تاریخ کے شرمناک کردار

:Share

اپنے بنیادی حقوق اوراپنی جائززادی کی جنگ لڑنے والاکوئی ایک نوجوان بھی شہادت کارتبہ پا لے تواسے دعائیں دیتے ہوئے اوراپنی عقیدت کااظہار کرتے ہوئے ہم اپنے آپ سے بھی بیگانے ہوجاتے ہیں۔اس کی عظمت پراپناسب کچھ قربان کردینے کوجی چاہتاہے اورہمارے مقتدرسیاسی رہنماء بھی عوام میں اپنا قدبڑھانے کیلئے مختلف تقریبات میں اس کاتذکرہ کرنے سے نہیں چوکتے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ جذبہ نہ صرف دھیماپڑ جاتا ہے بلکہ یادرفتگاں کا ایک حصہ بن کرکسی فائل کی نذرہو جاتاہے مگرجہاں ایک دویا چارپانچ نہیں بلکہ تھوک کے حساب سے جانیں نچھاور کی جارہی ہوںاوران شہداء کودفن کرنے کیلئے قبرستان بھی کم پڑجاتے ہوں توانہیں آسودۂ خاک کرنے کیلئے نئی اجتماعی قبریں بناناپڑتی ہوں توہرباضمیرانسان بھی بالآخرچیخ اٹھتاہے۔
کشمیرجنت نظیرمیں گاہے گاہے اجتماعی قبریں دریافت ہوتی رہتی ہیں جوبھارت کی سفاک فوج کے بہیمانہ مظالم کی یادیں تازہ کرتی رہتی ہیں بلکہ اب توعالمی پریس میں بھی ان کا تذکرہ خوفناک الفاظ میں شروع ہوگیاہے۔حال ہی میں وہاں ایک بارپھردوہزارسے زائداجتماعی قبریں برآمدہوئی ہیں۔یہ وہ حریت پسند کشمیری نوجوان ہیں جنہیں بھارتی قابض فوجی اغواء کرکے کہیں دورجنگل میں لیجاکرفرضی جھڑپ میں شہیدکرکے دفن کرادیتے ہیں اورخوداس ”کارنامے”پر ترقیاں اور تمغے حاصل کرتے رہتے ہیں۔اس طرح وادیٔ جنت نظیرکے سینے پرایک اور”اجتماعی قبر”تعمیرہوجاتی ہے۔جن ماؤں کے یہ لختِ جگر”لاپتہ” کرکے مستقل غم واندوہ کاسامان بنائے جاتے ہیں،وہ اپنے بھائی،اپنے شوہریا قریبی رشتہ دارکوساتھ لیکرپولیس تھانوں اورفوجی کیمپوں کی خاک چھانتے پھرتے ہیں لیکن سالہاسال تک انہیں اس بات کی خبرنہیں ہوپاتی کہ وہ زندہ بھی ہیں یااس دنیاسے رخصت ہو چکے (کردیئے گئے)ہیں۔ اس سے بڑاظلم اورکیاہو گاکہ اب ہرخاندان میں کوئی نہ کوئی اس طرح لاپتہ ہے اورگویاپوراکشمیراپنی آنکھوں میں یاس اورامیدکے ساتھ زندہ درگور کر دیا گیاہے ۔ اب اس ظالمانہ صورتحال میں ان گھروں میں باقی نوجوان بھی فرط انتقام میں جاری شہادت گاہ میں سج دھج سے اترجاتے ہیں۔
بوسنیااورکوسووکی طرح مقبوضہ کشمیرمیں بھی جگہ جگہ اجتماعی قبریں موجودہیں جن کاگاہے بگاہے انکشاف ہوتارہتاہے ۔ بھارتی فورسزکی جانب سے اب تک ۱۲ہزار نوجوان نام نہادسرچ آپریشن کے دوران گھروں،دفاتریادیگر مقامات سے آتے جاتے راستوں سے اغواء کرلئے گئے جن کاآج تک کوئی سراغ نہیں لگایاجاسکااوراس امرکاپختہ یقین ظاہرکیاجارہاہے کہ یہ سب لوگ اجتماعی قبروں میں دفن کئے جاچکے ہیں۔کشمیریوں کی جانب سے بارہایہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ ان اجتماعی قبروں میں مدفون شہداء کاڈی این اے ٹیسٹ کیاجائے تاکہ پتہ چل سکے کہ یہاں کن کشمیریوں کودفن کیا گیاہے۔
بھارت کے ظلم وستم نے کشمیریوں کی زندگی میں زہربھردیاہے اورآج وہاں سب ے زیادہ خواتین اوربچے متاثرہیں۔ درحقیقت تحریک آزادی کوکچلنے کیلئے بھارت نے کشمیری خواتین پرظلم وستم کوجنگی حربے اورہتھیاروں کے طورپر استعما ل کیاہے۔انہیں مردوں کے سامنے ٹارچر کیاجاتاہے، ان کی عصمت دری کی جاتی ہے تاکہ کشمیری مردمجبورہوکر خاموش ہو جائیں لیکن کشمیری خواتین کی عزیمت کی داددینی پڑتی ہے کہ وہ ہرقسم کے ظلم وستم کے سامنے ابھی تک سینہ سپرہیںاورمردوں کے شانہ بشانہ ان کوجہاداورحصول آزادی کی جدوجہد پر آمادہ کرتی رہتی ہیں اوران میں کسی قسم کی کمزوری اوراضمحلال پیدانہیں ہونے دیا۔اگرچہ آج مقبوضہ کشمیرکی خواتین مصائب کا شکارہیں ۔طویل غلامی نے ان پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ گھرکے سربراہ یاکمانے والے فردکے متاثر ہونے سے پوراگھرانامشکلات کاشکار ہوجاتاہے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔مقبوضہ کشمیرکی دگرگوں حالات پرمرتب کی گئی حالیہ رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ مقبوضہ کشمیرباشندے ان پریشانیوں سے ذہنی دباؤ کاشکارہورہے ہیں۔نتیجتاً خواتین سب سے زیادہ ذہنی امراض میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ان حالات میں کشمیری سول سوسائٹی کشمیری خواتین کے مسائل کومہم کے طورپراجاگر کرنا شروع کیاہے
ایسی ہی ایک کوشش”ہاف وڈّوہاف وائف” نامی رپورٹ میں کی گئی ہے۔یہ ایسی رپورٹ ہے جوکشمیرکی بیواؤں ، کنواریوں اورشادی شدہ خواتین کےمسائل پر بحث کرتی ہے۔اس رپوٹ میں صرف عومی خواتین سے رائے لی گئی ہے۔ کسی بھی مقامی،قومی یابین الاقوامی شہرت کے سیاست دان سے رائے نہیں لی گئی۔ یہ رپورٹ “ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈی ایپیرڈسنز”نے مرتب کی ہے جوجموں وکشمیرکولیشن آف سوسائٹی کاممبرہے۔
ہارورڈیونیورسٹی فیلونے اس میں خصوصی مددکی ہے ۔اس میں ”ہاف وڈّوہاف وائف”کی اصطلاح ان کواتین کیلئے استعمال کی گئی ہے جن کے شوہر خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہوچکے ہیں اورابھی تک ان کے بارے میں حتمی طورپرنہیں کہا جاسکتاکہ وہ زندہ بھی ہیں یاماردیئے گئے ہیں۔لاپتہ کشمیریوں کی مائیں بہنیں اوربیویاں ایک ہمہ گیرسیاسی تنظیم اے پی ڈی پی کے تحت منظم ہورہی ہیں تاکہ امن وانصاف کیلئے جدوجہدکرسکیں۔
اس تنظیم نے مقبوضہ کشمیرمیں کئی مقامات پراجتماعی قبروں کی نشاندہی کی ہیں۔یہ تنظیم اپنی مددآپ کے تحت کام کرتی ہے۔وہ خواتین جوشوہروں کی گمشدگی کے برسہابرس گزرنے کے بعدبھی ان کی پنشن حاصل نہیں کرسکتیں (کیونکہ وہ ڈیتھ سرٹفکیٹ پیش نہیں کرسکتیں)ان کے معاملات عدالتوں میں اٹھائے ہیں۔اسی طرح ایسی خواتین کی دوبارہ شادی یامعاش کے مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دی ہے۔رپورٹ میں مختلف خواتین کے حالات کاحوالہ بھی دیاگیا ۔ مثال کے طورپرسرینگرکی زارانے بتایاکہ نومبر۲۰۱۰ء میں وہ شوہرکی گمشدگی کے آٹھ برس انتظارکے بعدپولیس اسٹیشن جاپہنچی اورفریادکی کہ اسے صرف ایک مرتبہ اس کے شوہرسے ملادیاجائے ۔اگروہ زندہ ہے توصرف اسے دکھاہی دیں اوراگروہ مرچکاہے تواس کی قبرکاہی پتہ بتادیں۔میں جب بھی کسی پولیس اسٹیشن گئی یافوج کے اہلکارکے پاس فریادلیکر پہنچی تو اس نے میری جانب بھوکی نگاہوں سے ہی دیکھاگویامیں ان کیلئے ترنوالۂ ہوں یاشائدمیں اسے بتانے آئی ہوں کہ میراشوہرپچھلے آٹھ سال سے لاپتہ ہے۔آئی جی کاروّئی قدرے مشفقانہ محسو س ہواتھا،وہ بولا:کل اس کے کپڑے لے آنا ،ملاقات کرادوں گا اور اس کل کے آنے میں پوراسال بیت گیا۔جب میں نے اسے یاددلایاتووہ دہاڑتے ہوئے بولا:میں اسے کہاں سے لاؤں؟آسمان سے؟
سرینگرسے ایک اورلاپتہ کشمیری کی نیم بیوہ رینہ بتاتی ہے:میں نے اپنی تمام پونجی اورسارااثاثہ اپنے لاپتہ شوہرکی تلاش میں لگادیا۔ہمیں دلاسے دینے والے ایک شخص نے آدھی رات کوہمارے گھرکے چکرلگانے شروع کردیئے۔وہ اصرار کرنے لگاکہ وہ میری سولہ سالہ بیٹی سے بات کرے گا۔تب میں نے قبول کرلیاکہ اب اس معاملہ کاباب بند ہوچکاہے، میں شوہرکے بعدبیٹی کوکھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔پاکالن کی روبینہ اپنے شوہرکی گمشدگی کے بعداپنی مشکلات کاحل چاہتی ہے:ہرکوئی ہماری داستان سننے آجاتاہے۔میں نے آٹھ برس قبل شوہرکے کھوجانے پراپنی بیٹیوں کی پرورش کی ،اب مجھے پرسہ نہیں بلکہ اپنی بیٹیوں کیلئے ملازمت درکارہے۔میں تنہارہ کربھی اپنی بیٹیوں کوتعلیم کے زیورسے آراستہ کیاتاکہ یہ اپنی زندگی گزارنے کیلئے کماکرکھاسکیں،ہمیں بھیک نہیں ملازمت چاہئے لیکن ہوس کے پجاری ملازمت دلانے کی جو قیمت مانگتے ہیں وہ زبان پرنہیں لا سکتی۔
سرینگرسے گل کہتی ہیں:سرینگرکی سڑکوں پرآپ کوبرقع پہنے بھیک مانگتی خواتین نظرآئیں گی۔انہوں نے مذہبی حکم کی خاطربرقع نہیں پہنا ،ان میں کتنی ہی نیم بیوہ خواتین ہیں جوپہچانےجانے کے خوف سے برقع پہن کرنکلتی ہیں،وہ مجبور ہیں،مانگیں نہ تواپنے بچوں کی کفالت کیسے کریں۔کتنی ہی خواتین کو سسرال کے طعنے سننے پڑتے ہیں کہ کہ ان کی نحوست کی وجہ سے بیٹاکھوگیا۔ کپواڑہ کے قصبے لولاب کی ثمینہ کہتی ہیں:میں سارادن سڑکوں پربھیک مانگتی ہوں اورشام کوپڑوس میں برتن دھوتی ہوں،تب کہیں اس قابل ہوتی ہوں کہ مکان کاکرایہ اداکرسکوں۔میں نے اپنے مالک مکان تک کونہیں بتایاکہ میراشوہرلاپتہ ہے۔میں اسے ہمیشہ یہی کہتی ہوں کہ وہ جموں میں ملازمت کرتاہے۔
مجبورکشمیری خواتین کیلئے بظاہرریلیف فنڈکابھی اہتمام ہے مگرجب زارافنڈ لینے گئی توڈی سی نے اس کی قیمت لگانے کی کوشش کی،زارااس کے منہ پر فائل مارکربھاگ آئی۔سر کی چادرچھن جانے کے بعدگھربسانابھی ایک انتہائی مشکل امر ہے۔اوڑی کی سلمیٰ خوش قسمت تھی کہ اسے دوبارہ ایک نیک شوہر مل گیا۔کپواڑہ کی روبینہ کی ساس اس کی جوانی سے اس قدرخوفزدہ ہوئی کہ وہ اپنے بارہ برس کے بیٹے سے نکاح ثانی کی پیشکش کرنے لگی۔اس خوف کی فضانے معصوم بچوں سے ان کابچپن چھین لیا ہے۔دروازے پراجنبی دستک سنتے ہی وہ بسترمیں چھپ جاتے ہیں کہ نامعلوم ہاتھ ان کے باپ کوچھین کرلے گئے توانہیں بھی لے جاسکتے ہیں۔
درندے قصورمیں ہی نہیں،جموں میں بھی پائے جاتے ہیں۔جس روز قصورمیں زینب کوزیادتی کے بعد قتل کیاگیااس سے دوروزبعد جموں میں بھی اس قسم کا انسانیت سوز واقعہ پیش آیاجس میں دیپک کھجوریہ نامی ہندوملوث تھا۔ ہندودرندے نے جوکہ ایک پولیس اہلکارہے،آٹھ سال کی معصوم بچی آصفہ کواپنی ہوس کا نشانہ بناڈالا۔آصفہ کے ساتھ پیش آنے والاواقعہ ننھی پری زینب سے مختلف نہ تھا۔اگراس سانحے میں کچھ مختلف تھاتووہ یہ کہ زینب کے کے درندہ صفت قاتل کوسرعام پھانسی دینے کامطالبہ زورپکڑگیاہے جبکہ سانحہ آصفہ میں ملوث ہندو پولیس اہلکارکوکسی ممکنہ سزاسے بچانے کیلئے جموں کے ہندومیدان میں کود پڑے ہیں جسے دیکھ کراسلامیانِ جموں و کشمیرمشتعل ہوکراس المناک واقعے کو قیامت سے پہلے قیامت سے تعبیرکرتے ہوئے مطالبہ کرنے لگے کہ انسانیت کا دامن تارتارکرنے والے ہندودرندے کوعبرتناک انجام سے دوچارکرنے کا سامان کیاجائے۔
کٹھوعہ جموں میں وحشی نما ہندوپولیس اہلکارکی درندگی نے انسانیت کاسرشرم سے جھکادیاہے۔پورے علاقے کے پرزور اصرارپربالآخرایک ماہ کے بعد سنگین اور شرمناک مجرم کوپکڑتولیالیکن ظلم کی انتہاتو یہ ہے کہ جموں کے ہندواس بہیمانہ جرم کے مرتکب اس شیطان صفت ہندو پولیس اہلکار کی حمائت میں ایک ریلی نکالی جس کے شرکاءانتہائی ڈھٹائی اوربے شرمی کے ساتھ اس مجرم کی رہائی کامطالبہ کررہے تھے۔دراصل یہ ریلی مقبوضہ کشمیر کے ہندوؤں کی طرف سے اسلامیان جموں و کشمیرکے خلاف ایک کھلی فرقہ وارانہ مہم جوئی ہے جو ہندوؤں کے تازہ عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ آٹھ سالہ معصوم آصفہ کی عصمت دری کے بعداسے موت کے گھاٹ اتارنے والے ہندو پولیس اہلکاردیپک کھجوریہ کی حمائت کرنا،راشٹریہ سیوک سنگھ (آرایس ایس) اوربی جے پی کے کارکنوں کاہندوایکتامنچ یعنی ہندومجرم کوبچانے میں ہندوایک ہیں،صریحاًشرمناک بہیمت ہے جس نے کشمیری یااسلامی ہی نہیں،انسانی سماج کی بھی چولیں ہلاکررکھ دی ہیں۔اس ریلی نے انسانیت کے دشمن ہندوفرقہ پرستوں کے عزاءایک بارپھرعیاں کردیئے۔
بھارتی جھنڈے کاسہارالیکرکٹھوعہ مین کمسن بچی کی آبروریزی اورقتل کے مرتکب کی حمائت میں نکالی گئی ریلی نے جہاں انسانی اقدارکوشرمسارکردیا وہیں یہ واقعہ جموں کے مسلمانوں کیلئے مزیدخطرات کاپیش خیمہ ہے۔اگرچہ جموں میں فرقہ پرست عناصرسنگین جرائم کے مرتکب پہلے ہی ہورہے تھے لیکن بی جے پی اورپی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے قیام سے وہ پاگل ہوچکے ہیں اوروہ جموں کے مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستی کازہرگھولنے میں مصروف ہیں۔انسانیت کے دشمن کی حمائت میں فرقہ پرستوں کی ریلی بلاشبہ جموں میں مسلم کش ذہنیت کے حامل جرائم پیشہ لوگوں کی جوحوصلہ افزائی ہے اوروہ چاہتے ہیں کہ جموں میں حالات قابوسے باہرکردیئے جائیں تاکہ مسلمانوں کوجموں سے بھگانے کے مواقع پیداکئے جائیں۔اب وقت آگیاہے کہ جموں و کشمیرکے مسلمان اپنے بچوں کی حفاظت اوران کی ناموس کی نگہبانی کیلئے تمام اختلافات بھلاکرایک ہوجائیں۔انہیں اس بات کانوٹس لیناچاہئے کہ بی جے پی کاہیراسنگھ (ایم ایل اے)نے ہندوایکتامنچ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی بیٹھک میں شرکت کرکے اس متعفن پوٹلی کاسراکھول کرسرکاری سرپرستی میں جموں کے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے شرمناک منصوبوں کوبے نقاب کر دیا اورثابت کردیاکہ ان سفاک درندوں کاانسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔اگران کاانسانی قبیل سے کوئی تعلق ہوتاتوکٹھوعہ کی معصوم آصفہ کے وحشی درندہ صفت دیپک کھجوریہ کی سرعام تختہ ٔ دارپرچڑھانے اورعبرت کانشان بنانے کیلئے ریلی نکالتے۔
ہندوایکتامنچ کی بیٹھک میں بی جے پی کے اس بے شرم ایم ایل اے کی شمولیت سے جہاں بی جے پی کے چہرے پرسیاہی انڈیل دی ہے وہاں اس متعصب جماعت کے مہیب چہرے سے نقاب بھی اتاردیاہے۔کمسن آصفہ کی پامالی اوربہیمانہ قتل میں ملوث پولیس اہلکارکے حق میں جموں میں ہندو فرقہ پرستوں اوران کے انتہاء پسند متعصب ہندوحامیوں کی جانب سے پولیس کی منظم اورمنصوبہ بندمددکے ساتھ بھارتی ترنگابردارریلی نکالنے کا عمل ثابت کررہاہے کہ بھارتی وظیفہ خور کٹھ پتلی حکمران طبقہ انسانیت اوراخلاقیات کی تمام حدودپھلانگ چکاہے۔وادیٔ کشمیرمیں برپاظلم وستم کے خلاف ہر چھوٹے بڑے احتجاج پرگولیاں برسانے اور برسراحتجاج عوام الناس کے سینے چھلنی کرنے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کرتے وادیٔ کشمیرمیں حق وانصاف کی آوازبلندکرنے والوں پربدنام زمانہ کالے قوانین کاشکنجہ کس کرانہیں عقوبت خانوں اورقیدوبندکی صعوبتوں میں ڈالنے اور کشمیرمیں شہریوں کی نقل وحرکت روکنے کیلئے کرفیوعائدکرنے والی بے جے پی اورپی ڈی پی کی کٹھ پتلی حکومت نے جس طرح سے انسانیت شکن ریلی کو تحفظ فراہم کیا،وہ ہندونوازوں کے مہیب وشرمناک چہروں کوبے نقاب کرتاہے اورسیاست کے نام پران کی مکروہ چالوں کاپردہ چاک کرچکاہے۔
ایک معصوم بچی کی عزت تارتارکرنے کے بعداسکوبہیمانہ اندازمیں قتل کرنے والے بدقماش کے حق میں ہندوایکتامورچہ کی ریلی بھارت سرکارکے منہ پر طمانچہ ہے۔بی جے پی کے ممبراسمبلی کی قیادت میں نکالی گئی اس ریلی سے بھارتی حکمرانوں اوران کے کشمیری گماشتوں کی فسطائی ذہنیت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔بیٹی بچاؤکا منافقانہ نعرہ لگانے والوں اورسیتا،رادھاکے ماننے والوں کے ایک بیٹی کی عصمت تارتارکرنے والے درندے کے حق میں اس طرح کھل کرسامنے آنے سے ان دل ودماغ کے اندر مسلمانوں کے خلاف پائی جانے والی خباثت کااندازہ لگاناانتہائی آسان ہے۔اس قبیح عمل اور اپنے اوپرگند پھیلانے سے ان فسادیوں نے ثابت کردیاہے کہ یہ انسانی نہیں، حیوانوں اوردرندوں کے قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
دنیاکاکوئی بھی مذہب قاتل ،ظالم وجابرکے حق میں سڑک پرنکل کرریلی نکالنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتالیکن بی جے پی اورپی ڈی پی کی مخلوط حکومت کا شرمناک کرداران کے غلیظ ذہن کی نشاندہی بھی کرتاہے اورایساکرنے سے ان شیطان نماانتہاء پسندحکومتی اتحادنے ثابت کردیاہے کہ یہ لوگ اب جموں کے مسلمانوں کا ہرطرح سے ناطقہ بندکرنے اور انہیں ذلیل وخوارکرکے،انہیں مارنے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرچکے ہیں اورانہیں مسلم دشمن مود ی کی بھی بھرپورحمائت حاصل ہے۔ ہوناتویہ چاہئے تھاکہ کٹھ پتلی حکومت پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی درندے ہندوکے حق میں ریلی نکالنے والے انسانی بنیادوں پر ایک معصوم بچی پربہیمانہ ظلم کے مرتکب شخص کوکڑی سزادلوانے کیلئے متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی نظرآتی لیکن جس طرح جموں میں حکومت نے اس ریلی کوتحفظ فراہم کیاہے،اس سے زندگی کے چاردن کے اقتدارکی لالچ نے ان کی آخرت کے سخت امتحان کی طرف دھکیل دیاہے جہاں آصفہ خوداپنے رب کے حضوران مجرموں کی نشاندہی کرتے ہوئے انصاف کی طلبگار ہوگی ۔ متعصب ہندوؤں کے حوالے سے توہم سب واقف ہیں کہ ان کی رگ رگ میں مسلمانوں کے خلاف بغض وعناداورنفرت کازہربھراہواہے ،اس لئے وہ بے ضمیر ہوکر قاتل کے حق میں ریلی نکال کراپنی مردہ انسانیت کوبھارتی ترنگے میں لپیٹ کراپنی مردہ ضمیراورشرمناک انسانیت کوبھارتی ترنگے میں لپیٹ کر ہمیشہ کیلئے دفن کر چکے ہیں۔
آصفہ کے قتل پرہندوپولیس اہلکاردیپک کھجوریہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں پرلاٹھی چارج کرنے اوردرندے کے حق میں ریلی نکالنے والوں کو تحفظ فراہم کرکے کٹھ پتلی ریاستی سرکار،اس کی ظالم پولیس اورسول انتظامیہ کی اخلاقی پستی کاجو ثبوت دنیاکے سامنے پیش کیاہے ،وہ ایک ایسی مذموم اورشرمناک حرکت ہے جس پرہر طرف سے مذمت کااظہارتو کیا ہی جائے گالیکن تاریخ بھی ان شرمناک کرداروں کولعنت اورنفرین کے ساتھ یاد رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں