عین قرینِ قیاس ہے کہ امریکا،اسرائیل اورایران کے مابین برپاحالیہ کشمکش کواُس نوخیزعالمی نظام کی اولین بڑی تمہیدی جنگوں میں شمار کیاجائے جوابھی اپنی ہیئت وماہیت متعین کرتے ہوئے اپنی فکری اورعملی تشکیل کے مراحل سے گزررہاہے۔تاریخ کاچلن یہ رہاہے کہ جب بھی عالمی طاقت کاتوازن بدلتاہے تواس کی تمہیدمیدانِ جنگ میں لکھی جاتی ہے،اوراس کا مقدمہ سفارت کے ایوانوں میں۔یہ وہ عہدِ نوہے جس میں پرانے اصول،جو کبھی بین الاقوامی سیاست کے ستون سمجھے جاتے تھے،اب وقت کی گردمیں اپنی تاثیرکھوتے محسوس ہوتے ہیں ؛گویاتاریخ کاپہیہ ایک نئے مدارمیں داخل ہوچکاہے جہاں ضابطے نہیں بلکہ طاقت کی نئی تعبیرات فیصلہ کن حیثیت اختیارکررہی ہیں۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہرنیاعالمی نظام کسی نہ کسی بڑے تصادم کی آغوش میں جنم لیتاہے۔جیسے یورپ کی مذہبی جنگوں نے قومی ریاست کے تصورکوجنم دیااورپہلی ودوسری عالمی جنگوں نے بین الاقوامی اداروں کی بنیادرکھی،اسی طرح موجودہ کشاکش بھی ایک ایسے عہدکاپیش خیمہ ہوسکتی ہے جہاں اصولوں کی بجائے طاقت کےنئے پیمانے متعین ہوں گے۔یہ وہ لمحہ ہے جب عالمی سیاست ایک نئی لغت ترتیب دے رہی ہے،اورپرانے محاورے اپنی معنویت کھوتے جارہے ہیں۔
آج کامنظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہے—ایک ایساعہدجس میں پرانے اصول گویاخزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑتے محسوس ہوتے ہیں،اور نئی قدریں ابھی پوری طرح جڑنہیں پکڑسکیں۔یہ کشمکش محض جغرافیائی یاعسکری نہیں بلکہ تہذیبی،فکری اورنظامی تبدیلی کی علامت ہے؛گویادنیاایک نئے’’میثاقِ قوت‘‘کی جانب بڑھ رہی ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعدعالمی سیاست ایک ایسے منضبط سانچے میں ڈھلی رہی جس کی بنیاد بین الاقوامی قانون اورعالمی اداروں پر رکھی گئی تھی۔اگرچہ اس عمارت میں کہیں کہیں دراڑیں بھی پڑیں،مگرریاستیں عموماًاپنے اقدامات کواسی نظام کےاندررہتے ہوئے جائز قراردینے کی سعی کرتی رہیں۔یوں قانون اورقوت کاایک نازک توازن قائم رہا—ایک ایساتوازن جوبظاہرٹوٹنے لگاہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعدقائم ہونے والاعالمی نظام دراصل ایک تہذیبی معاہدہ تھا— وہ دراصل طاقت کواخلاقی حدودمیں مقیدکرنے کی ایک شعوری کوشش تھی۔ایک ایساغیر تحریری عہدنامہ جس میں طاقت کوقانون کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی۔اقوام متحدہ،جنیوا کنونشنز،عالمی عدالت انصاف اورمختلف بین الاقوامی معاہدے اسی خواب کی تعبیرتھے کہ جنگ بھی قانون کے تابع ہواورامن بھی اصولوں کاپابند۔اگرچہ بڑی طاقتوں نے کئی مواقع پران اصولوں کواپنے مفادات کے تابع اوراپنی مرضی کے مطابق ڈھالا،مگروہ اس حقیقت سے انکارنہ کرسکیں کہ انہیں اپنے اقدامات کیلئےکسی نہ کسی قانونی واخلاقی جوازکی ضرورت ہے اوراقرارکایہ پہلوباقی رہاکہ قانون ایک حوالہ ہے،ایک میزان ہے جس پرعمل کوپرکھاجاسکتاہے۔یہی وہ اخلاقی جبرتھاجوطاقتورکوبھی کسی نہ کسی حدتک جواب دہ بنائے رکھتاتھا۔یہی وہ تہذیبی پردہ تھاجو طاقت کوبے مہارہونے سے روکتاتھامگراب یہی پردہ تارتارہوتادکھائی دیتاہے،اورقانون کی کتابیں طاقِ نسیاں کی زینت بنتی جارہی ہیں۔
ماضی میں عسکری کارروائی محض توپ وتفنگ کی گھن گرج نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ سفارتی گفت وشنید،قانونی موشگافیاں اور اتحادوں کی شطرنج بھی بچھائی جاتی تھی بلکہ ایک مکمل بیانیہ تھی جس میں قانونی دلائل،سفارتی روابط اوراتحادوں کی بساط شامل ہوتی تھی جہاں سفارتی میزوں پربھی ان کی بازگشت سنائی دیتی تھی ۔ ہر عسکری اقدام کے ساتھ ایک سفارتی جوازبھی پیش کیاجاتاتھاتاکہ عالمی رائے عامہ کومطمئن کیاجاسکے۔ہرگولی کے پیچھے ایک دلیل ہوتی تھی،ہرحملے کے ساتھ ایک وضاحت پیش کی جاتی تھی۔
لیکن ایران کے حالیہ قضیے میں یہ تمام لوازمات ثانوی حیثیت اختیارکرتے دکھائی دیتے ہیں اوحالیہ ایرانی تنازع میں یہ روایت ماندپڑتی دکھائی دیتی ہے۔اب فیصلے قانون کے ایوانوں میں نہیں بلکہ سٹریٹجک تھنک ٹینکس اورعسکری ہیڈکوارٹرزمیں کیے جاتے ہیں۔گویا فیصلے اب خفیہ کمروں میں کیے جاتے ہیں جہاں قانون کی کتابیں نہیں بلکہ طاقت کے نقشے بچھے ہوتے ہیں۔سفارت کاری کی جگہ سٹریٹجک حساب کتاب نے لے لی ہے۔فیصلے اب قانون کی میزان پرنہیں بلکہ مفادکے ترازومیں تولے جارہے ہیں۔گویادنیاایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں’’حق‘‘کی تعریف طاقت کے ہاتھ میں ہے۔
ایران کیلئےیہ طرزِعمل کوئی اجنبی نہیں۔ایران کی تاریخ اس امرکی شاہدہے کہ اس نے ہمیشہ نامساعد حالات میں اپنی راہ خود متعین کی ہے۔ایران کیلئےیہ حالات نئے نہیں۔انقلابِ 1979کے بعدسے یہ ملک مسلسل عالمی پابندیوں،سیاسی تنہائی اورسفارتی دباؤکاسامناکرتاآیا ہے۔دہائیوں سے پابندیوں اورتنہائی کے خارزارمیں سفرکرتے ہوئے اس نے بقاکے ایسے قرینے سیکھ لیے ہیں جورسمی عالمی ضوابط سے ماوراہیں۔اسی کڑے امتحان نے اسے ایک ایسی خودانحصاری عطاکی جودیگرممالک کیلئےمثال بھی ہے اورمعمہ بھی۔
اسی مسلسل آزمائش نے اسے ایک منفردسٹریٹجک ذہن عطاکیاہے۔اس کی معیشت اورسفارت دونوں نے ایک متبادل نظامِ کاروضع کرلیا ہے—ایران نے غیررسمی مالیاتی نیٹ ورکس،علاقائی اتحادوں اورمتبادل تجارتی راستوں کے ذریعے اپنی معیشت کوزندہ رکھا۔گویااس نے عالمی نظام کے باہرایک ذیلی نظام تشکیل دے لیا۔ایک ایسانظام جوپابندیوں کے حصار میں بھی سانس لے سکتاہے۔یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جوبظاہرغیرروایتی ہے مگرمؤثرہے—گویاایران نے عالمی نظام کے پہلومیں ایک متوازی نظام قائم کرلیاہو۔
ایران کی تیل کی برآمدات اس کی معاشی شہ رگ ہیں،اورپابندیوں کے باوجودان کاجاری رہنااس کی حکمتِ عملی کی کامیابی کاثبوت اور اس کی معاشی استقامت کی روشن مثال ہے۔حیرت انگیزامریہ ہے کہ کڑی عالمی پابندیوں کے باوجودایران نے نہ صرف اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھیں بلکہ بعض اوقات وسعت بھی دی اورخطے میں اپنااثرورسوخ بھی برقراررکھا۔گویااس نے ثابت کیاکہ اگرارادہ صیقل ہوتوبند دروازوں میں بھی راستے نکل آتے ہیں۔یہ ایک ایساکارنامہ ہے جومحض معاشی تدبیرنہیں بلکہ سیاسی بصیرت کامظہربھی ہے۔یہ امراس بات کاغمازہے کہ عالمی نظام کی سخت ترین رکاوٹیں بھی مستقل عزم کے سامنے کمزور پڑسکتی ہیں۔ایران نے یہ ثابت کیا کہ اگرریاستی ارادہ مضبوط ہوتوعالمی دباؤبھی اس کی سمت متعین نہیں کرسکتا۔ایران نے ثابت کیاکہ عالمی نظام کے دروازے بندہوں تو کھڑکیاں تلاش کی جاسکتی ہیں—اوراگر کھڑکیاں بھی بند ہوں تودیواروں میں راستے بنائے جاسکتے ہیں۔
ایران کی سٹریٹجک ثقافت میں کشیدگی کوایک فن کے طورپربرتاجاتاہے۔ایران کی سٹریٹجک ثقافت میں’’حساب شدہ کشیدگی‘‘ایک کلیدی تصورہے۔ایران کی سٹریٹجک ثقافت دراصل صبر وتدبراورنفسیاتی دباؤکاایک حسین امتزاج ہے۔وہ تصادم کوایک فن کی طرح برتتاہے، جس میں شدت اوراعتدال دونوں کا خیال رکھاجاتاہے۔وہ تصادم کواس حدتک بڑھاتاہے جہاں دشمن کیلئےقیمت بڑھ جائے،مگرآگ اس درجہ نہ بھڑکے کہ پوراخطہ لپیٹ میں آجائے۔اس کی حکمتِ عملی میں ردعمل بھی نپاتُلاہوتاہے اورپیغام بھی گہرا—دباؤبڑھاؤ،مگردروازہ بند نہ کرو۔
اس کامقصد دشمن کومکمل طورپرشکست دینانہیں بلکہ اسے اس نہج پرلے آناہے جہاں وہ خودمفاہمت پرآمادہ ہوجائے۔یہ حکمت عملی بظاہرکمزوردکھائی دیتی ہے مگردرحقیقت اس میں ایک گہری بصیرت پوشیدہ ہے—کہ ہرجنگ جیتناضروری نہیں،بعض اوقات جنگ کو طول دیناہی کامیابی ہوتی ہے۔یہ ایک ایساطرزِعمل ہے جس میں ہرقدم سوچ سمجھ کراٹھایاجاتا ہے، اورہرردعمل ایک پیغام لیے ہوتا ہے۔ گویاایران جنگ کومحض لڑتانہیں بلکہ اسے ایک فن کے طورپربرتتاہے۔
دوسری طرف اسرائیل کامزاج اس سے مختلف ہے۔اس کی عسکری فکراس کے برعکس ایک فوری اورفیصلہ کن ردعمل اورجارحیت پر مبنی ہے اوروہ پیشگی حملہ اوربرق رفتارفیصلہ کن کارروائی کواپنے آقااورمربی امریکاکی شہہ پر پڑوسی ملکوں کوتاراج کرنااپنابنیادی حق سمجھتاہے۔ اس کے نزدیک اپنی جارحیت کوجائز قراردینے کیلئے عالمی طور پرپروپیگنڈے کاسہارا لیتے ہوئے خطے میں اپنی بالا دستی قائم رکھنے کیلئے ہزاروں افرادکو تہہ تیغ کردیناجائزسمجھتاہے سیہی وجہ ہے کہ اس کی حکمت عملی میں پیشگی حملے اورطاقت کا بھرپوراستعمال مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔اسرائیل کی تاریخ،جو مسلسل خطرات اورجنگوں سے عبارت ہے ، اس سوچ کوتقویت دیتی ہے کہ بقاکیلئےجارحیت بھی ایک دفاعی ہتھیارہوسکتی ہے۔اس کے نزدیک دفاع اورسلامتی کے نام پرخوفناک حملے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔گویا بقاکی جنگ میں اخلاقی ابہام کی کوئی جگہ نہیں۔
غزہ اوردیگرتنازعات میں اسرائیل کی کارروائیوں نے اسے عالمی قانونی فورمزکے کٹہرے میں لاکھڑاکیاہے۔عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے ادارے اب اس کے اقدامات کاجائزہ لے رہے ہیں۔مگراس سب کے باوجوداسرائیل کامؤقف یہی ہے کہ اس کی سلامتی ہراصول پرمقدم ہے ۔امریکاکی غیر متزلزل حمایت اورپشت پناہی اس مؤقف کومزیدمضبوط بناتی ہے،جس سے عالمی نظام کے توازن پرسوالات اٹھتے ہیں۔یہ صورتحال عالمی نظام میں عدم توازن کی نشاندہی کرتی ہے،جہاں قانون کااطلاق یکساں نہیں رہتا۔
امریکاکاکرداراس پوری داستان میں مرکزی حیثیت رکھتاہے۔وہ نہ صرف اس نظام کاحصہ ہے بلکہ اس کامعماربھی ہے اورنگران بھی، جس کے تحت دنیانے دہائیوں تک سانس لی۔دوسری عالمی جنگ کےبعداس نے عالمی اداروں،عسکری اتحادوں اورقانونی اصولوں کی ایسی بساط بچھائی جس سے اس کااثرونفوذعالمی سطح پرمستحکم ہوا۔اس نے عالمی سیاست کے قواعد وضوابط وضع کیے اوران کے ذریعے اپنی برتری کوبرقراررکھامگراب جب وہ خود ان اصولوں سے انحراف کرتادکھائی دیتاہے اوراب اس کے رویے میں ایک تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔اب یہ سوال جنم لیتاہے کہ جب معمارہی اپنے اصولوں سے انحراف کرنے لگے توعمارت کی بنیادیں ہلنافطری امرہے۔ کیامعماراپنی ہی تعمیرکو منہدم کرنے پرآمادہ ہوچکاہے؟
عراق جنگ اس تضادکی ایک نمایاں مثال تھی۔2003ءمیں عراق پرحملہ وہ لمحہ تھاجب امریکانےاس نظام سے صریحاًانحراف کیا،امریکا نے اس جنگ کوعالمی اتحادکے پردے میں پیش کیا،حالانکہ اس کے قانونی جوازپرشدیداختلاف موجودتھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب اصول اور مفادکے درمیان خلیج واضح ہونے لگی۔مگراس وقت بھی ایک کوشش موجودتھی کہ عالمی نظام کالبادہ برقرار رکھاجائے،اصولوں کا احترام کمزورضرورہوامگرمکمل طورپرختم نہ ہواگویااصولوں سے انحراف بھی اصولوں کے پردے میں کیاگیا—یہی اس نظام کی اخلاقی نزاکت تھی۔
تاہم موجودہ تصادم میں یہ پردہ بھی چاک ہوتادکھائی دیتاہے۔بیانات میں وہ سفارتی شائستگی باقی نہیں رہی جوکبھی بڑی طاقتوں کا طرۂ امتیازاورسفارت کاری کا خاصہ تھی۔اب الفاظ میں بھی وہی شدت درآئی ہے جومیدانِ جنگ میں نظرآتی ہے—اوربعض اوقات جارحانہ بیانیہ گولی سے زیادہ زخم دیتاہے۔یہ تبدیلی عالمی سیاست کے مزاج میں ایک گہری تبدیلی کی عکاس ہے۔گویازبان بھی بارودکی بوسے آشناہوگئی ہے۔اب الفاظ بھی ہتھیاربن چکے ہیں—تیز،بے باک اورکبھی کبھی بے مہار۔یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست کامزاج تبدیل ہورہاہے۔اس نئےعہدمیں معاشی ہتھیاربھی تلوارکی طرح استعمال ہورہے ہیں۔محصولات،تجارتی پابندیاں اورمالیاتی دباؤ—یہ سب محض معاشی تدابیرنہیں بلکہ سیاسی حربے بن چکے ہیں،اوردوست ودشمن کی تمیزبھی دھندلا گئی ہے۔معاشی ہتھیار ب زیادہ واضح، ارحانہ اورتلوار کی طرح استعمال ہورہے ہیں بلکہ ٹیرف، پابندیاں اورمالیاتی دباؤاب صرف اقتصادی پالیسی نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی اوردباؤکے ہتھیاربن چکے ہیں۔یہ ایک ایسامیدان ہے جہاں جنگ بغیرگولی چلائے لڑی جاتی ہے،مگراس کے اثرات کسی بھی عسکری کارروائی سے کم نہیں ہوتے۔یہ ایک خاموش جنگ ہے جس کے اثرات دوررس اورگہرے ہوتے ہیں۔
امریکاکی جانب سے اپنے اتحادیوں پردباؤ اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی نظام کے اندرونی تضادات بڑھ رہے ہیں اورعالمی نظام کے ستونوں میں دراڑیں پڑگئی ہیں جوخوداپنی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں۔جب اتحادی بھی ایک دوسرے پراعتمادکھو دیں تونظام کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں۔اگرمعمار ہی دیواروں کوکمزورکرنے لگے تو عمارت کی پائیداری پرسوال اٹھنافطری امرہے۔یہ صورتحال ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں ہرملک اپنی بقاکیلئےخودہی راستہ تلاش کرے گا ۔
ایران نے ماضی میں اپنی کارروائیوں کوایک حدکے اندررکھا،حتیٰ کہ 12روزہ جنگ جیسے مواقع پربھی اس نے اپنی سرخ لکیروں کا لحاظ کیا،ہمیشہ اپنی کارروائیوں کوایک حدکے اندررکھا۔یہ احتیاط اس کی حکمتِ عملی کاحصہ تھی تاکہ تصادم قابوسے باہرنہ ہو۔یہ طرزِ عمل اس کی سیاسی بصیرت کاعکاس اور سٹریٹجک بصیرت کامظہرتھا کہ وہ تصادم کوقابو میں رکھتاتھامگرحالیہ جنگ میں یہ توازن متزلزل دکھائی دیتاہے۔امریکااوراسرائیل نے باقاعدہ ملی بھگت سے ایران پرجارحانہ حملے کرکے اس کی قیادت کے50سے زائدافرا کو شہیدکردیااوراب تک بقول ٹرمپ کے ایران کوتاراج کرنے کیلئے8ہزارسے زائد خوفناک فضائی حملے کرکے ہزاروں مقامات کونشانہ بنایاگیاہے۔قیادت کے نقصان کےبعدایران کاردعمل زیادہ وسیع اورشدیدہوگیااوربڑھتے ہوئے دباؤنے ایران کو ایک زیادہ جارحانہ ردعمل پرمجبورکردیاہے—خلیج کے پانیوں سے لے کرعالمی منڈیوں تک اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔آبنائے ہرمزمیں خلل نے یہ ثابت کر دیاکہ علاقائی جنگ بھی عالمی معیشت کوہلاسکتی ہے؛گویاایک چنگاری نے عالمی بازارکولرزادیا۔آبنائے ہرمزمیں خلل اورعالمی منڈیوں پراثرات اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع اب محض علاقائی نہیں رہابلکہ عالمی سطح پراثر اندازہورہاہے۔آبنائے ہرمزمیں خلل اورعالمی منڈیوں پراثرات اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ تنازع اب عالمی معیشت کوبھی متاثرکررہاہے۔گویاایک علاقائی چنگاری نے عالمی نظام کو لرزادیاہے۔
بڑی طاقتیں اس صورت حال سے اپنے اپنے نتائج اخذکررہی ہیں اوراپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہی ہیں روس کیلئےتوانائی کی بڑھتی قیمتیں ایک بہترین معاشی موقع ہیں،جبکہ چین اس پورے منظرنامے کوایک سٹریٹجک تجربہ گاہ کے طورپردیکھ رہاہے—کہ عالمی اصول کس طرح بدلتے ہیں اورطاقت کاتوازن کس سمت جھکتاہے۔ہرطاقت اس بحران سے اپنے لیے راستے تلاش کررہی ہے اوراپنے مفادات کے مطابق نتائج اخذکررہی ہے۔
یورپ اس تمام منظرنامے میں ایک کمزورکردارکے طورپرسامنے آرہاہے اوراس تمام ہنگامے میں ایک خاموش ناظردکھائی دیتاہے۔ یورپ کی محدودحیثیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں اس کاکردارکمزورپڑتاجارہاہے۔وہ اب فیصلہ سازنہیں بلکہ ایک مبصربن کررہ گیاہے۔سفارتی کوششوں کے باوجودوہ فیصلہ سازی میں نمایاں کردارادا نہیں کرپارہا۔یہ اس کے عالمی اثرورسوخ میں کمی کی علامت ہے،جیسے شطرنج کی بساط پرایک ایساکھلاڑی جس کے مہرے حرکت سے محروم ہوگئے ہوں۔
بالآخریہ سوال ابھرکرسامنے آتاہے کہ کیاموجودہ عالمی نظام اپنی عمرپوری کرچکاہے؟یہ تصادم محض ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے مستقبل کاسوال ہے جو1945کے بعد قائم ہواتھا۔اگراصولوں کی جگہ طاقت نے لے لی تودنیاایک ایسے دورمیں داخل ہو سکتی ہے جہاں قانون کی بجائے قوت کاراج ہو۔یہ ایک ایسامنظرنامہ ہے جہاں ریاستیں اپنے فیصلے عالمی اصولوں کے بجائے اپنی طاقت،مفاداوربقاکے تقاضوں کے تحت کریں گی اورتاریخ ہمیں بتاتی ہےکہ جب اصول کمزورپڑجائیں توتصادم ناگزیرہوجاتاہے۔تاریخ کا یہ بھی ایک تلخ سبق ہے کہ ایسے ادوارعموماً عدم استحکام اورانتشار کاپیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اگریہ ڈھانچہ مزیدکمزورہواتودنیاایک ایسے عہدمیں داخل ہوسکتی ہے جہاں اصولوں کی جگہ محض طاقت کاراج ہواور تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب قانون کی روشنی مدھم پڑجائے توطاقت کااندھیراسب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے—یہاں تک کہ وہ بھی جوکبھی اس روشنی کے امین تھے۔
یہ تمام نکات مل کرایک ایسی تصویرپیش کرتے ہیں جونہ صرف موجودہ عالمی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ مستقبل کے خدوخال بھی واضح کرتے ہیں—ایک ایسا مستقبل جوغیریقینی ،پیچیدہ اورشایدپہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ دنیاایک نئے عہدکے دہانے پرکھڑی ہے—ایک ایساعہدجوغیر یقینی ،پیچیدہ اورشایدپہلے سے زیادہ خطرناک ہے؛مگر اسی میں مستقبل کے امکانات بھی پوشیدہ ہیں۔











