Across the Redline

سرخ لکیرکے پار

تاریخ کبھی محض واقعات کاسلسلہ نہیں ہوتی؛وہ دراصل قوموں کے عزم،طاقت کے توازن اورعالمی سیاست کے پوشیدہ کھیل کی ایک زندہ دستاویزہوتی ہے۔جب مورخ قلم اٹھاتاہے تووہ صرف حادثات کونہیں لکھتابلکہ اس پردۂ غیب کوبھی ہٹانے کی کوشش کرتا ہے جس کے پیچھے عالمی طاقتیں اپنی بساط بچھاتی ہیں۔جنوبی ایشیااورمشرقِ وسطیٰ کی سرزمین بھی صدیوں سے اسی خاموش مگرہولناک شطرنج کی بازی کامیدان بنی ہوئی ہے جہاں کبھی بادشاہ مات کھاتے ہیں اورکبھی پیادے قربان ہوجاتے ہیں۔

9مارچ 2026 کوشائع ہونے والے میرے مضمون”عالمی بساط کاخفیہ کھیل”میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیاتھا کہ خطے میں جوکچھ دکھائی دے رہاہے وہ اصل کھیل نہیں بلکہ اس کھیل کاصرف ایک سایہ ہے۔اس مضمون میں واضح کیاگیاتھاکہ پاکستان نے گزشتہ مہینوں میں خطے میں ایک ایسا تعمیری کرداراداکیاجس نے نہ صرف ایک ممکنہ تباہ کن بحران کوروکابلکہ ایران کواس انجام سے بھی بچالیاجوکبھی شام کےمقدرمیں لکھ دیاگیاتھا۔

عالمی طاقتوں کی ایک خفیہ حکمتِ عملی یہ تھی کہ ایران کوداخلی انتشار نسلی بغاوتوں اورمعاشی دباؤکے ذریعے کمزورکرکے اسے ایک نئے خانہ جنگی کے میدان میں دھکیل دیاجائے۔اس مقصدکیلئے منصوبہ یہ تھاکہ افغانستان میں موجودمختلف شدت پسند گروہوں کواستعمال کرتے ہوئے ایران کی سرحدوں پرعدم استحکام پیداکیاجائے اورپھراندرونی احتجاج کوہوادے کرتہران کی حکومت کومفلوج کردیاجائے۔

لیکن تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جہاں ایک ریاست کی بصیرت پورے خطے کی تقدیربدل دیتی ہے۔پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پربلکہ خفیہ اورعملی سطح پربھی ایسے اقدامات کیے جنہوں نے اس خطرناک منصوبے کوناکام بنادیا۔اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجودخراسان کے پچیس ہزارسے زائدشدت پسند،تحریک طالبان پاکستان کے بیس ہزار کے قریب جنگجو،اور بعض دیگرعناصرکوایک وسیع منصوبے کے تحت ایران کے خلاف استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی تھی۔مقصدیہ تھاکہ ایران کواندرسے ٹکڑوں میں تقسیم کردیاجائے اورخطے میں ایک اورشام جیسی خونریزی پیداکرکے امت مسلمہ کوایک اورتاریک شام میں غرق کردیاجائے۔

اسی سلسلے میں ایک اورمنصوبہ بھی تیارکیاگیاتھاجس کے تحت سٹارلنک انٹرنیٹ کے ذریعے پروپیگنڈہ کی جنگ شروع کی جانی تھی۔اس مقصدکیلئے تقریباً تیرہ ہزارسے زائدخصوصی ڈیوائسز افغانستان کے راستے ایران اورپاکستان کے سرحدی علاقوں میں اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ سوشل میڈیا اورڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پرعوامی بغاوت کومنظم کیاجا سکے۔لیکن پاکستان کی سکیورٹی اورانٹیلی جنس اداروں نے اس خفیہ منصوبے کوبروقت بے نقاب کرکے اسے ناکام بنادیا۔

یہ وہ لمحہ تھاجب عالمی بساط کے کھلاڑیوں کواحساس ہواکہ ان کامنصوبہ ناکام ہوچکاہے۔جب پراکسی جنگ،اطلاعاتی جنگ اور داخلی بغاوت کے منصوبے ناکام ہوجائیں تواکثرطاقتیں ایک آخری راستہ اختیارکرتی ہیں—اوروہ ہے کھلی محاذآرائی۔چنانچہ وہی ہواجس کاخدشہ پہلے ہی ظاہرکیاجاچکاتھا۔جب ایران میں حکومت گرانے کامنصوبہ ناکام ہواتوخطے میں کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیاگیا۔افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم مختلف دہشتگردگروہوں کودوبارہ متحرک کیاگیا اورسرحدی کشیدگی کوبتدریج عسکری تصادم کی طرف دھکیل دیاگیا۔

آج جوصورتحال ہم دیکھ رہے ہیں—پاکستان کے شہروں پرڈرون حملوں کی کوششیں،سرحدی کشیدگی،اورپراکسی جنگ کابڑھتا ہواسایہ—وہ دراصل اسی عالمی بساط کااگلا مرحلہ ہے۔گزشتہ دو ہفتوں میں رونماہونے والے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ خطہ ایک خطرناک دوراہے پر

کھڑا ہے جہاں ایک معمولی چنگاری بھی ایک بڑی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتی ہے۔یہی پس منظراس مضمون کوسمجھنے کیلئے نہایت اہم ہے۔یہ محض چند ڈرونزکی کہانی نہیں بلکہ اس عالمی شطرنج کی ایک نئی چال ہے جس میں خطے کی تقدیر،عالمی طاقتوں کے مفادات اورایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کامستقبل داؤپرلگاہواہے۔

برصغیرکی تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہاں کی سرزمین ہمیشہ طاقت،سیاست اورنظریات کے تصادم کی آماجگاہ رہی ہے۔تاریخ کے اوراق جب کبھی سرحدوں کی کہانیاں بیان کرتے ہیں توان میں صرف نقشے کی لکیریں نہیں ہوتیں بلکہ قوموں کی تقدیر،سیاست کی نزاکت اورطاقت کے توازن کی داستانیں بھی ثبت ہوتی ہیں۔جنوبی ایشیاکی جغرافیائی ساخت بھی انہی پیچیدہ حقیقتوں کی آئینہ دارہے جہاں پہاڑوں کے دامن میں بستے ہوئے قبائل،میدانوں میں آبادریاستیں اورعالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ کبھی دوستی کی خوشبوفضامیں پھیلتی ہے اورکبھی بارودکی بوفضاکومکدرکردیتی ہے۔

کبھی یہ خطہ سلطنتوں کے عروج وزوال کامنظرنامہ بنا،کبھی یہاں تہذیبوں کے سنگم نے نئے فکری افق پیداکیے،لیکن تاریخ کے اس طویل سفرمیں ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں رہی کہ جب بھی سرحدوں کے پارسے آتشِ نزاع بھڑکی،اس کے شعلے نہ صرف میدانِ جنگ کوبلکہ معاشرتی اورسیاسی فضاکوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔

افغانستان اورپاکستان کے تعلقات بھی اسی تاریخ کے تسلسل کاحصہ ہیں۔ایک طرف مشترک مذہبی وثقافتی رشتہ ہے،دوسری طرف سرحدی سیاست کی تلخ حقیقتیں۔گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بادل وقفے وقفے سے منڈلاتے رہے، مگرحالیہ دنوں میں مبینہ ڈرون حملوں کے واقعات نے اس کشیدگی کوایک نئے مرحلے میں داخل کردیاہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی جدیدجنگ کاوہ خاموش ہتھیارہے جوبظاہرایک چھوٹے پرندے کی ماننددکھائی دیتاہے مگراس کے پروازکرتے ہی عالمی سیاست کے ایوانوں میں تشویش کی لہریں دوڑجاتی ہیں۔حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف شہروں —راولپنڈی،کوہاٹ اور کوئٹہ—میں مبینہ طورپرافغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں نے ایک بارپھر اس حقیقت کواجاگر کر دیاہے کہ جدید دنیامیں جنگ کاچہرہ بدل چکاہے۔اب توپ وتفنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے پرندےڈرون—بھی میدانِ کارزارمیں اترآئے ہیں۔

یہ حملے بظاہرمحدودنوعیت کے تھے،مگران کے سیاسی اورسفارتی مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ایسے ڈرونزکی دراندازی نے صرف عسکری حلقوں ہی نہیں بلکہ سیاسی اورسماجی سطح پربھی ایک نئی بحث کوجنم دیاہے۔یہ رپورٹ انہی واقعات کے پس منظر،اسباب اورممکنہ نتائج کاتحقیقی وتاریخی جائزہ پیش کرتی ہے۔

ریاستی سیاست میں بعض اصول ایسے ہوتے ہیں جنہیں قومی وقارکی علامت سمجھاجاتاہے۔ان اصولوں کوعموماًسرخ لکیرکہاجاتا ہے—یعنی وہ حدجس کے بعدبرداشت کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔پاکستان کے مختلف شہروں میں مبینہ ڈرون حملوں کی کوشش کواسی تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔پاکستان کیلئے یہ واقعہ محض چندڈرونزکی دراندازی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے۔ریاستیں اپنی سلامتی کے حوالے سے کچھ بنیادی اصول وضع کرتی ہیں جنہیں عرفِ عام میں ریڈ لائن کہاجاتاہے۔جب کوئی بیرونی قوت ان خطوط کوعبورکرتی ہے تویہ محض عسکری چیلنج نہیں بلکہ ریاستی وقارکیلئے بھی امتحان بن جاتاہے۔

یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں پاکستان اورافغانستان کے درمیان کشیدگی زیادہ ترسرحدی علاقوں تک محدودرہی لیکن جب کسی تنازع کاسایہ بڑے شہروں کی فصیلوں تک پہنچ جائے تواس کے معنی بدل جاتے ہیں۔اس صورت میں مسئلہ صرف فوجی نہیں رہتابلکہ نفسیاتی اورسیاسی بھی بن جاتا ہے ۔افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کوپاکستان نے اسی تناظرمیں دیکھاہے۔اسلام آبادکے ایوانوں میں یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھ رہاہے کہ اگرایک پڑوسی حکومت براہِ راست پاکستانی شہروں کو نشانہ بنانے کی جرات کرسکتی ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ علاقائی سیاست کامنظرنامہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہاہے۔

جمعے کے روزپیش آنے والے واقعات کے بعدپاکستان نے دعویٰ کیاکہ ان ڈرون حملوں کوبروقت ناکام بنادیاگیا،تاہم کچھ شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے عوامی حلقوں میں تشویش پیداکردی۔اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایاکہ کیاجدیدجنگ کے یہ نئے ہتھیارآئندہ بھی پاکستان کے شہری علاقوں کونشانہ بناسکتے ہیں۔گویایہ واقعہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام بھی تھا—ایساپیغام جس نے اسلام آبادکویہ احساس دلایا کہ خطےکی سیاست ایک نئے موڑپرپہنچ رہی ہے۔یہ واقعہ گویااس مثل کی یاددلاتا ہے کہ جب سرحدوں کے پہرے کمزورپڑجائیں تو دشمن کی نگاہیں شہر کی فصیلوں تک پہنچ جاتی ہیں۔

پاکستان نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیاکہ شہریوں کونشانہ بناناناقابلِ قبول ہے۔افغان طالبان نے ایک ایسی حد عبورکرلی ہے جسے برداشت نہیں کیاجاسکتا۔پاکستان کے سرکاری بیانات میں چندبنیادی نکات نمایاں تھے۔
٭افغان سرزمین کسی بھی پڑوسی کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
٭شہریوں کونشانہ بناناناقابل قبول ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کے دفاع کامکمل حق رکھتاہے۔
٭یہ مؤقف دراصل عالمی سفارتی اصولوں کی بازگشت اورریاستی خودمختاری کے اصول کی ترجمانی کرتاہے۔
٭بین الاقوامی قانون کے مطابق اگرکسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف حملوں کیلئے استعمال کرنادشمنی کے مترادف سمجھاجاتاہے اوراس صورت میں متاثرہ ریاست کودفاع کاحق حاصل ہوتاہے۔

یہاں ایک تاریخی حقیقت بھی قابل ذکرہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی اس مؤقف کوبارہادہرایاکہ افغانستان کی سرزمین کوکالعدم تحریک طالبان پاکستان کیلئے استعمال نہ ہونے دیاجائے۔لیکن اگراب افغان طالبان خودپاکستان کے خلاف براہ راست کارروائیوں میں ملوث دکھائی دیں توصورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔پاکستان کی اس پالیسی میں وہی طرزِفکرجھلکتاہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں بلکہ شہریوں کے جان ومال کی پاسبانی بھی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق 13مارچ کوافغان طالبان نے چندڈرونز کے ذریعے راولپنڈی،کوہاٹ اورکوئٹہ کونشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ فوجی حکام کے مطابق ان ڈرونزکودو طریقوں سے ناکارہ بنایاگیا۔ فوجی حکام کے مطابق سافٹ کِل ٹیکنالوجی کے استعمال سے الیکٹرانک سگنلزکے ذریعے ڈرون کے کنٹرول سسٹم کوجام کردیاجاتاہے۔اورہارڈ کِل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈرون کوبراہ راست نشانہ بناکرتباہ کیاجاتاہے۔اگرچہ ڈرون اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے،مگران کے ملبے سے چندشہری زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔یہ واقعہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جدیدجنگ میں چھوٹے ہتھیاربھی بڑے اثرات پیداکر سکتے ہیں۔

یہ حقیقت اگرچہ تسلی بخش ہے کہ حملے ناکام بنادیے گئے لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ ڈرون پاکستانی فضائی حدود تک پہنچے کیسے؟یہ سوال دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ جدیدجنگ میں خطرہ ہمیشہ سرحدپرنہیں بلکہ کبھی کبھی فضاکے راستے خاموشی سے درآتاہے۔دوسری طرف افغان طالبان کی وزارت دفاع نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے ڈرونزنے پاکستان کے ایک اہم فوجی کیمپ کونشانہ بنایا اوروہاں موجودکمانڈ سینٹر کونقصان پہنچایا۔یہ دعویٰ بظاہرپاکستان کے مؤقف سے متضادہے۔ایسی صورت حال میں اکثریہ امکان ہوتا ہے کہ دونوں فریق اطلاعاتی جنگ کاحصہ بن جاتے ہیں۔جدیددنیامیں بیانیہ بھی ایک ہتھیارہے۔جدید تنازعات میں بیانات اور دعوے اکثرحقیقت سے زیادہ اثرپیداکرتے ہیں،کبھی کبھی ایک بیان یادعویٰ میدان جنگ کی کامیابی سے زیادہ اثررکھتاہے۔گویایہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ بیانیے میں بھی لڑی جارہی ہے۔

یہ سوال آج پاکستانی معاشرے میں شدت سے زیربحث ہے کہ آیاافغان طالبان نےواقعی جنگ کوسرحدی علاقوں سے نکال کر پاکستان کے بڑے شہروں تک پہنچادیاہے۔اگرواقعی ایسا ہے تواس کامطلب یہ ہوگاکہ مستقبل کی جنگیں روایتی سرحدی لڑائی اور سرحدی چوکیوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ شہری مراکزبھی ان کی زدمیں آسکتے ہیں اورشہری مراکزکونشانہ بنانے والی غیر روایتی جنگ ہوگی جوباقاعدہ ایک بڑی جنگ کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔۔یہ صورتحال نہ صرف سکیورٹی اداروں بلکہ شہری دفاع کے نظام کیلئے بھی ایک نیاچیلنج ہے۔ریڈلائن عبورکرنے کامطلب یہی ہے کہ دشمن نے اس حدکوپارکرلیاہے جہاں سے واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈرون زیادہ ترکمرشل ڈرونزہیں جومارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ان کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہ کم قیمت،چھوٹادھماکہ خیزموادلے جانے کی صلاحیت، کے ساتھ محدودمگرمؤثررینج تک حملہ آورہوسکتے ہیں۔یہ ڈرونزجدیدجنگ میں ایک خطرناک رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ انہیں بنانایاحاصل کرنانسبتاًآسان ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیابھر میں غیر ریاستی عناصربھی انہیں استعمال کرنے لگے ہیں۔طالبان حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔چونکہ طالبان کے پاس روایتی فضائیہ موجودنہیں،اس لیے انہوں نے ڈرون ٹیکنالوجی کواپنے دفاعی ہتھیارکے طورپراختیارکیاہے۔

طالبان نے دواقسام کے ڈرون استعمال کیے ہیں۔خودکش ڈرونزاوردوسرا کواڈکاپٹرزجوچارپروں والے ڈرون ہوتے ہیں جواسرائیلی ٹیکنالوجی سے متاثر ہیں۔یہ عام طورپرنگرانی یامختصر فاصلے کے حملوں کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔یادرہے کہ گزشتہ برس مئی کی پاک بھارت جنگ میں خوداسرائیلی آپریٹرز نے انڈیاکی سرزمین پربیٹھ کریہی ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی تھی جس کے بارے میں اس کادعویٰ تھاکہ اس جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کاتوڑقصرسفید کا فرعون،اس کے باپ امریکاکے پاس بھی نہیں کیونکہ یہ کامی کازیعنی خودکش ہیں جواپنی منزل پرپہنچ کرخودبھی تباہ ہوجاتے ہیں اوراس کی ٹیکنالوجی کے شواہدبھی نہیں مل سکتے، اس نے مزیدیہ دعویٰ بھی کیاتھاکہ پاکستان کیلئے چارڈرون ہی کافی ہوں گے لیکن پاکستان نے نہ صرف69کے قریب یہ ڈرون تباہ کئے بلکہ کئی ڈرون صحیح سلامت زمین پراتارکراسرائیل کے اس متکبردعوے کوخاک میں ملادیاتھااوربعدازاں جہاں سے یہ آپریٹ ہورہے تھے، اس مرکزکوبھی تباہ کردیاجس کے جواب میں رات کے اندھیرے میں ان آپریٹرزکےتابوت حیفہ اسرائیل پہنچائے گئے۔جونہی یہ تابوت حیفہ پہنچے تونیتن یاہواورمودی کی مشترکہ چیخیں اورمددکی پکاران کے سرپرستِ اعلی اورباپ،قصرسفید کے فرعون امریکی صدرٹرمپ تک پہنچی توٹرمپ نے فوری طورپرشب وروزاپنی کوششوں سے سیزفائرکیلئے پاکستان کوآمادہ کیااورخودٹرمپ دودرجن سے زائد مرتبہ پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیاروں کی بربادی کانوحہ ساری دنیاکوسنا چکےہیں۔

ایک غیرملکی عسکری ماہرکے مطابق ممکن ہے کہ طالبان نے ڈرون کے پرزے بیرون ملک سے حاصل کیے ہوں۔یہ بھی ممکن ہے کہ پرزے افغانستان میں اسمبل کیے گئے ہوں یا پاکستان میں خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے جوڑے گئے ہوں۔یہ امکان بھی ظاہر کیاجارہاہے کہ اسمگلنگ کے ذریعے ٹیکنالوجی منتقل کی گئی ہو۔کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان کو ڈرون ٹیکنالوجی بہتربنانے میں بیرونی ماہرین کی مددحاصل ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے،لیکن جنوبی ایشیاکی سیاست میں انڈیا اورپاکستان کی رقابت ہمیشہ ایک اہم عنصررہی ہے۔اگرچہ ان حملوں سے بڑے پیمانے پرتباہی نہیں ہوئی،مگریہ پاکستان کیلئے ایک نفسیاتی دھچکہ تھا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی مرتبہ افغان طالبان نے پاکستان کے بڑے شہروں کونشانہ بنانے کی کوشش کی۔

ابھی حال ہی میں مودی کااسرائیل کے دورہ کے دوران افغان طالبان کی حمائت کااعلان بھی اس بات کاثبوت ہے کہ یہ ڈرون حملوں کی نئی لہرکا سارا پلان وہی تیارہواہے لیکن انڈیا نے اپنی سرزمین سے ان ڈرون حملوں کی اس لئے جرات نہیں کہ کہ وہ کھلی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست اوررسوائی سے واقف ہے۔یہ صورتحال اس کہاوت کی یاد دلاتی ہے کہ جب دوہمسائے لڑتے ہیں توتیسرااکثر خاموشی سے فائدہ اٹھاتاہے۔انڈیااور اسرائیل کے خفیہ ہاتھ اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے، یقیناً پاکستان کے عسکری حلقے اس کا جواب مناسب وقت پرضروردیں گے کہ یہ پاکستان کی روایت ہے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان ایک ایسے میزائل پروگرام پربھی کام کررہے ہیں جس کی رینج200سے300کلومیٹرتک ہوسکتی ہے۔اگریہ خبر درست ثابت ہوتی ہے تویہ خطے کے سکیورٹی توازن کومتاثر کرسکتی ہے اورخطے میں طاقت کاتوازن مزید پیچیدہ ہوسکتاہے۔افغان وزیردفاع ملایعقوب نے کہاتھاکہ اگرکابل پرحملہ ہواتواسلام آبادکوبھی نشانہ بنایاجاسکتاہے۔یہ بیان دراصل ایک سیاسی پیغام تھاجس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کومزیدبڑھادیاہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈرون اسلام آباد تک کیسے پہنچے؟افغان سرحد اسلام آباد سے کافی فاصلے پر ہے۔ اس کے ڈرونزکاوہاں تک پہنچ جانااس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یاتوانہیں پاکستان کے اندرسے لانچ کیاگیایاانہیں سرحدپارسے کنٹرول کیاگیااوران کی پروازکاراستہ خفیہ رکھاگیا۔یہ معاملہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کیلئے ایک اہم چیلنج ہے۔

ماہرین کاخیال ہے کہ طالبان روایتی جنگ میں پاکستان کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ان کی اصل طاقت،گوریلاجنگ،دہشتگردگروپس کی حمایت اورخود کش حملہ آوراورغیرروایتی حربوں میں ہے۔لہٰذا بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی ان کیلئے ممکن نہیں۔کچھ تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ طالبان کے پاس سینکڑوں ڈرونزہوسکتے ہیں۔اگریہ درست ہے تومستقبل میں مزیدحملوں کاخطرہ موجود ہے۔ یہ امکان پاکستان کیلئے تشویش کاباعث بن سکتاہے۔

ابتدامیں انڈیااس تنازع کوزیادہ اہمیت نہیں دے رہاتھا۔لیکن حالیہ واقعات کے بعدمضبوط شواہدموجودہیں کہ انڈیاافغان طالبان کے ساتھ روابط بڑھا کر پاکستان میں پراکسی وارکو اپنے تزویراتی مفادات کیلئے استعمال کررہاہے تاکہ پاکستان پردباؤبڑھایاجاسکے۔ انڈین وزارت خارجہ نے افغانستان میں پاکستانی حملوں کوجارحیت قراردیتے ہوئے اس پرتنقید کی جبکہ پاکستان نے اس بیان کو غیرضروری اورمنافقانہ قراردیتے ہوئے سخت ردعمل دیاہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تنازع جلد ختم ہوتانظرنہیں آتاکیونکہ پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی چاہتاہے،طالبان اس مطالبے کو قبول کرنے پرتیار نہیں ،کیونکہ دونوں ممالک اپنے مؤقف پرقائم دکھائی دیتے ہیں اس لیے کسی تیسرے فریق کی ثالثی ضروری ہو سکتی ہے۔حالیہ اطلاعات کے مطابق چین نے اس تنازع کوکم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کی ہیں۔چین اس تنازع میں ثالثی کی کوشش کررہاہے۔چین خطے میں استحکام چاہتاہے کیونکہ پاکستان اورافغانستان دونوں اس کے اقتصادی منصوبوں کیلئے اہم ہیں۔

پاکستان اورافغانستان کے تعلقات تاریخ کے نشیب وفرازسے گزرتے ہوئے آج ایک نازک موڑپر آکھڑے ہوئے ہیں۔ڈرون حملے بظاہرایک محدود واقعہ تھے،مگران کے مضمرات وسیع ہیں۔ڈرون حملوں کے یہ واقعات بظاہرچھوٹے ہیں،مگران کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔یہ واقعہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ جدیددنیامیں جنگ صرف توپوں اوربندوقوں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، بیانیے اورسفارت کاری کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہے۔اگر دونوں ممالک نے دانش مندی سے کام نہ لیاتویہ تنازع ایک طویل کشمکش میں تبدیل ہوکرایک ایسی آگ بن سکتاہے جس کی لپٹیں پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لیں۔

لیکن اگرتدبراورحکمت کی راہ اختیارکی جائے توممکن ہے کہ یہی بحران مستقبل میں امن کی ایک نئی راہ بھی ہموارکردے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں ہمیشہ تلوارسے نہیں بلکہ عقل اورتدبیرسے ختم ہوتی ہیں اورتاریخ ہمیں یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ قوموں کی بقاصرف طاقت میں نہیں بلکہ حکمت اوراعتدال میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

تاریخ کے اوراق ہمیں بارباریہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کے درمیان تنازعات کبھی اچانک پیدا نہیں ہوتے۔ان کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی، طاقت کی کشمکش اورعالمی مفادات کی پیچیدہ گتھیاں کارفرماہوتی ہیں۔آج پاکستان اورافغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کوبھی اسی وسیع تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے ڈرون حملوں کی کوششیں بظاہرایک محدودعسکری واقعہ محسوس ہوسکتی ہیں،لیکن اگران کے پس منظرمیں جھانکاجائے تویہ ایک بڑی سیاسی بساط کی محض ایک چال دکھائی دیتی ہیں۔وہ بساط جس پر عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مہرے چلاتی ہیں اورخطے کی ریاستیں کبھی دانستہ اورکبھی نادانستہ اس کھیل کاحصہ بن جاتی ہیں۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں خطے میں جوکرداراداکیاہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ایران کوایک ممکنہ خانہ جنگی سے بچانا، دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرنا،اورپراکسی جنگ کے منصوبوں کوناکام بنانا—یہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے عالمی طاقتوں کی بعض خفیہ حکمت عملیوں کوشدید دھچکہ پہنچایا۔یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان کوایک نئے دباؤکا سامنا ہے۔

افغانستان میں موجودمختلف شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں،تحریک طالبان پاکستان کی دوبارہ منظم ہوتی ہوئی کارروائیاں،اور جدیدٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی دراندازیاں اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کاچہرہ بدل چکاہے۔اب لڑائیاں صرف سرحدوں پرنہیں ہوتیں بلکہ فضاؤں میں اڑتے ڈرونز،ڈیجیٹل نیٹ ورکس اوراطلاعاتی بیانیوں کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جنوبی ایشیا کے اس خطے میں دوایٹمی طاقتیں موجودہیں۔اگرکشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تواس کادائرہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہے گابلکہ عالمی سیاست کیلئے ایک خطرناک بحران بن سکتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ کاراس صورتحال کوایک ممکنہ ایٹمی تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کے طورپربھی دیکھ رہے ہیں۔

تاہم تاریخ کاایک دوسراپہلوبھی ہے۔تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب بحران اپنی انتہاکوپہنچتاہے تواکثراسی مقام سے امن کی نئی راہیں بھی جنم لیتی ہیں۔ جنگ کی دھندچھٹنے کےبعدہی قوموں کویہ احساس ہوتاہے کہ طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اہم چیزدانش اورتدبرہے۔

پاکستان اورافغانستان دونوں ایسے ممالک ہیں جنہیں جغرافیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑکررکھاہے۔ان کے درمیان دائمی دشمنی نہ صرف دونوں قوموں کیلئے نقصان دہ ہوگی بلکہ پورے خطے کے امن کوبھی خطرے میں ڈال دے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ جذبات کی آگ کوسفارت کاری کی ٹھنڈی ہواسے بجھایاجائے اوراس کشیدگی کوایک ایسے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے جوپورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔

کیونکہ اگر تاریخ کافیصلہ صرف توپوں اورمیزائلوں نے کیاہوتاتودنیا آج بھی جنگوں کے اندھیروں میں ڈوبی ہوتی۔مگرتاریخ کا اصل فیصلہ ہمیشہ عقل، تدبراورحکمت نے کیاہے۔اوریہی وہ سبق ہے جواس بحران کی گردمیں بھی پوشیدہ ہے—کہ طاقت کی اصل آزمائش میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس لمحے میں ہوتی ہے جب ایک قوم جنگ کے دہانے پرکھڑی ہوکربھی عقل ودانش کاراستہ اختیارکرتی ہے۔

تاریخ کے افق پرجب کبھی قوموں کی تقدیرکے فیصلے لکھے جاتے ہیں تووہ محض تلواروں کی جھنکاریاتوپوں کی گرج سے نہیں لکھے جاتے۔وہ دراصل اس لمحے میں رقم ہوتے ہیں جب ایک قوم آزمائش کے طوفان کے سامنے کھڑی ہوکراپنے عزم کی شمع کوبجھنے نہیں دیتی۔یہ بھی درست ہے کہ تاریخ کے افق پربعض لمحے ایسے بھی ابھرتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ زمانے کے ضمیرپرثبت ہونے والی صدائیں بن جاتے ہیں۔آج جنوبی ایشیا کے افق پرجوبادل منڈلارہے ہیں وہ صرف بارودکے بادل نہیں بلکہ اس عالمی سیاست کی دھندہیں جس میں طاقت کے ایوانوں نے انسانیت کے مستقبل کو شطرنج کے مہرے بنارکھاہے۔

لیکن تاریخ کی عدالت میں طاقت کاغرورہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ فرعونوں کے محل بھی مٹی میں مل گئے اورقیصر وکسریٰ کی سلطنتیں بھی وقت کی گردمیں گم ہوگئیں۔باقی رہتی ہے توصرف وہ قوم جواپنے ایمان،اتحاد اورعزم کی قوت سے آزمائش کے اندھیروں میں بھی امیدکاچراغ روشن رکھتی ہے۔

آج جنوبی ایشیا کی سرزمین ایک ایسے ہی موڑپرکھڑی ہے جہاں وقت کاہرلمحہ آنے والے کل کے فیصلے کوجنم دے رہاہے۔ افغانستان کی پہاڑیوں سے اٹھنے والی یہ نئی آندھی،پاکستان کے شہروں کی فضاؤں میں منڈلاتے یہ ڈرون،اورعالمی سیاست کے ایوانوں میں بچھائی گئی یہ خفیہ بساط—یہ سب محض حادثات کاسلسلہ نہیں بلکہ ایک ایسے کھیل کے اشارے ہیں جس میں طاقت کے سوداگراپنے مفادات کے مہرے آگے بڑھارہے ہیں۔لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قومیں آزمائش کے کڑے مرحلوں سے گزرتی ہیں توان کے کردارکا اصل جوہراسی وقت نمایاں ہوتاہے۔

پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جس استقامت اوربصیرت کے ساتھ خطے کے بحرانوں کاسامناکیاہے وہ اس حقیقت کاثبوت ہے کہ یہ قوم صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ حکمت وتدبرکی آزمائش میں بھی سرخروہوسکتی ہے۔پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس قوم نے ہردورمیں اپنے وجود کوچیلنج کرنے والی قوتوں کاسامناکیاہے۔کبھی اسے دہشتگردی کے عفریت کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی،کبھی اسے اقتصادی دباؤکے طوق میں جکڑنے کی تدبیریں کی گئیں،اورکبھی اسے عالمی تنہائی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے منصوبے بنائے گئے۔مگرہرباراس سرزمین کے لوگوں نے یہ ثابت کیاکہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعوراورعزم سے زندہ رہتی ہیں۔

ایران کوایک ممکنہ خانہ جنگی سے بچانا،دہشتگرد نیٹ ورکس کے پیچیدہ جال کوتوڑنا،اورخطے میں ایک بڑی سازش کوناکام بنانا—یہ سب ایسے اقدامات تھے جنہوں نے عالمی بساط کے بعض کھلاڑیوں کوبے چین کردیا۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کوایک نئی آزمائش کے دہانے پر لاکھڑاکیاگیاہے۔

پاکستان اورافغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کواگرصرف سرحدی جھڑپوں یاڈرون حملوں کے محدوددائرے میں دیکھا جائے تویہ حقیقت کی توہین ہوگی۔یہ دراصل اس عالمی بساط کی ایک اورچال ہے جس کے خفیہ کھلاڑی خطے کی تقدیرکواپنی خواہشات کے مطابق موڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔کبھی دہشتگردی کے نام پر،کبھی پراکسی جنگ کے پردے میں،اورکبھی اطلاعاتی یلغارکے ہتھیارکے ساتھافغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی یہ نئی آندھی بظاہرچند ڈرونزکی پروازمعلوم ہوتی ہے، مگراس کے پیچھے جوسیاسی طوفان چھپاہواہے وہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔اگ اس آگ کوبروقت نہ بجھایاگیاتو یہ محض سرحدی کشیدگی نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتی ہے جس کے سائے ایٹمی تصادم تک پھیل سکتے ہیں۔

لیکن تاریخ کی ایک اورصداقت بھی ہے—اوروہ یہ کہ ظلم، فریب اورسازش کی قوتیں چاہے کتنی ہی طاقتورکیوں نہ ہوں،آخرکار وہ قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں جواپنے عزم،اتحاداورایمان کی قوت سے آزمائش کے طوفانوں کامقابلہ کرتی ہیں۔پاکستان کی سرزمین نے اس سے پہلے بھی کئی آزمائشیں دیکھی ہیں۔کبھی اسے دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی،کبھی اسے اقتصادی محاصروں کے ذریعے کمزورکرنے کاخواب دیکھاگیا، اور کبھی اسے عالمی تنہائی میں دھکیلنے کی تدبیریں کی گئیں۔ مگرہربارتاریخ نے یہ ثابت کیاکہ اس قوم کے حوصلے کوشکست دیناآسان نہیں۔

آج بھی اگرعالمی بساط کے کھلاڑی یہ سمجھتے ہیں کہ سازشوں اورپراکسی جنگوں کے ذریعے پاکستان کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیاجاسکتاہے توشاید وہ تاریخ کے اس سبق کوبھول رہے ہیں کہ قوموں کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے اجتماعی عزم میں ہوتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب خطے کی قیادت کویہ فیصلہ کرناہوگاکہ آیاوہ نفرت اورجنگ کے راستے پرآگے بڑھنا چاہتے ہیں یادانش اورسفارت کی راہ اختیارکرکے آنے والی نسلوں کوایک محفوظ مستقبل دیناچاہتے ہیں۔

کیونکہ اگرجنگ کادروازہ کھل گیاتواس کی آگ صرف سرحدوں تک محدودنہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لے گی۔اوراگرتدبر کا چراغ جلایاگیاتویہی بحران شایداس خطے کیلئےامن کی ایک نئی صبح کاپیش خیمہ بھی بن سکتاہے۔تاریخ کی عدالت میں قوموں کافیصلہ صرف ان کی طاقت سے نہیں بلکہ ان کی بصیرت سے بھی ہوتاہے۔اورآنے والے دن یہ طے کریں گے کہ جنوبی ایشیاکی اس شطرنج میں کون سافریق صرف ایک مہرہ ثابت ہوگااورکون اپنی حکمت سے تاریخ کی بساط پر ایک نئی داستان رقم کرے گا۔

وقت کی عدالت خاموش نہیں رہتی۔وہ ہرقوم کے فیصلے کواپنے اوراق میں محفوظ کرلیتی ہے۔آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ جنوبی ایشیا کی اس بساط پرکون محض ایک مہرہ ثابت ہو گا اورکون اپنی حکمت وبصیرت سے تاریخ کے افق پرایک نئی داستان رقم کرے گا۔اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کویہ یادرکھناچاہیے کہ جنگیں میدان میں جیتنے سے پہلے دلوں میں جیتی جاتی ہیں، اور وہ قوم جس کے دل میں یقین کی آگ روشن ہو اسے شکست دینا تاریخ کے کسی لشکر کیلئے ممکن نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں