Doomsday or Awakening?

قیامت یابیداری؟

زیرِنظرتحریر”قیامت اب:ناؤمی کلائن اورآسٹرا ٹیلرکی’’اختتامی زمانےکے حامیوں‘‘کےاتحادپرتحقیق کےعنوان سےہمارےعہدکی اُن طاقتوں،نظریات اورمفادات کاتنقیدی جائزہ پیش کرتی ہےجوخوف،جنگ اورعالمی انتشارکوہوادے رہے ہیں۔آئیے،مذہب،نسل اورخطے کی تفریق سے بالاترہوکرجانیں کہ انسانیت کودرپیش مشترکہ خطرات کے مقابل عدل،شعوراورعالمی یکجہتی کیوں ناگزیرہوچکی ہے۔

زیرِنظرطویل مکالمہ ہمارے عہدکےچندگہرے اندیشوں کوایک ہی آئینے میں جمع کرتاہے:مذہبی پیش گوئیوں کوسیاسی نقشۂ کاربنانانسل اور قوم کے نام پرانسانوں کےدرمیان فصیلیں اٹھانا، مصنوعی ذہانت کوانسانی اختیارسے آزادکردینا، دولت اور وسائل کو چندہاتھوں میں سمیٹنا، اورماحولیاتی تباہی کوروکنے کی بجائے خواص کیلئےمحفوظ پناہ گاہیں تعمیرکرنا۔مضمون کامرکزی استعارہ “اختتامی زمانے کی فسطائیت ہے؛ یعنی ایک ایسی سیاست جومستقبل کی تعمیرسے مایوس ہوکرانہدام کوناگزیرسمجھ لے،پھراسی انہدام سے اپنے اقتدار،مناف یانجات کا راستہ نکالے۔یہ تصوراپنے اندرتنبیہ کاایک قوی پہلورکھتاہے،لیکن اس کے ہردعوے کوتحقیق،سیاق اورثبوت کی کسوٹی پرپرکھنالازم ہے۔ سیاسی گفتگومیں اندیشہ اگرشہادت کے بغیریقین بن جائے تووہ خوداسی خوف کی صنعت کاحصہ بن سکتاہے جس پر عتراض کیاجارہاہو۔

اسلامی نقطۂ نگاہ اس بحث میں ایک نہایت واضح اصول پیش کرتاہے:آخرت پرایمان،دنیاسے بے وفائی کانام نہیں؛یہ دنیامیں امانت عدل اور جواب دہی کاعہدہے۔قیامت کاعلم خدا کے پاس ہے،مگرقیامت تک انسان کافرض زمین سنوارنا،جان بچانا،ظلم روکنااورخیرکوبڑھاناہے۔لہٰذا جوشخص مذہب کے نام پرجنگ کومقدس،نسل کے نام پرنفرت کوجائز،یاترقی کے نام پرانسان کوبے قیمت بناتاہے،وہ الفاظ خواہ آسمانی استعمال کرے،اس کاعمل زمین پرفسادہی شمارہوگا۔آج ضرورت کسی ایک مذہب،قوم یاتہذیب کی بالادستی کی نہیں؛ایک ایسے عالمی میثاق کی ہے جس میں مسلمان،مسیحی،یہودی،ہندو،بدھ،لادین اورہرخطے کے انسان مشترک زندگی کی حفاظت کیلئےایک دوسرے کے دست و بازوبنیں۔

قرآن انسان کوفناکی خبرضروردیتاہے،مگرفناکاتماشائی نہیں بناتا۔وہ بتاتاہے کہ انسان زمین میں خلیفہ اورامانت کاحامل ہے؛اس کے ہاتھ میں اختیارہے مگراختیارکے ساتھ حساب بھی ہے۔ ”اللہ فسادکوپسند نہیں کرتا“اور”زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ“جیسے احکام مذہبی وجدان کواجتماعی ذمہ داری سے جوڑتے ہیں۔اسی لیے اسلامی روایت میں کھیتی لگانا،پیاسے کوپانی دینا،راستے سے تکلیف دہ چیزہٹانا، مظلوم کی حمایت کرنااورصلح کراناعبادت کے دائرے میں آتے ہیں۔مشہور نبوی تعلیم کامفہوم یہ ہے کہ اگرقیامت برپاہونے کوہواورکسی کے ہاتھ میں پوداہوتووہ اسے لگادے۔یہ مثال اسلامی امیدکانہایت درخشاں استعارہ ہے:انجام کاعلم عمل کی ذمہ داری کوساقط نہیں کرتا۔

یہاں مذہبی آخرت پسندی اوراسلامی ایمان بالآخرت میں بنیادی فرق سامنے آتاہے۔آخرت پسندی کی بگڑی ہوئی سیاسی صورت تب جنم لیتی ہے جب کوئی گروہ آسمانی وعدوں کواپنے زمینی منصوبے کاجوازبنالے،قتل وغارت کوپیش گوئی کی تکمیل سمجھے،اورخودکونجات یافتہ قراردے کرباقی انسانوں کی تباہی سےبےنیازہوجائے۔قرآن اس غرورکوردکرتاہے۔نجات نسب ، قوم،رنگ یاخودساختہ انتخاب کاانعام نہیں؛ ایمان،عدل اورصالح عمل کی ذمہ داری ہے۔مسلمان کیلئےعلاماتِ قیامت،جنگ چھیڑنے کانقشہ نہیں بلکہ نفس کے محاسبے کی گھنٹی ہیں۔ دین کاچراغ راہ دکھانے کیلئےہے،بارودکے ڈھیرکوآگ دکھانے کیلئےنہیں۔

قرآن کی آوازکسی نسلی قلعے کے اندرمحصورنہیں۔وہ پوری نوعِ انسانی کومخاطب کرکے کہتاہے کہ تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیا گیااورقوموں اورقبیلوں میں اس لیے تقسیم کیاگیاکہ تم ایک دوسرے کوپہچانو؛فضیلت کامعیاررنگ،خون،پاسپورٹ یاسرمایہ نہیں بلکہ تقویٰ اورکردارہے۔یہ آیت محض روحانی نصیحت نہیں،عالمی سیاست کااخلاقی دستوربھی ہے۔اختلاف کوجنگ کاایندھن بنانے کی بجائے تعارف،تعاون اورتہذیبی تبادلے کی بنیادبنانااس کاتقاضاہے۔اسی طرح قرآن ایک بے گناہ جان کے قتل کوپوری انسانیت کے قتل کے ماننداور ایک جان کے بچانے کوپوری انسانیت کے احیاکے برابرقراردیتاہے۔لفظ “انسانیت”یہاں سرحدوں سے بلندہوجاتاہے۔

اس اصول کی روشنی میں مہاجر،پناہ گزین،اقلیت،مخالف مذہب کاپیروکاراوردورافتادہ ملک کاباشندہ اخلاقی دائرے سے خارج نہیں رہتا۔ کسی حکومت کی سلامتی کی ضرورت اپنی جگہ، مگر سلامتی کے نام پراجتماعی سزا،نسلی تحقیر،جبری بے دخلی یاماورائے عدالت قتل کو جائزنہیں کہاجاسکتا۔ریاست کی سرحدیں انتظامی حقیقت ہیں؛انسانی حرمت کی آخری حدنہیں۔دنیاجب خوف کے سوداگروں کے ہاتھ میں تقسیم ہوتوقرآن کاپیغام یہ ہے کہ انسان پہلے انسان ہے،پھرکسی قوم یاجماعت کا رکن۔یہی وہ بنیادہےجس پربلا تفریق مذہب ونسل عالمی اتحادتعمیر ہو سکتاہے۔

بیسویں صدی کی فسطائیت کسی خلامیں پیدانہیں ہوئی۔پہلی عالمی جنگ کے ملبے،معاشی بدحالی،قومی ذلت،بے روزگاری،طبقاتی بے چینی اورسیاسی انتشارنے ایسی زمین تیارکی جس میں آمریت کےبیج تیزی سےپھوٹے۔فسطائی قیادت نے حقیقی تکالیف کوپہچانا،مگرعلاج کے بجائے قربانی کےبکرےتراشے۔کہیں یہودی،کہیں مہاجر،کہیں کمیونسٹ،کہیں نسلی یامذہبی اقلیت کوقومی زوال کاذمہ دارٹھہرایاگیا۔عوام کے زخموں پرمرہم رکھنے کی بجائے ان میں انتقام کازہربھراگیا؛یوں مظلوموں کاغصہ اصل مراکزِطاقت سےہٹ کراپنے ہی کمزورہمسایوں پر ٹوٹ پڑا۔

یہ تاریخی سبق آج بھی تازہ ہے۔جب اشرافیہ خودکو“محصور”،“مظلوم”یا“چھینی ہوئی عظمت”کاوارث ظاہرکرے،حالاںکہ دولت ذرائع ابلاغ اورریاستی قوت اسی کے ہاتھ میں ہوں،توزبان کےپردے میں طاقت کی حقیقت دیکھناضروری ہے۔مجروح اقتداراکثراپنی قوت چھپانے کیلئےمظلومیت کالباس پہنتاہے۔اسلامی عدل نہ اکثریت کےغصے کوحق کامترادف سمجھتاہے نہ اقلیت کی شناخت کوجرم۔قرآن حکم دیتاہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ ہٹائے۔یہ فرمان فسطائی ذہن کے عین مقابل کھڑاہے،کیونکہ فسطائیت دشمن تراش کرزندہ رہتی ہے اورعدل دشمن کے ساتھ بھی حق قائم رکھنے کانام ہے۔

اسلامی تاریخ کانہایت معنی خیزباب میثاقِ مدینہ ہے۔مدینہ ایک یک رنگ بستی نہ تھی؛وہاں مختلف قبائل،مسلمان گروہ اوریہودی قبائل آباد تھے،جن کے مفادات،روایتیں اورمذہبی شناختیں جداتھیں۔نبوی قیادت نے اس تنوع کومٹانے کی بجائے ایک سیاسی عہدمیں ڈھالا،جس میں باہمی دفاع،انصاف،ذمہ داری اورظلم کےخلاف تعاون کے اصول طے ہوئے۔یہ تجربہ بتاتاہے کہ مشترک وطن یامشترک خطرے کے مقابل اتحاد کیلئےعقیدے کی یکسانی شرط نہیں۔شہری امن اس وقت پیداہوتاہے جب مختلف شناختیں اپنی عزت برقراررکھتے ہوئے قانون اورذمہ داری کے ایک منصفانہ دائرے میں شریک ہوں۔

اسی روح کی ایک اورمثال صلحِ حدیبیہ ہے۔ظاہری طورپرسخت شرائط کے باوجودجنگ کے فوری جذبے کوضبط کرکےامن کے امکان کو ترجیح دی گئی۔یہ فیصلہ بتاتاہے کہ سیاسی شجاعت صرف تلواراٹھانے میں نہیں؛کبھی تلوارنیام میں رکھنے،جذبات کی موج روکنے اوردور رس مصلحت دیکھنےمیں زیادہ جرأت درکارہوتی ہے۔فتحِ مکہ کے موقع پرعام معافی نے انتقام کےایک طویل سلسلے کوتوڑا۔اسلامی تاریخ کی یہ روشن مثالیں کامل انسانی معاشروں کی صرفداستان ہینہیں،بلکہاصولی چراغ ضرورہیں:عہد کی پاسداری،غیر جانبدارعدل دشمن کیلئےبھی امن کادروازہ،اورطاقت کے لمحے میں عفو۔آج کے عالمی نظام کوانہی اوصاف کی ضرورت ہے۔

ناؤمی کلائن نے مذہبی پیش گوئیوں،مسیحائی سیاست اورمشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کے درمیان تعلق پرسنگین خدشات ظاہرکیے ہیں۔ان مخصوص دعوؤں کی صحت الگ تحقیقی جانچ چاہتی ہے،لیکن اصولی خطرہ ناقابلِ انکارہے:جب مذہبی متن کوسیاق،اخلاق اورانسانی حرمت سے کاٹ کرسیاسی نقشہ بنادیاجائے تومقدس الفاظ طاقت کی مہربن جاتے ہیں۔تاریخ میں صلیبی جنگوں سے لے کرفرقہ وارانہ قتل تک، مختلف مذہبی گروہوں نے کبھی نہ کبھی اپنے مفادکوخداکی مرضی کےطور پرپیش کیاہے۔یہ جرم کسی ایک مذہب کی سرشت نہیں؛انسانی اقتدارکی وہ بیماری ہے جوہرمقدس روایت کواپنے رنگ میں رنگ سکتی ہے۔

اسلام اس باب میں دوہری تنبیہ کرتاہے۔پہلی یہ کہ دین میں جبرنہیں؛ایمان دل کااقرارہے،توپ کافرمان نہیں۔دوسری یہ کہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر فروخت نہ کرو؛یعنی مذہب کومفاد،منصب یاگروہی غلبے کے عوض استعمال نہ کیاجائے۔مسجد،کلیسا،کنیسہ،مندریاکسی بھی عبادت گاہ کی حرمت اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب ہم اصول کواپنے اورپرائے دونوں پریکساں نافذ کریں۔مذہبی رہنماؤں کافرض جنگ کی آگ پرتقدیس کاتیل ڈالنانہیں،بلکہ اقتدارسے وہ سوال پوچھناہے جوکمزورنہیں پوچھ سکتا:کس کی جان جارہی ہے،کس کاگھراجڑ رہا ہے،اورکس کے خزانے بھررہے ہیں؟

مصنوعی ذہانت بذاتِ خود نہ فرشتہ ہے نہ شیطان؛وہ انسانی علم،سرمائے،ڈیٹا،توانائی اورسیاسی ترجیحات سے تشکیل پانے والی قوت ہے۔ اس سے طب،تعلیم،تحقیق، آفات کی پیش گوئی اورانتظام میں عظیم فائدے ممکن ہیں،لیکن یہی قوت نگرانی،خودکارہتھیاروں،گمراہ کن اطلاعات،امتیازی فیصلوں،محنت کی بے قدری اورچند کمپنیوں کی بے مثال اجارہ داری کاذریعہ بھی بن سکتی ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ مشین سوچ سکتی ہے یانہیں؛اصل سوال یہ ہے کہ اس کے فیصلوں کااختیارکس کے پاس ہے،نقصان کابوجھ کون اٹھاتاہے،اورمنافع کس کی تجوری میں جاتاہے۔

اسلامی اخلاق میں علم امانت ہے اوروسیلہ اپنے مقصدسے اخلاقی قدرپاتاہے۔جوٹیکنالوجی جان بچائے،انصاف آسان کرے اورانسانی صلاحیت کونکھارے،وہ خیرکاوسیلہ بن سکتی ہے؛جو انسان کومحض قابلِ استعمال ڈیٹا،ہدف یازائد مزدورسمجھے،وہ جدیدبت ہے۔قرآن انسان کوعزتِ ذاتی عطاکرتاہے؛اس عزت کوکسی الگورتھم کی افادیت کے ترازومیں نہیں تولاجاسکتا۔لہٰذا مصنوعی ذہانت کیلئےبین الاقوامی قابلِ نفاذاصول ضروری ہیں:انسانی نگرانی،شفافیت،جواب دہی،شہری رازداری،امتیازسے تحفظ،مہلک خودکاراسلحے پرسخت پابندی،اورمتاثرہ معاشروں کی فیصلہ سازی میں شرکت۔ایجادکی رفتارقانون سے تیزہوسکتی ہے،مگراخلاق سے بلندنہیں۔

ناؤمی کلائن ن ایک طاقتوراستعارہ “بنکر” استعمال کیاہے:وہ ذہنیت جومشترک کشتی کی مرمت کیبجائے چندمسافروں کیلئےالگ ناؤتیار کرتی ہے۔ماحولیاتی بحران،جنگ،وبایامعاشی انہدام کے خطرات سےنمٹنےکےدوراستے ہیں۔پہلایہ کہ پانی،خوراک، صحت،علم اورسلامتی کے نظام سب کیلئےمضبوط کیے جائیں؛دوسرایہ کہ صاحبِ ثروت اپنےلیےمحفوظ جزیرے،نجی فوجیں اورفرارکےراستےخریدلیں۔دوسرا راستہ بظاہرتحفظ دیتاہےمگردراصل خوف کومستقل کرتاہے،کیونکہ کوئی بنکرایسی دنیامیں دیرپاامن نہیں دے سکتاجس کے باہربھوک، غصہ اورتباہی موجزن ہو۔

اسلام دولت کی نفی نہیں کرتا،مگراسے گردش میں رہنے والی سماجی امانت سمجھتاہے تاکہ مال صرف مالداروں ہی کے درمیان نہ گھومتا رہے۔زکوٰۃ، صدقات،وراثت،احتکارکی مذمت اور کمزوروں کے حقوق اسی معاشی اخلاق کے اجزاہیں۔جدیددنیامیں اس روح کاتقاضامنصفانہ ٹیکس،اجارہ داری کی روک تھام،محنت کش کے حقوق،بنیادی صحت وتعلیم،قرض کے ظالمانہ ڈھانچوں کی اصلاح اورآفات سےتحفظ میں عوامی سرمایہ کاری ہے۔جب ریاست کتاب،ہسپتال اورصاف پانی کیلئےخزانہ خالی بتائےمگرجنگ،نگرانی اورکارپوریٹ رعایت کیلئےسونے کےدرواکردے،تومسئلہ وسائل کی کمی نہیں،اخلاقی ترجیحات کاافلاس ہے۔

ماحولیاتی بحران نےانسان کواس حقیقت کےسامنےلاکھڑاکیاہےکہ فضاپاسپورٹ نہیں دیکھتی،سمندرفرقہ نہیں پوچھتا اورخشک سالی نظریاتی سرحدوں پررکتی نہیں۔ایک خطے کادھواں دوسرے خطے کی بارش بدل سکتاہے؛ایک ملک کابے قابواخراج دوردرازجزیرے کاوجودنگل سکتاہے۔لہٰذا آب وہواکامسئلہ قومی مفادکےتنگ پیمانے سے حل نہیں ہوسکتا۔ بعض طاقتورحلقے بحران روکنے کی بجائے اس کے نتائج سے اپنے لیے حصاربناناچاہتے ہیں۔مگرزمین کاتوازن کسی نجی پناہ گاہ سے بحال نہیں ہوتا۔

قرآن کائنات کومیزان،یعنی توازن،سے تعبیرکرتاہے اورانسان کواس میزان میں طغیان سے روکتاہے۔اسراف کی مذمت صرف دسترخوان تک محدود نہیں؛توانائی، پانی،معدنیات اورزمین کے بےمحابااستعمال پربھی صادق آتی ہے۔اسلامی ماحولیاتی اخلاق کے مطابق انسان مالکِ مطلق نہیں،امین ہے؛درخت،جانور،دریااورآنے والی نسلیں اس امانت کے خاموش حقدار ہیں۔عالمی اتحادکاایک ستون منصفانہ ماحولیاتی معاہدہ ہوناچاہیے جس میں زیادہ آلودگی پھیلانے والی معیشتیں زیادہ ذمہ داری اٹھائیں،غریب ممالک کوصاف توانائی اورموافقت کے وسائل ملیں اورمقامی آبادیوں کی زمین کونئی استعماری کان کنی کی نذرنہ کیاجائے۔

محض نیک خواہشات تاریخ کارخ نہیں موڑتیں؛اصول کوادارہ اورارادے کوعمل درکارہوتاہے۔عالمی امن کیلئےپہلاقدم انسانی جان کی غیر مشروط حرمت کوبین الاقوامی سیاست کامرکزبنانا ہے۔کسی طاقت ورحلیف اورکمزورحریف کیلئےالگ قانون نہ ہو۔جنگی جرائم،نسلی تطہیر، دہشتگردی،اجتماعی سزااورماورائے عدالت قتل کی تحقیقات یکساں معیارپرہوں۔دوسراقدم مہلک مصنوعی ذہانت،جوہری اسلحے اوربڑے پیمانے کی نگرانی کیلئےپابندبین الاقوامی ضابطے ہیں۔رضاکارانہ وعدے وہاں ناکافی ہیں جہاں غلطی پوری نسل کی تقدیربدل سکتی ہو۔

تیسراقدم معاشی عدل ہے:قرض،ٹیکس چوری،اجارہ داری،خوراک اورادویات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف مشترک کارروائی؛بنیادی تعلیم، صحت،صاف پانی اورآب وہواکے تحفظ میں سرمایہ کاری۔ چوتھا قدم مذاہب اورتہذیبوں کےدرمیان ایسامستقل فورم ہے جورسمی تصویروں سےآگےبڑھے،نفرت انگیزتعبیرات کاعلمی جواب دے اوربحران کےوقت مشترک امن مشن چلائے۔پانچواں قدم نوجوانوں کوجنگی رومان، نسلی تفاخراورٹیکنالوجی پرستی کی بجائے تنقیدی فکر،اخلاقی سائنس اورخدمتِ خلق کی تعلیم دیناہے۔چھٹاقدم شہروں اورمقامی برادریوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرناہے،کیونکہ امن دارالحکومت کے اعلامیے سے نہیں،محلے کےاعتمادسے بنتاہے۔

اس اتحادکانام کسی مذہب کی شکست یاکسی تہذیب کی فتح نہیں ہوناچاہیے۔یہ“تعاون علی البروالتقویٰ”کی روح میں نیکی اورذمہ داری کاعہد ہو:مسلمان اپنے ایمان کے ساتھ،مسیحی اپنی روحانی روایت کے ساتھ،یہودی اپنے اخلاقی ورثے کے ساتھ،اوردیگرتمام انسان اپنےضمیر اورانسانی وقارکے ساتھ ایک مشترک میزپربیٹھیں۔اختلاف باقی رہے،مگرقتل کاجوازنہ بنے؛مقابلہ رہے،مگربقاکی جنگ نہ بنے۔

زیرِ مطالعہ گفتگو کاسب سے قیمتی اشارہ یہ ہے کہ تباہی کامنصوبہ بظاہرطاقتورہونے کے باوجودناقابلِ شکست نہیں۔مذہبی انتہاپسندنسلی قوم پرست اورٹیکنالوجی کےبےمہاراجارہ داربعض مفادات میں یکجاہوسکتے ہیں،مگران کےوعدے عام انسان کیلئےروٹی،سکون،عزت اور محفوظ مستقبل فراہم نہیں کرتے۔یہی ان کی کمزوری ہے۔جب کسان،مزدور،استاد،سائنسدان، مذہبی رہنما،ماحولیاتی کارکن اورذمہ دار کاروباری طبقہ اپنے مشترک مفادکوپہچان لے توخوف کی مصنوعی سرحدیں ٹوٹ سکتی ہیں۔صاف پانی نہ دائیں بازوکامسئلہ ہے نہ بائیں بازو کا؛بچے کامحفوظ مستقبل کسی ایک مذہب کی جاگیرنہیں۔

امیدسادہ لوح خوش فہمی نہیں۔امیدیہ جانتے ہوئے عمل کرناہے کہ اندھیراگہراہےمگرچراغ بے معنی نہیں۔اسلامی تصورِرجاءانسان کو مایوسی سے بچاتااورعمل سے باندھتاہے۔ظلم کے نظام ہمیشہ ابدی دکھائی دیتے ہیں،مگرتاریخ بتاتی ہے کہ غلامی کے قلعے گرے،نوآبادیاتی سلطنتیں ٹوٹیں،نسل پرستانہ قوانین بدلے اورآمریتوں کے بت پاش پاش ہوئے۔یہ فتوحات خود بخودنہیں آئیں؛مختلف عقیدوں اورقوموں کے لوگوں نے قیمت اداکرکے انہیں ممکن بنایا۔آج کی جدوجہدبھی ایسی ہی وسیع اخلاقی رفاقت مانگتی ہے۔

انسانیت اس وقت ایک ہی کشتی میں ہے۔اس کے عرشے پرمختلف زبانیں بولی جاتی ہیں،مختلف سمتوں میں سجدے ہوتے ہیں اورتاریخ کے الگ الگ ترانے گائے جاتے ہیں؛مگراگرکشتی کے پیندے میں سوراخ ہوتوکسی مسافرکاحجرہ محفوظ نہیں رہتا۔جوقوتیں جنگ،نفرت ماحولیاتی لوٹ،جوہری دھمکی،بے لگام مصنوعی ذہانت اورمعاشی استحصال سے اس کشتی کو زخمی کررہی ہیں،ان کے مقابل اتحادمحض اخلاقی خوبی نہیں،بقا کی شرط ہے۔یہ اتحادکسی قوم کے خلاف نہیں،ظلم کے خلاف؛کسی مذہب کے خلاف نہیں،مذہب کے استحصال کے خلاف؛ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں،انسان دشمن بے مہاری کے خلاف ہوناچاہیے۔

اسلام اس عہدمیں مسلمانوں کوخوف کے سوداگرنہیں،امن کے گواہ بننے کی دعوت دیتاہے۔ہماراایمان ہمیں یہ حق نہیں دیتاکہ ہم دنیاکے خاتمے کی تاریخ لکھیں؛وہ ہمیں یہ ذمہ داری دیتاہے کہ جب تک مہلت ہے،زمین پرعدل کاایک اورچراغ روشن کریں۔آؤایساعالمی میثاق قائم کریں جس میں مقتول کامذہب پوچھنے سے پہلے اس کی جان کی حرمت پہچانی جائے، بھوکے کی قوم جاننےسےپہلےاسےروٹی دی جائے، اورمظلوم کے پاسپورٹ سے پہلے اس کی فریادسنی جائے۔یہی تہذیب کی آبرو،سیاست کی اخلاقی بنیاداوردین کی رحمت ہے۔

قیامت کب آئے گی،یہ رازِخداوندی ہے؛مگرہماری تہذیب کب بیدارہوگی،یہ سوال ہمارے سامنے ہے۔اگرہم نے عدل کوپرچم،رحمت کوزبان، تحقیق کوچراغ اورانسانی وحدت کومنزل بنا لیاتوشایدآنے والی نسلیں ہمارے زمانے کواختتام کاعہدنہیں،واپسی کاموڑکہیں گی—وہ موڑجہاں انسان نے پہلی بارپوری سنجیدگی سے تسلیم کیاکہ امن کسی فاتح کاانعام نہیں،سب کی مشترک امانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں