When Trust Collapses

جب اعتمادٹوٹ جائے

انسانی تاریخ کے طویل وپیچیدہ سفرمیں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تقدیرکے دھارے کوموڑدینے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب زمانہ خوداپنے آپ سے سوال کرتاہے،جب تہذیب اپنے آئینے میں اپناچہرہ دیکھنے پر مجبورہوتی ہے،اورجب انسان کویہ طے کرناپڑتا ہے کہ وہ روشنی کاوارث بنے گایاتاریکی کااسیر۔آج کی دنیابھی ایک ایسے ہی دہانے پر کھڑی ہے—جہاں بارودکی بوفضامیں رچی ہوئی ہے،مگرانسانیت کی سانس اب بھی امیدکے سہارے چل رہی ہے۔

یہ مضمون محض الفاظ کامجموعہ نہیں،بلکہ ایک فکری پکارہے—ایک ایسی صداجوتاریخ کے اوراق سے ابھرکر حال کے ایوانوں میں گونج رہی ہے۔یہ اس عہد کانوحہ بھی ہے اوراس کی اصلاح کاامکان بھی،یہاں سیاست کی بے رحمی بھی ہے اورانسانیت کی مظلومیت بھی،یہاں طاقت کاغروربھی ہے اورامن کی خاموش التجابھی۔

قاری جب ان سطورمیں داخل ہوگاتووہ خو کومحض ایک مبصرنہیں بلکہ اس داستان کاحصہ محسوس کرے گا—ایسی داستان جس میں ہر انسان کی قسمت جڑی ہوئی ہے،ہردل کی دھڑکن شامل ہے،اورہرآنے والی نسل کامستقبل پوشیدہ ہے۔یہ تحریر آپ سے صرف پڑھنے کا تقاضانہیں کرتی،بلکہ سوچنے،محسوس کرنے اورفیصلہ کرنے کی دعوت دیتی ہے کیونکہ یہ وہ لمحہ ہے جب خاموشی بھی جرم بن سکتی ہے،اورایک آوازتاریخ کادھارابدل سکتی ہے۔

عصرِنوکی سیاست اپنے باطن میں ایک عجیب اضطراب لیے ہوئے ہے—گویاتہذیب کے چہرے پرمسکراہٹ ہے مگرآنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں لرزرہی ہیں۔طاقت کی اس بساط پرجہاں قومیں اپنے مفادات کی شطرنج کھیل رہی ہیں،وہاں اصول،اخلاق اورعالمی معاہدے اکثرمحض کاغذی حوالہ بن کررہ جاتے ہیں ۔گویا ایک ایساشطرنج خانہ ہے جہاں مہرے انسان ہیں اورچالیں تقدیروں کوبدل دیتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ قوت واقتدارکی اس کشمکش میں عقل کی صدااکثرتلواروں کی جھنکارمیں دب جاتی ہے۔

امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ جنگ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے—ایسی کڑی جس کے حلقے صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکے گردتنگ ہوتے جارہے ہیں۔امریکااوراسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت اسی عالمی کشمکش کاایک ایساباب ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیاکے فکری،سیاسی اورعسکری توازن کوہلاکررکھ دیاہے۔یہ معاملہ محض ایک جنگ نہیں،بلکہ ایک ایساسنگِ میل ہے جہاں سے عالمی تاریخ ایک نئے رخ پرمڑسکتی ہے۔

زیرِ نظر گزارشات میں ہم اس قضیے کومحض واقعاتی ترتیب کے طورپرنہیں بلکہ ایک فکری وتہذیبی تناظرمیں دیکھنے کی کوشش کریں گے،جہاں سیاست نہ صرف اپنی معنویت کے ساتھ اور تاریخ اپنی عبرت کے ساتھ جلوہ گرہوبلکہ اس اندازمیں کہ فکرکی گہرائی، زبان کی لطافت اورتاریخ کی سنجیدگی ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوجائیں جیسے دریاسمندرمیں جاگرتاہے۔

کیایہ جنگ جوہری دوڑکاپیش خیمہ بن سکتی ہے؟یہ سوال محض ایک سیاسی تجزیہ یاسوال نہیں بلکہ انسانی بقاکے باب میں ایک بنیادی استفسارمیں سے ایک ہے ۔جب طاقت کے ایوانوں میں یہ تصورجڑپکڑلے کہ امن کی ضمانت اخلاقی اصولوں یاسفارتی معاہدوں میں نہیں بلکہ تباہی کے ہتھیاروں میں مضمرہے،توگویا تہذیب کاچراغ ہواکے رحم وکرم پرچھوڑدیاجاتاہے۔جب اقوام اپنے تحفظ کیلئے روایتی سفارت کاری اور اجتماعی سلامتی کے نظام پر اعتماد کھو بیٹھیں، تو وہ لازماً ایسے ذرائع کی طرف مائل ہوتی ہیں جو فوری اور قطعی تحفظ کا تاثر دیتے ہوں۔

جوہری ہتھیاراسی”حتمی تحفظ”کااستعارہ بن چکے ہیں۔امریکااوراسرائیل کاایران کے خلاف جارحیت بظاہر ایک روک تھام کی پالیسی کا بہانہ تھا،مگراس کے مضمرات اس کے برعکس ہو سکتے ہیں۔یہ اقدام دراصل دنیاکے دیگرممالک کیلئے ایک خاموش پیغام ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت نہیں توآپ غیرمحفوظ ہیں۔یہ سوچ ایک ایسی دوڑکوجنم دے سکتی ہےجس میں ہرملک خودکوایٹمی قوت بنانے کی کوشش کرے گا،اوریوں دنیاایک بارپھرسردجنگ کے سائے میں داخل ہوسکتی ہے—مگراس بارزیادہ غیریقینی،زیادہ خطرناک اورزیادہ بے قابواندازمیں۔

امریکااوراسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت اک بارپھردنیاکودھوکہ دینے کے مترادف تھی اوراس کے باطن میں ایک ایساپیغام پوشیدہ ہے جودنیا کے کمزوراورمتوسط ممالک کیلئے نہایت خطرناک ہے“اپنے تحفظ کیلئے خودکومسلح کرو،خواہ اس کی قیمت انسانیت ہی کیوں نہ ہو۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے جوہری دوڑکاآغازہوتاہے—خوف کے بطن سے جنم لینے والی ایک ایسی دوڑ،جس کی منزل تباہی کے سواکچھ نہیں۔

ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ جنگ اپنی بازگشت میں مسلسل وسعت اختیارکرگئی۔یہ بازگشت صرف بارودکی گونج نہیں بلکہ خوف،عدم اعتماد اور شکوک کی وہ فضابن گئی جس نے عالمی سیاست کواپنے حصار میں لے کرایٹمی خطرات سے دوچارکر دیا۔ایک ماہ سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجوداس جنگ کے اثرات ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہوئے،مگر افق پرابھرنے والے سائے اب بھی کسی بڑے طوفان کی خبردیتے ہیں۔جوہری عدم پھیلاؤکے ماہرین اس خدشے کااظہارکررہے ہیں کہ ایران ہی نہیں بلکہ دیگرممالک بھی اس نتیجے پرپہنچ سکتے ہیں کہ روایتی ہتھیاریاسفارت کاری اب ناکافی ہوچکی ہے۔جوہری عدم پھیلاؤکے ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کررہے ہیں کہ یہ تنازع دیگرممالک کیلئے ایک سبق بن سکتاہے—اوروہ یہ کہ اگرآپ کے پاس ایٹم بم نہیں تو آپ کی خودمختاری خطرے میں ہے۔یہ سوچ عالمی نظام کیلئے نہایت مہلک ہے،کیونکہ یہ اس اصول کوچیلنج کرتی ہے جس پرگزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی امن کی عمارت کھڑی کی گئی تھی اورآج ہم اس دورمیں پہنچ گئے ہیں جہاں عالمی نظام کی بنیادیں لرزتی محسوس ہوتی ہیں۔جب ریاستیں یہ سوچنے لگیں کہ انصاف کے بجائے طاقت ہی بقاکی ضامن ہے،توپھر قانونِ جنگل اپنی پوری سفاکی کے ساتھ نمودارہوتاہے۔

امریکاطویل عرصے سے اپنے اتحادیوں کیلئے ایک محافظ کے طورپرپیش کیاجاتارہاہے۔مگرحالیہ واقعات نے اس تصورمیں دراڑڈال دی ہے۔جب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ایران کے جوابی حملوں کی زدمیں آئے،تویہ سوال شدت اختیارکرگیاکہ کیاامریکااپنے اتحادیوں کی سلامتی کاواقعی ضامن ہے؟متحدہ عرب امارات سے لے کرسعودی عرب تک،کئی ممالک ایران کے جوابی حملوں کی زدمیں آچکے ہیں۔

اس صورتحال نے ایک نئی فکری تبدیلی اورانقلاب کوجنم دے دیاہے—ایساانقلاب جس میں ریاستیں اپنی سلامتی کیلئے بیرونی طاقتوں پرانحصار ترک کرکے خودانحصاری کی طرف مائل ہوں ۔وہ تبدیلی جس میں ریاستیں یہ سمجھنے لگیں کہ دوسروں کے سائے میں کھڑا ہونادراصل اپنی کمزوری کااعتراف ہے۔چنانچہ مقامی سطح پرجوہری صلاحیت کاحصول ایک”ضرورت”کے طور پرپیش کیاجاسکتاہے، نہ کہ محض ایک”انتخاب”کے طورپراوراس خودانحصاری کاسب سے نمایاں مظہرجوہری صلاحیت ہوسکتاہے۔

یہ ایک عجیب ستم ظریقی اورالمیہ ہے کہ جس جنگ کامقصد ایران کوایٹم بم بنانے سے روکناتھا،وہی جنگ ایران کواس سمت میں دھکیل سکتی ہے۔سیاسیات کایہ المیہ نیانہیں؛تاریخ گواہ ہے کہ اکثرطاقتوراقوام اپنے اقدامات سے وہی نتائج پیداکرتی ہیں جن سےبچنےکادعویٰ کرتی ہیں،اورتاریخ میں ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں جہاں طاقت کے استعمال نے مسائل کوحل کرنے کی بجائے مزیدپیچیدہ بنادیاہو۔ ایران کی قیادت اب اس سوال سے دوچارہے کہ آیاوہ اپنی بقاکیلئے وہی راستہ اختیارکرے جسے وہ اب تک ردکرتی آئی تھی۔اگرایساہوتا ہے تویہ عالمی سیاست کی ایک بڑی ناکامی ہوگی۔ایران کی قیادت اب اس سوال سے دوچارہے کہ آیامستقبل میں اپنی بقاکیلئے اسے وہی راستہ اختیارکرناچاہیے جس سے اسے روکاجارہا تھا۔

یہ بحران کسی ایک لمحے کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلۂ غلط فیصلوں کاحاصل ہے۔مذاکرات جاری تھے،امکانات موجودتھے، سفارتی راستے کھلے تھے،مگر طاقت کے نشے نے تدبرکی راہوں کومسدودکردیا۔یہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ دراصل سفارت کاری کی ناکامی کادوسرانام ہے۔جب مکالمہ ختم ہوجاتاہے توخطرناک بموں کی زبان بولنے لگتی ہے—اوریہ زبان ہمیشہ خون آلودہوتی ہے۔یہاں ہمیں یہ تسلیم کرناہوگاکہ جنگ اکثرناکامیِ سیاست کا اعتراف ہوتی ہے،اورجب سیاست ناکام ہوجائے تواس کے ملبے تلے انسانیت دفن ہوجاتی ہے۔

سعودی عرب پہلے ہی واضح کرچکاہے کہ اگرایران جوہری ہتھیارحاصل کرتاہے تووہ بھی اسی راستے پرچلے گا۔یہ اعلان دراصل ایک انتباہ ہے—ایساانتباہ جو پورے خطے کوایک خطرناک دوڑمیں جھونک سکتاہے۔دراصل یہ ایک خطرناک سلسلے کی ابتداہوسکتی ہے۔ اگرایک ملک یہ قدم اٹھاتاہے تودیگرممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔یہ صورتحال ایک ایسے”ڈومینو ایفیکٹ”کوجنم دے سکتی ہے جہاں ایک کے بعدایک ملک جوہری ہتھیاروں کی طرف بڑھتاجائے گا،یوں ایک چنگاری پورے جنگل کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔اور پوراخطہ ایک بارودکے ڈھیرمیں تبدیل ہوجائے گا۔

ایران کاجوہری پروگرام ہمیشہ سے عالمی توجہ کامرکزرہاہے۔اگرچہ اس نے عدم پھیلاؤکے معاہدے پردستخط کررکھے ہیں،مگراس کے پروگرام پرشکوک وشبہات برقرار رہے ہیں۔ یہ مسئلہ دراصل ٹیکنالوجی سے زیادہ اعتمادکاہے۔عالمی سیاست میں اعتمادایک نایاب شے بن چکاہے،اورجب اعتمادختم ہوجائے توہراقدام مشکوک نظرآنے لگتاہے۔یادرکھیں کہ اعتمادوہ شے ہے جوایک بارٹوٹ جائے تو پھرآسانی سے بحال نہیں ہوتا۔

ایران کادعویٰ ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصدکیلئے ہے،مگرافزودگی کی سطح اورنگرانی کے مسائل نےاس مؤقف کوکمزورکیاہے اورعالمی طاقتیں اس پر یقین کرنے کوتیارنہیں۔یہ بداعتمادی دراصل عالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتی ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ ایران کیاکہتا ہے،بلکہ یہ ہے کہ دنیااس پرکیوں یقین نہیں کرتی اوراس سوال کاجواب عالمی سیاست کی پیچیدہ نفسیات میں پوشیدہ ہے۔کیاعالمی قوانین سب کیلئے یکساں ہیں؟یاطاقتور ممالک اپنی مرضی کے مطابق ان کی تشریح کرتے ہیں؟

2018میں امریکاکاجوہری معاہدے سے نکل جانانہ صرف ایک یکطرفہ فیصلہ کن موڑتھابلکہ ایک ایسافیصلہ تھاجس نے عالمی اعتماد کوشدیدنقصان پہنچایا۔یہ اقدام نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کیلئے بھی ایک پیغام تھاکہ معاہدے مستقل نہیں ہوتے۔اس اقدام نے نہ صرف اعتمادکوٹھیس پہنچائی بلکہ سفارت کاری کے امکانات کوبھی محدودکردیا۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے عالمی نظام کی ساکھ متاثر ہوئی،اوراس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔یہ وہ لمحہ تھاجب تاریخ نے ایک اورموقع کھودیا—ایک ایساموقع جوشاید جنگ کوروک سکتاتھا۔

اگرچہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاربنانے کی تکنیکی صلاحیت موجودتھی،مگر اس نے عملی طورپراس حدکوعبورنہیں کیا۔یہ ایک اہم حقیقت ہے جسے اکثرنظر اندازکردیاجاتاہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے ایک حدتک عالمی دباؤاوراصولوں کااحترام کرتے ہوئے ایک حدتک ضبط کامظاہرہ کیا،مگرحالیہ جنگ کے بعدیہ رویہ تبدیل ہوسکتاہے اوراس تبدیلی کا قصوروار ایران نہیں بلکہ امریکااور اسرائیل کوٹھہرانے کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنی جارحیت کی بنیاد پرایران پرحملہ کرکے اسے اس راستہ پرگامزن کرنے کیلئے مجبورکردیاکہ وہ مستقبل میں اپنی بقاء کیلئے اپناحق استعمال کرسکے۔

فوجی حملے تنصیبات کوتباہ کرسکتے ہیں،مگرعلم کو ملبے تلے دفن نہیں کیاجاسکتااورنہ ہی ذہنی صلاحیتوں کوختم کرسکتے ہیں۔ ایران کے سائنسدان اوران کی مہارت اس پروگرام کی اصل قوت ہیں۔ایران کے پاس موجودسائنسی مہارت اسے دوبارہ کھڑاہونے کی صلاحیت دیتی ہے،یہی وجہ ہے کہ محض بمباری کسی بھی جوہری پروگرام کومکمل طورپرختم نہیں کرسکتی۔ایرانی قوم کے پاس ایسی صلاحیت موجودہے کہ وہ تاخیرکا شکارتوہوسکتے ہیں مگراسی راکھ اورملبے سے اپنی منزل کوتلاش کرکے سرخرو وسکتے ہیں۔

بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی محدودہونے سے شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے ۔حملوں کے بعد بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی محدودہوگئی ہے ،جو ایک خطرناک پیش رفت ہے۔یہ صورتحال مزیدکشیدگی کوجنم دے سکتی ہے ۔ شفافیت کے بغیراعتمادممکن نہیں،اور اعتمادکے بغیرامن ایک سراب بن جاتا ہے ۔اورجب شفافیت ختم ہوجائے توشکوک بڑھتے ہیں،اورجب شکوک بڑھتے ہیں توتصادم ناگزیر ہوجاتاہے۔

اگرایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی دہلیزعبورکرلیتاہے تو یہ محض ایک ریاست کافیصلہ نہیں ہوگا،بلکہ پورے خطے کیلئے ایک نفسیاتی وتزویراتی زلزلہ ثابت ہوگا۔مشرقِ وسطیٰ،جو پہلے ہی فرقہ وارانہ کشیدگی،جغرافیائی رقابت اور عالمی طاقتوں کی چپقلش کا میدان بناہواہے،ایک نئی دوڑکااسیرہوسکتاہے—ایسی دوڑجس میں ہرملک اپنے آپ کوعدم تحفظ کے اندھیرے سے نکالنے کیلئے ایٹمی روشنی کی طرف لپکے گا،چاہے وہ روشنی دراصل ایک آگ ہی کیوں نہ ہو۔اگرایران نے جوہری ہتھیارحاصل کیے تویقیناًدیگرممالک بھی اس دوڑمیں شامل ہوجائیں گے۔یہ ایک ایساسلسلہ ہوگاجسے روکنامشکل ہوگابالکل ایسے جیسے بندٹوٹ جائے اورپانی ہرسمت بہنے لگے۔

اس دوڑکی خاص بات یہ ہوگی کہ یہ کھلے عام اعلان کے ساتھ نہیں بلکہ خاموشی،شبہ اورخفیہ منصوبہ بندی کے پردے میں آگے بڑھے گی۔ہرریاست اپنے ہمسایے کے ارادوں کااندازہ لگاتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کوبڑھانے کی کوشش کرے گی۔یوں عدم اعتماد کی ایک زنجیر وجودمیں آئے گی،جس کا ہرحلقہ دوسرے سے جڑاہوگا،اورجس کاٹوٹناکسی ایک حادثے سے ممکن ہوجائے گا۔

دنیامیں پہلے ہی نوممالک(امریکا،روس،چین، فرانس،برطانیہ،پاکستان،انڈیا،اسرائیل اورشمالی کوریا)جوہری ہتھیاروں کے حامل سمجھے جاتے ہیں،اس کے باوجودمزیدممالک میں اس خواہش کابڑھناایک تشویشناک اورخطرناک رجحان ہے۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ عدم پھیلاؤ کانظام کمزورپڑرہاہے۔اوریہ حقیقت بذاتِ خودایک سوالیہ نشان ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں ریاستیں اس ہتھیارکواپنے دفاع کا لازمی جزوسمجھتی ہیں تودیگر ممالک کیوں نہ اسی راہ پر چلیں؟

عوامی سطح پربھی اس رجحان میں اضافہ ہورہاہے۔جنوبی کوریا،ترکی اورپولینڈجیسے ممالک میں عوامی رائے کے جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اپنے ملک کی سلامتی کیلئے جوہری صلاحیت کوضروری سمجھنے لگے ہیں۔یہ رجحان محض سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے—خوف کاوہ سایہ جواجتماعی شعورپرچھاجاتاہے اورلوگوں کوغیر معمولی فیصلوں کی طرف مائل کرتاہے۔

یہاں ایک اہم پہلویہ بھی ہے کہ جوہری ہتھیاراب صرف عسکری طاقت کانشان نہیں رہے بلکہ قومی وقاراورخودمختاری کی علامت بن چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی خواہش میں اضافہ ایک فطری مگرخطرناک عمل بن چکا ہے۔جب بڑی طاقتیں خوداپنے ذخائربڑھارہی ہوں تووہ دوسروں کوکیسے روک سکتی ہیں؟یہ ایک واضح تضادہے۔چین اورفرانس جیسے ممالک کی جانب سے اپنے جوہری ذخائر میں اضافہ اس رجحان کومزیدتقویت اورایک واضح پیغام دیتاہے کہ جب بڑے ممالک خوداس دوڑمیں شامل ہوں توچھوٹے ممالک کوکیسے روکاجاسکتاہے؟عالمی طاقتیں خودان اصولوں پرعمل نہیں کرتیں جن کی وہ دوسروں کو تلقین کرتی ہیں۔یہ دوہرامعیارعالمی نظام کی ساکھ کومجروح کرتاہے۔

چین کی تیزرفتارعسکری ترقی اورفرانس کااپنے جوہری پروگرام کووسعت دینے کاارادہ دراصل اس بات کاثبوت ہے کہ طاقت کی سیاست میں اخلاقیات کی گنجائش محدودہوتی جارہی ہے۔جب بڑے ممالک خوداس دوڑمیں شامل ہوں توچھوٹے ممالک کیلئے یہ دلیل مزید مضبوط ہوجاتی ہے کہ اگرانہیں زندہ رہناہے توانہیں بھی اسی راستے پرچلناہوگا۔یہ صورتحال عالمی نظام کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے، کیونکہ یہ عدم پھیلاؤ کے اصول کوکمزوراورایک نئے اسلحہ جاتی توازن کوجنم دیتی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری ایک ایساعمل ہےجسے بظاہردفاعی بہتری کے طورپرپیش کیاجاتاہے،مگرحقیقت میں یہ ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتا ہے ۔جوہری ہتھیاروں کی جدیدکاری دراصل ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتی ہے،جوتباہی کانیاچہرہ اورایک نہایت خطرناک رجحان ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے گئے ہتھیارزیادہ تیز،زیادہ درست اور زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔جوہری ہتھیاروں کی جدیدکاری دراصل ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتی ہے۔یہ ایک ایساکھیل ہے جس میں جیتنے والابھی ہارتا ہے۔

یہ ترقی ایک ایسے خطرناک رجحان کوجنم دیتی ہے جس میں ہتھیاروں کو”قابلِ استعمال”بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یعنی وہ محض خوف کی علامت نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں استعمال کے قابل بھی ہوں۔یہ تصورانسانی تاریخ کیلئے ایک بھیانک موڑثابت ہوسکتاہے، کیونکہ جب ہتھیارقابلِ استعمال بن جائیں توان کے استعمال کاامکان بھی بڑھ جاتاہے۔

نیو سٹارٹ معاہدے کاخاتمہ دراصل ایک ایسے خلاکی نشاندہی کرتاہے جسے پرنہ کیاگیاتوعالمی امن خطرے میں پڑسکتاہے اوردنیاایک نئے اسلحہ جاتی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔یہ معاہدہ امریکااورروس کے درمیان اعتماداورتوازن کاایک ستون تھا،اوراس کے خاتمے نے اس ستون کوگرادیاہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ دونوں ممالک بغیرکسی مؤثرنگرانی کے اپنے ہتھیاروں کے ذخائرکوبڑھاسکتے ہیں۔یہ خلا نہ صرف ان دونوں ممالک کیلئے بلکہ پوری دنیاکیلئے خطرناک ہے، کیونکہ اس سے اسلحہ جاتی دوڑکوتقویت ملتی ہے۔

دراصل تین بنیادی عوامل دنیاکوجوہری پھیلاؤکی طرف دھکیل رہے ہیں،چین کی صنعتی توسیع کاخوف،روس کی حکمت عملی،اور امریکاکی غیرمتوقع اورغیر یقینی پالیسی—یہ تینوں عوامل دنیاکوایک غیریقینی مستقبل اورخطرناک سمت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
٭اول،چین کی تیزرفتار صنعتی توسیع—یہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے جواپنے عسکری اثر ورسوخ کوبڑھانے کیلئے جوہری ہتھیاروں کو ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔
٭دوم،روس کی یوکرین جنگ—اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ جوہری دھمکیاں بھی ایک مؤثرسیاسی ہتھیاربن سکتی ہیں۔
٭سوم، امریکاکی غیرمتوقع پالیسی—یہ عنصر نہ صرف حریفوں بلکہ اتحادیوں کیلئے بھی عدم یقین پیداکرتاہے۔

یہ تینوں عوامل مل کرایک ایسی فضاپیداکرتے ہیں جس میں ہر ریاست خودکوغیرمحفوظ محسوس کرتی ہے،اوریہی احساس جوہری ہتھیاروں کی طرف جھکاؤکوبڑھاتاہے۔

یوکرین نے اپنے جوہری ہتھیارترک کیے مگراسے حملے سے نہیں بچایاجاسکا۔یوکرین کی مثال جہاں ایک عبرت ناک داستان ہے وہاں دیگرممالک کیلئے ایک اہم اور خطرناک سبق بن چکی ہے۔اس نے اپنی جوہری صلاحیت ترک کرکے مغربی ممالک پراعتماد کیالیکن ضمانتوں کے باوجوداسے حملے سے نہیں بچایاجا سکا،اور تین دہائیوں بعداسے اس اعتمادکی بھاری قیمت چکانا پڑی جومسلسل ابھی جاری ہے۔یہ واقعہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑہے، کیونکہ اس نے یہ پیغام دیاکہ بین الاقوامی ضمانتیں ہمیشہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتیں۔ یہ سبق دیگرممالک کیلئے نہایت اہم ہے،او یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سلامتی کیلئے خودپرانحصارکرنے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔

لیبیااورشمالی کوریاکی مثالیں عالمی سیاست کے دومتضادپہلوؤں کونمایاں کرتی ہیں۔لیبیانے اپنے جوہری ہتھیارترک کیے اوربالآخر بیرونی مداخلت کاشکارہوکر عبرتناک انجام کوپہنچا،جبکہ شمالی کوریانےاپنے پروگرام کوجاری رکھااورآج تک محفوظ ہے۔یہ تقابل جہاں عالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتاہےوہاں ایک تلخ حقیقت کوبھی ظاہرکرتاہے۔یہ تقابل نہ صرف عالمی نظام کی اخلاقی کمزوری کو بے نقاب کرتاہے وہاں عالمی نظام میں اصولوں سے زیادہ طاقت کی اہمیت ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جودیگر ممالک کوجوہری ہتھیارحاصل کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔
تمام ترخدشات کے باوجودیہ کہنادرست ہوگاکہ جوہری دوڑناگزیرنہیں۔یہ انسان کے فیصلوں پرمنحصرہے۔جوہری ہتھیارنہ صرف مہنگے،خطرناک اورپیچیدہ ہیں،ہرریاست انہیں حاصل نہیں کرسکتی،اورنہ ہی ہرریاست کوان کی ضرورت ہے بلکہ ان کے حصول کے ساتھ اہم اقتصادی مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں ۔اگرچہ حالات اس سمت کی طرف اشارہ کررہے ہیں،مگرتاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان نے کئی بارتباہی کے دہانے سے واپس لوٹنے کاراستہ اختیارکیاہے۔

جوہری ہتھیاروں کے حصول کے ساتھ بے شمارمشکلات جڑی ہوتی ہیں—تکنیکی پیچیدگیاں،مالی اخراجات،بین الاقوامی پابندیاں اور سفارتی تنہائی۔یہی عوامل کئی ممالک کواس راستے سے دوررکھتے ہیں۔مزید برآں،عالمی برادری کی جانب سے اجتماعی اقدامات، معاہدوں کی بحالی اوراعتماد سازی کی کوششیں اس دوڑکو روک سکتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں امیدکی کرن نظرآتی ہے —ایک ایسی کرن جواگرچہ مدھم ہے،مگرمکمل طورپربجھی نہیں۔

یہ نکات ہمیں اس حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں کہ دنیاایک نازک موڑپرکھڑی ہے۔جوہری ہتھیاروں کی دوڑمحض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے۔دنیااس وقت ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں سے دوراستے نکلتے ہیں—ایک جنگ اورتباہی کی طرف، دوسراامن اورمکالمے کی طرف۔یہ فیصلہ انسان کوکرناہے کہ وہ کس راستے کاانتخاب کرتاہے۔تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا غرورعارضی ہوتاہے،مگراس کے اثرات دیرپا۔اگرعالمی برادری نے اس موقع پردانشمندی کامظاہرہ نہ کیاتویہ جوہری دوڑایک ایساالمیہ بن جائے گی جس کاخمیازہ آنے والی نسلوں کوبھگتنا پڑے گااوروہ ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

اگرعقل وتدبرکوترجیح دی گئی توشایدابھی بھی وقت ہے کہ اس آگ کوبجھایاجاسکے—اس سے پہلے کہ یہ پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے لے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیاایک بارپھر مکالمے کی طرف لوٹے،اعتمادکی بنیادیں استوارکرے،اوراس حقیقت کوتسلیم کرے کہ امن کی ضمانت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ انسان کے باطن میں پوشیدہ ہے۔ورنہ یہ جوہری دوڑایک ایساالمیہ بن جائے گی جس کااختتام کسی کے حق میں نہیں ہوگا—نہ فاتح کے،نہ مفتوح کے،بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک مشترکہ شکست کی صورت میں۔اگرانسان نے اس بحران کو سنجیدگی سے نہ لیاتو یہ صرف ریاستوں کانہیں بلکہ پوری انسانیت کاالمیہ بن جائے گا۔اگردانش،تدبراوراخلاقی جرات کوبروئے کار لایاگیاتوشاید یہ بحران ایک نئے عالمی شعورکوجنم دے—ایسا شعورجوطاقت کے بجائے امن کوترجیح دے۔

جب تاریخ اپنے اوراق سمیٹتی ہے تو وہ صرف واقعات درج نہیں کرتی بلکہ قوموں کے فیصلوں کا حساب بھی رکھتی ہے۔ آنے والی نسلیں جب اس دور کو دیکھیں گی تو وہ یہ نہیں پوچھیں گی کہ کس کے پاس کتنے ہتھیار تھے، بلکہ یہ سوال کریں گی کہ جب دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی تو انسانیت کے پاس کتنی دانش، کتنی ہمت اور کتنی بصیرت تھی۔

آج کا انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک راستہ آگ کی وادیوں میں اترتا ہے اور دوسرا امن کے سبزہ زاروں کی طرف جاتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے—چمکدار، پرکشش، مگر اندر سے کھوکھلا اور مہلک۔اگر ہم نے اس فریب کو نہ پہچانا تو وہ دن دور نہیں جب زمین کا سینہ بارود سے بھر جائے گا اور آسمان انسان کی بے بسی کا گواہ بن جائے گا۔مگر ابھی وقت باقی ہے۔ ابھی انسان کے پاس وہ اختیار موجود ہے جس کے ذریعے وہ تقدیر کا دھارا بدل سکتا ہے۔ اگر دلوں میں نفرت کی جگہ ہمدردی لے لے، اگر طاقت کے نشے کی جگہ عقل و تدبر کو فوقیت دی جائے، اگر مفادات کی دیواروں کو گرا کر انسانیت کے پل تعمیر کیے جائیں—تو شاید یہ دنیا ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔

یہ تحریر ایک گزارش ہے، ایک التجا ہے، ایک عہد کی پکار ہے—کہ اسے صرف پڑھ کر نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ اسے دل میں جگہ دی جائے، سوچ میں بسایا جائے، اور آگے بڑھایا جائے۔کیونکہ strong>امن کا پیغام بھی اسی وقت زندہ رہتا ہے جب وہ دل سے دل تک پہنچے، اور انسان سے انسان تک منتقل ہو۔آئیے، ہم سب اس پیغام کے امین بن جائیں —تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں اس نظر سے دیکھیں کہ ہم نے تباہی کے اندھیروں میں بھی روشنی کا چراغ جلانے کی کوشش کی تھی، اور ہم نے جنگ کے شور میں بھی امن کی صدا کو زندہ رکھا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں