One ceasefire, many fears

ایک جنگ بندی،کئی اندیشے

زمانہ جب اپنے قدم روک لیتاہے اورتاریخ سانس تھام کرکسی موڑپرٹھہرجاتی ہے،تو وہاں صرف واقعات نہیں جنم لیتے بلکہ تقدیروں کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔دنیاکے نقشے پرچندخطے ایسے بھی ہیں جہاں سکوت بھی چیخ بن کرگونجتاہے اورحرکت کاہرلمحہ اپنے اندر ایک پوشیدہ ہنگامہ رکھتاہے۔مغربی ایشیااسی کیفیت کامظہرہے—ایک ایساخطہ جہاں صدیوں کی تہذیبی روایت،عقائد کی شدت،طاقت کی سیاست اورمفادات کی پیچیدگیاں ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ حال ماضی کاتسلسل اورمستقبل کاپیش خیمہ دکھائی دیتاہے۔

یہ وہ سرزمین ہے جہاں کبھی قافلے علم وحکمت کے سفرپرنکلتے تھے،اورآج وہی زمین طاقت کے تصادم کامیدان بنی ہوئی ہے۔یہاں بارودکی مہک اور مذاکرات کی سرگوشیاں ایک ساتھ چلتی ہیں؛یہاں امن کاہراعلان اندیشوں کی دبیزچادرمیں لپٹاہوامحسوس ہوتاہے۔ایسے ہی ماحول میں ایران اورامریکاکے درمیان پیداہونے والاعارضی سکون دراصل ایک گہرے اضطراب کی سطحی جھلک ہے—ایک ایسا لمحہ جس کے پسِ پردہ بے یقینی کی طویل داستان چھپی ہوئی ہے۔

یہ وقفہ نہ مکمل اطمینان ہے،نہ کھلا تصادم؛بلکہ ایک ایسی درمیانی کیفیت ہے جس میں تحمل اوربے اعتمادی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ بظاہرخاموشی ہے مگراس خاموشی کے نیچے شعلے سلگ رہے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ حالات کب بدلیں گے،بلکہ یہ ہے کہ کب یہ دبی ہوئی حرارت بھڑک کرایک نئے مرحلے کوجنم دے گی۔یہی وہ پس منظرہے جس میں اس پوری بحث کوسمجھناناگزیرہوجاتاہے—کیونکہ یہاں ہرلمحہ تاریخ کاحصہ بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔

عالمی سیاست کے افق پربعض خطے ایسے ہوتے ہیں جہاں وقت گویاٹھہرجاتاہے،مگرکشیدگی کی لہریں کبھی ساکن نہیں ہوتیں۔تاریخ کے اوراق جب اپنے سینے میں چھپے ہوئے رازوں کو زبان دیتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ اقوام کی تقدیرصرف تلوارکی دھارسے نہیں بلکہ حکمت کی ترازومیں تولی جاتی ہے۔دنیاکے سیاسی منظرنامے میں بعض خطے ایسے ہوتے ہیں جہاں خاموشی بھی شورمچاتی ہےاورہر جنبش اپنے اندرایک طوفان چھپائے ہوتی ہے۔مغربی ایشیاانہی خطوں میں شامل ہے،جہاں قوت،عقیدہ،مفاداورتاریخ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ ہرنیاواقعہ پرانے تنازعات کی بازگشت معلوم ہوتاہے۔

مشرقِ وسطیٰ،جوصدیوں سے تہذیبوں کاگہوارہ اورطاقتوں کامیدانِ کشمکش رہاہے،آج پھرایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں بارودکی بواور سفارتکاری کی خوشبو باہم دست وگریباں نظرآتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ بھی ایک ایساہی خطہ ہے جہاں طاقت،عقیدہ،مفاداورتاریخ ایک دوسرے سے اس طرح گتھے ہوئے ہیں کہ ہرواقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک عہدکی بازگشت محسوس ہوتا ہے ۔ایران اورامریکا کے مابین حالیہ جنگ بندی اسی کشاکش اورتسلسل کی ایک نازک کڑی ہے— ایک ایسی کڑی جوبظاہرامن کی علامت ہے مگرباطن میں اضطراب کااستعارہ۔جس کے ہرسرے پرمفادات،خدشات اورعزائم کی گرہیں بندھی ہوئی ہیں۔ایران اورامریکاکے درمیان حالیہ مفاہمتی وقفہ اسی پیچیدہ داستان کاایک باب ہے—ایساباب جس میں سکون کی سطح کے نیچے بے چینی کی موجیں تھرتھرا رہی ہیں۔

جنگ بندی اگرچہ وقتی سکون کاپیام لاتی ہے،مگرجب اس کی بنیادانصاف کے بجائے مصلحت پررکھی جائے تووہ ریت کی دیوارثابت ہوتی ہے۔جنگ بندی محض گولیوں کی خاموشی کانام نہیں،بلکہ وہ ایک ایسامعاہدہ ہے جس کے پیچھے اعتماد،توازن اورباہمی مفادکی روح کارفرماہوتی ہے۔جب کسی معاہدے کی بنیاد باہمی اعتمادکی بجائے وقتی ضرورت پررکھی جائے تووہ دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔جب یہ روح مفقودہوجائے توجنگ بندی ایک کمزورشاخ کی مانندہوجاتی ہے،جو کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی ہے۔ ایران اورامریکاکے مابین جوعارضی ٹھہراؤپیداہواہے،وہ دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کووقتی طور پرسہہ تورہے ہیں، مگر دلوں میں بدگمانی کی آگ سلگ رہی ہے۔ایران اورامریکاکے درمیان موجودہ جنگ بندی بھی اسی اصول کی مظہر ہے۔یہی کیفیت اسے کمزوراورغیرمستحکم بناتی ہے۔دونوں فریق ایک دوسرے کووقتی طورپربرداشت توکررہے ہیں،مگریہ برداشت ایک بوجھ بن چکی ہے—ایسابوجھ جسے زیادہ دیرتک اٹھاناممکن نہیں۔ایران اورامریکاکے درمیان موجودہ جنگ بندی اسی داخلی کمزوری کا شکاردکھائی دیتی ہے،جہاں ہرفریق دوسرے کی نیت پرشک کی دبیزتہیں چڑھائے بیٹھاہے۔

ایران اورامریکاکے مابین جوعارضی ٹھہراؤپیداہواہے،وہ دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کووقتی طور پرسہہ تورہے ہیں، مگر دلوں میں بدگمانی کی آگ سلگ رہی ہے۔یہی کیفیت اسے کمزوراورغیرمستحکم بناتی ہے۔اس لیے یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ابھرتاہےکہ آخریہ جنگ بندی کب تک قائم رہ سکتی ہے؟

اپریل اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی ابھی سفارتی کاغذوں سے نکل کرزمینی حقیقت میں ڈھل بھی نہ پائی تھی کہ خلیج کے افق پر دھواں اٹھنے لگا۔جنگ بندی ابھی پوری طرح سانس بھی نہ لے سکی تھی کہ خلیج کے نیلگوں پانیوں میں آگ برسنے لگی۔امریکی ہیلی کاپٹر کاگرایاجاناگویا ایک چنگاری تھی جس نے سفارتی پردے کے پیچھے چھپی ہوئی آگ کونمایاں کردیا۔یہ واقعہ محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ اعتمادکے انہدام کی علامت تھا۔گویاسمندری حدودمیں اس فضائی حادثہ نے قائم ہونے والاسکون کی دھجیاں اڑادیں جس نے حالات کویکسربدل دیا۔

اس واقعے کے بعدطاقت کے مظاہرے کاسلسلہ شروع ہوا،جس میں ایک طرف حملے اوردوسری جانب ردعمل نے صورتحال کومزید الجھادیا۔اس سے واضح ہواکہ امن کایہ وقفہ محض ایک پردہ تھاجس کے پیچھے کشیدگی زندہ تھی۔امریکاکے جوابی حملے اورایران کے ردعمل نے یہ واضح کردیاکہ یہ خاموشی عارضی ہے ، اوراس کے نیچے لاوے کی طرح ابلتی ہوئی کشیدگی موجودہے۔امریکاکی جانب سے ایرانی اہداف پرحملے اورایران کی طرف سے بحرین،اردن اوردیگر مقامات پرجوابی کارروائیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ جنگ بندی کے پردے کے پیچھے بداعتمادی کی ایک پوری داستان چھپی ہوئی ہے۔

اس کشمکش کاایک اہم پہلووہ تصادم ہے جوایران اوراسرائیل کے درمیان رونماہوا۔ایران کی جانب سے اسرائیل پرمیزائل حملہ اوراس کے جواب میں اسرائیلی فضائی کارروائی نے اس تنازع کوایک نئے زاویے سے پیش کیا۔ایک جانب سے میزائل داغے گئے اوردوسری طرف سے فضائی کارروائیوں کاسلسلہ شروع ہوا۔ایران اوراسرائیل کے درمیان حالیہ جھڑپ نے اس تنازع کومزیدپیچیدہ بنادیاہے۔ایران کا میزائل حملہ اوراسرائیل کافضائی ردعمل دراصل ایک طویل عرصے سے جاری مخاصمت کانیاباب ہے۔یہ صورتحال اس امرکی غمازی کرتی ہےکہ یہ تنازع صرف دوممالک تک محدودنہیں بلکہ پورے خطےکی سیاست کواپنی گرفت میں لیےہوئے ہے۔یہ محض دو ریاستوں کاتصادم نہیں بلکہ ایک وسیع ترجغرافیائی سیاست کااظہارہے،جہاں ہرحملہ ایک پیغام ہوتاہے اورہرجواب ایک اعلان۔یہ تصادم صرف دو ریاستوں کےدرمیان نہیں بلکہ دونظریاتی دھاروں کےدرمیان بھی ہے،ایک طرف مزاحمت کابیانیہ،اور دوسری طرف سکیورٹی کا تصور۔

جب بندوقیں خاموش ہوتی ہیں تو زبانیں بولنے لگتی ہیں، اور کبھی کبھی یہ زبانیں بندوقوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔سیاسی قیادت کے بیانات اس تناؤ کومزیدواضح کرتےہیں۔ایک طرف سخت الفاظ کااستعمال اوردوسری جانب جوابی دعوے دراصل ایک ایسی نفسیاتی حکمت عملی کاحصہ ہیں جس کامقصدحریف کومرعوب کرنااوراپنے مؤقف کومضبوط دکھاناہے۔یہ بیانات بسااوقات عملی اقدامات سےزیادہ اثررکھتےہیں۔

امریکی صدرکے سخت بیانات اورایرانی قیادت کے جوابی اعلانات دراصل ایک نفسیاتی جنگ کاحصہ ہیں۔ان بیانات کامقصدصرف مخالف کوخبردارکرنانہیں بلکہ اپنے عوام کومطمئن کرنا اورعالمی سطح پراپنی پوزیشن مضبوط کرنابھی ہوتاہے۔امریکی صدرکایہ کہناکہ “ایران کوقیمت چکاناہوگی”اورایرانی وزیرخارجہ کایہ اعلان کہ”ہرحملے کاجواب دیاجائےگا”، دراصل اس بیانی جنگ کا حصہ ہیں جس میں الفاظ گولیوں کاکام دیتے ہیں۔یہ بیانات نہ صرف داخلی سیاست کیلئےہوتے ہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کومتاثرکرنے کاذریعہ بھی بنتے ہیں۔

تھنک ٹینکس اورتجزیہ کارکی آراءاس امرکی نشاندہی کرتی ہیں کہ موجودہ جنگ بندی نے اصل تنازع کے بنیادی اسباب کوحل نہیں کیا۔ پابندیاں،بحری ناکہ بندی،علاقائی مداخلتیں،اور خطے میں اس کے اتحادیوں پرحملے —یہ سب وہ عناصر ہیں جواس تنازع کوزندہ رکھتے ہیں اوراس آگ کوٹھنڈاہونے نہیں دیتے ۔ اس عارضی سکون کے باوجوداصل مسائل جوں کے توں موجودہیں۔ایران کے نزدیک یہ ایک ایسا بندوبست ہے جس میں امریکابالادستی برقراررکھتے ہوئے جنگ سےگریزکرتے ہوئے دباؤڈال رہاہے،جوکہ ایک”نرم جنگ”کی صورت اختیارکر چکاہے۔ایران اسے ایک غیرمنصفانہ نظام سمجھتاہے۔جب تک وہ تمام عوامل جواس تنازع کی ج میں شامل ہیں،ان کاحل تلاش نہیں کیاجاتا،کسی بھی مفاہمت کی کامیابی مشکوک رہے گی۔

ایران کویہ اندیشہ لاحق ہےکہ اگرامریکاکم شدت کے ساتھ مسلسل دباؤبرقراررکھتاہے تویہ ایک مستقل پالیسی خطرناک حکمت عملی بن جائے گی۔اس صورت میں ایران کی علاقائی حیثیت بتدریج کمزورہوسکتی ہے،جواس کے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف ہے جس سے اس کے علاقائی مفادات کونقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔یہی خوف ایران کومزیدمحتاط اوربسااوقات جارحانہ رویہ اختیارکرنے پرمجبورکرتا ہے۔

کسی بھی ملک کی قیادت کیلئےبیرونی تعلقات کاتعین کرتے وقت داخلی عوامل کونظراندازکرناممکن نہیں ہوتا۔ہرریاست کی خارجہ پالیسی اس کی داخلی سیاست سے جڑی ہوتی ہے۔ایران کی قیادت بھی اس حقیقت سے مستثنیٰ نہیں ۔ایران میں بھی عوامی جذبات،انقلابی ورثہ اور قومی وقارایسےعناصر ہیں جوفیصلہ سازی کومتاثرکرتےہیں۔ایرانی قیادت کیلئےیہ ایک نازک مرحلہ ہے ۔اگروہ نرمی دکھاتی ہے توداخلی سطح پرکمزوری کاتاثرپیداہوسکتاہے،اوراگرسختی اختیارکرتی ہے توجنگ کاخطرہ بڑھ سکتاہے۔ عوامی توقعات،انقلابی بیانیہ،اورقومی وقار—یہ سب عوامل قیادت پردباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ کسی بھی کمزوری کامظاہرہ نہ کرے۔یہ وہ باریک لکیرہے جس پرچلناہرقیادت کے بس کی بات نہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کی قیادت کسی بھی کمزوری کاتاثردینے سے گریزکرتی ہے اورایران جنگ بندی کے باوجود سخت مؤقف اختیارکیے ہوئے ہے۔

اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کاکردارنہایت اہم ہے اوروہ ایک فعال کرداراداکررہاہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اس جنگ بندی کیلئےسب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اس کی حکمت عملی ایران کوعلاقائی طاقت کے طورپرابھرنے سے روکناہے۔وہ ایران کوایک وجودی خطرہ سمجھتاہے اورکسی بھی ایسے انتظام یامعاہدے کوقبول کرنے کیلئےتیارنہیں جوایران کو مضبوط کرے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کوسبوتاژکرنے کی کوشش کرتاہے جو ایران کیلئےفائدہ مندہو۔اس لیے وہ سفارتی کوششوں کوناکام بنانے کیلئے سرگرم رہتاہے۔اس کاہر قدم اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وہ اس خطے میں طاقت کے توازن کواپنے حق میں رکھناچاہتاہے۔جس کیلئے وہ ہروقت سفارتی کوششوں میں خلل ڈالنے کی حکمت عملی اپناتاہے تاکہ اپنے مفادات کاتحفظ کرسکے۔

اگرچہ اسرائیل کے پاس جدیدعسکری وسائل موجودہیں اوروہ ایک مضبوط عسکری طاقت ہے،مگرطویل جنگ اس کیلئےبھی ایک چیلنج ہے۔اسرائیلی ماہرین خوداس حقیقت کااعتراف کرتے ہیں کہ وہ طویل جنگ تنہانہیں لڑسکتے،وہ تنہاایک طویل تنازع کابوجھ نہیں اٹھا سکتے۔اس کی عسکری طاقت اگرچہ نمایاں ہے ، مگروسائل محدودہیں۔اسلحہ،وسائل اورانسانی قوت—یہ سب محدودہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ بیرونی حمایت،خصوصاًامریکاکی مددپرانحصارکرتاہے۔اگرچہ امریکا ظاہر سرائیل کی حمایت کرتا ے، یکن بعض مواقع پر س کے مفادات مختلف ہوسکتے ہیں ۔ٹرمپ کااسرائیل کی کارروائیوں سے لاتعلقی ظاہرکرنااسی پیچیدگی کی عکاسی کرتاہے۔

امریکااوراسرائیل کے تعلقات مضبوط ہیں اورامریکابظاہراسرائیل کی حمایت کرتاہے لیکن بعض مواقع پراس کے مفادات مختلف ہو سکتے ہیں،کیونکہ ان میں بھی مفادات کی کشمکش موجود ہے۔ٹرمپ کااسرائیل کی کارروائیوں سے لاتعلقی ظاہرکرنااسی پیچیدگی کی عکاسی کرتاہے۔بعض مواقع پرامریکاوسیع ترعلاقائی بھی مفادات کی کشمکش موجودہے۔ٹرمپ کااسرائیل کی کارروائیوں سے لاتعلقی ظاہرکرنااسی پیچیدگی کی عکاسی کرتاہے۔بعض مواقع پرامریکاوسیع ترعلاقائی استحکام کترجیح دیتا ہے،جبکہ اسرائیل اپنی فوری سکیورٹی کو۔یہی تضادبعض اوقات پالیسی میں ابہام پیداکرتاہے اورپالیسی سازی میں پیچیدگی پیداکرتاہے۔

بھی مفادات کی کشمکش موجودہے۔ٹرمپ کااسرائیل کی کارروائیوں سے لاتعلقی ظاہرکرنااسی پیچیدگی کی عکاسی کرتاہے۔بعض مواقع پرامریکاوسیع ترعلاقائی یہ تصورکہ کشیدگی ہمیشہ منفی ہوتی ہے،مکمل طورپردرست نہیں۔بعض اوقات ریاستیں کشیدگی کوبطورحکمت عملی استعمال کرتی ہیں تاکہ اپنی پوزیشن مضبوط کرسکیں۔ایران بھی اسی اصول پرکاربنددکھائی دیتاہے۔یہ کشیدگی محض حادثاتی نہیں بلکہ ایک سوچاسمجھا عمل بھی ہوسکتی ہے۔ایران دباؤ کوبرداشت کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہاہے۔محدودحملے اورجوابی کارروائیاں دراصل ایک پیغام ہیں کہ وہ دباؤبرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ ایران کیلئےمحدودحملے ایک”پیغام”ہیں،نہ کہ مکمل جنگ کی تمہید۔

ایران کی حکمت عملی سادہ ہے اوراس کی حکمت عملی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگردشمن کیلئےجنگ سستی ہے تواسے مہنگی بنادو ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کی قیمت بڑھائی جائے،اور وہ اسے بارباردہرائے گا۔یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے میں ایسی کارروائیاں کرتاہے جن سے مخالفین کوزیادہ نقصان کاخدشہ لاحق ہواورجومخالف کیلئےخطرات میں اضافہ کریں۔اس مقصد کیلئےوہ مختلف طریقوں سے ایسے حالات پیداکرتاہے۔یہ فلسفہ تاریخ میں کئی بارکامیاب ثابت ہواہے۔

امریکااس کھیل کاسب سے طاقتورکھلاڑی ہے اوراس تمام صورتحال میں امریکاکاکردارنہایت اہم اورکلیدی حیثیت رکھتاہے۔اگروہ چاہے توجنگ بندی کو مضبوط بناسکتاہے،اوراگرنظرانداز کرے تویہ لمحوں میں ٹوٹ سکتی ہے۔اس کااثرورسوخ ہی اس تنازع کی سمت کاتعین کرتاہے۔اس کے پاس وہ وسائل، اثرورسوخ اورطاقت موجودہے جواس تنازع کی سمت کاتعین کر سکتی ہے اگروہ سنجیدگی سے سفارت کاری کوفروغ دے اوراپنی طاقت کودانشمندی سے استعمال کرے توصورتحال بہترہوسکتی ہے،ورنہ کشیدگی میں اضافہ ناگزیرہے۔

تمام ترعوامل اس امرکی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی ایک نازک دھاگے سے بندھی ہوئی ہے۔اگرسفارت کاری کومحض ایک پردہ سمجھاگیاتو ایران اپنی حکمت عملی بدل سکتا ہے،جس سے کشیدگی ایک نئے اورزیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔کسی ایک فریق نے بھی حدسے تجاوزکیاتویہ توازن بگڑسکتاہے۔اگرفریقین نے احتیاط کادامن چھوڑدیاتویہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتاہے،جوپہلے سے زیادہ پیچیدہ اورخطرناک ہوگا۔اس لیے سفارت کاری ہی واحدراستہ ہے،مگرشرط یہ ہے کہ اسے خلوصِ نیت سے اپنایاجائے۔

تاریخ کی عدالت میں وہی اقوام سرخروہوتی ہیں جوطاقت کے ساتھ حکمت کوبھی بروئے کارلاتی ہیں اورطاقت کااصل حسن اس کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ضبط میں ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں میں جیتی اورہاری جاتی ہیں۔ایران اورامریکاکے درمیان یہ کشمکش بھی اسی اصول کی عکاس اوراسی آزمائش کاحصہ ہے ۔اگرفریقین نے اس کشیدگی کودانش مندی،حکمت،صبراوردوراندیشی سے نہ سنبھالاتویہ آگ نہ صرف خطے کوبلکہ پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔اگر فریقین نے صبر،تدبراور بصیرت کاراستہ اختیارکیاتویہی بحران ایک نئے توازن اورپائیدارامن کی بنیادبھی بن سکتاہے اورسفارت کاری کوصدقِ دل سے اپنایاگیاتوشاید یہ تنازع ایک نئےتوازن کی بنیادبن سکےوگرنہ بصورتِ دیگریہ خطہ ایک طویل بےچینی کی گرفت میں رہ سکتاہے۔

جب ہم اس تمام منظرنامے پرنظرڈالتے ہیں تویوں محسوس ہوتاہے کہ ہم ایک ایسے پل پرکھڑے ہیں جس کے ایک جانب تدبرکاراستہ ہے اوردوسری جانب تباہی کی کھائی۔حالات کی نزاکت اس امرکی متقاضی ہے کہ فیصلے جذبات کی بجائے بصیرت کے ساتھ کیے جائیں، کیونکہ طاقت کابے مہار استعمال ہمیشہ آگ کوہوادیتاہے،جبکہ ضبط اورحکمت اسے راہ دکھاتے ہیں۔یہ کشمکش ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیاکی بڑی لڑائیاں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ارادوں،حکمت عملیوں اورذہنی استقامت میں طے ہوتی ہیں۔اگرفریقین نے اپنی روش میں اعتدال پیدانہ کیاتویہ تناؤایک ایسے دائرے میں داخل ہوسکتاہے جہاں سے واپسی دشوارہوجائےگی لیکن اگردوراندیشی کورہنمابنایاجائے،تویہی بحران ایک نئے توازن کی بنیادبھی رکھ سکتا ہے۔

فیصلہ اب بھی انسان کے ہاتھ میں ہے—وہ چاہے توتاریخ کوایک اورالمیے میں ڈھال دے،یااسے ایک نئی حکمت کی مثال بنادے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں طاقت کے ساتھ شعور،اور مفادکے ساتھ انصاف کوہم آہنگ کرناناگزیرہے۔بصورتِ دیگر،جوآگ آج سرحدوں تک محدود ہے،وہ کل انسانیت کے دامن تک پہنچ سکتی ہے۔او اگردانائی غالب آگئی،تویہی کشیدگی کل امن کی ایک پائیدارتعبیرمیں بدل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں