اقتدار، غرور اور ایٹمی سایہ
دنیاکی تاریخ ہمیں بارباریہ سبق سکھاچکی ہے کہ طاقت،شہرت یاذاتی جذبات کے ہاتھوں کیے گئے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پرنہ صرف اثرڈال سکتے ہیں بلکہ جلدبازی،غروراورذاتی رنجشیں انسانیت کیلئےقیامت کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ دنیا نے اکثردیکھاہے کہ ایک واحدشخص کے فیصلے،ایک لمحے کی جذباتیت،یاایک کم ظرف ردعمل کس طرح ہزاروں،لاکھوں،بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پراثرڈال سکتے ہیں۔امریکا،جوآزادی،انصاف اور عالمی قیادت کی علامت کے طورپرجاناجاتاہے،اس کی صدارت صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ پوری دنیاکی تقدیر کے فیصلوں کی کمان ہے۔ہرفیصلہ امن یاجنگ،زندگی یاموت،امیدیاخوف کے درمیان ہوتاہے۔
امریکا،جسے آزادی، طاقت اورعالمی قیادت کی علامت سمجھاجاتاہے،اس کی صدارت صرف ایک قومی عہدہ نہیں،بلکہ عالمی امن اورجنگ کے فیصلوں کی کمان ہے۔یہاں ہرفیصلہ زندگی اورموت،امن اورجنگ،امیداورخوف کے درمیان ہوتاہے۔ہلری کلنٹن کی یہ تنبیہ آج وقت کی کڑوی حقیقت بن چکی ہے۔ٹرمپ کی غیرمستحکم شخصیت،جذباتی فیصلے،اورعالمی تعلقات میں بے دھیانی نے نہ صرف امریکابلکہ پوری دنیاکوایک خطرناک چوراہے پرلاکھڑاکیاہے۔یہ مضمون اسی سبق کی عکاسی کرتاہے کہ قیادت صرف طاقت یاشہرت کی بنیادپرنہیں بلکہ علم، صبر،اورعالمی شعورکی بنیادپرمنتخب کی جانی چاہیے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسے رہنما،جوذاتی غروراورجلد بازی پرفیصلے کرتے ہیں،نہ صرف اپنی قوم بلکہ عالمی امن کوبھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
2016ءمیں ہلیری کلنٹن نے امریکی عوام کوایک ایساپیغام دیاجومحض تنبیہ نہیں بلکہ تاریخ کی ایک کڑوی حقیقت کی پیشگی اطلاع تھی،یہ آسان نہیں کہ کسی کے کم ظرف ہونے یاجذباتی غصے کی بنیادپرامریکاکوجنگ میں دھکیل دیاجائے۔ٹرمپ کی غیر مستحکم شخصیت،عجیب وغریب رنجشیں،اورجذبات پرمبنی فیصلے اورعالمی تعلقات میں بے دھیانی نے نہ صرف امریکابلکہ پوری دنیاکوایک خطرناک چوراہے پرلاکھڑاکیاہے۔
شمالی کوریاکی دھمکیاں ہوں،ایران کے نیوکلئیرپروگرام کے معاملات،یامشرق وسطیٰ کے بحران،ہرجگہغیر ذمہ دارانہ قیادت کے اثرات واضح ہیں۔یہ ابتدائیہ ہمیں یاددلاتاہے کہ قیادت صرف طاقت یاشہرت کی بنیادپرنہیں بلکہ علم،صبر،بصیرت،اورعالمی شعور کی بنیادپرہونی چاہیے۔تاریخ کی کتابیں باربارگواہی دیتی ہیں کہ غیرمستحکم رہنما،جواپنے ذاتی جذبات کی بنیادپرفیصلے کرتے ہیں،نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری دنیاکے امن کوخطرے میں ڈال دیتے ہیں۔یہ مضمون اسی سبق کی عکاسی کرتاہے کہ قیادت کی عظمت،علم اوراخلاق کے بغیر،انسانیت کیلئے ایک خطرناک بوجھ بن سکتی ہے۔
امریکی صدارت کاانتخاب نہ صرف امریکاکیلئےبلکہ عالمی سطح پربھی بے پناہ اثرات رکھتاہے۔صدرکاعہدہ صرف ایک سیاسی مقام نہیں بلکہ یہ جنگ وامن،زندگی اورموت،اورعالمی تعلقات کے فیصلوں سے جڑاہوتاہے۔2016میں ہلیری کلنٹن نے2016میں امریکی عوام کوانتباہ کیاتھاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اورپالیسی فیصلے امریکااوردنیادونوں کیلئےخطرناک ہوسکتے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ صدرکاانتخاب صرف ایک سیاسی عہدہ نہیں بلکہ جنگ وامن،زندگی اورموت کے فیصلوں کیلئےبھی ہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ آسان نہیں ہے کہ کسی کے کم ظرف ہونے کی بنیادپرامریکاکوجنگ میں دھکیل دیاجائے۔
ہلیری کلنٹن کے اس بیان میں امریکی عوام کویاد دہانی کرائی گئی کہ صدرکاانتخاب ایک ذمہ دارانہ فیصلہ ہے،کیونکہ یہ شخص عالمی سطح پرجنگ یاامن کے فیصلے کرے گا۔ان کے مطابق ٹرمپ کے انتخاب سے نہ صرف امریکابلکہ دنیاکے دیگرممالک بھی خطرے میں آسکتے ہیں،اوریہ فیصلہ تاریخی غلطی ثابت ہوسکتاہے۔
ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ کوذہنی اورجذباتی طورپرغیرموزوں اورغیر مستحکم قراردیا۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے خیالات محض بے ترتیب باتوں،ذاتی رنجشوں اورجھوٹ پرمبنی ہیں۔ان کاکہنا تھاکہ ایسے شخص کوصدرکاعہدہ دیناخطرناک ہے،کیونکہ وہ کسی بھی لمحے جنگ کے فیصلے کرسکتاہے۔ہلیری کلنٹن نے واضح کیاکہ ٹرمپ نہ صرف تجربہ کارنہیں،بلکہ ان کی سوچ خطرناک حد تک غیرمنطقی اورغیرمستحکم ہے۔
ایک صدرجونیوکلئیرکوڈزکے حامل ہوں،ان کاغصے یاذاتی رنجش کی بنیادپرجنگ کافیصلہ کرناانتہائی خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔ مثال کے طورپر،ٹرمپ کی شمالی کوریاپالیسی میں شدت اوربلاوجہ اشتعال کی بنیادپرجنگ کے خطرات پیداہوگئے۔2017میں شمالی کوریاکے رہنماکم جونگ اُن کے ساتھ ٹرمپ کی ذاتی رنجش اورٹویٹ پرمبنی تبادلہ خیال نے عالمی برادری میں خوف اور عدم استحکام پیداکیا۔کلنٹن نے پہلے ہی کہاتھاکہ ایسے شخص کونیوکلئیرہتھیاروں کااختیاردیناغیرذمہ دارانہ ہے۔اگرکوئی بھی غیر مستحکم اورکم ظرف رہنمانیوکلئیرہتھیاروں کے اختیارمیں ہوتوعالمی تباہی کاخطرہ ہمیشہ موجودرہتاہے۔
ٹرمپ کی شخصیت کی ایک اورمثال ان کی ایران مخالف تقریرہے،جس میں انہوں نے ایران معاہدے کومستردکیااورعالمی سطح پر امریکاکی ساکھ کو کمزور کیا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ ہلیری کلنٹن کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی ہے،کیونکہ غیرمستحکم جذبات اور کم ظرفی عالمی سطح پرخطرات پیداکرسکتی ہیں۔ہلیری کلنٹن نے واضح کیاکہ ٹرمپ کی جلدبازی اورکم ظرفی کے سبب امریکاکوجنگ میں دھکیلنے کاخطرہ بہت زیادہ ہے،اور نیوکلئیرہتھیاروں کااختیارایسے شخص کے ہاتھ میں ہوناناقابل تصورخطرہ ہے۔یہ ایک ایسامسئلہ ہے جس کی شدت اورنتائج پوری دنیاپراثر اندازہوتے ہیں۔مثال کے طورپر، 2017 میں شمالی کوریاکے ساتھ کشیدگی کے دوران ٹرمپ نے ٹویٹرپرشدید بیانات جاری کیے جن میں انہوں نے نیوکلئیرہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق،اگراس وقت ٹرمپ کاغصہ ذاتی نوعیت کانہ ہوتاتو عالمی بحران اس شدت تک نہ پہنچتا۔ہلیری کلنٹن نے پہلے ہی خبردار کیا تھاکہ ایک پتلی جلد والا ناسمجھ صدرعالمی امن کیلئےخطرہ بن سکتاہے۔
نیوکلئیرخطرات صرف شمالی کوریاتک محدودنہیں ہیں۔ایران کےنیوکلئیرپروگرام کے معاملے میں بھی ٹرمپ کی پالیسی نے خطرات بڑھادیے۔انہوں نے ایران معاہدے کومستردکیا،جس سے ایران دوبارہ نیوکلئیرہتھیاربنانے کی راہ اختیارکرسکتاتھا،اور عالمی طاقتیں غیرمستحکم ہوسکتی تھیں۔ہلیری کلنٹن نے واضح کیاکہ سفارتکاری صبر،مستقل مزاجی اوردانشمندی کےبغیرممکن نہیں۔ایران کے نیوکلئیرپروگرام کے معاملے میں سابق صدراوبامانے فوجی کارروائی کی بجائے اقتصادی پابندیاں اورمذاکرات کو ترجیح دی،جس سے ایران کونیوکلئیرہتھیاربنانے سے روکاگیا۔
ٹرمپ نے ایران معاہدے کومستردکیااورعالمی سطح پرامریکاکی ساکھ کمزورکی۔ایران نے دوبارہ نیوکلئیرپروگرام کی راہ اختیار کی،مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی،اورعالمی اقتصادی استحکام متاثرہوا۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ سفارتکاری اکثرواحدراستہ ہے جوبڑے بحران سے بچاسکتی ہے۔صبر،مستقل مزاجی،اورطویل مدتی منصوبہ بندی عالمی تنازعات کوحل کرنے کیلئےضروری ہیں۔مثال کے طورپر،ایران کے نیوکلئیرپروگرام کے دوران سابق صدر اوباما نے فوجی کارروائی کی بجائے اقتصادی پابندیاں اور مذاکرات کوترجیح دی۔سخت پابندیاں اورمذاکرات کے ذریعے ایک معاہدہ طے پایاجس نے ایران کوہتھیارحاصل کرنے سے روکا۔ اگر اس وقت ٹرمپ جیساغیرمستحکم شخص صدرہوتا،توفوری فوجی کارروائی یاسخت بیانات سے پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے امکانات بڑھ سکتے تھے۔
سفارتکاری کی ایک اورمثال عالمی سطح پرشمالی کوریاکے ساتھ مذاکرات ہیں۔2018میں ٹرمپ نے تاریخی ملاقاتیں کیں،لیکن ان کاطرزعمل اورغیر متوقع بیانات عالمی رہنماؤں کیلئےتشویش کا باعث بنے۔ہلیری کلنٹن کے مطابق،مسائل کوصبراوردانشمندی سے حل کرناہی پائیدارامن کی ضمانت ہے ۔ٹرمپ نے ایران معاہدے کومستردکیا،عالمی سطح پرتنقید کی اورعالمی پابندیوں کوکمزورکیا، اورایران کودوبارہ نیوکلئیرپروگرام کی راہ پرڈال دیا۔اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی،اوردنیامیں امریکاکی ساکھ کمزورہوئی۔ہلیری کے مطابق ایسے غیرذمہ دارانہ اقدامات عالمی امن کوخطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
مثال کےطورپر،2019میں ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی نے خلیج فارس میں تیل کی ترسیل کے راستوں کوخطرے میں ڈال دیا۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوااورکئی ممالک کواقتصادی نقصان اٹھاناپڑا۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ ہلیری کلنٹن کی تنبیہات درست تھیں،اورٹرمپ کی پالیسی نے عالمی امن اوراقتصادی استحکام کونقصان پہنچایا۔ٹرمپ کی پالیسیوں نے اسرائیل، یورپ اوردیگراتحادی ممالک کے تعلقات کومتاثرکیا۔نیتن یاہوکی ایران مخالف پالیسی ٹرمپ کی مددسے کامیاب ہوئی،جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اورامریکی فوجی اڈے خطرے میں آئے۔
ٹرمپ کی جلدبازی اورجذباتیت نے عالمی امن کیلئےسنگین خطرہ پیدا کیا۔ہلیری کلنٹن نے کہاکہ جنگ سے بچنے کاسب سے مؤثر طریقہ صبر، سفارتکاری اورمعقول فیصلے ہیں۔مثال کے طور پر،2020میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کےقتل کےبعدخطے میں فوری جنگ کاخطرہ پیدا ہوا۔اگرصدرزیادہ جذباتی اورکم ظرف ہوتا،تویہ ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہوسکتاتھا۔ہلیری کلنٹن کی پیشگوئی کے مطابق ایسے حالات میں غیرمستحکم صدرعالمی امن کیلئےخطرہ ہیں۔
ٹرمپ کی پالیسیاں نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل،یورپ،اوردیگر اتحادی ممالک کے تعلقات پربھی منفی اثرڈال رہی ہیں۔اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہونے کئی سالوں تک امریکاپردباؤڈالاکہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں،اورٹرمپ کےصدر بننےکے بعدیہ دباؤ کامیاب ہوا۔اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں بحران پیداہوا۔امریکی اتحادی ممالک بھی غیرمستحکم ہوگئے، اور علاقے میں خود امریکی فوجی اڈے خطرے میں آگئے۔مثال کے طورپر،عراق اورشام میں امریکی فوجی تنصیبات پرحملوں میں اضافہ ہوا، جس سے عالمی امن خطرے میں پڑگیا۔
ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی داخلی سیاست بھی تقسیم اورکشیدگی کاشکارہوئی ہے۔ان کی غیر ذمہ دارانہ تقریراورپالیسیزنے امریکی عوام کے اعتمادکو کمزورکیااوریہ ظاہرکیاکہ امریکا کافیصلہ ساز نظام بھی خطرے میں ہے۔مثال کے طورپر،2021میں کیپیٹل ہل پرحملہ ٹرمپ کے بیانات اوراپنی پارٹی کی حمایت کے نتیجے میں ہوا،جس نے امریکی جمہوریت کے استحکام کوشدید نقصان پہنچایا۔یہ ہلیری کلنٹن کے پیشگوئی کی تصدیق ہے کہ غیرمستحکم صدر امریکا کے اندرونی نظام کیلئےبھی خطرہ بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کی جلدبازی اورجذباتیت نے عالمی امن کیلئےسنگین خطرہ پیداکیاہے۔ہلیری نے کہاکہ جنگ سے بچنے کاسب سے مؤثر طریقہ صبر،سفارتکاری اور معقول فیصلے ہیں۔مگرٹرمپ کی صورت میں دنیاایک غیرمستحکم اورخطرناک رہنماکے ہاتھ میں ہے جوذاتی جذبات پرعالمی فیصلے کرسکتاہے۔ٹرمپ کی پالیسیاں عالمی اقتصادی استحکام کیلئےبھی خطرہ ہیں۔ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اورایران پراقدامات نے عالمی اقتصادی استحکام کومتاثرکیا۔ایران پر پابندیاں کمزورہوئیں،جنگ کے خطرات بڑھے،اورعالمی سرمایہ کاری کے مواقع کم ہوگئے۔مثال کے طورپر، 2018میں امریکانے چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کی،جس سے عالمی منڈی میں بے یقینی پیداہوئی اورمتعددممالک کی معیشت متاثرہوئی۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے تیل کی قیمتیں بڑھائیں،چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے عالمی معیشت میں بے یقینی پیداکی،اورکئی ممالک کومالی نقصان اٹھاناپڑااورعالمی تجارت متاثرہوئی۔اس سے دنیا میں اقتصادی عدم استحکام پیداہوا،اور عالمی سرمایہ کاری کے مواقع کم ہوگئے جس کااثرہرملک پرمحسوس کیاجارہاہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی صنعت نے اپنے مقاصد حاصل کیے۔جنگ اورتنازعات کے امکان بڑھنے سے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا،جوکہ امریکاکے مفادات کیلئےفائدہ مندرہا،لیکن عالمی امن کیلئےنقصان دہ ہے۔مثال کے طور پر،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے امریکاسے ہتھیارخریدے تاکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی تیاری مضبوط کریں،جس سے عالمی کشیدگی اورخطرات بڑھ گئے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی صنعت نے اپنے مقاصد حاصل کیے۔امریکی ہتھیاروں کی صنعت کو فائدہ پہنچایا۔ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکی ہتھیاروں کی صنعت نے اپنے مقاصدحاصل کیے۔جنگ اورتنازعات کے امکان بڑھنے سے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا،جو کہ امریکاکے مفادات کیلئےفائدہ مندرہا،لیکن عالمی امن کیلئےانتہائی نقصان دہ ہے۔ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے ہتھیارخریدے،جس سے عالمی کشیدگی بڑھی۔جنگ اورتنازعات کے امکان بڑھنے سے ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا،جو عالمی امن کیلئےنقصان دہ تھا۔
نیتن یاہوکی ایران مخالف پالیسی ٹرمپ کی مددسے کامیاب ہوئی۔اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھا،اور امریکی اتحادی ممالک خطرے میں پڑگئے۔مثال کے طورپر، 2020میں اسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات قائم ہوئے،لیکن اس کے ساتھ ہی فلسطینی تنازعات میں شدت آگئی۔امریکی حمایت نے کچھ ممالک کے موقف کو مضبوط کیاجبکہ دیگر ممالک میں نفرت اورکشیدگی پیداہوئی۔اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں بحران پیداہوا۔امریکی اتحادی ممالک بھی غیرمستحکم ہوگئے،اور علاقے میں امریکی فوجی اڈے خطرے میں آ گئے۔
ٹرمپ کی پالیسیاں یورپ اورمشرق وسطیٰ کے ممالک کیلئےبھی چیلنج بن گئی ہیں۔یورپی ممالک ایران معاہدے کوبرقراررکھنے کی کوشش کررہے تھے ، مگر امریکاکی غیرمتوقع پالیسیوں نے انہیں مشکلات میں ڈال دیا۔امریکی اتحادی ممالک پردباؤبڑھا،امن کی کوششیں کمزورہوئیں،اورعالمی سیاست میں عدم استحکام پیداہوا۔مثال کے طورپر،یورپی ممالک نے ایران معاہدے کو برقراررکھنے کی کوشش کی،لیکن امریکا کی غیرمتوقع پالیسیوں نے انہیں مشکلات میں ڈال دیا۔روس اورچین نے بھی اس خلاکا فائدہ اٹھایا،جو عالمی طاقتوں کے درمیان نئی کشیدگی پیداکرنے کاسبب بنا۔ہلیری نے امریکی عوام پراعتمادظاہرکیاکہ وہ صحیح فیصلہ کریں گے۔ان کے مطابق امریکاایک ایساملک ہے جس میں عقلمندی، قومی فخراورشعورموجودہے،اورعوام عالمی خطرات کوسمجھ کرفیصلے کریں گے۔
مثال کے طورپر،2020کے صدارتی انتخابات میں امریکی عوام نے ٹرمپ کی غیرمستحکم پالیسیوں کے اثرات کومدنظررکھتے ہوئے فیصلہ کیا،جس سے ظاہرہواکہ ہلیری کلنٹن کی توقعات درست تھیں۔ہلیری کلنٹن کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی ہے۔ٹرمپ کی قیادت نے عالمی امن،اقتصادی استحکام، مشرق وسطیٰ میں حالات،اورنیوکلئیرخطرات میں اضافہ کیاہے۔اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ ایک غیرمستحکم اورجذباتی صدرکاانتخاب نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیاکیلئےنقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔





