تاریخ کے سینے میں بعض واقعات ایسے ثبت ہوجاتے ہیں جومحض وقتی معرکے نہیں رہتے بلکہ ایک عہدکی علامت بن جاتے ہیں۔مئی کی چار روزہ پاک وہند جنگ بھی اسی نوع کا ایک باب ہے—مختصرمگرفیصلہ کن،محدودمگراثرانگیز۔یہ وہ لمحہ تھاجب دنیانے حیرت سے دیکھاکہ ایک ایساملک،جورقبے،وسائل اور معیشت کے اعتبارسے اپنے حریف سے کئی گنا چھوٹا ہے،کس طرح عزم،حکمت اور قربانی کے بل بوتے پرایک بڑی قوت کے سامنے ڈٹ کرکھڑاہوگیا۔
پاکستان نے اس معرکے میں صرف عسکری قوت ہی کامظاہرہ نہیں کیابلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیاکہ جنگ کافیصلہ ہمیشہ تعداداور وسائل سے نہیں ہوتا،بلکہ جذبۂ ایمانی،قومی یکجہتی، اور بروقت حکمتِ عملی بھی تاریخ کادھاراموڑسکتی ہے۔یہ وہی حقیقت ہے جسے اہلِ نظریوں بیان کرتے آئے ہیں کہ کمزوری جب یقین سے جڑجائے توقوت بن جاتی ہے،اورطاقت جب غرورمیں ڈھل جائے توزوال کاپیش خیمہ بن جاتی ہے۔
زیرِنظرآرٹیکل انہی حقائق کاایک سنجیدہ اورتحقیق پرمبنی جائزہ ہے،جس میں پاکستان اورانڈیا—دونوں کی عسکری تیاریوں، دفاعی حکمت عملیوں،اورجدید جنگی رجحانات کودیانت داری اورغیر جانب داری کے ساتھ پیش کیاگیاہے۔اس کامقصدکسی فریق کی محض مدح سرائی نہیں بلکہ حقیقت کواس کے تمام تر پہلوؤں کے ساتھ آشکارکرناہے،تاکہ عوام اوراربابِ اختیاردونوں اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو بہترطورپرسمجھ سکیں۔موجودہ دورمیں جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی،معیشت،اورفکرکے میدانوں تک پھیل چکی ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ قومیں نہ صرف اپنے ماضی سے سبق حاصل کریں بلکہ مستقبل کے چیلنجز کیلئے بھی خودکوتیار رکھیں۔
تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں توبعض ابواب ایسے ملتے ہیں جومختصر ہونے کے باوجوداپنے اثرات میں ایک عہدکی نمائندگی کرتے ہیں۔جنوبی ایشیاکی فضامیں ایک عجیب سی گونج ہے—یہ گونج صرف توپ وتفنگ کی نہیں بلکہ نظریات،حکمتِ عملیوں اور ٹیکنالوجی کی نئی بساط کی ہے۔گزشتہ برس مئی کی چار روزہ پاک بھارت جنگ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتی ہے۔یہ جنگ بظاہر مختصرتھی،لیکن یہ کوئی محض چاردنوں کاقصہ نہ تھا،بلکہ ایک فکری انقلاب،ایک عسکری تجربہ،اورایک سیاسی بیانیہ تھاجس نے پورے خطے کی حرکیات کونہ صرف نئی جہت عطاکی بلکہ اپنے اثرات میں طویل،مضمرات میں گہرے،اور اشارات میں نہایت معنی خیز ثابت ہوئی۔یہ محض سرحدوں کاتصادم نہ تھا،بلکہ دوعسکری فکرناموں کاٹکراؤ تھا—ایک ایساتصادم جس نے آنے والے زمانوں کی جنگی جہتوں کونئی تعریف عطاکی۔
اگرماضی کی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں تویہ جنگ ذہنوں،مشینوں اورنظاموں کے بیچ لڑی گئی۔یہاں سپاہی کی للکارکی بجائے ڈرون کی خاموشی تھی، توپ کی گھن گرج کی بجائے میزائل کی برق رفتاری تھی،اورتلوارکی جھنکارکی بجائے ڈیجیٹل سگنلزکی سرگوشی تھی۔گویاجنگ نے اپنی ہیئت بدل لی،مگراس کی روح—غلبہ،دفاع اوربقا—وہی رہی۔
آج جب اس تنازع کوایک برس بیت چکاہے،دونوں ممالک نہ صرف اپنی کامیابیوں کے نغمے الاپ رہے ہیں بلکہ اس معرکے کواپنے قومی بیانیے کاحصہ بناکر نئی نسل کے اذہان میں ثبت کرنے کی سعی بھی کررہے ہیں۔تقریبات،بیانات،اورعسکری مشقیں—یہ سب گویا ایک خاموش اعلان ہیں کہ جنگ ختم نہیں ہوئی ،بلکہ اس نے صرف اپنالباس بدلاہے۔
یہی وہ پس منظرہے جس میں اس تنازع کوسمجھناناگزیرہے،کیونکہ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ مستقبل کی جنگوں کاپیش لفظ ہے۔یہ امرکسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس چارروزہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات گویابرف کی دبیزتہہ تلے دب گئے ہیں۔ جنگ کے بعدجوسب سے نمایاں تبدیلی سامنے آئی،وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کاانجمادتھا۔گویاتعلقات کی وہ نہر،جو کبھی دھیرے دھیرے بہتی تھی،اچانک برف بن کرٹھہرگئی۔سفارت خانے خاموش،ویزادفاترویران،اورتجارتی قافلے منتشرہوگئے،اور باہمی اعتمادقصۂ پارینہ بن چکا ہے۔سب سے اہم بات یہ کہ آبی تقسیم کاتاریخی معاہدہ،جسے عشروں تک دونوں ممالک نے ایک مقدس امانت کی طرح سنبھال کررکھا،جودہائیوں تک دشمنی کے باوجودقائم رہا،اب یکطرفہ معطلی کاشکارہے۔
یہ صورتحال اس حقیقت کی آئینہ دارہے کہ جدیدجنگ صرف میدانِ کارزارتک محدودنہیں رہی بلکہ جدیددنیامیں سفارت کاری،معیشت، اوروسائل کی تقسیم بھی نہ صرف اس کی زدمیں آ چکی ہے،بلکہ جنگ کاہتھیاراورایک ہمہ جہت مظہربن چکی ہے جس میں بندوق کی گولی سے زیادہ خطرناک قلم کی جنبش اورمعاہدوں کی معطلی ہوسکتی ہے۔پانی،جوزندگی کی علامت تھا،اب طاقت کی علامت بنتاجارہا ہے۔
پانی بھی اب سیاست کے سانچے میں ڈھل گیا
دریا بھی اب حدود کے پابند ہو گئے
انڈیاکی جانب سے’آپریشن سندور‘کے جاری رہنے کااعلان اورپاکستان کی طرف سے تیاررہنے اورسخت جواب دینے کاعندیہ—یہ دونوں بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ آنے والے طوفان کی پیشین گوئی ہیں۔دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ بیانات دراصل ایک نفسیاتی جنگ کاحصہ ہیں،یہ سب دراصل عوامی ذہن سازی کے حربے ہیں جس کامقصد مخالف کومسلسل دباؤ میں رکھناہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں زبان ہتھیاربن جاتی ہے،اوربیان ایک مورچہ۔ قوموں کی نفسیات کو مضبوط یاکمزورکرنے میں الفاظ کاکردارکسی میزائل سے کم نہیں ہوتا۔یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ جنگ اب صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانیے،اطلاعات،اورنفسیاتی حربوں سے بھی جیتی یاہاری جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہربیان میں ایک پیغام چھپاہوتا ہے—اپنے لیے حوصلہ،اورمخالف کیلئے انتباہ۔
گزشتہ تنازع میں جوسب سے اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی،وہ جدیدٹیکنالوجی کابے مثال استعمال تھا۔پہلی باردونوں ممالک نے کھل کر طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائلوں،کروزسسٹمز، اورڈرونزکے استعمال کادعویٰ کیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب جنگ نے اپنی روایتی حدودتوڑدیں اورایک نئی دنیامیں قدم رکھا—یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ جنگ اب فاصلے کی قیدسے آزاد ہوچکی ہے۔جہاں سپاہی کی جگہ مشین نے لے لی،اورمحاذکی جگہ سکرین نے۔ڈرونزکی خاموش پروازیں ،میزائلوں کی برق رفتاری،اورکروزسسٹمزکی مہلک درستگی—یہ سب مل کرایک ایسی جنگی تصویربناتے ہیں جس میں انسانی جذبات کی جگہ الگورتھمز نے لے لی ہے۔گویااب جنگ فاصلے کی نہیں بلکہ صلاحیت کی ہوگئی ہے۔
ڈرونزکی خاموش پروازیں گویاآسمان پرلکھے ہوئے وہ اشعارہیں جنہیں صرف تباہی کی زبان سمجھتی ہے۔میزائلوں کی رفتارایسی کہ پلک جھپکنے سے پہلے فیصلہ ہوجائے۔اورکروزسسٹمزکی درستگی ایسی کہ نشانہ خطاہونے کاسوال ہی پیدا نہ ہو۔یہ سب مل کرایک ایسی دنیاکی تصویرپیش کرتے ہیں جہاں انسان پس منظر میں اورمشینیں پیش منظرمیں آچکی ہیں۔
انڈیا نے اس تنازع کے بعدجس حکمت عملی کواختیارکیا،اسے ملٹی ڈومین واردراصل جنگ کوایک نئے فلسفے میں ڈھالنے کے مترادف ہے۔اب جنگ صرف زمین پرنہیں لڑی جاتی بلکہ چاربنیادی میدانوں،فضا،سمندر،اورسائبردنیامیں بھی بیک وقت جاری رہتی ہے۔یہ حکمت عملی ہمیں اس حقیقت کی یاددہانی کراتی ہے کہ جدیددنیامیں جنگ ایک شطرنج کی بساط ہے جہاں ہرچال کئی سمتوں میں اثر اندازاورجدیدجنگ ایک ہمہ جہت مظہرہے،جہاں ہرمیدان دوسرے سے جڑاہواہے۔اگرایک محاذکمزورہوتوپورانظام خطرے میں پڑسکتا ہے۔اس لیے اب جنگ ایک مربوط نظام کاتقاضاکرتی ہے—ایک ایسانظام جہاں ہرعنصر اپنی جگہ پرمکمل ہو۔رفتار،انٹیگریشن،اور ٹیکنالوجی—یہ تین عناصراب جنگ کے نئے ستون ہیں۔گویااب طاقت کامعیارصرف اسلحہ نہیں بلکہ اس کابروقت اورمربوط استعمال ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ88گھنٹوں کی جنگ دراصل ایک ریفرنس پوائنٹ،ایک حوالہ بن چکی ہے—ایک ایسانمونہ جس کی روشنی میں مستقبل کی جنگوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔اس جنگ نے دنیاکوایک بارپھریاددلایاکہ جنوبی ایشیااب بھی ایک نازک توازن پرقائم ہے،جہاں ایک معمولی چنگاری بھی بڑے شعلے کوجنم دے سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تنازع دراصل ایک پروٹوٹائپ تھا،جس میں مستقبل کی جنگوں کے خدوخال نمایاں ہوگئے۔یہ صورتحال ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ تاریخ خودکودہراتی نہیں،بلکہ نئے اندازمیں سامنے آتی ہے۔ہرجنگ اپنے اندراگلی جنگ کابیج رکھتی ہے، اوریہی بیج مستقبل کی حکمت عملیوں کوجنم دیتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں جھنجھوڑتی ہے اورکہتی ہے کہ طاقت کے توازن کونظراندازکرناخودکوتباہی کے دہانے پرلے جاناہے۔
انڈین فوج نے اس جنگ کے بعداپنی تنظیمِ نوکاآغازکیاہے،جس کے تحت انٹیگریٹڈ بیٹل تھیٹرگروپس تشکیل دیے جارہے ہیں۔یہ ایک ایسا تصورہے جس میں بری،بحری، اورفضائی افواج ایک مشترکہ کمان کے تحت کام کریں گی۔یہ تبدیلی دراصل اس حقیقت کااعتراف ہے کہ جدیدجنگ میں تنہاقوت بے معنی ہے؛ کامیابی کارازاشتراک اورہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔جس طرح ایک آرکسٹرامیں ہرسازاپنی جگہ اہم ہوتاہے،اسی طرح جنگ میں ہرفورس کامربوط کردارفیصلہ کن ثابت ہوتاہے۔
آپریشن سندورکے دوران جومشترکہ کنٹرول سسٹم قائم کیاگیا،وہ دراصل اسی نئے نظریے کی عملی جھلک تھا۔مختلف افواج کاایک پلیٹ فارم پرآنااورمربوط اندازمیں فیصلے کرنااس بات کی دلیل ہے کہ جنگ اب انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی حکمت کاکھیل بن چکی ہے۔یہ ماڈل مستقبل میں جنگی منصوبہ بندی کابنیادی ستون بن سکتاہے،جہاں فیصلہ سازی کی رفتاراوردرستگی ہی جنگ کافیصلہ کرے گی۔
نئی حکمت عملی کے تحت انڈیانے دفاعی پیداوارمیں نجی شعبے کی شمولیت کوفروغ دیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ تحقیق وترقی کے ادارے بھی نئے ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہیں۔یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب صرف ریاستی اداروں کامعاملہ نہیں رہی بلکہ معیشت،صنعت،اورٹیکنالوجی کے اشتراک سے ایک نیانظام تشکیل پارہاہے۔گویااب ہر فیکٹری،ہرلیبارٹری،اورہرانجینئرجنگی مشین کاحصہ بن چکاہے۔
بیلسٹک میزائلوں کے نئے تجربات،جدیدفضائی دفاعی نظام،نئے ڈرونز،اورجنگی جہازوں کی خریداری—یہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ خطے میں اسلحے کی دوڑ ایک نئی شدت اختیارکرچکی ہے۔یہ دوڑبظاہردفاع کیلئے ہے،مگراس کے اندرایک خوف بھی پوشیدہ ہے،وہ خوف جوہرملک کومجبورکرتاہے کہ وہ دوسرے سے ایک قدم آگے رہے۔اسی لئے یہ دوڑصرف طاقت کے اظہارکی نہیں بلکہ بقا کی جنگ بھی ہے،جہاں ہرملک اپنے آپ کومحفوظ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ دوڑکبھی ختم ہوگی یایہ انسانیت کوایک نہ ختم ہونے والے خوف کے دائرے میں قید رکھے گی؟
ایران کی طرزپرزیرِزمین فوجی تنصیبات بنانے کامنصوبہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید جنگ میں تحفظ کاتصوربھی بدل چکاہے۔اب ہتھیاروں کوزمین کے نیچے محفوظ رکھنا،اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب دفاع کاتصورسطحِ زمین سے نیچے منتقل ہورہاہے۔ سرنگوں کے ذریعے منتقل کرنا،اوراچانک حملے کیلئے تیار رکھنا ایک اہم حکمت عملی بن چکی ہے۔یہ تدبیرہمیں قدیم قلعہ بندیوں کی یاد دلاتی ہے،مگرجدید ٹیکنالوجی کے ساتھ۔ گویاتاریخ اپنے آپ کونئے اندازمیں دہرارہی ہے۔
شمال مشرقی علاقوں میں فوجی تنصیبات کی اپ گریڈیشن اورپہاڑوں میں سرنگوں کی تعمیراورفوجی تنصیبات کی اپ گریڈیشن اس بات کی علامت ہے کہ جغرافیہ اب بھی جنگ کاایک اہم عنصراوراہم کرداراداکرتاہے،مگراس کی تعبیربدل چکی ہے۔اب پہاڑمحض رکاوٹ نہیں بلکہ تحفظ کاذریعہ ہیں،اور سرنگیں صرف راستے نہیں بلکہ حکمت عملی کاحصہ ہیں مگرفرق یہ ہے کہ اب جغرافیہ کوٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑکرایک نئی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔آج کامیدانِ جنگ وسیع ہے،سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیلاہوا۔ڈرونز، میزائل،اورطیارے کسی بھی ملک کی حدودمیں گہرائی تک جاسکتے ہیں ۔ایسے میں دفاع صرف سرحدوں پرنہیں بلکہ ہراس مقام پر درکارہے جہاں خطرہ جنم لے سکتاہے۔
موجودہ حالات ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ جنگ کاچہرہ مکمل طورپربدل چکاہے۔ جنگ اب محض بندوق اوربارودکا کھیل نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ گیرنظام بن چکی ہے جس میں ٹیکنالوجی ، معیشت، سفارت کاری، اورنفسیات سب شامل ہیں۔یہ داستان اس وقت تک ادھوری رہے گی جب تک ہم پاکستان کی حکمت عملی،اس کی عسکری اصلاحات، اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ نہ لیں۔
قوموں کی تاریخ میں بعض فیصلے نہ صرف ایسے ہوتے ہیں جومحض اعدادوشمارنہیں بلکہ ایک اجتماعی شعورکی ترجمانی ہوتے ہیں بلکہ بعض فیصلے وقتی نہیں ،وہ ایک طویل فکری ارتقااور اجتماعی شعورکے عکاس ہوتے ہیں۔پاکستان کادفاعی بجٹ میں بیس فیصد نمایاں اضافہ بھی اسی قبیل کاایک فیصلہ ہے—یہ محض مالی اعدادو شمار کی ترمیم نہیں بلکہ ایک ایسی ریاستی بصیرت کااظہارہے جو خطرات کووقت سے پہلے بھانپ کران کاتدارک کرناجانتی ہے۔یہ اضافہ صرف خزانے سے نکالی گئی رقم نہیں بلکہ ایک اضطراری کیفیت کااظہارہے،ایک ایسے عہدکااعلان ہے جہاں بقاکاسوال محض نظری نہیں بلکہ عملی بن چکاہے۔
چارروزہ جنگ نے پاکستان کویہ احساس دلایاکہ امن کی خواہش اپنی جگہ،مگراس کے تحفظ کیلئے قوت کاہوناناگزیرہے۔گویااس جنگ نے ایک آئینہ دکھایا،جس میں کمزوریاں بھی عیاں ہوئیں اورامکانات بھی روشن ہوئے۔اس آئینے میں جھانک کرپاکستان نے یہ ادراک کیا کہ محض نیک تمنائیں اورسفارتی امیدیں کافی نہیں ہوتیں؛امن کی بقاکیلئے طاقت کی موجودگی ناگزیرہے۔چنانچہ جب دفاعی بجٹ میں بیس فیصد اضافہ کیاگیااوراسے 2550 ارب روپے تک پہنچایاگیاتویہ فیصلہ محض عسکری اداروں کیلئے وسائل کی فراہمی نہ تھابلکہ ایک اجتماعی عزم کااظہاراور تواناپیغام تھاکہ ہم اپنے تحفظ کی قیمت اداکرنے کیلئے تیارہیں۔یہ پیغام کہ ریاست اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہرممکن تدبیراختیار کرے گی،چاہے اس کیلئے اقتصادی ترجیحات کوہی کیوں نہ ازسرِنو ترتیب دیناپڑے۔
یہ اضافہ دراصل ایک تہذیبی ردعمل بھی ہے،کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جواپنی حفاظت سے غافل ہوجاتی ہیں،وقت کےتندوتیز دھاروں میں بہہ جاتی ہیں۔پاکستان نے اس حقیقت کوپیشِ نظررکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کوازسرِنوترتیب دیا،اوردفاع کومحض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا کاستون قراردیا۔دفاعی بجٹ میں اضافہ ایک طرف بیرونی خطرات کاردعمل ہے تو دوسری طرف داخلی چیلنجز —بالخصوص دہشتگردی—کابھی جواب۔گویایہ بجٹ ایک دودھاری تلوارہے جوبیک وقت بیرونی دشمن اورداخلی انتشاردونوں کامقابلہ کرنے کیلئے تیارکی گئی ہے۔
جب ہم پاکستان کے دفاعی اخراجات کوعالمی تناظرمیں دیکھتے ہیں توایک پیچیدہ مگرواضح تصویرسامنے آتی ہے۔یہ تصویرایک ایسے ملک کی ہے جوجغرافیائی طور پر حساس خطے میں واقع ہے، جہاں ہرسمت سے چیلنجزسراٹھائے کھڑے ہیں۔بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس حقیقت کومزید واضح کرتی ہیں کہ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دفاعی اخراجات محض اختیارنہیں بلکہ مجبوری بن چکے ہیں۔جب عالمی سطح پرپاکستان کے دفاعی اخراجات میں اضافہ نوٹ کیاجاتاہے تواس کے پیچھے صرف عسکری عزائم نہیں بلکہ جغرافیائی حقیقتیں بھی کارفرما ہوتی ہیں۔گویا دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف داخلی ضروریات کانتیجہ ہے بلکہ بیرونی دباؤاورعلاقائی مسابقت کابھی مظہرہے۔
چین کے ساتھ دفاعی معاہدے،جدید طیاروں اورمیزائلوں کی خریداری،پہلے سے طے شدہ سودوں کی تکمیل،اورطویل المدتی معاہدے — یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان ایک طویل المدتی دفاعی حکمت عملی،ایک منظم اورتدریجی حکمت عملی پرگامزن ہے۔یہ محض وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھایاجارہاہے۔یہاں یہ امربھی قابلِ غورہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ ہمیشہ طاقت اورجارحیت کی علامت نہیں ہوتا،بلکہ بعض اوقات یہ دفاعی ضرورت اورعدمِ تحفظ کے احساس کاآئینہ بھی ہوتاہے۔مگر قومیں اسی احساس کوقوت میں بدلنے کاہنررکھتی ہیں—اوریہی ہنرپاکستان کی عسکری حکمت عملی میں جھلکتاہے کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی اسی اصول پرمبنی ہے کہ طاقت کاتوازن ہی امن کی ضمانت ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں آرمی راکٹ فورس کمانڈ کاقیام ایک سنگِ میل اورانقلابی قدم کی حیثیت رکھتاہے۔یہ محض ایک نئی یونٹ نہیں بلکہ ایک نئے نظریے،جدید جنگی فلسفے کی عملی تعبیرہے— ایک ایسافلسفہ جس میں رفتار،دُورماررسائی،درستگی اورفوری ردعمل کومرکزی حیثیت حاصل ہے۔ماضی میں طویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل اسٹریٹجک سطح پرمحدود تھے،مگرجدید جنگ نے یہ تقاضاکیاکہ ان صلاحیتوں کو روایتی جنگی ڈھانچے میں بھی شامل کیاجائے۔راکٹ فورس کاقیام دراصل اسی ضرورت کاجواب ہے۔یہ قوت دشمن دراصل دشمن کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اب پاکستان دورسے نشانہ بنانے،فوری ردعمل دینے،اورجنگ کواپنے حق میں موڑنے کی کہیں بہترصلاحیت رکھتا ہے۔فاصلہ اب محفوظ پناہ گاہ نہیں رہا؛ہرمقام ، ہروقت،اورہرزاویہ خطرے کی زدمیں آسکتاہے۔یہی وہ حکمت ہےجوجدیدجنگ میں برتری کاتعین کرتی ہے۔یہ اقدام ہمیں اس حقیقت سے روشناس کراتاہے کہ جدیدجنگ میں برتری اسی کوحاصل ہوتی ہے جوفاصلے کواپنی قوت بنالے۔
ڈرون وارفیئریونٹ کاقیام اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ جنگ اب خاموشی کے پردے میں لڑی جارہی ہے۔دراصل اس یونٹ کاقیام جدیدجنگ کے اس نئے باب کی علامت ہے جہاں سپاہی کی جگہ مشین لے رہی ہے،اورمحاذکی جگہ آسمان۔ڈرونزکی پروازیں بظاہر خاموش ہوتی ہیں،مگران کااثرگرجتے ہوئے طوفان سے کم نہیں ہوتا۔پاکستان کی جانب سے اس یونٹ کی تشکیل اوراس کی عملی مشقیں اس امرکی دلیل ہیں کہ ملک جدیدجنگی تقاضوں اوررحجانات کوسمجھ رہاہے اوران کے مطابق خودکوڈھال رہاہے۔
ڈرونزکی سب سے بڑی خصوصیت ان کی خاموشی اوردرستگی ہے۔یہ نہ صرف نگرانی کرتے ہیں بلکہ حملہ آوربھی ہوسکتے ہیں۔گویا یہ ایک ایساہتھیارہے جودیکھتا بھی ہے اورمارتابھی ہے—اوریہ دونوں کام بیک وقت کرتاہے۔اوریہی دوہری صلاحیت انہیں ایک منفرد ہتھیاربناتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرونزکاکردارفیصلہ کن ہوسکتاہے۔یہ گویا وہ خاموش سپاہی ہیں جونہ تھکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں،اورنہ ہی اپنی موجودگی کااعلان کرتے ہیں—مگرجب حرکت میں آتے ہیں توتاریخ کادھارابدل دیتے ہیں۔
پاکستان کی بحریہ نے بھی اس جنگ کے بعداپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں اورصلاحیتوں میں اضافہ کیاہے۔نئے جہازوں کی شمولیت اورہنگورکلاس آبدوز کااضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سمندری دفاع کومرکزی حیثیت دی جارہی ہے۔پاکستان سمندری حدود کے تحفظ کوبھی اتنی ہی اہمیت دیتاہے جتنی زمینی سرحدوں کو۔
سمندرہمیشہ سے تجارت اورطاقت کامرکزاوراستعارہ رہے ہیں۔جو قوم سمندروں پراپنی موجودگی مضبوط رکھتی ہے،وہ نہ صرف اپنی سرحدوں کاتحفظ کرتی ہے بلکہ عالمی تجارت ومعیشت میں بھی اپنامقام مستحکم بناتی ہے۔پاکستان کی بحری حکمت عملی اسی اصول پر مبنی ہے—کہ سمندرصرف پانی نہیں بلکہ طاقت کاراستہ ہیں۔
جدیدجنگ میں سب سے بڑی برتری وہ ہے جونظرنہ آئے۔سٹیلتھ طیارے اسی فلسفے اورتصورکی عملی شکل ہیں۔پاکستان کی جانب سے جدیدسٹیلتھ طیاروں کے حصول کی کوششیں اس بات کی دلیل ہے کہ ملک مستقبل کی جنگی ضروریات کومدنظررکھ رہاہے۔یہ طیارے دشمن کے ریڈارسے اوجھل رہ کرحملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،اوریہی ان کی سب سے مؤثراوربڑی طاقت ہے۔گویایہ وہ سایہ ہیں ج نظرنہیں آتا،مگرجب گزرتاہے تواپنے اثرات چھوڑجاتاہے۔
پاکستانی عسکری قیادت نے واضح کردیاہے کہ مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنزپرمشتمل ہوں گی۔اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ بیک وقت مختلف میدانوں میں لڑی جائے گی—سائبر، فضا،زمین،اورخلاتک۔یہ تصورایک ہمہ جہت نظام کے طورپردیکھنے کی دعوت دیتا ہے کہ جنگ اب ایک پیچیدہ نظام بن چکی ہے جہاں ہرعنصردوسرے سے جڑاہواہے۔کامیابی اسی کوملے گی جواس پیچیدگی کوسمجھ کر اسے اپنے حق میں استعمال کرے۔اب جنگ صرف میدانِ کارزارتک محدودنہیں بلکہ سائبر،خلا،اوراطلاعاتی دنیاتک پھیل چکی ہے۔ کامیابی اسی کوحاصل ہوگی جوان تمام میدانوں میں بیک وقت برتری حاصل کرے۔
سائبروارفیئراورآرٹیفیشل انٹیلیجنس کابڑھتاہواکرداراس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب ڈیجیٹل دنیامیں بھی منتقل ہوچکی ہے۔اب دشمن کے نظام کو مفلوج کرنا،اس کی معلومات تک رسائی حاصل کرنا،اوراس کی حکمت عملی کوسمجھنااورقبل ازوقت جان لیناممکن ہوچکا ہے۔یہ وہ میدان ہے جہاں گولی نہیں چلتی،مگرنتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کوبڑھا رہاہے اورخطے میں اپنی برتری کاسکہ منواچکاہے۔
چارروزہ جنگ نے پاکستان کویہ سبق دیاکہ اسے طویل فاصلے تک مارکرنے والے ہتھیاروں اورراکٹ سسٹمزکی ضرورت ہے۔یہ وہ خلا تھاجسے اب پرکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں اورخود کوبہتر بناتی ہیں اور اپنی کمزوریوں کوطاقت میں بدلتی ہیں۔پاکستان کے پاس موجوداسٹریٹجک میزائل جوہری صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ان کا استعمال محدود ہے۔اسی لیے روایتی جنگی صلاحیتوں کوبڑھاناضروری ہے۔جس کیلئے روایتی جنگ کیلئےنئےہتھیاروں کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہ توازن برقراررکھنانہایت ضروری ہے،کیونکہ ایک غلط تاثربھی بڑے تصادم کوجنم دے سکتاہے اور ایک معمولی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کوجنم دے سکتی ہے۔
پاکستان کاڈرون پروگرام تیزی سے ترقی کررہاہے۔میدان اسٹرائیک جیسی مشقیں اس بات کی علامت ہیں کہ ملک اس میدان میں خودکو مضبوط اورخودکفیل ہونے کی کوشش کررہاہے۔ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملے کیلئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں،جوانہیں ایک کثیر المقاصدہتھیاربناتاہے۔پاکستانی فضائیہ جدید طیاروں کے حصول کی طرف بڑھ رہی ہے۔یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ ملک اپنی فضائی برتری کوبرقراررکھناچاہتاہے۔فضائی طاقت ہمیشہ جنگ میں فیصلہ کن کرداراداکرتی ہے،اوریہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔فضاسے لانچ کیے جانے والے میزائلوں کے تجربات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان اپنی میزائل ٹیکنالوجی کومزیدبہتربنانے کیلئے انتہائی کامیابی کے ساتھ جدیدخطوط پراستوارکررہا ہے۔یہ ہتھیاردشمن کے اہم اہداف کودورسے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہنگورکلاس آبدوزاورجدیددفاعی نظاموں کی شمولیت پاکستان کی بحری قوت کومزیدمضبوط بناتی ہے۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ ملک اپنی سمندری حدودکے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے اورمستقبل میں کسی بھی چیلنج کامقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیارہے۔
یہ تمام معلومات پاکستان کی عسکری حکمت عملی کی ایک ایسی جامع اورمتحرک تصورکوپیش کرتی ہیں جسمیں پاکستان کی عسکری حکمت عملی،اس کی بصیرت،اور اس کاعزم واضح طورپرجھلکتاہے ۔اوریہ واضح ہوتاہے کہ ملک نہ صرف ماضی کے تجربات سے سیکھ رہاہے بلکہ مستقبل کے چیلنجزکیلئے بھی خودکوتیارکررہاہے۔
یہ داستان دراصل ایک قوم کے عزم،اس کی بصیرت،اوراس کے دفاعی شعورکی کہانی ہے—ایک ایسی کہانی جوہمیں یہ نہ صرف یہ سبق دیتی ہے کہ امن کی ضمانت صرف خواہش سے نہیں بلکہ تیاری سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ داستان ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ فکر،حکمت، اورعزم سے مضبوط ہوتی ہیں—اوریہی عناصر پاکستان کے دفاعی سفرکوایک نئی سمت دے رہے ہیں۔
اس تحقیقی وتجزیاتی مطالعے کے اختتام پریہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جدیدجنگ محض اسلحے اوروسائل کی دوڑنہیں بلکہ حکمت،بصیرت اورعزم کاامتحان بھی ہے۔پاکستان نے مئی کے اس مختصرمگرفیصلہ کن معرکے میں یہ ثابت کردکھایاکہ اگرقوم کاحوصلہ بلندہو،قیادت مستحکم ہو،اورعسکری تیاری بروقت ہو تومحدودوسائل بھی بڑی قوتوں کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں۔
یہی وہ سبق ہے جوتاریخ ہمیں باربارسکھاتی ہے کہ فتح کادارومدارصرف ہتھیاروں پرنہیں بلکہ ان ہاتھوں پرہوتاہے جوانہیں تھامتے ہیں، اوران دلوں پرجوان میں یقین کی حرارت رکھتے ہیں ۔پاکستان کی کامیابی نے دنیاکویہ پیغام دیاکہ جذبۂ قربانی،ایمانی حرارت،اورقومی یکجہتی وہ عناصرہیں جومادی کمزوریوں کوبھی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔
تاہم اس کامیابی کومحض ایک جشن کے طورپردیکھنادانشمندی نہیں ہوگی۔یہ دراصل ایک ذمہ داری ہے—ایک ایساتقاضاجوہمیں مسلسل تیاری،تحقیق، اور بہتری کی طرف متوجہ کرتاہے ۔اسی احساس کے تحت اس رپورٹ میں دونوں ممالک کی عسکری حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے،تاکہ پاکستان کے عوام،پالیسی ساز،اورعسکری حلقے اس بدلتے ہوئے جنگی منظرنامے سے پوری طرح آگاہ ہوسکیں۔
یہ امربھی پیشِ نظ رہناچاہیے کہ اسلامی تعلیمات میں بھی دشمن کے مقابلے کیلئے ہروقت تیاری کاحکم دیاگیاہے۔قرآنِ حکیم کایہ پیغام محض ایک مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک عملی اصول ہے،جوہمیں یہ سکھاتا ہے کہ امن کی خواہش کے ساتھ ساتھ دفاع کی تیاری بھی لازم ہے۔یہی وہ توازن ہے جوایک قوم کومحفوظ، باوقاراورخودمختاربناتا ہے۔پس،اس مطالعے کاحاصل یہی ہے کہ پاکستان کواپنی حالیہ کامیابی کوایک سنگِ میل سمجھتے ہوئے آگے بڑھناہوگا—مزید تحقیق ، جدیدٹیکنالوجی،اورقومی یکجہتی کے ساتھ۔ کیونکہ تاریخ ان ہی قوموں کویادرکھتی ہے جواپنی کامیابیوں پررکتی نہیں بلکہ انہیں نئی بلندیوں کازینہ بنالیتی ہیں۔