Middle East Storm

مشرقِ وسطیٰ کا طوفان

اگراس جنگ کوصرف ایران اوراسرائیل کے درمیان ایک عسکری تصادم کے طورپردیکھاجائے توشایداس کی اصل نوعیت سمجھ میں نہ آئے۔حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطی میں ہونے والی تقریباًہربڑی جنگ دراصل علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے توازن کی کشمکش کامظہرہوتی ہے۔موجودہ جنگ بھی اسی طویل تاریخی سلسلے کاایک نیاباب معلوم ہوتی ہے۔

اس خطے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں کے تنازعات کبھی محض دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتے بلکہ ان کے پیچھے وسیع ترجغرافیائی سیاسی مفادات کارفرماہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط سے لے کرآج تک مشرقِ وسطی کی سیاست تین بنیادی عوامل کے گردگھومتی رہی ہے:توانائی کے وسائل،عالمی طاقتوں کی مداخلت اورعلاقائی طاقتوں کی رقابت ۔موجودہ جنگ کو بھی انہی عوامل کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

28فروری کی شب،جب دنیاکے بیشترحصوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری تھی،مشرقِ وسطی کی فضاں میں ایک نئی ہلچل جنم لے رہی تھی۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب اچانک امریکااوراسرائیل نے ایران پروسیع فضائی حملوں کاآغازکردیا۔چندہی گھنٹوں کے اندراندروہ خطہ جوپہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی،پراکسی جنگوں اورطاقت کے توازن کی کشمکش کامیدان رہا ہے،ایک نئی اورخطرناک جنگ کی لپیٹ میں آگیا۔صبح ہوتے ہوتے دنیاکو معلوم ہوچکاتھاکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ ایران نے فوری طورپرجوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اورخطے میں موجودامریکی فوجی اڈوں کونشانہ بناناشروع کردیا۔چنددنوں میں صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ نہ صرف ایران اوراسرائیل بلکہ پوراخطہ اس تصادم کی زدمیں آ گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں ایران کی اعلی قیادت کوشدید نقصان پہنچاہے۔ایران کے رہبرِاعلی آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلی فوجی قیادت کے متعددافرادہلاک ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔امریکی اوراسرائیلی حملوں میں تین ہزارسے زائدایرانی شہری مارے جاچکے ہیں جن میں ڈیڑھ سوسے زیادہ اسکول کی بچیاں بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔دوسری طرف ایران کی جوابی کارروائیوں میں اسرائیلی شہریوں اورامریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔لیکن اس جنگ کادائرہ صرف ایران اوراسرائیل تک محدود نہیں رہا۔لبنان،عراق اورشام کے بعداب خلیجی ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کررہے ہیں۔سعودی عرب،قطر،عمان،بحرین اورمتحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس تصادم کے سائے میں آچکے ہیں۔ایران نے ایک طرف آبنائے ہرمزکو بند کرنے کااعلان کیاہے،جبکہ دوسری طرف خلیجی ممالک کے اندرموجودتوانائی کے بنیادی ڈھانچے، امریکی سفارت خانوں اورایئرپورٹس کوبھی نشانہ بنایاہے۔ جیسے جیسے یہ جنگ پھیل رہی ہے،خطے میں جانی اورمالی نقصان بڑھتاجارہاہے۔اس پس منظرمیں یہ سوال نہایت اہم ہوجاتاہے کہ اسرائیل اورامریکاکے ایران پرحملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے خلیجی عرب ممالک اورپورے مشرقِ وسطی پرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں دو بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
ایران امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے غیرفوجی اہداف کوکیوں نشانہ بنارہاہے؟
اس تنازع کاخلیجی ممالک کے باہمی تعلقات اورامریکاکے ساتھ ان کے تعلقات پرکیااثرپڑسکتاہے؟

اگر موجودہ صورتحال کاجائزہ لیاجائے توامریکااوراسرائیل کادعوی ہے کہ ایران میں کئی اہم فوجی اورسیاسی اہداف کونشانہ بنایاگیا ہے۔ان کے مطابق رہبرِاعلیٰ کے کمپاؤ نڈ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈاینڈکنٹرول سینٹراورصدارتی دفترسمیت کئی اہم مقامات کوتباہ کیاگیا۔امریکی حکام کے مطابق پہلے48گھنٹوں میں ایران کے اندر1200سے زائد اہداف پرحملے کیے گئے۔دوسری جانب ایران کاکہناہے کہ جنوبی ایران میں منیاب کے مقام پرایک اسکول پرتین میزائل داغے گئے جن میں150سے زائد طالبات شہید ہوئیں ۔ اسی طرح کرمان شاہ اورتبریزمیں فوجی تنصیبات،جبکہ بندرعباس اورکنارکے علاقوں میں ایرانی بحری تنصیبات کونشانہ بنایاگیا۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیاکہ امریکی افواج نے ایران کے28بحری جہازتباہ کردیے اورایران کے بحری ہیڈکوارٹرکو تقریبا ناکارہ بنادیا۔ایران نے پہلے ہی خبردارکیاتھا کہ اگراس پر حملہ ہواتووہ پورے خطے میں امریکی اوراسرائیلی مفادات کونشانہ بنائے گا۔ اورواقعی یہی ہوا۔ایران نے اپنی جوابی کارروائی میں اسرائیل کے علاوہ کویت،اردن، بحرین ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پرسینکڑوں میزائل داغے اورتقریباایک ہزارڈرون حملے کیے۔بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈ کوارٹر،سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری اوردبئی کی جبل علی بندرگاہ جیسے اہم مراکز کونشانہ بنایاگیا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا مریکاکویہ اندازہ نہیں تھاکہ ایران اس طرح پورے خطے میں جوابی کارروائی کرے گا؟تجزیہ کاروں کے مطابق امریکاکو اس بات کا مکمل اندازہ تھا کہ ایران ردعمل دے گا۔درحقیقت جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکی فوج نے اپنی کئی اہم تنصیبات کومحفوظ مقامات پرمنتقل کردیاتھا۔بحرین میں موجودپانچویں بحری بیڑے کے کچھ جہازہٹادیے گئے،قطر کے العدید ایئربیس سے کئی طیارے منتقل کردیے گئے اورکچھ فارورڈآپریٹنگ پوزیشنزکواردن اوراسرائیل کے اندرمنتقل کیاگیایعنی جنگ کی قیمت اوراس کے ممکنہ اثرات پہلے ہی حساب میں لائے جاچکے تھے۔

اگرچہ فوجی نقصان کی شدت کے بارے میں مختلف آراموجودہیں،لیکن ایک چیزپرسب متفق ہیں کہ اس جنگ کی معاشی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔تیل اور گیس کی عالمی قیمتیں تیزی سے اوپرجارہی ہیں۔عالمی مارکیٹوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اورسرمایہ کارمحتاط ہوگئے ہیں۔معاشی ماہرین کاکہناہے کہ مارکیٹیں عموما ً غیرمتوقع واقعات پرشدید ردعمل دیتی ہیں،لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اکثر حالات معمول پرواپس آجاتے ہیں۔تاہم مشرقِ وسطی کی جنگوں کامسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثرمختصر نہیں ہوتیں۔

خلیجی ممالک کے اندربڑھتی بے چینی اب ایک نئی بحث جنم لے رہی ہے۔کچھ سعودی حکام اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکا کی دفاعی حکمت عملی کااصل مرکزاسرائیل ہے،نہ کہ خلیجی ممالک۔ان کاکہناہے کہ امریکااسرائیل کی سلامتی کے بارے میں تو فوری ردعمل دیتاہے،لیکن خلیجی ممالک کوپہنچنے والے نقصانات پراتنی سنجیدگی نہیں دکھاتا۔یہ احساس بہت حد تک درست اور خلیجی ممالک میں ایک طرح کی ناراضی کوجنم دے رہاہے۔سیاسی نظام جب دباؤمیں آتے ہیں توان کے اندرموجود دراڑیں بھی نمایاں ہوجاتی ہیں۔یہی صورتحال اب خلیجی خطے میں نظرآرہی ہے۔

ایران خلیجی ممالک کوکیوں نشانہ بنارہاہے؟یہ سوال اس جنگ کاسب سے اہم پہلو ہے۔ایران کامؤقف یہ ہے کہ وہ براہ راست خلیجی ممالک کونشانہ نہیں بنا رہا بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنا رہا ہے۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے مطابق” اگرامریکا ہمارے خلاف حملے ان اڈوں سے کرتاہے تووہ اڈے ہمارے لیے جائزفوجی اہداف ہیں” لیکن حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔کچھ حملے ایسے بھی ہوئے ہیں جن میں خلیجی ممالک کے شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاہے،مثلا متحدہ عرب امارات کے ایئر پورٹس یابحرین کے بعض شہری علاقے۔یہ محض حادثہ نہیں لگتا۔زیادہ ترتجزیہ کاروں کے مطابق ایران دراصل جنگ کی قیمت پورے خطے کیلئے بڑھاناچاہتاہے۔اگرخلیجی ممالک کواس جنگ کامعاشی اورسیاسی نقصان ہوگاتووہ امریکاپردباؤ ڈالیں گے کہ وہ جنگ ختم کرے۔

کیاخلیجی ممالک جنگ میں شامل ہوں گے؟یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔خلیجی ممالک نے سخت بیانات ضروردیے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک براہ راست فوجی کارروائی نہیں کی۔ اس کی ایک بڑی وجہ صلاحیت کی کمی بھی ہے۔اگران کے پاس مکمل دفاعی صلاحیت ہوتی توخطے میں اتنے بڑے امریکی فوجی اڈے موجود نہ ہوتے۔ قطرمیں العدیدایئر بیس،بحرین میں ففتھ فلیٹ اورسعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات اس بات کاثبوت ہیں کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کیلئے امریکا پرانحصارکرتے ہیں۔

اس جنگ کاایک بڑانتیجہ یہ ہوسکتاہے کہ خلیج میں عسکریت پسندی بڑھ جائے ۔ ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام نے خلیجی ممالک کویہ احساس دلایاہے کہ وہ براہ راست خطرے میں ہیں۔ایران کے شہیدڈرونزتقریبا2000کلو میٹر تک مارکرسکتے ہیں،جس کا مطلب ہے کہ پوراخلیجی خطہ ان کی پہنچ میں ہے۔اسی لیے خلیجی ممالک پہلے ہی میزائل دفاعی نظاموں پراربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔

اس جنگ کاسب سے بڑااثرعام لوگوں پرپڑرہاہے۔خلیجی ممالک کی معیشتیں عالمی سرمایہ کاری اوربیرونی افرادی قوت پرقائم ہیں۔ پاکستان،بھارت اوربنگلہ دیش کے لاکھوں لوگ وہاں کام کرتے ہیں۔اب جب ایئرپورٹس بندہیں اورمیزائل حملوں کاخطرہ موجودہے تو ہزاروں لوگ وہاں پھنس گئے ہیں۔کئی مسافروں کی دل دہلا دینے والی کہانیاں میڈیاپر سامنے آرہی ہیں۔ایک امریکی خاتون نے روتے ہوئے کہا”ہم نے کبھی سوچابھی نہیں تھاکہ ہم بھی ایسے حالات میں پھنس جائیں گے”۔ایک اورمسافر نے بتایاکہ وہ میزائل حملوں سے بچنے کیلئے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے۔یہ صورتحال اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جنگ ہمیشہ عام انسان کی زندگی کوسب سے زیادہ متاثرکرتی ہے۔

کیاامریکااورخلیجی ممالک کے تعلقات بدل رہے ہیں؟تواس کاجواب یہ ہے کہ مختصرمدت میں شایدنہیں۔امریکااب بھی خلیجی ممالک کا سب سے بڑاسکیورٹی فراہم کرنے والاہے۔ لیکن طویل مدت میں تبدیلی کے آثارنظرآرہے ہیں۔خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی پالیسیوں کو متنوع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ چین،یورپ اوردیگرممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھارہے ہیں تاکہ مکمل طورپرامریکا پر انحصارنہ کرناپڑے۔

ادھردوسری طرف مشرقِ وسطی کی نئی جنگ اور عالمی سیاست کے وسیع تناظرمیں دیکھاجائے توایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ند کرنے کی دھمکی نے عالمی معیشت میں بے چینی پیدا کردی ہے۔یہ سمندری راستہ دنیاکے سب سے اہم توانائی کے راستوں میں شمارہوتاہے۔عالمی سطح پرتیل کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔اگراس راستے میں رکاوٹ پیداہوجائے تونہ صرف تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارتی نظام بھی متاثر ہوسکتاہے۔ابھی ایران کی طرف سے مسلسل یہ اعلان سامنے آرہاہے کہ اس نے آبنائے ہرمزبند نہیں کی لیکن تیل کی عالمی قیمتیں آسمان کی طرف پرواز کرتی دکھائی دے رہی ہیں اوردنیا بھرکے اسٹاک ایسچینج میں مندی کی اطلاعات آنا شروع ہو گئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکااوراس کے اتحادی ہمیشہ اس بات کویقینی بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمزکھلی رہے۔ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے اوراسی لیے اس نے بارہااس راستے کوایک اسٹریٹجک دباؤکے آلے کے طورپراستعمال کرنے کی دہمکی دی ہے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈرنے ٹرمپ کی دہمکیوں کے جواب میں کہاہے کہ آبنائے ہرمزسے کسی بھی تجارتی جہازکیلئے کھول کردکھاؤ،جس کے بعد تمام عالمی جہازراں کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو اس روٹ کو استعمال کرناچھوڑدیاہے۔موجودہ جنگ میں بھی یہی حکمت عملی نظر آتی ہے۔ایران یہ پیغام دیناچاہتا ہے کہ اگ اس کی سلامتی کوخطرہ لاحق ہواتو وہ عالمی معیشت کیلئے بھی مشکلات پیداکرسکتاہے۔

ہرجنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اس کاایک بڑاحصہ نفسیاتی اوراطلاعاتی جنگ پرمشتمل ہوتاہے۔موجودہ جنگ میں بھی یہی عنصرنمایاں ہے۔ایران،اسرائیل اور امریکا تینوں اپنی اپنی کامیابیوں کوبڑھاچڑھاکرپیش کررہے ہیں جبکہ نقصانات کوکم ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔میڈیاکے ذریعے عوامی رائے کومتاثر کرنابھی اس جنگ کاایک اہم حصہ بن چکاہے۔ایک طرف ایرانی میڈیااپنے عوام کویہ یقین دلانے کی کوشش کررہاہے کہ وہ ایک بڑی عالمی طاقت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں،جبکہ دوسری طرف اسرائیلی اورامریکی میڈیا اس جنگ کوایران کے عسکری ڈھانچے کوکمزور کرنے کی مہم کے طورپر پیش کررہے ہیں۔

خلیجی ممالک کیلئے یہ جنگ صرف ایک خارجی مسئلہ نہیں بلکہ داخلی سطح پربھی ایک بڑاچیلنج ہے۔گزشتہ تین دہائیوں میں ان ممالک نے اپنے آپ کوایک ایسے خطے کے طورپرپیش کیا ہے جہاں معاشی ترقی،جدید انفراسٹرکچراورعالمی سرمایہ کاری کوفروغ دیاجاتاہے۔دبئی،دوحہ اورریاض جیسے شہراس پالیسی کی مثال ہیں۔یہاں دنیابھرسے سرمایہ کار،سیاح اور مزدور آتے ہیں۔لیکن جنگ کے ماحول میں یہ ماڈل شدیددباؤکاشکارہوسکتاہے۔اگرخطے میں مسلسل عدم استحکام پیداہوتاہے توعالمی سرمایہ کارمحتاط ہوسکتے ہیں اورسیاحت و تجارت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ کے جلدخاتمے کے خواہاں نظرآتے ہیں۔

تاہم ایران کی عسکری اورسیاسی حکمت عملی کوسمجھنے کیلئے اس کے تاریخی تجربات کومدنظررکھناضروری ہے۔ایران نے1980کی دہائی میں عراق کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ کا سامنا کیا تھاجس میں اسے شدیدجانی ومالی نقصان اٹھاناپڑا۔اس جنگ کے بعدایران نے اپنی دفاعی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ اس نے روایتی فوجی طاقت کے بجائے میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اورعلاقائی اتحادی گروہوں پرزیادہ انحصارکرناشروع کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج ایران کے پاس ایک ایسا میزائل اورڈرون نیٹ ورک موجودہے جو پورے خطے میں اثرانداز ہوسکتاہے۔ موجودہ جنگ میں ایران اسی حکمت عملی کواستعمال کررہاہے ۔ وہ براہ راست محاذآرائی کی بجائے مختلف محاذوں پردباؤڈال کراپنے مخالفین کو تھکانے کی کوشش کررہاہے۔

اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ خطرات کوابتدائی مرحلے میں ہی ختم کرنے کی کوشش کرے۔اسی اصول کے تحت اس نے ماضی میں عراق اورشام کے جوہری پروگراموں کونشانہ بنایاتھا۔اسرائیل کیلئے ایران کاعسکری پروگرام اوراس کے علاقائی اتحادی ایک بڑاخطرہ سمجھے جاتے ہیں۔اسی لیے اسرائیل بارہایہ اعلان کرچکاہے کہ وہ ایران کو جوہری یاعسکری برتری حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔موجودہ جنگ کوبھی اسی پالیسی کاتسلسل سمجھا جاسکتاہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی کسی بھی بڑی جنگ میں عالمی طاقتوں کاکردارہمیشہ اہم رہاہے۔امریکاتو براہ راست اس تنازع کاحصہ ہے،لیکن چین،روس اوریورپی ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔چین کی معیشت توانائی کے درآمدی وسائل پرانحصار کرتی ہے،اس لیے اسے خلیجی خطے میں استحکام کی ضرورت ہے۔روس بھی اس خطے میں اپنی سفارتی اورعسکری موجودگی کو برقراررکھناچاہتاہے۔ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ ممالک جنگ بندی یاسفارتی حل کی کوششوں میں کرداراداکریں۔موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے چند ممکنہ منظرنامے سامنے آسکتے ہیں۔

٭پہلامنظرنامہ یہ ہے کہ جنگ محدوددائرے میں رہتے ہوئے چندہفتوں یامہینوں میں ختم ہوجائے۔اس صورت میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابیوں کااعلان کر کے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
٭دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ طویل ہوجائے اورخطے کے مزید ممالک اس میں شامل ہوجائیں۔یہ صورتحال عالمی معیشت کیلئے انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔
٭تیسرامنظرنامہ یہ ہے کہ بین الاقوامی دباکے نتیجے میں سفارتی مذاکرات شروع ہوجائیں اورکسی سمجھوتے کے ذریعے کشیدگی کم کردی جائے۔

ہرجنگ کی طرح اس جنگ کاسب سے بڑا نقصان عام لوگوں کواٹھاناپڑرہاہے۔شہری آبادیوں پرحملوں،نقل مکانی اورمعاشی مشکلات نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کومتاثرکیا ہے ۔بچے، خواتین اوربزرگ وہ طبقہ ہیں جوسب سے زیادہ متاثرہوتے ہیں۔جنگی ماحول میں تعلیم،صحت اورروزگار کے مواقع محدودہو جاتے ہیں اورمعاشرتی ڈھانچہ کمزورپڑنے لگتا ہے۔یہ انسانی پہلو اکثرسیاسی بحثوں میں نظراندازہوجاتاہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی اصل قیمت یہی عام لوگ اداکرتے ہیں۔اگرمجموعی طورپر اس جنگ کاجائزہ لیاجائے تویہ واضح ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرایک اہم تاریخی موڑپرکھڑاہے۔اس جنگ کے اثرات صرف ایران،اسرائیل یاخلیجی ممالک تک محدودنہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اورمعیشت کوبھی متاثرکریں گے۔

یہ کہناابھی قبل ازوقت ہے کہ یہ جنگ کس سمت جائے گی،لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔مشرقِ وسطی کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہاں ہونے والی جنگیں کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ عالمی طاقتوں کی سیاست،توانائی کی منڈیوں اوربین الاقوامی تعلقات کوبھی نئی شکل دیتی ہیں۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں مؤرخین اس جنگ کواکیسویں صدی کے ان واقعات میں شمارکریں جو عالمی نظام کے توازن کوبدلنے کاسبب بنے۔

اگر اس پوری صورتحال کو ایران کے زاویے سے دیکھاجائے تویہ صرف جوابی کارروائی نہیں بلکہ بقاکی جنگ بن چکی ہے۔ایران یہ واضح کرناچاہتا ہے کہ اگروہ غیرمستحکم ہواتو پورا خطہ بھی غیر مستحکم ہوجائے گا۔دوسری طرف خلیجی ممالک ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں۔اگرجنگ طویل ہوجاتی ہے تواس کی سب سے بڑی قیمت شاید انہی ممالک کوادا کرناپڑے گی۔ان کی معیشت،سلامتی اورعالمی سرمایہ کاری سب خطرے میں پڑسکتی ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ اس جنگ کاحقیقی میدان شایدایران اوراسرائیل نہ ہوں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ہو۔اور تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگیں شروع ہوتی ہیں تو ان کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیاکومتاثرکرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں