یہ دنیا،جوکبھی تہذیبوں کی آماجگاہ تھی،آج مفادات کے جنگل میں بدلتی جارہی ہے۔کبھی یہاں قافلے امن کے ترانے گاتے گزرتے تھے، اورعلم وحکمت کے چراغ ہرسمت روشن تھے ،مگراب فضاؤں میں بارودکی بوہے اورافق پراٹھتے ہوئےدھوئیں کے بادل انسانیت کے چہرے کودھندلارہے ہیں۔بظاہرسب کچھ معمول کے مطابق ہے—خبریں،بیانات،سفارتی لب ولہجے—مگراس ظاہری سکون کے نیچے ایک ایسی ہلچل برپاہے جوتاریخ کے کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ عہدمحض جنگوں کانہیں،بلکہ بیانیوں کاعہد ہے۔وہ بیانیے جوحقیقت کوپردۂ اخفامیں رکھتے ہیں اورانسان کواس کی اپنی بصیرت سے محروم کردیتے ہیں۔ہمیں بتایاجاتاہے کہ جنگیں امن کیلئےہیں،مداخلتیں استحکام کیلئےہیں،اورتباہی دراصل تعمیرکاپیش خیمہ ہےمگر سوال یہ ہے کہ اگریہ سب کچھ امن کیلئےہے،توپھر دنیا کے کونے کونے میں بے چینی کیوں ہے؟اگریہ سب استحکام کیلئےہے،توپھر انسان کی بنیادیں کیوں ہل رہی ہیں؟
یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جوبظاہرمختلف واقعات کامجموعہ لگتی ہے،مگردرحقیقت ایک ہی نقشے کے مختلف رنگ ہیں۔ایک ایسانقشہ جس میں طاقت کاایک مرکزپوری دنیاکو اپنے گردگھماناچاہتاہے—ایک ایساتصورجسے بعض حلقے“ون ورلڈآرڈر”کے نام سے تعبیرکرتے ہیں۔یہ تصورمحض ایک سیاسی اصطلاح نہیں،بلکہ ایک ایساخواب ہے جس میں ایک ہی قوت دنیاکے وسائل،معیشت،اورحتیٰ کہ فکروشعورپراپنی گرفت مضبوط کرناچاہتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دل لرزتاہے اورروح سوال کرتی ہے:کیاانسان واقعی اتنابے بس ہوچکا ہے کہ چندطاقتورہاتھ اس کے مقدرکافیصلہ کریں؟کیادنیاایک ایسے موڑپر کھڑی ہےجہاں انصاف کی جگہ مفاد،اوراخلاق کی جگہ طاقت نے لے لی ہے؟
اگرہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تویہ کوئی نئی داستان نہیں۔ہردورمیں کچھ طاقتیں ایسی ابھریں جنہوں نے اپنے اقتدارکو دوام دینے کیلئےدنیا کواپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔مگرآج کامنظراس لیے مختلف ہے کہ اب یہ عمل زیادہ منظم،زیادہ خاموش،اور زیادہ ہمہ گیرہوچکاہے۔اب جنگیں صرف میدانوں میں نہیں ہوتیں،بلکہ معیشت،توانائی،اطلاعات اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔
یہی وہ پس منظرہے جس میں ہمیں حالیہ عالمی واقعات کودیکھناہوگا۔یہ محض حادثات نہیں،بلکہ ایک تسلسل کاحصہ ہیں۔ایک ایسی حکمتِ عملی کاحصہ،جس کامقصد دنیاکے وسائل پر بتدریج کنٹرول حاصل کرناہے—چاہے اس کیلئےکتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں،چاہے کتنے ہی خطے خاکسترکیوں نہ ہوجائیں۔
صوفیاء کہتے ہیں کہ دنیاایک سراب ہے—جودکھائی دیتاہے وہ حقیقت نہیں،اورجوحقیقت ہے وہ اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔آج کی سیاست بھی اسی سراب کاعکس معلوم ہوتی ہے۔ہمیں جودکھایاجارہاہے،وہ شایداصل نہیں۔اورجواصل ہے،وہ ہماری نگاہوں سے چھپادیا گیاہے۔
یہ تحریراسی سراب کوچاک کرنے کی ایک کوشش ہے—کہ ہم واقعات کوان کے ظاہری خول سے نکال کردیکھیں،اوراس حقیقت کو پہچانیں جوان کے پس پردہ کارفرماہے۔کیونکہ جب تک ہم حقیقت کونہیں سمجھیں گے،ہم نہ اپنی رائے قائم کرسکیں گے،نہ اپنے مستقبل کادرست تعین کرسکیں گے۔یہ ایک دھند میں لپٹی ہوئی دنیاکانوحہ ہے جوعدل وانصاف کی تلاش میں دربدرٹھوکریں کھارہاہے۔
ہردورِتاریخ میں جب ایک نئی طاقت کی آمدہوتی ہے،توپرانی طاقتیں بے ساختہ ردعمل کامظاہرہ کرتی ہیں۔دنیاکے افق پرجب بھی سیاست کے بادل گہرے ہوتے ہیں تونگاہیں ہمیشہ بجلی کی چمک پرمرکوزرہتی ہیں،بادلوں کے اندراٹھنے والی حرارت پرنہیں۔بلکہ دنیاکے سیاسی افق پرآج ایک نیاطوفان اُبھرتادکھائی دے رہاہے،جوبظاہرایران یااسرائیل کے مسائل کی صورت میں نظرآتاہے،لیکن حقیقت کی پرتیں کہیں اورچھپی ہیں۔ہردورکی طرح،جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت اپنی رفتارسے موجودہ عالمی نظام کے کناروں تک پہنچتی ہے،تو پرانی طاقتیں ناخودآگاه ردعمل کامظاہرہ کرتی ہیں۔
آج بھی یہی حال ہے۔کہیں ایران کاذکرہے،کہیں اسرائیل کاشور،مگرحقیقت کاقافلہ ان گلیوں سے گزرکرکسی اورسمت جارہاہے۔موجودہ عالمی منظرنامہ اس اصول کاعملی عکس ہے۔آج کل،بین الاقوامی مباحث کامحور ایران یااسرائیل دکھائی دیتاہے،لیکن حقیقت کی تہہ کچھ اورہی منظرپیش کرتی ہے۔ہرچراغ جس کی روشنی عوام کی نگاہوں میں پڑتی ہے،کبھی کبھاراصل راہوں کوچھپائے رکھتاہے۔تاریخ کا تجربہ یہ بتاتاہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس پرمہرے سامنے چلتے ہیں مگراصل ارادہ پسِ پردہ چھپارہتاہے۔
میں یہاں دوواقعات کے آئینے میں عالمی حکمت عملی کی اس حقیقت کوآشکارکرنے کاقصدرکھتاہوں۔ہم واقعات کونہیں،ان کے درمیان موجودربط کودیکھیں ؛ شورکونہیں،اس کے پیچھے چھپی خاموش حکمتِ عملی کوسنیں۔ اس رپورٹ کی صداقت کیلئے میں ان جغرافیائی، اقتصادی اورسیاسی پیچیدگی کے پردے کوہٹانے کی کوشش کروں گاجس کی روشنی میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی،چین کی اقتصادی بالادستی اورتوانائی کی عالمی سپلائی کے تعلقات واضح ہوسکیں اورہم صحیح نتائج اخذکرسکیں۔
امریکانے وینزویلامیں ایک متنازعہ آپریشن انجام دیا،جس کے نتیجے میں صدرمادوروگرفتارہوئے۔وینزویلاکاواقعہ بظاہرایک سیاسی تبدیلی تھامگردرحقیقت یہ اقتصادی شریان پرلگنے والی ایک کاری ضرب تھی۔جب صدرمادوروکواقتدارسے ہٹایاگیاتودنیانےاسے جمہوریت کی فتح قراردیا۔کسی نے تالیاں بجائیں،کسی نے قانونی موشگافیاں کیں،مگراس سوال کی طرف کم ہی توجہ گئی کہ اس تبدیلی کااصل اثرکہاں پڑا۔عوامی منظرنامے میں یہ’’آمرکازوال‘‘کہاگیا،کچھ نے خوشی کے طورپرتالیاں بجائیں،اورکچھ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پراعتراض کیا۔
لیکن اس سوال پرکسی نے غورنہیں کیاکہ وینزویلاکے تیل کاسب سے بڑاصارف کون تھا؟جواب روشن ہے چین۔وینزویلاروزانہ80ہزار بیرل تیل براہِ راست چین کوفروخت کررہاتھاجس سے چین کاعظیم اقتصادی انجن چل رہاتھا۔مادوروکے ہٹانے کے ساتھ،چین کی پائپ لائن کاٹ دی گئی اورتوانائی کے اس بہاؤکویکدم روک دیاگیا۔وینزویلاکاتیل صرف ایک وسیلہ نہیں تھا،بلکہ چین کے صنعتی بدن میں دوڑنے والاوہ خون تھاجواس کی معیشت کوزندگی بخشتاتھا۔ روزانہ8لاکھ بیرل تیل کابہاؤاچانک رک جاناایساتھا جیسے کسی دریاکامنبع خشک کردیاجائے۔
یوں سمجھ لیں کہ تاریخ کبھی شورمچاکر نہیں بدلتی،بلکہ خاموشی سے اپنی سمت بدلتی ہے—اورجب انسان کوخبر ہوتی ہے تونقشہ بدل چکاہوتاہے۔یہ محض سیاسی کارروائی نہیں،بلکہ ایک حکمت عملی کی ابتداتھی جس میں عالمی طاقتیں چین کے ابھرتے ہوئے اقتصادی کردارکومحدودکرنے کی کوشش کررہی تھیں۔یہ واقعہ ایک استعارہ کے طورپر بیان کرتاہے کہ طاقت کی جنگ ہمیشہ محض سیاسی چالوں تک محدودنہیں رہتی،بلکہ اقتصادی قوت کے نشیب وفراز سے بھی منسلک ہے۔
ایران کاواقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔امریکا اوراسرائیل نے ایران پرحملہ کیااورخامنہ ای کے ساتھ ساری اعلیٰ قیادت کو ہدف بناکرساری دنیامیں سفاکی اورتشویش کی لہر دوڑادی ۔دنیاکے ایک حصے نے اسے جوہری خطرے کے خاتمے کے طورپردیکھا، دوسروں نے بین الاقوامی قوانین کی پامالی پراحتجاج کیا مگرسوال پھروہی تھااس بحران سے کس کی شہ رگ متاثر ہوئی؟کسی نے یہ نہیں پوچھاکہ ایران کاسب سے بڑاتیل کاخریدارکون تھا؟وہ بھی چین۔ایران یومیہ 1.5ملین بیرل تیل براہِ راست چین کوفراہم کررہاتھا۔اس پائپ لائن کی بندش نے نہ صرف توانائی کی سپلائی متاثرکی بلکہ چین کی تجارتی اوراقتصادی حرکت کوبھی محدودکیا۔چین اچانک ایک غیریقینی کیفیت میں داخل ہوگیا۔یوں سمجھ لیجیے کہ چین کے اقتصادی قافلے کے دوبڑے چشمے یکایک خشک کردیے گئے ۔ یہاں ایک تمثیل یادآتی ہے کہ اگرکسی درخت کی جڑوں میں پانی بندکردیا جائے توشاخوں کی ہریالی دیرپانہیں رہتی۔چین کی معیشت بھی اسی آزمائش سے گزررہی ہے۔یہ دوواقعات،بظاہرالگ الگ،اصل میں ایک حکمت عملی کے جال میں جڑے ہوئے ہیں۔عالمی طاقتیں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سیاسی اور جغرافیائی بالادستی کومحدوداورقابو میں لانے کی کوششیں کررہی ہیں۔
رائے ڈالیوکانظریہ محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ تاریخ کے سینے سے نکلاہوا ایک اصول ہے،جب ایک نئی طاقت پرانی طاقت کے برابر آ کھڑی ہوتوتصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔جرمنی اور برطانیہ کی کشمکش کے بطن سے پہلی جنگ عظیم کاسانحہ ہوا،جاپان کابحرالکاہل میں امریکاسے ٹکراؤدوسری عالمی جنگ کاشاخسانہ بن گیا جہاں پہلی مرتبہ امریکانے جاپان کے دوبڑے شہروں ہیروشیمااورناگاساکی پرایٹم بم گراکرہرجاندارکوخاکسترکردیااورآج تک اس بہیمانہ ظلم اورسفاکی کے اثرات نمایاں ہیں،اورسردجنگ کے طویل سائے یعنی سوویت یونین کی امریکاکے مقابلے میں ابھرتی طاقت،جس نے دنیاکانقشہ ہی تبدیل کردیااورسوویت یونین کے بطن سے چھ اورریاستیں دنیاکے نقشے پرمعرضِ وجودمیں آگئیں—یہ سب اسی قانون کے مظاہرہیں۔روس ایک مرتبہ پھر آنکھیں دکھانے کے قابل ہورہاتھا کہ یوکرین کا پھندااس کے گلے میں ڈال دیاگیاہے۔
آج چین اسی راستے پرگامزن ہے۔اوریہی عمل جاری ہے۔عالمی طاقتیں اس ابھرتے ہوئے عظیم انجن کی توانائی کی کمزوریوں کی نشاندہی کررہی ہیں۔چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اور اس کاعالمی تیل کے بازارمیں حصہ اسی تاریخی قانون کاجدید عکس ہے۔عالمی طاقتیں اپنی برتری برقراررکھنے کیلئےچین کی توانائی کی سپلائی اورتجارتی راستوں پراثراندازہورہی ہیں۔گویافکری انداز میں یہ کہنا درست ہوگا کہ طاقت کاارتقامحض مادی نہیں ہوتا،بلکہ اس کے ساتھ ایک تہذیبی اورفکری کشمکش بھی جڑی ہوتی ہے۔یہی کشمکش آج عالمی نظام کوایک نئے موڑپرلے آئی ہے۔
چین کوایک عظیم الشان انجن تصورکیجیے—ایساانجن جودنیا کی ایک بڑی معیشت کوحرکت دے رہاہے۔مگرہرانجن کی طرح اس کی بھی ایک کمزوری ہے، ایندھن۔چین دنیاکا28فیصد تیل پیداکرتاہے،لیکن اپنی صنعتی بھوک مٹانے کیلئےزیادہ ترتیل درآمدکرتاہے۔اس کے ایندھن کی چاراہم پائپ لائنیں ہیں وینزویلا،ایران،روس اورسعودی عرب۔جبکہ ان میں سے دو کاٹ دی گئیں،ایک محدودہوگئی،اورچوتھی غیریقینی کاشکارہوگئی،تویہ انجن اپنی پوری رفتار برقرار رکھنے سے قاصرہونے لگاہے۔
دوماہ میں چین کی20فیصد تیل کی سپلائی منقطع ہوئی،اورعالمی توجہ ایران پرمرکوزہونے کے سبب اصل حکمت عملی پوشیدہ رہی۔یہ محض اقتصادی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک خاموش جنگ ہے،جس میں گولیاں نہیں بلکہ پابندیاں اورسیاسی فیصلے استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک ظاہری رخ کے پیچھے اصل حکمت عملی پوشیدہ رہی۔
چین کابیلٹ اینڈروڈمنصوبہ محض تجارت کاراستہ نہیں بلکہ عالمی اقتدارکی ایک نئی تعبیرہے۔بیجنگ سے یورپ تک پھیلاہوایہ جال اس بات کی علامت ہے کہ جوتجارت کوکنٹرول کرے گا،وہ دنیاکی نبض پرہاتھ رکھے گا۔چین نے اپنے اقتصادی نیٹ ورک کوجدیدسلک روڈ کے ذریعے یورپ تک پھیلارکھاہے،جس میں ریلوے،بندرگاہیں،اورپائپ لائنیں شامل ہیں۔اس کامقصدواضح ہے۔یورپ کے تجارتی راستوں پرتسلط حاصل کرنا،تاکہ عالمی معیشت کے کنٹرول کامرکز اپنے ہاتھ میں ہو۔
جرمنی،فرانس، اوراٹلی جیسے ممالک کے جھکاؤسے ظاہرہوتاہے کہ یورپ آہستہ آہستہ امریکاسے دورہوکرچین کی جانب بڑھ رہاہے۔ یورپ کاچین کی طرف جھکاؤامریکا کیلئےایک گھنٹی ہے—ایسی گھنٹی جس کی آوازخطرے کی خبردیتی ہے۔جرمنی،فرانس اوراٹلی جیسے ممالک کابدلتاہوارخ عالمی طاقت کے توازن کو متاثرکررہاہے۔
اگرتوانائی اس جنگ کاایندھن ہے توٹیکنالوجی اس کی تلوارہے،اورتائیوان اس تلوارکادستہ۔جدیدچپس کی پیداوارکامرکزہونے کے باعث تائیوان اکیسویں صدی کی معیشت کادل بن چکاہے۔جواسے قابو میں رکھتاہے،وہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کے پہیے کامالک ہوتاہے۔ امریکااورچین دونوں اس دل کی دھڑکن کواپنے اختیارمیں لیناچاہتے ہیں۔امریکاکامؤقف واضح ہے،اورچین کی حاکمیت کے دعوے تصادم کوناگزیربناتے ہیں۔کیونکہ یہاں مفاہمت کی گنجائش کم اورمفادات کاٹکراؤشدیدہے۔یہاں تصادم کاامکان سب سے زیادہ ہے،اوریہی نقطہ آخرکارعالمی طاقتوں کے تصادم کامرکزی میدان ہے۔
یہ صرف چین کوکمزورکرنے کامعاملہ نہیں،بلکہ امریکی صنعتی ودفاعی منافع بھی اس میں مضمرہے۔ہرجنگ اپنے ساتھ صرف تباہی نہیں لاتی،بلکہ کچھ قوتوں کیلئےمنافع بھی لاتی ہے۔مشرق وسطیٰ میں ہردھماکہ اوربحران،خلیجی ریاستوں کے ہتھیاروں کی خریداری میں تبدیلی اوراضافہ اس حقیقت کاواضح ثبوت ہے۔نتیجہ اربوں ڈالرکی اقتصادی گردش اورعالمی حکمت عملی کی تکمیل امریکی صنعتی پہئے کوچلانے میں ممدمعاون ثابت ہورہی ہے۔جب دنیامادہ پرستی کے اصولوں پرچلتی ہےتوانسانیت پس منظرمیں چلی جاتی ہے،اور مفادپرستی میدان میں غالب آجاتی ہے۔
ان تمام واقعات کویکجا کرکے دیکھیں توامریکاکاایک واضح خاکہ اورچھ فوائدکی حکمت عملی سامنے آتی ہے:
٭چین کی توانائی کی سپلائی کومحدودکرنا
٭اس کے تجارتی راستوں کومتاثراوراس میں خلل ڈالنا
٭خطے پراثرورسوخ قائم کرنا
٭یورپ کواپنے اثرمیں رکھناتاکہ چین سے تجارت محدودکردی جائے
٭جنگی معیشت کوفروغ دینا،ہتھیاروں سے اقتصادی فائدہ اٹھانا
٭تائیوان کے معرکے سے پہلے چین کوکمزورکرنا
یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جوبظاہرمنتشرنظرآتی ہےمگردرحقیقت ایک مرکزکے گردگھوم رہی ہے۔
دنیاکےنقشے پربکھرے ہوئے یہ تمام واقعات دراصل ایک ہی داستان کےمختلف ابواب ہیں۔وینزویلا،ایران،روس،یورپ اورتائیوان مختلف محاذ ہیں ، لیکن اصل جنگ ایک ہے،چین کی اقتصادی وجغرافیائی بالادستی اورعروج کومحدودکرنا۔یہ جنگ بندوقوں سے زیادہ ذہنوں میں لڑی جارہی ہے،اوراس کاہدف صرف زمین نہیں بلکہ معیشت،ٹیکنالوجی اورعالمی اقتدارہے۔یہ عالمی سیاست کی پیچیدہ کڑیاں ہیں،جو عموماًپردے میں چھپی رہتی ہیں۔جیسے ایک باکسراپنے مخالف کاپانی اورخوراک کاٹ کراس کی طاقت کوکمزورکرتاہے،عالمی طاقتیں بھی اسی اصول کے تحت عالمی پچ پرحرکت کررہی ہیں۔یہ تجزیہ ہمیں یہ درس دیتاہے کہ عالمی سیاست میں جوواقعات بظاہرالگ دکھائی دیتے ہیں،وہ ایک ہم آہنگ حکمت عملی کے تحت جڑے ہوئے ہیں،اورجوعالمی منظرنامے میں نمایاں ہوتاہے،وہ اکثراصل رخ کاصرف آئینہ ہوتاہے۔
جب تاریخ اپنے فیصلے سناتی ہے تووہ کسی کی رعایت نہیں کرتی۔وہ نہ طاقتورکومعاف کرتی ہے،نہ کمزورکوبخشتی ہے۔وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ کس نے حق کو پہچانا اورکس نے اسے نظر اندازکیا۔آج دنیاایک ایسے ہی فیصلہ کن موڑپرکھڑی ہے،جہاں خاموشی بھی ایک جرم ہے اورلاعلمی بھی ایک نقصان۔ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں وسائل پرقبضہ صرف اقتصادی معاملہ نہیں رہا،بلکہ اقتدارکا بنیادی ستون بن چکاہے۔ توانائی،تجارت، ٹیکنالوجی—یہ سب اب محض ترقی کے ذرائع نہیں،بلکہ کنٹرول کے ہتھیاربن چکے ہیں۔اوران ہتھیاروں کواستعمال کرنے والے ہاتھ کسی ایک خطے تک محدود نہیں،بلکہ پوری دنیاپراپنی گرفت مضبوط کرناچاہتے ہیں۔
یہ کہناشاید تلخ ہو،مگرحقیقت یہی ہے کہ طاقت کی اس دوڑمیں انسانیت اکثرکچلی جاتی ہے۔وہ بستیاں جوکبھی زندگی سے بھرپورتھیں، اب ملبے کاڈھیربن چکی ہیں۔وہ خواب جوکبھی آنکھوں میں سجتے تھے،اب دھوئیں میں تحلیل ہوچکے ہیں۔اوراس سب کے درمیان،ایک خاموش سوال فضامیں معلق ہے:کیایہی وہ دنیاتھی جس کاخواب انسان نے دیکھاتھا؟
جمہوریت،جوکبھی عوام کی آوازسمجھی جاتی تھی،آج کئی مقامات پرمحض ایک نقاب بن چکی ہے۔اس نقاب کے پیچھے وہ پالیسیاں پروان چڑھتی ہیں جوبظاہرعوامی مفادکے نام پرہوتی ہیں،مگردرحقیقت چندطاقتورحلقوں کے مفادات کوتقویت دیتی ہیں۔یہ وہ تضادہے جو دل کو بے چین کرتاہے—کہ جس نظام کوانسان کی آزادی کاضامن ہوناچاہیے تھا،وہی بعض اوقات اس کی غلامی کاذریعہ بن جاتاہے۔
صوفیاءکی زبان میں کہاجائے تویہ دنیاایک امتحان گاہ ہے،جہاں ہرانسان کواپنی بصیرت کاثبوت دیناہے۔جوصرف ظاہرکودیکھتاہے،وہ دھوکہ کھاجاتاہے۔ اور جو باطن کوپہچان لیتاہے،وہ حقیقت کے قریب پہنچ جاتاہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس باطنی بصیرت کو بیدارکریں—ہم سوال کریں،ہم سوچیں ،اورہم اپنے گردوپیش کومحض خبروں کی حد تک نہ دیکھیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی معنویت کوسمجھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہراندھیری رات کے بعدصبح ہوتی ہے۔مگرصبح خودبخود نہیں آتی،اس کیلئےچراغ جلانے پڑتے ہیں،شعوربیدار کرناپڑتاہے،اورسچ کوپہچاننے کی ہمت پیداکرنی پڑتی ہے۔اگر انسان صرف تماشائی بن کررہ جائے توتاریخ اسے بھی اسی خاموشی کے ساتھ رونددیتی ہے جس طرح وہ باقی سب کوروندتی ہے۔
یہ تحریرکسی حتمی فیصلے کااعلان نہیں،بلکہ ایک دعوتِ فکرہے۔ ایک پکارہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کونئے زاویے سے دیکھیں۔ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ دنیامیں جوکچھ ہورہاہے،وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل کاحصہ ہے۔اوراگریہ تسلسل اسی طرح جاری رہا،تووہ دن دورنہیں جب دنیاکے وسائل،معیشت، اورحتیٰ کہ سوچنے کااندازبھی چندہاتھوں میں سمٹ کررہ جائے گا۔
تاریخ اپنےآپ کودہراتی نہیں،بلکہ نئے قالب میں سامنےآتی ہے۔اورجوقومیں اس کےاشاروں کونہیں سمجھتیں،وہ اس کے دھارے میں بہہ جاتی ہیں۔یہ تحریراسی شعورکوبیدارکرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے—کہ ہم واقعات کونہیں،ان کے پیچھےکارفرما قوتوں کوسمجھیں؛ اورشورمیں نہیں،خاموشی میں چھپی حقیقت کوپہچانیں۔یہ مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ عالمی سیاست میں سچائی اکثرپردے میں چھپی رہتی ہے،اورجوواقعات عام نگاہ میں الگ نظرآتے ہیں،وہ ایک ہم آہنگ حکمت عملی کے تار میں بندھے ہوتے ہیں۔
آخرمیں،یہی کہاجاسکتاہےکہ انسان کےپاس اب بھی انتخاب باقی ہے۔وہ چاہےتواس سراب میں کھوجائے،یاحقیقت کی تلاش میں نکل کھڑا ہو۔وہ چاہے توخاموش تماشائی بن جائے، یا بیدارہوکراپنی رائے قائم کرے۔کیونکہ تاریخ صرف طاقتوروں کی نہیں ہوتی،بلکہ ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جوسچ کوپہچان کرخاکستر ہوتے خواب اوربیداری کی صداکے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔اورشاید یہی وہ لمحہ ہے—جب ہمیں فیصلہ کرناہے کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں۔











