A new world emerging from dust and blood

خاک و خون سے ابھرتی ہوئی نئی دنیا

تاریخ کے سنہرے اوراق جب اپنے دامن میں خونچکاں حکایات سمیٹتے ہیں تووہ محض واقعات کی فہرست نہیں رہتے بلکہ انسانی ارادے،سیاسی بصیرت اور تہذیبی شعورکی جیتی جاگتی علامت بن جاتے ہیں۔یہی وجہ ہےکہ تاریخ جب اپنے اوراق الٹتی ہے تووہ محض گزرے ہوئے واقعات کاحساب نہیں رکھتی بلکہ آنے والے زمانوں کیلئےاشارے بھی چھوڑجاتی ہے ۔یہ خوفناک اورہولناک لمحے محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ عہدسازعلامات کے طورپرتاریخ کے سینے پر ثبت ہوجاتے ہیں۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب طاقت کا توازن،بیانیے کی جہت، اوراقوام کی نفسیات ایک نئے سانچے میں ڈھلنے لگتی ہیں اورایسے ابواب رقم ہوجااتے ہیں جومحض حادثات نہیں رہتے بلکہ تہذیبوں کی تقدیرکااستعارہ بن جاتے ہیں۔تاریخ کے افق پر اٹھنے والے یہ طوفان محض جغرافیے کونہیں،بلکہ فکرو نظر،اقتدارکے تصورات اورتہذیبی شعورکوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

گزشتہ چندہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ کے افق پرجوگردِآشوب اٹھی ہے،وہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک نئے عہد کی تمہیدمحسوس ہوتی ہے۔ امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرہونے والی شدیدعسکری یلغار،اوراس کے جواب میں ایران کی مزاحمت،اس حقیقت کوآشکارکرتی ہے کہ طاقت کی روایتی تعریف اب اپنے حدودسے تجاوزکرچکی ہے۔یہ تصادم اگرچہ باروداور فولادکے تصادم کے طورپرشروع ہوا،مگرجلدہی اس نے خودکو سفارت،معیشت اورعالمی رائے عامہ کے پیچیدہ دائروں میں پھیلادیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بصیرت یاددلاتی ہے کہ جنگیں محض میدانِ کارزارمیں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ذہنوں،بیانیوں اورتاریخ کے دھاروں میں بھی اپنااثرچھوڑتی ہیں۔

گزشتہ آٹھ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین،ایران،امریکااوراسرائیل کے مابین برپاہونے والی جنگ کاآتش فشاں بھی اسی قبیل کی ایک داستان ہے—ایک ایساباب جہاں بارودکی بو، سفارت کی نزاکت،اورقوموں کے عزم وارادہ ایک پیچیدہ مگرمعنی خیزنقش میں ڈھل گئے۔جہاں خطرناک میزائل اوربموں کی گھن گرج،سفارت کی سرگوشیاں،اورقوموں کی نفسیاتی کشمکش ایک دوسرے میں یوں پیوست ہوگئی ہیں کہ انہیں الگ کرناممکن نہیں رہااورجس کے پس منظر میں عالمی سیاست کاایک نیانقشہ ابھرتادکھائی دیتاہے۔

یہ جنگ بظاہرایک روایتی عسکری تصادم کے طورپرشروع ہوئی،مگرجلدہی اس نے اپنے دائرے کووسعت دیتے ہوئے لبنان،خلیجی ریاستوں اورعالمی معیشت تک کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پراچانک اورشدیدفضائی ومیزائل حملوں نے جس جنگ کوجنم دیا،وہ ابتدامیں ایک محدود عسکری کارروائی دکھائی دیتی تھی،مگرجلدہی اس نے اپنے دائرے کووسعت دیتے ہوئے لبنان،خلیجی ممالک اورعالمی معاشی نظام تک کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب طاقت کے روایتی پیمانے لرزنے لگے اورایک نئے تزویراتی کھیل کاآغازہوا۔یہ جنگ،جوبظاہرامریکااوراسرائیل کے ایران پراچانک اور بھرپور حملوں سے شروع ہوئی۔ درحقیقت عالمی سیاست کے اس نہج کامظہرہے جہاں طاقت کاتوازن محض عسکری قوت سے نہیں بلکہ حکمت،صبراوربیانیے کی قوت سے متعین ہوتاہے۔یہ جنگ،جس کاآغازامریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرشدید بمباری سے ہوا،اسی نوع کاایک ہمہ گیر بحران ہے—ایک ایسابحران جس میں بارودکی تپش کے ساتھ سفارت کاری کی ٹھنڈی سانسیں بھی شامل ہیں،اورجہاں طاقت کی تعریف ازسرِنولکھی جارہی ہے۔یہ محض ایک جنگ نہیں،بلکہ ایک بیانیہ کی جنگ ہے—اورشایداسی لیے اس کے اثرات گولہ وبارودسے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔

امریکااوراسرائیل نے ایران پرجس شدت کے ساتھ حملے کیے،اس میں ایک طرح کااعتمادبلکہ غرورجھلکتاتھا۔یہ حملے محض عسکری کارروائیاں نہ تھیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی تھے—ایک ایساپیغام جس کامقصد ایران کونہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی طورپربھی مفلوج کرناتھا۔امریکااوراسرائیل کے پیشِ نظرایک واضح مقصدتھا:ایران کی عسکری صلاحیت کوتباہ وبرباد کرکے اس کی سیاسی قیادت کواس نہج پرلاناجہاں وہ پسپائی اختیارکرنے پرمجبورہوجائے۔یہ سمجھاگیاکہ چندروزہ بمباری ایران کی عسکری قوت اورکمانڈ اینڈکنٹرول نظام کوچند دنوں میں نیست ونابودکردیں گے۔

ابتدائی بیانات اورٹرمپ کے مسلسل دعوے کہ ایران کی فوجی ریڑھ کی ہڈی توڑدی گئی ہے۔اسی اعتمادکی عکاسی کرتےتھے کہ چنددنوں کی کارروائی ایران کو جھکادے گی مگریہ اندازہ شاید زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہ تھامگریہاں تاریخ نے ایک بارپھروہی سبق دہرایاکہ قوموں کی قوت ان کے اسلحے میں نہیں بلکہ ان کے شعورمیں ہوتی ہے لیکن امریکااوراسرائیل بھول گئے کہ تاریخ کاایک مستقل اصول ہےکہ وہ غرورکوزیادہ دیرتک برداشت نہیں کرتی۔

ایران نے نہ صرف اپنی مزاحمتی صلاحیت کوبرقراررکھابلکہ آبنائے ہرمزکوایک تزویراتی ہتھیارمیں بدل کرعالمی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا۔یہ وہی مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں بارہایہ سبق دیتی ہے کہ طاقت صرف اسلحے کی کثرت کانام نہیں بلکہ ارادے کی پختگی، حکمتِ عملی کی باریکی،قومی یکجہتی اورقومی بیانیے کی ہم آہنگی بھی اس کے بنیادی اورفیصلہ کن عناصرہوتے ہیں۔

ایران نے ابتدائی صدمے کے باوجودجس تیزی سے خودکومنظم کرکے خودکوسنبھالااورنہ صرف ان حملوں کوبرداشت کیابلکہ جلدہی اپنی جوابی حکمت عملی کے ذریعے یہ واضح کردیا کہ وہ محض ایک ہدف نہیں بلکہ ایک فعال اورمتحرک قوت ہے۔اس نے خطے میں موجودامریکی مفادات کونشانہ بنایا،اوراپنے اتحادی نیٹ ورکس کے ذریعے ایک ہمہ جہت دباؤقائم کیااورجوابی حکمت عملی کے ذریعے جنگ کارخ تبدیل کرناشروع کردیا۔اس نے اس مفروضے کوچیلنج کردیا کہ عسکری برتری ہی فیصلہ کن عنصرہے۔

امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران پرہونے والی شدیدبمباری نے ایک ایسی جنگ کوجنم دیاجس کے اثرات فوری طورپرسرحدوں سے نکل کرعالمی سطح تک محسوس کیے جانے لگے۔یہ جنگ جلدہی ایران کی حدودسے نکل کرلبنان،عراق،یمن اورخلیجی ممالک تک پھیل گئی۔امریکی اڈے،سفارتی مراکزاوراقتصادی مفادات ایران کے نشانے پرآئے۔یوں ایک محدودجنگ ایک علاقائی بحران میں تبدیل ہوگئی۔ایران نے جوابی کارروائی میں نہ صرف خطے میں موجودامریکی مفادات کونشانہ بنایابلکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے ایک ہمہ جہت مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ایران نے واضح کردیاکہ اگراسے نشانہ بنایاجائے گاتووہ جواب بھی محدودنہیں رکھے گا۔ یہ وہ لمحہ تھاجب جنگ ایک علاقائی تصادم میں بدل گئی—اورعالمی طاقتوں کیلئے صورت حال پیچیدہ ہوگئی۔

یہاں ایران کی حکمت عملی میں ایک اہم پہلونمایاں ہوتاہے:اس نے جنگ کومحض دفاعی دائرے میں محدودنہیں رکھابلکہ اسے ایک وسیع ترجغرافیائی اور معاشی تناظرمیں منتقل کردیا۔ایران کاسب سے بڑاتزویراتی کارنامہ آبنائے ہرمزکوبطورہتھیاراستعمال کرناتھاجس میں کافی حدتک وہ کامیاب ہوگیاہے۔اس نے نہ صرف تیل کی ترسیل کومتاثرکیابلکہ عالمی معیشت کوبھی ایک غیریقینی کیفیت میں مبتلا کردیا۔یہ اقدام اس بات کاثبوت تھاکہ جدیدجنگوں میں جغرافیہ بھی ایک طاقتورہتھیاربن سکتاہے۔آبنائے ہرمزمحض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔جب ایران نے اس پرکنٹرول مضبوط کیا اوراس کی آمدورفت کومحدود کیاتودراصل اس نے دنیا کی معاشی نبض کواپنے ہاتھ میں لے لیا۔

آبنائے ہرمزپرایرانی کنٹرول ایک ایسادباؤکاآلہ بن گیاجس نے عالمی معیشت کولرزاکررکھ دیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ میں جنگیں اکثراپنے اعلان سے بڑی ہوجاتی ہیں،کیونکہ ان کے پس پردہ محرکات کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔یہ اقدام اس بات کی علامت تھاکہ جدیدجنگوں میں جغرافیہ بھی ایک ہتھیاربن سکتاہے۔امریکااوراسرائیل شایداس امکان کامکمل ادراک نہ کر سکے تھے کہ ایران اس حد تک جاسکتاہے کہ عالمی معیشت کویرغمال بنالے۔امریکااور اسرائیل کیلئےیہ ایک غیرمتوقع موڑتھا—گویامیدانِ جنگ اچانک عالمی منڈیوں تک پھیل گیا۔

امریکانے دعویٰ کیاکہ اس نے ایران کے ہزاروں اہداف کوتباہ کردیاہے،مگرزمینی حقیقت اس سے مختلف دکھائی دی۔ایران کی جوابی کارروائیاں اس بیانیے کوچیلنج کرتی رہیں۔ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں،میزائل حملوں اوراتحادی نیٹ ورکس کے ذریعے یہ ثابت کیاکہ وہ اب بھی فعال اورمؤثرہے۔یہ تضاد عالمی سطح پربھی محسوس کیاگیا—کہ کیاواقعی ایران کمزورہواہے، یا وہ ایک نئے اندازمیں ابھررہاہے؟ٹرمپ کاہرلمحہ بدلتابیانیہ ہمیں اس فکرکی یاددلاتا ہے کہ ظاہری قوت ہمیشہ حقیقی طاقت کی عکاسی نہیں کرتی،یہی وجہ ہے کہ پہلی مرتبہ امریکی صدر کا بیانیہ بری طرح پِِِٹ رہاہے۔

اسلام آبادمیں ہونے والے مذاکرات اس پوری کشمکش کاایک اہم باب ہیں۔پاکستان کی ثالثی میں امریکااورایران کابراہِ راست آمنے سامنے آناایک غیرمعمولی پیش رفت اورایک تاریخی موڑتھے مگراس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ایران نے ان مذاکرات میں شرکت کسی کمزورفریق کے طورپرنہیں بلکہ ایک خود مختاراوربااعتمادریاست کے طورپرکی جواپنے مفادات کے تحفظ کیلئےہرمحاذ پرسرگرم ہے۔ایران کااندازِگفتگو اورمطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ وہ سفارت کاری کوجنگ کاتسلسل سمجھتاہے،نہ کہ اس کااختتام۔یہی وہ اندازہے جہاں الفاظ محض اظہارنہیں بلکہ حکمت کاوسیلہ ہوتے ہیں۔

یہی وہ دانشمندانہ اسلوب کی جھلک بھی ہے—جہاں اصولی مؤقف کووقتی دباؤپرترجیح دی جاتی ہے۔ایران نے واضح کیاکہ وہ مذاکرات کرے گا،مگراپنی شرائط پر۔اس نے واضح کیاکہ سفارت کاری اس کیلئےجنگ کاتسلسل ہے،نہ کہ اس کا متبادل۔یہ طرزِ فکر اس بات کاغمازہے کہ ایران نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی اپنی جگہ مضبوط کی۔

اگرچہ مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا، مگر اس نے ایک نئی راہ ضرور ہموار کی۔یہاں ہمیں ایرانی خارجہ پالیسی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جہاں وہ تاریخ کو محض واقعات کاتسلسل نہیں بلکہ ارادوں کی کشمکش قراردیتے ہیں۔ایران نے اسی اصول پرعمل کرتے ہوئے سفارت کاری کوجنگ کاتسلسل بنایا—ایک ایسا تسلسل جس میں ہتھیاروں کی جگہ الفاظ نے لے لی، مگر مقصد وہی رہا:، خودمختاری کا تحفظ۔

امریکانے ایک طرف جنگ بندی کااعلان کیا،مگردوسری طرف ایران پردباؤبڑھانے کیلئےبحری ناکہ بندی نافذکردی اورایک ایرانی جہازکوقبضے میں لے لیا۔ یہ طرزِعمل اس تضادکی عکاسی کرتاہے جوامریکی پالیسی میں اکثردکھائی دیتاہے—ایک ہاتھ میں امن کا پرچم اوردوسرے میں دباؤکاہتھیار۔ایران نے اس صورتحال کواپنے حق میں استعمال کیا۔اس نے نہ صرف جنگ بندی کوقبول کیابلکہ اسے ایک وقفہ سمجھتے ہوئے اپنی سفارتی پوزیشن کومضبوط کیا۔

ایران نے مذاکرات میں ایک دس نکاتی منصوبہ پیش کیاجس میں جنگ بندی،پابندیوں میں نرمی،اورسلامتی کی ضمانتیں شامل تھیں۔یہ مطالبات ایک ایسے ملک کی ترجمانی کرتے ہیں جواپنے حقوق کیلئےکھڑاہے اورکسی دباؤمیں آنے کوتیارنہیں،گویایہ اس کی مزاحمت کاسفارتی اظہارتھا۔یہ وہ سفارتی اندازکی یاد دلاتاہے جہاں وہ اصولی مؤقف کووقتی مصلحتوں پرترجیح دیتے ہیں۔ایران نے بھی یہی کیا—اس نے وقتی نقصان کے باوجوداپنے اصولی مؤقف کوبرقراررکھا۔ یہ مطالبات اس بات کااظہارتھےکہ ایران کسی بھی قیمت پر اپنی خودمختاری اورتزویراتی اثاثوں پرسمجھوتہ کرنے کوتیارنہیں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔ہزاروں افرادشہید،لاکھوں لوگ بے گھرہوئے،اربوں ڈالرکا معاشی نقصان، اور اہم انفراسٹرکچر کی تباہی—تیل وگیس کی تنصیبات،صنعتی کارخانے،تعلیمی ادارے،اوربنیادی ڈھانچہ شدیدمتاثرہوا۔یہ سب اس قیمت کاحصہ ہیں جو ایران نے اداکی مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ نقصان اس کی کمزوری کی علامت ہے یااس کی استقامت کا ثبوت؟اقوام کی تاریخ میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب نقصان محض نقصان نہیں رہتابلکہ ایک اجتماعی شعورکوجنم دیتاہے۔

ایران میں بھی یہی ہوا—تباہی نے ایک نئے قومی بیانیے کوجنم دیا۔ایک ایسا بیانیہ جومزاحمت کوجوازفراہم کرتا ہے۔ایران کے اندرایک مضبوط بیانیہ ابھرا کہ بیرونی جارحیت کامقابلہ کرناایمان کاحصہ ہے۔عوام نے اپنے عمل سے اس بیانیے کوتقویت دی—وہ پلوں، تنصیبات اور قومیعلامات کے ساتھ کھڑے ہوگئے،گویاوہ خود ایک زندہ ڈھال بن گئے ہوں۔یہ منظر ہمیں اس تمثیلی زبان کی یاددلاتاہے جہاں قوم اوراس کی شناخت ایک دوسرے میں ضم ہوجاتی ہیں ۔مگرتاریخ میں ایسی مثالیں کم نہیں جہاں نقصان نے قوموں کو کمزور کرنے کی بجائے مضبوط کیاہو۔قومیں اپنے الفاظ اوراپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔

جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کونشانہ بنایاگیا،جس کے نتیجے میں ایک بڑاخلاپیداہوا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مجتبی خامنہ ای کانیارہبر اعلیٰ انتخاب ایک نئے سیاسی دورکاآغازثابت ہوا۔یہ تبدیلی بظاہرایک کمزوری سمجھی جارہی تھی،مگرعملی طورپراس نے نظام کومزیدسخت گیر اورمنظم بنادیا۔ پاسدارانِ انقلاب کاکردارمضبوط اوراثرورسوخ بڑھ گیاہے، اورداخلی اختلافات وقتی طور پردب کرپس منظرمیں چلےگئے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔یہ سب اس کی قیمت کاحصہ ہیں مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ نقصان اس کی کمزوری کی علامت ہے یااس کی استقامت کاثبوت؟ایران نے اس نقصان کوایک قومی بیانیے میں ڈھال دیا۔مزاحمت کو ایمان کادرجہ دیاگیا،اورعوام نے اس بیانیے کو اپنے عمل سے تقویت دی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تمثیلی زبان میں قومیں اپنے الفاظ اور اپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔

اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔جہاں پہلے دنیاکوامریکا،روس اورچین کے تین مراکزِ قوت میں تقسیم کیاجارہاتھا،وہیں اب ایران جیسے ممالک بھی اس نظام کوچیلنج کرتے نظرآرہے ہیں۔یہ ایک نئی عالمی ترتیب کاآغازہوسکتاہے —ایک ایسی ترتیب جس میں طاقت کامعیار صرف معاشی یاعسکری قوت نہیں بلکہ تزویراتی مقام اور مزاحمتی صلاحیت بھی ہو۔

اس جنگ نے عالمی طاقت کے تصورکوبھی چیلنج کیاہے۔جہاں پہلے طاقت کوصرف معاشی اورعسکری پیمانوں سے ناپاجاتاتھا،وہیں اب تزویراتی مقام،علاقائی اثرورسوخ،اورمزاحمتی صلاحیت بھی اہم عوامل بن کرسامنے آئے ہیں۔یہ جنگ عالمی طاقت کےتصورکو بدل رہی ہے۔اب طاقت صرف معیشت یافوجی قوت کانام نہیں رہی بلکہ تزویراتی مقام،بیانیہ سازی ،اورمزاحمتی صلاحیت بھی اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ایران جیسے ممالک اب عالمی نظام کوچیلنج کررہے ہیں ۔ایران نے ثابت کیاکہ ایک نسبتاًکمزورملک بھی اگردرست حکمت عملی اختیار کرے تووہ بڑی طاقتوں کے مقابلے عالمی نظام میں اپنامقام اورجگہ بناسکتاہے۔

ٹرمپ کواس جنگ کے باعث داخلی اورخارجی دباؤکاسامناہے۔کانگریس کی منظوری،مالی اخراجات،اورآئندہ انتخابات—یہ سب عوامل امریکاکی پالیسی کو محدود کررہے ہیں۔عالمی سطح پر امریکاکی ساکھ متاثرہوئی ہے،اس جنگ کے نتیجے میں ایران کی عالمی شبیہ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جبکہ ایران کوگلوبل ساؤتھ میں پذیرائی ملی ہے۔گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں اسے ایک مزاحمتی قوت کےطورپر دیکھاجارہاہے،جبکہ امریکا کے خلاف جذبات میں اضافہ ہواہے۔ایران نے اس صورتحال کوبخوبی سمجھتے ہوئے وقت کواپنے حق میں استعمال کیاہے اورخودکو کسی جلدی میں نہ دکھایاجبکہ ایران کوگلوبل ساؤتھ میں پذیرائی ملی ہے۔یہ ایک دلچسپ تضادہے کہ جس جنگ کامقصد ایران کوکمزورکرناتھا،اسی نے اسے عالمی سطح پرزیادہ نمایاں اورایک مضبوط فریق بنادیاجبکہ امریکاکے خلاف جذبات میں اضافہ ہواہے۔

یہ ایک دلچسپ تضا ہے کہ جس جنگ کامقصدایران کوکمزورکرناتھا،اسی نے اسے عالمی سطح پرزیادہ نمایاں کردیا۔ایران کے اندر ایک مضبوط قومی بیانیہ ابھرا ہے جس میں مزاحمت کوقومی فریضہ قراردیاگیاہے۔عوام نے نہ صرف حکومت کاساتھ دیابلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کیاکہ بیرونی خطرات کے سامنے داخلی اختلافات ثانوی حیثیت اختیارکرلیتے ہیں۔یہ منظرہمیں اس تمثیل کی یاددلاتاہے جہاں زبان اورقوم ایک دوسرے کاسہارابنتے ہیں—یہاں بھی قوم اوربیانیہ ایک دوسرے کے محافظ بن گئے۔

اگراس پوری جنگ کاحاصل دیکھاجائے تودوسوالات کے جواب واضح ہوتے ہیں۔
اول:جانی،مالی،معیشت،انفراسٹرکچراورعسکری لحاظ سے ایران نےایک بھاری قیمت اداکی ہے۔
دوم:اس کے باوجود،ایران آج بین الاقوامی سطح پرایک مضبوط اورمؤثر فریق کےطورپرابھراہے۔
یہ ایک ایساتضادہے جوتاریخ میں اکثردیکھنے کوملتاہے—جہاں شکست کے سائے میں بھی کامیابی کے چراغ جلتے ہیں۔

یہ جنگ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ بیانیوں کی جنگ تھی—ارادوں کی جنگ تھی۔ایران نے اس جنگ میں یہ ثابت کیا کہ مزاحمت اگرحکمت کے ساتھ ہوتووہ محض دفاع نہیں بلکہ ایک نئی تاریخ کی بنیادبھی بن سکتی ہے۔کمزورسمجھاجانے والا فریق بھی اگرحکمت،صبراوراستقامت سے کام لے،اور مزاحمت اگرشعوراورصبرکے ساتھ ہوتووہ نہ صرف تاریخ کادھاراموڑسکتی ہے بلکہ وہ عالمی طاقتوں کے مقابلے میں اپنامقام منواسکتاہے۔آج دنیاایک نئے موڑ پرکھڑی ہے—جہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجہاں کمزورسمجھے جانے والے بھی اپنی تقدیرخود لکھنے لگے ہیں۔تاریخ کے اس موڑپرکھڑے ہوکریہ کہنابے جانہ ہوگاکہ یہ جنگ ایک نئے عالمی بیانیے کی تمہیدہے—ایک ایسابیانیہ جس میں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجس میں مزاحمت ایک نئی لغت لکھ رہی ہے۔

یہ جنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کی تعریف بدل رہی ہے۔اب صرف اسلحہ کافی نہیں،بیانیہ،استقامت،اورحکمت بھی ضروری ہیں۔ایران نے ثابت کیاکہ کمزورسمجھا جانے والا بھی اگرڈٹ جائے،تو تاریخ کارخ موڑسکتاہے۔اگراس پوری داستان کوایک جملے میں سمیٹاجائے توکہاجاسکتاہے کہ ایران نے اس جنگ میں نقصان اٹھایا،مگراپنی حیثیت حاصل کرلی۔یہی تاریخ کاوہ سبق ہےجوبارہادہرایا جاتاہے—کہ طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ ارادے سے پیدا ہوتی ہے۔آج دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے۔طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اوروہ اقوام جوکل کمزورسمجھی جاتی تھیں،آج اپنے لیے نئی جگہ بنارہی ہیں۔ ایران کی یہ داستان اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے—ایک ایسی مثال جوآنے والے برسوں میں عالمی سیاست کے رخ کومتعین کرسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں