں رہناچاہتابلکہ”توانائی کی عالمی پالیسی سازقوت”بنناچاہتاہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاستیں نہ صرف اپنی شناخت بدلنےلگتی ہیں،وہاں ریاستیں محض تیل کی قیمتوں کی تابع بھی نہیں رہتیں بلکہ عالمی سیاست کےپیچیدہ جال میں اپنی جگہ متعین کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔تیل سے وابستگی دراصل ایک پرانی شناخت تھی،جبکہ نئی سمت “تنوع پرمبنی معیشت اورخودمختارسفارت کاری”کی طرف ہے۔امارات کایہ قدم گویاایک نئے دورکی تمہیدہےجس میں اتحادکی تعریف دوبارہ لکھی جارہی ہے۔
جب اماراتی سرزمین پرمصری فضائیہ کی موجودگی کی خبریں جب سامنے آئیں تومشرقِ وسطیٰ کے سیاسی مبصرین کیلئےیہ ایک چونکادینے والی اہم پیش رفت تھی ۔ شیخ محمدبن زایدکامصری صدر کےہمراہ لڑاکاطیاروں کےاسکواڈرن کادورہ محض ایک عسکری مشق نہیں بلکہ ایک گہرااسٹریٹجک اشارہ ہے۔گویایہ قدم دراصل دوریاستوں کےدرمیان عسکری ہم آہنگی کامظہرہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ اشتراک دراصل دوقدیم عرب ریاستوں کےدرمیان ایک نئی دفاعی ہم آہنگی کی علامت ہے،جہاں فضائی طاقت کوخطے کی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہوچکی ہے یامحض دفاعی اشتراک ہےیاخطےمیں طاقت کےنئے توازن کی تشکیل؟یہی وہ زمانہ ہے جب فضائیہ صرف دفاع نہیں بلکہ“سیاسی پیغام رسانی”کاذریعہ بن چکی ہے۔آیااسی تناظرمیں پاکستان کی فضائیہ کاسعودی عرب میں کرداربھی ایک وسیع ترعسکری اتحادکی طرف اشارہ کرتاہے،جہاں فضائی طاقتیں سیاسی بیانیے کاحصہ بن چکی ہیں۔
آخروہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نےمتحدہ عرب امارات اوردیگرخلیجی ریاستوں کےدرمیان تعلقات کوپیچیدہ بنادیا؟یہ سوال محض سفارتی نہیں بلکہ تہذیبی اورنظریاتی بھی ہے۔خلیج کی سیاست اب ایک سیدھی لکیرنہیں رہی بلکہ ایک پیچیدہ جال بن چکی ہےجہاں ہر دھاگہ دوسرے سےالجھاہواہے۔خلیجی ممالک کےدرمیان تعلقات کوروایتی“برادرانہ اتحاد”کہنااب ایک سادہ تعبیرمعلوم ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہرتعلق مفادات کے ترازوپرتولاجاتاہے ۔سوال یہ نہیں کہ تعلقات کیوں خراب ہوئے،بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کب تک بہتررہ سکتےہیں؟کیونکہ خلیج کی سیاست میں مفادہمیشہ جذبات پرغالب رہاہے۔
متحدہ عرب امارات کی آبادیاتی ساخت ایک عجیب وغریب سماجی تصویرپیش کرتی ہے۔یواے ای کی آبادی ایک“غیرمعمولی سماجی تجربہ”ہے۔ایک کروڑدس لاکھ افرادمیں سے نوّے فیصدغیرملکی ہونااسے دنیاکےمنفردممالک میں شامل کرتاہے۔یہ وہ معاشرہ ہےجو تارکین وطن کےکندھوں پرکھڑاہے،جہاں ہندوستان،پاکستان اوربنگلہ دیش سے آئےہوئے محنت کش اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ دراصل ایک ایسامعاشرہ ہے جو“مقامی قیادت اورعالمی محنت”کے امتزاج پرقائم ہے۔
یہاں ہندوستانی،پاکستانی،بنگلہ دیشی اوردیگردرجنوں ممالک کے محنت کش صرف مزدورنہیں بلکہ معیشت کی بنیاد ہیں۔یہاں مردوں کی اکثریت اورخواتین کی کم تعدادایک ایسے سماجی توازن کی نشاندہی کرتی ہےجومحض اعدادوشمارنہیں بلکہ ایک انسانی کہانی ہے—تنہائی،محنت اورہجرت کی کہانی۔یہ سماج ایک خاموش سوال اٹھاتاہے:کیاریاست کی شناخت زمین سےہوتی ہے یاآبادی سے؟یواے ای کی معیشت بظاہرمضبوط ہےاوراس کی معیشت کاحجم504ارب ڈالرہے، اورفی کس آمدنی اسے دنیاکےامیرترین ممالک میں شامل کرتی ہے،مگراس کی بنیاد ایک ایسےوسائل پرہے جومحدود ہے۔یہ خوشحالی تیل کے اس انبارپرقائم ہے جووقت کے ساتھ ساتھ سیاسی ہتھیار بھی بن جاتی ہے۔روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی پیداواراس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ معیشت اورسیاست یہاں ایک ہی دریاکے دوکنارے ہیں۔تیل نےاسےایسی دولت عطاکی ہے جس نے اسے عالمی سیاست کاحصہ بھی بنادیا۔مگریہ ایک ایسی دولت ہےجوتحفظ بھی چاہتی ہے اور طاقت بھی۔
2020ءمیں اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں پردستخط نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک زلزلہ برپاکیا۔یہ معاہدے بظاہرامن کی طرف قدم تھے مگر حقیقت میں ایک نئی سفارتی صف بندی کاآغازتھے۔یادرہے کہ ابراہیمی معاہدے صرف سفارتی دستاویزنہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی تاریخ کا”نقشِ ثانی” ہیں۔یہ معاہدے اس بات کااعلان تھے کہ اب دشمنی اوردوستی کی تعریفیں مذہبی یانظریاتی نہیں رہیں بلکہ معاشی اوراسٹریٹجک ہوچکی ہیں۔مسلم دنیامیں متنازعہ ابراہیمی معاہدے کےبعدتجارتی حجم میں تیزی سےاضافہ اس بات کی علامت ہےکہ معاشی مفادات نظریاتی اختلافات پرغالب آرہے ہیں۔
غزہ کی جنگ کے دوران امارات کامؤقف ایک دودھاری تلوارکی مانندتھا—امارات کایہی انتہائی غیرمناسب رویہ جدیدسفارت کاری کی پیچیدگیوں کوظاہرکرتا ہے۔ایک طرف مذمت،اور انسانی ہمدردی کے بیانات،دوسری طرف تجارتی تعلقات کاتسلسل،یہی وہ تضادہے جو آج کی عالمی سیاست کی حقیقت ہے۔یہ وہ تضادہے جوجدید سفارت کاری کی پہچان بن چکا ہے ۔
قطرکابائیکاٹ دراصل خلیجی اتحادکےاندرموجودنظریاتی اختلافات کاعملی اظہارتھا۔ایران اوراخوان المسلمون کے حوالے سے اختلافات نے اس بحران کوجنم دیا۔دہشتگردی اورایران سے تعلقات کےالزامات نےاس بحران کوجنم دیا،جوکئی برس تک جاری رہا۔ایران اور امارات کےدرمیان تین جزیروں کاتنازع محض زمینی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔یہ جزائرمحض زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ کے محافظ ہیں کیونکہ یہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کے قریب واقع ہیں۔ان پراختلاف دراصل عالمی تجارت پرکنٹرول کی جنگ ہے۔یہ ایک دلچسپ امراورتاریخی تضادہے کہ ایران اورامارات ایک دوسرے کےبڑے تجارتی شراکت داربھی ہیں اورسیاسی حریف بھی۔یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اورمعیشت ایک دوسرے کوردبھی کرتےہیں اورقبول بھی،یعنی دشمنی اورتجارت ایک ہی میزپربیٹھےنظرآتے ہیں۔
2016ءکے بعدایران اورسعودی عرب کےتعلقات شدیدکشیدگی کاشکاررہے،لیکن2023میں ان میں بہتری نےایک نئی امیدپیداکی گویا تعلقات کی بحالی نے اس حقیقت کواجاگرکیاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی ہمیشہ مستقل نہیں رہتی ۔یمن کی جنگ دراصل علاقائی طاقتوں کی پراکسی جنگ ہے،جہاں مقامی گروہ بڑے سیاسی کھیل کےمہرے ہیں۔یمن کی جنگ میں امارات کاکردارنہایت پیچیدہ رہاہے،جہاں حوثیوں کےخلاف عسکری کارروائیاں اوربعدمیں جزوی انخلا ایک متضادحکمتِ عملی کی نشاندہی کرتاہے۔یہ وہ حصہ ہے جہاں جنگیں باضابطہ نہیں ہوتیں بلکہ انکاراورالزام کے پردے میں چلتی ہیں۔تحقیقات کے مطابق یمن میں مختلف گروہوں کی حمایت اورخفیہ کارروائیوں نے اس جنگ کومزید پیچیدہ بنادیا۔2025ءمیں سعودی اتحاداوراماراتی حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان اختلافات نےخطےکو ایک نئےبحران میں دھکیل دیا۔یہ خطہ اب ایک ایسامیدان ہے جہاں مختلف اتحادی خودایک دوسرے کے مخالف ہوچکے ہیں۔
ادھردوسری طرف شام کی عرب لیگ میں واپسی محض سفارتی نہیں بلکہ اماراتی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی اورسیاسی بحالی سمجھی جاتی ہے۔یہ اقدام عرب دنیامیں ایک نئے مفاہمتی دورکی علامت تھا۔دمشق میں سفارت خانے کادوبارہ کھلنادراصل تعلقات کی خاموش بحالی تھی۔کوروناوبا کے دوران انسانی ہمدردی نےسیاسی فاصلے کم کرکے گم گشتہ روابط کی دوبارہ بنیادرکھ دی۔کورونانے دنیاکویہ سکھایاکہ بحران میں دشمنیاں ثانوی ہوجاتی ہیں۔تجارتی وفودکاتبادلہ تعلقات کی بحالی کی عملی شکل تھا۔تجارت اکثروہ راستہ ہےجس سسیاست اپنے بند دروازے کھولتی ہے۔یہ دورہ عرب دنیامیں شام کی تنہائی کےخاتمے کااعلان تھا۔
سیاسی تاریخ میں کئی فیصلے عوامی نہیں ہوتےبلکہ خفیہ راستوں سے انجام پاتے ہیں۔بعض اوقات طیارے صرف انسان نہیں بلکہ “سیاسی حقیقتیں”بھی منتقل کرتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق شامی قیادت کےبعض عناصرکاامارات میں منتقل ہونااس بات کی نشاندہی کرتا ہےکہ سیاست کبھی کبھی پردوں کےپیچھے لکھی جاتی ہے،جہاں طیارے صرف سفرنہیں کرتےبلکہ تاریخ کےصفحات بھی منتقل کرتے ہیں۔
سیاسی تاریخ میں بعض اوقات وہ فیصلے جوبظاہرعوامی سطح پردکھائی نہیں دیتے،دراصل ریاستوں کی اصل سمت متعین کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض اوقات وہ حقیقتیں زیادہ اہم ہوتی ہیں جودکھائی نہیں دیتیں۔ شام کابحران محض ایک خانہ جنگی نہیں تھابلکہ بیسویں اوراکیسویں صدی کی سب سےپیچیدہ جغرافیائی سیاسی کہانیوں میں سےایک ہے۔شام کے سیاسی بحران کےدوران بشار الاسدکی حکومت نہ صرف داخلی بقاکی جنگ لڑرہی تھی بلکہ خارجی سطح پربھی کئی خفیہ اورنیم خفیہ روابط میں الجھی ہوئی تھی۔ بشارالاسدکی حکومت،جوایک وقت میں مکمل تنہائی کاشکارہوچکی تھی،رفتہ رفتہ ایک ایسے عمل سے گزری جسے سفارتی اصطلاح میں “تدریجی بحالی”کہاجاسکتاہے۔متحدہ عرب امارات نے اس دوران دمشق کے ساتھ روابط کومکمل طورپرمنقطع نہیں کیابلکہ ایک محتاط مگر انتہائی محتاط سفارتی راستہ اختیارکیا۔
یہ وہ دنیاہےجہاں طیارے صرف انسانوں کونہیں لے جاتے بلکہ“سیاسی مستقبل”کوبھی ایک جگہ سےدوسری جگہ منتقل کرتےہیں۔بعض تحقیقات کے مطابق قیمتی سامان اوراہلِ خانہ کی منتقلی نے اسدحکومت کی داخلی وخارجی کیفیت کوبھی ظاہرکیاکہ ریاستیں جب بحران میں داخل ہوتی ہیں توان کا“غیرمرئی ڈھانچہ”زیادہ متحرک ہوجاتاہے۔بعض باوثوق ذرائع کےمطابق اس عرصے میں مالی،سفری اورسفارتی سطح پرایسے اقدامات ہوئے جنہوں نے اسدحکومت کی تنہائی کو کم کرنے میں کرداراداکیا ۔ مثلاًشام کے سابق صدربشارالاسدکےگرد جو واقعات سامنے آئے،ان میں ایک پہلویہ بھی ہے کہ ان کی حکومت کے بعض قریبی حلقوں نے مالی وسفری سطح پرایسے اقدامات کیےجنہوں نے خلیجی ریاستوں ، خصوصاًمتحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کوایک نئی جہت دی۔یہ وہ مرحلہ تھا جہاں خلیجی سیاست ایک نئے رجحان کی طرف مڑرہی تھی:“تنہائی کے بجائے تدریجی انضمام”۔
متحدہ عرب امارات نےاس مرحلے پرجوحکمتِ عملی اختیارکی وہ روایتی سفارت کاری سے مختلف تھی۔اس نےایک محدود سفارتی دروازہ کھلارکھنے کی پالیسی اپنائی ۔اس حکمتِ عملی کامقصدیہ تھاکہ شام جیسے ممالک کومکمل طورپرمخالف بلاک میں دھکیلنے کی بجائےانہیں ایک محدوددائرے میں واپس لایاجائے۔ دمشق کےساتھ روابط کی بحالی دراصل اس وسیع ترسوچ کاحصہ تھی جس میں خطے کی ریاستیں یہ سمجھنے لگی تھیں کہ “مکمل تنہائی”اکثرمزید عدم استحکام پیداکرتی ہے۔یہ وہ لمحہ تھاجہاں مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری نظریاتی بنیادوں سےہٹ کرعملی مفادات کےگرد گھومنے لگی۔
لیبیاکامعاملہ اس بات کی واضح مثال ہےکہ جب مرکزی ریاستی ڈھانچہ کمزورپڑجائے توعلاقہ کس طرح طاقت کےمختلف مراکزمیں تقسیم ہوجاتاہے۔2011 کےبعدلیبیامحض ایک ملک نہیں رہابلکہ طاقت کے تجربات کی ایک زندہ تجربہ گاہ بن گیا۔معمرقذافی کے خاتمے کے بعدجوخلاپیداہوا،وہ نہ صرف مختلف مسلح گروہوں اورعلاقائی طاقتوں کےدرمیان تقسیم ہوگیابلکہ مختلف مسلح گروہوں،قبائلی اتحادوں اوربیرونی طاقتوں کے درمیان ایک پیچیدہ جنگ کاسبب بن گیا۔ لیبیاایک ایسی ریاست بن گیاجو“ریاست سے زیادہ “خطۂ تنازع” بن چکاتھا۔مرکزی حکومت کاتصورکمزورہواتومختلف مسلح گروہوں نے خلاپرقبضہ کرناشروع کیا۔بن غازی اورطرابلس کےمحاذصرف لیبیاکے اندرونی تنازعے نہیں تھے بلکہ عرب دنیااورعالمی طاقتوں کے درمیان یہ تنازع داخلی نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کےاثرورسوخ کابھی میدان اورایک غیراعلانیہ جنگ کاحصہ تھے۔یہاں سیاست“نظریہ”نہیں رہی بلکہ“ہدفی کارروائیوں”میں بدل گئی۔
متحدہ عرب امارات نےاس پیچیدہ صورتِ حال اوربحران میں براہِ راست یابالواسطہ طورپرمختلف دھڑوں ساتھ روابط رکھے بلکہ اپنے مفادات کیلئے بعض کی حمایت کی۔بن غازی اورمشرقی لیبیامیں خلیفہ حفترکی افواج کوحاصل حمایت اس بات کی علامت تھی کہ یہ تنازع محض داخلی نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کے اثرات سےبھی جڑاہواہے۔یہ وہ دورتھاجب عرب دنیامیں “ریاست”کاتصوراپنی روایتی شکل کھورہاتھااورریاستی خودمختاری کاتصوردھندلارہاتھااورغیرریاستی عناصرزیادہ طاقتوراوراہم کرداراداکرنے لگےتھے۔
جنوری2020میں طرابلس کے قریب ایک فوجی واقعے میں طلبہ کی ہلاکت نےاس جنگ کےنئےرخ کوواضح کیااوریہ سوال اٹھایاکہ کیا جدیدجنگیں زیادہ “بہیمانہ”ہوگئی ہیں یازیادہ “غیر انسانی”؟اب جنگ میں دشمن سامنے نہیں ہوتابلکہ“اسکرین کے پیچھے”ہوتاہے۔لیبیااور دیگرتنازعات میں ڈرون ٹیکنالوجی کےاستعمال نے جنگ کی نوعیت بدل دی ہے۔اس جدید ٹیکنالوجی نے فاصلے ختمکردیے ہیں،مگر انسانی زندگی کی قیمت بڑھادی ہے بلکہ جنگ کے اخلاقی سوالات کوبھی پیچیدہ بنادیاہے۔طرابلس اورلیبیاکے دیگرعلاقوں میں ہونے والے فضائی حملےاس بات کی علامت تھےکہ جنگ اب روایتی نہیں رہی۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں جنگیں زیادہ “مشینی”اورانسانی المیے زیادہ “خاموش”ہوجاتے ہیں اورٹیکنالوجی اوراخلاقیات ایک دوسرے کےآمنےسامنےکھڑےنظرآتے ہیں۔ اب جنگ میں دشمن نظرنہیں آتا، بلکہ ایک“ڈیجیٹل ہدف”بن جاتاہے۔یہی وہ تبدیلی ہےجس نے جدیدعسکریت کوزیادہ مؤثرمگرزیادہ غیرانسانی بنادیاہے۔
متحدہ عرب امارات اکثرلیبیامیں براہِ راست مداخلت سےانکارکرتارہاہے۔یہ محض دفاعی مؤقف نہیں بلکہ جدیدسفارت کاری کی ایک عام معروف حکمتِ عملی ہے جہاں ریاستیں اپنے اثرکوبرقراررکھتے ہوئے براہِ راست ذمہ داری سےگریز کرتی ہیں۔یہ“مؤثرمگرغیرظاہر” پالیسی خلیجی سیاست کاایک اہم ستون بن چکی ہے۔یہ پالیسی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ریاستیں مختلف خطوں میں اثراندازبھی رہیں اوربین الاقوامی دباؤسے بھی کسی حدتک محفوظ رہیں۔
سوڈان کابحران بظاہرداخلی ہے مگراس کے پسِ پردہ علاقائی طاقتوں کی دلچسپی واضح ہے۔ریپڈسپورٹ فورسزجیسے گروہوں کی تشکیل اورتربیت کے الزامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے کمزورہورہے ہیں جبکہ غیرریاستی عناصرمضبوط۔ افریقہ کایہ خطہ بھی اب عالمی سیاست کے حاشیے پرنہیں بلکہ اس کے مرکزمیں آچکاہے۔ریپڈسپورٹ فورسزاوردیگرگروہوں کےگرد گھومنےوالےالزامات اس بات کی نشاندہی کرتےہیں کہ ریاستی طاقت اب صرف حکومتوں کےپاس نہیں رہی۔یہاں جنگ صرف بندوقوں سےنہیں بلکہ“تربیتی مراکز،“نیٹ ورکنگ”،مالی معاونت،“غیررسمی ڈھانچوں”اوراسٹریٹجک روابط”سے لڑی جاتی ہے۔یہ صورتحال صرف داخلی نہیں بلکہ علاقائی اورعالمی طاقتوں کیلئے بھی ایک اسٹریٹجک چیلنج بن چکی ہے ۔
سوڈان کی جانب سے بین الاقوامی عدالت میں دائر کردہ مقدمہ دراصل اس بات کااظہارہے کہ اب جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ قانونی فورمزپر بھی لڑی جاتی ہیں۔یہ وہ دورہ ے جہاں“عدالتیں”بھی سفارتی میدان کاحصہ بن چکی ہیں۔یہ ایک نیامیدان ہےجہاں “قانون” بھی طاقت کے توازن سے متاثر ہوتاہے۔یہاں قانون اورسیاست ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی قانون اکثرطاقتورریاستوں کیلئے“ڈھال” اورکمزورریاستوں کیلئے“دیوار”بن جاتاہے۔مقدمات کاخارج ہوناصرف قانونی فیصلہ نہیں بلکہ سیاسی توازن کابھی حصہ ہوتاہے۔اسی لیے بعض مقدمات قانونی طورپرخارج ہوجاتے ہیں،لیکن سیاسی طورپرزندہ رہتے ہیں۔بین الاقوامی قانون کابنیادی مسئلہ اور سب سے بڑی کمزوری یہ ہےکہ اس کا نفاذطاقت کے بغیرممکن نہیں۔اس لیے بعض فیصلے قانونی طورپردرست ہونے کے باوجودعملی طورپرمحدوداثررکھتے ہیں ۔
صومالیہ کی بندرگاہیں آج محض صرف اقتصادی اورتجارتی مراکزنہیں بلکہ اسٹریٹجک اثاثے اورجغرافیائی سیاست کے اہم ستون بن چکی ہیں۔ان پراثر ورسوخ حاصل کرنادراصل بحرِہندکی تجارت پراثرڈالنے کے مترادف ہے۔یواے ای اوردیگرممالک کے درمیان معاہدےاس بات کی نشاندہی کرتےہیں کہ بحرِہند اورافریقہ کاساحلی خطہ اب عالمی سیاست کااہم حصہ بن چکاہے۔صومالی لینڈ کی ممکنہ تسلیم شدگی مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئے باب کااضافہ ہےبلکہ اس بات کااشارہ ہے کہ عالمی نظام میں ریاست کاتصورمسلسل بدل رہاہے،جہاں چھوٹے خطے بھی عالمی اتحادوں اورسفارتی نیٹ ورک کاحصہ بن رہے ہیں۔کسی خطے کوریاست تسلیم کرنامحض علامتی عمل نہیں بلکہ عملی سیاسی اثرات رکھتی ہے،جس کے پیچھے وسیع سیاسی اثرات ہوتے ہیں۔یہ عمل پورے خطے کی طاقت کا توازن کو بدل سکتاہے۔
بندرگاہوں کےمعاہدے اس بات کی علامت ہیں کہ سمندری راستےاب سیاسی طاقت کےنئےمراکزہیں۔یہ معاہدےاس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سمندری راستے اب عالمی طاقت کی نئی کرنسی بن چکے ہیں۔صومالیہ،ایتھوپیااورصومالی لینڈکے درمیان معاہدے اس بات کی مثال ہیں کہ جغرافیہ اب صرف زمین نہیں بلکہ“سیاسی سودے بازی”کاحصہ ہے۔بحری اڈے آج کے وہی اہمیت رکھتے ہیں جو ماضی میں قلعوں،سرحدی چوکیوں اورشہروں کوحاصل تھی۔یہ عالمی تجارت پرکنٹرول کی علامت ہیں اورفوجی رسائی دونوں کیلئے اہم ہیں۔
سفارتی بحران اکثرایسے الزامات سےجنم لیتےہیں جوبظاہر معمولی مگرحقیقت میں نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ فضائی حدودکی خلاف ورزی جیسے مسائل اکثربڑے سفارتی بحرانوں کاآغازبنتے ہیں۔ادھرالجزائراورمتحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات اس بات کی مثال ہیں کہ عرب دنیااب یکساں بلاک نہیں رہی بلکہ مختلف سیاسی مراکزمیں تقسیم ہوچکی ہے۔علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت یامخالفت اب صرف داخلی مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کے درمیان اثرورسوخ کی جنگ بن چکی ہے۔
شیخ زاید کے دورمیں متحدہ عرب امارات نےمفاہمت،ثالثی اورعلاقائی استحکام پرسفارت کاری کی بنیادرکھی جواس کی ابتدائی خارجہ پالیسی کااہم بنیادی ستون تھا۔جس نے اسے ایک معتدل ریاست کےطور پرمتعارف کروایا۔یواے ای نےکئی مواقع پرعرب تنازعات میں ثالث کاکرداراداکرکے نیک نامی بھی کمائی جواس وقت داؤپرلگ چکی ہے۔ابتدامیں امارات کی شناخت ایک فلاحی اورترقیاتی ریاست کی تھی،مگرعرب بہارکےبعدامارات کی پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ، جہاں فلاحی ریاست کی بجائے زیادہ فعال اسٹریٹجک ریاست کاتصور غالب آگیا۔علاوہ ازیں اسلام پسندتحریکوں کے ابھارنے بھی خلیجی ریاستوں کی داخلی و خارجی پالیسیوں کوجہاں براہِ راست متاثرکیا، وہاں ایک نیاچیلنج پیداکردیا۔یہ تقسیم صرف سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھی،جہاں ہرریاست نے مختلف علاقائی قوتوں کے ساتھ صف بندی اختیارکی۔قطر،سعودی عرب اورامارات کے درمیان اختلافات نے خلیجی اتحادکی یکجہتی کوکمزورکیا۔
خلیفہ بن زایدکی بیماری کے بعدمحمدبن زایدکاعملی اقتدارمیں آناایک اہم سیاسی تبدیلی تھی جس نے امارات کی خارجہ پالیسی کومزید فعال،تیز،جارحانہ اور اسٹریٹجک بنادیا۔یورپ کے حوالے سے اماراتی بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر“اسلام پسندی”اب ایک سیاسی اورسیکیورٹی اصطلاح بن چکی ہے،مذہبی نہیں۔یورپی ریاستوں کودیے گئے انتباہات دراصل مستقبل کی ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئی تھے۔فرانس میں اسلام پسندی اوراس کے خلاف بیانیے پرمبنی مباحث اس بات کی نشاندہی کرتےہیں کہ اب نظریاتی جنگیں بھی عالمی سطح پرلڑی جارہی ہیں۔
آج کی دنیامیں جنگ صرف ہتھیاروں سےنہیں بلکہ“بیانیے،میڈیااورمعلوماتی نیٹ ورکس”سے لڑی جاتی ہے۔الزامات،رپورٹس اورمیڈیا مہمات اب ریاستی طاقت کاحصہ بن چکی ہیں۔یہی وہ میدان ہے جہاں حقیقت اورتاثرکے درمیان لکیردھندلاچکی ہے۔
مندرجہ بالا تمام حقائق کاحتمی تجزیاتی خلاصہ یہ نکلاکہ خلیجی سیاست اب نظریاتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک مفادات پرقائم ہے اوراب روایتی سفارت کاری سےنکل کر”پراکسی نیٹ ورکس”میں بدل چکی ہے،افریقہ،شام اوریمن تک ہرخطہ اب عالمی طاقتوں کے مشترکہ محاذ،اثر،دباؤاورمقابلے کے میدان ہیں اورجنگیں اب صرف میدانوں میں نہیں بلکہ عدالتوں،میڈیا اورمعیشت میں بھی لڑی جارہی ہیں اور جنگیں اب روایتی اورعسکری نہیں رہیں بلکہ قانونی اورمعلوماتی شکل اختیارکرچکی ہیں۔سب سے اہم بات،ریاستیں اب نظریات سے نہیں بلکہ مفادات کےگردگھوم رہی ہیں اور”سخت طاقت” “انکار”اورنرم اثر”کے امتزاج سے چل رہی ہیں”۔