Makkah Muahda DehliKa Aztarab

مکہ معاہدہ: دہلی مضطرب

تاریخ کے بعض فیصلے شورِشمشیرمیں نہیں،خاموش سفارتی میزوں پرجنم لیتے ہیں۔ان کے ہاتھ میں نہ کوئی پرچم ہوتاہے،نہ توپ کا دہانہ،نہ لشکروں کی گھن گرج؛مگروقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتاہے کہ ایک خاموش دستخط نے طاقت کے پورے نقشے میں ایک نئی لکیر کھینچ دی تھی۔مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اورترکی کے درمیان ہونے والادفاعی معاہدہ اسی نوعیت کی ایک پیش رفت کے طورپردیکھاجارہاہے۔

اس معاہدے کی اہمیت صرف اس امرمیں نہیں کہ تین ممالک نے باہمی سلامتی کوایک دوسرے سے وابستہ کرنے کافیصلہ کیا،بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کس تاریخی لمحے میں سامنے آیاہے۔مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے جنگ،مداخلت،پراکسی تنازعات اور بیرونی طاقتوں کےعسکری انتظامات کامیدان رہاہے۔دوسری جانب جنوبی ایشیامیں پاکستان اورانڈیاکے درمیان کشیدگی ایک ایسی حقیقت ہے جس کے ساتھ دونوں ممالک کی ایٹمی صلاحیت نےپوری دنیاکو محتاط کررکھاہے۔ایسے میں مکہ کایہ معاہدہ محض ایک اوردفاعی سمجھوتانہیں؛یہ اس سوال کی طرف اشارہ ہے کہ کیامسلم دنیاکے بعض اہم ممالک اب اپنی سلامتی کیلئےبیرونی چھتریوں کی بجائے علاقائی شراکت داری کاکوئی نیانمونہ تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں؟لیکن انڈیاکواس پرکیوں تشویش ہے؟

انڈیاکی تشویش کوسمجھنے کیلئےضروری ہے کہ اس معاہدے کو صرف تین ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے طورپر نہ دیکھاجائے۔ تینوں ریاستوں کی جغرافیائی حیثیت،عسکری استعداد، اقتصادی وزن اورسفارتی رسوخ کوایک ہی فریم میں رکھاجائے توایک ایسامثلث سامنے آتاہے جس کے تینوں زاویے الگ الگ اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک بڑی عسکری قوت اورایٹمی ریاست ہے۔ترکی نیٹوکارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط دفاعی صنعت، تجربہ کارفوج اوروسیع علاقائی سفارتی اثرورسوخ رکھتا ہے۔سعودی عرب کے پاس اقتصادی وسائل،توانائی کی طاقت،اسلامی دنیامیں مذہبی وسیاسی مرکزیت اورعالمی سفارت کاری میں ایک غیرمعمولی مقام ہے۔لہٰذادہلی کی نگاہ میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان کودو دوست ممالک مل گئے ہیں؛اصل مسئلہ یہ ہےکہ پاکستان کی سلامتی کاسوال اب دوایسےدارالحکومتوں سےجڑرہاہےجواپنےاپنےمیدان میں غیرمعمولی وزن رکھتے ہیں۔

یہاں ایک باریک فرق بھی قابلِ غورہے۔پرانے عسکری اتحاداکثرکسی بڑی طاقت کی چھتری تلے تشکیل پاتے تھے۔اس نئے انتظام میں بظاہرعلاقائی ممالک خوداپنی سلامتی کی تعریف اورترجیحات متعین کرتےدکھائی دیتے ہیں۔یہی پہلواسے دہلی کیلئےزیادہ حساس بناتا ہے۔معاہدے کے حوالے سے سامنے آنے والی سب سے اہم بات اس کی اجتماعی دفاعی روح ہے۔کسی ایک ملک پرمسلح حملہ،تمام فریقوں پر حملہ تصورکیاجائے گا۔بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات چندالفاظ پورے سفارتی منظرنامے کاوزن بدل دیتے ہیں۔انہی اصطلاحات میں سےایک مشترکہ دفاع بھی ہے۔یہاں مکہ کی علامتی اہمیت بھی نظراندازنہیں کی جاسکتی۔ایک ایساشہرجو مسلمانوں کیلئےروحانی مرکزہے،وہاں ہونے والادفاعی معاہدہ سیاسی معنویت کے علاوہ تہذیبی اورنفسیاتی اثربھی رکھتا ہے۔

تاہم ریاستی سیاست جذبات سے زیادہ مفادات کے ترازومیں تولی جاتی ہے۔اسی لیے اصل اہمیت معاہدے کے مقام سے زیادہ اس کے عملی مضمرات کی ہے۔ اگراجتماعی دفاع کااصول محض اعلامیے تک محدودرہتاہے تواس کی حیثیت علامتی ہوگی؛اگراسے مشترکہ منصوبہ بندی،انٹیلی جنس،دفاعی صنعت،تربیت اور عملی مشاورت سے جوڑدیاجائے توپھریہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک مستقل عنصربن سکتاہے۔معاہدہ کی اس شق نے انڈیاکوتشویش میں مبتلاکردیاہے کہ دہلی اس نئے ابھرتے ہوئے سکیورٹی فریم ورک کوکس نظر سے دیکھتاہے ۔

پاکستان کی خارجہ ودفاعی تاریخ میں عسکری اتحادکوئی نئی چیز نہیں۔سردجنگ کےعہدمیں پاکستان نے امریکاکی سرپرستی میں تشکیل پانے والے سیٹواور سینٹو میں شمولیت اختیارکی۔اس وقت دنیادوبڑے نظریاتی کیمپوں میں تقسیم تھی۔واشنگٹن کیلئےبنیادی مقصدسوویت اثر ورسوخ اورکمیونزم کے پھیلاؤکو روکناتھا،

جبکہ پاکستان اپنی سلامتی،معاشی مدداورعلاقائی خطرات کےمقابلےمیں ایک مضبوط بیرونی شراکت دارتلاش کررہاتھا۔مگرتاریخ نے جلدیہ دکھادیاکہ کسی اتحادکی اصل قدراس کی دستاویزسے نہیں بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ بحران کی گھڑی میں اتحادی کس حدتک اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔سیٹوکے باہمی دفاعی اصول موجودتھے،لیکن ان کے ساتھ ایسی شرائط اورسیاسی حدودبھی تھیں جنہوں نے پاکستان کیلئےیہ سوال ہمیشہ زندہ رکھاکہ اگرخطرہ براہِ راست بھارت سے ہوتوامریکاکہاں کھڑاہوگا۔اسی تاریخی تجربے کے باعث مکہ کاموجودہ معاہدہ ایک مختلف زاویہ اختیارکرتاہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن یا کوئی بیرونی طاقت کیاکرے گی؛سوال یہ ہے کہ علاقائی ریاستیں خودایک دوسرے کیلئےکس حدتک کھڑی ہوں گی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ماضی سے نکل کرحال کے دروازے پردستک دیتی ہےاوراسی کے ساتھ ایک مشکل سوال بھی پیداہوتاہے: اگرپاکستان اورانڈیا کے درمیان مستقبل میں جنگ چھڑتی ہے توکیاترکی اورسعودی عرب واقعی پاکستان کے اجتماعی دفاعی حق کوعملی طورپرتسلیم کریں گے؟معاہدے کی اصل آزمائش شایداسی لمحے ہوگی۔

نیتن یاہوکے بیٹے یائرنے اس معاہدے پرسوال اٹھاتے ہوئے بنیادی طورپرایک اہم نکتہ سامنے رکھا:اگرایران،یمن یاعراق سے سعودی عرب کوخطرہ لاحق ہوتوکیاپاکستان اورترکی ان محاذوں پرجنگ میں شریک ہوں گے؟اوراگرپاکستان اورانڈیامیں جنگ ہوتوکیاسعودی عرب اورترکی انڈیاکے خلاف عسکری اقدام کریں گے؟یہ سوال بظاہرطنزیہ اندازمیں اٹھایاگیامگراس میں ایک بنیادی قانونی وسیاسی مسئلہ پوشیدہ ہے۔سوال یہ ہے کہ حملہ کی تعریف کیاہے؟ہراجتماعی دفاعی معاہدہ یہ سوال پیداکرتاہے کہ کیامیزائل حملہ ،ڈرون حملہ،سرحدپارمحدود کارروائی، دہشت گردی کے جواب میں فوجی آپریشن،سائبر حملہ،یاکیا کسی تیسرے ملک میں موجودپراکسی گروہ کی کارروائی کوریاست پرحملہ تصورکیاجائے گا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جدید جنگ نے “جنگ” اور“عدمِ جنگ ” کے درمیان پرانی لکیردھندلادی ہے۔لہٰذا معاہدے کی طاقت صرف اس کی زبان میں نہیں بلکہ اس کے تشریحی طریقۂ کارمیں ہوگی۔

آپریشن سندورکے دوران پاکستان نے جس طرح اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کی،اس نے ایک بارپھریہ حقیقت سامنے رکھی کہ جدید جنگ صرف فوجی تعداد کانام نہیں۔فضائی نگرانی، میزائل ٹیکنالوجی،کمانڈاینڈکنٹرول،الیکٹرانک وارفیئر،ڈرونز،انٹیلی جنس اوردرست نشانہ بندی—یہ سب مل کرجدیددفاعی طاقت تشکیل دیتے ہیں۔اس پس منظرمیں سعودی عرب اورترکی کے ساتھ معاہدے کاسب سے اہم فائدہ شایدبراہِ راست جنگی شمولیت سے زیادہ دفاعی صلاحیتوں کاباہمی انضمام ہوسکتاہے۔

ترکی کی دفاعی صنعت ڈرون ٹیکنالوجی،ایوی ایشن،الیکٹرانک نظام اورمتعدد دیگرشعبوں میں اہم مقام حاصل کرچکی ہے۔سعودی عرب مالی وسائل،دفاعی سرمایہ کاری اورتوانائی کے ذریعے ایک مختلف نوعیت کی قوت رکھتاہے۔پاکستان کے پاس جنگی تجربہ،ایٹمی ڈیٹرنس اوراپنی دفاعی صنعت کی ایک بنیادموجودہے ۔اگریہ تینوں عناصرایک مربوط نظام میں تبدیل ہوتے ہیں تونتیجہ صرف تین فوجوں کامجموعہ نہیں ہوگا؛یہ تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کاامتزاج ہوگا۔

پاکستان اورانڈیاکے درمیان سب سے بنیادی تزویراتی حقیقت جوہری توازن ہے۔پاکستان کی جوہری پالیسی بنیادی طورپرانڈیاسے متعلق سمجھی جاتی ہے۔اس کامقصد روایتی عسکری عدمِ توازن کوایک ایسےتزویراتی توازن میں تبدیل کرناہےجس میں کسی بھی فریق کیلئے مکمل جنگ کاراستہ تباہ کن نتائج سے خالی نہ ہو۔مکہ کامعاہدہ اس جوہری حقیقت کوختم نہیں کرتا،نہ ہی اس کامتبادل بنتاہےبلکہ ممکنہ طورپراس کااثرایک دوسرے درجے پرہوگا،جوہری ڈیٹرنس کے نیچےروایتی اورسفارتی ڈیٹرنس کی ایک اضافی تہہ بھی موجودہے۔ یعنی اگرپاکستان کویہ اعتماد حاصل ہوکہ بحران کی صورت میں اسے سیاسی،سفارتی،اقتصادی اوردفاعی سطح پرعلاقائی حمایت حاصل ہوگی تومخالف کیلئےکسی محدودعسکری کارروائی کے ممکنہ نتائج کاحساب مزیدپیچیدہ ہوجائے گا۔یہی ڈیٹرنس کابنیادی فلسفہ ہے۔جنگ لڑنامقصد نہیں ہوتا؛ بعض اوقات جنگ کے امکانات کواتنامہنگابنادیناہی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ فریق جنگ کادروازہ کھولنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے۔

اس معاہدے کاایک اہم پہلویہ ہے کہ یہ اس سیاسی حمایت کوایک نسبتاًمستقل ادارہ جاتی شکل دے سکتاہے جوبحران کے دوران پہلے سے موجودتھی۔ریاستی تعلقات میں حمایت کی تین سطحیں ہوتی ہیں:بیان، سفارت کاری اورعملی تعاون۔بیان وقتی ہوتاہے۔سفارت کاری بحران کےدوران دباؤپیداکرسکتی ہےمگر دفاعی تعاون اس سے ایک قدم آگےہےکیونکہ وہ ریاستوں کو مشترکہ منصوبہ بندی اورباہمی ذمہ داری کے قریب لے جاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مکہ کامعاہدہ صرف یہ نہیں بتاتاکہ کون کس کے ساتھ ہے؛یہ اس سوال کوبھی جنم دیتاہے کہ بحران کی صورت میں کون کس سطح پرمتحرک ہوگا۔اگر اس معاہدےکے نتیجےمیں مستقل دفاعی مشاورت،مشترکہ مشقیں،انٹیلی جنس تعاون اورسفارتی رابطے بڑھتے ہیں تواس کی اہمیت کاغذی شقوں سے کہیں زیادہ ہوگی۔

دہلی کیلئےسب سے پیچیدہ پہلوشاید سعودی عرب کاپاکستان کے ساتھ دفاعی تعلق نہیں بلکہ سعودی عرب کاانڈیاکے ساتھ گہرامعاشی تعلق ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت اربوں ڈالرمیں ہے۔سعودی عرب نےانڈیامیں توانائی،ریفائننگ،پیٹروکیمیکلزاوربنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی خواہش ظاہرکی ہے۔سعودی آرامکوبھی انڈیاکے بڑے صنعتی منصوبوں میں دلچسپی رکھتی رہی ہے۔اس کے علاوہ لاکھوں انڈین شہری سعودی عرب میں کام کرتے ہیں،جودونوں ممالک کے درمیان انسانی اورمعاشی رابطے کی ایک مضبوط زنجیرتشکیل دیتے ہیں۔توانائی کے میدان میں بھی سعودی عرب انڈیاکیلئےاہم شراکت دارہے۔

اس پس منظرمیں سعودی عرب کاپاکستان کے ساتھ اپنی سلامتی کوجوڑنادہلی کیلئےاس لیے اہم ہے کہ یہ اسے ایک مشکل سفارتی سوال سے دوچارکرتاہے۔کیا اقتصادی شراکت داری اور دفاعی وابستگی بیک وقت دومختلف سمتوں میں چل سکتی ہیں؟سعودی عرب کیلئے بظاہرجواب ہاں ہے،کیونکہ خارجہ پالیسی میں دوستیاں ہمیشہ صفرجمع کھیل نہیں ہوتیں۔ایک ریاست ایک ملک کےساتھ تجارت اور دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون کرسکتی ہےمگربحران کی گھڑی میں یہی توازن سب سے بڑاامتحان بن جاتاہے۔

اس معاہدےکی سب سے قابلِ توجہ سیاسی جہت یہ ہےکہ سعودی عرب نےمختصرعرصے میں دوسری مرتبہ پاکستان کی سلامتی کے ساتھ اپنے سلامتی کے مفاد کوجوڑنے کافیصلہ کیا۔اس سے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے:ریاض اوراسلام آبادکے تعلقات اب صرف تاریخی،مذہبی یاروایتی دوستی کے دائروں میں نہیں رہناچاہتے؛ان میں تزویراتی باہمی انحصارکا عنصربڑھ رہاہے۔سعودی عرب کیلئے پاکستان محض ایک مسلم ملک نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست ہےجس کے پاس ایک تجربہ کارفوج،جوہری صلاحیت اوراہم جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔پاکستان کیلئےسعودی عرب صرف اقتصادی شراکت دارنہیں بلکہ عرب دنیا،خلیج اوراسلامی دنیامیں ایک اہم سفارتی دروازہ بھی ہے۔یوں دونوں کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ ایسے مقام پرآملتے ہیں جہاں مذہب،جغرافیہ،معیشت اورسلامتی ایک ہی دھاگے میں پروئے جاسکتے ہیں۔

اس معاہدے کوفوراً“مسلم نیٹو”یا“سنی نیٹو”قراردیناشایدعلمی احتیاط کےخلاف ہوگامگراصطلاح سے زیادہ اہم وہ خیال ہے جس کی طرف یہ پیش رفت اشارہ کرتی ہے۔اگرمسلم اکثریتی ریاستیں اپنی سلامتی کیلئےمشترکہ نظام تشکیل دینے کی خواہش رکھتی ہیں تویہ اس سوچ سے مختلف ہے جس میں مسلم دنیاہمیشہ بیرونی طاقتوں کی حفاظتی چھتری تلاش کرتی رہی۔یہاں ایک نئے تصور “سیکیورٹی کی علاقائی ملکیت”کی ابتدائی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یعنی خطے کے ممالک اپنے مسائل کوسمجھیں،اپنی ترجیحات طے کریں،اپنی دفاعی صلاحیتیں مربوط کریں اوربیرونی طاقتوں کوواحد فیصلہ کن ضامن نہ سمجھیں ۔تاہم مسلم دنیاکے اندرموجودسیاسی اختلافات،ایران وعرب تعلقات،ترکی کے مختلف علاقائی مفادات اوردیگرپیچیدگیاں اس تصور کے سامنے بڑے سوالات بھی رکھتی ہیں۔اس لیے اسے ابھی منزل کہنا قبل ازوقت ہوگا؛البتہ اسےایک سمت ضرورکہاجاسکتاہے۔

جنوبی ایشیامیں مستقبل کی کسی بھی کشیدگی کیلئےاس معاہدے کاسب سے اہم نتیجہ شایدیہی ہوگاکہ اب ممکنہ جنگ کےحساب میں نئے متغیرات شامل ہوگئے ہیں۔پہلے پاکستان اورانڈیا کے درمیان بحران کابنیادی فریم دوطرفہ تھا،اگرچہ چین،امریکا،سعودی عرب،ترکی اور دیگرطاقتیں سفارتی سطح پراثر اندازہوتی تھیں۔اب اگردفاعی وابستگی عملی شکل اختیارکرتی ہے توکسی بھی بڑے بحران میں یہ سوال بھی شامل ہوگاکہ علاقائی اتحادی کس مقام پرکھڑے ہوں گے؟یہ صورتحال ایک طرف پاکستان کیلئےڈیٹرنس بڑھاسکتی ہے،مگردوسری طرف بحران کے انتظام کوپیچیدہ بھی بناسکتی ہے کیونکہ بعض اوقات زیادہ اتحادی زیادہ طاقت نہیں بلکہ زیادہ پیچیدہ فیصلے بھی پیدا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی امن کاتقاضا صرف دفاعی اتحادنہیں بلکہ بحران کے انتظام کے مستقل راستے بھی ہیں ۔

سوال یہ ہے کہ اگردوبارہ آپریشن سندورجیسی کارروائی ہوئی تو؟یہ وہ مقام ہےجہاں معاہدےکی سب سےحساس شق سامنےآتی ہے۔اگر مستقبل میں انڈیا پاکستان کے اندرکسی کارروائی کو دہشتگردی کےڈھانچے یافوجی تنصیبات کےخلاف محدودآپریشن قراردے،تواسلام آباد اسےایک خودمختارریاست کے خلاف مسلح اقدام قراردےسکتاہے۔ایسی صورت میں اجتماعی دفاعی شقوں کوفعال کرنےکامطالبہ کیاجا سکتا ہے۔لیکن یہاں ایک اہم فرق ہے کہ معاہدہ خود بخودجنگ کااعلان نہیں کرتا۔

اجتماعی دفاع کی عملی نوعیت کاانحصاراس بات پرہوگاکہ تینوں ممالک حملے کی نوعیت،شدت اورقانونی حیثیت کوکس طرح دیکھتے ہیں۔ اسی لیے مستقبل میں معاہدے کی اصل طاقت اس کے متن سےزیادہ اس کےادارہ جاتی طریقۂ کارمیں ہوگی۔اگر بحران کے وقت تینوں دارالحکومتوں میں فوری مشاورت کانظام موجودہو،توایک محدودواقعے کووسیع جنگ میں بدلنےسے روکا بھی جاسکتاہے۔یوں ایک مضبوط دفاعی معاہدہ بیک وقت جارحیت کوروکنااورجنگ کومحدود رکھنے کادہراکرداراداکرسکتا ہے لیکن یہاں انڈیا کی تشویش اس معاہدے کے ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتی ہے جنہیں دہلی نظرانداز نہیں کرناچاہتا۔

اگرمعاہدے کی زبان واقعی نیٹوکے آرٹیکل فائیوسے مشابہ اجتماعی دفاعی تصورپیش کرتی ہےتواس کامطلب یہ ہے کہ اس کی سیاسی اہمیت صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتی۔پاکستان اورانڈیاکے تعلقات کی تاریخ میں سرحدی جھڑپیں،جنگیں،دہشتگردی کے واقعات،سفارتی بحران اورجوہری دھمکیوں کے سائے پہلے ہی موجود ہیں۔اب اگراس ماحول میں ایک نیاعلاقائی دفاعی انتظام شامل ہو جائے تودہلی کواپنی تزویراتی منصوبہ بندی میں اضافی عناصرشامل کرنا ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیاکے بعض سابق سفارت کاراوردفاعی تجزیہ کاراسے منفی پیش رفت قراردے رہے ہیں۔مگراس کاایک دوسراپہلوبھی ہے۔اگراجتماعی دفاع کامقصد جارحیت کوروکنا ہےتوشاید اس کا نتیجہ جنگ میں اضافہ نہیں بلکہ جنگ کےامکانات میں کمی بھی ہو سکتاہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات تلواریں نیام میں اسی وقت رہتی ہیں جب دونوں جانب انہیں نکالنے کی قیمت کاپوراادراک موجودہو۔

ترکی کے صدرراردوان نے معاہدے کےبعد واضح کیاکہ اس کامقصد کسی ملک کونشانہ بنانانہیں۔یہ وضاحت غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔بین الاقوامی قانون میں ریاستوں کے درمیان دفاعی معاہدے اورجارحانہ اتحادمیں بنیادی فرق مقصداورقانونی جوازکاہے۔اردوان نے معاہدے کواقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل51کےتحت حقِ دفاع سے منسلک کیا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کواپنے سرکاری بیانیے میں کسی مخصوص ریاست کےخلاف محاذآرائی کے طورپر پیش نہیں کیاجارہا۔

یہاں ترکی کی سفارتی حکمتِ عملی بھی قابلِ توجہ ہے۔انقرہ ایک طرف پاکستان اورسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھارہاہے، دوسری طرف اس نے دروازہ دوسرے دوست ممالک کیلئےبھی کھلارکھنے کااشارہ دیاہے جوخطے میں امن،خوشحالی اوراستحکام چاہتے ہیں۔اتحادکسی دشمن کے خلاف نہیں،سلامتی کے ایک مشترکہ تصورکیلئےہے۔یہ زبان ایک وسیع ترعلاقائی تصورکی طرف اشارہ کرتی ہے۔اگریہ تصورعملی سیاست میں بھی برقراررہتاہے تومعاہدہ تصادم کی بجائے علاقائی استحکام کاذریعہ بن سکتاہے۔

سوشل میڈیا پرانڈین تجزیہ کاروں کاردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ مکہ کامعاہدہ دہلی کے فکری اورتزویراتی حلقوں میں سنجیدگی سے لیاجارہاہے۔یہ سوال کہ“کیامودی اگلے انتخابات سے پہلےپاکستان پرحملہ کرنے کی جرأت کرے گا؟”دراصل صرف ایک سیاسی جملہ نہیں؛یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ بعض انڈین حلقے اس معاہدے کوپاکستان کےخلاف مستقبل کی فوجی کارروائی کی لاگت بڑھانے والےعنصر کے طورپردیکھ رہے ہیں۔سابق سیکریٹری خارجہ کنول سیبال کی جانب سے متحدہ عرب امارات،اسرائیل،یونان اور قبرص کے ساتھ امکانات تلاش کرنے اورافغانستان وایران سے مشاورت کی بات دراصل دہلی کی ممکنہ جوابی صف بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

یہاں سے معاملہ مزیدوسیع ہوجاتا ہے۔اگر پاکستان،سعودی عرب اورترکی کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط ہوتاہے اوراس کے جواب میں انڈیااپنی سفارتی ودفاعی شراکت داری کواسرائیل ،خلیجی ریاستوں،یونان، قبرص اوردیگرممالک تک پھیلانے کی کوشش کرتاہےتو مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاکی سیاست ایک دوسرے سے مزید گہرائی میں جڑسکتی ہے۔یہ رائے بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہےکہ مغربی ایشیامیں امریکی فوجی موجودگی کےمستقبل اورعلاقائی سلامتی کے نئےڈھانچےکےتناظرمیں یہ معاہدہ ایک وسیع ترتبدیلی کا حصہ ہے۔

لیکن یہاں ایک سوال سب سے زیادہ اہم ہے کیاایران اس نئے توازن کواپنے لیے خطرہ سمجھے گا،یااسے خطے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی کے مقابل ایک مقامی انتظام کےطورپردیکھے گا؟اوراس سے بھی آگے کیاانڈیااس نئے ماحول کامقابلہ محض نئےاتحادبناکر کرے گا،یااپنی پاکستان پالیسی پربھی ازسرِنو غور کرے گا؟

دنیاکی تاریخ میں طاقت کےبڑے مراکزہمیشہ ایک جگہ قائم نہیں رہتے۔کبھی بحیرہ روم مرکزبنتاہے،کبھی یورپ،کبھی واشنگٹن،کبھی ماسکواورکبھی ایشیاکے افق پرنئی قوتیں ابھرتی ہیں۔مگر اکیسویں صدی کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ طاقت اب صرف فوجی اڈوں اور ایٹمی ہتھیاروں میں نہیں رہتی؛وہ معیشت، ٹیکنالوجی،سفارت کاری،توانائی،جغرافیہ اورباہمی اعتمادکے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔مکہ کادفاعی معاہدہ اسی بدلتی ہوئی دنیاکی ایک علامت کے طورپر دیکھا جاسکتاہے۔

یہ نہ ابھی“مسلم نیٹو”ہے،نہ اسے کسی نئےفوجی بلاک کاقطعی نام دیاجاسکتاہے۔اس کی اصل اہمیت اس امکان میں ہے کہ تین اہم مسلم ممالک اپنی سلامتی کوایک دوسرے سے جوڑنے کی طرف قدم بڑھارہے ہیں۔پاکستان کیلئےیہ معاہدہ دفاعی تعاون سے زیادہ تزویراتی گہرائی کاسوال ہے۔سعودی عرب کیلئےیہ اپنی سلامتی کے نئے علاقائی تصورکاحصہ ہوسکتاہے ۔ترکی کیلئےیہ اپنےبڑھتےہوئے علاقائی کردارکوایک نئی سمت دینے کاموقع ہے اورانڈیاکیلئےیہ ایک ایسے ماحول کاآغازہے جس میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی مستقبل کےتصادم کا حساب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتاہے۔

لیکن تاریخ کاسبق یہ ہے کہ اتحاداپنی اصل آزمائش جنگ میں نہیں،جنگ کوروکنے کی صلاحیت میں ہے۔اگرمکہ کامعاہدہ اس مقام تک پہنچ جاتاہے جہاں اس کی موجودگی ہی کسی فریق کوجنگ شروع کرنے سے پہلے سوبارسوچنے پرمجبورکرے،توشایداس کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی۔کیونکہ حقیقی طاقت وہ نہیں جوجنگ جیتنےکےبعددکھائی دے؛حقیقی طاقت وہ ہےجوجنگ کوشروع ہونےسے پہلےہی بے معنی بنادے۔اورشایدیہی وہ مقام ہے جہاں مکہ کی اس نئی سفارتی داستان کاسب سے گہرامفہوم پوشیدہ ہے۔یہ کسی دشمن کےخلاف تلواراٹھانے کااعلان نہیں،بلکہ شاید تلواراٹھنے سے پہلے ہاتھ روک دینے کی کوشش ہے۔

تاہم تاریخ ابھی خاموش ہے۔مستقبل کے صفحات ابھی سفیدہیں۔یہ معاہدہ ان صفحات پرامن کی عبارت لکھتاہے یاطاقت کےایک نئےباب کا عنوان بنتاہے —اس کافیصلہ آنے والاوقت کرے گا۔مگرایک بات واضح ہے کہ مکہ میں ہونے والی اس پیش رفت نےجنوبی ایشیا،خلیج اورمشرقِ وسطیٰ کےجغرافیہ کوایک ہی تزویراتی نقشے پرلا کھڑاکیاہے۔اورجب جغرافیہ،تاریخ اورطاقت ایک مقام پرجمع ہوجائیں تو پھرایک معاہدہ صرف معاہدہ نہیں رہتا—وہ آنے والے عہد کی تمہید بن جاتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں