تاریخِ اقوام میں بعض معاہدے محض کاغذپرثبت ہونے والی سطریں نہیں ہوتے،بلکہ وہ آنے والے زمانوں کے سیاسی تیور،عسکری ترجیحات اورتہذیبی خود اعتمادی کے رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔طاقت کی بساط پرریاستیں صرف توپ وتفنگ،زروزراداور لشکر واسلحہ ہی سے نہیں پہچانی جاتیں؛ان کی اصل قوت اس وقت سامنے آتی ہے جب جغرافیہ،معیشت، ٹیکنالوجی،عسکری تجربہ اور سیاسی ارادہ ایک دوسرے کے دست وبازوبن جائیں۔
حالیہ سی فریقی مکہ معاہدہ پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے باہمی دفاعی اشتراک کودنیاکس وسیع تناظرمیں دیکھتی ہے، اس کے بارے میں قارئین کوآگاہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔اس مثلث کےایک سرے پرپاکستان کی جوہری قوت اورجنگی تجربہ،دوسرے پر سعودی عرب کی مالی وتوانائیاتی طاقت،اور تیسرے پرترکی کی ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت اورنیٹوسے وابستگی موجود ہے۔یوں یہ اتحاد محض تین ریاستوں کااجتماع نہیں بلکہ تین مختلف نوعیت کی قوتوں کے باہمی اتصال کاتصورپیش کرتاہے۔
پاکستان،ترکی اورسعودی عرب مسلم دنیاکے عسکری منظرنامے میں تین جداگانہ مگراہم ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔پاکستان کی شناخت بڑی بری فوج،جنگی تجربے اورجوہری بازدارقوت سے ہے؛ترکی اپنی جدید دفاعی صنعت،ڈرون ٹیکنالوجی،بحری استعداداور نیٹو سے تعلق کے باعث ممتازہے؛جبکہ سعودی عرب وسیع مالی وسائل،جدید مغربی اسلحے اورخطے کی اہم فضائی قوت کے سبب نمایاں مقام رکھتاہے۔ان تینوں کااجتماع ایک ایسی تزویراتی تکمیل کاامکان پیداکرتا ہے جس میں ایک کی کمی دوسرے کی قوت سے پوری ہوسکتی ہے۔
پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت ایک مشترکہ دفاعی بندوبست وجودمیں آیا،جس کی بنیادی روح یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی ایک دستخط کنندہ ملک پرحملہ تینوں کے خلاف حملہ تصورکیاجائے گا۔اسے نیٹوکے آرٹیکل5سے مماثل اصول قراردیاگیاہے۔یہ تصوراگرعملی قالب اختیار کرے توگویا تین مختلف جغرافیائی خطوں—جنوبی ایشیا،جزیرہ نمائے عرب اوراناطولیہ—کے دفاعی مفادات ایک ہی زنجیر کی کڑیوں میں بندھ جاتے ہیں۔
معاہدے کے مفہوم کی ایک تعبیریہ ہے کہ جنوبی ایشیامیں پاکستان کسی بڑے تصادم کاسامنا کرے توسعودی عرب اورترکی اس کے دفاع میں معاون ہوں، جبکہ شام یامشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کسی جنگی بحران میں مبتلاہوتوپاکستان اورسعودی عرب بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔تاہم معاہدہ ایک دوسری تعبیر بھی سامنے رکھتاہے:ممکن ہے کہ عسکری شرکت براہِ راست میدانِ جنگ میں اترنے کے بجائے اسلحہ،انٹیلی جنس اورسفارتی حمایت تک محدود رہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنزسے وابستہ تجزیے کے مطابق معاہدے کے صرف اڑتالیس گھنٹے بعدسعودی شہرجازان میں آرامکوکی ایک آئل ریفائنری پرحوثی حملے نے گویااس کے عملی مفہوم کو پہلی آزمائش کے سامنے لاکھڑاکیامگرسعودی قیادت نے اپنے نئے شراکت داروں سے فوری عسکری مدد طلب نہیں کی۔اس واقعے کومشرقِ وسطیٰ کے اس بدلتے ہوئے سیاسی نظام کی علامت سمجھاگیاجس میں امریکا کے کئی دہائیوں پرمحیط قائدانہ کردارمیں کمی کےآثا دکھائی دے رہے ہیں۔
اعدا وشمارطاقت کی پوری داستان نہیں کہتے،مگرعسکری وزن کاایک پیمانہ ضرورفراہم کرتے ہیں۔پاکستان کی فعال مسلح افواج تقریباً 660,000،ترکی کی 481,000اورسعودی عرب کی 247,000اہلکاروں پرمشتمل ہیں۔دفاعی اخراجات میں سعودی عرب سب سے آگے ہے:2025میں تقریباً83ارب ڈالر،اسی سال ترکی کے دفاعی اخراجات30ارب ڈالراورپاکستان کے11.9ارب ڈالربتائے گئے ہیں۔یوں عدد کی کثرت پاکستان کے پاس،مالی وسعت سعودی عرب کے پاس اورصنعتی پھیلاؤترکی کے پاس دکھائی دیتاہے۔پاکستان کی بری فوج اپنی تعداد،عسکری تنظیم اورسازوسامان کے لحاظ سے دنیا کی بڑی افواج میں شمارکی جاتی ہے۔دستاویزکے مطابق اس کے پاس2,570سے زیادہ مین بیٹل ٹینکس اور4,600سے زائد توپ خانے کے نظام موجودہیں۔الخالد،الخالد ون،الضراراور ٹی80یوڈی اس کے بکتر بند دستوں کے نمایاں ستون ہیں۔یہاں خاص اہمیت اس امرکی ہے کہ الخالد اورالخالد ون مقامی دفاعی صنعت کی اس صلاحیت کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے پاکستان کمکمل درآمدی انحصار سے کسی حدتک باہر نکالا۔
پاکستانی بری فوج کے ساتھ اس کی فضائیہ بھی دفاعی توازن میں بنیادی کرداررکھتی ہے۔مختلف ذرائع فضائیہ کے جنگی طیاروں کی تعداد331سے465کے درمیان بتاتے ہیں۔اس کے نمایاں طیاروں میں ایف16،پاکستان اورچین کامشترکہ جے ایف17تھنڈر،چینی جے10 سی،اورمیراج تھری وفائیوشامل ہیں۔جےایف17بلاک3 اورجے10سی کی شمولیت کوطویل فاصلے پر مؤثرکارروائی اورجدید فضائی جنگ کی صلاحیت میں اضافے کاذریعہ قراردیاگیاہے۔
یادرہے کہ مئی2025کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے جے10سی لڑاکا طیاروں سے بھارت کے متعدد جنگی طیارے مارگرائے، اوربعض عالمی ذرائع سے بھی اس دعوے کی تائید کا ذکرکیاگیاہے۔خودامریکی صدرنےعالمی میڈیامیں اس کودرجنوں مرتبہ دہرایاہے۔اس واقعےسے پاکستان کی فضائی قوت کے عملی استعمال اورچینی ساختہ جدیدنظاموں کی اہمیت کے تناظرمیں پاکستان کی فضائی قوت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
پاکستان کی ایک اہم قوت محض اسلحے کی تعدادنہیں بلکہ اس کاعملی جنگی تجربہ بھی ہے۔سابق قبائلی علاقوں میں شدت پسندتنظیموں کے خلاف طویل کارروائیوں نے بری وفضائی افواج کوایسامیدانِ عمل فراہم کیاجوکتابی تربیت سے کہیں مختلف ہوتاہے۔یادرہے کہ پاکستان کی روایتی اورجوہری فورسزبڑی حدتک بھارت سے درپیش خطرات کوسامنے رکھ کرتشکیل دی گئی ہیں،جبکہ چین اس کا مرکزی دفاعی شراکت دارہے۔پاکستان کی دفاعی صنعت مکمل خود کفالت کے درجے تک نہیں پہنچی،تاہم اس کے پاس جنگی طیاروں کی دیکھ بھال،مرمت اور متعدد دفاعی پلیٹ فارمز،ہتھیاروں اورگولہ بارودکی تیاری وبرآمد کی صلاحیت موجود ہے۔یہی صنعتی بنیادکسی بھی طویل مدتی دفاعی اتحاد میں پاکستان کومحض سپاہی فراہم کرنے والی ریاست کے بجائے ایک جزوی صنعتی شراکت داربھی بناتی ہے۔
ترکی نیٹوکے ان ممالک میں شامل ہے جن کی بری افواج غیرمعمولی حجم رکھتی ہیں۔اس کے پاس2300سے زیادہ مین بیٹل ٹینکس اور 2700سے زائدتوپ خانے کے نظام بیان کیے گئے ہیں۔جرمن ساختہ لیپرڈ2اےفور،جدید ایم60ٹی سابرا،اورمقامی ایلٹے ٹینک اس کے زرہی ڈھانچے کے اہم اجزا ہیں۔ایلٹے محض ایک ٹینک نہیں؛ترک دفاعی پالیسی میں خود انحصاری کی بڑھتی ہوئی خواہش کی علامت بھی ہے۔
گذشتہ دودہائیوں میں ترکی نے دفاعی صنعت میں وہ سفرطے کیاہے جس نے اسے درآمد کنندہ سے بتدریج برآمدکنندہ کی صف میں لا کھڑاکیا۔راکٹسان، ایسلسان اورٹی اے1جیسی کمپنیاں اس صنعتی ڈھانچے کامرکز ہیں۔ترکی کے پاس 200سے زیادہ جنگی طیارے ہیں، جبکہ ملٹری بیلنس اس کے کامبیٹ کیپیبل طیاروں کی تعداد293بتاتی ہے۔ایف16اس کی فضائی قوت کابنیادی ستون ہے،جبکہ کان نامی مقامی پانچویں نسل کے لڑاکاطیارے پربھی کام جاری ہے۔ روس سے ایس400خریدنےکےفیصلے کے نتیجے میں ترکی کوامریکی ایف 35پروگرام سے نکالاگیا،جو اس کی دفاعی خود مختاری اورمغربی اتحادسے تعلق کے درمیان کشمکش کی ایک نمایاں مثال ہے۔
عہدِ حاضر کی جنگ میں ڈرون وہ خاموش پرندے ہیں جو آسمان پر کم دکھائی دیتے ہیں مگر میدانِ جنگ کا نقشہ بدل دیتے ہیں۔ ترکی نے اس شعبے میں ایکسونگر ، بےریکٹارٹی بی2،بےریکٹا راکنسی انکاجیسے نظام نگرانی،جوحملے اورانٹیلی جنس مشنوں میں استعمال ہوتے ہیں،تیارکرکےنمایاں مقام حاصل کیاہے۔سعودی بری فوج پاکستان اورترکی کے مقابلے میں عددی لحاظ سے چھوٹی ہے،مگرجدیدمغربی اسلحے سےآراستہ ہے۔اس کے پاس اندازاً840سے1,100مین بیٹل ٹینکس ہیں،جن میں امریکی ایم ون اےٹوابرامز مرکزی حیثیت رکھتاہے۔ہزاروں بکتربند گاڑیاں اورجدید خودکارتوپ خانے بھی اس کے زمینی دفاع کاحصہ ہیں۔
سعودی عرب کی عسکری قوت کا سب سے چمکتا ہوا رخ اس کی فضائیہ ہے۔ تقریباً 283 فائٹر طیاروں میں ایف15ایس اے،ایف15سی /ڈی،یوروفائٹرٹائی فون اورترناڈوآئی ڈی ایس شامل ہیں۔فضائی نگرانی،میزائل دفاع اوربغیرپائلٹ نظاموں میں سرمایہ کاری نے اسے مشرقِ وسطیٰ کی نمایاں فضائی طاقتوں میں شامل کیاہے۔تاہم یمن کی جنگ نے جہاں تجربہ دیا، وہیں درست نشانہ لگانے،فضاوزمین کے باہمی رابطے اوررسدکے شعبوں میں کمزوریاں بھی آشکارکیں ۔ سعودی سرزمین پرکروزمیزائل اورڈرون حملوں نے فضائی ومیزائل دفاع کے بعض خلانمایاں کیے۔اسی پس منظرمیں وژن2030کے تحت دفاعی اخراجات کا50فیصد مقامی سطح پرمنتقل کرنے کاہدف اہم بن جاتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی نمایاں فضائی پاکستان، ترکی اور سعودی عرب تینوں بغیر پائلٹ فضائی نظاموں میں سرمایہ کاری بڑھارہے ہیں۔پاکستان اورسعودی عرب نے ترک ڈرونزکے حصول کی جانب بھی قدم بڑھایا،جبکہ پاکستان نے براق،شاہپراورشاہپرٹوجیسے نظام مقامی طورپرتیارکیے ہیں۔شاہپر ٹوطویل فاصلے کی نگرانی اوراسلحہ برداری جبکہ براق مسلح کارروائیوں کیلئے استعمال ہوتاہے۔
پاکستان نے چین کے ساتھ دفاعی تعاون کے ذریعے اپنی نگرانی،انٹیلی جنس اورڈرون صلاحیتوں کومزیدوسعت دی۔مئی2025کے بعد بھارت نے پاکستان پرترک ساختہ ڈرون استعمال کرنے کادعویٰ کیا۔دوسری طرف ترکی کودنیاکے نمایاں فوجی ڈرون سازممالک میں شمارکیاگیاہے۔بےریکٹارٹی بی2 مختلف جنگی اورنگرانی مشنوں میں استعمال ہوچکاہے؛اکنسی زیادہ وزن کے ہتھیاراورجدیدسینسرلے جانے کی،جبکہ انکااوراکسنگورطویل دورانیے کے انٹیلی جنس،نگرانی اورریکی مشنوں کیلئےموزوں ہیں۔یوں ترکی نے ڈرون کومحض ایک ہتھیار نہیں بلکہ اپنی دفاعی صنعت کی عالمی شناخت بنادیاہے۔ترکی کی مقامی دفاعی صنعت کی وسعت کاثبوت یہ ہے کہ وہ بغیرپائلٹ نظام صرف اپنی فوج کیلئےنہیں بناتابلکہ متعدد ممالک کوبرآمد بھی کرتاہے۔اس اعتبارسے ممکنہ سہ فریقی تعاون میں ترکی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کلیدی قوت بن سکتاہے۔
سعودی عرب بھی نگرانی اورحملہ آوردونوں مقاصدکیلئےڈرون استعمال کرتاہے،جن میں چینی سی فور،اورونگ لونگ سیریزشامل ہیں۔ وژن2030کے تحت ریاض مقامی ڈرون صنعت کو فروغ دیناچاہتاہے تاکہ درآمدی انحصارکم ہو۔یہ نظام سرحدی نگرانی،اہم تنصیبات کے تحفظ،انٹیلی جنس اورعسکری کارروائیوں میں استعمال کیے جارہے ہیں۔
اگران تینون ملکوں کی بحری قوت کاعددی موازنی کیاجائے توبحری میدان میں ترکی کوواضح عددی برتری حاصل ہے۔دستاویزکے مطابق ترکی کے پاس192 بحری اثاثے اورتقریباًایک لاکھ بحری اہلکارہیں؛پاکستان کے پاس120 اثاثے اور57,500اہلکار،جبکہ سعودی عرب کے پاس32بحری اثاثے 13 ہزار500 اہلکارہیں۔ ترک بحریہ مشرقی بحیرۂ روم،بحیرۂ اسوداوربحیرۂ ایجیئن میں سرگرم ایک بڑی علاقائی قوت ہے۔اس کے بیڑے میں13آبدوزیں،17 فریگیٹس، کورویٹس اورمتعدد میزائل برداروگشتی جہازشامل ہیں۔رئیزکلاس آبدوزیں اے آئی پی ٹیکنالوجی سے مزین ہیں جبکہ ٹی سی جی اناڈولو اسے ایک نمایاں ایمفیبیئس صلاحیت فراہم کرتاہے۔ مقامی ملجم پروگرام کے ذریعے اے ڈی اے کورویٹس اوراسٹف کلاس فریگیٹس تیارکیے گئے ہیں۔
پاکستانی بحریہ کے پاس آٹھ آبدوزیں اوربارہ فریگیٹس بیان کیے گئے ہیں۔جون2026میں پہلی ہنگورکلاس آبدوزکی کراچی آمدکو پاکستان ۔چین دفاعی تعاون کاایک اہم سنگِ میل قراردیا گیا۔یہ جدیدسینسرز،اے آئی پی ٹیکنالوجی اوربہتر اسٹیلتھ خصوصیات سے آراستہ ہے۔ پاکستان کے پاس اگوسٹا کلاس آبدوزیں بھی ہیں،جبکہ آبدوزی قوت کوملکی بحری دفاع اورمستقبل کی جوہری بازدارمنصوبہ بندی میں مرکزی مقام حاصل ہے۔اس کی فریگیٹس میں چینی ساختہ ایف22پی سورڈ،ترک ڈیزائن پرمبنی طغرل اوربابرکلاس بھی شامل ہیں۔
رائل سعودی نیوی ترکی اورپاکستان سے نسبتاًچھوٹی ہونے کے باوجودخلیج اوربحیرۂ احمرکے دفاع میں اہم کرداررکھتی ہے۔اس کے پاس بارہ جدید فریگیٹس بتائے گئے ہیں جن میں الریاض، المدینہ اورالجبیل کلاس شامل ہیں۔سعودی بحری حکمت عملی آبدوزوں کے بجائےجدیدسطحی جنگی جہازوں،ساحلی دفاع اورفضائی ومیزائل تحفظ پرمرتکزہے۔
ان تینوں ممالک میں صرف پاکستان واضح طورپرجوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے۔ترکی نیٹوکے جوہری شراکتی نظام کاحصہ ہے، جبکہ سعودی عرب کاذکر سویلین جوہری پروگرام کے تناظرمیں کیاگیاہے۔یہی تفاوت سہ فریقی دفاعی تصورکوایک خاص تزویراتی ابہام بھی عطا کرتا ہے۔سپری کی2026کی رپورٹ کے حوالے سے پاکستان کے جوہری ذخیرے کااندازہ تقریباً 170وارہیڈزبتایاگیاہے۔پاکستان زمینی،فضائی اوربحری اجزاپرمشتمل نیوکلیئرٹرائیڈکووسعت دے رہاہے۔زمینی اورفضائی صلاحیتیں نسبتاًپختہ ہیں،جبکہ سمندرسے جوہری حملے کی صلاحیت اب بھی ترقی کے مراحل میں ہے۔
پاکستان کے اہم جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں میں شاہین1، اہین2،غوری،غزنوی،نصراوربابرکروزمیزائل شامل کیے گئے ہیں۔ ابابیل کوایم آئی آروی صلاحیت کیلئےتیارکیاجارہاہے ، تاہم جنوری2026 تک اس کی عملی تعیناتی کے شواہد موجود نہ ہونے کاذکرہے۔ ایم آئی آروی دراصل جدید بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی ایک ایسی صلاحیت ہے جس میں ایک ہی میزائل اپنے ساتھ کئی وارہیڈ لے جا سکتاہے اوران وارہیڈزکوالگ الگ اہداف کی طرف روانہ کیاجاسکتاہے۔اس ٹیکنالوجی کاپورانام ملٹی انڈیپینڈینٹلی ٹارگٹ ایبل ری انٹی وہیکلزہے۔روایتی بیلسٹک میزائل عموماًایک ہی وارہیڈکوایک مقررہ ہدف تک پہنچاتاہے،لیکن ایم آئی آروی نظام میں میزائل فضا کی بلند سطح تک پہنچنے کے بعدمتعددری انٹری وہیکلزکوجدا کرتاہے، جوبعدازاں مختلف سمتوں میں اپنے اپنے اہداف کی جانب بڑھتے ہیں۔اسی خصوصیت کی وجہ سے ایم آئی آروی کسی بھی میزائل دفاعی نظام کے کیلئے نسبتاًزیادہ پیچیدہ چیلنج بن جاتاہے، کیونکہ ایک ہی میزائل سے بیک وقت کئی وارہیڈنمودارہوسکتے ہیں۔
بابر3کے ذریعے سمندرسے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش بھی جاری بتائی گئی ہے۔ترکی کے پاس اپنا قومی جوہری ذخیرہ نہیں،لیکن وہ نیٹوکے جوہری شراکتی نظام میں شامل ہے۔امریکی بی61/ -12جوہری بم یورپ کے مختلف نیٹواڈوں،بشمول ترکی،میں تعینات ہیں تاہم ان کی ملکیت اورتحویل امریکاکے پاس رہتی ہے۔ترکی خودکسی قومی جوہری وارہیڈیا جوہری میزائل کامالک نہیں۔
سعودی عرب کوبھی جوہری ہتھیاررکھنے والی ریاست قرارنہیں دیاگیااوراس کے کسی معلوم جوہری ذخیرے کی تصدیق موجودنہیں۔ البتہ پاکستان اورسعودی عرب کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کوخاص اہمیت دی گئی ہے۔ستمبر2025کے پاکستان۔سعودی سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے حوالے سے مکہ معاہدہ میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کوسعودی عرب تک باضابطہ طورپرتوسیع دینے کی صریح تصدیق موجودنہیں۔بعض پاکستانی بیانات نےاس امکان پربحث ضرورپیداکی،لیکن رپورٹ کے مطابق واضح ثبوت دستیاب نہیں۔یہی ابہام شاید جدید بازدارحکمت عملی کی وہ دھندہے جس میں بعض اوقات غیریقینی خودایک سیاسی ہتھیاربن جاتی ہے۔
سعودی عرب کے پاس روایتی بیلسٹک میزائل قوت موجودہے۔ سعودی عرب نے ماضی میں چینی ڈی ایف3میزائل حاصل کیے جبکہ ڈی ایف21کی موجودگی سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔تاہم اس میزائل قوت کوروایتی دفاعی صلاحیت کاحصہ سمجھاجاتا ہے، جوہری ہتھیاروں کانہیں۔
اس پورے عسکری منظرنامے کاحاصل شاید اسی آخری نکتے میں پوشیدہ ہے۔سعودی عرب کے پاس سرمایہ،جدید عالمی ٹیکنالوجی تک رسائی اورفضائی قوت ہے،لیکن تربیت یافتہ افرادی قوت،طویل جنگی تجربے او ادارہ جاتی مضبوطی کے بعض پہلوؤں میں کمی بیان کی گئی ہے۔پاکستان افرادی قوت،جنگی تجربہ اور جوہری بازدارصلاحیت رکھتاہے،مگرمحدودبجٹ،وسائل کی کمی،جدیدمقامی ٹیکنالوجی میں پابندیاں اورمسلسل علاقائی وداخلی سلامتی کے دباؤاس کے پاؤں کی زنجیرہیں۔ترکی جدیدمقامی ٹیکنالوجی،دفاعی صنعت،نیٹو کی رکنیت اورابھرتی بحری قوت رکھتاہے،مگراگلی نسل کے مغربی لڑاکا طیاروں تک اس کی رسائی میں رکاوٹیں موجود ہیں۔
یہیں آکرتصویرکےمنتشررنگ ایک نقش میں ڈھلنے لگتے ہیں۔سعودی سرمایہ،پاکستانی عسکری تجربہ اورجوہری بازدارقوت،اورترک صنعت وٹیکنالوجی ایک دوسرے کی کمزوریوں کوکسی حد تک پوراکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔خوددستاویزکاحاصل بھی یہی ہے کہ ان تینوں ممالک کی مختلف خصوصیات مل کرایک باہم تکمیلی دفاعی ساخت پیداکرسکتی ہیں۔
ریاستوں کے تعلقات میں دائمی دوستی سے زیادہ دائمی مفادکی حکمرانی ہوتی ہے،مگرتاریخ یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ جب مفادات کے ساتھ تہذیبی قربت، سیاسی اعتماد اورمشترکہ خطرات جمع ہوجائیں تومحض وقتی اتحادکبھی کبھی ایک بڑے تزویراتی نظام کی بنیاد بن جاتا ہے۔پاکستان،ترکی اورسعودی عرب کے اس ممکنہ دفاعی محورکی اصل قوت اس امرمیں نہیں کہ تین جھنڈے ایک تصویرمیں دکھائی دیں، بلکہ اس میں ہے کہ تین مختلف صلاحیتیں پاکستان کاتجربہ اور جوہری بازدارسرمایہ،ترکی کی صنعت وٹیکنالوجی،اور سعودی عرب کی مالی وتوانائیاتی قوت ،کیاواقعی ایک منظم،قابلِ عمل اوردیرپادفاعی حکمت عملی میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔
اگریہ اشتراک صرف اعلامیوں اورتقاریب کی حدتک رہاتوتاریخ کے دفترمیں ایک مختصرحاشیہ بن کررہ جائے گا؛لیکن اگراسے مشترکہ تربیت،دفاعی پیداوار ،انٹیلی جنس تعاون،ڈرون ومیزائل ٹیکنالوجی،بحری سلامتی،فضائی دفاع اورصنعتی خودکفالت سے جوڑدیا گیاتویہ مسلم دنیاکے دفاعی تصورمیں ایک نئے باب کاآغازبن سکتاہے۔
مگرطاقت کاحسن صرف اس کے حصول میں نہیں،اس کے ضبط میں ہے؛ہتھیار کی عظمت صرف اس کی مارمیں نہیں،اس ذمہ داری میں ہے جس کےتحت اسے نیام میں رکھاجاتا ہے۔جنگ کی تیاری اگرامن کی حفاظت کرے توقوت رحمت بن جاتی ہے،اوراگرقوت عقل، عدل اورتدبر سے جداہوجائے تووہی تیغ اپنے حامل کے ہاتھ بھی زخمی کرسکتی ہے۔اسی لیے اس سہ فریقی دفاعی تصورکاسب سے بڑا امتحان میدانِ جنگ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت،ادارہ جاتی ہم آہنگی، تکنیکی خودانحصاری اورمشترکہ مفادات کودیرپاحکمت عملی میں ڈھالنے کی صلاحیت ہوگی۔زمانہ اپنی عدالت لگائے گا،تاریخ اپنافیصلہ لکھے گی،اورآنے والی نسلیں دیکھیں گی کہ یہ اتحادمحض حالات کی کوکھ سے جنم لینے والاایک عارضی بندوبست تھایامسلم دنیا کے دفاعی شعورمیں ایک نئے عہدکی پہلی دستک۔











