تاریخ کے صفحات پربعض ادوارایسے بھی طلوع ہوتے ہیں جب انسان اپنی سائنسی ترقی،سیاسی اداروں،تہذیبی ورثے اوراخلاقی دعوؤں کے باوجودخودکوایک ایسے اندھے موڑپرکھڑاپاتاہے جہاں چندافرادکے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگی،موت،امن اورمستقبل کاتعین کرنے لگتے ہیں۔اکیسویں صدی کامشرقِ وسطیٰ اسی المیے کی ایک ہولناک مثال بن چکاہے۔ڈونلڈٹرمپ اوراسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہوکی جنگی پالیسیوں پراٹھنے والے سوالات محض دوحکمرانوں کی شخصیتوں،ان کی سیاسی ترجیحات یاان کے باہمی تعلقات تک محدودنہیں رہے۔ان کاتعلق اس بنیادی سوال سے ہے کہ کیاجدیددنیامیں طاقتورریاستوں کے سربراہوں کوجنگ شروع کرنے،دوسرے ممالک کی خودمختاری کوچیلنج کرنے اورلاکھوں انسانوں کے مستقبل کوخطرے میں ڈالنے کے نتائج سے بچ نکلنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
یہاں عمرکوکسی انسان کی اہلیت یاکردارکاپیمانہ بنانامقصودنہیں۔اصل مسئلہ اقتدار،جوابدہی،سیاسی انااورجنگ کے فیصلوں کاہے۔جب تجربے کوحکمت کی بجائے غلبے کیلئےاستعمال کیا جائے،جب سفارتکاری کودباؤکی دھمکیوں کے تابع کردیاجائے اورجب انسانی جانوں کوسیاسی مقاصدکے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی جانے لگے توعمررسیدگی دانشمندی کی ضمانت نہیں رہتی،بلکہ اقتدارکی اخلاقی ناکامی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ اورنیتن یاہوکتنے طاقتورہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی طاقت کوروکنے،ان کے فیصلوں کامحاسبہ کرنے اورانسانیت کوایک وسیع ترجنگ سے بچانے کیلئےعالمی نظام کے پاس کتنی حقیقی قوت باقی ہے
انسانی تاریخ کامطالعہ بتاتاہے کہ سلطنتیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں ہی تباہ نہیں ہوئیں؛بعض اوقات ان کے اپنے حکمرانوں کی خود پسندی،غلط اندازے، بے قابوتوسیع پسندی اورسیاسی ضدنے بھی ان کے زوال کی بنیادرکھی۔قدیم روم کی وسعت پسندانہ سیاست سے لے کر یورپ کی مذہبی جنگوں تک،نپولین کی مہمات سے پہلی عالمی جنگ تک،اورہٹلرکی جارحیت سے دوسری عالمی جنگ کے ایٹمی اختتام تک،تاریخ باربارایک ہی حقیقت سامنے لاتی ہے:جب سیاسی قیادت طاقت کواخلاقی حدودسے آزادسمجھنے لگتی ہے تواس کے فیصلوں کی قیمت صرف سپاہی نہیں،آنے والی نسلیں بھی اداکرتی ہیں۔
1914ءمیں یورپ کی بڑی طاقتیں ایک ایسے تصادم میں داخل ہوئیں جس کے متعلق بہت سے فیصلہ سازوں نے اس کے دوررس نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔اتحادوں،قومی غرور،عسکری منصوبہ بندی اورباہمی بداعتمادی نے ایک علاقائی بحران کوعالمی جنگ میں تبدیل کردیا۔لاکھوں انسان مارے گئے،سلطنتیں بکھرگئیں اورایک نسل کے خواب خندقوں کی مٹی میں دفن ہوگئے۔
اس کے بعد1939ءمیں دوسری عالمی جنگ نے انسانیت کواس سے بھی زیادہ ہولناک تباہی سے دوچارکیا۔ہولوکاسٹ،شہری آبادیوں پر بمباری،جبری بے دخلی اورہیروشیماوناگاساکی پر ایٹمی حملوں نے ثابت کردیاکہ جدیدٹیکنالوجی اگراخلاقی ذمہ داری سے محروم ہوجائے توانسانی ذہانت بھی تباہی کاوسیلہ بن سکتی ہے۔اسی تاریخی تجربے کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ قائم ہوئی ، جنیواکنونشنوں کوبین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادبنایاگیااورشہریوں کوجنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے عالمی اصول مضبوط کیے گئے۔لیکن تاریخ کاسب سے تلخ سبق یہ ہے کہ ادارے قائم کرناآسان اورطاقتورریاستوں کوان اصولوں کاپابندبنانامشکل ہے۔اگر قانون کمزورپرلاگوہومگرطاقتور کے سامنے خاموش ہوجائے تووہ انصاف کانظام نہیں رہتا،طاقت کی درجہ بندی بن جاتاہے۔
فلسطین کاالمیہ محض اکتوبر2023ءسے شروع ہونے والی جنگ کی کہانی نہیں۔اس کی جڑیں1948ءکی جنگ،فلسطینیوں کی وسیع پیمانے پربے دخلی،1967ءکے بعد کے قبضے،بستیوں کی توسیع،ناکہ بندیوں اورکئی دہائیوں سے جاری سیاسی تنازع میں پیوست ہیں۔فلسطینی عوام کی قومی آزادی،ریاستی خودمختاری،سلامتی اور بنیادی حقوق کاسوال نسل درنسل حل طلب چلا آ رہاہے۔سات اکتوبر2023ءکوحماس کی قیادت میں اسرائیل پرحملوں میں1,200سے زیادہ افرادہلاک ہوئے اوریرغمال بنائے گئے۔شہریوں کاقتل اور یرغمال بناناناقابلِ جوازتھالیکن کسی جرم کاارتکاب دوسرے جرم کیلئےاجازت نامہ نہیں بن سکتا۔اس کے بعدغزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے ایک ایسا انسانی بحران پیداکیاجس نے دنیاکے ضمیرکوجھنجھوڑکررکھ دیا۔
اقوامِ متحدہ کی جون2026ءکی بریفنگ کے مطابق غزہ میں67,000سے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی تھیں،جبکہ تین چوتھائی سے زیادہ عمارتیں اورسڑکیں تباہ یانقصان زدہ ہو گئی تھیں۔یہ اعدادوشمارمحض اعدادنہیں؛ان کے پیچھے اجڑے خاندان،یتیم بچے، ملبے میں دبے خواب اورایسی زندگیاں ہیں جن کی واپسی ممکن نہیں۔اپریل2026ءمیں اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اورعالمی بینک کے مشترکہ جائزے نے غزہ کی بحالی اورتعمیرِ نوکی ضروریات کاتخمینہ71.4ارب ڈالرلگایا۔371,888سے زیادہ رہائشی یونٹ تباہ یانقصان زدہ قرار دیے گئے، نصف سے زیادہ ہسپتال غیرفعال تھے اورتقریباًتمام اسکول تباہ یامتاثرہوچکے تھے۔
ذراتصورکیجیے:ایک بچہ جواپنے اسکول کے صحن میں کھیلناچاہتاتھا،اب ملبے میں اپنے گھروالوں کی تلاش کررہاہے۔ایک ماں جواپنے بچے کیلئےروٹی بچاکررکھتی تھی، اب امدادی سامان کے انتظارمیں دن گزاررہی ہے۔ایک معلم جس نے نسلوں کوعلم دیناتھا،اب اپنے ہی شاگردوں کے نام کھنڈرات میں تلاش کررہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جنگی حکمتِ عملی کے خشک الفاظ اپنی معنویت کھودیتے ہیں۔’’اہداف‘‘،’’آپریشن‘‘،’’دباؤ‘‘اور’’تزویراتی برتری‘‘ کی اصطلاحات اس وقت بے رحم محسوس ہوتی ہیں جب ان کے پس منظرمیں کسی بچے کی چیخ سنائی دیتی ہے۔
غزہ کابنیادی سوال یہ ہے کہ اگرجدیددنیاکے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ چند گھنٹوں میں عمارتوں کوملبے میں بدل سکتی ہے،تواس کے پاس اتنی اخلاقی قوت کیوں نہیں کہ بچوں کوبھوک، خاندانوں کوبے گھر،دربدری اورشہریوں کومسلسل خوف سے بچاسکے؟
نیتن یاہوکی قیادت کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیافوجی برتری دیرپاسیاسی امن پیداکرسکتی ہے؟اسرائیل کوسات اکتوبرکے حملوں کے بعداپنے شہریوں کے تحفظ اوریرغمالیوں کی واپسی کاحق حاصل تھالیکن ریاستی سلامتی کاحق لامحدود نہیں؛اس پربین الاقوامی انسانی قانون کی پابندیاں لاگوہوتی ہیں۔فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت کاتعین صرف اس کے اعلان کردہ مقصدسے نہیں،بلکہ ہدف کے انتخاب،متوقع شہری نقصان،احتیاطی تدابیراورحملے کے تناسب سے بھی ہوتاہے۔ کسی مسلح گروہ کی موجودگی پوری آبادی کواجتماعی سز دینے کاجوازنہیں بن سکتی۔
غزہ میں تباہی کے باوجودسیاسی مسئلہ حل نہیں ہوا۔اکتوبر2025ءمیں ٹرمپ کے غزہ منصوبے سے پیداہونے والی امیدکے باوجوداکتوبر 2026ءتک تعمیرِ نو کا عمل شدیدرکاوٹوں کاشکاررہا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی شرائط اورغزہ میں انتظامی اختیارکے تنازع نے بحالی کے متعدد منصوبوں کوآگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ یہ صورتِحال ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے:اگر جنگ کا اختتام کسی قابلِ قبول سیاسی تصفیے پرنہ ہوتوعسکری کامیابی بھی مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ایک قوم کومستقل خوف میں رکھنا، دوسری قوم کومستقل بے یقینی میں مبتلاکرنااوردونوں کے بچوں کونفرت کے ورثے کے حوالے کردینا کسی بھی دانشمند قیادت کی کامیابی نہیں ہوسکتی۔نیتن یاہوکی پالیسیوں پرتنقید اسرائیلی شہریوں کےاجتماعی کردارپرفیصلہ صادرکرنانہیں ۔ اسرائیل کےاندربھی جنگ،یرغمالیوں،حکومت اور مستقبل کے بارے میں اختلافات موجودہیں۔انسانیت کاتقاضاہے کہ حکومتوں کے فیصلوں کااحتساب کیاجائے،مگرقوموں اورنسلوں کو اجتماعی مجرم نہ بنایاجائے۔
ایران کے ساتھ تنازع نے اس بحران کوایک نئے اورزیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کیا۔28فروری2026ءکوامریکا اوراسرائیل نے ایران پرحملے شروع کیے ، جس کے بعدایران نے جوابی کارروائیاں کیں اورلبنان سمیت خطے کے دوسرے حصوں میں لڑائی پھیلتی گئی۔مارچ میں ہیومن رائٹس واچ نےخبردارکیاکہ مختلف فریقوں کے اعلیٰ حکام کی دھمکی آمیززبان،شہری بنیادی ڈھانچے کونشانہ بنانے کے اشارے اوربین الاقوامی قانون سے بے اعتنائی خطے کے قانونی وانسانی تحفظ کے نظام کیلئےسنگین خطرہ ہیں۔
ایران کی حکومت کی پالیسیوں،اس کے جوہری پروگرام اورعلاقائی کردارپرتنقید کیلئےدلائل موجودہوسکتے ہیں۔اسی طرح اسرائیل اور امریکااپنے حفاظتی خدشات پیش کرتے ہیں۔لیکن اختلافات کاوجودجنگ کے ہرطریقے کوجائزنہیں بنادیتا۔کسی ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات کاجواب مذاکرات،نگرانی،تصدیق اورواضح معاہدوں سے تلاش کرنابھی ممکن ہے۔
جنگ کے دوران ایران میں شہری علاقوں اوربنیادی ڈھانچے کوپہنچنے والے نقصان کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ستمبر2026ءمیں تہران کے گنجان آباد علاقوں پرامریکی واسرائیلی حملوں کی تحقیقات کامطالبہ کیا،جن میں شہری ہلاکتوں اورزخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔تنظیم نے کہا کہ ان واقعات کی آزادانہ اورغیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ معلوم ہوسکے کہ آیاان میں جنگی جرائم کاارتکاب ہوا۔
اسی جنگ میں ایرانی جوابی حملوں سے دوسرے ممالک اورشہریوں کوبھی خطرات لاحق ہوئے۔شہریوں پرحملے،خواہ کسی بھی فریق کی جانب سے ہوں،قابلِ مذمت ہیں۔انسانیت کے اصول کسی ایک پرچم،مذہب یاسیاسی اتحادکیلئےمخصوص نہیں ہوتے۔یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کواپنی سلامتی کے نام پرایسے اقدامات کرنے کاحق حاصل ہے جن سے پوراخطہ ایک وسیع جنگ میں دھکیل دیاجائے؟ اوراگرکسی فریق کے اقدامات دوسرے ممالک کوجواب دینے پرمجبورکرتے ہیں توکیااس کے رہنماان تمام ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سے خودکوالگ کرسکتے ہیں؟
ایران کی مزاحمت کومحض ایک عسکری واقعہ سمجھنابھی غلط ہوگا۔اس میں خودمختاری،علاقائی طاقت کے توازن،پابندیوں،جوہری تنازع اورمغربی پالیسیوں پر دہائیوں سے جاری اختلافات شامل ہیں۔تاہم کسی ریاست کاحقِ دفاع بھی شہریوں اورہمسایہ ممالک کوغیرمحدود نقصان پہنچانے کاجوازنہیں بن سکتا۔
ٹرمپ کی سیاست میں دباؤ،سخت بیانات،تیزرفتاراعلانات اورذاتی سیاسی قوت کااظہارنمایاں رہاہے۔لیکن عالمی سیاست کسی کاروباری سودے کی طرح نہیں جس میں فریقین کومحض زیادہ سے زیادہ قیمت اداکرنے پرمجبورکرکے مطلوبہ نتیجہ حاصل کرلیاجائے۔جنگ کےفیصلے بازارکے اعدادوشمار، انتخابی مقبولیت یاٹیلی ویژن کی سرخیوں تک محدودنہیں رہتے۔ان کے اثرات تیل کی قیمتوں،سمندری تجارت، خوراک،بیمہ،نقل وحمل،صنعتی پیداواراورعام شہریوں کے گھریلواخراجات تک پہنچتے ہیں۔آبنائے ہرمزاس کی نمایاں مثال ہے۔یہ عالمی توانائی کی تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمارہوتی ہے۔اس کے گردجنگی خطرات بڑھنے سے صرف ایران یاامریکامتاثرنہیں ہوتے؛ایشیا،یورپ اورافریقہ کے ممالک بھی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کے دباؤکاسامناکرتے ہیں۔سات اکتوبر2026ءکو رائٹرز نے رپورٹ کیاکہ آبنائے ہرمزمیں جہازوں کی آمدورفت دوماہ سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پرآگئی تھی۔ایک دن پہلے کی رپورٹ کے مطابق تیل بردارجہازوں پرحملے جنگ شروع ہونے کے بعدایک ہفتے میں بلندترین سطح تک پہنچ گئے تھے۔
اس کامطلب یہ ہے کہ جنگ کانقصان میدانِ جنگ کی حدودسے باہرنکل چکاہے۔کسی دوردرازملک میں ایندھن مہنگاہو،کسی غریب گھرانے کابجٹ بگڑجائے یا کسی ترقی پذیرریاست کوخوراک اورتوانائی کی درآمد کیلئےزیادہ رقم خرچ کرناپڑے تواس بحران کابوجھ ان لوگوں پر بھی پڑتاہے جن کاجنگ کے فیصلوں میں کوئی کردارنہیں۔یہی وجہ ہے کہ جنگ کوصرف میزائلوں کی تعدادیاتباہ شدہ فوجی تنصیبات کے ذریعے نہیں ناپاجاسکتا۔اس کی حقیقی قیمت اس مزدورکے خالی بٹوے، اس کسان کی مہنگی کھاد،اس ماں کی مہنگی خوراک اوراس بچے کے چھن جانے والے تعلیمی مستقبل میں بھی لکھی جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ پرتنقیدبجاہے،لیکن اس کی ناکامی کی نوعیت کوسمجھناضروری ہے ۔اقوامِ متحدہ کے پاس نہ کوئی ایسی عالمی حکومت ہے جو ہرریاست پریکساں حکم چلاسکے ، نہ ہی سلامتی کونسل کے فیصلوں کوہرحال میں نافذ کرنے کی مکمل قوت۔سلامتی کونسل میں ویٹوکا اختیاربڑی طاقتوں کوایسے فیصلوں کوروکنے کی صلاحیت دیتاہے جوان کے مفادات سے متصادم ہوں۔اس ساختی کمزوری کے باعث عالمی ادارہ بعض بحرانوں میں فیصلہ کن کارروائی کرنے سے قاصررہتاہے۔لیکن یہ کہنابھی درست نہیں کہ اقوامِ متحدہ نے کچھ کیاہی نہیں۔اس کے امدادی ادارے،انسانی حقوق کے ماہرین اورمختلف بین الاقوامی تنظیمیں متاثرہ آبادیوں کی مدد،انسانی صورتِ حال کی دستاویزبندی اورقانون کی پابندی کے مطالبے میں اہم کرداراداکرتے رہے ہیں ۔
اصل تضادیہ ہے کہ دنیانے عالمی ادارے توقائم کرلیے،مگران اداروں کوطاقتورریاستوں کے سامنے غیرجانبدارانہ احتساب کیلئےدرکار اختیارپوری طرح نہیں دیا۔جب ایک طاقتورریاست کے اقدامات پرسوال اٹھتے ہیں تو اس کے اتحادی سیاسی تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔جب کسی کمزورریاست پر الزام لگتاہے توپابندیاں، سفارتی دباؤیافوجی کارروائی زیادہ تیزی سے سامنے آسکتی ہے۔اس عدم توازن سے بین الاقوامی قانون پراعتمادکمزور ہوتاہے ۔ قانون کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ کمزورکوکیسے روکتاہے؛اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ طاقتورکوکس حدتک جواب دہ بناتاہے۔
جنگ کے زمانے میں میڈیاصرف واقعات کی خبرنہیں دیتا؛وہ اس اندازکو بھی تشکیل دیتاہے جس میں دنیاان واقعات کوسمجھتی ہے۔ تصاویر،عینی شاہدین کے بیانات،سیٹلائٹ مناظر، سرکاری پریس کانفرنسیں اورتحقیقاتی رپورٹیں عالمی رائے عامہ پراثراندازہوتی ہیں۔آج غزہ کی تباہی،ایران میں شہری نقصانات، لبنان میں بے گھری اورآبنائے ہرمزکے بحران کے بارے میں اطلاعات دنیابھرمیں گردش کررہی ہیں۔بین الاقوامی میڈیااورانسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں نے ایسے سوالات کونمایاں کیاہے جنہیں صرف سرکاری بیانات کے ذریعے نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
لیکن میڈیا کے بارے میں بھی احتیاط لازم ہے۔ہروائرل تصویرکی تصدیق نہیں ہوتی،ہرغیرمصدقہ عددحتمی نہیں ہوتااورہرسیاسی دعویٰ تحقیق کے بعددرست ثابت نہیں ہوتا۔ذمہ دار صحافت کاتقاضاہے کہ مصدقہ حقائق،ابتدائی اطلاعات،الزامات اورتجزیوں کوواضح طورپرالگ رکھاجائے۔یہی معیاران حکمرانوں پر بھی لاگوہوناچاہیے جواپنے سیاسی مقاصدکیلئےدشمن کوغیر انسانی بناکرپیش کرتے ہیں یااپنے اقدامات کے نتائج کوکم ظاہرکرنےکی کوشش کرتے ہیں۔جب جنگی زبان میں پورے ملک کومٹانے،کسی تہذیب کوختم کرنے یاشہری بنیادی ڈھانچے کوتباہ کرنے کی دھمکیاں معمول بن جائیں توخطرہ صرف موجودہ جنگ تک محدود نہیں رہتا۔ایسی زبان تشددکی اخلاقی رکاوٹوں کوکمزور کرتی ہے اورآئندہ کارروائیوں کیلئےخوف ناک ماحول پیدا کرتی ہے۔
لفظ پہلے انسان کے ضمیرمیں دیوارگراتاہے،پھرکبھی میزائل کسی شہرکی دیوارگرادیتاہے۔اسی لیے رہنماؤں کے الفاظ بھی جواب دہی سے آزادنہیں ہونے چاہییں۔یہ کہناکہ ایران کے سوا دنیاکی کوئی قیادت مخالفت نہیں کررہی،ایک جذباتی سیاسی تاثرہے،مکمل تاریخی حقیقت نہیں۔مختلف ممالک،اقوامِ متحدہ کے حکام،انسانی حقوق کی تنظیموں،صحافیوں،سیاسی جماعتوں اورشہری تحریکوں نے جنگ،شہری ہلاکتوں اوربین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے بارے میں مختلف مواقع پرآوازاٹھائی ہے۔
امریکاکے اندربھی جنگ کی مخالفت،اخراجات،انسانی نقصانات اورانتظامیہ کی پالیسی پراختلافات موجودہیں۔رائٹرزکی آٹھ اکتوبر2026ء کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہاکہ امریکانومبر
کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پرحملہ نہیں کرے گااورایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کادعویٰ کیا،اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔اسی رپورٹ میں رائٹرز/اِپسوس کے ایک سروے کاحوالہ دیاگیاجس میں60فیصد امریکیوں نے ایران سے متعلق ٹرمپ کے طرزِعمل کوشدیدناپسندکیا۔
حتمی معاہدے تک پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔اسی رپورٹ میں رائٹرز/اِپسوس کے ایک سروے کاحوالہ دیاگیاجس میں60فیصد امریکیوں نے ایران سے یہ اختلاف ظاہرکرتاہے کہ کسی ملک کی حکومت کامؤقف لازماًاس کے تمام شہریوں کی رائے نہیں ہوتا۔اسی طرح کسی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والے ہرفردکوخودبخودحق پرقرارنہیں دیاجاسکتا۔اخلاقی معیارسب کیلئےیکساں ہوناچاہیے۔تاہم اس تنوع کے باوجودعالمی نظام کی ایک بڑی کمزوری برقرارہے:احتجاج اورمذمت ہمیشہ عملی نتائج پیدانہیں کرتے۔انسانی حقوق کی رپورٹ شائع ہوسکتی ہے، لیکن متاثرین کوانصاف برسوں تک نہ ملے۔جنگ بندی کامطالبہ کیاجاسکتا ہے، لیکن اس پرعمل درآمدکیلئےمؤثرسیاسی دباؤموجود نہ ہو۔دنیاکو صرف آوازاٹھانے والے رہنماؤں کی ضرورت نہیں،بلکہ ایسے اجتماعی نظام کی ضرورت ہے جوان آوازوں کوقابلِ عمل فیصلوں میں تبدیل کرسکے۔
اسلامی تعلیمات میں انسانی جان کی حرمت،عدل اورظلم کے خلاف گواہی کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔قرآنِ اہلِ ایمان کوہدایت دیتاہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انہیں انصاف سے نہ ہٹائے(المائدہ:8)۔یہ اصول جنگ اورامن دونوں میں اخلاقی رہنمائی فراہم کرتاہے۔اس تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ہم فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کریں تواسرائیلی شہریوں کے قتل کوبھی درست نہیں کہہ سکتے۔ہم ایران پر غیرمتناسب یاغیر قانونی حملوں کے خلاف آوازاٹھائیں توایران کی جانب سے شہریوں پرحملوں کوبھی نظر اندازنہیں کرسکتے۔انصاف انتخابی وفاداری کانام نہیں؛انصاف وہ معیارہے جواپنے پسندیدہ فریق کے خلاف بھی قائم رہے۔
علامہ محمد اقبالؒ کی فکر میں خودی کاتصورمحض انفرادی قوت یاقومی غرورنہیں،بلکہ اخلاقی شعور،ذمہ داری اورمقصدیت سے جڑاہوا ہے۔ایک زندہ قوم اپنی طاقت کودوسروں کی تحقیرکیلئے نہیں،اپنے اصولوں کے تحفظ اورانسانیت کی خدمت کیلئےاستعمال کرتی ہے۔پاکستان جیسے ملک کیلئےاس بحران میں سب سے مؤثر کرداریہی ہوسکتاہے کہ وہ جنگ کی بجائے مذاکرات ،دھمکیوں کی بجائے سفارت کاری، اورمحاذ آرائی کے بجائے بین الاقوامی قانون کی حمایت کرے۔مسلم دنیا کوبھی محض جذباتی بیانات تک محدودرہنے کی بجائے مشترکہ انسانی امداد،جنگ بندی کی کوششوں اورقابلِ اعتماد ثالثی میں عملی حصہ لیناچاہیے۔اسلام کاپیغام یہ نہیں کہ طاقتورکی جگہ کسی دوسرے طاقتورکوبٹھادیاجائے۔اصل پیغام یہ ہے کہ طاقت کوعدل کے تابع کیا جائے۔اس بحران سے نکلنے کیلئےمحض دوحکمرانوں کی مذمت کافی نہیں۔عالمی برادری کوچند بنیادی اقدامات پرسنجیدگی سے کام کرناہوگا۔
٭اول،تمام فریقوں کوشہریوں کے تحفظ،اندھادھند حملوں سے اجتناب اورانسانی امدادکی بلارکاوٹ فراہمی کاپابندبنانے کیلئےمؤثرسفارتی دباؤ استعمال کیاجائے۔
٭دوم،مبینہ جنگی جرائم کی آزادانہ،غیر جانبدارانہ اورشواہدپرمبنی تحقیقات کی حمایت کی جائے۔کسی فریق کواس کی طاقت،اتحادیوں یا سیاسی حیثیت کی بنیادپراحتساب سے استثنانہیں ملناچاہیے۔
٭سوم،ایران،امریکااوراسرائیل کے درمیان تنازعات کومذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئےقابلِ تصدیق شرائط،علاقائی سلامتی کے انتظامات اورمستقل رابطے کے راستے قائم کیے جائیں۔
٭چہارم،غزہ کی تعمیرِ نوکوسیاسی سودے بازی کایرغمال نہ بنایاجائے۔رہائش،صحت،تعلیم،صاف پانی اورروزگارکی بحالی کیلئےایسا منصوبہ درکارہے جس میں فلسطینی عوام کے حقوق اورمستقبل کے سیاسی اختیارکوبنیادی اہمیت حاصل ہو۔
٭پنجم،بڑی طاقتوں کواپنے فیصلوں کے انسانی اوراقتصادی نتائج کاجائزہ لینے کیلئےپارلیمانی نگرانی،آزادمیڈیااورمؤثر قانونی احتساب کو قبول کرناچاہیے۔
اورآخرمیں،عالمی نظام کی اصلاح کیلئےسلامتی کونسل کی ساخت،ویٹوکے استعمال اوربین الاقوامی فیصلوں پرعمل درآمدکے طریقوں پر سنجیدہ غورضروری ہے۔ ایسانظام جس میں طاقتورریاستیں اپنے لیے الگ معیارقائم کرلیں،دیرپاامن پیدانہیں کرسکتا۔نیتن یاہواورٹرمپ کے متعلق تاریخ کیافیصلہ کرے گی،اس کا حتمی جواب ابھی ممکن نہیں تاریخ کافیصلہ محض نعروں،مخالفین کی تحریروں یاحکمرانوں کی اپنی تشہیرسے نہیں ہوتا؛وہ دستاویزات،فیصلوں،انسانی نتائج اوربعد میں سامنے آنے والے شواہدکی روشنی میں تشکیل پاتاہے۔لیکن آج بھی ایک بات واضح ہے:غزہ کے کھنڈرات،ایران میں شہری نقصانات،لبنان کی بے گھری اورعالمی معیشت پرجنگ کے دباؤکومحض سیاسی کامیابیوں کے اعدادوشمارسے نہیں سمجھاجاسکتا۔ان کے پیچھے انسان ہیں،خاندان ہیں،مستقبل ہیں اورایسی زندگیاں ہیں جنہیں کسی بھی سیاسی تقریرسے دوبارہ نہیں بنایاجاسکتا۔
دوافرادکی سیاست سے زیادہ بڑامسئلہ وہ عالمی نظام ہے جوچن فیصلہ سازوں کوجنگ کے ایسے راستوں پربڑھنے دیتاہے جن کے نتائج پوری دنیاکو بھگتنا پڑتے ہیں ۔ اگرادارے طاقت کومحدودنہ کرسکیں،اگرقانون کانفاذاتحادیوں اورمخالفین کے درمیان بدلتارہے اوراگرشہریوں کی جانیں سیاسی مفادات کے مقابلے میں کم اہم سمجھی جائیں توبحران کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گا۔یہ وقت کسی قوم سے نفرت کرنے،کسی مذہب کومجرم قراردینے یاکسی ایک فریق کی ہرکارروائی کوجائزٹھہرانے کانہیں۔یہ وقت اصولوں کے دفاع کاہے۔اسرائیلی ہو یافلسطینی،ایرانی ہویاامریکی،عرب ہویایورپی—انسانی جان کی حرمت سرحدوں اور پاسپورٹوں سے بلندہے۔
تاریخ کے ایوان میں طاقتورحکمران بھی بالآخرجواب دہ ہوتے ہیں۔ان کے محلات مٹ سکتے ہیں،ان کے مجسمے گرسکتے ہیں اوران کے سیاسی نعرے وقت کی گرد میں گم ہوسکتے ہیں؛مگر ان کے فیصلوں سے پیداہونے والاانسانی دکھ طویل عرصے تک زندہ رہتاہے۔ایک دن غزہ کے بچے پوچھیں گے کہ ان کے گھرکیوں تباہ ہوئے۔ایران کے خاندان پوچھیں گے کہ ان کے پیارے جنگ کی نذرکیوں ہوئے۔اسرائیلی خاندان پوچھیں گے کہ ان کے تحفظ کے وعدے انہیں مستقل امن کیوں نہ دے سکے۔اوردنیا کی نئی نسل پوچھے گی کہ جب خطرے کی نشانیاں سب کے سامنے تھیں توعالمی قیادت نے تباہی کوروکنے کیلئےکیاکیا؟اس وقت کوئی حکمران محض یہ کہہ کربری الذمہ نہیں ہوسکے گاکہ اس نے قومی مفادکادفاع کیاتھا۔قومی مفاد وہ نہیں جوقوم کومسلسل جنگ میں جھونک دے؛قومی مفادوہ ہے جوشہریوں کومحفوظ زندگی،بچوں کومستقبل اورمعاشرے کوامن فراہم کرے۔
دو بوڑھے ہوں یادونوجوان،ایک ملک ہویاکئی عالمی طاقتیں—اصل خطرہ عمرنہیں،بے لگام اقتدارہے؛اصل جرم اختلاف نہیں،ظلم ہے؛ اوراصل کامیابی دشمن کوتباہ کرنانہیں، انسانیت کوتباہی سے بچاناہے۔
دنیاکوآج کسی نئے فاتح کی نہیں،ایسی قیادت کی ضرورت ہے جواپنی طاقت کے باوجودرکناجانتی ہو،اپنے مخالف کے باوجودانصاف کر سکتی ہواوراپنی سیاسی اناسے بلندہوکرانسانی جان کی حرمت کومقدم رکھتی ہو۔کیونکہ تاریخ کاسب سے بڑاسوال یہ نہیں ہوگاکہ کس نے کتنے میزائل داغے،کتنے علاقے فتح کیے یاکتنی تقریریں کیں۔تاریخ پوچھے گی:جب انسانیت تباہی کے دہانے پرکھڑی تھی،توکس نے جنگ کوہوادی،کس نے خاموشی اختیارکی،اورکس نے آگ کے سامنے کھڑے ہوکرکہابس!اب مزیدنہیں۔انسانیت کوزندہ رہنے دو۔











