One Pledge, One Leadership, One Decisio

ایک عہد، ایک قیادت، ایک فیصلہ

پاکستان کی سیاسی وعسکری تاریخ کے افق پربعض ادوارایسے طلوع ہوتے ہیں جومحض واقعات کامجموعہ نہیں ہوتے بلکہ ایک عہد کی فکری وتہذیبی تشکیل کاپیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔تاریخ محض واقعات کی قطارنہیں ہوتی،بلکہ وہ ایک زندہ شعورہے جوقوموں کے عروج وزوال،ان کے فکری سانچوں،اورقیادت کی بصیرت کواپنے دامن میں سمیٹ کرآگے بڑھتی ہے۔بعض اوقات زمانہ ایسے افرادکو جنم دیتاہے جومحض حالات کے تابع نہیں ہوتے،جونہ صرف حالات کواپنی بصیرت سے نئی جہت عطاکرتے ہیں بلکہ محض عہدوں کی بلندی سے نہیں بلکہ حالات کی دھارکوموڑدینے کی صلاحیت سے پہچانےجاتےہیں۔

یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب تاریخ اپنے معمول کے بہاؤسے ہٹ کرایک نئے دھارے کی صورت اختیارکرلیتی ہے،اورافراداپنے کردارکے ذریعے عہدکی سمت متعین کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جووقت کے طوفانوں میں چراغ کی مانندجلتے ہیں اورتاریخ کے اندھیروں میں سمت کاتعین کرتےہیں۔پاکستان کی حالیہ سیاسی وعسکری تاریخ میں فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت اسی نوع کی ایک علامت کے طورپرابھری ہے۔

یہ داستان صرف ایک سپہ سالارکے عروج کی نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی ہے جس میں داخلی انتشار،خارجی دباؤ،اورعالمی سیاست کے پیچیدہ دھارے ایک دوسرے سے ٹکراتے نظرآتے ہیں—اورانہی تصادمات کے بیچ ایک قیادت اپنے کردارکومنواتی ہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت بھی اسی نوع کی ایک مثال کے طورپرسامنے آئی ہے—ایک ایسی مثال جس میں عسکری وقار،سیاسی بصیرت، اورعالمی سفارت کاری کانادرامتزاج دکھائی دیتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکاعروج بھی اسی نوع کاایک ایساتاریخی مظہرہے جس میں داخلی بحران، عسکری استقامت،سفارتی مہارت اورعالمی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے ایک دوسرے میں پیوست ہوکرایک نئی کہانی رقم کرتے ہیں۔

نومبر2022میں جب عاصم منیرنے پاک فوج کی کمان سنبھالی،توپاکستان ایک ہمہ گیرسیاسی بحران اوراضطراب کی گرفت میں مبتلاتھا۔ تحریکِ عدم اعتمادکے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کاخاتمہ ہوچکاتھا،اورملک ایک ایسی کشمکش کاشکارتھاجس میں ریاستی اداروں کی ساکھ،سیاسی بیانیے اورعوامی اعتمادسبھی آزمائش میں تھے۔تحریکِ عدم اعتمادکے نتیجے میں عمران خان کی رخصتی نے سیاسی منظرنامے کودھندلادیاتھا۔یوں محسوس ہوتاتھاجیسے ریاستی کشتی بے یقینی کے گرداب میں ہچکولے کھارہی ہو،اورہرسمت سے اٹھنے والی لہریں اس کے توازن کوچیلنج کررہی ہوں۔یہ وہ لمحہ تھاجسے تاریخ “ابتلائے قیادت”سے تعبیرکرتی ہے—جہاں منصب اعزازنہیں بلکہ ذمہ داری کابوجھ بن جاتاہے۔ایسے میں جب عاصم منیرکوفوج کی کمان سونپی گئی توگویااُن کے ہاتھوں میں ایک ایسے جہازکی باگ ڈوردی گئی جوطوفانی سمندرمیں راستہ تلاش کررہاتھا۔

عمران خان کی قیادت میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نےسیاسی فضاکوگرمادیا۔ملک کے طول وعرض میں احتجاج کی صدائیں گونج رہی تھیں۔سڑکیں نعروں سے آباداوردل شکوک سے بھرگئے۔عمران کے حامی سڑکوں پرتھے اورالزامات کی بوچھاڑبراہِ راست فوجی قیادت پرہورہی تھی۔براہِ راست الزامات نے اس کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔یہ وہ مرحلہ تھاجب الفاظ تلواروں کا کام دے رہے تھے اوربیانیے میدانِ جنگ بن چکے تھے۔یہ صرف سیاسی اختلاف نہ تھابلکہ بیانیے کی ایسی جنگ تھی جس میں ہرفریق اپنی سچائی کاعلم اٹھائے کھڑاتھا۔اس پس منظرمیں فوجی قیادت پرلگنے والے الزامات نے ایک نئی کشیدگی کوجنم دیا،جس نے ریاستی اداروں کے درمیان اعتمادکی فضاکومتاثرکیا۔

فوج اورحکومت کی جانب سے الزامات کی مسلسل تردیدکی گئی،مگرفضامیں شکوک وشبہات کے بادل بدستورمنڈلاتے رہے۔فوج اور حکومت کی جانب سے ان الزامات کی مسلسل تردیدکی گئی جوسوشل میڈیااورجلسوں کے ذریعے پھیل رہاتھا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب اعتمادکارشتہ متزلزل اورکمزورپڑجائے تووضاحتیں اسے بحال کرنے سے قاصراوراکثربے اثرہوجاتی ہیں۔یہی وہ مرحلہ تھاجہاں ریاستی بیانیہ جذبات کی آندھی میں غوطےلگارہاتھااوردلیل کی آوازمدھم ہوتی چلی گئی اوعوامی تاثرایک دوسرے سے متصادم دکھائی دینے لگا۔

نومئی کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ہنگامہ خیزباب اورسنگِ میل ثابت ہوئے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک گہراشگاف ڈال دیا۔ عمران کی گرفتاری کے بعدملک بھرمیں ہونے والے پرتشددمظاہروں نے ریاستی نظم کوہلاکررکھ دیا۔راولپنڈی میں جی ایچ کیوسمیت کئی حساس تنصیبات کو نشانہ بنایاگیا۔عسکری تنصیبات پرحملے دراصل ایک علامتی بغاوت کی شکل اختیارکرگئے۔یہ وہ دن تھاجب احتجاج اوربغاوت کے درمیان لکیردھندلاگئی۔

ان واقعات کےبعدمقدمات کاایک سلسلہ شروع ہوا،جس میں سینکڑوں افرادنامزدہوئے۔ریاست نے سخت قانونی کارروائی کاآغازکیا، عمران اوران کی جماعت نے اسے انتقامی کارروائی قراردیاجبکہ ریاست نے اسے قانون کی عملداری کاتقاضابتایا۔یوں بیانیے کی جنگ مزیدگہری ہوگئی،اورسیاسی تقسیم واضح ترہوتی گئی۔یہی وہ موڑتھاجہاں سے سیاسی تحریک کی رفتارمدھم پڑتی دکھائی دی۔ اس کشمکش نے سیاسی فضاکومزیدپیچیدہ بنادیا۔

نومئی کےواقعات نےدرحقیقت سیاسی تحریک کی رفتارکومتاثرکیا۔جوتحریک ایک عوامی لہرکے طورپرابھری تھی،وہ رفتہ رفتہ اپنی توانائی کھونے لگی۔یوں محسوس ہوتاتھاجیسے تاریخ نے ایک موڑلے لیاہواورسیاسی قوتوں کواس بحرانی موڑپر ازسرِنوصف بندی اورحکمت عملی پرنظرثانی کرناپڑی۔فروری2024 کے انتخابات نے ایک نئی سیاسی ترتیب کوجنم دیا۔مسلم لیگ (ن)اوراس کےاتحادیوں کی حکومت قائم ہوئی،اوریوں سیاسی بساط پرمہرے ازسرِنوترتیب دیے گئے۔یوں اقتدارکاتوازن ایک نئی سمت میں منتقل ہوا۔یہ تبدیلی محض سیاسی نہ تھی بلکہ اس کے اثرات ریاستی پالیسیوں پربھی مرتب ہوئے۔مگراصل تبدیلی مئی2025کی پاک بھارت جنگ کے بعدآئی،جب عاصم منیرنہ صرف عسکری قیادت کے استعارے کے طورپر ابھرے بلکہ انہیں فیلڈمارشل کے خطاب سے بھی نوازاگیا۔یہ اعزازمحض ایک منصب نہیں بلکہ ایک عہدکی علامت بن گیا۔

مئی2025میں پاک بھارت جنگ نے خطے کوجہاں ہلاکررکھ دیاوہاں ایک غیرمتوقع مگرفیصلہ کن موڑفراہم کیا۔چاردنوں پرمحیط اس جنگ نے نہ صرف عسکری طاقت کامظاہرہ کیابلکہ نفسیاتی سطح پربھی ایک نئی فضاپیداکی۔اس جنگ میں جدیدٹیکنالوجی،ڈرونز،اور میزائلوں کااستعمال ہوا،جس نے اسے روایتی جنگوں سے مختلف بنادیا۔پاکستان کی جانب سے جدیدجنگی حکمتِ عملی کا استعمال عالمی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا۔اس جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کا چرچا عالمی سطح پرہوا۔حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ امریکاکو مداخلت کرنی پڑی۔ابتدامیں غیرجانبداری کااعلان کرنے والاعالمی طاقت کامرکز،آخرکارجنگ بندی کی اپیل پرمجبورہوا۔

پاکستانی دعوؤں کے مطابق انڈیاکے جدیدرافیل طیاروں کی تباہی نے جنگ کارخ بدل دیااورعالمی میڈیامیں مضبوط شواہدکے اعتراف نے پہلی مرتبہ اقوام علم کوششدرکرکے رکھ دیااورعسکری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طورپردیکھاگیا۔یہ واقعہ محض عسکری کامیابی نہ تھابلکہ اس نے عالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کوچونکادیا۔یوں محسوس ہواکہ طاقت کاتوازن یکسرتبدیل ہورہا ہے۔یہاں تاریخ کاایک دلچسپ پہلوسامنے آتاہے کہ طاقت کے توازن میں معمولی سی تبدیلی بھی عالمی بیانیے کوبدل دیتی ہے۔جوکل تک تماشائی تھا،آج ثالث بننے پرمجبورہوجاتاہے۔

عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ جنگ نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی سطح پربھی ایک فیصلہ کن موڑتھی۔اس نے پاکستان کے اندر اعتمادکوبحال کیااوربیرونی دنیا کوایک واضح پیغام دیاکہ یہ ریاست ابھی زندہ ہے،متحرک ہے،اوراپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ابتدامیں عالمی طاقتوں نے اس جنگ کوعلاقائی تنازع سمجھ کرنظراندازکیا،مگرجیسے جیسے حالات نے شدت اختیارکی،امریکاکو مداخلت کرناپڑی۔گویاٹرمپ کی جنگ بندی کی اپیل اس حقیقت کا ظہارتھاکہ علاقائی تنازعات بھی عالمی سیاست کومتاثرکرتے ہیں۔یہ تبدیلی عالمی سیاست کے اس اصول کی عکاس ہے کہ طاقت کااظہارسفارت کاری کوجنم دیتاہے۔جب میدانِ جنگ میں توازن بگڑتاہے تو مذاکرات کی میزخودبخود سج جاتی ہے۔اسی جنگ کے بعدعاصم منیرکوپانچ ستارہ جنرل کے عہدے پرترقی دی گئی۔یہ ترقی دراصل اُن کی قیادت پرمہرِتصدیق تھی،جومیدانِ عمل میں اپنی اہلیت ثابت کرچکی تھی۔

اس جنگ کے بعدعاصم منیرکوفیلڈ مارشل کے عہدے پرترقی دی گئی۔یہ اعزازپاکستان کی تاریخ میں نہایت کم شخصیات کوملاہے،اور اس کامطلب صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی اعتمادکااظہاربھی ہے۔یہ اعزازپاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتا ہے۔امریکی صدرکی جانب سے جنگ بندی کادعویٰ اورپاکستان کی جانب سے اس کی تائید،ایک نئی سفارتی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں عسکری حکمتِ عملی سفارتی مہارت میں ڈھلتی نظرآتی ہے۔

عالمی سطح پراس جنگ نے پاکستان کی عسکری صلاحیت کوایک نئی پہچان دی۔دفاعی ماہرین نے اس بات کااعتراف کیاکہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کادفاع کرسکتاہے بلکہ جدیدجنگی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔اس جنگ کے بعدپاکستان کی عسکری صلاحیت کوعالمی سطح پرتسلیم کیاگیا۔یہ ایک ایسالمحہ تھاجب ریاست نے اپنی موجودگی کابھرپوراحساس دلایا۔عاصم منیرکی شخصیت میں اس دوران ایک نمایاں تبدیلی بھی محسوس کی گئی۔جوابتدامیں خاموش اورمحتاط دکھائی دیتے تھے،وہ اب پُراعتماداو واضح مؤقف رکھنے والے رہنماکے طورپر سامنے آئے۔

اس کے ساتھ ہی بھارت کے اندرسیاسی دباؤمیں اضافہ ہوا۔مودی کوشدید تنقیدکاسامناکرناپڑا،اوران کی خارجہ پالیسی پرسوالات اٹھنے لگے۔واشنگٹن کے دوروں میں یہ فرق نمایاں تھا۔پہلی ملاقات میں جواحتیاط تھی،دوسری میں وہی شخصیت ایک پختہ سفارتکارکے روپ میں دکھائی دی۔یہ تبدیلی محض ذاتی نہیں بلکہ حالات کی پیداوارتھی۔جنگیں انسانوں کوبدل دیتی ہیں، اورقیادت کونکھاردیتی ہیں۔بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورایران کے خلاف مبینہ کردارنے خطے میں نئی کشیدگی کوجنم دیا۔اس تناظرمیں بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اورایران کے خلاف مبینہ کردارنے خطے میں ایک نئی کشیدگی کوجنم دیا۔یہ واقعات عالمی سیاست کے پیچیدہ روابط کی عکاسی کرتے ہیں،جہاں مفادات اصولوں پرغالب آجاتے ہیں۔یہ واقعات عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کوظاہرکرتے ہیں۔

پاکستان نے اس صورتحال میں ایک متوازن پالیسی اپناتے ہوئے خودکوایک ذمہ دارریاست کےطورپرپیش کیا۔یہی وہ مقام تھاجہاں عسکری قیادت نے سفارتی کرداربھی اداکرناشروع کیا ۔ان کے قریبی ساتھیوں کے مطابق عاصم منیرایک کم گومگرعمل پریقین رکھنے والے فردہیں۔وہ شورنہیں مچاتے،بلکہ نتائج سے بات کرتے ہیں—اوریہی اندازانہیں منفردبناتاہے۔

واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں نے عاصم منیرکوعالمی سطح پرمتعارف کروایا۔ابتدا میں ان کی شخصیت محتاط اورکم گوسمجھی جاتی تھی،مگروقت کے ساتھ ساتھ ان میں ایک غیرمعمولی اعتماد پیدا ہوا۔عاصم منیرکے دورۂ امریکانے ان کی شخصیت کوعالمی سطح پر متعارف کروایا۔ابتدامیں محتاط اندازرکھنے والے یہ رہنمااب ایک پراعتماد سفارتکارکے طورپرسامنے آئے۔ان کی عالمی سرگرمیاں بھی قابلِ ذکرہیں۔چین،سعودی عرب،اورایران کے دورے اس بات کاثبوت ہیں کہ وہ محض عسکری نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی فعال کرداراداکررہے ہیں۔

جون2025کے دورے میں ان کی شخصیت ایک پختہ سفارتکارکے طورپرسامنے آئی ۔امریکی حلقوں میں ان کے بارے میں مثبت تاثرات نے پاکستان کیلئے ایک نئی راہ ہموارکی اوران کااعتماداورطرزِگفتگوعالمی حلقوں کومتاثرکرنے میں کامیاب رہا۔یہ ایک نئی سفارتی جہت کاآغازتھا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ان کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ موجودہ دورمیں عسکری اورسفارتی دائرے ایک دوسرے سے جدانہیں رہے۔

ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش ایک اہم سفارتی قدم تھا۔دنیااس وقت تباہی کے دہانے پرکھڑی مضطرب ہے اوراس نازک وقت میں ثالثی کی پیشکش ،دراصل ایک دوراندیشی کامظہرتھی،جس نےپاکستان کےکردارکومزیدمضبوط کیا۔ یہ پیشکش دراصل اس وژن کااظہارتھی جس کے تحت پاکستان خودکوایک پل کے طورپرپیش کرناچاہتا ہے، نہ کہ محض ایک فریق کے طورپر۔یہ قدم اس بات کاغمازہے کہ پاکستان خودکوایک ذمہ دارعالمی کردارکے طورپرپیش کرناچاہتاہے۔جون2025میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات نے اس سفرکوایک نئی سفارتی جہت اورعسکری بلندی عطا کی ۔عالمی میڈیانے اسے غیرمعمولی قراردیا،اوریوں عاصم منیرعالمی سیاست کے ایک اہم کردارکے طورپرتسلیم کیے گئے۔

وائٹ ہاؤس کی رسمی ملاقات کے بعد،امریکی دارالحکومت میں پاکستانی سفارتخانے کی ایک نشست محض ضیافت نہ تھی بلکہ ایک فکری مجلس کارنگ لیے ہوئے تھی۔اس نشست میں امریکی ماہرینِ خارجہ پالیسی کی موجودگی نے اسے ایک غیررسمی تھنک ٹینک میں تبدیل کردیا۔یہاں فیلڈ مارشل عاصم منیرکایہ جملہ گویا ایک اصولی اعلان تھا:
“سفارتکاری ہی کشیدگی کم کرنے کامؤثرراستہ ہے،اورپاکستان اس میں معاونت کرسکتاہے۔”
یہ بیان نہ صرف ایک سفارتی عزم کی ترجمانی کرتاہے بلکہ اس امرکی بھی غمازی کرتاہے کہ پاکستان اب محض ردِعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ عالمی بحرانوں میں پیش قدمی کرنے والاکردار بن چکاہے۔

ایران اورامریکاکے درمیان کشیدگی کے دوران،جہاں وزیراعظم اوروزیر خارجہ سفارتی محاذپرمتحرک تھے،وہیں فیلڈمارشل عاصم منیر کی خاموش مگرمؤثر سفارت کاری بھی جاری رہی۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدارکی جانب سے ان رابطوں کی تصدیق اس امرکاثبوت ہے کہ پاکستان کاعسکری وسفارتی اشتراک ایک ہم آہنگ حکمتِ عملی کے تحت کام کررہاہے۔یہ وہی طرزِ عمل ہے جسے عالمی سیاست میں ٹریک ٹوڈپلومیسی کہاجاتاہے،جہاں رسمی اورغیررسمی روابط ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

11/اپریل کواسلام آبادمیں ہونے والے ایران-امریکامذاکرات نے پاکستان کے جغرافیائی اورسفارتی مقام کوایک نئی جہت عطا کی۔یہ حقیقت کہ ان مذاکرات میں وزیر اعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیر دونوں شریک تھے،اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں ریاستی ادارے ایک مشترکہ قومی بیانیے کے تحت کام کررہے ہیں۔اگرچہ یہ مذاکرات فوری نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے،مگریہ اس طویل سفارتی سفرکاپہلا سنگِ میل ضرورتھے جس میں تسلسل کو کامیابی کی کنجی سمجھاجاتاہے۔

ٹرمپ کایہ اعتراف کہ ایران-امریکاجنگ بندی پاکستان کی درخواست پرممکن ہوئی،بظاہر ایک سفارتی کامیابی سے کہیں بڑھ کرہے۔یہ اس امرکااعلان ہے کہ پاکستان اب عالمی طاقتوں کے درمیان ایک قابلِ اعتمادثالث کے طورپرتسلیم کیاجارہاہے۔اگرچہ مذاکرات کااگلا دورپاکستان میں نہ ہونے کافیصلہ کیاگیا، مگر اسلام آبادکی شمولیت کابرقراررہنااس کےکردارکی اہمیت کومزیدمستحکم کرتاہے۔

یہ سوال بجاطورپراٹھتاہے کہ آخر کیوں ایران اورامریکاجیسے متحارب ممالک ایک ہی شخصیت کوثالث کے طورپرقبول کرتے ہیں؟اس کاجواب پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی میں مضمرہے ۔ایران،خلیجی ممالک،چین اورامریکا—سب کے ساتھ متوازن تعلقات نے پاکستان کوایک ایساپل بنادیاہے جومتضاد مفادات کوجوڑنے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت ایک ریاستی حکمتِ عملی کی صورت اختیارکرلیتی ہے۔

پاکستان نےاپنےاتحادیوں—سعودی عرب،چین اورامریکا—کی سلامتی ترجیحات کوایک متوازن اندازمیں آگے بڑھاکرخودکوایک ذمہ دار شراکت دارکے طورپرمنوایاہے۔یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ ایک باریک بین توازن ہے،جہاں ہرقدم ناپ تول کررکھاجاتاہے تاکہ کسی ایک فریق کی حمایت دوسرے کیلئےتشویش کاباعث نہ بنے۔

فیلڈمارشل عاصم منیرکی کامیاب ثالثی کاایک اہم سبب ان کے دیرینہ انٹیلیجنس روابط ہیں۔2016ءمیں ملٹری انٹیلیجنس اوربعد ازاں آئی ایس آئی کی قیادت کے دوران ایران کے ساتھ قائم ہونے والے روابط نےانہیں ایک ایسااعتمادفراہم کیاجومحض رسمی سفارت کاری سے حاصل نہیں کیاجاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ ایران اورامریکادونوں انہیں ایک ایسے فردکے طورپر دیکھتے ہیں جونہ صرف ان کی پوزیشن کو سمجھتاہے بلکہ اسے دوسرے فریق تک مؤثراندازمیں پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔

ٹرمپ کاغیر روایتی طرزِسیاست کسی سے ڈھکاچھپانہیں۔ان کے نزدیک تعلقات عہدوں سے زیادہ شخصیات کےگردگھومتے ہیں۔اسی تناظرمیں فیلڈ مارشل عاصم منیرکے ساتھ ان کی قربت ایک نئی سفارتی حقیقت کوجنم دیتی ہے،جہاں رسمی پروٹوکول سے ہٹ کرذاتی اعتمادکوفوقیت دی جاتی ہے۔یہ وہ عنصرہےجو جدید عالمی سیاست میں غیرمعمولی اہمیت اختیارکرچکا ہے۔

جب دیگرممکنہ ثالث—ترکی،سعودی عرب،چین،روس—مختلف وجوہات کی بناپراس کردارسے پیچھے ہٹ جاتے ہیں،توپاکستان ایک واحدقابلِ عمل آپشن کے طورپرسامنے آتاہے۔یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سفارتی حکمتِ عملی کانتیجہ ہے،جس میں پاکستان نےاپنے آپ کوہرفریق کیلئےقابلِ قبول رکھا۔

آخرمیں، فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت کاوہ پہلو سامنے آتاہے جوانہیں دیگرعسکری وسیاسی رہنماؤں سے ممتازکرتاہے—ان کا واضح،دوٹوک اورفیصلہ کن انداز۔ٹرمپ جیسے رہنما کیلئے،جو ابہام سے زیادہ وضاحت کوترجیح دیتے ہیں،یہ خصوصیت غیرمعمولی کشش رکھتی ہے۔یہی وہ وصف ہے جوانہیں نہ صرف ایک مؤثرسپہ سالاربلکہ ایک کامیاب سفارت کاربھی بناتا ہے

عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ محض الفاظ کامجموعہ نہیں ہوتابلکہ وہ پورے عہدکی ذہنی کیفیت اورریاستی ترجیحات کاآئینہ داربن جاتاہے۔ایساہی ایک لمحہ اس وقت سامنے آیا جب امریکامیں ایک نشست کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیرسے پاکستان کولاحق خطرات—بالخصوص اس کے ممکنہ عدم استحکام یاٹوٹنے کے خدشات—کے بارے میں سوال کیاگیا۔

یہ سوال اپنی نوعیت میں محض ایک تجزیاتی استفسارنہ تھابلکہ اس کے پس منظرمیں وہ تمام اندیشے کارفرماتھےجو برسوں سے عالمی تھنک ٹینکس اورپالیسی ساز حلقوں میں زیرِبحث رہے ہیں۔ایک ایسے خطے میں جہاں جغرافیائی کشیدگی،داخلی سیاسی اتارچڑھاؤ،اور اقتصادی دباؤبیک وقت موجودہوں،وہاں کسی بھی ریاست کے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھاناغیرمعمولی امرنہیں سمجھاجاتا۔مگراس سوال کے جواب میں فیلڈ مارشل عاصم منیرکاردِ عمل فوری،واضح اور غیرمبہم تھا۔انہوں نے نہایت دوٹوک اندازمیں کہا:
“میں کبھی بھی اس دنیاکوپاکستان کے بغیرنہیں دیکھ رہا۔”

یہ جملہ محض ایک دفاعی مؤقف نہیں بلکہ ایک فکری اعلان تھا—ایک ایسااعلان جوریاستی خوداعتمادی،قومی بقاکے عزم،اورتاریخی تسلسل کی یقین دہانی کا مظہر ہے۔تاہم اسی جواب کے ایک اورپہلونے عالمی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی،جب انہوں نے یہ عندیہ دیاکہ اگر خدانخواستہ پاکستان کے وجودکو کوئی سنگین خطرہ لاحق ہواتووہ اس کے دفاع کیلئےہرممکن صلاحیت رکھتے ہیں—حتیٰ کہ ایسی صلاحیت بھی جوعالمی سطح پرتباہ کن اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

یوں محسوس ہوتاہے کہ پاکستان کی قیادت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں الفاظ بھی ہتھیارکی ماننداثررکھتے ہیں—اور بعض اوقات ایک جملہ پوری جنگ کوروکنے کی صلاحیت رکھتاہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکایہ بیان بھی شایداسی نوعیت کاہے—ایک ایساجملہ جوبظاہرسخت،مگردرحقیقت امن کی ایک پیچیدہ مگرمؤثرضمانت ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اس بیان کومحض جذباتی اظہارکے طورپرنہیں دیکھاجاسکتا۔یہ درحقیقت اس نظریے کی توسیع ہےجسے ڈیٹرنس کہاجاتاہے—ڈیٹرنس ایک ایسااصول جس کے تحت طاقت کااظہاراس لیے کیاجاتاہے تاکہ جنگ کوروکاجاسکے،نہ کہ اسے چھیڑا جائے۔پاکستان،ایک ایٹمی قوت ہونے کے ناطے،پہلے ہی اس نظریے کاحامل رہاہے۔مگراس موقع پرفیلڈ مارشل عاصم منیرکا بیان اس بات کی تجدیدتھاکہ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی محض جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدودنہیں بلکہ اس کے وجودی تحفظ تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ وہی تصورہے جوسرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کے درمیان کارفرمارہا—جہاں تباہی کی صلاحیت ہی دراصل امن کی ضمانت بن گئی تھی۔

یہ بیان جہاں ایک طرف عسکری عزم کااظہارہے،وہیں دوسری طرف سفارتی پیغام بھی اپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ایک جانب یہ پاکستان کے مخالفین کیلئےایک واضح تنبیہ ہے کہ ریاست کی بقاپرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا،تودوسری جانب یہ اتحادیوں اورعالمی برادری کیلئےایک یقین دہانی بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے معاملے میں سنجیدہ،خودمختاراورفیصلہ کن ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں عسکری قیادت اورسفارتی حکمت عملی ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتی ہیں—اوریہی وہ طرزِفکرہےجوجدید ریاستی قیادت کی پہچان بنتاجارہا ہے۔

بین الاقوامی حلقوں میں اس بیان کومختلف زاویوں سے دیکھاگیا۔کچھ مبصرین نے اسے ایک سخت اورغیر معمولی اظہارقراردیا،جبکہ دیگرنے اسے ایک ذمہ دارایٹمی ریاست کے اس عزم کےطورپرتعبیرکیاجواپنے وجودکے تحفظ کیلئےکسی بھی حدتک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے—مگراس کامقصدتصادم نہیں بلکہ اس کاسدِ باب ہے۔یہی تضاددراصل جدیدعالمی سیاست کی حقیقت ہے،جہاں طاقت اورامن بظاہرمتضادمگردرحقیقت ایک دوسرے کے تکمیلی عناصربن چکے ہیں۔

اگراس بیان کوپاکستان کی تاریخ کے آئینے میں دیکھاجائے تویہ کسی اچانک ردِعمل کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل فکری اورعملی تسلسل کاحصہ ہے۔قیامِ پاکستان سے لے کرآج تک، اس ریاست نے بارہاایسے چیلنجزکاسامناکیاہے جہاں اس کی بقاہی داؤپرلگی محسوس ہوئی۔ ایسے ہرموقع پرریاستی قیادت نے ایک واضح پیغام دیاکہ پاکستان محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی حقیقت ہے—اور نظریات کومحض طاقت سے مٹایانہیں جاسکتا۔

عاصم منیرکا یہ بیان بظاہرایک مختصرجواب تھا،مگراپنے اندر کئی جہتیں سموئے ہوئے ہے۔یہ ایک ریاستی عزم کااظہارہے،ایک عسکری حکمتِ عملی کاتسلسل ہے اورایک سفارتی پیغام کاجامع خلاصہ ہے۔یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتاہے کہ جدیددنیامیں بقاکاانحصار صرف طاقت پرنہیں بلکہ اس کے دانشمندانہ استعمال پر ہے ۔پاکستان کی سفارتی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہوچکی ہے—ایساباب جہاں جنگ اورامن، دونوں کے درمیان ایک باریک مگر مضبوط لکیرکھینچی جارہی ہے۔فیلڈمارشل عاصم منیرکی قیادت میں پاکستان نے یہ ثابت کیاہے کہ جدیددنیامیں اصل طاقت صرف اسلحے کی نہیں بلکہ بصیرت،توازن اوراعتمادکی ہوتی ہے۔یہ وہ سفرہے جومحض ایک فردکی کامیابی نہیں بلکہ ایک ریاست کے فکری ارتقاء کی داستان ہے—اورشایدآنے والے وقت میں یہی داستان عالمی سیاست کےدھارے کوایک نئی سمت دے گی۔

تاریخ کا دھاراہمیشہ سیدھانہیں بہتا؛اس میں موڑآتے ہیں،بھنور آتے ہیں،اورکبھی کبھی ایسے پل اورموڑبھی آتے ہیں جہاں سے گزرکر قومیں اپنی تقدیر ازسرِنو لکھتی ہیں۔یوں فیلڈ مارشل عاصم منیرکاسفرمحض ایک عسکری افسرکے عروج کی داستان نہیں بلکہ ایک عہد کی تشکیل کی کہانی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیرکاعروج بھی اسی نوع کاایک موڑاورپل معلوم ہوتاہے—ایک ایساپل جس پرکھڑے ہوکر پاکستان نے نہ صرف اپنے داخلی انتشارکوقابوکرنے کی کوشش کی بلکہ عالمی سیاست میں بھی اپنی موجودگی کااحساس دلاتے ہوئے خارجی خطرات کامقابلہ کیا،اورعالمی سطح پرپاکستان کی موجودگی کومؤثر اندازمیں اجاگرکیا۔

یہ داستان ابھی مکمل نہیں—یہ تومحض آغازہے۔آنے والے دنوں میں تاریخ کے اوراق مزیدکھلیں گے،اوروقت فیصلہ کرے گاکہ یہ باب کس مقام پرجاکر ٹھہرتاہے۔مگرفی الحال اتنا کہناکافی ہے کہ ایک نام تاریخ کے سینے پرثبت ہوچکاہے—ایسانام جوحالات کااسیرنہیں بلکہ ان کامعماربن کرابھراہے۔یہ کہناقبل ازوقت ہوگاکہ یہ سفرکہاں جاکررکے گا،مگراتناضرور کہا جا سکتاہے کہ تاریخ کے اس باب میں ایک نام روشن حروف سے درج ہ چکا ہے—ایک ایسانام جو حالات کااسیر نہیں بلکہ اُن کامعمار بن کرابھراہے۔

اکیسویں صدی کی عالمی سیاست ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں عسکری قوت اورسفارتی حکمت، دونوں ایک دوسرے کیلئےلازم وملزوم بن چکے ہیں۔ طاقت کااظہاراب صرف میدانِ جنگ تک محدودنہیں رہابلکہ مذاکرات کی میز پربھی اقوام کی تقدیرلکھی جارہی ہے۔ اسی تناظرمیں پاکستان،جوکبھی محض ایک علاقائی قوت سمجھاجاتاتھا،اب ایک ذمہ داراورفعال عالمی کردارکے طورپرابھرتادکھائی دیتا ہے—اوراس ارتقاءکےپس منظرمیں فیلڈمارشل عاصم منیرکی شخصیت ایک مرکزی حیثیت اختیارکرچکی ہے۔

تاریخ کے صفحات پرایسے کردار کم ہی ملتے ہیں جوبیک وقت سپاہی بھی ہوں،مدبربھی،اورسفارتکاربھی۔عاصم منیرکی شخصیت اسی نادرامتزاج کی عکاس ہے۔ اگرآنے والے دنوں میں پاکستان اپنی داخلی استحکام اورخارجی وقارکوبرقراررکھنے میں کامیاب ہوتاہے،تواس میں اس قیادت کاکردارایک سنگِ میل کے طور پر یادرکھاجائے گا۔تاہم یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی—یہ تومحض ایک باب ہے،جس کے بعدتاریخ کے اوربھی اوراق کھلنے باقی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں